ڈاکٹر مظفر عباس

تنقیدی اصطلاحات پر ایک نظر

ڈاکٹر سلیم اختر کی علمی و ادبی فتوحات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ان کی پہلی معرکہ آرائی اردو ادب کی تاریخ سے ہوئی۔ اس میدان کو انھوں نے پانی پت کی طرح یوں پامال کیا کہ ادب کے ہر طالب علم اور ہر استاد کے ہاتھ میں اردو ادب کی مختصر تاریخ نظر آنے لگی۔ اب تک اس کے اُنتیس ایڈیشن چھپ چکے ہیں جو ایک ریکارڈ ہے اور اب یہ مختصر سے طویل تر ہوتی جا رہی ہے۔
اس وقت ڈاکٹر سلیم اختر کی تازہ ترین تالیف’’تنقیدی اصطلاحات‘‘ کا جائزہ مقصود ہے۔ اس کتاب کی اہمیت اور ضرورت ڈاکٹر سلیم اختر کے الفاظ میں یوں ہے: ’’فلسفہ، سائنس ، مذہب، تصوف، روحانیت، ریاضی، شماریات حتیٰ کہ جادو ٹونہ اور تحقیق و تنقید تک ہر نوع کا علم، نظریہ، تصور اور فکر مخصوص اصطلاحات کا حامل ہے۔ علمی نظریہ سازی اصطلاح سازی کے بغیر ناممکن ہے۔ اسی لیے تھیوری اصطلاح سازی کا کھیل ثابت ہوتی ہے۔ گویا کسی بھی علمی، تحقیقی اور فلسفیانہ تحریر میں درست اور قطعی ابلاغ کے لیے اصطلاح سازی اساسی کردار ادا کرتی ہے۔ اصطلاح ہمہ جہت ہونے کے ساتھ متنوع طریقوں سے استعمال ہو سکتی ہے۔ اصطلاح اگر ایک طرف علم، تھیوری یا شے کے لیے نیم پلیٹ ثابت ہو سکتی ہے تو دوسری جانب علمی شارٹ کٹ بھی ہے۔ چند حروف پر مشتمل اصطلاح سنتے ہی متذکرہ علم، تصور یا شے سے وابستہ تمام تحقیقی مراحل اور جملہ علمی جزئیات کا تناظر مہیا ہو جاتاہے۔ اسی لیے علمی کتب و مقالات میں اصطلاح وزیٹنگ کارڈ ثابت ہوتی ہے۔۔۔شناخت کا علمی انداز!اور اسی میں اصطلاح کی افادیت مضمر ہے۔۔۔ دیگر علوم کی مانند اردو تحقیق و تنقید میں بھی اصطلاحات کا سکہ چلتا ہے جو ہر دور کے علمی تقاضوں سے مطابقت رکھتی ہیں۔‘‘
کتاب ’تنقیدی اصطلاحات‘ میں تمام ادبی و تنقیدی اصطلاحات کی حروف تہجی کے اعتبار سے وضاحت کر دی گئی ہے اور جہاں جہاں ضرورت محسوس ہوئی، ان اصطلاحات پر مستند معلومات بھی یکجا کر دی گئی ہیں۔ اس اعتبار سے یہ کتاب ایک ایسے ادبی انسا ئیکلو پیڈیا کی شکل اختیار کر گئی ہے جو تشنگانِ علم کی پیاس بجھانے پر مکمل دسترس رکھتی ہے۔
کتاب بڑے سائز کے کل ۲۷۹ صفحات پر مشتمل ہے۔ سرورق انتہائی دیدہ زیب ہے جبکہ طباعت اور اشاعت سنگِ میل لاہور سے ہوئی ہے۔
پیش لفظ میں ڈاکٹر سلیم اختر نے عام مؤلفین کی طرح کوئی لمبا چوڑا دعویٰ نہیں کیا بلکہ کسرِ نفسی سے کام لیتے ہوئے صرف اس قدر کہا ہے:
’’تنقیدی اصطلاحات کی یہ لغت کسی تعلّی کے بغیر پیش ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ اس کام میں تکمیل کا دعوٰی نادانی ہے ع
یہ کہہ دو دعوٰی بہت بڑا ہے پھر ایسا دعوٰی نہ کیجیے گا‘‘
بلا شبہ ایسے بڑے کام حرفِ آخر نہیں ہوتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں ترمیم و اضافہ ہوتا رہتا ہے اور ہر دور کا دانشور اپنی اپنی بساط کے مطابق ایسے کاموں میں اپنا حصہ ڈالتا رہتاہے جو آنے والی نسلوں کے لیے نقشِ پا ثابت ہوتاہے۔
میرے نزدیک یہ بہت اہم اور بڑا کام ہے، خصوصاً نوجوان محققین اور نقادوں کے بہت کام کی چیز ہے۔ تاہم عام قاری جو اردو شعروادب سے شغف رکھتا ہو، اس کتاب میں اس کی دلچسپی کے لیے بھی بہت کچھ ہے۔ اس سے پیشتر کہ کتاب کے اسلوب و انداز کی بات کی جائے، ایک نظر اس میں شامل اصطلاحات پر ڈال لیجیے۔
آپ بیتی ، آزاد غزل، آزاد نظم، آمد، آورد، ادبِ لطیف، استقرائی تنقید، اسلوبیاتی تنقید، المیہ ، الہام، امالہ، دبستان، دیباچہ، دو بیتی، ذم، رباعی، رزمیہ، ریختہ، رسم الخط، سجع، سہل ممتنع، سوز خوانی، سہ حرفی، سوپ اوپیرا، شعور کی رو، صوتی تناظر، طباق، طربیہ، عالمگیریت، عروض، علامت، بحرانی تنقید، غالبیات، غزل نما، فحاشی، فطرت نگاری، فلیپ، قصیدہ، قطعہ، لایعنیت، لسانیات، لف و نشر، محرک، مارکسی تنقید، مثنوی، محاکات، مربع، مرثیہ، مخطوطہ، مقدمہ، میلوڈراما، ناول، ناٹک، مناجات، منقبت، نظم، منثور، نعت، واسوخت، وجدان، ہجو، ہزل اور یک بابی ڈراما۔ غرض شعروادب کی کون سی اصطلاح ہے جو اس کتاب کے جہانِ معنی میں موجود نہیں ہے۔ اس اعتبار سے میرے نزدیک یہ کتاب گنجینہ علم و معرفت کی حیثیت رکھتی ہے جس کا در ہر ذی علم اور عام قاری کے لیے یکساں طور پر وا ہے۔
ڈاکٹر سلیم اختر نے ’’تنقیدی اصطلاحات‘‘ میں موجود تمام اصطلاحات کے پس منظر میں جہان معنی کو دریافت کر کے اردو ادب کے طالب علموں اور عام قاری کے لیے ایک جہانِ نو کی تخلیق کی ہے، جس کی بوقلمونیاں آنکھوں کو خیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہماری علمی پیاس بھی بجھاتی ہیں۔
کتاب کا اسلوب اور پیش کش کا انداز انتہائی دلپذیر اور دلکش ہے۔ اس کتاب کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ اتنے ادق موضوع کو ڈاکٹر سلیم اختر نے اتنے سادہ اور عام فہم اسلوب سے پرکشش بنا دیا ہے۔
اس کتاب میں ڈاکٹر سلیم اخترغالب کے اس شعر کے مصداق اہل علم وادب کو دعوت فکر دیتے ہوئے نظر آتے ہیں ؂
گنجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے
جو لفظ کہ غالب میرے اشعار میں آوے