"تزک بابری " کا ترجمہ : کور گانی سے جعفری تک
شار ہمیدووا )ازبیکستان (
ظہیر الدین محمد بابر(۱۴۸۳۔۱۵۳۰) کی شاہکار کتاب تزکِ بابری کو دنیا میں جو شہرت نصیب ہوئی ہے، جس سے دوسری قومیں بھی بہرہ مند ہوئی ہیں۔ آج کل دنیا کی مختلف زبانوں میں بابر نامہ کے ترجمے موجود ہیں اور بار بار اس کے ایڈیشن شائع ہورہے ہیں۔ آج تک تیس سے زائد زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوچکا ہے۔ سب سے نئے تراجم میں سپینش ، آذربائجانی اور عربی زبانوں کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ بعض زبانوں میں بابر نامہ کے تین تین مختلف ترجمے موجود ہیں ، مثلاً انگریزی اور اُردو۔
اُردو میں بابرنامہ کے تین ترجمے دست یاب ہیں۔ یہ ترجمے مختلف ادوار میں مختلف مترجموں نے پورے کیے ہیں۔ پہلا ترجمہ مرزا نصیر الدین حیدر کورگانی کا ہے۔ یہ ترجمہ ۱۹۶۲ء میں کراچی کے پبلشر ’’بک لینڈ ‘‘نے شائع کیا تھا۔ اس ترجمے کا ایک نیا ایڈیشن چھپنے کی خبر ہے لیکن اس کی تفصیلات معلوم نہیں ہوسکیں۔ (اس کے متعلق دیکھیں : بابر نامہ ، شہر بانو پبلی شرز ، کریکاڈی ، برطانیہ ۲۰۰۷ء ، پیش لفظ)۔
یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ بابر کے زمانے میں تاریخ کے متعلق فارسی کتابوں میں عنوانات دینے کا رواج تھا۔ لیکن بابر نامہ کے مؤلف نے اور راستہ اختیار کیا : انھوں نے علاحدہ علاحدہ واقعوں پر عنوان نہ دیے ، بلکہ ’’ سال فلاں کے واقعات ‘‘ کہنا کافی سمجھا۔ بابر نامہ کے حیدر آباد(دکن) مخطوطے میں جوا صل کے قریب ترین نسخہ مانا جاتا ہے ، موجودہ ازبیک ایڈیشن (۱۹۶۰ء ) ہندی ترجمہ اور تنقیدی متن جسے جاپانی اسکالر ایجی مانو نے تیار کیا ہے ، اس میں بھی ایسا ہی ہے۔ لیکن اکثر ترجموں میں واقعات عنوان دیے گئے ہیں ۔ انیٹ بیورج کا پورا انگریزی ترجمہ ، پروفیسر ڈبلیو ٹیکسٹن کے نئے انگریزی ترجمے میں بھی ایسا ہی کیا گیا ہے۔
مرزا نصیر الدین حیدر کے ترجمے میں شرحیں کافی تعداد میں ہیں۔ مترجم بعض الفاظ کے ترجمے لیڈن ایرسکن کے انگریزی ترجمے سے ملایا ہے۔ مثلاً جگہ کا نام ’’ سنگ زار‘‘ کے بارے میں ایسا فٹ نوٹ موجود ہے : لیڈن متن میں ’’ سنگ زار‘‘ لکھتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ یہ لفظ ’’ سنگ راز‘‘ اور ’’ سنگ زار‘‘ کی شکلوں میں کئی مرتبہ ملتا ہے۔ دونوں میں سے کو ن سا صحیح ہے یہ بتانا مشکل ہے۔ معنی کو دیکھا جائے (یعنی ’’پتھریلا‘‘) تو یہی لفظ درست لگتا ہے۔
دوسرا ترجمہ رشید اختر ندوی کا ہے ۔ کتاب ۱۹۹۱ء لاہو رکے ’’ سنگ میل ‘‘ سے شائع ہوئی ہے۔ یہ ترجمہ فارسی کیا گیا ہے جو ممبئی کی چترا پربھا پریس سے چھپی ہے۔ یہ فارسی قلمی نسخہ اودے پور کے راجہ کی لائبریری سے ملاہے۔ اس اُردو ترجمے میں کوئی شرح وتبصرہ نہیں ہے ، لہٰذا یہ علمی ایڈیشن نہیں ہے۔
اس ایڈیشن میں بھی عنوانات دیے گئے ہیں جیسے ’’ سمر قند پر ‘‘ ، ’’ آگرہ کی سمت ‘‘، ’’ ہمایوں کو واپسی کا حکم ‘‘، ’’ دھولپور بھی ہاتھ آیا ‘‘ ، ’’ رمضان آگرہ میں ‘‘، ’’ شعروں کا دیوان ‘‘ ، ’’ بلوچستان میں ہنگامہ ‘‘ وغیرہ ۲۳۲ چھوٹے بڑے عنوان موجو دہیں۔
بابرنامہ کا نیا تیسرا ترجمہ یونس جعفری (ہندوستان) نے پورا کیا اور حواشی وجزیات حسن بیگ نے لکھے ہیں۔ کتاب برطانیہ میں شائع ہوئی ہے۔ (دیکھیں : وقائع بابر ، شہربانو ، پبلی کیشن، ۲۰۰۷ء ، کریکاڈی ، برطانیہ) ۔ سب سے پہلے اس کے عنوان کے بارے میں رائے ظاہر کرنا لازمی ہے۔ بابر نامہ کے جتنے بھی ترجمے ہوئے ہیں قریب قریب ان سب میں تصنیف کا نام ’ بابر نامہ ‘ ہی رکھا گیا ہے۔ اس کتاب کے کئی نام ہیں لیکن بابر نامہ سب سے آخری نام ہے اور اسے اسی نام سے شہرت ملی ہے۔ بابر نے اپنی کتاب کو سیدھا سادہ وقائع ہی بتایا ہے اور نئے اُردو ترجمے کا نام وقائع بابر بتایا گیا ہے۔ اکبر بادشاہ کے حکم پر عبدالرحیم خان خاناں نے بابر نامہ کا ترجمہ فارسی سے کرکے ۱۵۸۹ء میں اکبر کو پیش کیا۔ اس سے پہلے فارسی تراجم پورے نہیں تھے ۔ اس لیے مترجم خان خاناں کی خوب تعریف کی گئی ۔ یہ فارسی ترجمہ لفظ بہ لفظ کیا گیا ہے اس لیے بعض ماہرین اسے ’’ اسلوب ‘ِ‘ بھی کہتے ہیں۔ سب سے نئے انگریزی ترجمہ کے مؤلف پروفیسر تھیکسٹن نے بیورج کے انگریزی ترجمے کو قریب قریب لفظ بہ لفظ کیا جانے کا الزام لگاتے ہیں اور خان خاناں کے ترجمے سے موازنہ کرتے ہیں اور اس کے اس طریقہ کار کی وجہ یوں سمجھاتے ہیں :’’ صدیوں سے مختلف تصانیف کا ترجمہ فارسی سے ترکی میں ہوتا آیا ہے، اس میدان میں کافی تجربہ بھی تھا، لیکن اس کا کے برعکس ترکی سے فارسی میں ترجمہ کرنے کے باب میں تجربہ نہیں تھا۔ خان خاناں کے سامنے قرآن شریف کے فارسی یا ترکی ترجمے کے اسلوب کو اختیار کرنے کے سوا کوئی دوسرا چارا نہیں تھا اور وہ ترجمے ایسے تھے کہ اُن کی ساخت کو مد نظر نہ رکھا جاتا اور لفظ بہ لفظ ترجمہ ہوتا تھا۔ (دیکھیں :
The Baburnama Memories of Babur, Prince and Emperor. Tr. ed. annotated by W.M Thackston. Oxford University Press, Oxford,1996)
پیش لفظ سے ظاہر ہوتا ہے حواشی بنانے والے کو پہلے اور دوسرے اُردو ترجموں کا بخوبی علم تھا۔ چنانچہ رشید اختر ندوی کا ترجمہ پورا نہیں ہے۔ پیش لفظ میں کہا گیا ہے کہ مرزا حیدر کورگانی کا ترجمہ ۱۸۹۸ء میں تیار ہوا تھا لیکن مولف کے دور حیات میں اسے شائع کرانے کا موقع میسر نہیں ہوا تھا۔ اس ترجمہ کو بعد میں ان کے بچوں نے دہلی میں چھپوایا۔ حسن بیگ صاحب لکھتے ہیں کہ اس وقت جب ترجمہ شائع ہوا تھا وہ پرانا ہو چکا تھا۔ حواشی آجکل کے تقاضوں پر پورے نہیں اترتے۔ حواشی کے متعلق حسن بیگ صاحب جو رائے رکھتے ہیں وہ پاکستانی اسکالر ڈاکٹر محمد صابر کی آراء سے مشابہ ہے۔ چنانچہ بیگ صاحب لکھتے ہیں کہ حواشی عطام پر لیڈن اور ایرسکن کی تقلید میں دئیے گئے ہیں۔یہاں تک کہ ایک جگہ کورگانی نے لکھا ہے کہ ’’ جان لیڈن نے حواشی دیے ہیں مگر وہ میری سمجھ نہیں آئے ۔ ‘‘ پیش لفظ میں ذکر کیا گیا ہے کہ لاہورکے ’’ الفیصل ‘‘ اشاعت گھر سے عبداللہ ۔۔۔ کی نگرانی میں ایک اور ایڈیشن چھپا ہے۔ بیگ صاحب مزید لکھتے ہیں کہ کوششوں کے باوجود یہ نہیں کہا جاسکتا انھیں پتا تھا کہ بابر نامہ کی تصحیح وحواشی میں اضافہ کیا گیا ہو۔
ان باتوں سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ مترجم اور حواشی لکھنے والے نے پہلے دو ترجموں کو بخوبی سیکھا ، جانچا ، ان کی غلطیوں اور پھر اُن کی کمزوریوں پر غور کرنے کے بعد ہی نئے ترجمے کو ہاتھ لگایا۔ انھیں پتا تھا کہ پہلے دو ترجموں کی بنیادی غلطی ان میں حواشی کی کمی ، آج کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتی ہے۔جعفری کے ترجمے میں حواشی کافی تعداد میں ملنے کی وجوہات درج ذیل ہیں :
۱ ) باب کا بل میں ہجری ۹۰۹ کے واقعات کے بیان پر بابر لکھتے ہیں :’’ ایک مملکت میں دو بادشاہ اور ایک لشکر میں دو امیر موجب تفرقہ اور ویرانی اور فتنہ پریشانی ہوتے ہیں ۔ ‘‘ اس کے بعد فارسی میں چھ مصرع دیتے ہیں ، ان کے مفہوم سمجھاتے اور ذیل کا حاشیہ پیش کرتے ہیں: ’’ شیخ سعدی کا یہ قول اور اشعار گلستان کے پہلے باب میں تیسری حکایت سے ماخوذ ہیں جہاں ایک بادشاہ جھگڑالو بیٹوں کو ادھر ادھر جاگیر دے کر ایک کو ولی عہد مقرر کر کے اپنے پاس رکھتا ہے تاکہ وہ ہی بعد میں بادشاہ ہو(ص : ۹۸ ) ‘‘
۲ ) ہجری ۹۰۵ کے واقعات کے بیان میں بابر لکھتے ہیں کہ: ’’ان ہی دنوں الغبیک مرزا کا لڑکا میران شاہ مرزا اپنے باپ سے باغی ہو کر ہزارہ پہنچ گیا۔۔۔ ‘‘ اس جملے میں اسم ’ الغ بیک ‘ کے لیے یہ حاشیہ دیا گیا ہے : ’’ یہ الغ بیک بن ابو سعید مرزا ہیں جو کابل کے حکمراں اور بابر کے چچا تھے ( ص : ۴۷ ) ‘‘
۳ ) ہجری ۹۳۵ کے واقعات کے بیان میں ہم پڑھتے ہیں : ’’ جس طرح مصنف کا قصیدہ بردہ قبول ہوا اور انھوں نے فالج کے مرض سے شفا پائی اسی طرح میری نظم کو بھی قبولیت حاصل ہو۔۔۔‘‘ اُردو ترجمے میں قصیدہ بردہ کے لیے یہ شرح دی گئی ہے : ’’ ابو عبداللہ شرف الدین بوصیری کا مشہور قصیدہ ۔ بوصیری ۶۰۸ /’’ ۱۶۰۸ (تاریخ غلط دکھائی گئی ہے ، ۱۲۰۸ ہونی چاہیے۔ مخلصہ شارہمیدووا ) مصر میں پیدا ہوئے۔ بربری نسل سے تعلق تھا۔ انھیں سیرت سے شغف تھا ، عیسائیوں اور یہودیوں سے منا ظرے کا شوق ۔ ان کی شہرت شاعری کی وجہ سے ہے۔ انھیں کوفالج ہوگیا تھا ، اسی دوران انھوں نے یہ قصیدہ مکمل کیا۔بار بار قصیدے کو پڑھ کر اپنے صحت مند ہونے کی دعا کی۔ ایک رات خواب میں نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے بوصیری کے بیمار جسم پر ہاتھ پھیرا اور پھر ان پر ایک چادر(بردہ) ڈال دی جن سے آپ صحت مند ہوگئے۔ یہ قصیدہ ۱۶۲۵ اشعار پر مشتمل ہے۔ ان کا انتقال قاہرہ میں ۱۲۹۶ میں ہوا۔
اُردو ترجمے میں اس قسم کی مثالیں کافی تعداد میں پائی جاتی ہیں۔ بابر نامہ کے ہمارے یہاں جو علمی ایڈیشن ہیں ، خاص کر ۲۰۰۲ء (تاشقند ، سیر یلک حروف تہجی میں ) اُن میں بھی ایسے حواشی نہیں ملتے۔ حواشی اور جزیات تصنیف کو اور گہرائی سے دیکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں ، اس کی سائنسی جہت بڑھاتے ہیں۔
مذکورہ اُردو ترجمہ بھی اس سے پہلے اُردو ترجمے کی طرح عنوانات میں تقسیم کیا گیاہے۔ باب ماوراء النہر میں ۲۲، باب کابل میں ۲۳ اور باب ہندوستان میں ۲۷ عنوان ہیں۔ مثلاً عمر شیخ مرزا ، فتح اندجان ، سمر قند پر حملہ، جراح کا علاج ، خسرو شاہ کی اطاعت ، ہندوستان کی طرف پہلا قدم ، ہرات کی سیر، لشکر کا شمار ، باغ کی تعمیر ، چندیری پر حملہ ، گوالیار کی سیر ، مشرق پر لشکرکشی ، بہار پر قبضہ ، نصرت شاہ سے صلح وغیرہ۔بعض جگہوں پر عنوان چھوٹی چھوٹی سرخیوں میں تقسیم ہوئے ہیں۔ مثلاً عمر شیخ مرزا کے امراء ، اولاد عمر شیخ مرزا ، خان زادہ بیگم ، بابر کی سمر قند پر حکمرانی ، علالت ، اقوام کا بل ، کوہ سفید ، غزنی وغیرہ ۔ عنوان عمرشیخ مرزا کے اندر اولاد عمر شیخ مرزا اور وہ بھی ہر ایک بیٹوں کے نام سے علیحدہ علیحدہ سرخیوں میں منقسم ہے۔ اس ایڈیشن میں غلطیاں اور خامیاں موجود ہیں۔ املاء کی غلطیاں ، تاریخیں لکھنے میں غلطیاں ان میں شمار کی جاسکتی ہے۔ جگہ کا نام فرغنہ لکھا ہے حالانکہ اسے فرغانہ لکھنا درست ہے۔ بابر نے جن الفاظ کا استعمال کیا ہے مترجم نے اسی شکل یعنی اصل کی شکل میں دئیے بغیر آجکل کی شکل پیش کی ہے۔ ترجمے میں اس اسلوب کو مقبول نہیں سمجھا جاتا ، اس سے تصنیف کی روح کو نقصان پہنچتا ہے۔ مثلاً اصل ترکی ماپ ’’قری ‘‘ کو ’’ گز ‘‘ کی شکل میں ، ’’ یامچی ‘‘ کو ’’ ڈاک‘‘ کی شکل میں دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ پرانی ہندوستانی اصطلاحات کو بھی آج کی نئی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر بابر کے زمانے میں دریائے جمنا کو ’’ جون ‘‘ بولا جاتا تھا، اس بات پر بابر نے خاص طور پر زور دے کر کہا ہے ۔ لیکن مترجم نے ’’ جون ‘‘ کو ’’ جمنا‘‘ بنا دیا حالانکہ لفظ ’’ جون ‘‘ کو رہنے دینا چاہیے تھا اور فٹ نوٹ میں یہ لکھنا چاہیے تھا کہ بابر کے زمانے میں دریائے جمنا کو ’’ جون ‘‘ کہا جاتا تھا۔ اس سے دو فائدے ہوتے ، ایک تو یہ کہ بابر کا اسلوب اور تصنیف کی روح برقرار رہتی اور دوسرے ، قاری کو تاریخ کے متعلق ایک دلچسپ معلومات فراہم ہوتیں ۔
بعض جملوں کے ترجمے کو درست نہیں کہا جاسکتا۔ مثلاً ترکی میں ’ ایل واولوس کا معنی ،ا قوم ، لوگ ، خلق‘ لیکن اُردو ترجمے میں یہ مرکب لفظ قبائل میں تبدیل کیا گیا ہے،وہاں کے قبائل کے بارے میں ہمیں ایسی باتیں بتاتا ، یہاں صاف ظاہر ہے کہ اصل جملے کا معنی بگاڑ دیا گیا ہے ۔ کتاب کے آخر میں بابر کی تلاش میں ، ماخذ ، اشاریہ جیسی فائدے مند جزیات پیش کی گئی ہیں۔ باب ’’ ’’بابر کی تلاش میں‘‘ چار میں حصوں منقسم ہے: ’’ ازبیکستان (کتاب میں ’ از بکستان ‘ لکھا ہے جو غلط ہے) سے متعلق بہت دلچسپ مواد قارئین کی خدمت میں پیش کیا گیا ہے۔ باب افغانستان میں باغ بابر ، زیارات کابل ، تخت بابر، باغ وفاجیسے عنوانات ہیں۔ تیسرا باب پاکستان کے علاقوں سے تعلق رکھتا ہے اور باجوڑ ، دریائے سندھ ، بھیرہ جیسی سرخیاں ہیں۔ چوتھا باب ہندوستان سے متعلق ہے ۔ اس میں پانی پت ، کابلی باغ مسجد وغیرہ کے بارے میں تفصیلی اور دلچسپ باتیں ہیں۔ اس ایڈیشن میں درجنوں سفید کالی اور رنگین تصویریں دی گئی ہیں۔ اس کو برطانوی میوزیم ، وکٹوریہ اور البرٹ میوزیم میں محفوظ چھوٹی تصویروں (Miniatures) سے آراستہ کیا گیا ہے۔
آخر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ صدیوں کے دوران بابر نامہ کو مختلف اقوام کا پڑھنا اور اس کا بارہا شائع کرنا ۔ ایک تو اس تصنیف کے قاموسی نوعیت کے حامل ہونے کا ثبوت ہے، دوئم ہمارے عظیم ہم وطن کایہ شاہکار دنیا کے تمدنی کے خزانے میں ایک بیش قیمت موتی ہے۔ چھوٹی موٹی خامیوں کے باوجود تینوں تراجم کی اہمیت ہے۔ مرزا نصیر الدین حیدر کا ترجمہ سب سے اول ، پہلے پورے اُردو ترجمہ کی حیثیت سے اور بابر کی اولادوں کے نمائندوں کے طور پر بھی اہمیت رکھتا ہے۔ بابر مرزا اور اس کی شاہکار کو اُردو دنیا میں عام بنانے میں تینوں تراجم کی خدمات ہیں۔