سرایئکی تہذیب کا وارث
سید حسن رضا گردیزی ) مرحوم (
پروفیسر محمود الحسن قریشی


میرامن دلی والے نے اپنی کتاب ’’باغ وبہار‘‘ کے آغاز میں ایک جگہ لکھا ہے :
’’
اور جو شخص سب آفتیں سہہ کر دِلّی کاروڑا ہوکر رہا، اوردس پانچ پشتیں اسی شہر میں گزریں اوراس نے دربار امراؤں کے، اورمیلے ٹھیلے، عرس چھڑیاں، سیر تماشے اورکوچہ گردی اس شہر کی مدت تلک کی ہوگی، اوروہاں سے نکلنے کے بعد اپنی زبان کولحاظ میں رکھا ہوگا ،اس کابولنا البتہ ٹھیک ہے۔ ‘‘
دِلّی کے داستان گو کا اگرچہ یہ دعویٰ مان لیا جائے پھر ملتان کے داستان گو سید حسن رضا گردیزی کو ملتان شہر اوروسیب کی تہذیب کا وارث ہونے میں کوئی امر مانع نہیں ہوتا۔ ان کاگھرانہ بھی کئی پشتوں سے ملتان میں آباد ہے اورسید صاحب نے بھی اس شہر میں اورمضافات میں ہونے والے نہ صرف میلے ٹھیلے، سیر تماشے، عرس چھڑیوں میں شرکت کی بلکہ یہاں کڑیاں کبات، بھنگ کے دوروں اورطوائفوں کے ناچ گانوں سے بھی لطف اندوز ہوتے رہے۔وہ فارسی، اردو اورسرائیکی شاعری کا اعلیٰ ذوق رکھتے تھے۔انھوں نے ملتان میں بھرپور مجلسی زندگی گزاری۔ وہ ہر محفل میں اپنی باغ وبہار طبیعت، خوبصورت اشعار، ہجویات اورادبی چٹکلوں کی وجہ سے چھا جاتے تھے۔وہ نہ صرف اپنے خانوادے بلکہ سرائیکی وسیب کے علمی اورادبی ورثے کے سب سے نمایاں نمائندے تھے۔اسی لیے علامہ الیاس عشقی نے انھیں سرائیکی تہذیب کابہترین نمونہ قراردیا۔ملتان میں دھابے دھوڑے اور ڈکے تڈے کھاتا ہوا یہ شخص نہ صرف اس وسیب کے ظاہری مناظر کونظموں میں پینٹ کرتا ہے بلکہ تاریخ کے پاتال میں جھانک کر ان کے باطن کو بھی پیش کرتا ہے۔قلعہ کہنہ کی سیر کرتے ہوئے دیکھتا ہے :
اوہ مندر موجود کھڑن ایں قلعے تے ہن توڑیں
انہاں کھنڈراں دے وچ گولوناچ کریندیاں چھوہریں
اتھاں حضرت خسرو والے ساز ستار کوں گولو
اتھاں خان مظفر غازی دی تلوار کوں گولو
مسلماناں دی تہذیب نے دم توڑے ایں جا تے
مولراج نے ساون مَل دے گولو وہیاں کھاتے
جوکجھ کل ہا اَج کے نئی جو اَج ہے کل تائیں ڈھسی
نام خدا دا باقی رہسی بئی کئی چیز نہ رہسی
قلعہ پر غوث بہاء الحق کا مزار دیکھتے ہیں توا ن کا پیغام ہم تک یوں پہنچاتے ہیں :
اکھیں کھولو ہوش اچ آؤ
ڈکھیاں بندیاں دے کم آؤ
قدرت نیتاں دے پھل ڈیسی
ول نہ تہاکوں موت مریسی
جیویں موت تے ڈاڈھا تھیا
غوث بہاء الحق زکریا
صرف شہر تک ہی کیا موقوف دیہات کے مناظر اس خوبصورتی سے دکھاتے ہیں کہ شاید ہی کسی سرائیکی شاعر میں ایسے نمونے ملتے ہوں اور وہ اپنے محسوسات کواس طرح پیش کرسکاہو۔ اس بند کو صرف وہی صحیح طور پر سمجھ اور محسوس کرسکتا ہے جس نے راتیں زمین کے بیٹ سے ملحق کھیتوں میں گزاری ہوں :
پار جنہاں دے کچے بیٹ اچ
فجریں کال کڑچھی بولے
روح دا چین نظر دی ٹھاڈل
نتری صاف ہوا دے جھولے
سجھ دیاں کرناں بدلے دے وچ
رنگ برنگی بانڑے کھولے
پانڑی دی پھاٹاں نے پائے
رتے ساوے پیلے چولے
آخر میں اس کچے بیٹ میں زندگی کی کشتی پریم نگر کے پتن کو تلاش کرتی ہوئی نظر آتی ہے :
کتنی صدیاں توں اے بیڑی
لوک اتھوں دے آہدن بھولے
پچھلی رات کو ظاہر تھیوے
دور انہاں کھجیاں دے اولے
آہدن پریت کوں موت نی آندی
موت دے بعد وی ہوندن رولے
میں نے سید حسن رضا گردیزی کوستر کی دہائی میں دیکھا۔یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں گورنمنٹ کالج میں درجہ اوّل کاطالب علم تھا اورہمیں اردو پروفیسراسلم شیخ مرحوم پڑھایا کرتے تھے ۔ انھوں نے ایک ادبی انجمن کی بنیاد ڈالی جس کانام’’ انجمن تہذیب و ادب‘‘ تھا۔ اس کا اجلاس گورنمنٹ علمدار حسین اسلامیہ کالج میں ہوا کرتا تھا۔قیاس یہی ہے کہ یہ ملتان کے ادیبوں کی اکادمی کے مقابلے میں بنائی گئی تھی۔اس انجمن کے اجلاسوں میں ملتان کے مشہور دانشور، شاعر اورادیب شرکت کیاکرتے تھے۔چونکہ استادِ محترم کے حکم کے مطابق ہماری شرکت لازمی تھی، اس لیے وہاں آنے والے کچھ ادیبوں کے نام میرے ذہن میں ہیں۔ مثلاً: ڈاکٹر زبیدہ صدیقی صاحبہ،رفیق خاور جسکانی ،مقبول تنویر ،حسن رضاگردیزی ، رشید قیصرانی اورانورجمال۔ ان کے علاوہ نئے لکھنے والے بھی ہوتے جن کی تعدادبہت کم ہوتی تھی۔اسی انجمن کے ایک اجلاس میں بھرپور فرمائش پر انھوں نے اپنی نظم ’’چٹے بدل‘‘ سنائی۔ جب وہ نظم سنا رہے تھے تو سامعین پرایک سکتہ طاری تھا جیسے ہی انھوں نے نظم کے اختتام پر یہ مصرعے پڑھے :
ہر جا حصے اسدی وسو کہیں مظلوم داحق نہ کھسو
اپنے طور طریقے بدلو چٹے بدلو چٹے بدلو
تو سامعین نے واہ واہ اور داد وتحسین کے ڈونگرے برساناشروع کردیے۔ جب وہ اپنے مخصوص نرم، شیریں اورلطیف سرائیکی لہجہ میں شعر سناتے تولوگ سحر زدہ ہوجایاکرتے تھے۔ ایک دفعہ انھوں نے ٹی وی پہ ’’تھل دیاں کھجیاں‘‘ کے یہ مصرعے سنائے تو لوگ جھوم جھوم گئے :
ناں پانی دیاں تانگاں رکھن
ناں قدماں وچ گوڈی منگن
لوک انہاندے میوے کھاون
ایہہ کہیں دا احسان نہ چاون
باد شہزادیاں رجیاں کجیاں تھل دیاں کھجیاں
شوخی اوربذلہ سنجی میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ ملتان کے بزرگ اوران کے دوست ان کے کئی دلچسپ واقعات سناتے ہیں۔مثلاً: جب یہ تحصیلدار تھے توملتان کے ایک معروف کمشنرنے ان کوجھاڑا کہ لوگ کہتے ہیں تم تھرڈ کلاس لوگوں کے ساتھ پھرتے ہو اورہمیشہ دیر سے آتے ہو۔انھوں نے فوراً اپنے مخصوص انداز میں ہاتھ باندھے اورکہنے لگے :
’’
حضور! جان کی امان پاؤں تو عرض کروں ۔ لوگوں کی باتوں پرنہ جائیے۔ یہ ایسے ناہنجاز ہیں کہ آپ ایسے نجیب الطرفین سے بھی قومِ لوط کی عادتِ معکوسہ منسوب کرتے ہیں۔ ‘‘
اس نے اس جملے کو نظر انداز کرتے ہوئے انھیں کمرے سے نکالا اورساتھ ہی تحصیلدار سے نائب تحصیلدار ریٹائر کردیا ۔
دروغ برگردن راوی کہ شاہ صاحب ایک دفعہ مجید امجد کو گھیر کر کوٹھے پر گانا سنانے لے گئے۔ گانا شروع ہواہی تھا کہ پولیس کاچھاپہ پڑگیا۔ شاہ صاحب فورااُٹھے اور ساتھ بیٹھے طبلچی کوپاؤں مارا۔ وہ دورجاگرا، خود اس کارومال سر پررکھ کر طبلہ بجانے بیٹھ گئے۔پولیس والے مجید امجد کوپکڑ کر لے گئے۔یہ وہاں سے بچ نکلنے کے بعدتھانے پہنچے اورمجید امجد کو چھڑوالائے۔اب وہ ان کے ساتھ منہ بسورے بیٹھے ہوں۔ انھوں نے سمجھایا کہ اگر ہم دونوں پکڑے جاتے تو ہمیں کون چھڑواتا۔
ہجو، اردو اورسرائیکی کی ایسی صنف ہے جس میں سودا سے لے کر ظفر علی خاں اورحسن رضا گردیزی سے لے کر حیدرگردیزی تک کئی شعرا نے طبع آزمائی کی ہے ۔ہجویات کو ضابطہ تحریر میں لانا بہت مشکل ہے ۔ تاہم اگر ظفر علی خاں کی ہجویات، علامہ اقبال اورگاندھی کے متعلق تحریری شکل میں ہیں توسیدحسن رضا گردیزی نے ملک خدابخش بُچہ کی لکھ دی توکون سا جرم کرلیا۔واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ شاہ صاحب ملک خدابخش بُچہ (وزیر زراعت ) سے ملنے گئے اوراپنے نام کے ساتھ نائب تحصیلدار بھی لکھ دیا۔اُس نے حکم دیا کہ انھیں بٹھادیاجائے۔تقریباً چاربجے سہ پہر بلایااورپوچھا کہ محکمانہ اجازت ہے۔ انھوں نے کہا :وہ تو نہیں ہے۔ کہا:جاؤپہلے محکمانہ اجازت لو اورپھر ملاقات کے لیے آؤ۔ انھیں بہت غصہ آیا اورپھر بُچہ ان کی بحر میں آگیا۔ فرماتے ہیں :
یہ جو بُچہ ہے خدابخش زراعت کا وزیر
پیکرِ حیلہ و فن کذب و ریا کی تصویر
(
مصرعۂ ثانی کاترجمہ بامحاورہ سرائیکی میں بھی کرتے تھے )
نہ پڑی آج تلک اس پہ کبھی ضربِ کلیم
عہدِ موسیٰ میں بھی یہ سامری برسرِ توقیر
حضرتِ قائد سے لڑانے کے لیے
یہی کمبخت تھا بدبخت ٹوانے کا مشیر
ان کاایک دوست راوی ہے کہ رنگ پورکھیڑے سے ایک ذاکر سکندر خان نامی آیاکرتاتھا ۔ اس کے بڑے بڑے بال تھے۔ منہ میں پان رکھتا، بالوں کوہلاتا، سُر اورلَے سے مجلس پڑھتا ۔ شاہ صاحب کواس کی نیت پہ کچھ شک گزرا اورتوکچھ کرنہ سکے ۔ اس کوبھی ’’نذرانۂ عقیدت‘‘ پیش کر دیا :
ایک دفعہ اُستادِ محترم ڈاکٹر انواراحمد نے آرٹس کونسل میں ملتان کے ان تین بزرگوں کے ساتھ شام منانے کے لیے تقریب منعقد کی۔ یہ تین مہر عبدالحق،علامہ عتیق فکری اورسیدحسن رضا گردیزی تھے۔اس موقع پرڈاکٹر شمیم حیدرترمذی نے ایک مختصر مضمون ’’ملتان ثلاثی‘‘ کے نام سے پڑھا۔سید حسن رضاگردیزی نے ثلاثی کے باقی دومصرعوں پرخوب طبع آزمائی کی جوزبان زد عام ہے۔ڈاکٹر مہر عبدالحق کانام ملتان کے ادبی حلقوں میں نہایت احترام سے لیاجاتاہے۔انھوں نے بے پناہ تحقیقی اورتنقیدی کام کیالیکن وہ شاہ صاحب کے ہم عصر اورہم مرتبہ بھی تھے۔ اس لیے شاہ صاحب کی ان سے معاصرانہ چشمک کا سلسلہ جاری رہتا۔
شاہ صاحب نے اپنے ہم عصر ادیبوں کواپنے انداز میں خراج تحسین ضرورپیش کیا ہے۔ بقول ڈاکٹر اسلم انصاری :’’بچاکوئی نہیں۔‘‘ اگر کوئی یہ کہے کہ وہ شاہ صاحب کی فصیح البیانی سے بچ گیا ہے تویہ اس کی خام خیالی ہے۔
اس حوالے سے ہم منٹو سے متفق ہیں کہ سید حسن رضاگردیزی کے کردار کومذہب کی لانڈری میں نہیں بھیج سکتے جہاں سے یہ دھل دھلا کے نکلے اوراوپر’’ رحمتہ اللہ علیہ‘‘ کی چٹ لگی ہو۔انھوں نے ہر لحاظ سے اپنی بھر پور زندگی گزاری۔ انھوں نے سرائیکی وسیب میں سسکتی ہوئی انسانیت کوجاگیرداری کے خونیں پنجوں سے نجات دلانے کے لیے شاعری کو وسیلہ بنایا۔انھوں نے اپنے افسانوں میںآدم کی ارزانی کی شکایت بھی کی اورسرائیکی وسیب کے باطن میں جھانکنے کی کوشش بھی کی ہے۔
جب سید ولایت حسین گردیزی نگران حکومت میں وزیر بنائے گئے توشاہ صاحب نے حیرت کایوں اظہار کیا :
بھنگ دے ٹانڈے چھتیر تھی گئے
ولایت سائیں وی وزیر تھی گئے
ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ’’چٹے بدل‘‘،’’ میاں مٹھو ‘‘، ’’نوکردابچہ ‘‘ اور’’اے انسان‘‘ جیسی نظمیں لکھنے والاشاعر مذہب سے دور ہے بلکہ وہ انسانیت کی فلاح مذہب ہی میں تلاش کرتا ہے ۔وہ مذہب نہیں جوانسانیت کوٹکڑے ٹکڑے کرے بلکہ اسے قومی وحدت کاذمہ دار ہوناچاہیے :
پاکستان وجود اچ آیا رب نے آس پجائی
لیکن ہنٹر ایں بدنظمی کوں ڈیکھ کہ دل بیزار اے
اتنے جلدی مسلماناں قول قرار وسارے
قوم دی وحدت تے پٹی تھیندی ہرپاسوں یلغارے
مذہب تے بنیاد رکھوں تاں تھیسی بیڑا پارے
سید حسن رضاگردیزی پہلے شاعر تھے اورپھر سب کچھ انھوں نے سرائیکی شاعری کو جدید رجحانات سے متعارف کرایا۔ وہ شاعری میں آورد سے زیادہ آمد کے قائل تھے۔ بلکہ انھوں نے اپنے اشعار کوخونِ جگر سے سینچا ہے۔وہ قافیوں کی فہرست بناکرشاعری کرنے والے شاعرنہیں تھے۔بلکہ ان کی شاعری کا بڑاوصف ہی اوریجنیلٹی ہے۔شعر کے متعلق ان کا نظریہ ہے :
شعر نہ تحقیقاں دا حاصل، شعر نہ علم کوں گولے
شعرتنڑاواں روح دیاں چھکے، شعر کتاب نہ پھولے
شعرآسماناں توں گھنگھرو بدھ کے ناچ کریندا آوے
شعر اپنٹرے خالق دے سرتے بجلی تھی کے ڈھاوے
شعر انسان کو رقت ڈیوے دشمن دا غم کھاوے
شعر دا خالق ایں دنیا تے پاگل تھی کے رہوے
بلدی بھا دیاں لمبیاں کولوں جان چھڑاون سکھو
دل کوں کہیں بئے پاسے لاؤ،اصلوں شعرنہ سکھو
اس لیے میرے خیال میں اردوشاعری میں علامہ اقبال کے بعد جومقام مجیدامجد کا بنتا ہے وہی مقام سرائیکی شاعری میں خواجہ غلام فرید سائیں کے بعد سید حسن رضا گردیزی کا ہے۔
آخری بار میں نے ان کوبزمِ ثقافت کی تقریب میں دیکھا جوسرسید کی یادمیں منائی جارہی تھی۔سندبادہوٹل میں ہونے والی اس تقریب میں جب عمر کمال خاں نے ان کا نام پکارا تویہ خفا ہوگئے کہ اگر آپ نے مجھ سے تقریر کروانی تھی توپہلے اطلاع کیوں نہیں دی اور اصرار کے باوجود تقریر نہ کی۔ اگرچہ شاہ صاحب سے ہماری ملاقاتیں نہ ہونے کے برابرہیں مگر ان کی باتوں اوراشعار سے دوست ہمیشہ محفل کوکشتِ زعفران بناتے رہے :
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی
****