غزلیات
حمد
جب بھی مُریدِ حمد ہوا بندۂ صَمَد
آیا برائے نصر و مدد مفضلِ اَحَد
جز غنچۂ ثنا نہ کِھلا کُن کے باغ میں
جب سے کیا نہالِ قلم نے کشید قَد
بالذات لا شریک ہے وہ بزمِ کون میں
جو واجب الوجود ہے عالم میں مَستَند
اُس سے ہی تابناک صحائف ثنا کے ہیں
آغاز جن کا حِینِ ازل سے ہے نا ابَد
جاتا نہیں خِفا میں زیاد زَبد سے بَحر
ہے ذاتِ حق ہی بحرِ حقیقت جہاں زُبَد
عنوان اس کا لطف ہے نامۂ فضل کا
خلّاق ہی ہے نامہ و اسماء سے نامزد
اس کی صفتِ طلسم جہاں سے نہ ہو عیاں
اس نظم کے نہ آ سکے احوال در رسد
روشن ہے اس کا نور بلا دودھ در سما
رنگینئ نِعَم ہے مبّرا زحسر و حد
پاکیزہ کیف و کم سے ہیں انوارِ عِز حق
ہے خامۂ فلاک بھی قائم بلا عمد
اس کے کرم کی شبنم دلجو سے پا گیا
نشو و نما جمالِ حسینانِ لالہ خَد
کیسے وہ دیکھیں جلوۂ معنی بچشمِ سر
لاحق ہو جن اناس کو بیمارئ رَمَد
اس کی ثنا سے حال میرا مستنیر ہے
اس کی سنا سے روشن تاباں ہیں امس و غد
صد شکر ہے بدست غلامانِ مصطفیؐ
ورد و گل محامد خلاق کی سَبَد
بن زاد رحمت نہ پہنچ پائے کوئی فرد
بر منزل مراد اگر حق نہ ہو مُعَد
ناظم حریم حمد سے آتی ہے یہ صدا
حمدِ خدا کجا و کجا عبد بے سند
الحاج بشیر حسین ناظم
سلام سیّدہ فاطمہ زہراؑ
شانِ زہراؑ کا قصیدہ سورۂ کوثر ہوا
دشمنِ شاۂ دو عالمؐ حشر تک ابتر ہوا
ارضِ خاکی پر فضیلت لا مکاں کے گھر کی ہے
عرشِ نوری پر نمایاں فاطمہؑ کا گھر ہوا
رنگ سُرخ و سبز دونوں ایک ہیں مثلِ حنا
رزم میں شبیرؑ جیسے بزم میں شبرؑ ہوا
فاطمہؑ کنزِ خُدا اور دخترِ سلطانِؐ دیں
مادرِ شَبیر و شبّر، زوج بھی حیدرؑ ہوا
فاطمہؑ جزو محمدؐ، کی صدائیں چار سُو
بلوۂ مکرو حسد جب آپؑ کے در پر ہوا
آیۂ تطہیر پڑھ کر فاطمہؑ کا نام لوں
سُرمۂ چشمِ وفا سے خوب تر منظر ہوا
منظر نقوی
سدا سہاگن
جیسے ملہار چھیڑ دے کوئی
جیسے برسے بہار کا بادل
جیسے بارش میں بھیگتا ہو چاند
جھیل میں جیسے کھل رہا ہو کنول
جیسے رانجھے کی بانسری سن کر
ہیر کے پاؤں کی بجے پأیل
اِک مدھر راگنی محبت کی
جس میں لگتی ہوں سب سُریں کومل
جیسے داسی ہو کام دیو کی اِک
سانوری نار مدھ بھری چنچل
مالا جیتے ہیں نام کی اِس کے
عشق نے جن کو کر دیا پاگل
دل میں سب کے مچا دی اِک ہلچل
ایسا لہجہ کہ جائیے بل بل
رُوپ اِس کا کبھی ہے اَگنی سا
کبھی شبنم کے جیسا نرمل جل
خود بخود دیپ جل اٹھیں جیسے
روشنی شاعری میں جائے ڈھل
بیت جیس امیر خسرو کی
میر کی جیس کوئی تازہ غزل
شبنم شکیل
غزل
تھا دل کو ذوقِ زخم شماری نہیں رہا
اہلِ نظر کا فیض تھا، جاری، نہیں رہا

مارے جو تم نے پھول، لگے صبر آزما
اب کوئی وار دوستو کاری نہیں رہا

بہرِ وداع آ گئے احبابِ جاں سپار
جاں دادگی کا مرحلہ بھاری نہیں رہا

رہوار تازہ دم انھیں درکار تھے سو میں
آئندہ کے غموں کی سواری نہیں رہا

گویا نہیں رہا میں خلا میں زیادہ دیر
تسخیر مہ کا نشہ سا طاری نہیں رہا

ایسا نہ تھا معاملہ ناقابل گرفت
افسوس دسترس میں ہماری نہیں رہا

عشق اب کُھلی کتاب کی صورت سہی شہاب
لیکن کوئی کتاب کا قاری نہیں رہا
شہاب صفدر
غزل
بچانے کے لیے لفظوں کی حرمت جیتے مرتے تھے
سنا ہے سادہ ان پڑھ لوگ جو کہتے تھے کرتے تھے

عجب دن تھے کسی کو مبتلائے درد پاتے تو
ہمیں بھی درد ہوتا اور ہم بھی آہ بھرتے تھے

بساطِ سوگ پر گھمسان سا رہتا تھا یادوں میں
کھڑی فصلیں، کچلتے روندتے، لشکر گزرتے تھے

کسی کو روزی روٹی چاہے جتنی دُور لے جاتی
بُھلائے بھولتے میلے نہ بیتے پل بسرتے تھے

بہت اونچا اڑاتے جھولنے آموں کے باغوں کے
جواں جذبے رُتوں کے بور سے بنتے سنورتے تھے

شہاب اک دوسرے سے جوڑے رکھتیں عیدیں شبراتیں
محّرم پتی پتی کچّی قبروں پر بکھرتے تھے
شہاب صفدر
غزل
سایۂ عجز کبھی پر توِ پندار کبھی
ہو نہ جاؤں میں کہیں خود سے ہی بیزار کبھی

اس قدر جنسِ گراں ہے ترے بازار میں عشق
بھول کر بھی نہیں آئیں گے خریدار کبھی

جو بہت حبس زدہ سے نظر آتے ہیں تمہیں
یہی کوچے ہوا کرتے تھے ہوا دار کبھی

اس طرف اور بھی شہرت ہے مرے ہونے کی
توڑ کر دیکھ لوں میں ذات کی دیوار کبھی

کیا معمہ ہے کہ کھلتی نہیں ہستی میری
کبھی معصوم بہت اور بہت عیار کبھی
تصنیف حیدر
غزل
تمہارا دیکھنا حسنِ ادا تھا
ہمارا قتل تو اک حادثہ تھا

مشامِ تیز سے منزل ملی ہے
وگر نہ راستہ ظلمت بھرا تھا

میں اپنے، خوف سے بعاً مانیں ہوں
میری تو گھات میں اک راستہ تھا

مجھے حالات نے دُھندلا دیا ہے
میں اپنی ذات میں اک آءًنہ تھا

شگفتہ تر ہے صدیوں کی زباں پر
صفی جی اک انوکھا واقعہ تھا
افضل صفی
غزل
احساس کی دولت کا دروازہ کھلا رکھنا
انسان کی عظمت کا دروازہ کھلا رکھنا

راہوں میں محبت کی تقاضا ہے وفا کا
ایفائے محبت کا دروازہ کھلا رکھنا

جو لوگ یہ نفرت کی دیواریں کھڑی کریں
تم دل میں اخوت کا دروازہ کھلا رکھنا

جب کفر کی یلغاریں آ جائیں تیری جانب
تلوار شجاعت کا دروازہ کھلا رکھنا

خالی نہ کوئی جائے در سے ترے اے طالب
ایوان سخاوت کا دروازہ، کھلا رکھنا
طالب حسین ہاشمی
غزل
رَقَم لہو سے ہیں کتنے سوال صحرا میں
بُنے ہیں کتنے قبیلوں نے جال صحرا میں

کوئی تو ہے جو بُلاتا ہے گھر کی چَوکَھٹ پر
سُلگ اٹھا، دمِ آخر خیال صحرا میں

فضا میں اُڑتے پرندے یہ کیا خبر لائے
بہانے لگ گئے آنسو غزال صحرا میں

نہ جانے دیکھا ہے کتنی نڈھال آنکھوں نے
طُلوعِ بَدر ، یہ رنگِ ہِلال ، صحرا میں

اندھیرے اپنے گھروں کو پلٹتے جاتے ہیں
گری نہیں ابھی سورج کی ڈھال صحرا میں

یہ ہنستے بستے گھرانے خبر نہیں رکھتے
لُٹا ہے کیسا مُسافر کمال صحرا میں

وہ راہِ حق کے مُسافر گزر گئے حیدر
لٹ گئی ہے ستاروں کی چال صحرا میں
حیدر سلیم
غزل
لفظوں کی توقیر بڑھاتے رہتے ہیں
حُسن ترا تحریر میں لاتے رہتے ہیں

اِ نہیں کھلونے دینا مشکل ہے لیکن
ہم بچوں کو خواب دکھاتے رہتے ہیں

گونگے بہرے حاکم کے دربار میں ہم
جانے کیوں زنجیر ہلاتے رہتے ہیں

روز ہمارے سر کی قیمت لگتی ہے
ہم اپنی دستار بچاتے رہتے ہیں
اُس نے ہمیں مہمان کہا تھا کاشفؔ جی
اور مہمان تو آتے جاتے رہتے ہیں
کاشف کمال، کویت
غزل
نیرنگِ جہاں، عالمِ دنیا ہے سراسر
اس چشمِ فسوں کار کا دھوکا ہے سرا سر

یہ کارِ جنوں کیش کی ہے خانہ خرابی
اس آنکھ کی پرکار میں صحرا ہے سراسر

معشوق فریبی نے کیا عشق کو برہم
پندار شکن دستِ زلیخا ہے سراسر

بے کار نہیں کھیل محبت کا، جنوں کا
کچھ ہاتھ نہ بھی آئے تو چرچا ہے سراسر

اٹھتا نہیں اس حسنِ دلآویز سے پردہ
یہ عشق بھی خود بین و خود آرا ہے سراسر

یہ کاہکشاں، پھول چمن، چاند ستارے
اس حسنِ دو عالم کا سراپا ہے سراسر
شاہد رضوان

اے مرے محسنو ! اے مرے منصفو !
زندگی کو قرینے سے رکھنا
دیے کو ہوا سے بچانا
ہر اِک خشت کو خشت سے جوڑ کر
گھر بنانا مرا کام ہے
میں کہ ہستی ہوں ہستی کا آغاز ہوں
پر مری اپنی ہستی تو ہے جھپٹٹا شام کا سرمئی ملگجا
بیٹھ کر عمر بھر غم کی دہلیز پر
میں نے رشتوں کے ریشم ہی سلجھائے ہیں
میں نے رشتوں کے ریشم ہی سلجھائے ہیں
میں نے ہی ظلم کے سارے کانٹے چنے
راستے میں نے صدیوں کے سیدھے کیے
رنج کتنا سہا دل نے ہر جبر پر
پھر بھی بیٹھی رہی مسندِ صبر پر
دستک غیر پر کوئی کھولا نہ در
پھر بھی الزام میرے ہی سر آئے ہیں
سنگ لوگوں نے مجھ پر ہی برسائے ہیں
اے مرے محسنو ! اے مرے عادلو !
مجھ کو کس جرم کی مل رہی ہے سزا
کیوں ہر اِک خوف میرا بچھونا کرو
میرا پل بھر میں ہونا نہ ہونا کرو
شہر دل میرا مسمار کرتے ہو کیوں
شہر تو شہر ہے
آرزوؤں کا ہو یا کہ خوابوں کا ہو
یا مہکتے دمکتے گلابوں کا ہو
زندگی حسن ہے حسن ہے زندگی
میری پہچان ہے زندگی
میری پہچان ہے روشنی
زندگی روشنی، روشنی زندگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شبنم شکیل

اُکھڑتی سانس کی الجھن
ہوا تنکے اٹھائے پھر رہی ہے آشیاں کے
بہت محفوظ تھا یہ
پیڑ تھا جب تک سلامت
گھنی شاخوں میں اس کی
آندھیوں کو
وار کرنے کی نہ تھی طاقت
اسے آہستہ آہستہ
کیا ڈھیر
کسی اندر کے گہرے روگ نے ورنہ
لگے جتنے بھی چرکے جسم پر
ہمت فزائی کا سبب ٹھہرے
کشادہ بازؤں میں آ گئی وسعت
ہُوا پہلے سے بھی مضبوط
پائے استقامت
مگر اندر کی ٹیسوں نے
اسے بے دست و پا کر کے
کسی ایثار کے لائق نہیں چھوڑا
اگرچہ حصے بخرے
کتنے چولہوں کی تپش کا ہوں گے باعث
مگر مہماں، مسافر اور پرندے
میزبانی سے ہوئے محروم
بڑی ہے پیڑ کے دُکھ سے،
سہارا ڈھونڈنے کی
روح کو ڈستی، مصیبت
رات پاؤں پاؤں بڑھتی آ رہی ہے
ٹکڑے ٹکڑے جان و دل کو
ایک کرنے کی مشقت میں
ہوا کی دخل اندازی
ہمیں مجبور کرتی ہے
نشانِ سمت و منزل طے کیے بن
کوچ کر جائیں
ہے شام مہلتِ ہجرت
کسی حد سے گزر جائیں
شہاب صفدر


مایۂ افتخار
سلیماں جانے کب آیا یہاں
لیکن ہے پابوسی کے باعث سرکشیدہ
آج بھی ’’تخت سلیماں ‘‘
یہیں شاید کیا تھا
مور بے مایہ نے اک طنزِ ملیح
افلاک میں اڑتے ہوئے اُس نے مگر
سن لی تھی سرگوشی
سلیماں کے قدم چھونے کو
اپنی عزت افزائی سمجھ کر
موسموں کی تندخوئی سے اُلجھ کر
جب بھی ہوتا ہے رَجَز خواں
یہ مرا ’’تخت سلیماں ‘‘
تو مجھے ہوتی ہے حیرت
سلیماں کے قدم لینا تو اس کو یاد ہے
لیکن نہیں ہے یاد اس کو مور بے مایہ
کہ جس کی حکمت و دانش نے
رہوا رِہوا کے شہسواروں کو
کیا پستی نشینوں کی طرف مائل
شہِ جنّات اور اس کا لاؤ لشکرروز آتاہے
نہیں مورو ملخ میں
اب کچھ ایسا جوہر قابل
کرے جو تندہی سے اپنا حالِ دل بیاں
اور بہرِ پُرسش
غار تک ائے سُلیماں
شہاب صفدر
علی اکبر ناطق
سفیرِلیلٰی۔۱
سفیرِ لیلٰی یہی کھنڈر ہیں جہا ں سے آغازِ داستاں ہے
ذرا سا بیٹھو تو میں سناؤں
فصیلِ قریہ کے سُرخ پتھر اور اُن پہ اژ در نشان بُرجیں گواہ قریہ کی عظمتوں کی
چہار جانب نخیلِ طُوبیٰ اور اُس میں بہتے فراواں چشمے
بلند پیڑوں کے ٹھنڈے سائے تھے، شاخ زیتون اِسی جگہ تھی
یہی ستوں تھے جو دیکھتے ہو پڑے ہیں مردہ گدِھوں کے مانند
اُٹھائے رکھتے تھے اِن کے شانے عظیم قصروں کی سنگیں سقفیں
یہی وہ در ہیں سفیرِ لیلٰی کہ جن کے تختے اُڑا دیے ہیں دِنوں کی آوارہ صرصروں نے
یہیں سے گذری تھیں سرخ اونٹوں کی وہ قطاریں
کہ اُن کی پُشتیں صنوبروں کے سفید پالان لے کے چلتیں
اُٹھائے پھرتیں جو ان پریوں کی محملوں کو
یہ صحنِ قریہ ہے ،ان جگہوں پر گھنی کجھوروں کی سبز شاخیں
فلک سے تازہ پھلوں کے خوشے چُرا کے بھرتی تھیں پہلوؤں میں
سفید پانی کے سو کنویں یوں بھرے ہوئے تھے
کہ چَوڑی مَشکوں کو ہاتھ بھرکی ہی رسیاّں تھیں
مضافِ قریہ میں سبزہ گاہیں اور اِن میں چرتی تھیں فربہ بھیڑیں
شمالِ قریہ میں نیل گائیں منارِ مسجد سے دیکھتے تھے
پرَے ہزاروں کبوتروں کے فصیلِ قریہ سے گنبدوں تک
پرَوں کو زُوروں سے پھڑپھڑاتے تھے اور صحنوں میں دَوڑتے تھے
یہیں تھا سب کچھ سفیرِ لیلیٰ
اِسی جگہ پر جہاں ببولوں کے خار پھرتے ہیں چوہیوں کی سواریوں پر
جہاں پرندوں کو ہَول آتے ہیں راکھ اُڑتی ہے ہڈّیوں کی
یہی وہ وحشت سرَ ا ہے جس میں دلوں کی آنکھیں لرز رہی ہیں
سفیرِ لیلیٰ تم آج آئے ہو تو بتاؤں
ترے مسافر یہاں سے نکلے اُفق کے پربت سے اس طرف کو
وہ ایسے نکلے کہ پھر نہ آئے
ہزارکُہنہ دعائیں گرچہ بزرگ ہُونٹوں سے اُٹھ کے بامِ فلک پہ پہنچیں
مگر نہ آئے
اور اب یہاں پر نہ کوئی موسم ،نہ بادلوں کے شفیق سائے
نہ سورجوں کی سفید دُھوپیں
فقط سزائیں ہیں،اُونگھ بھرتی کر یہہ چہروں کی دیویاں ہیں
سفیرِ لیلیٰ یہاں جو دن ہیں وہ دن نہیں ہیں
یہاں کی راتیں ہیں بے ستارہ
سحر میں کوئی نمی نہیں ہے
سفیرِ لیلیٰ۔۲
نظراٹھاؤ سفیرِ لیلیٰ، بُرے تماشوں کا شہر دیکھو
یہ میرا قریہ، یہ وحشتوں کا امین قریہ
تمہیں دکھاؤں
یہ صحنِ مسجد تھا، یاں پہ آیت فروش بیٹھے دعائیں خلقت کو بیچتے تھے
یہاں عدالت تھی اور قاضی امان دیتے تھے رہزنوں کو
اور اس جگہ پر وہ خانقاہیں تھیں، آب و آتش کی منڈیاں تھیں
جہاں پہ امرد پرست بیٹھے صفَائے دل کی نمازیں پڑھ کر
خیالِ دنیاسے جاں ہٹاتے
سفیرِ لیلیٰ میں کیا بتاؤں کہ اب تو صدیاں گزر چکی ہیں
مگر سنو اے غریب سائے کہ تم شریفوں کے راز داں ہو
یہی وہ دن تھے ، میں بھول جاؤں تو مجھ پہ لعنت
یہی وہ دن تھے سفیرِ لیلیٰ، ہماری بستی میں چھ طرف سے فریب اُترے
دروں سے آگے ، گھروں کے بیچوں پھر اُس سے چولہوں کی ہانڈیوں میں
جوان و پیرو زنانِ قریہ خوشی سے رقصاں
تمام رقصاں
ہجومِ طِفلاں تھا یا تماشے تھے بوزنوں کے
کہ کوئی دیوار و در نہ چھوڑا
وہ اُن پہ چڑھ کر شریف چہروں کی گردنوں کو پھلانگتے تھے
درازقامت، لحیم، بونے
رضائے باہم سے کُولھووں میں جُتے ہوئے تھے
خراستے تھے وہ زرد غلّہ تو اُس کے پِسنے سے خون بہتا تھا پتھروں سے
مگر نہ آنکھیں کہ دیکھ پائیں نہ اُن کی ناکیں کہ سُونگھتے وہ
فقط وہ بَیلوں کی چکّیاں تھیں سَروں سے خالی
فریب کھاتے تھے، خون پیتے تھے اور نیندیں تھیں بَجوؤں کی
سفیرِ لیلیٰ یہ داستاں ہے اِسی کھنڈر کی
اِسی کھنڈر کے تماش بینوں، فریب خوردوں کی داستاں ہے
مگر سنو اجنبی شناسا
کبھی نہ کہنا کہ مَیں نے قَرنوں کے فاصلوں کو نہیں سمیٹا
فصیلِ قریہ کے سَر پہ پھینکی گئی کمندیں نہیں اُتاریں
تمہیں دکھاؤں تباہ بستی کے ایک جانب بلند ٹیلا
بلند ٹیلے پہ بیٹھے بیٹھے ہَوَنّقوں سا
کبھی تو روتا تھا اپنی آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کر کبھی مسلسل مَیں اُونگھتا تھا
مَیں اُونگھتا تھا کہ سانس لے لُوں
مگروہ چولہوں پہ ہانڈیوں میں فریب پکتے
سیاہ سانپوں کی ایسی کایا کلپ ہوئے تھے کہ میری آنکھوں پہ جم گئے تھے
سو یَاں پہ بیٹھا مَیں اُٹھنے والے دھُویں کی تلخی بتا رہا تھا
خبر کے آنسو بہا رہا تھا
مگر میں تنہا سفیرِ لیلیٰ
فقط خیالوں کی بادشاہی مری وراثت
تمام قریے کا ایک شاعر، تمام قریے کا اک لعیں تھا
یہی سبب ہے سفیرِ لیلیٰ، میں یاں سے نکلا تو کیسے گُھٹنوں کے بل اُٹھا تھا
نصیب ہجرت کو دیکھتا تھا
سفر کی سختی کو جانتا تھا
یہ سبز قریوں سے صدیوں پیچھے کی منزلوں کا سفر تھا مجھ کو
جو گردِ صحرا میں لپٹے خاروں کی تیز نُوکوں پہ جلد کرنا تھا اور
وہ ایسا سفر نہیں تھا جہاں پہ سائے کا رزق ہوتا
جہاں ہواؤں کا لمس ملتا
فرشتے آوازِ الااماں میں مرے لیے ہی
اجل کی رحمت کو مانگتے تھے
یہی وہ لمحے تھے جب شفق کے طویل ٹیلوں پہ چلتے چلتے
میں دل کے زخموں کو ساتھ لے کر
سفر کے پربت سے پار اُترا
سفیرِ لیلیٰ۔۳
سفیرِلیلیٰ یہ کیا ہوا ہے؟
شَبوں کے چہرے بگڑ گئے ہیں
دِلوں کے دھاگے اُکھڑ گئے ہیں
شفیق آنسو نہیں بچے ہیں، غموں کے لہجے بدل گئے ہیں
تمھی بتاؤ کہ اس کھنڈر میں، جہاں پہ مکڑی کی صنعتیں ہوں
جہاں سمندر ہوں تیرگی کے
سیاہ جالوں کے بادباں ہوں
جہاں پیمبر خموش لیٹے ہوں، باتیں کرتی ہوں مُردہ روحیں
سفیرِ لیلیٰ تمھی بتاؤ جہاں اکیلا ہو داستاں گو
وہ داستاں گو، جسے کہانی کے سب زمانوں پہ دسترس ہو
شبِ رفاقت میں طُولِ قصہ چراغ جلنے تلک سنائے
جِسے زبانِ ہنر کا سودا ہو زندگی کو سوال سمجھے
وہی اکیلا ہو اور خموشی ہزار صدیوں کی سانس روکے
وہ چُپ لگی ہو کہ موت بامِ فلک پہ بیٹھی زمیں کے سائے سے کانپتی ہو
سفیرِ لیلیٰ تمھی بتاؤ وہ ایسے دوزخ سے کیسے نپٹے
دیارِ لیلیٰ سے آ ئے نامے کی نَو عبارت کو کیسے پڑھ لے
پُرانے لفظوں کے استعاروں میں گُم محبت کو کیونکہ سمجھے
سفیرِلیلیٰ ابھی ملامت کا وقت آئے گا، دیکھ لینا
اگر مُصر ہو تو آؤ دیکھو
یہاں پہ بیٹھو، یہ نامے رکھ دو
یہیں پہ رکھ دو، انہی سِلوں پر
کہ اس جگہ پرہماری قربت کے دن ملے تھے
وہ دن یہیں پر جُدا ہوئے تھے انہی سِلوں پر
اور اب ذرا تم نظر اُٹھاؤ، مجھے بتاؤ تمہارا ناقہ کہاں گیا ہے
بلند ٹخنوں سے زرد ریتی پہ چلنے والا صبیح ناقہ
وہ سُرخ ناقہ، سوار ہو کر تم آئے جس پر بُری سرا میں
وہی، کہ جس کی مہار باندھی تھی تم نے بوسیدہ اُستخواں سے
وہ اسپِ تازی کے اُستخواں تھے
مجھے بتاؤ سفیرِ لیلیٰ کدھر گیا وہ؟
اُدھر تو دیکھو وہ ہڈیوں کا ہجوم دیکھو
وہی تمہارا عزیز ساتھی سفرکا مونس
پہ اب نہیں ہے
اور اب اُٹھاؤ سِلوں سے نامے
پڑھو عبارت جو پڑھ سکو تو
کیا ڈر گئے ہو؟ کہ سطح کاغذ پہ جُز سیاہی کے کچھ نہیں ہے
خجل ہو اس پر کہ کیوں عبارت غبار ہو کر نظر سے بھاگی
سفیرِ لیلیٰ یہ سب کرشمے اِسی کھنڈر نے مری جبیں پر لکھے ہوئے ہیں
یہی عجائب ہیں جن کے صدقے یہاں پرندے نہ دیکھ پاؤ گے
اور صدیوں تلک نہ اُترے گی یاں سواری
نہ چوبِ خیمہ گڑے گی یاں پر
سفیرِ لیلیٰ یہ میرے دن ہیں
سفیرِ لیلیٰ یہ میری راتیں
اور اب بتاؤ کہ اس اذیت میں کس محبت کے خواب دیکھوں
میں کن خداؤں سے نور مانگوں
مگر یہ سب کچھ پرانے قصے، پرائی بستی کے مردہ قضیے
تمھیں فسانوں سے کیا لگاؤ
تمھیں تو مطلب ہے اپنے ناقہ سے اور نامے کی اُس عبارت سے
سطح کاغذ سے جو اُڑی ہے
سفیرِ لیلیٰ تمہارا ناقہ !
میں اُس کے مرنے پر غم زدہ ہوں
تمہارے رنج و الم سے واقف ،بڑے خساروں کو دیکھتا ہوں
سو آؤ اُس کی تلافی کر دوں،یہ میرے شانے ہیں بیٹھ جاؤ
تمھیں خرابے کی کارگہہ سے نکال آؤں
دیارِ لیلیٰ کو جانے والی حبیب راہوں پہ چھوڑ آؤں
علی اکبر ناطق