چڑیا گھر
ڈاکٹر غلام سرور
چڑیا گھر کے ایک کونے میں لاغر ومنحنی سا ایک چوہا بِلّو نامی رہتا تھا۔ اس کی آنکھوں کے گرد حلقے تھے۔ گال پچکے ہوئے اور سینہ دھنسا ہوا تھا۔ اکثر وہ دن بھر دبکارہتا، صرف شام کے بعد باہر آتا اور جلد جلد کھا پی کر واپس بل کا رخ کرتا ۔ وہ کسی کی نظروں میں آنا نہیں چاہتا تھا۔
حالات ویسے بھی مخدوش تھے ۔ عرصے سے چڑیا گھرکے باہر سے نعروں ، بندوقوں اور مشین گنوں کی آواز اکثر آتی ۔ کبھی کبھی تو بڑے زور دار دھماکے ہوتے اور پھر لوگوں کی چیخ پکار کی آوازیں کان میں پڑتیں۔ یہ جنگ آپس میں ہی لڑی جارہی تھی۔ اندرونی جھگڑے تھے ۔ مذہب ، زبان ، جمہوریت ، سوشلزم ، کلچر، سیاست ، غرض ہر مسئلے پر بلوہ جاری تھا۔ گروپ بنے ہوئے تھے ۔ دھڑے بٹے ہوئے تھے اور یہ سب ایک دوسرے کی گردن کاٹ رہے تھے ، دھماکوں سے اڑا رہے تھے۔ حکمران ٹولہ اس افراتفری کی آڑ میں اپنا اور غیر ملکی ان داتاؤں کا الو سیدھا کر رہا تھا۔ عرصے سے بِلّو اداس تھا۔بے حداد اس ۔
وہ اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ بنیادی حقوق ، انصاف اور جمہوریت کی ناکام جدوجہد میں گنوانے اور بہت کچھ کھونے کے بعد دلبرداشتہ سا ہو کرچڑیا گھرکی پنا ہ میں آن چھپا تھا۔ باہر ہر طرف اس کی تلاش میں چھاپے پڑ رہے تھے۔ مگر یہ کسی کو بھی پتہ نہیں تھا کہ بِلّو کہاں غائب ہوگیا تھا۔ اب وہ اپنا سارا وقت ایک بِل میں بیٹھ کراپنی یادداشتوں کو مرتب کرنے میں گزار رہا تھا۔ جانے کس آس میں۔ شاید وہ ان کو کبھی کتابی شکل میں چھپوانا چاہتا ہو۔ شاید اس آس میں کہ اس کی کہانی پڑھ کر انصاف کی جنگ لڑنے نئے سپاہی آگے آئیں گے۔ وہ خود تو اب بے حد تھک چکا تھا۔
ایک رات کوئی ڈھائی بجے وہ سونے کے ارادے سے اپنے بستر پر گیا اور دیر تک کروٹیں بدلنے کے بعد اس کی آنکھ ذرا لگی ہی تھی ایک لاؤڈاسپیکر چنگھاڑنے اسے چونکا کر اٹھا دیا۔ وہ دوڑ کر بل کے منہ پر پہنچا اور کان کھڑے کر کے باہر کی آوازسننے لگا۔ اس کا دہلا ہوا دل کمر اور چھاتی کے بیچ گدے کھا رہا تھا۔ آواز پھر آئی اور صبح تک آتی رہی۔ روشنی ہونے کے بعد اسے پتہ چلا کہ لاؤڈ اسپیکر چڑیا گھر کی سرحدی باڑ کے اندر ایک ایسے چوکور کمرے کی مینار والی عمارت پر لگا ہوا تھا جو کسی نے عجلت میں کھڑی کردی تھی ۔ چڑیا گھر کی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے۔ ظاہرہے غیر قانونی طور پر چڑیا گھر کی باڑ کو کاٹ کر ایک طرف ڈھیر کردیا گیا تھا۔ عمارت پر چونا پھرا ہوا تھا جس پر سبز رنگ سے یہ لکھا ہوا تھا کہ یہاں پیشاب کرنا سخت منع ہے۔ اس پر کسی نے اقلیتوں کے حقوق اور مزدور کسان اتحاد کے بارے میں نعرے لال رنگ میں گھسیٹ ڈالے تھے۔ بِلّو نے صورت حال کا جائزہ لیا۔ اقلیتی حقوق کا نعرہ پڑھ کر وہ ہلکا سا مسکرایا اور پھر اپنی دم کو بل دیتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ اب اسے چڑیا گھر کے کسی اور گوشتہ عافیت کو ڈھونڈنا پڑے گا۔ وہ واپس اپنے بل میں جا کر بستر پر لیٹ گیا اور سوچنے لگا کہ نیا ٹھکانا اب کہاں بنے گا ؟
اس خیال سے وہ بہت افسردہ ہوا کیوں کہ اسے اپنا موجودہ بل بہت پسند تھا۔ حواس کے دوست ٹلّوکی یاد گار تھا۔ٹَلّو کو چند برس پہلے کیمو فلاج وردیوں والے بلّے ایک تاریک رات میں اٹھا لے گئے تھے اور جب سے وہ لاپتہ تھا۔ نیا ٹھکانا ڈھونڈنے کا مجبوراً فیصلہ کر کے بِلّو چڑیا گھر کی باڑ کے ساتھ ساتھ ایک طرف کو روانہ ہوا۔ یہ باڑ چھدی کانٹے دار جھاڑیوں سے بنائی گئی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ ایک سڑک گزرتی تھی ۔ اس سڑک پر کچرے ، ٹائروں اور ٹھیلوں کو ڈھیر کر کے کسی نے آگ لگائی ہوئی تھی جس سے غلیظ اور بدبو دار دھوئیں کے مرغولے بلند ہورہے تھے۔ اس سے ذرا آگے چند بلّے وردیوں میں ملبوس ایک مشین گن بردار ٹرک میں بیٹھے سگریٹیں پھونک رہے تھے۔بِلّوں کو دیکھ کر بلو جھاڑی کی اوٹ میں ہوگیا۔ ان کی وردیاں ان بلّوں جیسی تھیں جو ٹلِّو کو اٹھا لے گئے تھے۔ چند لمحے ادھر ادھر دیکھنے کے بعدبِلّو نے اپنا رخ چڑیا گھر کے اندرونی حصے کی طرف کیا اور چل پڑا۔
چلتے چلتے وہ سوچ رہا تھا کہ حالات کتنی تیزی سے بد سے بدتر ہوتے جارہے تھے ۔ ہر روز کوئی نیا شوشہ، کوئی نئی بلا اور کوئی نیا اژدہا اپنا منہ پھاڑتا اور ا س کی طرف لپکتا تھا۔ حالات نے اسے انڈر گراؤنڈ چلے جانے اور چڑیا گھر میں پناہ لینے پر مجبور کردیا تھا ، مگر خطرات یہاں بھی چاروں طرف سے اس کی طرف بڑھ رہے تھے۔
خیالا ت کی رو میں بہتے ہوئے وہ چڑیا گھر کے اس خطے کی طرف جا نکلا جہاں اچھے دنوں میں لوگ تفریحاً آکر کھاتے پیتے تھے اور خوش گپیاں کرتے تھے ۔ بلو اس جگہ پہنچ کر رکا اور منہ اٹھاکر فضا کا جائزہ لینے لگا۔ خلاف معمول آج آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور ہلکی ہلکی ہوا بھی چلنے لگی تھی ۔ __ ہونہہ __بِلّوے نے دل میں سوچا۔ یہ موسم تو کچھ گلابی سا معلوم ہوتا ہے آج ___ لعنت ہو ___ اب یہ حالت ہوگئی ہے کہ بدلتے موسم کا احساس بھی جاتا رہا۔ جانے یہ کب سے گلابی ہے۔خیر اگر یہ گلابی ہے بھی تو میں اس کا کیا بگاڑ سکتا ہوں۔ بھلے دنوں میں اسی جگہ سے بِلّو کو دو تین بار ’’ چکھنے کو ‘‘ بوتل بھی مل چکی تھی جسے پاکر وہ خوشی سے پھولا نہیں سمایا تھا اور دونوں ہاتھ اٹھا کر اوپر والے کا اور بوتل چھوڑنے والے کا شکریہ ادا کیا تھا۔ مگر آج بوتل کہاں ___ آج تو بس ویرانی سی ویرانی اور محرومیت ہی تھی ۔مگر نہیں ۔لّو نے آس پاس نگاہ دوڑائی ۔ شاید اس کی قسمت ابھی بالکل نہیں سوئی تھی ۔ ایک جھاڑی کی آڑ میں اسے ایک بوتل نظر آہی گئی۔ وہ لپک کر اس کے پاس پہنچا اور یہ دیکھ کر کہ وہ بالکل خالی نہیں تھی خوشی سے کھل اٹھا۔ بوتل واڈ کا (Vadka) کی تھی۔ لیبل پڑھنے پر اسے معلوم ہوا۔ یہ کہاں سے آئی۔ اس کے ذہن میں سوال ابھرا۔ ارے آئی ہو گی کہیں سے بھی ۔ جب کار بم آسکتے ہیں اور کلاشنکوف رائفل آسکی ہے تو واڈکا بھی آسکتی ہے۔ کیوں نہیں ۔ اس نے ہانپتے ہوئے خود ہی اپنے سوال کا جواب دے دیا۔ پھر اس نے اوپر والے کا اور بوتل چھوڑنے والے کا شکریہ ادا کرنے کے بعد سوچا کہ بس اب شراب اور موسم سے لطف اندوز ہوا جائے اور ہر چیز پر لعنت بھیج کر ۔جانے یہ موقع پھر کبھی آئے یا نہ آئے۔
بڑی احتیاط سے اس نے بوتل کو سرکا سرکا کر ایک جھاڑی کے سہارے اس طرح ترچھا کیا کہ شراب اس کے منہ کے بالکل پاس آگئی ۔ پھربِلّو نے احتیاطاً ادھر ادھر دیکھا۔ دور دور تک کوئی آدمی نظر نہیں آیا۔ بس پھر کیا تھا ۔ اس نے بوتل کو چوما اور لہرا کر ایک ادا سے اپنی دم کو بوتل میں سرکایا ۔ شراب میں ڈبو کر نکالا اور چوس گیا۔ یہ عمل اس نے بار بار دہرایا اور ہر بار فرحت حاصل کی ۔ بعد مدت کے سوکھے دھانوں پانی پڑا تھا اور زمین بڑی پیاسی تھی ۔ لہٰذا وہ پیتا ہی چلا گیا۔ پھر اس کی سوچ نے قلا بازی کھائی اور یوں لگا جیسے کچھ پردے چاک ہوئے ہوں۔ یکا یک اس کا کچلا ہوا احساس بھڑک اٹھا اور اسے اپنی مجبور ومجروح زندگی کا کرب شدت سے محسوس ہوا۔
’’
یہ زندگی ہے ؟‘‘ اس نے اپنا ہاتھ لہرا کر کہا ۔ کوئی سننے والا وہاں نہیں تھا۔ اس کا ہاتھ فضا میں ا یک ننھی سی قوس بنا کر نیچے آن پڑا۔’’یہ زندگی کیا ہے، یہ کیا زندگی ہے ؟ ‘‘ وہ زور سے چیخا۔
’’
اس جگہ جینا ہے گویا زندگی نائیں نائیں اس جگہ جینا ہے گویا خود کُشی ۔۔۔ نائیں خود کشی ایسے بولو یہ سچ ہے ؟‘‘ وہ بلند آواز میں بک رہا تھا۔ کبھی ایک ہاتھ اٹھا کر اور کبھی دوسرا۔ نشہ اب اس کی جڑوں میں سرایت کر چلا تھا۔ اس کی بکواس سن کر بوڑھے پیپل پر بیٹھی ایک فاختہ پھڑ پھڑا کر اس کی طرف متوجہ ہوئی اور حیرانی سے تکنے لگی۔ ’’ کیا سمجھتی ہے یہ دنیا اپنے کو ۔ کیوں جینا محال کر رکھا ہے ۔ ان لوگوں نے ؟ ‘‘ اس نے چلا کر کہا۔ پھر دھیمی آواز میں بڑ بڑانے لگا۔ ’’ سارے شہر میں بلے میری تلاش کرتے رہتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں اپنا خاندان اور کتنے اچھے دوست گنوا چکا اور اب اس چڑیا گھر میں چھپا ہوا ہوں۔ کب تک آخر ؟ اور یہاں بھی بے رحم دنیا ایک ذرا سا خیال تک نہیں کرتی۔ یہ نامعقول گلہری کھانے پینے کا ہر ذرہ چن کر اوپر درخت پر لے جاتی ہے اور بار ہاکہنے پر بھی ذرا خیال نہیں کرتی کہ آخر مجھ جیسوں کو بھی پیٹ کا جہنم بھرنا ہوتا ہے کسی صورت۔ بے حسی کی کوئی حدبھی ہوتی ہے آخر۔ یہ بطخیں تالاب صاف کرنے کے بعد باہر آکر بھی صفائی کرجاتی ہیں۔ کچھ نہیں چھوڑتیں۔ اور یہ کوّے ، یہ بدمعاش باہر سے ہر روز صبح صبح آکے سب کچھ چٹ کر جاتے ہیں۔ یہ بد بخت ڈھیلے دانتوں والا شیر، یہ ہر وقت ہاؤں ہاؤں کرتا ہے اور دن رات بیزار کرتا رہتا ہے۔ سارا گوشت خود ہی کھا جاتا ہے۔ حرام کہ ایک بوٹی کبھی میرے لیے چھوڑ ی ہو۔ اور وہ نامردار ہاتھی ۔ ابھی کل کی بات ہے کہ میں اس کے احاطے کے پاس سے گزرتے ہوئے اس کے پاؤں سے کچلتے بال بال بچا۔ وہ تو بس اللہ کا کرم ہوا ورنہ اپنا تو قصہ ہی تمام تھا۔ کم بخت اندھوں کی طرح چلتا ہے بالکل اندھوں کی طرح ‘‘
جیسے وہ اپنی زندگی اور ماحول کے بارے میں سوچتا گیا ، اس کی گرمی بڑھتی گئی ۔ حتیٰ کہ وہ اندر ہی اندر اتنا تپ گیا کہ غصے سے اس کے منہ سے جھاگ ابلنے لگے اور وہ کھولنے لگا۔ یکا یک وہ پھد ک کر کھڑا ہوگیا اور اپنی چھاتی پر دوہتھڑ مار کر دہاڑا کہ ’’ بس ۔۔۔ بہت ہوچکا ۔۔۔بہت برداشت کیا _ میں اب ان سب کو ان کے کیے کی سزا دوں گا۔ کوئی اب میری زندگی کو تباہ کر کے چین کی بنسی نہیں بجا سکتا۔ میں اب بھی لڑ سکتا ہوں۔ ‘‘
اس نے آخری مرتبہ اپنی دم گھما کر بوتل سے نکالی اور واڈ کا کا گھونٹ بھر کے حقارت سے ایک طرف تھوک دیا۔ پھر اس نے ایک لات سے بوتل کو لڑھکا دیا اور دوڑ کر اس کے اوپر چڑھ گیا۔ اس کے بعد بوڑھے پیپل پر بیٹھی فاختہ نے اپنی پھٹی ہوئی آنکھوں سے یہ دیکھا کہ بِلّو بوتل پر اپنی دم کے بل سیدھا کھڑا ہوگیا۔ اس کی دم ایک نیزے کی طرح سیدھی مضبوط اور نوک دار تھی جس میں لرزش کا نام تک نہیں تھا۔ پھربِلّو ایک گرج دار آواز میں دہاڑا ____ ‘‘دیکھ لوں گا آج میں اس کو دیکھ لوں گا۔ ‘‘ فاختہ جلدی سے ایک طرف کو اڑ گئی ۔
ہوا کا ایک زور دار جھونکا آیا اور خس وخاشاک کا ایک بگولا سا بنا کربِلّو کے سر پر رکھ دیا۔ اب بِلّو کا قد درختوں سے اونچا تھا۔ اس نے دانت کچکچاتے ہوئے کہا ’’ میں پہلے چڑیا گھر کے بدمعاشوں کوفنا کرلوں پھر باہر جا کر دوسرے حرام زادوں کو کچا چباؤں گا۔ ‘‘
یہ فیصلہ کر کے وہ شیر کے پنجرے کی طرف روانہ ہوا۔ وہاں پہنچ کر اس نے دیکھا کہ شیر چاروں خانے چت پڑا تھا۔ اس کا منہ کھلا ہوا تھا اور اس کے پیلے پیلے ڈھیلے دانتوں میں سے اس کی زبان باہر لٹکی ہوئی تھی ۔بِلّو نے شیر کی بغل میں پہنچ کر اسے ایک زور دار لات جمائی اور گرج کر بولا ’’ اُٹھ بزدل ۔ تیری موت کا فرشتہ آن پہنچا ہے‘‘ اور پھر دوسری لات لگائی ۔ مگر شیر کے بدن میں کوئی حرکت پیدا نہیں ہوئی۔ وہ ویسے ہی ساکت پڑا رہا۔ اس کی پسلیوں کا پنجر خالی وبے حرکت تھا اور اس کی بے نور آنکھیں چھت پر ٹکی ہوئی تھیں۔ بِلّو کو جلد ہی احساس ہوگیا کہ شیر مرچکا تھا (غالباً فاقہ زدگی سے ) مگر ظاہر ہے کہ بلو نے فوراً یہ نتیجہ نکالا کہ شیر اس کے حملے کی تاب نہ لاتے ہوئے مرا ہے۔ لہٰذا وہ فوراً شیر کے سر پر چڑھا اور دم کے بل کھڑا ہو کر چلایا۔ ’’ پہلی فتح ۔۔۔ ایک خبیث تو کم ہوا ۔ ‘‘
پھر اس نے سوچا کہ ’’ چلو اب ذرا ہاتھی کی طرف کہ وہ تخمِ حرام سب سے بڑے پیٹ والا ہے۔ ایک لوتھڑا ہے۔ بڑا سا لو تھڑا۔ آج اس بے کار لوتھڑے کو میں چیر پھاڑ کر اڑا دوں گا۔ ‘‘
آسمان پر بادلوں کے ہجوم اور ہواکی تیزی میں بتدریج اضافہ ہورہا تھا۔ گنیش ہاتھی اپنے احاطے میں کھڑا یونہی اپنی سونڈ ہلا رہا تھا۔ بلو آندھی اور طوفان کی طرح اس کی طرف بڑھ رہا تھا مگر گنیش ہاتھی اس سے قطعی بے خبر تھا۔ ہاتھی کے سامنے پہنچ کربِلّو نے دم کے بل کھڑے ہو کر بازوؤں کو شاہین کی طرح پھیلایا اورپنجابی فلموں کے ہیرو کے اندازمیں گرج دار آواز سے بولا ۔ ’’ اوئے ۔۔۔ اوے میں آگیا تیری ٹانگیں چیرنے ۔۔۔ آنکھ ملا بزدل۔ ‘‘
ہاتھی نے آواز کی طرف دیکھا جو اس کی سونڈ کے نیچے سے آرہی تھی اور چوہے کو پہچان کر بولا۔
’’
کیا بات ہے بھائی بِلّو ۔ آج سلام نہ دعا۔ مزاج تو ٹھیک ہیں تمہارے۔؟ ‘‘
’’
بھائی بھائی مت کر اب ۔ اپنی موت کو پہچان جو تیرے سامنے کھڑی ہے۔ نام بتا اپنا جلدی سے __کون ہے تو ؟ ‘‘
بلو چوہے نے گنیش ہاتھی کو حقارت سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ’’ بھائی یہ آج کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو۔ نام میں کیا بتاؤں تم کو۔ پہچانتے نہیں کہ میں گنیش ہوں ، تمہارا پڑوسی۔ ‘‘
’‘
کوئی کسی کا پڑوسی وڑوسی نہیں ہوتا اس دنیا میں ۔ میں کسی گنیش ونیش کو نہیں جانتا۔ یہ بتا کہ تیرا کام کیا ہے ادھر ؟ کیا کرتا ہے تو ؟ اور تو اتنا بھدّا، بد صورت اور موٹا کیوں ہے ؟ ‘‘
بلو یہ سوال پوچھتے ہوئے مسلسل داؤ بھی لگا رہا تھا کہ وار کر لے اور ایسا کہ ایک ضرب میں کام تمام ہوجائے۔ مگر کوئی مناسب جگہ نظر نہیں آرہی تھی ۔
’’
کام ۔۔۔ کام تو میرا کوئی نہیں ۔۔۔ بس درختوں کے پتے اور گھاس واس کھاتا تھا ، مگر اب تو بس پتے ہی کھاتا ہوں ۔ گھاس ڈالنے والے تو جانے کدھر گئے ۔ ‘‘
’’
یہ کوئی کام نہیں ہوا۔ بکواس مت کراور جلدی سے کام بتا ۔۔۔ ورنہ ۔۔۔؟ ‘‘
’’
کام ۔۔۔ کام ۔۔۔ہاں یاد آیا۔ میں کبھی کبھار بچوں کو اپنی پیٹھ پر بٹھا کر سیر کرا دیا کرتا تھا چڑیا گھر کی ، جب وہ آتے تھے ۔ مگر اب تو عرصے سے وہ بھی نہیں آئے۔ کتنے اتوار آئے اور ایسے ہی گزر گئے ۔ ایک بچہ بھی نہیں آیا۔ جانے کیا بات ہوئی۔‘‘ گنیش حالات سے بے خبر رہنے والوں میں سے تھا۔
’’
بولتا جا ۔۔۔ بولتا جا کہ یہ تیرے آخری الفاظ ہیں۔ اور تو کیا کرتا تھا تو ۔۔۔ ؟ ‘‘
’’
ہاں __اور کبھی کبھی بچے فرمائش کرتے تھے تو میں ان کے لیے ماؤتھ آرگن (Mouth Organ) باجا بھی بجایا کرتا تھا۔
’’
ہا ہا ہا ۔ماؤتھ آرگن بجاتا تھا سالا ۔ ابھی میں تیرا باجا بجاتا ہوں _موت کا باجا ‘‘
یہ کہہ کربِلّو نے کراٹے کے انداز میں پھدک کر ہاتھی کی ٹانگ پر ایک ضرب لگائی اور منہ کے بل گرا۔ ہاتھی نے سونڈ سے اسے سیدھا کیا۔
’’
تو اتنا بڑا کیوں ہے __عمر کیا ہوگی تیری ؟ ‘‘
بلونے سنبھلتے ہوئے دانت پیس کر کہا۔ وہ منہ سے جھاگ اڑا اڑا کر ہاتھی کے چاروں طرف ناچ رہا تھا۔ کسی ماہر باکسر کے انداز میں :
’’
پتہ نہیں ، ہوگی کوئی دوڈھائی سال میری عمر ‘‘
’’
اور وزن کتنا ہوگاتیرا کالے ہاتھی کے بچے ؟ ‘‘
’’
وزن معلوم نہیں صحیح کبھی کروایا نہیں ہوگا کوئی دوچار ٹن مگر تم بھی تو کچھ بتاؤ کہ تمہاری عمر کیا ہے ؟ ‘‘
گنیش نے جھلّا کر سوال پھینکا ۔
’’
میری عمر کی تو فکر نہ کر ۔ تجھ سے بہت بڑا ہوں‘‘۔ بہت بڑا ، چار سال کا ہوں۔ پورے چار سال کا۔ ‘‘بِلّو نے گنیش کو ایک اور لات جماتے ہوئے کہا ۔( جس کا بظاہر کوئی اثر نہیں ہوا )
’’
اور وزن کتنا ہوگا تمہارا ؟ گنیش نے معصومیت سے پوچھا ۔ ’’ میرا وزن ؟ ‘‘بِلّواچانک ناچتے ناچتے رک گیا جیسے اسے کوئی شاک سالگا ہو ۔۔۔ اور پھر کچھ سوچ کر بولا۔
’’
میرا وزن !ارے میرا وزن توبس کوئی آدھ پاؤ ہوگا مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ میں بچپن میں بیمار بہت رہا تھا ،ہاں !
یہ سن کر گنیش کو بے اختیار ہنسی آئی اور اس نے ایک زور دار قہقہہ لگایا، پھر دوسرا اور پھر تیسراور پھر وہ پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہو کر اپنی سونڈ دائیں بائیں لہرا کر زور زور سے ہنسنے لگا۔ اتنا ہنسا کہ دھڑام سے زمین پر آن پڑا اور لوٹنے لگا۔
بِلّو نے گنیش کے ہنسنے پر مزید تاؤ میں آکر اس پر تابڑ توڑ حملے کیے۔ یکایک یوں ہوا کہ ہاتھی کا جسم ہلتے ہلتے ساکت اور خاموش ہوگیا۔ گنیش کا ہارٹ فیل ہوگیا تھا۔ وہ مرچکا تھا۔
آسمانوں پر بجلی کا ایک آنکھیں چکا چوند کرنے والا جھماکا ہوا اور پھر ایک زبردست کڑا کے کے ساتھ پانی کی موٹی موٹی بوندیں گرنے لگیں۔ مگر بلو پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ وہ ہاتھی کے مردہ جسم پر چڑھا مستوں کی طرح ناچ ناچ کر اپنی دوسری فتح کا جشن منا رہا تھا۔ اسے یقین تھا کہ گنیش ہاتھی اس کے ہلاکت خیز حملوں کا شکار ہوا تھا اور اب اس کے اندر کا نیم مردہ ، شکست خوردہ حریت پسند نئی توانائی کے ساتھ پھر زندہ ہوگیا۔
ہاتھی کا قصہ تمام ہونے کے بعد بلو نے فیصلہ کیا کہ اب وہ چڑیا گھر سے باہر جا کر شرپسندوں کا صفایا کرے گا لیکن ابھی وہ مین گیٹ سے باہر نکلا ہی تھا کہ کیموفلاج وردیوں والے بِلّوں کی ایک گشتی پارٹی نے اسے دیکھ لیا اور للکارا۔ بِلّو ٹھہر گیا اور غصے بھری نظروں سے بِلّوں کو گھورنے لگا جو آٹو میٹک رائفلیں تانے اور کنٹوپ پہنے اس کی طرف بڑھ ر ہے تھے۔ بلو نے چاہا کہ وہ پھدک کر اپنی دم پر کھڑا ہوجائے مگر اب اس کی دم کی سختی غائب ہوچکی تھی اور وہ دھاگے کی طرح مڑ گئی ۔ اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ بِلّو کا نشہ ہرن ہوگیا اور وہ منہ کے بل گرا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور سوچتا گولیوں کی ایک بوچھاڑنے اس کا بدن چھلنی کردیا۔ بِلّو چاروں شانے چت پڑا تھا اور آسمان ایک نیلے بھنور کی طرح اس کے گرد گھوم رہا تھا۔ اس نے اپنے سارے وجود کا زور لگا کر چیخنا چاہا ۔ مگر اس کا دم اندھیروں میں ڈوب گیا۔
بِلّو کی آنکھ کھلی تو وہ اپنے بسر پر پڑا تھر تھر کانپ رہا تھا ۔ اس کا سارا بدن پسینے میں شرابور تھا اور چھاتی کسی لوہار کی دھونکنی کی طرح چلا رہی تھی۔ ڈرتے ڈرتے اس نے اپنے بدن کو ٹٹولا اور کہیں گولیوں کے چھیدنہ ملنے پر اطمینان کا سانس لیا۔ ذرا حواس درست ہونے پر اس نے اپنے بل سے باہر جھانک کر دیکھا۔ خوب دن چڑھا ہوا تھا اور چڑیا گھر کے پرے سے زندہ باد اور مرد ہ باد کی آوازیں آرہی تھیں ۔بِلّو نے دوبارہ اپنے بدن کو ٹٹولا اور بل میں واپس آکر اوپر والے کا شکریہ ادا کیا۔