خاکروب
اور حان کمال
ترکی سے ترجمہ : کرنل ) ر ( مسعود احمد شیخ

دس سال تک خاکروب کا کام کرنے کے بعد جس روز پستہ قد ،جھریوں کے مجموعے ،بوڑھے ہیلو کو کام سے نکال دیا گیا اس سے اگلے روز وہ پہلی مرتبہ محلے میں گھوڑا گاڑی کے بغیر داخل ہوا۔ وہ کانوں سے نیچے تک ڈھلکی ہوئی سرکاری ٹوپی، ایک بڑے سائز کا کوٹ جس کے کندھے دونوں طرف سے ڈھلکے ہوئے تھے ، گھسی پٹی پتلون اور گھسی ہوئی ایڑیوں والے بھاری بھر کم فوجی بوٹ پہنے محلے کے عین مرکز میں پہنچ کر رک گیا۔
دس سال ، دس لمبے سال ہر روز صبح کے وقت اپنے گھوڑے کی باگ کھینچے وہ آہستہ آہستہ اس محلے میں داخل ہوتا۔ محلے والوں کی کوئی بات اس سے چھپی ہوئی نہ تھی ۔ وہ ایک ایک کر کے تمام گھروں کے دروازے کھٹکھٹاتا،’’ ہے یا نہیں ہے ؟ ‘‘ کہہ کر پوچھتا ۔ اگر ہوتا تو اٹھا لیتا ورنہ اسے انتظار کرو ا کرو ا کر کچھ دیر بعد’’ نہیں ہے ، ہماراکوڑا کرکٹ نہیں ہے ! ‘‘ کہنے والوں پر بالکل غصہ نہ کرتا ۔
اس طرح وہ سخت تپتی کئی گرمیاں آندھی طوفانوں اور پالے والی کئی سردیاں گزار چکا تھا۔ اسی قسم کے ایک سردی کے موسم میں اس کی بیوی مر گئی تھی۔ اس کے تینوں بیٹے بھی اسی طرح کی سردی کے موسموں میں اسے بلدیہ کے ا صطبل میں چھوڑ کر روٹی کی تلاش میں پردیس چلے گئے تھے اور کئی سال ہوئے اسے خستہ حال اصطبل میں ہی بھول بھال گئے تھے۔ مگر اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہ تھی ۔ گرم گرم گوبر کی بو والے اس اصطبل سے آج وہ کتنی زبردست حسرتیں لیے جدا ہو رہا تھا۔ اس کے بچوں کی پیاری ’چاندی ‘‘ اسی اصطبل میں ا س کے ہاتھوں میں پیدا ہوئی تھی اور اسی کے کھر کھرے تلے اسی اصطبل میں بڑی ہوئی تھی۔
اسے ’’چاندی‘‘ سے کس قد ر پیار تھا !چاندی بالکل انسانوں جیسی تھی ۔ ’’رک جاؤ‘‘ کہنے سے رک جاتی ، ’’واہ ‘‘ کہنے سے پھر چلنے لگ جاتی ۔ چاندی کی ماں کا نام ’’نظر بٹو ‘‘تھا ۔نظر بٹو کی ماں ’’مر جان‘‘ تھی اور مرجان کی ماں ’’بید‘‘ ۔ مگر چاندی سے بڑھ کر کوئی بھی نہ تھی۔ ’’چاندی ‘‘ کہوتو رک جاتی، پلٹ کر دیکھتی تھی۔ جس روز اس کا پاؤ ں دہرا ہو گیا تھا اس رات وہ کیسے فریادیں کرتی رہی، اپنی سر مئی آنکھوں سے کیسے اشک بہاتی رہی تھی !
چاندی بالکل انسانوں جیسی تھی۔
اس کے دماغ میں اچانک ایک خیال آیا۔
’’اگر ’’بولووالے‘‘نے چاندی کی پٹا ئی کر دی تو ! ‘‘
اس کی بھنویں تن گئیں۔ اس نے اپنی سرکاری ٹوپی سر سے اتار کر ہاتھ میں پکڑ لی۔
’’مارے گا ۔ وہ ضرور مارے گا! ‘ ‘ اس نے اپنے آپ سے کہا۔
اس نے غصے سے محلے کی طرف نظر دوڑائی۔ بھلا اس محلے والے کیوں صبح جلدی نہیں جاگا کرتے تھے؟
اگر وہ جاگ اٹھتے اور انہیں پتہ چل جاتاکہ ہیلو کو نکال دیا گیا ہے تو وہ آپس میں اتفاق کر کے بلدیہ کے میئر کے پاس جا کر کہتے :
’’بولو والے کو خاکروب کے کام کی کیا سمجھ بھلا؟ وہ تو ابھی ہاتھ میں کھر کھرا بھی ٹھیک طرح نہیں پکڑ سکتا ۔ ہیلوہمارا دس سال پرانا خاکروب ہے۔ چاندی اس کے ہاتھوں میں پیدا ہوئی تھی۔ ہم اس کے علاوہ کسی کو اپنا خاکروب نہیں بننے دیں گے۔ ممکن ہی نہیں ، کسی اور کو نہیں بننے دیں گے۔ خاکروب ہو گا تو ہیلو ہو گا ورنہ نہیں چا ہیے ہمیں کوئی اور خاکروب !‘‘
اگر وہ اپنی بات پر ڈٹے رہیں۔ڈٹے رہیں تو بلدیہ کا میئر صفائی کے کاموں کے ڈائریکٹر کو بلوا کر کہے کہ :’’ ہیلو کو کیوں نکال دیا ہے تم نے کام سے ؟ ہیلو اس محلے کا دس سال پرانا خاکروب ہے۔ چاندی اس کے ہاتھوں میں پیدا ہوئی تھی۔ بو لو والا تو ابھی ہاتھ میں کھر کھرا بھی اچھی طرح نہیں پکڑ سکتا ۔ تو بولو والے کو نکال دو اور ہیلو کو رکھ لو۔ چلو جلدی کرو۔ ابھی !‘‘
اس کے دل میں ایک امید ابھری۔ اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اس کے جھریوں والے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی ۔
یہ سب کچھ ناممکن بھی تو نہیں تھا۔ وہ محلے کے سب گھروں کی دہلیزوں اور کنڈیوں کو ، کوڑے کے ڈبوں کو یہاں تک کہ محلے کے کتوں اور بلیوں کو بھی زبانی جانتا تھا ۔ اس صورت میں کیا اس محلے والے ہیلو کے بغیر گزارہ کر لیں گے؟ اس محلے میں تو اتنے بڑے بڑے لوگ رہتے ہیں کہ بلدیہ کا میئر بھی ان کے سامنے ہاتھ ملتا رہ جائے۔
’’ٹھہرو ذرا تم ‘‘ اس نے اپنے آپ سے کہا۔’’وہ کہتے ہیں ناں اگر گرمیاں ہیں تو خزاں بھی تو ہے ناں۔ اگر بولو والے کا پیچھا مضبوط ہے تو میرابھی تو۔ ‘‘
سامنے کے کونے میں محلے کا بھنگی دکھائی دے رہا تھا۔ وہ ایک لمبے ڈنڈے والے جھاڑو سے علاقے کی گرد صاف کرتے کرتے گلی کی اینٹوں پر جھاڑ و دے رہا تھا۔ ہیلو اس کے پاس گیا اور بولا :
’’اللہ تمہارا کام آسان کر دے !‘‘
بھنگی نے جواب دیا: ’’ مہربانی ہیلو چاچا !تمہاری گاڑی کہاں ہے؟ ‘‘
ہیلونے کندھے جھٹکتے ہوئے کہا: ’’ انہوں نے لے لی ہے۔ ‘‘
’’لے لی ہے کیا؟‘‘ کہیں کام سے تو نہیں نکال دیا؟ ‘‘
’’نکال دیاہے۔ ‘‘
’’تو تمہاری جگہ کسے رکھا ہے؟ ‘‘
’’ہے ایک ریچھ کی اولاد ۔ مگر تم ذرا ٹھہرو۔ ‘‘
’’تو گویا یہ بات ٹھیک ہی ہے۔ ہمارے اِبّو نے بتایا تھا مگر مجھے یقین نہیں آیا تھا۔بڑا افسوس ہے ۔ ہیلو چاچا ، بڑا افسوس ہے !‘‘
’’اِبو نے بتایا تھا تمہیں؟ ‘‘
’’اِبو نے ہی بتایا تھا بیچارے نے ۔ بڑے افسوس سے بتایا تھا۔ اسے بڑا دکھ ہو ا تھا ، بہت زیادہ ۔ ‘‘
’’اِبو اچھا بچہ ہے۔ جو انمرد بچہ ہے۔ ‘‘
’’تو اب تم کیا کام کرو گے؟ ‘‘
’’میں کیا کام کروں گا؟ٹھہرو ذرا ۔اللہ کریم۔ ‘‘
اس نے پھر محلے پر نظر دوڑائی اور بولا :
’’اس محلے کے لوگ ۔کیا تم جانتے ہو اس محلے کو؟ اس محلے کے لوگ بولو والے کو کسی حالت میں کوڑا کرکٹ نہیں اٹھانے دیں گے ۔ توبہ کرو! جانتے ہو کیوں؟ ۔۔۔ وہ تو ابھی گھوڑی کے کھرکھرے کو بھی ٹھیک طرح نہیں پکڑ نا جانتا !کیا محلے والے نہیں جانتے یہ بات ۔ اس محلے میں میرے اتنے حمایتی لو گ ہیں کہ ۔ ‘‘
اتنے میں ان کے قریب کے ایک گھر کا دوازہ کھلا اور پھر بند ہو گیا۔ ہیلو نے کہا ’’آہا!ہمارے ایڈوکیٹ صاحب تھے ‘‘
اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی ۔ ایک امید، ایک بھرپور روشنی کی کرن۔یہ وکیل صاحب بڑی میٹھی زبان والے ہنس مکھ آدمی تھے۔ عید کے موقع پر دل کھول کر بحشیش دیا کرتے تھے۔ ایک عید پر تو انہوں نے اسے وہ سیگریٹ بھی عنائیت کئے تھے جن کا ایک سرا سنہری ہوتا ہے ۔ وہ بولا :
’’یہ ایڈوکیٹ صاحب ہیں ناں۔ یہ اتنا کچھ جانتے ہیں کہ تمہارا بلدیہ کا میئر بھی اس کے سامنے اپنی پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ !‘‘
بھنگی :’’ یہ بات ہے ، ہیلو چاچا؟ یہ بڑے لوگ یہ سب کہاں سے سیکھتے ہیں ؟ ‘‘
ہیلو کی آنکھیں جگمگا اٹھیں ۔ بولا :’’ کمانڈروں کے سکول میں !‘‘
وہ فٹ پاتھ کے سامنے ایک اونچی جگہ پر جا کھڑا ہو ا۔ سر سے ٹوپی اتار دی۔
لمبے قد کا ،چوڑے کندھے والا وکیل ایک سخت سیب کی طرح چمک رہا تھا ، خاکروب ہیلو اور بھنگی کے آگے سے آہستہ آہستہ گزرتے ہوئے اس نے سر ہلا کر انہیں سلام کیا مگر کچھ پوچھنے کی زحمت نہ کی۔ ہیلو ہکا بکا ہو کر وکیل کو پیچھے سے دیکھتا رہ گیا۔ بھنگی بولا :
’’کم از کم اس کے جوتوں کی چر چراہٹ تو سنائی دینی چاہیے تھی۔ ‘‘
ہیلو نے کوئی جواب نہ دیا۔ آخر محلہ صرف ایک اس وکیل پر ہی تو مشتمل نہیں تھا کہ عین اس وقت ایک اور گھر کا دروازہ کھلا۔ ہیلو اس گھر سے نکل کر باہر آنے والے روئی کے موٹے تازے تاجر کا بھی امید باندھے انتظار کررہا تھا۔ وہ پھر فٹ پاتھ کے سامنے ایک اونچی جگہ پر جا پہنچا اور ٹوپی اتار کر کھڑا ہو گیا ۔ یہ شخص بھی وکیل کی طرح ان دونوں کے سامنے سے گزر گیا ۔ اس نے بھی ان سے حال احوال نہ پوچھا ۔ بلکہ ان کی طرف دیکھا تک نہیں ۔
دروازے کھلتے بند ہوتے رہے ، کام کاج پر جانے والے اور طلباء وہاں سے گزرتے رہے مگر کسی نے اس میں دلچسپی کا اظہار نہ کیا۔ بھنگی نے بھی ہیلو سے کہا : ’’ اپنی جان نہ جلاؤ۔ انشاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا .۔
جب وہ یہ کہہ کر وہاں سے روانہ ہو رہا تھا تب ہیلو کی تمام امیدوں پر پانی پھر چکا تھا ۔ اپنی خالی خالی آنکھوں سے دیر تک محلے کی طرف دیکھتا رہا اور پھر فٹ پاتھ پر جانکلا۔ دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
سورج اچھی خاصی بلندی پر پہنچ چکا تھا ۔ محلے کی مشرقی جانب والی کھڑکیاں تپ کر سرخ ہو رہی تھیں ۔ تنگ گلیوں میں ایک گلی سے ایک کُبڑی بڑھیانکلی۔ اس کے ہاتھ میں ایک بڑی سی ٹوکری تھی۔ وہ اپنے آپ سے باتیں کرتی آرہی تھی کہ اس کی نظر ہیلو پر جا پڑی ۔ بولی :
’’ہیں ، یہ کیا ؟ اس شریف آدمی کی گاڑی کیا ہوئی ؟ ‘‘
پھر وہ اس کے قریب گئی اور پوچھا : ’’ تمہاری گاڑی کہاں ہے ؟ ‘‘
ہیلو نے سر اٹھایا اور بڑھیا کی طرف دیکھا ۔ پھر کہنے لگا :
کوئی نہیں اماں ، کوئی نہیں ۔ اب میرے پاس گاڑی کوئی نہیں ہے ۔
’’ کیوں ؟ کیا ہوئی تمہاری گاڑی ؟ ‘‘
’’انہوں نے لے لی ہے ۔ انہوں نے مجھے کام سے نکال دیا ہے ۔ .‘‘
’ ’ کیوں نکال دیا ہے ؟ ‘‘
’’ میری جگہ انہوں نے صفائی کے ڈائریکٹر کے ایک آدمی کو رکھ لیا ہے ۔ ‘‘
اس نے بڑھیا کی طرف آخری امید کے ساتھ دیکھا ۔ اس کے سامنے آلتی پالتی مارے بیٹھی بڑھیا بولی :
’’ ٹھیک کہتے ہو ! کیا یہ بے جا جانبداری نہیں ہے ؟ کیا انہوں نے میرے سا دات کو بھی اس کے معمولی سے کام سے نکال کر اس کی جگہ اس سرخ ہونٹوں والی منحوس عورت کو نہیں رکھ لیا تھا ؟ میں اس لئے نہیں کہہ رہی کہ وہ میرا پوتا ہے ۔ سادات کی طرح کا شریف اور لائق بچہ کہاں ملتا ہے اس زمانے میں ؟ نہ وہ عیش و عشرت کرتا ہے ، نہ سگریٹ پیتا ہے ، اور نہ ہی اسے کسی بری جگہ سے واقفیت ہے ۔ ہمارا یہ معصوم بچہ اپنی تنخواہ میں اضافے کی امید کر رہا تھا ۔ اور میں کہتی تھی کہ اس کی اضا فے کے ساتھ ملنے والی تنخواہ سے دو بوری کوئلہ لے کر ایک گوشے میں ڈال لیں گے ۔ کیونکہ یوں لگتا ہے اس سال غضب کی سردی پڑنے والی ہے ۔ کیا تمہیں پتہ ہے غضب کی سردی کیسی ہوتی ہے ؟ جب وہ شروع ہوتی ہے تو انسان کی چیخیں نکل جاتی ہیں ۔ ‘‘
’’ کیسے نہیں جانتا میں ؟ میری ’’ چاندی ‘‘ اسی قسم کی سخت سردیوں میں پیدا ہوئی تھی ۔اسی سال تو کہتے تھے ناں کہ ٹیلی فون کے تار بھی ٹوٹ گئے تھے۔زمین پھٹ گئی تھی۔لیکن اصطبل خوب گرم تھا ۔کیوں بھلا ؟ اس لئے کہ میں بیلچے سے گوبر کو ہٹاتا نہیں ۔ میں کہتا ہوں اسے یہیں رہنے دو ۔ اس سے اصطبل خوب گرم رہتا ہے ۔ ایک روز آدھی رات کا وقت تھا کہ ماں ، یہ میری ’’ چاندی ‘‘ ہے ناں ، اس کی ماں کی بات کر رہا ہوں ۔ ’’ نظر بٹو‘‘ نام تھا اس کا ۔خدا کی حکمت دیکھو۔یہ گھوڑوں کی ذات بھی حاملہ عورتوں کی طرح کراہتی ہے۔ اس رات باہر گُھٹنوں تک برف پڑی ہوئی تھی ۔ طوفان اتنا شدید کہ یوں لگتا تھا کہ ابھی اصطبل کو بھی اڑا کر لے جائے گا۔مگر اصطبل اندر سے خوب گرم تھا !میں ماں کو بتانا چاہتا تھا کہ یہ جو دکھائی دے رہا ہے یہ ’’چاندی‘‘ کا سر ہے۔ مگر تم بیچاری ’’ نظر بٹو ‘‘ سے پوچھتی تو پتہ چلتا کہ کس حال میں ہے ! اس کی آنکھوں سے آنسو ہی آنسو ٹپک رہے تھے۔ کس طرح دیکھ رہی تھی ! پریشان پریشان ، مایوس مایوس !‘‘
اس نے پھر اپنا سر دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔ وہ اپنے کھلے کھلے کپڑوں میں بالکل ہی چھوٹا سا نظر آرہا تھا۔
’’ چاندی انسانوں کی طرح تھی ‘‘ ۔ یہ کہتے ہوئے اس نے سر ہلایا ۔ ’’ میں اسے کہتا تھا رُک جاؤ تو وہ رک جاتی تھی ، واہ کہتا تھا تو چل پڑتی تھی ۔ چاندی بالکل انسانوں کی طرح تھی۔بات سمجھتی تھی ۔ چاندی کہو تو پلٹ کر دیکھتی تھی۔ چاندی روتی بھی تھی ، کراہتی بھی تھی ، اور ہنستی بھی تھی ۔بالکل انسانوں جیسی تھی ۔واہ میری بچی واہ !‘‘
اُسے احساس بھی نہ ہوا کہ بڑھیا تو کب کی وہاں سے جاچکی تھی ۔ وہ فٹ پاتھ کا سہارا لے کر اُٹھ کھڑا ہوا۔ جھریوں سے بھرا ، چھوٹا سا بے حال ہیلو آہستہ آہستہ محلے سے نکل کر چلا گیا ۔