غزلیات


نعت
شعور و عقل و خرد، فہم و آگہی ترا نام
عطا حیات کو کرتا ہے روشنی ترا نام

پلٹ کے جا نہیں سکتے بغیر بھیک
گداگروں کو تو دیتا ہے خسروی، ترا نام

مشام جاں کو تو کرتا ہے مشکبو، ترا ذکر
دل و دماغ پہ چھایا ہے، ہر گھڑی ، ترا نام

ہر ایک سانس مری پنجتن کا صدقہ ہے
یہ زندگی ہے موّدت، یہ زندگی، ترا نام

جوابِ دہشت و ظلم و ستم ہے خلقِ عظیم
عروئے جاں پہ ہے رحمت کی برتری، ترا نام

کتاب و مصحف و عرش و سراج و لوح و قلم
وجود پاتے ہیں لے کر گھڑی گھڑی ترا نام

زمانہ لاکھ دکھا دے بڑائی کے جلوے
تری ہے جلوہ گری اور سر خوشی ترا نام

تلاش رہبر کامل ہے تو مدینہ چل
مرے حضور سے روشن ہے رہبری ترا نام

حبیبِ رب عُلیٰ آخری پیغمبرؐ سے
رضاؔ جہاں میں تو باقی ہے آدمی ترا نام
سید جاوید رضا
غزل
جس کی تھی تمنا وہ مجھے دل پہ گراں ہے
قسمت میں تو لکّھا تھا یہی مجھ کو گماں ہے

آشفتہ سری دیکھ کے ہم خستہ تنوں نے
کیا نذر گزاری ہے، محبت کا سماں ہے
میخانے میں رِندوں کا گزر ہو نہیں سکتا
کشکول لیے ہاتھ میں جب پیرِ مُغاں ہے

خوشبو ہے وہی، نغمہ و مستی و ہمہ رنگ
دل اُس کے تصور سے ہمہ وقت جواں ہے

نقاش جو تھے نقش بہ دیوار ہوئے ہیں
جو اُن کے حواری تھے کہاں اُن کا نشاں ہے

کوشاں ہیں رضاؔ ، اہلِ ہوس میرے چمن کے
وہ سامنے آئیں جنہیں ہستی کا گماں ہے
سید جاوید رضا
غزل
نشے میں اُس کا پاؤں کبھی ڈولتا بھی ہو
وہ اپنے دل کا راز کبھی کھولتا بھی ہو

وہ خوش لباسیوں میں ہو پیراہنِ شفق
ناز و ادا کے شہر کا در کھولتا بھی ہو

ہو جنگلوں میں دوشِ ہوا، اُس کی دسترس
ہاں! بادلوں میں جسم کے پَر تولتا بھی ہو

ہو بے زبانیوں سے فقط اُس کی آرزو
لیکن وہ کچھ نہ کچھ تو مگر بولتا بھی ہو

ہو رات کو وہ راحتوں کی نیند کا سکوں
پر دن میں فرقتوں کا بھرم کھولتا بھی ہو

ہو دشت میں جو اُس کی صدا نالۂ سکوت
گلشن میں قمریوں کی طرح بولتا بھی ہو

ایسے حبیب کے لیے کیا دہر کی قیود
بامِ فلک پہ عرش کے در کھولتا بھی ہو
فیاض محمود قریشی
غزل
بہار آئے، چمن کا چمن نکھر جائے
قرارِ جاں وہ ملے، سازِ دل بکھر جائے

گلی گلی میں کسی بے کلی کا چرچا ہو
نگر نگر میں اِک آشفتگی بکھر جائے

جہانِ گریۂ شبنم! اگر اجازت ہو
شعاعِ مہر کہیں چاند میں اُتر جائے !

کٹی ہے عمر خود اپنے فراق میں لیکن
شبِ وصال نہ یونہی کہیں گزر جائے

گمان ہی سہی، ایسا تو ہو مگر فیاض
حریمِ جاں میں، کوئی دن کوئی ٹھہر جائے
فیاض محمود قریشی
غزل
پرانے نقش مٹانے میں وقت لگتا ہے
نئے نقوش بنانے میں وقت لگتا ہے

گئے دنوں کے مناظر نظر میں پھرتے ہیں
گئے دنوں کو بھلانے میں وقت لگتا ہے

کہیں سے لوٹنا ہوتا ہے کس قدر آساں
کہیں سے لوٹ کے آنے میں وقت لگتا ہے

زیادہ لوگ تو کچھ دن ہی یاد رہتے ہیں
کسی کسی کو بھلانے میں وقت لگتا ہے

محبتیں بھی تو اک بھاری قرض ہوتی ہیں
وہ قرض جس کو چکانے میں وقت لگتا ہے

نعیمؔ لگتا ہے لمحہ اسے بگڑنے میں
وہ بات جس کو بنانے میں وقت لگتا ہے
ضیا الدین نعیم
غزل

ہم آنکھوں میں کھٹک رہے ہیں ، ہمیں مٹانا چاہتا ہے
تاک میں بیٹھا دشمن کاری ضرب لگانا چاہتا ہے

قدم لئے جائیں ، واجب ہے اُس باہمت انساں کے
جو صحرا کے سینے کو گلزار بنانا چاہتا ہے

نمک چھڑکتی ہے دنیا رہ رہ کے دل کے زخموں پر
ورنہ دل تو اپنے دکھوں کو روز بھلانا چاہتا ہے

خاموشی ہونٹوں پہ سجائے بیٹھا وہ انجانا شخص
آنکھوں ہی آنکھوں میں سب کو کیا جتلانا چاہتا ہے

اک محنت کش کو کیا تیرے فلسفیانہ نکتوں سے
چھاؤں ذرا سی وہ اور بس دو وقت کا کھانا چاہتا ہے

کم سمجھوں سے بحث میں پڑنا لاحاصل ہوتا ہے نعیمؔ
وقت سی قیمتی شئے کیوں آخر عبث گنوانا چاہتا ہے
ضیا الدین نعیم
غزل
ایک نیا واقعہ عشق میں کیا ہو گیا
دل میں کہیں پھر کوئی زخم ہرا ہو گیا

بزمِ طرب بھی سجی ، محفلِ غم بھی سجی
کون ملا تھا مجھے ، کون جدا ہو گیا

اپنی خوشی سے مجھے اس کی خوشی تھی عزیز
وہ بھی مگر جا نے کیو ں مجھ سے خفا ہو گیا

میں تو نہیں ما نگتا اسکے سوا کچھ صلہ
تیری نظر ہو گئی میرا بھلا ہو گیا

بڑھنے لگی خا مشی ڈرنے لگی زندگی
دل ہی مرا دفعتاً نغمہ سرا ہو گیا
اشفاق عامر
غزل
پنہا ں نہیں ہو تا جو ہو ید ا نہیں ہوتا
معدوم سے اپنا کوئی رشتہ نہیں ہوتا

خو اہش تو ہے اک زخم جولگ جاتا ہے دل پر
او ر زخم بھی ایسا کہ جو اچھا نہیں ہو تا

ہر دور میں چپ چا پ ابھر آ تا ہے دل میں
ہے عشق وہ جذبہ جو پرانا نہیں ہو تا

کوشش سے بنا لیں تو بنا لیں کوئی لمحہ
ورنہ تو کوئی وقت بھی اپنا نہیں ہوتا

کر لیتے ہیں اک وعدہ ہم ایسا بھی تو عامر
جس میں کوئی امکا ن وفا کا نہیں ہو تا
اشفاق عامر
غزل


ہجر زدہ آنکھوں سے جب آنسو نکلے خاموشی سے
کسی نے سمجھا رات سے دو دیپ جلے خاموشی سے

میں بھی آگ لگا سکتا ہوں اِس برسات کے موسم میں
تھوڑی دور تلک وہ میرے ساتھ چلے خاموشی سے

شام کی دھیمی آنچ میں جب خورشید نہا کر سو جائے
منظر آپس میں ملتے ہیں خوب گلے خاموشی سے
برف کی پرتیں جب بھی دیکھوں میں اونچی دیواروں پر
جسم سلگنے لگتا ہے اور دل پگھلے خاموشی سے

چاہت کے پھر پُھول کھلیں گے آپ کی یہ خوش فہمی ہے
کپڑے میرے سامنے موسم نے بدلے خاموشی سے

دن کے اُجالوں میں شاید میں خود سے بچھڑا رہتا ہوں
رات کی تاریکی میں اک خواہش مچھے خاموشی سے
اطہر خیال
غزل
صبحِ سفر کا رنگ خدا جانے کیا ہوا
پلٹے ہیں شام کو تو ہے چہرہ بجھا ہوا

منزل کی تھی تلاش کہ چلنے کا شوق تھا
آگے نکل گیا ہوں یہی سوچتا ہوا

لرزش کچھ اس طرح مرے احساس میں ہوئی
آیا لبوں پہ نام ترا کانپتا ہوا

سارے مرے فریبِ نظر کے ہی نام ہیں
ساحل ہوا سفینہ ہوا، نا خدا ہوا

اک اجنبی سا چاند کھجوروں کے دیس میں
گزرا ترے دیار سے یوں جھانکتا ہوا

چڑیوں کے چہچہے ہیں نہ پنگھٹ کی رونقیں
نظروں کے سامنے ہے وہ منظر لٹا ہوا

احسان آج پھر سے ہے موضوع گفتگو
طائر وہی کہ جس کا ہے اک پر کٹا ہوا
احسان رانا
غزل
آپ چاہیں تو کچھ کلام کروں
ورنہ میں اور کوئی کام کروں

کیا تمہاری خوشی اسی میں ہے
روز آ کر تمہیں سلام کروں

روشنی راز فاش کر دے گی
تیرگی کا کچھ انتظام کروں

صبح کو رنگ دوں نظاروں سے
اور رنگیں کوئی شام کروں

تم کو جانِ غزل کہوں مظہر
تم پہ روئے سخن تمام کروں
مظہر بخاری
اس محبس میں
مجبو ری کا طوق گلے میں ڈا لے
اپنی ضر و رت کی زنجیر میں جکڑے ہو ئے
بے رحمی کی آ گ میں
اپنا آپ جلا تے
یہ عمر گزرتی جا تی ہے
خوا ب جو اب اک نسیا ں کی
الماری کا حصہ ہیں
کبھی کبھی یہ الماری کھلتی ہے
اور اس دل کی دھڑ کن
بے قا بو سی ہو جاتی ہے
لیکن پھر یہ طوق گلے کا
اور ضرورت کی زنجیر میں جکڑے پا ؤ ں
مجھ کو بے بس کر دیتے ہیں
ان آ نکھو ں سے نہر سی جا ری ہو تی ہے
اوراس کے بہتے پا نی میں
ماضی کی سب روشن صبحیں، رنگیں شا میں
بہہ جاتی ہیں
اشفاق عامر
سفر
شام اتری دھندلکو ں میں لپٹی ہوئی
ہم کسی خواب میں کھو گئے
اور ایسے میں خود سے جدا ہو گئے
جا نے کتنے برس کٹ گئے
اور ہم اپنے خوا بو ں کھو ئے رہے
پھر اسی عالمِ بے خودی میں سحر ہو گئی
را ت کا سارا نشہ ہوا ہو گیا
چشمِ خور شید نے ایسی نظرو ں سے دیکھا ہمیں
خواب کے آئنے ریزہ ریزہ ہوئے
اتنے سفا ک و ظا لم حقا ئق سے آنکھیں ملیں
دل چٹخنے لگا
دامنِ دل پہ دا غو ں کا گلشن کھلا
اشک ٹپکے تو بس چہرہ تر ہو گیا
اور بھیگے ہوئے دا من و رخ پہ اک
تازہ تر دا ستا ں یو ں منقش ہو ئی
آ نکھیں بجھنے لگیں
شام پھر آ گئی
اک دھدلکا سا پھر چھا گیا
رات سے رات تک کا یہ لمبا سفر ہم کو مہنگا پڑا
اشفاق عامر
اساطیری کرداروں کا دکھ
کب تلک آنسو بہائیں اپنی تنہائی پہ ہم
اپنی عظمت کے مزاروں میں پڑے ہیں دم بخود
ہر نئی ساعت نئے امکان کے ہمراہ ہوتی ہے طلوع
اور ہم وہم و گماں کی وادیوں میں آج بھی
ایک بے رنگی میں ڈوبی کیفیت کے ہیں اسیر
دوریوں کی گرد میں پنہاں ہماری بستیوں سے جانے کیوں اب
قافلہ کوئی گزرتا ہی نہیں
خوابِ خوش آثار آنکھوں میں اترتا ہی نہیں
دور ماضی میں کہیں اب وہ زمانے ہیں مقفل
جن دنوں تھی حکمرانی
سارے انسانوں کے ذہنوں پر ہماری حکمرانی
بارشِ خوفِ نخستیں ، ظلمتِ آفاق گیرو دہشتِ انفس پذیر
خوف تھا بیدار جب تک ہم بھی زندہ تھے، مگر اب
وہ مقدس پیڑ جس پر تھا بسیرا کٹ چکا
اے تعقل، اے فریبِ لازوال !
ہم بھی زندہ تھے کبھی۔۔۔۔۔ !
عطا الرحمن قاضی
کہاں گئی ہے زندگی
ہماری بے بسی پہ خندہ زن
دھمال ڈالتا ہُوا اناج۔۔۔ چھاج میں
ہم اک کٹی ہوئی پتنگ کی طرح کسی شجر کی بے اماں
پناہ گاہ میں
فضا میں تیرتے پرند گھر کی ممٹیوں پہ آکے ڈھونڈتے
رہے ہمیں
ہم اپنے گھر میں قید یوں ہُوئے
برستے ابر۔۔۔ بھیگتی رتوں کا ذائقہ نہ چکھ سکے
ہم ایک ساعتِ دوام کو سنبھال کر نہ رکھ سکے
یہ ہم جنھیں طلوعِ مہر کی بشارتیں نہ مل سکیں
کسی طویل رات کی غلام گردشوں میں روشنی پکارتے رہے
بساطِ وقت کی شکست خوردہ ساعتیں ہماری روح
میں اتار کے
کسے خبر۔۔۔ کہاں گئی ہے زندگی ہمیں گزار کے
عطاء الرحمن قاضی(عارفوالا )
اُسے معلوم تھا
کہ وہ لمحوں کے پیندے سے کشیدِ زندگی کے فن سے واقف تھا
اسے معلوم تھا
کہ چہچہاتے ان پرندوں کی صدائیں بھی
صوتِ سرمدی کے گیت گاتی ہیں
اُسے معلوم تھا کہ رنگ اور خوشبو کی دنیا میں
بقا سے بغل گیری کس طرح ہو گی
تو اب کہنا بجا ہے کہ
جسے ادراک ہو جائے
کہ جینا کس کو کہتے ہیں
وہ رخصت ہو بھی جائے تو کبھی فانی نہیں ہوتا
صائمہ شمس