کرغستان میں اردو کی تدریس
عماد یونس ) بشکک ، کرغزستان (  
ترجمہ: نبلی پیرزادہ
کرغزستان میں پچاس سے زائد قومیتوں کے لوگ آباد ہیں جو بین الاقوامی ابلاغ کے لیے غیر ملکی زبانیں سیکھنے میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔ چنانچہ کرغزستان میں نہ صرف تقریباً تمام بڑی زبانوں کے بولنے والے افراد موجود ہیں بلکہ بشکک (Bishkek) کے تقریباً ہر حصے میں ان زبانوں کے سیکھنے کے مراکز بھی موجود ہیں جہاں معمولی فیس کے عوض طلبہ کی ایک بڑی تعداد انگریزی، جرمن ، ہسپانوی، فرانسیسی، چینی، کورین، جاپانی، عربی، اطالوی اور ترکی زبانیں سیکھتی ہے۔ حال ہی میں کچھ نئے سکول بھی کھلے ہیں جہاں عربی اور فارسی کے کورس بھی کروائے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں بشکک کی ایسٹرن یونیورسٹی (Eastern University) کا تمام تر نصاب عربی زبان میں ہے اور طلبہ اپنے تخصص کے میدان کی تعلیم عربی زبان میں ہی حاصل کرتے ہیں۔ تاہم اردو زبان کے حوالے سے یہ صورتحال افسوسناک ہے کہ کسی بھی یونیورسٹی میں کوئی جنوبی ایشیائی مطالعاتی شعبہ موجود نہیں جس کے باعث تمام یونیورسٹیوں کے کسی بھی لسانی مرکز میں اردو اور ہندی زبان نہیں پڑھائی جاتی، اس امر کے باوجود کہ پاکستان اور بھارت کا وسطی ایشیا پر ایک واضح سیاسی جغرافیائی (Geo-political)اثر و رسوخ ہے۔ تو پھر ایسی کیا وجہ ہے کہ مقامی آبادی اردو زبان سیکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتی جبکہ بشمول ہندی، اردو یہاں سب سے زیادہ بولی جانے والی دوسری بڑی زبان ہے۔ زیر نظر مضمون میں کرغزستان میں اردو زبان کی تدریس میں حائل مشکلات کی وجوہ اور ان کے ممکنہ حل کی جانب اشارہ کیا گیا ہے جس میں درج ذیل نکات اہمیت کے حامل ہیں۔
اردو، پاکستانی، ہندی یا ہندوستانی
اردو ایک انتہائی ترقی یافتہ زبان ہے لیکن کرغزستان کے عام لوگ اس بات سے آگاہ نہیں۔ مزید برآں وہ اردو اور ہندی کو ایک ہی زبان سمجھتے ہیں جو چینی زبان سے ملتے جلتے ، دیو ناگری5 (Devnagri)رسم الخط میں لکھی جاتی ہے جبکہ حقیقتاً ہندی زبان (Abugida)نظام تحریر پر مبنی ہے جس میں ’’حرف علت۔ حرف صحیح ‘‘ (Consonant-Vowel)کو ایک اکائی کی حیثیت حاصل ہوتی ہے جبکہ چینی زبان تصویری رسم الخط (Hieroglyphs) میں تحریر کی جاتی ہے۔ کرغزستان کے پیش منظر میں بھارت سے متعلق ہر چیز میں زیادہ کشش پائی جاتی ہے جیسا کہ پاکستانیوں کے مقابلے میں بھارت سے تعلق رکھنے والوں کی ایک کثیر تعداد یہاں رہائش پذیر ہے نیز کرغزستان کے لوگ بھارتی سینما بہت شوق سے دیکھتے ہیں۔ چنانچہ یہ مسئلہ اس صورت میں بڑی آسانی سے حل ہو سکتا ہے اگر ’’ہندوستانی‘‘ کی پرانی اصطلاح پھر سے متعارف کروا دی جائے جیسا کہ ’’ہندوستانی‘‘ اردو اور ہندی کی ہی بولی جانے والی شکل ہے۔ یہ یقیناً ایک مسئلہ ہے کہ ’’اردو‘‘ نام کسی خطے یا نسل سے وابستہ نہیں جیسا کہ کرغزستان کے عام لوگ ، کسی ملک کی زبان کو اس کے نام کے ساتھ منسلک کرنے کے عادی ہیں۔ اس ضمن میں یہ بات سہولت کا باعث ہوتی اگر اردو کو ’’پاکستانی‘‘ کہا جا سکتا لیکن خوش قسمتی سے ایسا اس لیے ممکن نہیں کہ اس زبان کا جنم بھارت میں ہوا۔ چنانچہ ہمیں اس معذوری سے سمجھوتا ہی کرنا پڑے گا۔ کرغزستان کے لوگ اردو کو ’’پاکستانی‘‘ کے طور پر قبول کرنے کو تیار ہیں تاہم جب بھی ایسا ہوتا ہے تو پاکستانی لوگ ان کی تصحیح کرنے لگتے ہیں اور ایک طویل بحث شروع ہو جاتی ہے جو مقامی لوگوں کو الجھن میں مبتلا کر دیتی ہے۔
اس وقت کسی بھی یونیورسٹی میں اردو زبان نہیں پڑھائی جا رہی کیونکہ تمام ارباب اختیار کا نظریہ ہے کہ یہ زبان ان کی دلچسپی کے دائرہ کار سے باہر ہے اور ہمسایہ ملک کی فارسی یا ازبک زبان سیکھنا کافی ہے نیز یہ خیال پایا جاتا ہے کہ گرامر کے اعتبار سے اردو مخصوص ہندی ساخت رکھتی ہے جس کا اس علاقے کی مانوس زبانوں سے کوئی تعلق نہیں۔
فارسی۔ عربی (Perso-Arabic)رسم الخط سے شناسائی
جیسا کہ مندرجہ بالا سطور میں بیان کیا گیا ہے، کرغزستان میں اردو اور ہندی سے واقفیت رکھنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دونوں زبانیں چینی رسم الخط سے ملتے جلتے’’دیو ناگری‘‘ رسم الخط میں لکھی جاتی ہیں۔ تاہم ان دونوں زبانوں کے طرزِ تحریر میں تفریق کرنا اس لیے بے حد ضروری ہو جاتا ہے کہ اگرچہ عمومی طو رپر دیو ناگری رسم الخط ، فارسی۔عربی (perso-Arabic)رسم الخط کے مقابلے میں آسان سمجھا جاتاہے تاہم کرغزستان میں دیوناگری سے زیادہ فارسی۔ عربی رسم الخط قابلِ قبول ہے جیسا کہ کرغز ایک زمانے میں اسی رسم الخط کواستعمال کرتے تھے۔ علاوہ ازیں چند دیگر ترک زبانیں بھی عربی رسم الخط میں لکھی جا رہی ہیں اور مقامی طالب علم کے لیے فارسی ۔ عربی رسم الخط کو اپنانا بہت آسان ہے جو دراصل عربی رسم الخط ہی کی ایک معمولی سی ترمیم شدہ شکل ہے۔ تاہم اردو کے لیے رومن رسم الخط اپنانے سے اردو بول چال کے کورس شروع کرنے کے لیے تحریک مل سکتی ہے۔ دیگر ممالک کی طرح کرغزستان میں اردو زبان کی تدریس، ہندی کی ایک شاخ کے طور پر نہیں بلکہ اپنی انفرادی حیثیت میں متعارف کروائی جا سکتی ہے جیسا کہ یہاں کا تعلیم یافتہ طبقہ اس کے رسم الخط سے مانوس ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ ہندی کی ایک بولی (Dilect)کے طور پر اس کی تشہیر سے یہ زیادہ تعداد میں طالب علموں کی توجہ حاصل کر سکتی ہے کیونکہ ہندی زبان کی یہ بولی انھیں ہندوستانی اور پاکستانی دونوں ممالک کے افراد کے ساتھ رابطے میں مدد دے سکتی ہے اور اس بنا پر کشش کی حامل ہے۔
اردو اور ترک زبانوں کا تقابلی مطالعہ
اردو اور کرغز، دونوں زبانوں نے عربی اور فارسی سے کثیر تعداد میں الفاظ مستعار لیے ہیں۔ اس اعتبار سے دونوں زبانوں کے مابین ایک وسیع ذخیرہ الفاظ کا مشترک ہونا قدرتی امر ہے اور دونوں زبانوں کا تقابلی مطالعہ افادیت کا باعث ہو گا۔ اس ضمن میں ایک اچھی اردو۔کرغز ڈکشنری معاون ثابت ہو گی لیکن اس سے قبل ایسی کتب بھی تحریر کی جانی چاہئیں جن میں اردو کی نحوی اصطلاحات کے انگریزی مترادفات موجود ہوں جیسا کہ عربی اور فارسی کے نحوی قواعد سے مشابہت کے باوجود ، ان مترادفات کے بغیر طالب علموں کے لیے اردو زبان کو سمجھنا مشکل ہو گا۔
درسی کتب اور مشق کے مواقع
انگریزی، جرمن، فرانسیسی، روسی زبان وغیرہ میں اردو سیکھنے کے لیے اچھی درسی کتب موجود ہیں تاہم اس امر کی شدت سے ضرورت ہے کہ ترک زبانیں بولنے والے افراد کے لیے علیحدہ کتب تیار کی جائیں جیسا کہ یورپی زبانوں کے مقابلے میں کسی ایک ترک زبان سے اردو کا تقابلی جائزہ ، اردو سیکھنے، سمجھنے اور اس کے ذخیرہ الفاظ سے آگاہ ہونے میں بہت سہولت فراہم کرے گا۔ کرغزستان میں تقریباً دس ہزار پاکستانی رہتے ہیں جو کہ اس لحاظ سے یہاں کی ایک بڑی نسلی اکائی کا درجہ رکھتے ہیں چنانچہ مقامی طالب علموں کو آسانی سے اردو بول چال کی مشق کے مواقع مل سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں بہت سے پاکستانی اور بھارتی افراد اس کی تدریس میں دلچسپی بھی رکھتے ہیں۔ کرغزستان کی جامعات میں اوریئنٹل سٹڈیز کے شعبہ جات کو اردو کی تدریس کے بارے سنجیدگی سے سوچنا چاہیے اور پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کو اس سلسلے میں ان کی معاونت کرنی چاہیے۔ نیز اردو کی ترقی و ترویج کے لیے کام کرنے والے اداروں کو بھی ضروری مواد کی فراہمی اور فنڈنگ میں ان جامعات کی مدد کرنی چاہیے۔
قومی زبان اورہماری زبان ذمہ داری
اخبارِ اُردو میں شائع ہونے والی ڈاکٹر سلیم اختر کی تحریر ’’زبان : قومی اور بین الاقوامی تناظر میں ‘‘ اہمیت کا حامل ہے۔یہ مضمون ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ دنیا کی سات ہزار زبانوں میں سے نصف کے معدوم ہونے کا خطرہ ہے اور ان میں کچھ اپنے بولنے والوں کے ساتھ ختم ہوچکی ہیں جبکہ آدھی سے زیادہ زبانوں کے معدوم ہونے کا خطرہ ہے۔ اس فکر انگیز مضمون میں لکھا ہے کہ جب کسی زبان کے بولنے والے نہ رہیں تو وہ زبان معدوم ہوجاتی ہے۔
اس تناظر میں پاکستان میں اُردو پر نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ اس ملک میں اُردو پر کیا بیت رہی ہے ، تقریباً پون صدی گزرنے کے بعد بھی یہ سرکاری زبان تو نہ بن سکی اب آثار وشواہد گواہی دیتے ہیں کہ یہ زبان جو سب صوبوں کو اور ملک کومتحد اور ایک رکھے ہوئے ہے کب تک قومی زبان رہتی ہے۔
انگریزی کے چاہنے والوں کی بدولت اولیول اور اے لیول کے علاوہ انگلش میڈیم کے روز افزوں بڑھتے ہوئے اسکول اُردو کے لیے خطرے کی گھنٹی نہیں بلکہ طبل ہے۔ ان دو قسم کے اسکولوں کی بدولت قوم دو طبقوں میں تقسیم ہوچکی ہے؛ ایک طبقہ اشرافیہ کا ہے اور دوسرا نچلا طبقہ غریب غربا کا ہے ۔ آج متوسط طبقے کے والدین سخت مشقت کا شکار ہیں۔ میاں بیوی دونوں ملازمتیں کرنے اور بسا اوقات دو ، دو نوکریاں کرتے ہیں تاکہ اپنے بچوں کو ان نام نہاد اعلیٰ اسکولوں میں پڑھا سکیں اور ان کی ہوش ربا فیس ادا کرسکیں کیونکہ نوکریاں ان کو ملتی ہیں جو انگریزی میں تحریری اور زبانی مقابلوں میں کامیاب ہوسکیں۔
سرکاری اسکول ___ پھٹیچر اسکول کہلاتے ہیں، ان اُردو میڈیم اسکولوں میں نہ ملک کے حکمرانوں کے بچے آتے ہیں نہ ملک کا نظم ونسق چلانے والے افسران کے بچے ، کچھ عرصہ پہلے ان اسکولوں میں صرف سائنس اور ریاضی کی تعلیم انگریزی میں اور باقی مضامین کی تدریس اُردو میں جبکہ اب ان اسکولوں میں تمام مضامین بشمول سوشل اسٹیڈیز انگلش میں اور بعض زیادہ اونچے اسکولوں میں دینیات بھی انگریزی میں ہے۔ جب یہ نسل اس طرح پروان چڑھے کہ ان کی بول چال ، خط وکتابت (ای میل وغیرہ ) ٹی وی پروگرام اور اخبار سب انگریزی میں تو ہیں اس نسل سے اُردو کی قدر اور رغبت کی امید رکھنا ایسا ہی ہے جیسا جو بوکر گیہوں کی فصل کا انتظار کرنا۔
مقتدرہ نے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے لیے بہت کام کیا ہے مگر یہ کتنا کامیاب ہوسکا ؟ مقتدرہ نے بہت اعلیٰ نایاب کتابیں شائع کی ہیں مگر ا ن میں سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق کتابیں بہت کم ہیں کیونکہ کتابیں پڑھنے والوں کے لئے چھاپی جاتی ہیں جب قاری نہ ہو تو لکھاری کیا کرے۔
اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو یہ زبان علم وفن سے عاری صرف ایک بولی بن کر رہ جائے گی ۔ شہروں کے کسی بازار اور علاقے میں نکل جائیے۔ ایک سرے سے دوسرے سرے تک بورڈ انگریزی میں ہیں اُردو میں تختی لگانا کوئی پسند نہیں کرتا۔ کیوں ؟ گھروں میں انگریزی اخبار آتے ہیں ، اگر کوئی بزرگ گھر میں ہے تو اُردو اخبار آجاتا ہے۔ ٹی وی کے پروگرام دیکھئے تو سب کام کرنے والوں کے اور پیش کرنے والوں کے نام انگلش میں۔ انتہایہ ہے کہ پکوان کے پروگرام میں شیف (ماہر پکوان) بے تحاشا انگریزی ، اُردو کے روزمرہ اور عام استعمال کے الفاظ جیسے نمک ، تیل ، پیالہ ، سبزی ، چینی آمیزہ وغیرہ بھول کر سالٹ، آئل ، باؤل ، ویجی ٹیبل ، وغیرہ کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ انھیں جاہل سمجھا جائے ۔ ساری شان اور علمیت تو انگریزی میں ہے۔
انگلش بہت اہم زبان ہے جدید علوم وفنون کا خزانہ اسی میں ہے، اس کی تدریس بہت ضروری ہے لیکن اس کی تدریس ایسے کی جائے کہ اپنی زبان کو گزند نہ پہنچے اور ساتھ ساتھ یہ کوشش بھی جاری رہے کہ اپنی زبان کا دامن ان جدید علوم اور ٹیکنالوجی سے بھرتا رہے۔
اس ملک کو بنانے والے قائد اعظم ؒ کی زبان گجراتی تھی لیکن آپ نے خطبات اور تقاریرمیں واشگاف الفاظ میں پاکستان کی زبان اُردوقرار دی کیونکہ یہ زبان ملک کو متحد اور ایک رکھنے کی اہلیت رکھتی ہے لیکن دیگر اقوال کی طرح اس کو پامال کیا جارہا ہے۔ میں تین چار سال بعد پاکستان گئی تو معلوم ہوا کہ اُردو میں دستخط کرنا ممنوع ہے کیونکہ اس میں دھوکہ دہی اور جعلسازی کا خدشہ رہتا ہے ۔ اگر کوئی دیوانہ اُردو کی محبت میں ایسا کرے تو اسے گویا سزا کے طور پر چیک کے ساتھ اپنی تصویر یعنی شناختی کارڈ لگانا ضروری ہے۔ اُردو کی یہ تذلیل۔ دل بہت دکھا ۔ بہت اذیت ہوئی کہ اللہ اللہ اب اس زبان کی یہ توہین یہ ذلت ۔ جن ممالک میں رسم الخط ہے کیا وہاں پر بھی یہ قانون ہے اور کیا جن ملکوں میں انگریزی رائج ہے کیا وہاں دھوکہ دہی نہیں ۔ بہرحال اُردو کی اس تذلیل کو میں برداشت نہیں کرسکی اور اپنی سی کوشش میں لگی رہی۔ مختلف بینکوں کو فون کیے ، اسٹیٹ بینک کو فون کیا، مختلف اداروں کو فون کر کے احساس دلاتی رہی۔ آخر محنت رنگ لائی اور محبِ اُردو اداروں کی بدولت یہ اردو دشمن قانون منسوخ ہوا۔
ان حالات میں جبکہ اُردو پر چاروں طرف سے یلغار ہے تو اُردو کے شائقین اور ان اداروں کو جو اُردو کی خدمت کر رہے ہیں ، بہت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ تو یہ زبان جدید علوم وفنون سے محروم ہو کر صرف ایک بولی رہ جائے گی اور آج دنیا کی انیسویں زبان کس مقام پر ہوگی __!
نجمہ بانو ، امریکہ
***
محترم ڈاکٹر انوار احمد صاحب
السلام علیکم !
’’اخبار اردو‘‘ اب بہتر صورت میں شائع ہو رہاہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی ہمت اور حوصلہ قائم رکھے۔ہمیں یہ بتاتے ہوئے بے حد خوشی ہو رہی ہے کہ ’’پنجاب یونیورسٹی لائبریری‘‘ میں اس وقت اہل علم کے ۲۶ ذاتی ذخائر موجود ہیں جن کی علمی وتاریخی اہمیت ہے۔ ان میں سے ’’ذخیرہ کتب حکیم محمد موسیٰ امرتسری‘‘ کی فہرست پانچ جلدوں میں شائع ہو چکی ہے جبکہ ’’ذخیرہ کتب صاحبزادہ میاں جمیل احمد شرقپوری‘‘ کی فہرست کی چار جلدیں بھی چھپ چکی ہیں۔ ابھی حال ہی میں ہمیں مقبول احمد دہلوی صاحب نے رسائل و کتب پر مشتمل اپنا وسیع ذخیرہ بھی عنایت کیا ہے۔ اس ذخیرہ میں ’’اُردو ادب‘‘ کے حوالے سے پاکستانی اور ہندوستانی نایاب کتب کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ہم اپنے تمام ذاتی ذخیرہ ہائے کتب کا ڈیٹا اپنے آن لائن (OPAC)پر بھی دے دیں۔ اس وقت ہمارا کیٹلاگ آن لائن موجود ہے جس کا لنک آپ اپنے ویب سائٹ پر دے سکتے ہیں۔ ہماری ویب سائٹ کا ایڈریس درج ذیل ہے :
www.pulibrary.edu.pk
ہارون عثمانی صاحب کے نام آپ کے مراسلہ سے علم ہوا کہ آپ ’’پنجاب یونیورسٹی لائبریری‘‘ کی شائع کردہ مطبوعات بالخصوص فہارس یا ان کے لنکس کو مقتدرہ کی ویب سائٹ پر دینا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں عرض ہے کہ ابھی یہ فہارس فی الوقت ہماری ویب سائٹ پر موجود نہیں ہیں لیکن ہم نے اس سلسلے میں کام شروع کر دیا ہے اور انشاء اللہ بہت جلد یہ فہارس نا صرف ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہوں گی بلکہ ان کی سافٹ کاپی یا لنک (جو آپ چاہیں) مقتدرہ قومی زبان کو بھی فراہم کر دی جائے گی۔
چوہدری محمد حنیف
)
چیف لائبریرین (
پنجاب یونیورسٹی، لاہور
***
مئی کے شمارے میں میرا افسانہ ’’مسلی ہوئی پتیاں‘‘ (صفحہ نمبر ۳۳ تا ۳۴ ) کی زینت بنا۔ ’’اخبار اردو‘‘ دیکھ کر سمجھ میں نہیں آتا کہ افسانے کی (ادھوری) اشاعت پر جناب کا شکریہ ادا کروں یا اپنی غلطی (افسانہ لکھنے کی نہیں ، بھجوانے کی غلطی) پر اپنے آپ کو لعن طعن کروں۔افسانے سے پیرے کے پیرے حذف کر دیے گئے ہیں ، آخر کیوں؟ مقام افسوس اور جائے عبرت ہے۔ میرے فرشتوں کو بھی خبر نہ ہوئی کہ اس کائنات میں کچھ ’’ادبی فورمین‘‘ پروان چڑھ رہے ہیں جو دوسروں کے خون پسینے سے لکھی ہوئی تحریروں کو سمجھنے یا قبول کرنے کی بجائے آہنی ہتھوڑوں سے ان کی ’’مرمت اور حجامت‘‘ بناتے ہیں۔ میں اس بات سے اچھی طرح آگاہ ہوں کہ ’’اخبار اردو‘‘ کے صفحہ نمبر ایک کے حاشیے پر یہ الفاظ درج ہیں کہ: مضمون نگاروں کی آراء سے مدیر کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس پر ہر کوئی سر تسلیم خم کرتاہے لیکن اس کے معانی یہ تو نہیں لیے جا سکتے کہ مدیر کو سرٹیفیکیٹ مل گیا ہے کہ وہ افسانے یا مضمون سے پیرے کے پیرے حذف کر دے۔ مدیر کا اتنا اختیار ضرور ہوتا ہے کہ اگر وہ تحریر کو قابل اشاعت نہیں سمجھتا تو اسے شائع نہ کرے۔ لیکن یہ کیا ’’تُک‘‘ ہے کہ انچارج ادبیات اپنی مرضی سے جو پیرا چاہے اڑا دے۔ اس غیر ادبی حرکت سے تو بہتر ہے کہ افسانہ نگار کے سامنے ہی اس کی تخلیق کو آگ لگا دی جائے۔
شاہد رضوان، چیچہ وطنی
حصول علم کے لیے کتاب اور کمپیوٹر کی اہمیت
کتاب کے بغیر علم حاصل نہیں ہو سکتا۔ موجودہ دور ٹیکنالوجی کا دور ہے اور علم کے حصول کے لیے کتاب اور کمپیوٹر کا سہارا لینا ہو گا۔ مسائل کے حل کے لیے قرآن حکیم سے دوستی رکھنا ہوگی۔ اس میں کوئی کلام نہیں کہ تعلیم کے بغیر نہ تو کوئی قوم ترقی کر سکتی ہے اور نہ ہی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مسائل کا حل ممکن ہے۔ علم کی بنیاد پر ہی کوئی بھی معاشرہ معرض وجود میں آتاہے۔ جہاں تک اسلامی تعلیمات کا تعلق ہے تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کا آغاز جن آیات مبارکہ سے ہوا ان کا آغاز لفظ ’’اقراء‘‘ سے ہوتا ہے جس کا مطلب ہے ’’پڑھ‘‘۔ چنانچہ آپؐ نے حصول علم کو زبردست اہمیت دی اور حدیث نبویؐ ہے کہ ’’علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین تک کا سفر کرنا پڑے‘‘۔ جنگ بدر کے قیدیوں میں جو قیدی تاوان ادا کرنے کے قابل نہ تھا۔ آپؐ نے اسے یہ رعایت دی کہ جو قیدی دس مسلمان بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے تو اسے رہا کر دیا جائے گا۔ بچوں میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہوتی ہیں۔ اس سے اسلام میں خواتین کی تعلیم کی اہمیت واضح ہوتی ہے چنانچہ امت مسلمہ نے اپنے دور عروج میں علم کے وہ چراغ روشن کیے جنھوں نے پوری دنیا کو منور کیا اور کروڑوں افراد نے اس سے فائدہ اٹھایا۔ آج کتاب کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر نے بھی زبردست اہمیت اختیار کر لی ہے، ایک لحاظ سے لفظ کتاب کے مفہوم میں مختلف ادوار میں جو چیزیں شامل ہوئیں ان میں اس وقت کا مؤثر اور طاقتور ذریعہ کمپیوٹر ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ تمام مسلمان ممالک علم کے فروغ اور ترقی کے لیے ٹیکنالوجی کی اس اہمیت کو بنیاد بنا کر تعمیر و ترقی کی منازل طے کرنے کا اہتمام کریں۔ )انتخاب: تجمل شاہ (
                                                                                                            بشکریہ : روزنامہ جنگ