کاجو فینی کا شربت

ڈاکٹر زین الساکین سالک


میرا نام گونز پلس ہے!میں البرٹ گونز پلس سینٹ پیڑکس سکول کا ایک ریٹائرڈ گون۱؂ سکول ٹیچر اپنی زندگی کے بقایا دن کچھ تو بلیک لیبل کے پیچھے موجود کڑوے شربت کو تھوڑے سے سوڈے میں ملا کر چسکیوں میں اپنے ماضی کے روشن دنوں سے منور کرتا ہوں اور کچھ اپنے نیکرو سوٹ شرٹ میں ڈھنپے سراپا کو راکنگ چیڑ پر جھول جھول کر اور کچھ اپنے آپ کو گھر کے ہال میں آویزاں قد آدم آئینے میں ہر روز موجود پا کر گزارتا ہوں۔ ویسے تو اب کوئی بھی دن مجھے نہیں بھاتا لیکن آج کا دن مجھے بالکل اچھا نہیں لگا۔ صبح ہی صبح میونسپلٹی والوں کا نوٹس ملا کہ وہ اس پتھروں کی عمارت کو جس پر میرا اور میرے پرکھوں کا قانونی حق ہے گرانا چاہتی ہے۔ اگر یہ عمارت مخدوش ہے اور گرنے والی ہے تو بلدیہ کو کیا تکلیف ہے؟ میں جانتا ہوں کہ یہ ہمیں صدر کے اس پرائم علاقے سے بے دخل کرنے کی سازش ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ آج باروالے نے بھی مجھ سے لائسنس طلب کیا۔ کہتا ہے سختی ہے آج کل۔ حیرت ہے۔ ہم اتنی صدیوں کے بعد بھی اپنے آپ کو یہاں کے باسی تسلیم نہیں کروا سکے۔
ہمارا یہاں گواکا نو آباد ہونا۔ میرا چوتھی نسل سے اور اس کا تیسری نسل سے۔ اپنے پرکھوں کے آپس کے پیار و محبت اور باہمی افہام و تفہیم کو یکایک بھلا کر یوں غیرت اور بیگانگی نظر اندازی واقعی بدلتے بے وفا زمانے کی پھبتی مثال ہے۔ خیر یہ انتھونی مجھے کیا ستائے گا۔ مجھے ناریل فینی کشید کرنے کا فن آتا ہے۔ اگر یہ بار اس دور میں بند بھی ہو جائے تو میں اپنے پرکھوں کو یاد کر کے فینی تو پی سکتا ہوں۔ میری تیار کی ہوئی نفیس و پُر ذائقہ فینی! جس کے چرچے میرے دوست احباب کرتے ہیں اور اس کے قائل ہیں۔ میں جب اسے تین بار کشید کرتا ہوں تو یہ دیوتاؤں کا مشروب بن جاتا ہے اور اس میں صحت بخش فرحت اور شفاعیت اتر آتی ہے اور یہ ایک مایا دولت بن جاتی ہے۔
میری خواب گاہ میں گونزپلس سینئر، دادار وڈ ریگٹیس، پردادا تھامس گونز پلس کی پورٹریٹس مجھے ہنستی، مسکراتی اور خراج عقیدت دیتی محسوس ہوتی ہیں۔ کون کہتا ہے کہ میں عجائب گھر بنانے کے مشن میں ناکام ہو گیا ہوں۔
مجھ سے ناراض ہو کر ویرونیکا کو گوا گئے سالہا سال ہو گئے ہیں اور ایک عرصہ دراز سے میں نے ان سالوں کا حساب رکھنا بھی چھوڑ دیا ہے۔
شاید وہ بھی میری طرح وہاں ’کاجوفینی‘ پیتی ہو گی۔ میں جب بھی سال دو سال میں گوا جاتا ہوں تو ’کاجوفینی‘ ہی پیتا ہوں۔ اصل ’کاجوفینی‘ نہ تو یہاں طریقے سے کشید کی جا سکتی ہے اور نہ اس میں وہ بات ہو سکتی ہے جو گوا میں ہوتی ہے۔ یہ ایک پیچیدہ اور دشوار طریقہ ہے اور اب تو گون لوگ فینی کا عالمی دن بھی منا رہے ہیں۔ خوب ہنگامہ رہے گا۔ اس کا نشہ انتہائی سرعت سے چڑھتا ہے اور دنیا مافیہا سے بیگانہ کر کے سکون و طمانیت سے جینے کا خاص گون انداز دیتا ہے۔ یہ گون ثقافت بھی خوب چیز ہے۔ کبھی میں سوچتا ہوں کہ اس کے ڈانڈے ایک طرف پرتگال واپسیں تو دوسری طرف گوا اور پھر یہاں سے پاکستان اور دنیا کاکون سا ملک نہیں ہے جہاں ہماری ثقافت کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیں آپ خانہ بدوش تو کسی معنوں میں کہہ سکتے ہیں لیکن ہم جس جگہ ٹھہرتے ہیں۔ عرصہ دراز ۔۔۔ برسوں، صدیوں ، قرنوں قیام کرتے ہیں اور وہاں کا کلچر بھی ہمارا ایک اور حصہ بن جاتا ہے۔ ہاں البتہ ہم اپنی بنیادی روایات، رسوم و رواج سے بھی بری طرح چمٹے رہتے ہیں۔ گوا میں کبھی پرتگالی ثقافت نے ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔ مادری زبان البتہ کنکی کہلاتی جسے ہم لوگوں نے سنبھال کر اس میٹروپولیٹن کی لغاتی یلغار میں رکھا ہوا ہے اور یہ ہماری خفیہ زبان کے طور پر بھی ہمارے ساتھ ساتھ ہے اور ہماری ثقافت کا ایک حصہ بھی ہے۔
میرے والد بھی اس کا بہت خیال کرتے تھے کیونکہ ان کے والد اور ان کے والد بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ اس لیے ہم سب بھی یہی کرتے ہیں۔
دھڑ، دھڑ، دھڑ۔۔۔ !‘
میں ہال میں ہوں۔۔۔ کھولتا ہوں۔ اندر آ جاؤ۔ سانچو میرے دوست۔ میں یہ ایک اور ۱۹۳۳ء کی ٹرام کا ماڈل بنا لایا ہوں۔
شاندار!سانچو۔ اب تم ہی میرے ساتھی رہ گئے ہو!یہاں رکھ دو احتیاط سے۔ پیچھے میری شیشے کی الماری ماڈلوں اور ٹرام کی تاریخی کتابوں سے بھری ہے۔ جن میں کراچی کی پہلی دُخانی ٹرام، گھوڑا ٹرام اور پٹرول ٹرام کے سانچوکے بنائے جیتے جاگتے ماڈل ہیں۔ سانچو میرے خوابوں کو حقیقت بنانے والا اہم کردار !
میں انھیں دیکھ کر اپنے بچپن میں چلا جاتاہوں۔ وہ بچپن جس کے بار ے میں گوا کی کہاوت ہے کہ سچ بولنے کی عمر بارہ سال ہے !
میں گونزپلس سینٹر کا ہاتھ پکڑے۔ صدر سے بولٹن ماسکیٹ، سولجر بازار ، کبھی بندر روڈ سے کیماڑی اور کبھی صدر سے کنٹونمنٹ اسٹیشن۔ ٹرام کا ڈرائیور ٹرام کے ایک ہی سرے پر آگے کھڑا ہو کر کار کے گیئر کی شکل کاہینڈل گول گول گھمانا۔۔۔ اور اس کے عین سر پر لگی گھنٹی لوگ ڈوری کھینچ کر رکنے کے لیے بجاتے۔ اس کی رفتار اتنی ہوتی تھی کہ لوگ بآسانی چلتے میں چڑھتے اترتے رہتے۔ ٹرام پٹہ سڑک کے بیچوں بیچ بچھایا گیا تھا۔
اس کے دونوں طرف ٹریفک چلتا رہتا۔ اونٹ گاڑیان، گدھا گاڑیان، بیل گاڑیاں، یکے، تانگے اور بگھی جسے وکٹوریہ کہتے تھے۔ پھر بسیں آئیں۔ سائیکل رکشہ آئے۔ موٹر رکشہ آئے۔ کان پڑی آوازیں سنائی نہ دیتیں۔ میں خاموشی سے بچپنے سے لڑکپن اور پھرجوانی میں آتا گیا۔ ٹرام چلانے والا اپنے پہیے پر گھنٹیاں بجاتا رہتا۔
جب یہ بے ہنگم ٹریفک ضرورت سے زیادہ بڑھا تو ناخوشگوار حادثات رونما ہونے لگے۔ یہاں تک کہ ۴؍ اپریل ۱۹۷۵ء آ گیا۔ جب آخری ٹرام بھی اپنا آخری زور لگا کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔ اس وقت تک ٹرامیں بھی اچھی خاصی بوڑھی ہو چکی تھیں۔ مضمحل، غیر معمولی طو رپر ڈولتی ،ہانپتی کانپتی، دم توڑتی اورکبھی اچانک بہت سادھواں اگلنے لگ جاتیں ۔ لیکن یہ ڈیزل گاڑیوں سے قدرے مختلف ہوتا تھا ۔ یہی وہ وقت تھا جب مجھے پہلی بار ٹرام میوزیم بنانے کاخیال آیا۔ مجھے پاپائے اعظم کے وہ الفاظ کہ دنیامیں کچھ کرکے جاؤ ،کوئی بڑاکام یاد آئے تو جوش وجذبہ اپنے اس مشن کا اور بڑھ جاتا۔ میرے جنون نے ویرونیکا کے صبروتحمل کی حدود کو پار کر کے گواجانے کا فیصلہ کرلیا چونکہ میں ہرطرف سے ناامید ہو کر سرحد عبور کرنے لگا تو اس نے آخر کار نا امید ہو کر اپنے گھر کے خرچے کا یہ پیسہ بھی اپنے مشن کی نذر کرنے لگا تھا ۔میں سوچتاہو ں کہ شاید ہماری بے اولادی کا اور محرومی کا نتیجہ نہ ہو ۔یا میرے گھر کیطرف سے بے فکری کیونکہ دیر و نیکا بھی سینٹ جوزف گرلز سکول میں پڑھاتی تھی شوقیا ۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ اس وقت تک وہ بھی جا چکی تھی ۔
ویرو نیکا کی کوئی خبر؟
میں نے سانچو کی بات کاٹی
میں تمہارے لیے پیک بناتا ہوں
میں ویرونیکا کو پھر سے یاد نہیں کرنا چاہتا تھا۔ کیونکہ پھر اسے بھولنا مشکل ہو جاتا۔گو ا میں ابھی تک زمین پر چلنے والی ٹرام نہیں آئی تھی۔ یا شاید اس کی ضرورت نہیں رہی۔ البتہ وہاں ستونوں پر پھسلنے والی ٹرام آگئی ،ٹرام کی ترقی یافتہ شکل مونو ریل جو ہوا میں معلق ستونوں پر سرعت سے پھسلتی چلی جاتی ہے۔
میں برف کے ٹکڑے کٹوا کر لانا نہیں بھولا۔ تم مجھے پئے پلائے بغیر تو جانے نہیں دو گے۔ کچھ دیر تو ہم بیٹھیں گے۔ میں تمہارا ساتھ دوں گا۔ سانچو نے مجھے خیالات میں گم ہونے سے بچاتے ہوئے کہا۔ اور میں نے بھی پھر سے گفتگو کا سلسلہ جوڑا ۔
اچھا یہ ۔۔۔دیکھو مختلف دور کی ٹرام کے مسلسل ٹکٹوں کی یہ گڈی میں نے جمع کر کے اس ایلبم میں لگا دی ہے ۔ میں نے فخر یہ سانچو کو دکھائی ۔
کہو اچھی لگ رہی ہے نا۔؟
ہاں شاندار ۔۔۔ سانچو نے چسکی لیتے کہا۔
اور پھر ہم ماڈلوں،ٹکٹوں ، بند روڈ ، کیماڑی ، سولجر بازار ، بولٹن مارکیٹ کے قصوں میں لگ گئے۔ اور سانچو ویرونیکا کا موضوع بھول گیا۔ اور پھر سانچو کے گھر جانے کا وقت بھی اتنی جلدی آ گیا ۔اسے بھی اپنی بیوی کا سامنا کرنا تھا۔ اور اس وقت کا حساب دینا تھا۔ میں اسے رخصت کر کے اپنی خواب گاہ میں آگیا۔ اور پھر شادی کے دن کی دولہا دلہن والی دھندلاتی پھیکی پڑتی قدیم تصویر کے ٹیبل فریم میں وقت اتر گیا ۔ اور ماضی کے واقعات کسی فلم کی طرح میرے ذہن میں پلنے لگے ۔
ہماری شادی عین اس دن ہوئی جب کراچی کے میئر نے قائد اعظم کے اعزاز میں شہری استقبالیہ دیا تھا ۔ تقریب کے یہ دونوں کیک کراچی کے مشہور گون بیکر P.R.Prciraبیکری میں تیار ہوئے تھے ۔ ہال میں شادی کے رقص میں ہم دنیا ما فہیا سے بے خبر چابی والے دلہا دلہن کی طرح کانچ کے گنبد میں لواسٹوری کی دھن یہ ابدی رقص کرتے رہے ۔ جھومتے گھومتے رہے ۔ شہرکی کئی معزز شخصیات نے اس میں شرکت کی تھی مجھے گنبد کے شیشے میں ایسٹ انڈیا ٹرام کی رسمی افتتاحی تقریب کی جھلکیات نظرآنے لگیں۔ کمشنر سندھ ہنری نیپیئر ، سندھ کا کمانڈنگ آفیسر جنرل جی تک اوراس کی بیٹی اسٹیلا، اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر جی یولن ، سابق والئ قندھار ہزہائینس پرنس شیر علی۔ اسٹیلانے اپنے منگیتر کیپٹن تھا مس کے ساتھ والہانہ رقص کرکے اپنی طرف سب کی توجہ مرکوز کرلی تھی اور پھر جیسے ٹرام کی گھنٹی سی بجی،ڈنر ازسروڈ کا اعلان ہوا ۔ ویرونیکا مجھے اپنے سفید ملکوتی عروسی لباس میں حیران پریشان سی نظر آئی ۔ کہاں کھوگئے تھے ۔ کیا ہوا تمہیں۔؟
اور میں واپس لوٹ آیا ۔
میں نے مدہوشی سے چونکتے ہوئے کہا ۔ کچھ نہیں،
رقص ختم ہوچکا تھا ۔ہم دونوں نے ایک ساتھ اشارتاً زم کہا ۔ اور واپس شادی میں لوٹ آئے ۔اور پھر ہم علیحدہ علیحدہ اپنی اپنی پارٹیوں کی طرف کنکنی میں جسے سرحدی لکیرسمّی کی رسم کے لیے آمنے سامنے تقسیم ہو کر فریقین بن گئے۔ اب کسی بھی فرد نے اپنی فرضی لکیرکو اس وقت تک پار نہیں کیا جب تک کہ ویرونیکا کے گھر سے آئی ہوئی شراب انڈیلی جاتی رہی اور احباب نے پی نہ لی ۔پھر میرے گھروالوں نے زم عبورکی۔پھر دلہا دلہن کی خوشحال زندگی کے لیے دعائیہ ہوا اور پھر ویرونیکا کے دو رشتہ دار زم عبور کرکے آئے اور اگلے روز دلہن کے گھر مدعو کرنے کا سندیسہ دیا ۔ تب کہیں جاکر زم کی پابندی ختم ہوئی ۔ آج جب میں اپنی زندگی کو دیکھتا ہو ں تو مجھے لگتا ہے کہ یہ زم ابدی لکیر بن گئی ہے ۔ اب ہم مرتے دم ہی یا اس کے بعد ایک دوسرے کا چہرہ دیکھ سکیں گے ۔ ورنہ یہ پریسٹ ہمارا تابوت روک کر رکھیں گے ۔آج میں ماضی کی حسیں یادوں میں کھویا تو مجھے گواکی یہ سچی کہاوت قدرتی طور پر یاد آگئی کہ دور سے نظر آنے والی پہاڑی کتنی حسین لگتی ہے اور نزدیک والی انتہائی بدصورت۔ نرگیست کسی بھی شکل میں ہو، بری ہی ہوتی ہے۔ اپنے آپ میں گم شخص دوسرے کے درد کا کیا احساس کرسکتا ہے۔ اس کے تیزتیز حرفوں نے اپنی عقلمندی کے بارے میں دوسروں کے سامنے گفتگو اور خصوصاً مجھے تمسخر کا نشانہ بنایا ۔ مجھے ٹرام کے شور شرا بے اور قہقہوں کی آواز گھنٹوں کی آواز لگتی ہے ۔ ہماری شادی اماوس کی رات ہوئی تھی ۔ اس شادی کے فوراًبعد گاؤں پر میری نظریں باربار جارہی تھیں ۔اس کا کپڑا ، ڈیزائن اورر نگ اسی شام کے وقت چٹکتی چاندنی کی مناسبت سے رکھا گیا تھا اور یہ واقعی ہر ایک کی توجہ کا مرکز تھا۔ یہ کھلی جگہ میں پہننے کے لیے نہیں تھا۔ اس ایمپائر سٹائل کے گاؤن کی ویسٹ لائٹیں (کمر کی پٹی) ذرا اوپر تھی۔ اور نیچے نیلی سکرٹ۔جس کا اس کی دلہنوں میں چلن مقبول تھا۔ جو اپنی زندگی کے سب سے اہم دن دبلی نظر آنا چاہتی تھیں۔ یہ اے ٹائپ کا گاؤن اچھی طرح فٹ نظر آتا ہے۔ اس کا جسم اتنا خمیدہ نہ تھا شاید اسی لیے اس نے بھی یہ پسند کیا تھا۔ نئی نویلی دلہن کو ٹرام کی افتتاحی تقریب کی طرح سجایا گیا تھا۔ اسے دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ یہ مجھے منزل مقصود تک پہنچا دے گی۔ لیکن سست رو ٹرام پر کچھ دیر سفر کرنے کے بعد یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ سست روی جلد ہی پہلے کو فت اور پھر بیزاری کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ جو بعض انتہائی حالات میں ٹرام کی خوبصورت گھنٹی کھینچ کر روکنے کاسبب بن سکتی ہے۔ آپ میرا اشارہ کو سمجھ گئے ہوں گے۔ بالکل ایسے جیسے ٹرام میں کسی کے پہلی بار بیٹھنے پر شروع میں کانوں کو یہ شور بھی بھلا لگتا ہے۔ مگر آہستہ آہستہ بذریعہ سماعت ذہن پر ہتھوڑے برسانے لگ جاتا ہے۔ یہ آواز گھنٹوں سنائی دیتی ہے۔ مگر مجال ہے کہ ذہن اس کا عادی ہو جائے ۔ کبھی نیند میں اونگھ سے ، کبھی سفر کے جھٹکے سے اور کبھی ساتھ کے مسافر کے دھکے سے یکدم تاز ہ دم ہو کر پھر سے برسنا شروع کر دیتی ہے۔ اور نئی شدت سے ذہن پر حاوی ہو جاتی ہے۔ ٹرام اور عورت دونوں کی مماثلت و خصوصیات باوجود اپنا گلا گھوٹنے کے پیچھا چھوڑنے کا نام نہیں لیتی ہیں۔ جیسے میری شادی کی یہ یاداشتیں ۔جب میرا بیسٹ مین میرا دوست سانچو بنا تھا۔ اور اس کی برائیڈ میٹ فلاور گرلز اور میڈ آف نے تتلیوں جیسے لباس پہنے تھے۔ سروں پر چھوٹے تاج ، رنگ برنگے جوتے ، چھوٹے چھوٹے پھولوں کے گلدستے ، ہلکے زیورات، Kneeiersچرچ سے واپسی کے بعد میں اسی گھر میں واپس آیا تھا۔ جہاں میری والدہ نے نئی دلہن کو سونے کی زنجیر چڑھائی اور اس کے کندھے پر صدو رکھا اور دعائیہ لاطینی کلمات سب نے گائے Suddoصدو بابرکت دلہن کا کٹا ہوا کپڑا۔ جو آج بھی میرے دل میں گونج رہے ہیں۔
Tadeo
Lau date Domino omnes g sentes
میں نے اگر ٹرام میوزیم کراچی کا خواب دیکھا تھا تو یہ گونز یلس گوا خاندان کی عظیم روایات اور ثقافت سے محبت کے عین مطابق ہی تو تھا لیکن ہر عورت تو میرے مدعا تک نہیں پہنچ سکتی ۔ خاص کر ویرونیکا جیسی ۔ اور نہ ہی مجھے اپنی دھن میں اس کا کوئی شوق کبھی رہا۔ میں زندگی کیسے گزارتا ہوں۔ کیا کچھ اچھا کرتا ہوں۔ جو میں سمجھتا ہوں یہ تو میرا فطری حق ہے۔ (نہ آخر ) چاہے سماج میں کسی کو پسند آئے یا نہ آئے ۔ ویرونیکا نے میرے ٹرام کی کتابوں کے شوق کو بھی سوکن ہی نظر سے اگر دیکھا ہے ہمیشہ تو میں اپنے آپ کو کیوں اس کا ذمہ دار ٹھہراؤں ۔ خیرا ب تو یہ بھی میرے ماضی کا ایک حصہ ہے۔ جسے میں بدل نہیں سکتا۔ میں ویرونیکا کو نہ بدل سکا ۔ اب زمانہ بھی کتنا بدل گیا ہے۔ ٹرام بھی چھتیس سال پہلے ختم ہو گئی تھی۔ اور اسے گئے ہوئے بھی اتناہی عرصہ ہوا ہے۔
شادی کے بعد پہلی کرسمس کی نومبر میں خریداری اس نے اپنی پسندیدہ ایمپریس مارکیٹ سے کی تھی۔ جہاں ایک ہی چھت تلے سب چیزیں مل جاتی ہیں۔ سنگترے کے باریک کٹے ہوئے خشک چھلکے، ناریل کے گودے والا دودھ ،مسک ، ناریل ، jangery ، بیریاں ، سٹرابیری ، بلیو بیری ، پستہ ، کشمش، وغیرہ ۔ ایسا لگتا تھا کہ اس نے تمام گون روایتی میٹھے ، نمکین کھانے پان بنائے ہیں۔ پانچ مختلف قسم کی ٹافیاں (اخروٹ ،پستہ ، ناریل، بادام، کا جو وغیرہ) کلکل ،مارزی پان تتلی نما پنیر والے خستہ نمک دار بسکٹ ، تین طرح کے فروٹ، مرمریں اور کیک ، کراسل براؤن ، ناریل گھونگھے ، کیرا بولہ ، دہرا مٹھائی اور گوا کی مشہور زمانہBabina ۔یہ اس نے ناریل کے پین کیک کی تہیں بچھا کر بنائی تھی۔ اس کے لوازمات میں اس نے جو تری Jangeryمعز ، ناریل اور ناریل کا دودھ شامل کیا تھا۔ ان اجزاء کا چناؤاس کی گوا کے Rodngwگھرانے سے مخصوص تھا۔ میں نے بھی ناریل نینی بڑی محنت سے کشیدگی تھی اور یہ بڑی بڑھیا بنی تھی۔ کرسمس کی نصف شب کی عبادت ہم نے جمعہ کی رات ہی سینٹرل بروکس میمو رئیل چرچ میں کر لی تھی۔ جہاں صرف پندرہ سو لوگوں کی گنجائش تھی۔ گو کہ ہم۲۴دسمبر یا کرسمس کی شام بھی یہ کر سکتے تھے۔ ہم رش کی وجہ سے شہر کے سب سے بڑے سینٹ پیڑکس میں نہیں گئے تھے۔ جہاں ۵ ہزار سے زیادہ لوگوں کا اژدھا م ہوتا ہے اور ہماری اتنی ہمت ہر گز نہیں تھی کہ اس انسانی ٹھاٹیں مارتے سمندر میں ذرا دیر ہی ٹھہر سکتے۔ ہم سروس کے بعد ان چھٹیوں میں زیادہ سے زیادہ وقت ایک ساتھ ایک دوسرے کی معییت میں گھر میں گزارنا چاہتے تھے۔ کوئی مہمان اگر کرسمس پر آئے تو آئے ۔۔ہمارا کہیں جانے کا پروگرام نہ تھا۔ ہم گھر پر مہمانوں کی خاطر تواضع کرنا چاہتے تھے۔ آج میں سمجھا ہوں کہ شاید ہمارے یہاں کی کہاوت ویرونیکا کے لئے کی گئی تھی کہ عورت ذات ناقابل بھروسہ ہوتی ہے۔ شادی سے پہلے وہ مرد سے مطالبات ہی مطالبات کی توقع رکھتی ہے۔ شادی کے بعد اس پر شک ہی شک کرتی ہے۔ اور موت کے بعد ہی اسے تنظیم دیتی ہے۔ اس کی ضد ی طبیعت دیکھ کر شاید وہ خود سے یہ بھی نہ کرے۔ لیکن اگر میں اپنے مشن میں کامیاب ہو گیا تو لوگ اسے اپنے رویے سے اس پر مجبور کر یں گے۔ میں چشم تصوّرسے اپنے جنازے پر اس کا ماتمی لباس اور پیٹ اور چہرے پر کالی جالی دیکھ رہا ہوں۔ اور جس پر اسے چارو ناچار آنا پڑے گا۔ میں نے ابھی تک اپنی زندگی میں اس کی موت کا کوئی منظر سوتے جاگتے ، کھلی بند آنکھوں نہیں دیکھا۔ اس کی غیر فطری نفرت کو دیکھتے ہوئے۔ سچ ہے گرم دودھ نہ پیا جا سکتاہے نہ پھینکا جا سکتا ہے۔ گون یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ کوئی پھل اتنا بھاری ہر گز نہیں ہوتا کہ بیل اس کا وزن سہار نہ سکے۔ میں نے اسے اپنی کھپریل کی چھت تلے پناہ تود ی ہوئی تھی آخر ۔ خیر اب ان باتوں کا کیا فائدہ سوائے دل جلانے کے یہ قصہ پرانا ہے بہت ہی پرانا ۔ ایسا جیسے کراچی ٹراموے کی تاریخ ۹۰ سال پر پھیلی ہوئی ہے ۔۱۹۷۵-۱۹۸۵ء
کیتھولکس کے ہاں veranicaسے میری طلاق نہیں ہو سکتی۔ اور ٹرام سے میرا ناسٹلجیا اور اس کی تاریخ سے کوئی بھی میرا پیچھا نہیں چھڑا سکتا۔
ٹرام تو اب بند ہو چکی ہو گی۔ میری اور اسکی زندگی کے فاصلے آہستہ ٹرام کی پٹری کی طرح چلتے چلتے بڑھ گئے ہیں۔ اور ٹرام بند ہونے کے بعد لوہے کی بھوکی دنیا میں اس Rolling Stock اور انفراسٹرکچر کا کیا بنا۔ کوئی بھی اپنا اندازہ لگا سکتا ہے سوچ سکتا ہے کہ پٹریاں اکھڑ کر کہاں گئیں ۔ اسی کی دہائی میں اسکی باقی ماندہ ٹرام کو زنگ آلودہ ہوتے۔ صدر کی سڑکوں پر دلخراش مناظر میری یاداشت پر آج بھی تازیانے لگاتے ہیں۔ اور اب ایک کرسمس اور خاموشی سے گذر جانے کے لیے آنے والی ہے۔ میری اب کوئی کرسمس کرسمس نہیں رہی نہ ویرونیکا کی جلی کٹی باتیں ہیں اور نہ دل کو ٹھنڈک دینے والی ٹرامیں، جن پر سفر میرے کرسمس کا لازمی جزو ہوتا ہے۔ مجھے دینے والے بھی بھلا چکے ہیں کیونکہ میں نے انہیں ٹرام میوزیم میں مدد دینے کے لئے خطوط اور بردش نہ بھیجے تھے ۔ اور نہ ٹرسٹ بنانے کے لیے اپنے مشن میں شمولیت کی دعوت دی تھی۔ بیرون ممالک سے البتہ مرے کام کی لگن دیکھ کر مدد کی بے شمار پیشکش ہوئی تھی ۔ لیکن میں کوئی اورمدد اس قسم کی نہیں لینا چاہتا۔ میں خودادری سے ملکی وسائل کو بروئے کار لانا چاہتا ہوں۔
یہ دروازے پر کون آیا
آؤ سانچو میں تمہیں یاد ہی کررہا تھا۔ یہ تمہارے ہاتھ میں کتنا خوبصورت گفٹ پیپر میں لپیٹا ہوا گفٹ ہے۔ یہ کیسا تمغہ ہے۔ مجھ پر ویسے تمہارے بہت احسانات ہیں۔
یہ تمہارے لیے گوا سے آیا ہے۔
گو ا سے
اب گوا میں میرا کو ن رہ گیا ہے۔ ویرونیکا تو مجھے کچھ بھیجنے سے رہی۔ یہ پارسل اسی نے تمہیں بھیجا ہے۔ اچھا میں چلتا ہوں۔ ذرا اپنے بھانجے کو رخصت کردوں۔ وہ ہی یہ لے کر آیا ہے گوا سے
اچھا گاڈ بی ود یو۔ گڈ نائیٹ
گڈ نائیٹ ۔ میں کل تم سے پوچھوں گا کہ ریڈ بکس میں کیا ہے۔ ؟
او کے ۔۔ ضرور ۔ بائی۔ !
بائی
اور اگلے دن جب گونز یلس نے سانچو کے دروازے پیٹنے پر بھی اسے نہ کھولا
****