سی۔ایم۔نعیم کے حالات و خیالات
محمود الحسن


سادہ منش اور درویش صفت سی ۔ ایم ۔ نعیم (چوہدری محمد نعیم ) پچپن برس سے امریکا میں قیام پذیر ہونے کے باوجود اپنے مشرقی کلچر میں رنگے ہیں ، اس کی وجہ شاید یہ بھی رہی ہو کہ اس تمام عرصے میں اپنی زمین سے ان کا ناتا نہیں ٹوٹا اور وہ اپنے وطن ہندوستان کا تواتر سے پھیرا لگاتے رہے۔ مضبوط استدلال کے ساتھ وہ دھیمے لہجے میں بات کرتے ہیں۔ �آدمی وہ وضع دار اور شائستہ ہیں۔ اپنی مدح آپ کرنا تو درکنار کسی دوسرے سے اپنی تعریف سننا بھی انھیں پریشان کرتا ہے۔ علمیت کی نمائش سے گریز کرتے ہیں۔ دوسری تہذیبوں سے وابستہ افراد کے علمی کاموں کے اعتراف میں بخل سے کام نہیں لیتے ۔ مستشرقین کی کمزوریاں پیش نظر ہیں لیکن گفتگو کرتے ، ان کی خدمات کا انھیں احساس اور پاس رہتا ہے۔ وہ اپنے مولانا روم سے صحیح معنوں میں متعارف ہونے کا کریڈٹ بھی نکلسن کو دیتے ہیں۔ کسی دوسرے کی کاوش کو اپنے سے بہتر قرار دینے کا ظرف بھی رکھتے ہیں۔ محمد عمر میمن ، سردست ، جس معتبر ادبی جریدہ ’’ اینول آف اُردو اسٹڈیز ‘‘ کی ادارت کر رہے ہیں۔ سی ۔ ایم ۔ نعیم اس کے بانی مدیر ہیں۔ پہلے سات پرچے انہی کی زیر ادارت شائع ہوئے۔ ایک مرحلے پر ادارت کرنا ممکن نہ رہا تو وہ اس سے الگ ہوگئے لیکن یہ کہنے میں انھیں باک نہیں کہ ’’ میرے بعد محمد عمر میمن نے مجھ سے بہتر پرچہ نکال لیا ۔‘‘، ’’ محفل ‘‘ کے نام سے جنوبی ایشیائی ادب سے متعلق رسالے کے مدیر بھی رہے ۔ سی ۔ ایم۔ نعیم جن موضوعات پر قلم اٹھاتے ہیں ، ان کا دائرہ وسیع ہے۔ ان کے کئی مضامین اُردو میں منتقل کرنے والے اجمل کمال کے بقول ’’ پروفیسر نعیم عمومی طور پر رائج تصورات اور خیالات کو تنقیدی نظر سے پرکھتے ہیں اور ان غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں ، جن کے باعث اپنے معاشرتی ، سیاسی اور ادبی ماضی اور حال کے بارے میں ہمارے عام نقطہ نظر میں تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے۔ ‘‘سی ۔ ایم ۔ نعیم جہاں بھی جاتے ، ایک تھیلاان کے ساتھ رہتا، جس میں موجود نوٹ بک پر وہ اپنے کام کی ہر بات فوراً نقل کرلیتے ۔ ایک جدید کیمرہ بھی ان کے پاس ہم نے دیکھا، جس سے وہ ان چیزوں کی تصویر اتارتے ، جنھیں فوٹو کاپی کرانے کی اجازت نہ تھی ۔ لاہور سے چھینے والی جن نئی کتابوں کو وہ حاصل کرنا چاہتے تھے ، ان میں کلیات نظم آزاد شامل تھی ، جس کو پاکر وہ بہت مسرور نظر آئے ۔ کلیات نظم ڈپٹی نذیرا حمد کا ملنا بھی انھیں شرشار کر گیا۔ ذکاء اللہ دہلوی کی کتاب ’’ تہذیب الاخلاق‘‘ کی اشاعت سے بے خبر تھے ، باخبر ہوتے ہی اس کے لیے بیتاب ہوگئے اور پھر کسی مہربان نے انھیں کتاب مہیا بھی کردی ۔
سی ۔ ایم ۔ نعیم نے ۳ جون ۱۹۳۶ء کو یوپی کے چھوٹے سے شہر بارہ بنکی میں آنکھ کھولی ، سی ۔ ایم ۔ نعیم کے بقول ان کا تعلق بالائی طبقے کے مڈل کلاس خاندان سے ہے۔ بچپن میں ان کی ذہنی افزائش میں گھر کے مردوں کی بجائے عورتوں کا کردار رہا۔ والدہ جنھیں وہ آپا کہتے ، ان سے نماز پڑھنا سیکھا ۔ وہ بیٹے سے قصص الانبیا اور رسول کریم ﷺ کی سیرت پر بچوں کے لیے تحریر کردہ کتاب بھی سنتیں۔ مولوی صاحب سے ناظرہ پڑھا۔ نماز پڑھنے کی حوصلہ افزائی ضرور کی جاتی لیکن مجبور کبھی نہ کیا گیا۔ دادی ، جنھیں وہ امی کہتے ، ان سے بھی مذہب کے بارے میں جاننے کا موقع ملا۔ سالہا سال بعد انھوں نے اپنے تجربے کی بنیاد پر رائے قائم کی کہ وہ بچے جن کا بچپن مردوں کے برخلاف خواتین کے زیر اثر گزرتا ہے ان کے رویے زیادہ معتدل اور صلح جویانہ ہوتے ہیں۔ اپنی بات کی وضاحت وہ ان لفظوں میں کرتے ہیں ’’ ایک زمانے میں زنانہ ومردانہ الگ ہوتے تھے ، اور بچے اپنے ابتدائی سال زنانے میں گزارتے۔ چنانچہ عورتوں سے وہ اپنا مذہب سیکھتے تھے۔ زنانے میں ہونے والی رسوم سے انھیں اپنے مذہب کا پتا چلتا تھا۔ بعد میں وہ پھر مردانے میں آتے تھے ۔ میں یہ بات اشراف کے تعلق سے کہہ رہا ہوں کیونکہ غریب لوگوں کے پاس ظاہر ہے کہ مردانہ زنانہ بلکہ ایک کمرہ اور کٹیاہوتی ہے۔ میلاد شریف ، فاتحہ ، مناجات ، درود وسلام کا انتظام عورتیں کرتی تھیں۔ ان خواتین کے مذہب میں ایک طرح کی برداشت اور قبولیت کافی تھی ۔ عورت ہمارے معاشرے میں ہمیشہ خاصی مجبور اور مظلوم رہی تو جو خود ہی مجبور اور مظلوم ہو تو وہ پھر کسی پر کیا جبر کر پائے گا۔ زنانہ ومردانہ ختم ہوئے تو ظاہر ہے ، مکانوں اور فلیٹوں میں مرد ہر وقت موجود اور مذہب کو ڈکیٹ کرتا ہے۔ مردوں کا جو مذہب ہے ، چاہے وہ تبلیغی جماعت کا ہو یا جماعت اسلامی کا یا کسی اور کا وہ بہت پاور اور نٹیڈ ہے۔ اس میں دین کی شوکت کا معاملہ بہت زیادہ آجاتاہے۔ مسلمان عورتوں میں دین کی شوکت والی بات نہیں۔ مردوں نے دین کو اخلاق کی بجائے ضرورت سے زیادہ قوت اور اقتدار سے جوڑ دیا۔ بحیثیت مسلمان ، رویوں میں حلم ہو ، انکسار ہو دوسروں کوسمجھنے کی کوشش اور اپنی بات پر اصرار نہ ہو ان باتوں پر شوکتِ اسلام والے یقین نہیں رکھتے ۔ مسلمان نوجوان بھی انہی چیزوں میں پڑ رہے ہیں۔ ‘‘
سی ۔ ایم ۔ نعیم نے ۱۹۵۵ء میں لکھنؤ یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا ۔ ۵۷ء میں امریکہ چلے گئے ۔ ۱۹۶۱ء میں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا برکلے سے ایم اے لسانیات کیا اور شکاگو یونیورسٹی سے متعلق ہوگئے ۔ چند برس مشرقی مطالعات اور لسانیات کے شعبوں میں رہے۔ بعدازاں وہ جنوبی ایشیائی زبانوں اور تہذیبوں کے شعبے سے جڑ گئے ۔ ۲۰۰۱ء میں بحیثیت پروفیسر ریٹائر ہوئے۔ فی الحال وہ شکاگو یونیورسٹی میں پروفیسر ایمریطس ہیں۔ تنقید ، تحقیق اور ترجمے میں خاصا کام کرچکے ہیں۔ ان کی علمی وادبی کارگزاری کو ہم اُردو کی خدمت کے کھاتے میں اس لیے نہیں ڈالیں گے کہ انھیں لفظ خدمت سے چڑ ہے۔ ان کے خیال میں ’’ اُردو کے زوال اور ترقی سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں ۔ یہ کہنا کہ اُردو کی ڈکشنری بن گئی تو اُردو کی ترقی ہوگئی یا اردو میں رسالہ نکال دیا تو خدمت کردی ، یہ سب دل خوش کرنے کی باتیں ہیں۔ ایسا میں نے دنیا کی کسی زبان میں نہیں دیکھا۔ کوئی ہندی والا نہیں کہتا کہ وہ ناول لکھ کر ہندی کی خدمت کر رہا ہے۔ انگریزی کا کوئی ادیب نہیں کہے گا کہ وہ انگریزی کی خدمت کر رہایا اس کی ترقی کے لے کام کر رہا ہے لیکن اُردو والے ایسی باتیں کرتے ہیں ۔ ‘‘
’’
اردو دنیا کی سب سے شیریں زبان ہے۔ ‘‘ اس قسم کے بیانات کے وہ سخت ناقد ہیں۔ کہتے ہیں ’’ اُردو دنیا کی سب سے شیریں زبان ہے ، شیریں کا کیا مطلب ہے ، ماں کسی بھی زبان میں لوری سناتی ہے ، بچے کو اس سے نیند آجاتی ہے تو اس کے لیے وہی زبان شیریں ہے۔ ہم لوگوں کے دماغ میں پتا نہیں کیوں ہے کہ اس میں فارسی اور عربی حروف پائے جاتے ہیں اور ہم’ ف ‘بھی بول لیتے ہیں اور ز‘بھی بول لیتے ہیں ، اس لیے ہماری زبان بہت میٹھی ہوگئی ہے ۔ یہ بہت بیو قوفی کی بات ہے۔ ‘‘ ان کے طویل تدریسی وعلمی سفر میں جس چیز کا زیاں ہوا ، ان کی تخلیقی سرگرمیاں ہیں۔ نظمیں وہ کہتے رہے اور کہانیوں کا ۷۶ء میں ’’ فائیو پلس ون ‘‘ کے نام سے مجموعہ بھی چھپا لیکن اب مدتوں سے تخلیقی محاذ پر خاموشی ہے۔ کہتے ہیں ’’ افسوس بالکل نہیں ۔ طالب علم نظم اور غزل لکھتے تو ہیں لیکن ان کے لیے بہتر ہوتا ہے کہ اس کو بھول جائیں ، بچپن کی غلط کاریوں کی طرح نوجوانی کی غلط کاریاں بھی ہوتی ہیں۔ یہ ٹھیک ہے جن میں صلاحیت ہوتی ہے وہ جم کر کام کرتے ہیں ۔ صلاحیت کے علاوہ محنت بھی درکار ہوتی ہے۔ مجھے جلد پتا چل گیا کہ میری صلاحیت اس کام میں زیادہ ہے جو میں اب تک کر رہا ہوں ۔ بہت جلد احساس ہوگیا تھا کہ نظم اور افسانہ لکھنا میرا میدا ن نہیں ہے۔‘‘ سی ۔ ایم ۔ نعیم کو اُردو سے انگریزی میں ترجمہ کرنے والوں میں اونچا مقام حاصل ہے۔ تخلیقی ادب میں قرۃ العین حیدرکے دو ناولٹ ’’ سیتا ہرن ‘‘، ’’ ہاؤسنگ سوسائٹی ‘‘ اور افسانے ’’ پت جھڑ کی آواز ‘‘ کے تراجم پر مشتمل ا ن کی کتاب A Season of Betrayals چھپ چکی ہے۔ ہندی ادیب وبھوتی نرائن رائے کے ناول ’’ شہر میں کرفیو ‘‘ اور ہری شنکر پر سائے کی طنز یہ کہانیوں پرمبنی کتاب کا "Inspector Matadeen on the Moon" کے عنوان سے ترجمہ بھی ان کے قلم سے ہے۔ اُردو میں طنز نگاری کی کمی انھیں محسوس ہوتی ہے ، ہندی میں وہ سمجھتے ہیں ، اس ضمن میں بہت بہتر کام ہورہا ہے۔ ہندی کے طنزیہ ناولوں میں شری لال شکل کے ’’ راگ درباری ‘‘ اور وبھوتی نرائن رائے کے ’’ تبادلہ ‘‘ کا نام خاص طور پر لیتے ہیں ۔ انگریزی ترجمے اور تدوین متن میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ ’’ ذکر میر ‘‘ ہے۔ بتاتے ہیں ’’ میر صاحب کی بہت اہمیت ہے۔میر صاحب نے آپ بیتی فارسی میں لکھی ، جس کا اُردو میں نہایت عمدہ ترجمہ نثار احمد فاروقی نے کیا۔ میں نے بھی اصل فارسی سے ترجمہ کیا ، اور اس کے ساتھ تعارف ، میر کی زندگی اور اس سماج کے بارے میں لکھا۔ مجھے تاریخ سے دل چسپی ہے اور آپ بیتیوں سے بھی اور میر جیسا آدمی آپ بیتی لکھے گا تو ظاہر ہے ہمارے لیے اہم ہے۔ اٹھارویں صدی میں میری بڑی دلچسپی ہے۔ اس صدی کی دلی کے بارے میں اس میں بہت سی معلومات ہیں ۔ میر اپنے بارے میں بہت کم بتاتے ہیں لیکن تاریخی واقعات کا بہت ذکر کرتے ہیں ، جادو ناتھ سرکار نے بھی اپنی کتاب میں اس کا حوالہ دیا ہے۔ یہ کتاب موجود تھی لیکن اس کی اہمیت مؤرخین کے لیے کوئی زیاد نہیں تھی ، دلی کی اٹھارویں صدی کی کوئی تاریخ لکھنے بیٹھے تو تب اس کے لیے ذکر میر کی اہمیت ہے۔‘‘اُردو سے انگریزی میں ہونے والے تراجم کے معیار کے بارے میں ان کا موقف ہے ’’ یہ بات درست ہے کہ اکثر ترجموں میں غلطیاں ہوتی ہیں لیکن وہ ترجمے اُردو والوں کے لیے نہیں کیے جاتے ، بلکہ اُردو سے واقفیت نہ رکھنے والے کے لیے ہوتے ہیں۔ اس لیے اگر ڈپٹی نذیر احمد کا ناول ساٹھ ستر فی صد بھی ایسے قارئین تک صحیح پہنچ جائے تو غنیمت ہے۔ ‘‘ اس وقت اُردو میں لکھا کچھ نیا پڑھنے کے بجائے ، وہ کلاسیک جنھیں پڑھنے سے وہ اب تک محروم چلے آئے ہیں ، انھیں پڑھنے کے زیادہ مشتاق رہے۔ سی ۔ ایم ۔ نعیم کے بارے میں یہ تحریر لکھ رہے تھے تو شمس الرحمان فاروقی کی داستان امیر حمزہ کے بارے معر کتہ اآاراء تنقیدی کتاب ’’ ساحری ، شاہی ، صاح بقرانی ‘‘ کی چوتھی جلد پڑھنے کو ملی۔ جس کو انھوں نے سی ۔ ایم۔ نعیم کے نام فیضی کے اس شعر کے ساتھ معنون کیا ہے۔
بادم من بوئے او آمیخت زاں روز ندہ ام
ورنہ خود پیدا بودبابا دنتواں زی ستن
(
میری سانس کے ساتھ اس کی خوشبو مل گئی ، اسی باعث میں زندہ ہوں ورنہ یہ بات تو ظاہر ہے کہ غم واندوہ کے ساتھ زندہ نہیں رہا جاسکتا )۔