ازہر منیر

اُردو میں انگریزی الفاظ کا غلط استعمال

اردو موجودہ دور میں دنیا کی بڑی اور بین الاقوامی زبانوں میں سے ایک ہے۔ اس کی تشکیل میں عربی اور فارسی کا خمیر ہے تو ترتیب میں وقت کے ساتھ دنیا کی دیگر کئی زبانوں کا حصہ بھی شامل ہوتا رہا ہے۔ برصغیر میں انگریزوں کی آمد اور برطانوی راج سے یہاں انگریزی زبان کا لسانی عمل دخل شروع ہوا جو بعد ازاں آہستہ آہستہ بڑھتا ہی چلا گیا۔ معاشرتی طو رپر انگریزی رسم الخط اور لسانی مزاج کے اختلاف کے باعث مختلف مراحل پر اس لسانی امتزاج کی مخالفت بھی کی جاتی رہی مگر اردو کی سخت جانی نے اپنے ایک زندہ زبان ہونے کا مثبت ثبوت دیتے ہوئے دنیا بھر میں آگے بڑھنے کی خوب صورت راہ نکال لی۔ اس عمل نے جہاں اردو بولنے، لکھنے، پڑھنے اور سمجھنے والوں کے لیے نئی سہولیات پیدا کیں، وہیں اُن میں کسی حد تک لسانی تن آسانی بھی پیدا کر دی۔ چنانچہ بیسویں صدی عیسوی کے اختتام تک جامعہ عثمانیہ، رڑکی کالج، انجمن ترقی اردو ہند، انجمن ترقی اردو پاکستان، اردو کالج، مجلس زبان دفتری حکومت پنجاب، جامعہ کراچی، جامعہ پنجاب، مرکزی اردو بورڈ، مقتدرہ قومی زبان جیسے سرکاری اداروں، غیر سرکاری تنظیموں اور اہل علم و دانش کی انفرادی کوششوں سے تیار کردہ گراں بہاء سرمایے کے باوجودوضع اصطلاحات اور نوالفاظ سازی کا عمل ٹھہراؤ کا شکار نظر آنے لگا۔ چنانچہ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے انگریزی نے کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کی اور جدید ذرائع ابلاغ کے طفیل لسانی نفوذ کا عمل تیز تر ہو گیا۔ نتیجتاً ہمارے ہاں اب لوگ ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات میں کھلم کُھلا انگریزی الفاظ کو کبھی اردو رسم الخط میں تو کبھی انگریزی حروف تہجی میں ہی بولنے اور لکھنے لگے ہیں۔ اگر یہ عمل فطری طریقوں کے مطابق سرکاری سطح پر طے شدہ اصولوں کے مطابق انجام پاتا تو یقیناً بہت بہتر انداز میں ہوتا اور اردو کو کسی نقصان کے اندیشہ کے بجائے نہایت فائدہ ہوتا۔ اس سے ہماری مقامی زبانیں بھی فروغ پاتیں۔
موجودہ صورت میں اردو کا ذخیرۂ الفاظ توتیزی سے بڑھا ہے مگر ہر کوئی اپنی مرضی کے تابع انگریزی کے الفاظ اور اصطلاحات کو ہر طرح سے کسی لسانی اصول کا لحاظ کیے بغیر اردو میں شامل کرتا چلا جا رہاہے۔ چنانچہ آج اردو میں حسب ضرورت جذب ہونے والے بیشتر الفاظ بھی اپنے سیاق و سباق سے ماورا بے محل زبان زدِ خاص و عام ہوتے نظر آتے ہیں۔ اس بات کا احساس اس کے بولنے والوں کو تو شاید نہیں ہو پاتا لیکن ماہرین لسانیات اور صاحبانِ علم کو اس رویئے سے نہ صرف دقت بلکہ ذہنی کوفت بھی ہوتی ہے کیوں کہ وہ مستقبل کے لسانی نتائج کی بیش بندی کر سکتے ہیں۔
ہم یہاں چند ایسے ہی انگریزی الفاظ کا تذکرہ کر رہے ہیں جو اردو میں ہمارے ہاں عام بول چال میں نہ صرف رائج ہو چکے ہیں بلکہ ہماری روزمرہ لسانی زندگی کا جزو بھی بن چکے ہیں۔
لیڈی:
لیڈی جس کا لفظی مطلب معزز خاتون ہے، ایک برطانوی خطاب بھی ہے۔ یہ خطاب ایسے معزز افراد کی بیویاں اور بیٹیاں استعمال کر سکتی ہیں جن کو نائٹ کا خطاب مل چکا ہو یا جو امراء کے طبقے سے تعلق رکھتے ہوں۔ جیسے سر، ارل، لارڈ وغیرہ۔ مثلاً سر عبدالقادر کی اہلیہ لیڈی قادر۔
برطانوی شاہی خاندان کی سابق بہو ڈیانا کے والد اسپنسر بھی ارل تھے۔ چنانچہ ان کی اہلیہ اور بیٹیاں لیڈی کا خطاب استعمال کرنے کی مجاز تھیں۔ اسی بناء پہ ڈیانا، لیڈی ڈیانا اسپنسر کہلاتی تھیں۔ ۱۹۸۱ء میں اُن کی شادی شاہی خاندان میں ہو گئی تو انھیں شہزادی کا خطاب عطا کیا گیا۔ یوں وہ لیڈی ڈیانا سے شہزادی ڈیانا بن گئیں۔ شہزادی کے علاوہ انھیں ’ہرمیجسٹی‘ کا خطاب بھی ملا۔ نوے کے عشرے میں شہزادہ چارلس سے ان کی علیحدگی اور پھرطلاق کے بعد انھیں ہر میجسٹی کا ٹائٹل استعمال کرنے کی ممانعت کر دی گئی تاہم شہزادی کا خطاب انھیں بدستور حاصل رہا جو اُن کی وفات کے بعد بھی حاصل رہا۔
برطانیہ میں لیڈی کا خطاب استعمال کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، ہزاروں بلکہ شاید لاکھوں میں جب کہ اس کے مقابلے میں شہزادیاں گنتی کی چند ایک ہیں۔
ہمارے ہاں انھیں شہزادی کے بجائے لیڈی کیوں لکھا اور پکارا جاتاہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھیں پہلے یہاں اس وقت شہرت ملی جب شہزادہ چارلس سے اُن کی منگنی ہوئی۔ ظاہر ہے اُس وقت وہ ابھی فقط لیڈی تھیں اس لیے ہر طرف لیڈی ڈیانا کا ڈنکا بجنے لگا۔ بعد ازاں ان کی شادی ہو گئی اور وہ شہزادی بن گئیں۔ تاہم ہمارے ہاں جستجو اور تحقیق کی روایت ذرا کم ہونے کے باعث ہمارے لکھنے والے اس بات کی تحقیق کیے بغیر کہ وہ ابھی تک فقط لیڈی ہیں یا کچھ اور بن چکی ہیں، انھیں لیڈی ہی لکھتے رہے اور ۱۹۹۷ء میں دنیا سے چلے جانے کے باوجود آج بھی لکھ رہے ہیں۔
ڈیپارٹمنٹل اسٹور:
آپ اپنے دوست کی نئی قمیض کی تعریف کرتے ہیں اور اس سے دریافت کرتے ہیں کہ اُس نے یہ کہاں سے خریدی ہے۔ اس کے جواب میں وہ بتاتا ہے کہ اُس نے یہ قمیض ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور سے خریدی ہے۔ کیا اُس کا جواب درست ہے؟
اس بات کا انحصار اس پر ہے کہ ڈیپارٹمنٹل اسٹور سے اُس کی کیا مراد ہے؟
اگر تو اس کی مراد ایک ایسا بڑا اسٹور ہے جس میں مختلف شعبے یا ڈیپارٹمنٹ بنے ہوتے ہیں تو اس کا جواب درست نہیں۔ اس لیے کہ ڈیپارٹمنٹل اسٹور کا مطلب اس نوع کا اسٹور نہیں جیسا کہ اُس نے بیان کیا ہے۔
ڈیپارٹمنٹل اسٹور کا مطلب ہے کسی ڈیپارٹمنٹ یا محکمے کا ایسا اسٹور جو اس ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین کے لیے قائم کیا گیا ہو اور جہاں سے صرف اُس محکمے کے لوگ ہی چیزیں حاصل کر سکتے ہوں؛ مثلاً پولیس یا فوج کا ڈیپارٹمنٹل اسٹور۔
ایسی صورت میں اس نوع کے بڑے بڑے اسٹوروں کو کیا کہا جائے گا جو بازاروں اور مارکیٹوں میں قائم ہیں اور جہاں سے عام شہری جا کر مختلف اشیاء خریدتے ہیں؟
ایسے اسٹوروں کے لیے درست لفظ ڈیپارٹمنٹ اسٹور ہے ، یعنی ایسا اسٹور جس کے اندر مختلف ڈیپارٹمنٹ یا شعبے بنائے گئے ہوں۔ یہ گارمنٹس کا شعبہ ہے تو یہ کاسمیٹکس کا۔
یوں ڈیپارٹمنٹل اسٹور کا لفظ تو کسی طور غلط نہیں لیکن جن معنوں میں یہ ہمارے ہاں روزمرہ کی زبان میں استعمال کیا جا رہا ہے وہ درست نہیں۔
کلو گرام:
کئی لوگ بیان کرتے ہیں کہ وہ گوالے سے روزانہ دو کلو دودھ لیتے ہیں۔ حالانکہ انھوں نے کبھی دوکیا، ایک کلو دودھ بھی نہیں لیا ہوتا۔ اس لیے کہ دودھ کلو گرام میں نہیں ناپا جاتا۔ کلو (کلو گرام) حقیقتاً وزن کی اکائی ہے، یعنی کسی ٹھوس یا نیم ٹھوس چیز کو گراموں یا کلو گراموں میں تولا جاتاہے۔ اس کے برعکس دودھ، پانی یا کسی بھی مائع کو تول کر خریدا یا فروخت نہیں کیا جاتا بلکہ اسے ماپا جاتا ہے۔ مائع اشیاء کو ماپنے کی اکائی لیٹر ہے؛ جیسے فاصلے یا کپڑے وغیرہ کے ماپ کی اکائی میٹر ہے۔ چنانچہ جو لوگ یہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے دو کلو دودھ خریدا، حقیقتاً انھوں نے دو کلو نہیں، دو لیٹر دودھ لیا ہوتا ہے۔
یہی لوگ جب کسی پیٹرول پمپ سے گاڑی میں پیٹرول ڈلواتے ہیں تو کبھی یہ نہیں کہتے کہ دس کلو پیٹرول ڈال دو بلکہ ہمیشہ یہ کہیں گے کہ دس لیٹر پیٹرول دے دو۔ یہی نہیں دو میٹر کپڑے کو وہ دو میٹر کپڑا ہی کہیں گے، دو کلو کپڑا نہیں۔ اگر کوئی شخص دو کلوپیٹرول یا دو کلو کپڑا کہے تو اسے احمق خیال کیا جائے گا اور شاید اس کی عقل اور علم کے بارے میں کوئی ناموزوں بات بھی کہہ دی جائے۔
سوچنے کی بات ہے کہ کپڑے اور پیٹرول کے لیے بالترتیب میٹر اور لیٹر کے الفاظ استعمال کرنے والے جب دودھ کا ذکر کرتے ہیں تو یہ غلطی کیوں کر جاتے ہیں؟ اس کی وجہ بہت دل چسپ ہے۔
پاکستان میں اعشاری نظام کے رائج ہونے سے پہلے پیٹرول کے لیے گیلن کی اکائی استعمال ہوتی تھی، کپڑے کے لیے گز کی جب کہ تول اور مائع اشیاء ؛ مثلاً دودھ کو ماپنے کے لیے ایک ہی اکائی ’سیر‘ استعمال کی جاتی تھی۔ جب اعشاری نظام آیا تو ان تمام اشیاء کے لیے نئی اکائیاں اپنا لی گئیں۔ ناپ تول کے اعشاری نظام میں گیلن کی جگہ لیٹر، کپڑا اور فاصلہ ماپنے کے لیے گز اور میل کی جگہ بالترتیب میٹر اور کلو میٹر جبکہ تولنے کے لیے کلو گرام اور دودھ وغیرہ ماپنے کے لیے لیٹر ہے۔ اس نظام کے نفاذ کے بعد لوگ گفتگو میں باقی اکائیوں کے نام تو درست استعمال کرنے لگے لیکن چونکہ ماضی میں تولنے کے علاوہ دودھ ماپنے کے لیے بھی سیر کی اکائی استعمال ہونے کے باعث اب لوگ دونوں کے لیے الگ الگ اکائیاں (کلو اور لیٹر) استعمال کرنے کے بجائے اپنی گفتگو میں ایک ہی اکائی استعمال کرنے لگے۔ چنانچہ آج بھی دودھ لیٹر میں خریدتے ہیں مگر بیان کلو میں کرتے ہیں۔
ہمیں یہ چند الفاظ سوچنے کا ایک موقع فراہم کرتے ہیں کہ کسی غیر زبان کے الفاظ کو اردو میں اصول و ضوابط کے بغیر شامل کرتے جانے کے نتائج بالآخر ہماری زبان پر کیا اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ بلا شبہ اردو اور انگریزی جیسی ہر زندہ زبان دوسری زبانوں سے الفاظ لیتی اور دوسری زبانوں کو اپنے الفاظ دیتی رہتی ہے مگر ارباب علم و دانش کے لیے یہ طے کرنا از حد ضروری ہے کہ اس عمل کے اصول کیا ہوں تاکہ دو طرفہ لسانی نقصانات کسی طور نہ ہوں اور من حیث القوم بھی اس کے معیارات متاثر نہ ہوں۔