ڈاکٹر محمد ارشد اویسی

پنجاب قانون ساز کونسل میں نفاذِ اُردوکے اقدامات کاجائزہ
(۱۹۲۱ء تا ۱۹۳۶ء)

پہلی جنگ عظیم کے بعد برطانوی حکومت نے مونٹیگو۔چیمس فورڈ اسکیم کے تحت نئی دستوری اصلاحات متعارف کرائیں۔ اس اسکیم کا نفاذ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ ۱۹۱۹ء کے ذریعے ہوا۔ ان اصلاحات نے صوبوں میں ڈیارکی (Diarchy) یعنی دہری حکومت کے نام سے جزوی طو رپر ذمے دار حکومتیں قائم کیں۔ اس قانون کے تحت پنجاب میں ۹۳ ارکان پر مشتمل پنجاب قانون ساز کونسل تشکیل دی گئی ، جن میں کم از کم ستر فی صد ارکان کو منتخب ہو کرآنا تھا۔ کونسل کا پہلا اجلاس ۸ جنوری ۱۹۲۱ء کو منعقد ہوا۔ ۱۹۲۰ء تک گورنر ہی کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتا تھا لیکن ۱۹۲۱ء کی کونسل سے اس مقصد کے لیے علیٰحدہ فرد کا چناؤ کیا جانے لگا جسے صدر کونسل (President of the Council)کہا جاتا تھا۔ مونٹیگوشیراڈ ڈیوس بٹلر اس کونسل کے پہلے صدر اور سردار بہادر مہتاب سنگھ اس کونسل کے منتخب نائب صدر تھے۔
پنجاب قانون ساز کونسل کے مختلف ادوار کی تفصیل اس طرح ہے۔
پہلی پنجاب لیجیسلیٹو کونسل (۸ جنوری ۱۹۲۱ء تا ۲۷؍اکتوبر۱۹۲۳ء)
دوسری پنجاب لیجیسلیٹو کونسل (۲ جنوری ۱۹۲۴ء تا ۲۷؍اکتوبر۱۹۲۶ء)
تیسری پنجاب لیجیسلیٹو کونسل (۳ جنوری ۱۹۲۷ء تا ۲۶؍جولائی۱۹۳۰ء)
چوتھی پنجاب لیجیسلیٹو کونسل (۲۴ ؍اکتوبر۱۹۳۰ء تا ۲۷؍اکتوبر۱۹۳۶ء)
ایکٹ ۱۹۱۹ء کے تحت پہلی قانون ساز کونسل نے ۹۸ یوم، دوسری کونسل نے ۱۰۲ یوم، تیسری کونسل نے ۱۱۱یوم اور چوتھی کونسل نے ۱۹۷ یوم کام کیا یعنی مجموعی طور پر ۵۰۸ یوم کونسل کے اجلاس منعقد ہوتے رہے۔ جناب مونٹیگو شیراڈ ڈیوس بٹلر ۳ جنوری ۱۹۲۱ء سے ۲۱ مارچ ۱۹۲۲ء تک اور جناب ہربرٹ الیگزنڈرکیسن ۱۰ مئی ۱۹۲۲ء سے ۱۶ جنوری ۱۹۲۵ء تک کونسل کے نامزد صدر رہے۔ ۱۹۲۵ء میں کونسل کو پہلی بار مقامی فرد کو بطور صدر چننے کا موقع دیا گیا۔ اس مقصد کے لیے ۱۶ جنوری ۱۹۲۵ء کو صدر کا چناؤ ہوا۔خان بہادر شیخ عبدالقادر اور ڈاکٹر گوکل چند نارنگ صدارت کے امید وار تھے۔
خان بہادر سرشیخ عبدالقادر نے ۴۱ ووٹ جبکہ ڈاکٹر گوکل چند نارنگ نے ۳۲ ووٹ حاصل کیے۔ سرشیخ عبدالقادر اس عہدے پر صرف آٹھ ماہ فائز رہے، اس کے بعد انھیں وزارت تعلیم کا قلم دان سنبھالنا پڑا۔ پنجاب کی تاریخ میں سرشیخ عبدالقادر پہلے مسلمان ہیں جو اس عہدے پر منتخب ہوئے۔ انھوں نے ۱۹۰۱ء میں مشہور اردو ماہنامہ ’’مخزن‘‘ جاری کیا جبکہ ۱۹۹۸ء میں پنجاب کے پہلے انگریزی اخبار ’’آبزرور‘‘ کے مدیر بھی رہے۔ علاوہ ازیں ’’بانگِ درا‘‘ اور ’’شاہنامہ اسلام‘‘ کے دیباچے بھی لکھے۔۱؂ صدر کا عہدہ خالی ہونے کے بعد اس عہدے کے لیے انتخاب ۳ دسمبر ۱۹۲۵ء کو منعقد ہوا۔ چودھری سرشہاب الدین صدر منتخب ہوئے، پنجابی کے نہایت اچھے شاعر تھے۔ مسدس حالی کا ترجمہ پنجابی میں اس خوبی سے کیا کہ ترجمے کا گمان بھی نہیں ہو سکتا۔۲؂ تیسری کونسل۱۹۲۷ء کے صدر کے لیے ۴ جنوری۱۹۲۷ء کو انتخاب ہوا۔ خان بہادر چودھری سرشہاب الدین منتخب ہوئے۔ چوتھی کونسل ۱۹۳۰ء کے صدر کے انتخاب کے لیے ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۳۰ء کی تاریخ طے تھی۔ خان بہادر چودھری سرشہاب الدین کو اتفاق رائے سے کونسل نے اپنا صدر منتخب کر لیا۔ وزیرتعلیم سر فضل حسین کی وفات کے بعد گورنر کی ذاتی گزارش پر چودھری سر شہاب الدین وزارت تعلیم کے عہدۂ جلیلہ پر فائز ہو گئے اور راؤ بہادر چودھری چھوٹر رام صدر کونسل منتخب ہوئے۔
عظیم مسلمان فلسفی شاعر، ڈاکٹر سر محمد اقبال، جنھوں نے جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کے لیے ایک علیٰحدہ وطن کا نظریہ پیش کیا اور ان کا یہ نظریہ ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان کی تخلیق کی صورت میں شرمندۂ تعبیرہوا، ۱۹۲۷ء میں بننے والی قانون ساز کونسل پنجاب کے رکن منتخب ہوئے۔ معروف ادیب چودھری افضل حق ۱۹۲۴ء، ۱۹۲۷ء اور ۱۹۳۰ء میں پنجاب لیجیسلیٹو کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔ ’’زندگی‘‘؛ ’’جواہرات‘‘؛’’ معشوقہ پنجاب‘‘ اور ’’محبوبِ خدا‘‘ ان کی مقبول تصانیف ہیں۔
صاحبِ صدر کا کونسل سے پہلا خطاب۔۔۔اُردو
پنجاب لیجیسلیٹو کونسل کے صدر نے ارکان کونسل سے اپنے پہلے خطاب میں کونسل کی زبان کے حوالے سے کہا:
’’لیجیسلیٹو کونسل قواعد میں اس امر کی صراحت کی گئی ہے کہ ہماری کارروائی انگریزی زبان میں ہو گی لیکن اس امر کی گنجائش رکھی گئی ہے کہ جو اراکین انگریزی بول چال میں روانی نہیں رکھتے، وہ اپنی زبان میں کونسل سے خطاب کر سکتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ ایسے کئی اراکین میں جو انگریزی نہیں جانتے اور اس معاملے میں پہلے ہی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں اور اس معاملے پر مزید مشکلات پیدا ہوں گی، مجھے سہولت ہو گی اگر نوٹس اُردو میں وصول کرنے کے خواہش مند اراکین اس ضمن میں سیکریٹری کو مطلع کر دیں۔ میں نے اس امر کا بھی اہتمام کر دیا ہے کہ ایک سرکاری مترجم ہمارے اجلاسوں میں ہمیشہ موجود رہے اور جو کہا جائے اس کا صحیح ترین ترجمہ پیش کرنے کی کوشش کرے۔‘‘۳؂
صاحب صدر نے اس امر کی بھی یقین دہانی کرائی کہ علاقائی زبانوں میں اظہار کو معقول آزادی دی جائے گی اور اس آزادی کے تحفظ کے لیے ہر قسم کے قواعد اور حکم ناموں کو، جو مجھے اس امر کی اجازت دیتے ہیں، روبہ عمل لاؤں گا۔
اُردو ترجمہ ہونے تک
صاحبِ صدر نے ایک موقع پر اس امر کی نشان دہی بھی کی کہ اراکین کا یہ طرزِ عمل صریحاً بے قاعدگی ہے کہ جب ان کی تقاریر کا ترجمہ ہو رہا ہوتا ہے تو وہ چلے جاتے ہیں۔ تقاریر کا ترجمہ اس لیے کیاجاتا ہے کہ مقررین کی آراء ان اراکین تک بھی پہنچ جائیں جو انھیں سمجھ نہیں سکتے۔ ظاہر ہے کہ اگر کوئی غلطی ہو جائے تو مقرر ہی موزوں ترین شخص ہے جو اس کی نشان دہی کر سکتا ہے۔ لہٰذا اراکین سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنی نشستوں پر اس وقت تک موجود رہیں جب ان کی تقاریر کا ترجمہ کیا جا رہا ہو۔۴؂
صاحبِ صدر کی ترغیب برائے اُردو تقریر
اراکین کونسل کے لیے ایک رہائشی کلب کے انتظام کے سلسلے میں قرار داد پر سردار جودھ سنگھ انگریزی زبان میں تقریر کر رہے تھے کہ صاحبِ صدر نے ان کو ہدایت کی کہ براہ مہربانی معزز ممبر اردو میں تقریر فرمائیں۔ اس سے کونسل کا بہت سا وقت بچ جائے گا۔ ۵؂
اُردو میں تقریر کرنے کی آزادی ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔
سرکاری مطالبات برائے عطیات تعلیم پر بحث جاری تھی اور ڈاکٹر شیخ محمد عالم نے اردو میں تقریر شروع کی ہی تھی کہ صاحبِ صدر نے انھیں خاموش کراتے ہوئے کہا میں دیکھ رہا ہوں کہ بعض نہایت ہی فاضل اور قابل ارکان مثلاً ڈاکٹر گوکل چند نارنگ اور ڈاکٹر محمد عالم، اردو میں تقریر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ معزز ارکان کو اردو میں تقریر کرنے کی آزادی حاصل ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار انگریزی زبان میں کرنے کی کوشش کریں۔ ڈاکٹر شیخ محمد عالم نے اردو میں ہی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا میں بخوشی تمام انگریزی میں تقریر کرتا لیکن بدقسمتی سے میرے بعض معزز احباب انگریزی زبان سے بے بہرہ ہیں اور ان کی خاطر میں تحریک زیر غور پر اردو میں تقریر کرنے کو ترجیح دوں گا۔ اس وضاحت پر صاحب صدر نے کہا کسی تشریح کی ضرورت نہیں ہے میں جانتا ہوں کہ کونسل میں تقریر کس زبان میں ہونی چاہیے اور میں اس کے متعلقہ قواعد سے واقف ہوں جو رکن چاہے اردو میں تقریر کر سکتا ہے۔ میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ رکن صرف انگریزی ہی میں تقریر کر سکتے ہیں۔ اگر ڈاکٹرصاحب میرا کہنا مان لیں تو خیر ورنہ وہ اردو میں ہی تقریر کریں۔ انھیں کسی قسم کی تشریح کی ضرور ت نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ تقریر اردو زبان میں ہی کی۔ ۶؂
کیا صاحبِ صدر نے کبھی اردو میں گفتگو کی
قانون امداد قرض داراں پنجابThe Punjab Relief of) (Indebtednessکا مسودہ زیر بحث تھا اور چودھری محمد عبدالرحمن خان تقریر کر رہے تھے:
’’جنابِ والا!آپ کے ٹوکنے سے مجھے ایک عورت اور اس کے لڑکے کا، جو پیاس کی وجہ سے مر گیا تھا، قصہ یاد آ گیا ہے۔ اس لڑکے نے فارسی کی تعلیم کسی حد تک پائی ہوئی تھی۔ ایک روز جب وہ گھر آیا تو اس نے اپنی ماں سے کہا آب بیارید آب بیارید۔ چوں کہ ماں نہیں سمجھ سکتی تھی اس لیے وہ کبھی کوئی چیز اٹھا لاتی او ر کبھی کوئی چیز اٹھا لاتی لیکن اسے پانی لا کر نہ دیا۔ چونکہ لڑکا فارسی زبان میں پانی مانگتا رہا اور اس کی ماں اس زبان کو سمجھتی نہیں تھی اس لیے اس کا لڑکا بالآخر پیاس کی وجہ سے ہلاک ہو گیا۔ جب پڑوس والے ماں کے پاس ماتم پرسی کے لیے آئے اور اس سے پوچھا کہ موت کا باعث کیا تھا تو اس کی ماں نے سب حال بیان کر دیا۔ پڑوس والوں نے ماں کو بتایا کہ وہ پانی مانگتا تھا ۔اس پر بے چاری ماں نے یہ کہہ کر رونا شروع کیا:
آب آب کردا مویاں بچہ فارسیاں گھر گالے
جے میں جاندی پانی منگدا بھر بھر دیندی پیالے
آپ جانتے ہیں کہ میں انگریز ی نہیں جانتا۔ صاحبِ صدر نے اس کے جواب میں کہا صدر کی اجازت کے بغیر کوئی رکن کونسل ہٰذا میں صوبے کی کسی دیسی زبان میں تقریر نہیں کر سکتا۔ معزز رکن کئی سالوں سے اس کونسل کے رکن ہیں کیا انھوں نے کبھی اس ایوان میں صدر کو اردو میں گفتگو کرتے سنا ہے۔ ۷؂
وقت کم ہے لہٰذا اردو میں تقریر
وزیرِ تعلیم خاں بہادر میاں سر فضل حسین نے ایک موقع پر اپنی تقریر کے آغاز میں کہا۔ جنابِ والا! بہت کم وقت باقی رہ گیا ہے لہٰذا میں اردو میں تقریر کروں گا۔ ۸؂ ایک دوسرے موقع پر میاں سرفضل حسین نے کہا کہ جناب بہتر ہوتا کہ میں اردو میں تقریر کرتا تاکہ اس ایوان کے تمام غیر سرکاری اراکین میری بات کو سمجھ سکتے۔۹؂
ملکہ برطانیہ کی اردو دوستی۔۔۔ شہزادے کا استقبال
پرنس آف ویلز کو خوش آمدید کہنے کے لیے سر جان مینارڈ نے ایوان میں تحریک پیش کی جس میں شہزادے کو دلی طور پر اور گرم جوشی سے خوش آمدید کہا گیا اور کہا کہ پرنس آف ویلز کا انڈیا کا دورہ اور ان کے لیے پنجاب سے متعلق معاملات سے ذاتی آگاہی کا باعث بنے گا اور وہ بہ ذاتِ خود جان جائیں گے کہ صوبے کے لوگ کیسے ہیں، ان کی ضروریات کیا ہیں اور وہ کیا توقعات رکھتے ہیں۔ دیوان بہادر راجہ نریندرا ناتھ نے اس قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے شہزادے کی آمد کو خوش کن کہا اور اس کی وجہ سے ہی ۱۸۵۲ء کی تخت نشینی کے اعلان (Proclamation) کی زبان سہل بنی۔ کہا جاتا ہے کہ جب لارڈ ڈربی نے اس کے سامنے پہلا مسودہ رکھا تو اس نے اس محترم لارڈ کو یاد دلایا کہ وہ ایک خاتون حکمران ہے جو ایسے لوگوں سے خطاب کرنے جا رہی ہے جو اس کی نسل اور مذہب سے مختلف ہیں اور خانہ جنگی کے نتیجے میں حکمران بنی ہے، پھر کافی عمر کی ہو کر اس نے ہماری زبان سیکھنے کے لیے محنت کی۔ اس مقصد کے لیے ایک استاد رکھا۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے ایک کتاب میں اس کی اردو ہینڈ رائٹنگ کو دیکھا ہے جو اس نے ہمارے حکمران طبقے کے خاندانوں کے ایک فرد کو دی تھی۔ اس نے لکھا تھا ’’فلاں اور فلاں کو پیش کی جاتی ہے وکٹوریہ کی جانب سے۔‘‘۱۰؂
صاحبِ صدر کی رولنگ کے بعد ڈاکٹر گوکل چند نارنگ نے کہا، اگر دارالعوام کا کوئی رکن بے ضابطہ الفاظ یونانی زبان میں کہے تو اس وقت کیا ہو گا؟ اس سوال کے جواب میں صاحبِ صدر نے کہا دارلعوام میں اراکین انگریزی میں تقریر کرتے ہیں لیکن وہ وقتاً فوقتاً غیر ملکی زبانوں کے جملے بھی بول جاتے ہیں جو عموماً سمجھ لیے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر گوکل چند نارنگ نے دوبارہ کہا۔ فرض کیجیے کہ معزز رکن فارسی یا سنسکرت میں کوئی الفاظ کہتا ہے۔ اس ضمن میں صاحبِ صدر نے مزید کہا کہ اس ایوان کے بعض ارکان تو اردو بھی نہیں سمجھتے، اس میں سے تقریباً نصف ایسے ہیں جو انگریزی نہیں سمجھتے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ایوان میں کسی زبان کی نسبت یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اسے عموماً سمجھ لیتے ہیں۔ ۱۱؂
صاحبِ صدر سے استدعا۔۔۔اردو
بجٹ پر عام بحث کے دوران سردار ہیرا سنگھ نارلی نے کہا کہ کیا میں صاحبِ صدر کی خدمت میں یہ گزارش کر سکتا ہوں کہ وہ اردو زبان میں مجھ سے مخاطب ہوں کیونکہ میں انگریزی زبان کو اچھی طرح نہیں سمجھ سکتا۔ جواب میں صاحب صدر نے کہا جو کچھ میں نے ابھی ابھی انگریزی میں کہا تھا، کیا اسے معزز رکن نے سمجھ لیا تھا؟ سردار صاحب نے کہا نہیں، جنابِ والا!میں چاہتا ہوں کہ آپ اردو زبان میں اس کی تشریح فرما دیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر گوکل چند نارنگ اور دیگر اراکین کے صاحب صدر سے بھی مکالمے ہوئے۔ ۱۲؂
کٹوتی کی تحریک۔۔۔اردو
میاں نور اللہ نے یہ تحریک پیش کی کہ ۶۰۰،۸۹۴روپے کے عطیہ بابت صنعت و حرفت میں ایک روپے کی تخفیف کر دی جائے۔ انھوں نے کہا ، اس تحریک کے پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ صاحب انسپکٹر صنعتی مدارس کی طرف سے جاری شدہ اس مراسلہ کو زیر بحث لایا جائے جو ستمبر ۱۹۲۶ء میں جاری کیا گیا تھا۔
میاں نوراللہ نے اس مراسلے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مراسلے کے الفاظ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اردو زبان کے استعمال کو روکنا یا بند کرنا مقصود ہے۔
شیخ محمد صادق نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ معزز محرک ہرگز یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے کہ یہ مراسلہ بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر زبان اردو پر حملہ کرنے کے خیال سے جاری کیا گیاتھا۔ اس تحریک کے پیش کرنے سے وہ یہ بتانا چاہتے تھے کہ انگریزی زبان میں ترجمہ کرانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ۱۳؂
میاں نور اللہ نے وزیر صاحب کی یقین دہائی پر کٹوتی کی تحریک واپس لے لی۔ ۱۴؂
مسودات قانون۔۔۔اردو
نائب صدر پنجاب لیجیسلیٹو کونسل کی تنخواہ کے قانون بابت ۱۹۲۱ء کے حوالے سے جناب جان مینارڈ نے اس قانون کی تفصیلات بتائیں اور یہ بھی کہا کہ عوام الناس کی اطلاع کے لیے اس قانون کا اردو ترجمہ پنجاب گورنمنٹ گزٹ میں شائع کر دیا گیا ہے۔ ۱۵؂ مسودہ قانونِ اختیار مقامی پنجاب پر بحث کے دوران ملک فیروز خان نون نے زیر بحث قانون کے بعض حصوں کا از خود ترجمہ کرنا شروع کر دیا تو مسٹر گنپت رائے نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ اس مسودہ قانون کا اردو میں ترجمہ کیا جا چکا ہے، لہٰذا معزز رکن کو خود سے ترجمہ کرنے کی بجائے مصدقہ ترجمہ پڑھنا چاہیے۔ ۱۶؂
مسودہ قانون تحفظ قرض داراں پنجاب پر بحث کے دوران مسٹر لابھ سنگھ اور ڈاکٹر گوکل چند نارنگ نے کچھ تجاویز دیں کہ ناگری ، گورمکھی اور انگریزی حروف کے علاوہ مہاجنی اور لہندے ہند سے بھی صوبے کے مختلف حصوں میں مستعمل ہیں اور یہ بھی کہا گیا کہ صرف وہی ہند سے مقرر کیے جا سکتے ہیں جو صوبہ ہٰذا میں رائج ہوں، کوئی دیگر ہندسے مقررنہیں کیے جا سکتے اور کوئی ایسا رسم الخط مقرر نہیں کیا جا سکتا جو صوبے میں رائج نہ ہو۔ ۱۷؂
مسودہ قانون (ترمیمی) مالیہ اراضی پنجاب زیرِ بحث تھا کہ سید محمد حسین نے کہا میں آنریبل ممبرمالیات کے دلائل کا جواب دینے کے لیے اردو زبان میں تقریر کروں گا اور ساتھ ہی ان اصحاب کی خاطر جو انگریزی زبان سے بے بہرہ ہیں، ان کی تقریر کا ترجمہ کیے جاؤں گا جو انگریزی زبان میں کی گئی تھی۔ اس تجویز کے سلسلے میں صاحب صدر نے کہا انگریزی زبان میں جو تقاریر کی جائیں، ان کا اردو زبان میں ترجمہ میرے ہی حکم سے ہو سکتا ہے اور صرف سرکاری مترجم ہی ترجمہ کر سکتے ہیں۔ ۱۸؂
رکن خزانہ مسٹر اے ایم سٹور نے یہ تحریک پیش کی کہ مسودہ قانون انضباط حسابات پنجاب کو زیر غور لایا جائے اور کہا کہ صرف ان خاص ترامیم کا ذکر کرنے پر اکتفا کیا جائے جو مجلس منتخبہ نے تجویز کی ہیں۔ پنڈت نانک چند، چودھری دولی چند، رائے بہادر لالہ موہن لال اور مسٹر لابھ سنگھ نے اس مسودہ قانون پر بحث میں بھرپور حصہ لیا۔ اس سلسلے میں جو ترمیم ایوان نے منظور کی وہ حسب ذیل الفاظ بل کی دفعہ ۳۰ کی تحتی دفعہ (۱) میں بطور تشریح (اوّل) ایزاد کیے جائیں:
’’تشریح (اوّل) لوکل گورنمنٹ فار میں اور ہندسے تجویز کرے گی جن میں اس دفعہ کے احکام کے مطابق حسابات رکھنے اور ارسال کرنے لازمی ہوں گے اور قرض دہندہ کی مرضی پر منحصرہوگا کہ وہ حسابات رکھنے کی غرض سے حسب ذیل حروف اور زبانوں یعنی اردو انگریزی، گورمکھی، ناگری اور مہاجنی میں سے کسی کو استعمال کرے، مگر شرط یہ ہے کہ اگر قرض گزیدہ تحریری طور پر اس امر کا مطالبہ کرے کہ حسابات مذکورہ بالا کسی خاص قسم کے حروف میں مہیا کیے جائیں تو حسابات مقررہ فیس کے مطابق قرض گزیدہ کے خرچ پر انھی حروف میں مہیا کیے جائیں گے۔‘‘۱۹؂
صاحبِ صدر نے اس نکتۂ اعتراض (پوائنٹ آف آرڈر) پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ دستور العمل کے فقرہ ۵۸ کے مطابق کونسل کے ہر ایک رکن کو اردو زبان میں تقریر کرنے کا اختیارِ تمیزی حاصل ہے اور جہاں تک میری سمجھ میں آتا ہے، اس قاعدہ میں یا دیگر قواعد میں کوئی ایسا حکم نہیں جو اس اختیارِ تمیزی پر بندش عائد کرتا ہو۔ پس میری رائے میں ہر ایک ممبر اپنی مرضی کے مطابق اردو یا انگریزی زبان میں تقریر کر سکتا ہے۔ اگر یہ بات درست اور صحیح ہے تو اس بارے میں بھی جائز طور پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ اگر آدمی تقریر انگریزی زبان میں بولیں اور اس کے بعد ایک یادوفقرے اردو میں بولیں تو ان کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ ان کی تقریر صحیح صحیح یا مکمل طو رپر ضبطِ تحریر میں آ جائے گی۔ ۲۰؂
مسودہ قانون (ترمیمی) فوج داری پنجاب پر چودھری اللہ داد خا ن انگریزی میں تقریر کر رہے تھے۔ آخر میں انھوں نے کہا (صاحب صدر کی اجازت سے) اپنے دلائل کا خلاصہ اردو زبان میں پیش کروں گا۔ تو صاحب صدر نے کہا معزز رکن کو اپنی تقریر کا ترجمہ کرنے کی ضرورت نہیں ۔ اگر کوئی معزز رکن کسی تقریر کا ترجمہ کرانے کے خواہاں ہوں تو سیکریٹری صاحب ترجمہ کر دیں گے۔ اس فیصلے پر چودھری بنسی لال نے پنجابی زبان میں کہا’’اگرمعزز ممبر دی تقریر داد یسی زبان وچ ترجمہ کر دتا جائے تے ساڈے واستے بحث وچ حصہ لینا آسان ہو جائے گا۔‘‘اس مطالبے پر سردار سکندر حیات خان نے کہا میرے خیال میں یہ امر انصاف پر مبنی ہو گا، اگر ان تقریروں کے متعلق پہلے سے نوٹس دے دیا جائے جن کا اردو میں ترجمہ کرانے کا خیال ہو۔ اس رائے پر مسٹر لابھ سنگھ نے کہا کونسل ہذٰا میں ان پڑھ ارکان کی موجودگی ہی کافی سے زیادہ نوٹس ہے۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ آپ اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے یہ فیصلہ دے دیں کہ ارکان مذکور کو کونسل کے اعتماد کا حامل نہیں بنایا جا سکتا۔
صاحب صدر نے کہا لیکن یہ حقیقت کہ آج سے پیش تر ان پڑھ ارکان نے کسی تقریر کے ترجمہ کے لیے درخواست نہیں کی، اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ فرضی نوٹس کا نظریہ بہت وزن دار نہیں ہے۔ میں معزز رکن نمائندہ انبالہ کو اجازت دیتا ہوں کہ وہ اگر چاہیں تو اپنی تقریر کا خلاصہ اردو میں بیان کر دیں۔ (چودھری اللہ داد خان صاحب نے اپنی تقریر کا اردو خلاصہ سنایا)۔۲۱؂
قرار دادیں اور اردو
۱۹۱۹ء کے ایکٹ کے تحت قائم ہونے والی پنجاب قانون ساز کونسل میں اردو کی ترویج و ترقی کے لیے مختلف اوقات میں کونسل کے ارکان نے آواز بلند کی اور قرار دادیں پیش کیں اور جب اردو کی بات کی جاتی تو اس کے ردِ عمل کے طور پر ہندی، پنجابی اور دیگر علاقائی زبانوں کی ضرور آواز سننے میں آتی۔ پنجاب قانون ساز کونسل (۱۹۲۱ء تا ۱۹۳۶ء) کے ۱۶ سالہ دور میں مختلف اوقات میں کلاسیکی اور مقامی زبانوں کے فروغ کے لیے قرار دادیں ایوان کونسل میں پیش کی جاتی رہیں لیکن خوش قسمتی سے اردو ہی کے حوالے سے دو قراردادیں پاس ہوئیں، دونوں قرار دادیں مولوی محرم علی چشتی کی جانب سے پیش کی گئیں۔ ایک کونسل کی کارروائی اردو میں کرنے سے متعلق تھی اور دوسری قرار داد، روداد کونسل کی اردو میں اشاعت کے سلسلے میں تھی جو صاحبِ صدر نے مولوی محرم علی چشتی کی تحریک پر ایوان میں رائے شماری کے لیے پیش کی۔ ایوان نے اس کے حق میں ووٹ دیے۔ اس کے علاوہ پنڈت نانک چند، دیوان بہادر راجہ نریندرا ناتھ، سردار پرتاپ سنگھ، پیر اکبر علی، چودھری محمد عبدالرحمن خان، میاں احمد یار خان دولتانہ، چودھری اللہ داد خان اور مسٹر ای مایا داس کی جانب سے ورنیکلر، اینگلوورنیکلر پنجابی ، ہندی اور کلاسیکی زبانوں کے متعلق قرار دادیں پیش ہوتی رہیں۔
روداد کونسل کی اردو میں اشاعت
۲۵؍اکتوبر۱۹۲۳ء کو جو اعلانات صدر صاحب کی طرف سے کیے گئے، ان میں ایک روداد کونسل کی اردو میں اشاعت سے متعلق تھا۔ ۲۲؂
رودادِ کونسل کی اردو میں اشاعت کے سلسلے میں ۲۵؍اکتوبر۱۹۲۳ء کو جو تحریک صاحب صدر زیر غور لائے، اس پر ۲۶؍اکتوبر ۱۹۲۳ء کو رائے شماری ہوئی۔ اس سلسلے میں صاحب صدر نے کہاکہ روداد کی اشاعت کے معمولی سوال کا اس وقت فیصلہ کرنا تھا مگر مجھے افسوس ہے کہ اس وقت حاضرین کی تعداد بہت کم ہے۔ ایسا نہ ہو کہ دو پہر کے بعد حاضرین کی تعداد اس سے بھی کم ہو جائے۔ اس لیے اس امر کا تصفیہ ابھی کر لینا چاہیے۔ تجویز یہ ہے کہ کونسل کی روداد باقاعدہ طور پر اردو میں اشاعت پذیر ہوا کرے۔ میں یہ امر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ روپیہ کونسل کے بجٹ سے خرچ کیا جا سکتا ہے۔ خرچ چار ہزار روپے سالانہ ہو گا۔ ہم سال رواں اور غالباً آئندہ سال کے لیے روپیہ مہیا کر سکتے ہیں۔ اگر یہ روپیہ اشاعت کے لیے خرچ کر دیا جائے تو اس کے انقضاء کا کوئی امکان نہیں ہے اور نہ یہ کسی آئندہ غیر متوقع مصرف کے لیے ہی کارآمد ہو گا۔
آنریبل سرجان مینارڈ نے اس تجویز کے متعلق کہا:’’ پیشتر اس کے کہ میں کوئی رائے قائم کروں، میں چاہتا ہوں کہ مجھے اس امر کا یقین دلایا جائے کہ تخمینہ خرچ میں وہ تمام اخراجات شامل ہوں گے جو غالباً برداشت کیے جائیں گے، یعنی ایک ہوشیار مترجم کی خدمات حاصل کرنے پر بہت بڑا خرچ ہو گا۔ علاوہ ازیں کتابت کے اخراجات بھی ہیں۔
جواب میں صاحب نے کہا کہ پریس سے تمام کاغذ، چھپائی و کتاب کے اصلی اخراجات کا تخمینہ دریافت کیا گیا تھا جو ۲۸۸۰ روپے تک پہنچتا ہے۔ میرا خیال تھا کہ ایک لائق مترجم کی خدمات حاصل کرنے کے بعد کل خرچ چار ہزار روپے سے کچھ زیادہ مگر پانچ ہزار سے کم ہو گا۔
’’ایوان میں اس کے متعلق رائے لی گئی تو۔۔۔ پندرہ حق میں اور چار خلاف تھیں۔‘‘۲۳؂
چودھری محمد عبدالرحمن خان نے رائے دہندگان کی فہرست مرتب کرنے کے سلسلے میں جو قرار داد پیش کی، اس سلسلے میں سردار سکندر حیات خان نے کہا کہ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے تحت نہایت واضح اور حد درجہ جامع ہدایات متعلقہ افسران کو جاری کر دی گئی ہیں اور یہ ہدایات انگریزی اور اردو دونوں میں جاری ہوئی تھیں۔ ۲۴؂
’’علمِ معیشت کے استاد کی حیثیت سے میں نہایت وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اس مضمون کو اردو یا پنجابی میں نہایت آسانی سے پڑھایا جا سکتا ہے اور اگر ہماری اپنی زبانوں میں تعلیم دی جائے تو بی۔اے جماعتوں میں ہم جو کچھ پڑھاتے ہیں، وہ اس سے نصف عرصے میں پڑھایا جا سکتا ہے۔‘‘۲۵؂
مزید برآں مسٹر ای مایا داس کی طرف سے اینگلوورنیکلر امتحانات کے متعلق قرار داد واپس لے لی گئی، ۲۶؂ جب کہ مقامی زبانوں کے امتحانوں کے متعلق چودھری اللہ داد کی طرف سے پیش کردہ قرار داد مسترد کر دی گئی۔۲۷؂
اردو کے فروغ اور نفاذ کے متعلق سوالات
اسمبلی سوالات دراصل ایک قسم کا احتسابی عمل ہے۔ سوالات کے ذریعے ایسے ایسے نکات اٹھائے جاتے ہیں کہ بے ساختہ داد دینی پڑتی ہے اور سوالات کے جوابات سے حکومتی اقدامات کا بھی علم ہوتا ہے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوا ہے کہ وہ امور جو عرصے سے زیر التواء ہوتے ہیں اسمبلی سوال سے انجام پا جاتے ہیں۔ اردو زبان کے فروغ اور اس کے نفاذ کے حوالے سے پنجاب قانون ساز کونسل(۱۹۲۱ء تا ۱۹۳۶ء ) میں جو سوال اٹھائے گئے، اس سے اردو کی ترویج و ترقی میں ارکان کی دلچسپی کا بھی پتا چلتا ہے اور صوبے کے مختلف طبقات کے نمائندوں کے رویوں کا بھی بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ اس سے یہ خبر بھی ملتی ہے کہ اردو کس طرح اپنے راستے ہموار کرتی ہوئی اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہی۔ یہاں ان سوالات کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے جو سنسکرت، ہندی، گورمکھی اور انگریزی زبان کے متعلق ہیں۔
اردو زبان پڑھانے کا براہ راست طریق کار
پنجاب قانون ساز کونسل میں پیر ا کبر علی نے ایک سوال میں اردو زبان کی تعلیم کے لیے پڑھانے کے براہ راست طریق کار کو غیر موزوں قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر انکوائری کے بعد اس امر کا تعین ہو جائے کہ اردو کی تدریس کے لیے پڑھانے کا براہ راست طریق کار موزوں نہیں ہے تو کیا حکومت چھوٹی کلاسوں کوپڑھانے والے اساتذہ کو ہدایت جاری کرے گی کہ وہ پڑھانے کا یہ طریق کار ترک کردیں۔ خان بہادر میاں فضل حسین نے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ براہ راست پڑھانے کے طریق کار کی اصطلاح کسی غیر ملکی زبان کو پڑھانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، اسے مقامی زبان کی تعلیم کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔ مختصراً پڑھانے کے براہ راست طریق کار کا مطلب کسی لفظ یا نام کا اس سے براہ راست تعلق ہے جس کو وہ نام دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ طریق مقامی زبانوں میں استعمال نہیں ہوتا ، جن میں بچے اسکول داخل ہونے سے پہلے اشیاء کو ان کے ناموں سے منسوب کرنا سیکھ جاتے ہیں۔ میاں فضل حسین نے اس ضمن میں مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ سوال کا حوالہ تدریس کے ’دیکھو اور کہوLook and) (Sayطریق کار‘ کی جانب ہے جسے حال ہی میں ہمارے صوبے میں اردو کی تدریس کے لیے اپنایا گیا ہے۔ یہ محسوس کیا گیا تھا کہ ’دیکھو اور کہو طریق کار‘ کو اگر موزوں طور پر اختیار کیا جائے تو اس سے پرائمری کے طالب علم خصوصاً چھوٹی جماعتوں کے بچے زیادہ جلدی پڑھنا سیکھ جاتے ہیں۔ ۲۸؂
اردو پرائمری اسکول
لالہ جوتی پرشاد نے ایک سوال میں یہ کہا کہ ضلع حصار میں ہندی پرائمری اسکول کھولنے کا زبردست مطالبہ موجود ہے لیکن مقامی حکام تعلیم ہندی اسکول کھولنے سے انکار کرتے ہیں اور اردو کی جماعتیں کھولنے پر اصرار کرتے ہیں اور یہ بھی کہا کہ محکمہ تعلیم نے ضلع حصار میں کتب خانہ دیہی کھولا ہے، اس میں ہندی کتابیں نہیں پائی جاتیں۔ جواب میں مسٹر منوہرلال نے کہا کہ ڈسٹرکٹ بورڈ حصار نے اس پر کیا کارروائی کی۔ گورنمنٹ کو علم نہیں ہے لیکن محکمۂ تعلیم کی طرف سے جو کتابیں مہیا کی جاتی ہیں ان میں ہندی کے تراجم اکثر شامل ہوتے ہیں۔ ۲۹؂

اردو ممتحن
شیخ فیض محمد نے وزیر تعلیم سے ایک سوال میں دریافت کیا کہ ورنیکلر فائنل امتحان کے متعلقہ ہر ایک مضمون کے لیے اس سال (۱۹۲۹ء) کے کتنے ممتحن مقرر کیے گئے۔ جناب منوہر لال نے ۱۵ مضامین کے متعلق اطلاع ایوان کی میز پر رکھی جن میں اردو ، ہندی اور پنجابی کے مضامین کے ممتحن کی تفصیل اس طرح تھی:
* اُردو ۴۴
* ہندی ۵
* پنجابی ۱ ۳۰؂
اردو ، ہندی اور پنجابی مضامین کے ممتحنوں کی تعداد سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اردو کتنی مقبول تھی اور فروغ پار ہی تھی۔
اردو زبان کے ذریعے تعلیم دینا
چودھری شاہ محمد نے وزیر تعلیم سے یہ سوال کیا کہ آیا مرکزی پنجاب میں کوئی ایسا ڈسٹرکٹ بورڈ ہے، جس میں اردو کے ذریعے تعلیم دینا بالکل بند کر دیا گیا ہے۔ اس سوال کے جواب میں ملک فیروز خاں نون نے کہا کہ مرکزی پنجاب کی اصطلاح غیر واضح ہے، اگر معزز ممبر براہ کرم ان اضلاع کا نام بتا دیں گے جن کے متعلق تحقیقات کی جانی ہے تو میں بڑی خوشی سے مطلوبہ اطلاع فراہم کرنے کی کوشش کروں گا۔ ۳۱؂
اردو زبان اور صنعتی مدارس
انسپکٹر صنعتی مدارس پنجاب نے اپنے ایک مراسلہ کے ذریعہ تمام ہیڈ ماسٹروں کو حکم صادر فرمایا کہ ان کو آئندہ کسی صورت میں بھی ماتحتوں کی طرف سے یا عوام میں سے کسی طرف سے کوئی چٹھی اردو میں نہ ارسال کی جایا کرے۔۳۲؂ جناب محمد دین نے دو مختلف سوالات میں یہ مسئلہ اٹھایا کہ یہ عجیب و غریب حکم کیوں صادر کیا گیا تھا اور کیا حکومت اس حکم کو واپس لینے کے لیے تیار ہے۔ اگر نہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا کہ یہ امر واقع ہے کہ اردو نہ صرف ملک کی مروجہ زبان ہے بلکہ ہر ایک سرکاری محکمہ اردو میں ارسال شدہ عرائض کو بخوشی وصول کرتا ہے اور ان پر غور کرتا ہے۔ جواب میں ڈاکٹر گوکل چند نارنگ نے کہا مراسلہ مذکور پراس کونسل میں ۱۳مارچ ۱۹۳۳ء کو بحث کی گئی تھی۔ اس موقع پر میں نے ارکان کونسل کو یقین دہانی کرائی تھی کہ اس کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ (ڈاکٹر گوکل چند نارنگ نے کہا مجھے یقین ہے کہ جب انسپکٹر صاحب کی توجہ معزز ارکان کی اس خواہش کی طرف منعطف کرائی جائے گی تو وہ اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے اس مراسلے میں مناسب اور موزوں تبدیلی کردیں گے)۔
مذکورہ سوال سے ملتا جلتا ایک سوال میاں نو ر اللہ نے کیا کہ اردو اس صوبے کی عام ملکی اور عدالتی زبان ہے اور محکمہ صنعت و حرفت پنجاب کے اکثر ملازمین اردو دان ہیں لہٰذا عوام کے مفاد کی خاطر بالعموم اور محکمۂ مذکور کے استادوں کے مفاد کے پیش نظر بالخصوص اس اچھوتے مراسلے کو واپس لے لیا جائے۔ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر گوکل چند نارنگ نے معزز رکن کی توجہ جناب محمد دین ملک کے سوال کی طرف مبذول کروائی۔ ۳۳؂
اکثریت اردو ترجمے کے حق میں
سرکاری واجبات کے حوالے سے چودھری محمد عبدالرحمن کے سوال کا جواب انگریزی میں دیا جا رہا تھا۔ انھوں نے کہا کہ میں التجا کرتا ہوں کہ میرے سوال کا جواب اردو میں دیا جائے۔ اس مطالبے پر صاحب صدر نے کہا جہاں تک مجھے یاد ہے کبھی سوالات کے جوابات اردو میں نہیں دیے گئے ہیں۔ اگر معزز رکن کی یہ خواہش ہے تو جواب کا ترجمہ انھیں دفتر کی طرف سے مہیا کیا جائے گا۔
چودھری ظفر اللہ خاں، مولوی مظہر علی اظہر اور شیخ محمد صادق بھی اردو میں جواب دیے جانے کے حق میں تھے لہٰذا صاحب صدر نے کہا ،چوں کہ اکثریت اردو ترجمہ کیے جانے کے حق میں تھی لہٰذا اسسٹنٹ سیکریٹری نے جواب کا اردو میں ترجمہ کیا۔ ۳۴؂
قواعد اور سوالات کا اردو ترجمہ
چودھری محمد عبدالرحمن خاں کے نشان زدہ سوال کا جواب ڈاکٹر گوکل چند نارنگ بہ زبان انگریزی دے رہے تھے کہ چودھری صاحب نے استدعا کی کہ میرے سوالات کے جواب اردو میں دیے جائیں۔ اس استدعا پر صاحب صدر نے اسسٹنٹ سیکریٹری کو مخاطب ہو کر کہا کہ براہ کرم معزز رکن سے دریافت کریں کہ مستقل حکم یا قاعدہ کی رو سے صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ سوالات کے جواب کا اردو میں ترجمہ کرا دیں۔ جواب میں چودھری محمد عبدالرحمن نے کہا کہ میں انگریزی نہیں جانتا جو میرے مطالبے کے جواز کے لیے کافی ہے، اس سے زیادہ کیا درکار ہے؟
اس حوالے سے چودھری اللہ داد خاں نے کہا کہ اگر دستور العمل کارروائی میں ایسا کوئی حکم نہیں ہے کہ جس کی رو سے سرکاری ارکان سوالات کے جواب اردو میں دیا کریں تو ایک ایسا حکم وضع کیا جا سکتا ہے۔ جب تقریروں کا اردو میں ترجمہ کیا جا سکتا ہے تو سوالات و جوابات کا ترجمہ کرنے میں بھی کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔
صاحب صدر نے قواعد کے حوالے سے کہا مروجہ مستقل احکام اور قواعد کے متعلق کچھ غلط فہمی معلوم ہوتی ہے۔ لہٰذا میں معزز ارکان کی توجہ قاعدہ نمبر ۱۴ یا پیراگراف ۵۸ کی طرف مبذول کراتا ہوں، وہ حسب ذیل ہے:
’’کونسل کی کارروائی انگریزی میں ہو گی، کوئی بھی رکن اردو میں یاصدر کی اجازت سے صوبے میں مروجہ کسی دیگر زبان میں تقریر کر سکتا ہے۔‘‘ ۳۵؂
صاحب صدر نے مزید کہا کہ اس قاعدے کے تحت کوئی رکن کونسل میں اردو میں تقریر کر سکتا ہے۔ (دوم) اس کے علاوہ پیراگراف ۶۴ کا ضمنی پیرا گراف (۴) موجود ہے۔ اس میں درج ہے:
’’صدر کی اجازت سے کسی تقریر کے خاتمے پر اس کا انگریزی سے اردو میں یا اردو سے انگریزی میں کسی سرکاری مترجم کے ذریعے ترجمہ کرایا جا سکتا ہے۔‘‘ ۳۶؂
خان بہادر ملک زمان مہدی خاں نے اس بارے میں کہا اگر تقریروں کا ترجمہ اردو انگریزی میں کیا جا سکتا ہے تو سوالات کے جوابات کا ترجمہ بھی اردو میں کیا جا سکتا ہے نیز کیا کوئی ایسا قاعدہ ہے کہ جس کی رو سے صدر کسی سوال کا اردو میں ترجمہ کرانے کے مجاز نہ ہوں۔
صاحب صدر نے جب لیڈر آف دی ہاؤس کی رائے معلوم کی تو مسٹر ڈی جے ہائڈ نے کہا: ’’ذاتی طو رپر مجھے ترجمہ کرائے جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ میں اسے پسند کروں گا لیکن ہمیں آئندہ کا خیال رکھنا چاہیے۔ نئی اسمبلی میں غالباً پچاس فی صدی ارکان انگریزی نہ جانتے ہوں گے اور اگر ہر سوال کے جواب کا ترجمہ کرایا گیا تو ترجمے سننے پر ہی اسمبلی کا بہت سا وقت صرف ہو جائے گا۔ اس بات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ صاحب صدر نے ایوان کونسل کی رائے معلوم کی تو سب نے اردو ترجمے کے حق میں رائے دی لہٰذا جواب کا اردو ترجمہ کرا دیا گیا۔
درسی کتب برائے بالغان(رومن اردو)
شریمتی لیکھ رتی جین نے وزیر تعلیم سے سوال کیا کہ آیا پنجاب ٹیکسٹ بک کمیٹی کے زیر اہتمام ہندی، پنجابی ، اردو یا رومن اردو کی بالترتیب موزوں درسی کتب برائے بالغان شائع کی گئی ہیں۔ اگر نہیں تو کیا حکومت ان نقائص کو دور کرنے کا ارادہ رکھتی ہے؟ جواب میں ملک سر فیروز خاں نون نے کہا کہ معزز رکن کی توجہ ان کے نشان زدہ سوال نمبر ۵۲۷۲ کے جواب کی طرف منعطف کرائی جاتی ہے۔ جہاں تک معلوم ہے رومن اردو میں کوئی کتابیں لکھی ہوئی موجود نہیں ہیں۔ ۳۷؂ (جواب میں جس نشان زدہ سوال کا ذکر کیا گیا وہ مباحث ۲۸ فروری ۱۸۳۶ء کے ص ۱۳۵ پر موجود ہے لیکن جواب تیار نہ ہونے کی وجہ سے معذرت کر لی تھی۔
اردو کے لیے بورڈ آف اسٹڈیز
پنجاب یونیورسٹی میں اردو اور فارسی کے لیے بورڈ آف اسٹڈیز کے متعلق شیخ فیض محمد نے ایک سوال میں کہا کہ آیا یہ امر واقع ہے کہ سنسکرت کے لیے تو پنجاب یونیورسٹی نے ایک بورڈ آف اسٹڈیز قائم کیا ہوا ہے مگر اردو اور فارسی کے لیے کوئی ایسا بورڈ قائم نہیں کیا گیا۔ وزیر تعلیم ملک فیروز خان نون نے جواب میں کہا کہ فارسی، عربی، اردو اور پشتو کے لیے بورڈ آف اسٹڈیو موجود ہے۔ ۳۸؂
کالوں کی کونسل گوروں کی زبان
ستلج ویلی پراجیکٹ کے متعلق محمد عبدالرحمن خاں کے نشان زدہ سوال کا جواب سردار سکندر حیات خان انگریزی میں دے رہے تھے کہ چودھری صاحب نے کہا کہ براہ مہربانی میرے سوال کا جواب اردو میں دیجیے، میں انگریزی نہیں سمجھ سکتا۔ جواب میں صاحب صدر نے کہا مجھے کسی ایسے قاعدے یا مستقل حکم کا علم نہیں جس کی رو سے میں معزز رکن کو جواب اردو ترجمہ کرنے کا حکم دے سکوں۔ چودھری محمد عبدالرحمن خاں صاحب صدر کے اس جواب سے مطمئن نہ ہوئے اور کہا جناب والا!یہ کالے آدمیوں کی کونسل ہے اور ہماری توقع یہی ہے کہ یہاں زبان بھی کالے آدمیوں کی ہو لیکن ہماری بد قسمتی سے کالے آدمیوں کی زبان کی بجائے یہاں گورے آدمیوں کی غیر ملکی زبان میں بات چیت ہوتی ہے۔ ۳۹؂
صاحب صدر نے قواعد کی وجہ سے معذوری ظاہر کی تو میاں نور اللہ نے کہا اگر تقریریں اردو میں کی جا سکتی ہیں تو عقل عامہ تو یہی کہتی ہے کہ جو سوالات اردو میں دریافت کیے جائیں ان کے جوابات بھی اردو میں دیے جائیں۔ صاحب صدر نے یقین دلایاکہ اردو میں سب سوالات کا جواب دینے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس ضمن میں مزید گفتگو مکالموں کی صورت میں دی جا رہی ہے:
چودھری محمد عبدالرحمن خان:جناب والا مناسب یہی ہے کہ غیر انگریزی داں ارکان کے سوالات کے جوابات اردو میں دیے جائیں تاکہ وہ انھیں سمجھ سکیں ۔۔۔
صاحبِ صدر: جی ہاں، لیکن شرط یہ ہے کہ مروّجہ قواعد اور مستقل احکام اس امر کی اجازت بھی دیں۔ معزز رکن کو اختیار ہے کہ مستقل احکام کی ترامیم کرا لیں۔
چودھری محمد عبدالرحمن خان:میری درخواست یہی ہے کہ میرے سوالات کے جواب اردو میں دیے جائیں۔
صاحبِ صدر: معزز رکن کو اس کونسل کارکن ہوئے کتنا عرصہ گزر چکا ہے۔ کیا آج سے پہلے کبھی آپ نے سوالات کا جواب اردو میں لینے پر اصرار کیا تھا؟
چودھری محمد عبدالرحمن خان:جناب والا میں نے ہمیشہ اردو میں سوالات کیے اور توقع رکھتا تھا کہ اس کے جواب اردو میں دیے جائیں گے۔ ۴۰؂
حوالہ جات
۱؂ اردو دائرہ معارف اسلامیہ،جلد ۱۳؛ لاہور، دانش گاہ پنجاب؛ ۱۹۷۳؛ ص: ۹۱۵۔۹۱۴
۲؂ اردو جامع انسائیکلوپیڈیا؛لاہور، شیخ غلام علی اینڈ سنز؛ ص:۸۶۳
۳؂ مباحث پنجاب لیجیسلیٹو کونسل؛ ۲۳؍ فروری ۱۹۲۱ء؛ص:۸۔۹
۴؂ ایضاً؛ ۲۹؍ فروری ۱۹۲۱ء؛ص:۳۔۱۸۲
۵؂ ایضاً؛۱۳؍نومبر۱۹۲۴ء؛ص:۳۷۸
۶؂ ایضاً؛ ۱۰؍مارچ ۱۹۲۷ء؛ص:۲۸۸۔۲۸۹
۷؂ ایضاً؛ ۲۰؍نومبر ۱۹۳۴ء؛ص:۱۰۷۲
۸؂ ایضاً؛۱۶؍نومبر۱۹۲۲ء؛ص:۷۵۱
۹؂ ایضاً؛۲؍مارچ ۱۹۲۸ء؛ص:۳۳۴
۱۰؂ ایضاً؛۲؍اگست۱۹۲۱ء؛ص:۳۱۔۲۳۲
۱۱؂ ایضاً؛۲۴؍مارچ ۱۹۳۲ء؛ص:۶۵۷
۱۲؂ ایضاً؛۶؍مارچ ۱۹۳۰ء؛ص:۳۱۰۔۳۱۱
۱۳؂ ایضاً؛۱۳؍مارچ ۱۹۳۳ء؛ص:۴۲۴
۱۴؂ ایضاً؛۳۱؍مارچ ۱۹۳۳ء؛ص:۴۳۰
۱۵؂ ایضاً؛۲۳؍فروری ۱۹۲۱ء؛ص:۲۳
۱۶؂ ایضاً؛۲۶؍اکتوبر۱۹۲۳ء؛ص:۳۱۸
۱۷؂ ایضاً؛۷؍جولائی ۱۹۲۶ء؛ص:۱۴۸۰
۱۸؂ ایضاً؛۲۵؍نومبر ۱۹۲۷ء؛ص:۱۴۶۸
۱۹؂ ایضاً؛۱۳؍دسمبر۱۹۲۹ء؛ص:۹۵۷
۲۰؂ ایضاً؛۴؍نومبر۱۹۳۰ء؛ص:۸۹۔۹۰
۲۱؂ ایضاً؛۵؍نومبر۱۹۳۰ء؛ص:۱۳۴۔۱۳۵
۲۲؂ ایضاً؛۲۵؍اکتوبر۱۹۲۳ء؛ص:۲۸۵
۲۳؂ ایضاً؛۲۶؍اکتوبر۱۹۲۳ء؛ص:۳۵۷۔۳۵۸
۲۴؂ ایضاً؛۲۶؍فروری۱۹۳۱ء؛ص:۹۲
۲۵؂ ایضاً؛۲؍دسمبر۱۹۳۱ء؛ص:۳۸۵
۲۶؂ ایضاً؛یکم مارچ ۱۹۳۲ء؛ص:۷۹۲
۲۷؂ ایضاً؛۲۹؍مارچ ۱۹۳۲ء؛ص:۸۰۲
۲۸؂ ایضاً؛۳۰؍اکتوبر۱۹۲۲ء؛ص:۴۰۲
۲۹؂ ایضاً؛۲۱؍جولائی۱۹۲۷ء؛ص:۹۲۶
۳۰؂ ایضاً؛۲۷؍فروری۱۹۲۹ء؛ص:۴۹۰
۳۱؂ ایضاً؛۱۷؍نومبر۱۹۳۲ء؛ص:۴۶۳
۳۲؂ ایضاً؛۱۶؍مارچ ۱۹۳۳ء؛ص:۵۰۸
۳۳؂ ایضاً؛۲۰؍مارچ ۱۹۳۳ء؛ص:۶۰۰
۳۴؂ ایضاً؛۱۵؍مارچ۱۹۳۴ء؛ص:۸۶۵
۳۵؂ ایضاً؛۱۹؍نومبر ۱۹۳۵ء؛ص:۹۴۵
۳۶؂ ایضاً؛۱۹؍نومبر۱۹۳۵ء؛ص:۹۴۵
۳۷؂ ایضاً؛۱۰؍مارچ ۱۹۳۶ء؛ص:۲۹۲
۳۸؂ ایضاً؛دسمبر ۱۹۳۱ء؛ص:۲۱۶
۳۹؂ ایضاً؛۲۶؍اکتوبر۱۹۳۴ء؛ص:۶۴۰
۴۰؂ ایضاً؛۲۶؍اکتوبر ۱۹۳۴ء؛ص:۶۴۸۔۶۵۰
فہرست اسنادِ محولہ
۱۔ ’’اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ‘‘؛ لاہور، دانش گاہ پنجاب، جلد ۱۳؛ ۱۹۷۳
۲۔ ’’اردو جامع انسائیکلوپیڈیا‘‘؛ لاہور، شیخ غلام علی اینڈ سنز؛ ص:۷۶۳
۳۔ مباحث پنجاب لیجیسلیٹو کونسل؛ ۱۹؍فروری، ۱۹۲۱ء تا ۲۶؍ اکتوبر۱۹۳۴ء