بلوچستان میں اردو کے فروغ کی سیاسی و سماجی وجوہات
ڈاکٹرآغاناصر 


Abstarct
Balochistan's ancient history culture and literary tradition is yet to be organized and arranged. In this paper the researcher has traced the historical and literary evidences which give insight to the linguists and historians of literary heritage from first century of Islamic calendar to present day giving a vivid picture of literary tradition with particular reference of Urdu in Balochistan.

دکن ، پنجاب ، دہلی اور لکھنؤ سے منسوب اردو زبان کا برصغیر پاک وہند کے دیگر علاقوں سے کیار شتہ ہے اور اس زبان نے ایک قلیل مدت میں ہر مقام پر کیسے تخلیقی سطح پر قریباً قریباً ایک ہی عرصے میں رسائی حاصل کی اور یہ عمل ایک اجتماعی ارادے کی سی کیفیت کے ساتھ مختلف مقامات پر کس طرح یکساں اثرات مرتب کرتی چلی گئی، ایسے سوالات ہیں جن کا جواب دیے بغیر ہم کسی بھی علاقے میں اُردو کے فروغ کے حقیقی اسباب وعوامل کا جائزہ نہیں لے سکتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اُردو زبان کے حوالے سے مختلف نظریات اور مفروضات کو دیکھنے اور غور کرنے کے بعد بھی ایک تشنگی قائم رہتی ہے کیونکہ اُردو زبان کے ارتقائی مدارج کو نظریاتی ڈھانچہ دینے والے بیشتر مؤرخین ، ادبی نقادوں اور محققین نے اُردو کوکسی خاص علاقے ، مقام یا لسانی گروہ سے وابستہ کرنے کی شعوری یا لاشعوری کوشش کی ہے۔
زبان کی ضرورت بنیادی انسانی احتیاجات اور ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ابتدائی اظہار یا رابطے کا نام ہے اور اس کے لیے ابتدائی طور پر کم ازکم دو افراد کا ہونا ضروری ہے ۔ بلکہ اگر زبان کو انسانی زندگی کی بقا کے لیے اس کی جدوجہد سے تعبیر کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اس ابتدائی اور بنیادی ضرورت کو تخلیقی سطح پر پہنچنے اور اپنی خود کلامیوں میں دوسروں کو شریک کرنے کا مرحلہ بہت بعد میں آتاہے۔ اس سفر میں نہ زبان کہیں رکتی ہے اور نہ اس کے بولنے والوں کو کسی ایک مقام پر رہنے کا پابند کیا جاسکتا ہے۔البتہ کسی ایک خاص گروہ یا مقام پر کسی زبان کے اثرات اور فروغ کا جائزہ ان اندرونی اور بیرونی سیاسی، ثقافتی اور سماجی حالات وواقعات سے کسی حد تک ضرور لگایا جاسکتا ہے جن کی وجہ سے اس زبان نے وہاں بنیادی رابطے کے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ تخلیقی اور علمی سطح پر بھی پذیرائی حاصل کی ہو۔ اس حوالے سے اگر اُردو کی تشکیل یا بننے کے عمل کو مختلف لسانی اور ثقافتی گروہوں کے درمیان اشتراک عمل یااپنی بقا کے لیے جدوجہد کا نتیجہ قرار دیا جائے اور بدلتے ہوئے حالات، واقعات کے ساتھ مسلسل مطابقت (Accommodation) پیدا کرنے کی کوشش کہا جائے یا عمرانیاتی اصطلاح میں اسے انجذاب اور ثقافت پذیری (Acculturation) کا عمل قرار دیا جائے جس کی بنیاد پر اُردو کی تشکیل کے متعلق بہت سے نظریات اور مفروضات نے جنم لیا تو بلوچستان میں ان ہی تاریخی حقائق نے سماجی وسیاسی اثرات کے تحت اردو کو جنم دیا ہوگا جن کی بنیاد پر برصغیر کے دیگر علاقوں میں اردو کی تشکیل کے بارے میں نظریہ سازی ہوئی ہے۔
اردو زبان کو عرب، ایرانی، ترکی ، افغانی اورہندی لشکریوں اور تاجروں کے میل ملاپ کا نتیجہ قرار دینے والوں میں مولانا محمد حسین آزاد، مولانا سید سلیمان ندوی ، پروفیسر حافظ محمود شیرانی ، ڈاکٹر شوکت سبزواری ، ڈاکٹر جمیل جالبی اور نصیر الدین ہاشمی شامل ہیں۔ ان تمام محققین نے مختلف علاقوں کو اردو کا مولد قراردینے کے لیے ایک ہی استدلال سے کام لیا ہے اور اسی حوالے سے بلوچستان میں اُردو زبان کے فروغ کا جائزہ لیا جائے تو یہ تاریخی حقیقت سامنے آتی ہے کہ اگر اردو زبان عربوں ، ترکوں ، اہل فارس اور سندھ وہند کے مختلف زبانوں کے اشتراک عمل کا نتیجہ ہے تو اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے اردو زبان کی انتہائی ابتدائی شکل بلو چستان کے ساحلی علاقوں میں بنی ہوگی اور سندھ وپنجاب کے مختلف علاقوں میں ضرورت کے مطابق پھرنے اور پروان چڑھنے کے بعد اپنے دور کے سب سے بڑے سیاسی، سماجی اور علمی وادبی مرکز دہلی پہنچی ہوگی جہاں دربار تک رسائی حاصل کرنے کے بعد سرکاری ، عدالتی ، تعلیمی حتیٰ کہ علمی وادبی سطح پر برصغیر پاک وہند میں فارسی کی جانشین بن گئی۔
بلوچستان میں اردو زبان کے فروغ کا جائزہ اگر اس مفروضے یانظریے کی بنیاد پر کیا جائے کہ یہ مختلف اقوام اور علاقوں کے لوگوں کے میل ملاپ کی وجہ سے بنی تو بلوچستان کے مخصوص جغرافیائی اور تاریخی پس منظر میں یہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے کہ بلوچستان کی سرزمین زمانہ قدیم سے ہی مختلف تجارتی اور عسکری گروہوں کی گزرگاہ رہی اور سکندر اعظم سے عرب ملاحوں تک سب اس کے ساحلی علاقوں اور پہاڑی دروں کو صدیوں سے گزر گاہ کے طور پر استعمال میں لاتے رہے۔ جنوب مغرب اور شمال مغرب سے حملہ آوروں اور فاتحین کی حیثیت سے ۲۳ ہجری بمطابق ۶۴۳ء ۔۶۴۴ء تک پانچ اقوام نے بلوچستان ، سندھ ، ملتان ، پنجاب اور ہندوستان کے طول وعرض پر تقریباً بارہ صدیوں تک حکمرانی کی۔ ان میں عرب ،ا یرانی ، ترک ، افغان اور بلوچ شامل تھے۔ یہ پانچوں قومیں اپنی اپنی زبانوں کی مالک تھیں اور عربی ، فارسی ، ترکی ، پشتو اور بلوچی بولتی تھیں، جو قدیم زبانیں تھیں۔ عربی اپنی قدامت کے حوالے سے مشرق وسطیٰ کی زبانوں کی بنیاد تھی اور قرآن مجید اور حضور اکرم ﷺ کی زبان ہونے کی وجہ سے بہت تیزی سے ترقی کی طرف مائل تھی۔ فارسی نہ صرف ایران بلکہ خراسان (شمال مشرقی ایران اور مغربی افغانستان) کے علاوہ مزید شمال میں وسط ایشیا تک پیوست تھی بلکہ قبول اسلام کے بعد عربی سے بھرپور استفادہ کرنے کے بعدمزید نکھر رہی تھی۔ ترکی ایک طرف اپنے شمال مشرق کی منگولی زبان سے رشتے میں منسلک تھی تو دوسری طرف عربی وفارسی سے بھی استفادہ کر رہی تھی۔ پشتو اور بلوچی مشرقی ایرانی زبانوں سے تعلق رکھتی تھیں اور قدیم فارسی کی ہم اصل تھیں اور وہ بھی عربی اور عربی نژاد فارسی سے فیضیاب ہورہی تھیں۔
چونکہ پہلے پہل عرب بلوچستان میں آئے تھے اور انھوں نے مکران پرقبضہ کرنے کے بعد سندھ پر قبضہ کیا تھا اور پھر ایک قلیل عرصے میں عربوں نے قلات ، خضدار اور کچھی تک کا علاقہ اپنی مملکت میں شامل کرلیا تھا۔ اس لیے یہی قرین قیاس ہے کہ اس زمانے میں عربی ، فارسی ، سنسکرت ، جدگالی (جٹکی) سندھی ، کردی ، بلوچی اور پشتو کے امتزاج سے جو زبان رابطے کے طور پر وجود میں آئی ہوگی وہ اُردو کی ابتدائی شکل ہوگی یعنی آپ اسے پہلی صدی ہجری کے اوائل میں عربوں کی ایران پر فتح اور بلوچستان وسندھ میں آنے کے نتیجے میں اردو زبان کے ابتدائی یا ارتقائی آغاز سے منسلک کریں یا سلاطین اور مغلوں کی ابتدائی لشکر کشیوں کے حوالے سے جائزہ لیں۔ جب ہندوستان پر مختلف مسلمان قومیں اپنی حکومتیں قائم کر رہی تھیں اور بلوچستان کے اکراد براخوئی اور بلوچ اس سرزمین پر آباد ہورہے تھے اور ہندوستان کی طرف ان کی ہجرت شروع ہوچکی تھی یا اٹھارویں صدی عیسوی کے وسط کے ان سیاسی حالات وواقعات سے اس کا تعلق جوڑیں جب نادر شاہ نے کرمان وسیستان سے مکران وقندہار تک کا سارا علاقہ فتح کرنے کے بعد پنجاب اور سلطنت مغلیہ کے دارالخلافہ دہلی پر قبضہ کرنے کے بعد سندھ اور پورے افغانستان پر قبضہ کیا یا اسے قدیم تجارتی کاروانوں اور پاوندوں کی سالانہ آمد ورفت کا نتیجہ قرار دیا جو صدیوں سے جاری تھی یا ساحلی علاقوں میں عرب اور دیگر اقوام کی آمدورفت سے منسلک کریں ،یہ تاریخی حقیقت ہر صورت میں واضح ہے کہ اہل بلوچستان ان تمام ادوار میں ان سیاسی وسماجی اعمال میں نہ صرف شریک رہے بلکہ سب سے زیادہ متاثر بھی ہوئے ۔
یہ ایک متفق الیہ تاریخی حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے ۲۳ ہجری (۶۴۳ء۔۶۴۴) میں خلیفہ ثانی حضرت عمرؓ کے زمانے میں حضرت حکم بن العاص کی سرکردگی میں مکران کو فتح کر کے اسلامی سلطنت کا حصہ بنایا (ا) چونکہ اس زمانے میں مکران پر سندھ کے ہندو حکمرانوں کا قبضہ تھا اس لیے سندھ کو اُردو کا مولد قرار دینے والے بیشتر محققین کا یہ دعویٰ کسی حد تک درست قرار دیا جاسکتا ہے لیکن اپنی موجودہ جغرافیائی اور سیاسی شناخت کے حوالے سے مکران بلوچستان کا حصہ ہے اور حضرت عثمانؓ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دور تک مکران کے علاوہ بلوچستان کے بیشتر علاقے اسلامی سلطنت کا حصہ بن چکے تھے جن میں قصدار (خضدار )، قیقانان(قلات، طوران ( جھالاوان) ، قندابیل (کچھی ) شامل تھے (۲)۔ اموی دور میں بھی اسلامی سپاہ بلوچستان اور سندھ کے مختلف مقامات پرحکمرانی کرتے رہے اور ولید بن عبدالمالک (۸۶ ھ ۔ ۹۶ھ) کے دور تک سندھ اور بلو چستان میں ایک مضبوط اسلامی حکومت قائم ہوچکی تھی اور محمد بن ہارون بن ذراغ نمیری والئی مکران تھے۔ صاحب تحفتہ الکرام نے آپ کو بلوچوں اور جتوں کا جد امجد اور مورث اعلیٰ قرار دیا ہے اور جلال خان کو آپ کا بیٹا لکھا ہے جسے بلوچی نسب نامہ میں بلوچوں کا عظیم سردار مانا جاتا ہے۔ ۹۲ ھ بمطابق ۷۱۰ ء میں شیراز اور کرمان کے راستے جب محمد بن قاسم مکران پہنچے تو محمد بن ہارون سے ان کی ملاقات ہوئی اور کچھ مدت کے بعد دونوں نے فزبور ، قنز بور ، پنجبوریا پنجگورکو فتح کرنے کے بعد ارمابیلہ یا ارما بیل (لس بیلہ ) کو فتح کیا۔ ارمابیل کی تسخیر کے بعد دیبل کا راستہ صاف ہوگیا۔ علالت کے باوجود محمد بن ہارون نے محمد بن قاسم کا ساتھ چھوڑ نا گوارانہ کیا اور ارمابیل میں وفات پائی۔ (۳ )
دیبل کی فتح کے بعد محمد بن قاسم کی فتوحات کا سلسلہ جاری رہا اور صرف چار سال میں اس کی فتوحات کا دائرہ شمال میں کشمیر کی سرحد ، جنوب میں بحیرہ عرب، مغرب میں بلوچستان (مکران) اور مشرق میں دریائے راوی تک پھیل گیا۔(۴ )
۶۴۳ء سے ۹۷۶ء تک تقریباً ساڑھے تین صدیوں تک بلوچستان پر عربوں کی حکومت قائم رہی اور عربوں کی یہ حکومت عراق سے کم از کم ملتان تک تھی اور اس کی سرحدیں کشمیر تک پھیلی ہوئی تھیں۔ گزیٹےئر آف سندھ کے مطابق ’’ محمد بن قاسم کی موت کے بعد نو مفتوحہ صوبے میں حالات بگڑ گئے اور سندھ کے اکثر رؤسا اور باجگزار شہزادوں نے بغاوت کردی حتیٰ کہ اس کے خلاف عراق سے فوج بھیجنا پڑی۔ ۷۱۱ء سے ۷۵۰ء کے دوران سندھ بنوامیہ کے قبضے میں رہا جس کے بعد عباسیوں کے ماتحت چلا گیا ۔ بنو عباس کے سینتیس(۳۷) خلفاء میں سے پہلے اکیس نے سندھ پر حکمرانی کی جس کے بعد سندھ دوسرے حکمرانوں کے قبضے میں چلا گیا۔ (۵ )
سندھ کے عرب والیوں نے اپنے ہمسایوں کے ساتھ اکثر وبیشتر اچھے تعلقات رکھے۔ راجھستان کی ریاستیں ، صحرائے تھر کی وجہ سے محفوظ رہیں اور ملتان کے مسلمان حکمرانوں نے بالائی پنجاب کو فتح کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ ریاست منصورہ سمندر سے الور تک تھی اور الور سے ملتان کی عملداری شروع ہوتی تھی ۔ اس میں کشت وکشار خوب تھی اور اشجار اور کھیت بہت تھے۔ سندھیوں کا لباس عراقیوں کی طرح تھا۔ سندھ کے عرب حکمرانوں کا مالیہ بہت کم تھا اور اس سے وہ اپنے وقار کا بھرم رکھ سکتے تھے۔ اندرونی نظم ونسق مقامی لوگوں کے سپرد تھا اور عرب سپاہیوں کو فوجی خدمات کے طور پر جاگیریں عطا کی جاتی تھیں لیکن انھیں اپنے پیشے کے علاوہ زراعت یا کسی دوسرے پیشے کی اجازت نہیں تھی۔ عرب حکمران کاروانوں کے ذریعے خراسان ، قندہار اور غزنی کے راستے سے زابلستان اور سجستان سے تجارتی تعلقات قائم رکھتے تھے ۔ بندرگاہوں سے بھی تجارتی آمدورفت قائم تھی کیونکہ ترکستان وخراسان بھیجا جانے والا زیادہ تر سامان چین ، لنکا اور مالا بار کی طرف سے آتا۔ عرب سے اکثر گھوڑے بھی سندھ درآمد کیے جاتے ۔ (۶ )
عربوں کے دور حکومت میں سپاہیوں کی آمد ورفت اور بڑے پیمانے پر تجارتی سرگرمیوں کے علاوہ نہ صرف باہمی ازدواج کی مثالیں ملتی ہیں بلکہ صحابہ کرام اور علماء وصوفیاء کی ایک بڑی تعداد بھی بلوچستان میں آباد ہوئی۔ جنھوں نے اسلامی تعلیمات، علم الحدیث کے علاوہ ادبیات کے فروغ میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ رابعہ بنت کعب قزداریہ (رابعہ خضداری) ، ابوداؤد سیبویہ قصداری مکی (سیبوی ، خضداری ) جعفر بن الخطاب قصداری ، ابراہیم بن مقسم قیقانی (قلاتی) ، ابوالبشر اسماعیل بن ابراہیم قیقانی بصری، ربعی بن ابراہیم بن مقسم قیقانی ، ابواسحق بن اسمٰعیل بن ابراہیم قیقانی کے علاوہ تابعین اور تبع تابعین کی ایک بڑی تعداد اس عرصے میں بلوچستان کے مختلف مقامات پر رہی۔ ان میں سے بعض یہیں پیدا ہوئے اور بہت سے آج تک اسی سرزمین میں آسودہ خاک ہیں ۔ (۷ )
عربوں کے بعد ۳۸۴ ہجری میں سلطان ناصر الدین سبکتگین غزنوی نے امیر طغان کی مدد کے لیے سیستان سے خضدار کی طرف کوچ کیا اور اس کے حاکم کو گرفتار کیا لیکن بعد میں ایک مخصوص رقم لینے کے بعد اسے مشروط رہائی دی۔ ۴۰۲ ھ ( ۱۰۱۱ء ) میں سلطان محمود غزنوی نے قصدار پر حملہ کیا اور امان طلبی پر ایک مخصوص رقم بطور تاوان لینے کے بعد دوبارہ غزنی کی طرف کوچ کرگیا۔ ۴۷۱ ھ ( ۱۰۷۸ء ) میں غیاث الدین غوری نے طوران کی حکومت کا خاتمہ کردیا۔ عربوں کی حکومت ختم ہوجانے کے بعد کچھ عرصے تک بلوچستان پر سلجوقیوں اور صفاریوں نے بھی حکومتیں قائم کیں۔ (۸) یہی وہ زمانہ تھا جب بلوچ کرمان سے سیستان میں ہوتے ہوئے یا کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد مغربی مکران پہنچے۔ دوسری بار بلوچوں کو مغربی مکران سے مشرقی مکران اور سندھ کی طرف ہجرت کرنا پڑی اور یہ چنگیز خان اور جلال الدین منگبرنی کے حملوں کی وجہ سے ہوئی ہوگی جبکہ بلوچوں کی تیسری اور آخری ہجرت کا زمانہ ہندوستان پر تیمور لنگ کے حملے اور بابر کے حملوں کا دور ہے۔ (۹ )
سندھ پر اس زمانے میں راجپوت سومرہ خاندان کی حکمرانی تھی ۔ جو عرب فاتحین کے بعد اس علاقے پر حکمرانی کر رہے تھے ۔ تذکروں میں اس خاندان کے بادشاہوں کی ایک طویل فہرست ہے جن میں دودا نام کے پانچ بادشاہوں کا ذکر ہے۔ دودا چہارم کے والد کے زمانے میں بلوچوں کی ایک جماعت سندھ میں داخل ہوئی اور وہاں کے مقامی قبائل سوڈھا اور جھریحا(جاٹوں) سے روابط پیدا کیے۔ دودا چہارم کا زمانہ ۶۵۰ ہجری یعنی ۱۲۵۲ء ہے۔ (۱۰ )
۱۲۰۲ء میں شہاب الدین غوری نے ساراوان اور مکران پر قبضہ کرنے کے بعدیہ علاقہ اپنے منظور نظر غلام تاج الدین الدوز کو دے دیا جو گورنر کی حیثیت سے یہاں مقیم رہا۔ ۱۲۶۱ء میں سلطان محمد خان خوارزم نے بلوچستان پر قبضہ کیا۔ اس کی سلطنت پشنگ (پشین ) تک تھی جس کے بعد ۱۲۲۳ء میں منگول بلوچستان میں داخل ہوئے اور چنگیز خان کے بیٹے چغتائی نے مکران اور جھالا وان پر قبضہ کیا۔ ۱۳۸۳ء میں قندہار کے قریت خاندان نے جب امیر تیمور کی اطاعت قبول کرلی تو قندہار اور اس سے ملحقہ علاقے اور بلوچستان سلطنت تیموری کا حصہ بن گئے جو امیر تیمور نے اپنے پوتے پیر محمد کے حوالے کردیے اور یوں قندہار کی حکومت سندھ تک پھیل گئی جس میں لورالائی کا علاقہ بھی شامل تھا۔ تیمور اپنی مہمات کے دوران ایک بار مری علاقہ جات سے بھی گزرا تھا۔ (۱۱ )
۱۴۷۰ء سے ۱۵۳۰ء تک بلوچستان کے مختلف علاقے کوئٹہ ، پشین ، سبی ، لورالائی اور جھالا وان والی ہرات سلطان حسین ارغون کے قبضہ میں رہے جس کے بعد مغلوں نے اس علاقہ پر قبضہ کرلیا۔ ایران کی صفوی حکومت نے بھی ۱۵۵۶ء سے ۱۵۹۵ء تک بلوچستان پر اپنی حکومت قائم کی اور مغلوں اور ایرانیوں کے درمیان یہ سلسلہ نادر شاہ کی آمد تک قائم رہا ۔ (۱۲ )
اس عرصے میں نہ صرف یہ کہ مختلف نسلی اور لسانی گروہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آباد ہوتے رہے بلکہ بلوچستان سے سندھ ، ملتان اور ہندوستان کی طرف ہجرت کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد کا سراغ بھی تاریخ کے صفحات پر مرقوم ومحفوظ ہے۔ ڈاکٹر مہر عبدالحق اپنی کتاب ملتان کے بادشاہ ، نامور گورنر اور حملہ آور میں لکھتے ہیں کہ بابر کے بعد ہمایوں تخت نشین ہوا تو بعض مجبوریوں کے تحت اس نے ملتان اپنے بھائی کامران کے حوالے کردیا اور لنگر خان کو لاہور بلالیا۔ اس کی بڑی عزت افزائی کی اور مستقل رہائش کے لیے ایک بڑی حویلی تیار کرا کر دی اور ملتان کے بدلے لاہور کا ضلع عطا کیا۔ میر چاکر نے کامران پرحملہ کردیا ۔کامران بھاگ گیا اور ایک بلوچ سردار چاکر نے اپنے بیٹے میراں جی کو ملتان کا حاکم بنا دیا۔ جب شیر شاہ سوری کے زمانے میں بادشاہ نے ہیبت خان کو ہڑپہ بھیجا جہاں میر چاکر کے بیٹے میرن سے اس کا مقابلہ ہوا جس میں میرن خان کامیاب ہوا لیکن میر چاکر ڈرگیا کہ ہیبت خان شکست کا بدلہ ضرور لے گا تو اس نے ڈیرہ غازی خان کے بلوچوں سے مدد چاہی لیکن معلوم ہوا کہ وہ شب شیر شاہ کی اطاعت قبول کرچکے ہیں تو میر چاکر بیٹے کا کنبہ لے کر روجھان چلا گیا اور یوں چودہ سالہ بلوچی حکومت ختم ہو گئی ۔ ( ۱۳ )
سید محمد اولاد علی گیلانی اپنی کتاب مرقع مولتان میں لکھتے ہیں کہ قطب الدین لنگاہ کی وفات کے بعد ۱۴۶۹ء میں حسین خان لنگاہ تخت نشیں ہوا۔ اس نے حدود سلطنت کو اور بھی وسعت دی۔ شورکوٹ اور چنیوٹ کو فتح کیا اور یہاں دودائی بلوچوں کو آباد کیا جو مغلوں کے حملوں کی تاب نہ لا کر اس طرف نکل آئے تھے۔ اسی زمانہ میں ملک سہراب داؤدزئی (دودائی ) اپنی قوم وقبیلے سمیت علاقہ کیچ مکران سے ہجرت کر کے سلطان حسین کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلطان حسین نے اس امدادی جمعیت کو غنیمت جان کر ان کی شایان شان آؤ بھگت کی اور کہروڑ ودھنکوٹ کاعلاقہ بطور جاگیران کے سپرد کیا۔ یہ خبر سنتے ہی اس علاقہ کے باقی بلوچ بھی ہجرت کر کے یہاں آگئے۔ (۱۴) ملتان میں بلوچوں کا ذکر باردِ گر ہمایوں کے دور میں ملتا ہے۔ مرقع ملتان کے مطابق ہمایوں کے زوال اور شیر شاہ کے عروج کے زمانے میں بلوچوں نے بھی قدم آگے بڑھایا۔ مزاری بلوچ تلمبہ تک پہنچ گئے اور چاکر رند ضلع منٹگمری میں ست گھر (ست پورہ ) کے مقام پر آباد ہوگیا۔ شیر شاہ نے ہیبت خان نیازی حاکم لاہور کو میر چاکر رند کی سرکوبی کے لیے بھیجا۔ بلوچوں کی روایات کے مطابق ہیبت خان نے میر چاکر رند کے بیٹے کو قتل کر کے اس کی پسلیاں آگ پر بھنوائیں تھیں۔ میر چاکر رند نے جوابی حملہ کر کے ملتان فتح کیا اور پھر ست گھر (ست پورہ ) پہنچا جہاں روایت مشہور ہے کہ ہیبت خان مارا گیا اور اس کی کھوپڑی کا پیالہ بنایا گیا۔ (۱۵ )
ان سیاسی وتاریخی واقعات میں تضادات سے قطع نظریہ حقیقت واضح ہے کہ بلوچ قبائل نہ صرف ملتان اور لاہور میں ایک قوم کی حیثیت سے پہنچ چکے تھے بلکہ دیگر بلوچوں سے ان کا رابطہ بھی قائم تھا۔ دوسری طرف بلوچستان کے قدیم جاٹوں کے علاوہ کئی دوسری قومیں بلوچ قبائل میں ضم ہوتی رہیں۔ کامل القادری نے بلوچستان میں آباد کئی بلوچ قبائل کے غیر بلوچ ہونے کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔ جن میں جٹوں کے علاوہ دودائی (یہ قبیلہ بلاشبہ ہندوستان نژاد ہے) ، گوپانگ ، دشتی ، گادھی اور گھولو (زیردست یا غلام قبیلے) جھکرانی اور لوڑییوں کا ذکربھی ہے جو نسلاً راجپوت اور ڈوم تھے۔ (۱۶ )
یہی زمانہ تھا جب وسطی قلات میں برزکو ہی یا بروہی آباد ہونا شروع ہوئے۔ جن کے بعد میں ریاست قلات کی صورت اختیار کی۔ یہ بلوچستان میں براہوئی اقوام کی آمد کا زمانہ تھا۔ میر نصیر خان احمد زئی براہوئی قبائل کو بلوچ قبائل کاایک حصہ قرار دیتے ہیں اور کرد گال نامک کے حوالوں سے انھیں کرد قرار دیتے ہیں اور انھیں اکراد براخوئی کہتے ہیں (۱۷) جبکہ خان آف قلات میر احمدیار خان بلوچوں اور براہویوں کو حلب اور شام کا قدیم باسی کہتے ہیں ( ۱۸ ) جو فارس کے راستے بلوچستان آکر آباد ہوئے۔ تاریخ بلوچستان کے مصنف گل خان نصیر کے مطابق زمانہ قدیم میں قلات اور قلات کے گردونواح پر سیوانامی ایک قدیم ہندو خاندان کی حکومت تھی جو غالباً دراوڑوں کی زبان بولتے تھے، سوراب ، خضدار اور کرخ وغیرہ میں جاموٹ آباد تھے۔ بلوچوں کا یہ نووارد کہستانی قبیلہ جوبرز کوہی قبیلہ کے نام سے مشہور ہوا رفتہ رفتہ داروڑی زبان کے لفظ سے بگڑ کر بروہی یا براہوئی ہوگیا ۔ آگے چل کر وہ مزید لکھتے ہیں کہ اس زمانہ میں کسی غیر بلوچ سے ازدواجی رشتے میں منسلک ہونے کو معیوب خیال کیا جاتا تھا لیکن اس قبیلے کے افراد کو مجبوراً یہ رسم ترک کرنی پڑی کیونکہ اس قبیلے کی بیشتر عورتیں اور لڑکیاں ایرانی سپاہ کی غارتگریوں کا شکار ہوگئی تھیں۔ ان کی تعداد بہت تھوڑی تھی اور علاقے کے اصل باشندوں سے الگ تھلگ رہنا تقریباً ناممکن تھا اس لیے انھوں نے درواڑوں سے دوستانہ تعلق اور میل جول قائم کر کے ان سے شادیاں کیں اور چند ہی پشتوں میں اپنی بعض دیگر صفات کے علاوہ اپنی مادری زبان کو بھی خیرباد کہا۔ اس طرح دراوڑوں کی زبان سے ملی جلی ایسی زبان بولنے لگے جو بعد میں براہوئی زبان مشہور ہوئی۔ ( ۱۹ )
سولہویں صدی کے آغازمیں وسطی بلوچستان میں قلات اور اس کے گردونواح میں میر قمبر کی نسل میں سرداری کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد رندوں اور جدگالوں کے ساتھ براہویوں کی جنگوں کا بھی آغاز ہوا جو ایک عرصے تک جاری رہا جس کے بعد مغلوں نے اس علاقے پر قبضہ کرلیا حتیٰ کہ ۱۶۶۶ء میں میر احمد خان اوّل نے سرداری سنبھال لی اور ۱۶۹۵ء میں اپنی وفات تک سبی اور درہ بولان کے باروزئیوں سے جنگوں میں مصروف رہا ۔ (۲۰ )
میر احمد کی وفات کے بعد میر محراب خان نے دوسال حکومت کی اورسندھ کے کلہوڑوں سے ایک لڑائی میں زخمی ہونے کے بعد فوت ہوئے جس کے بعد ۱۶۹۷ء میں میر سمندر خان ، خان قلات مقرر ہوئے۔ ۱۶۹۸ء میں ایرانی سپہ سالار طہماسپ بیگ پچیس ہزار کے لشکر کے ساتھ قلات پر حملہ آور ہوا۔ میر سمندر خان نے اسے شکست دی ۔ ان دنوں کلہوڑ ا داد محمد اور نور محمد بھی شہنشاہ اورنگ زیب سے باغی ہوگئے تھے ، میر سمندر خان نے انھیں گرفتار کرکے شہنشاہ اورنگ زیب کے پاس بھجوا دیا جس پر اورنگ زیب نے میر سمندر خان کو امیر الامراء کے خطاب کے ساتھ دو لاکھ روپے بھی دیے اور میر محراب خان کے خوں بہا کے طور پر کراچی کی بندرگاہ بھی ان کے حوالے کردی گئی ۔ ۱۸۱۴ء میں میر سمندر خان کی وفات کے بعد میر محراب خان کے بیٹے میر احمد خان ثانی کو قلات کا خان بنایا گیا اور ۱۷۱۶ء میں ان کی وفات کے بعد میر عبداللہ ۱۷۳۴ء تک قلات کے حکمران رہے۔ (۲۱ )
اٹھارویں صدی عیسوی ہندوستان اور اس سے ملحقہ علاقوں کے لیے انتہائی تغیر وتبدل کی صدی تھی ۔ اسی دور میں نہ صرف سیاسی حالات میں بڑی تبدیلیاں وقوع پذیرہوئیں بلکہ سماجی ، ثقافتی اور معاشی حوالوں سے بھی یہاں اس خطے کے رہنے والوں پر بہت گہرے اور دوررس اثرات مرتب ہوئے۔ جن کی وجہ سے نہ صرف ان علاقوں کی جغرافیائی تاریخ بدل گئی بلکہ نئے لسانی ، معاشی اور سماجی رجحانات کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ بلوچستان اپنے مخصوص جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے ان سیاسی اور سماجی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ سندھ، پنجاب ، ایران اور افغانستان کے درمیان واقع یہ علاقہ نہ صرف بڑے بڑے لشکروں کی گزرگاہ تھا بلکہ ہندوستان اور ایران کی سیاسی تاریخ میں جن انقلابی تبدیلیوں کا آغاز ہوا۔اس نے بلوچستان میں اُردو زبان کے فروغ میں اہم اور دورس نتائج مرتب کیے ۔
۱۷۳۸ء سے ۱۸۳۹ء کے دوران رونما ہونے والے مختلف سیاسی واقعات نے نہ صرف ریاستی اور حکومتی سطح پر بلوچستان کو ایک نئے دور میں داخل کیا بلکہ عوامی سطح پرسماجی ، اقتصادی اور ثقافتی حوالوں سے بھی اہم تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئیں۔ ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں بھی مسلمانوں کی حکومت پر زوال کا آغاز اٹھارویں صدی عیسوی کی ابتداء سے شروع ہوجاتا ہے۔ ۱۷۰۷ء میں مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کی وفات کے بعد ہندوستان میں کئی صدیوں سے قائم مستحکم حکومت انتشار کا شکار ہوئی تو اس کے اثرات صرف سیاسی نہیں رہے بلکہ سیاسی، اقتصادی اور سماجی طور پر مضبوط مغلیہ سلطنت کی بنیادیں ہلنے لگیں تو وہ عظیم تہذبی، ثقافتی اور لسانی سلطنت بھی بکھرنے لگی جس کی بنیاد مسلمان حکمرانوں اور صوفیائے کرام نے رکھی تھی۔ ۱۸ ، فروری ۱۷۰۷ء سے ۴ ، اگست ۱۷۱۹ تک تین بادشاہ ہوئے۔ جس کے بعد محمد شاہ تخت نشیں ہوا جو ۱۷۱۹ء سے ۱۷۴۸ء تک حکمران رہا۔ اس کے زمانے میں نظام الملک آصف جاہ نے امور سلطنت کی اصلاح کی کوشش کی لیکن جب بادشاہ نے یہ گوارانہ کیا تو نظام الملک مایوس ہو کر ۱۷۲۴ء میں دکن چلا گیا جہاں اس نے حکومت آصفیہ کی بنیاد ڈالی۔ اس کے بعد حکومت دہلی کا وقار بتدریج کم ہوتا گیا۔ مرہٹوں کے علاوہ روہیلوں اور جاٹوں نے بغاوتیں کیں۔ (۲۲ )
دوسری طرف ایران میں صفوی حکومت کے خاتمے کے بعد نادر شاہ نے ۸ ، مارچ ۱۷۳۶ء میں اپنی تاجپوشی کی اور بادشاہت کا اعلان کیا اور اپنے توسیع پسندانہ رجحانات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سب سے پہلے ہندوستان کا رخ کیا۔ نادر شاہ روز اول سے قندہار کو ایرانی عملداری میں لانے کا خواہشمند تھا۔ (۲۳) کیونکہ قندہارپر مغلوں اور ایرانیوں کی سرد جنگ ایک طویل عرصے سے جاری تھی۔ مغلوں سے پہلے ۱۴۷۰ء میں بلوچستان پر سلطان حسین والئ ہرات کا قبضہ تھا۔ ۱۴۸۰ء میں اس نے قندہار اور اس سے ملحقہ علاقے شال(کوئٹہ ) ، پشنگ (پشین) ،سیبی (سبی) اور مستونگ وغیرہ پر شجاع الدین ذوالنون بیگ ارغون کو گورنر مقرر کیا۔ شجاع الدین ارغون کی وفات کے بعد یہ علاقے اس کے بیٹے شاہ بیگ ارغون کے قبضے میں آگئے۔ ۱۵۱۱ء میں اس نے اپنا پایہ تخت قندہار سے شال منتقل کیا۔ بعد میں محمد بیگ نے درۂ بولان سے سبی تک تمام علاقے اپنے باپ کی سلطنت میں شامل کیے۔ اس طرح قندہار کی حکومت بلوچستان میں سبی اور لورالائی تک پھیل گئی۔ ۱۵۳۰ء سے ۱۵۴۵ء تک صوبہ قندہار مرزاکامران کے قبضے میں رہا۔ جس کے بعد ۱۵۵۶ء سے ۱۵۹۵ء تک بلوچستان صفوی حکمرانوں کے زیر نگیں رہا۔ ۱۵۴۵ء میں شہنشاہ ہمایوں سبی اور کوئٹہ سے ہوتا ہوا مستونگ پہنچا۔ نومولود اکبر بھی ہمایوں کے ساتھ تھا۔ شہنشاہ اکبر کے زمانے میں شال (کوئٹہ) اور مستونگ وغیرہ صوبہ قندہار کے حصے بتائے گئے ہیں۔ ۱۵۹۵ء میں اکبر نے کچھی اور بالائی بلوچستان پر قبضہ کر کے کچھی کو بھکر سرکار اور بالائی بلوچستان کو قندہار کے ساتھ شامل کیا۔ اسے واپس لے لیا۔ ۱۶۰۵ء تک یہ شہر مغل سلطنت میں شامل رہا۔ ہندوستان اور ایران میں قندہار پر قبضے کی کشمکش نادر شاہ کے دور تک جاری رہی۔ (۲۴ )
اپنی تاجپوشی کے بعد نومبر ۱۷۳۶ء میں نادر شاہ (۲۵) نے کرمان اور سیستان (بلوچستان ) کے راستے قندہار کو پیش قدمی کا فیصلہ کیا اور بلوچستان اور قندہار پر قبضہ کرنے کے بعد کابل کو فتح کرتے ہوئے دہلی کا رخ کیا اور افغانستان اور بلوچستان کے ساتھ ساتھ سندھ کوبھی عملی طور پر مغلوں کے اثر سے آزادکیا اور اس کے قتل کے بعد افغانستان اور بلوچستان کی نئی ریاستیں وجو دمیں آئیں۔ نادر شاہ کے حملہ دہلی کے بعددہلی کے بادشاہ میں اتنی سکت نہیں رہی کہ وہ خود مختار صوبیداروں اور دوسرے دشمنوں کا مقابلہ کرسکے۔ چنانچہ بنگال میں علی ویردی خان ، دکن میں نظام الملک اور اودھ میں برہان الملک سعادت خان عملی طور پر خود مختار ہوگئے ۔ (۲۶ )
۱۹ اور ۲۰ جون ۱۷۴۷ء کی درمیانی شب میں نادر شاہ قتل ہوا تو اس کے افغان سپاہیوں کا کماندار احمد خان ابدالی تھا۔ اس زمانہ میں افغان ، نور محمد خان علی زئی کی ماتحتی میں تھے جو نادر شاہ کا نامزد تھا اور فتح قندہار کے زمانے سے فرمانروائی کرتا چلا آرہا تھا۔ نادر شاہ کے قتل نے پورا منظر بدل دیا اور افغانوں نے ایک تاریخی اجتماع میں احمد خان کو اپنا سربراہ چن لیا اور افغانستان کا سیاسی تعلق ایران سے منقطع کرنے کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا کہ اب مملکت آزاد اور خود مختار ہے اور اپنا ایک بادشاہ رکھتی ہے۔ (۲۷ )
احمد شاہ ابدالی کے اعلان بادشاہت کے وقت بلوچستان کے بالائی علاقے توقندہار کا حصہ تھے لیکن اپنے پیشر ونادر شاہ کی روایت کے مطابق بلوچستان(قلات) اور سندھ کو تابع فرمان بنانے کے بعد کابل پر قبضہ کیا اور جنوری ۱۷۴۸ء میں وہ لاہور پر قبضہ کرچکا تھا۔ (۲۸) دوسری طرف ہندوستان میں محمد شاہ کی وفات ۱۷۴۸ء میں ہوئی۔ جس کے بعد احمد شاہ تخت نشیں ہوا جسے ۱۷۵۴ء میں اندھا کر کے عالمگیر ثانی کو تخت پر بٹھایا گیا۔ (۲۹ )
۱۷۴۹ء میں میر محبت خان کو احمد شاہ نے قندہار میں گرفتار کیا اور میرنصیر خان کو خان قلات مقررکر کے خلعت فاخرہ پہنایا۔ (۳۰) اس وقت سندھ میں کلہوڑوں کی حکومت تھی ۔میاں یار محمد خان کے بیٹے ، میاں نور محمد خان کلہوڑا سندھ کے حکمران تھے۔ نادر نے میاں نور محمد خان کے گلے میں باج گزاری کا طوق ڈالتے وقت انھیں شاہ قلی خان کا خطاب دیا تھا، احمد شاہ نے شاہنواز خان کا خطاب دے کر غالباً فرمان بھیج دیا کہ ادائے خراج میں کوتاہی سرزد نہ ہو۔ (۳۱ )
مغلوں اور صفویوں کے بعد اہل بلوچستان پہلی بار براہ راست افغانستان کی نئی حکومت اور نئے حکمرانوں کے زیر اثر آ گئے ۔ سماجی اور سیاسی لحاظ سے یہ ایک بڑی تبدیلی تھی جس کے لسانی اثرات بھی مرتب ہوئے۔ ہر چند کہ اس زمانے میں سرکاری ودرباری زبان فارسی رہی لیکن چونکہ قندہار اور اس سے ملحقہ علاقوں کی آبادی پشتو بولنے والوں پر مشتمل تھی اور خود احمد شاہ ابدالی پشتو زبان کے ایک بڑے شاعر تھے۔ اس لیے عوامی سطح پر رابطے کے لیے فارسی نہ جاننے والوں نے کسی اور زبان کا سہارا لیا ہوگا۔
۱۷۵۷ء میں پلاسی کا معرکہ ہوا اور بنگال انگریزوں کے قبضے میں چلا گیا ۔ ۱۷۶۱ء میں پانی پت میں مرہٹوں کو شکست دینے کے بعد احمد شاہ ابدالی ہندوستان میں اپنی حکومت قائم کرسکتا تھا لیکن وہ شاہ عالم کی بادشاہت تسلیم کر کے واپس چلا گیا۔ شاہ عالم عنان حکومت سنبھالنے کے قابل نہ تھا۔ اس کے چند سال بعد مشرقی صوبوں کی دیوانی ایسٹ انڈیا کمپنی کو مل گئی اور شمالی ہندوستان پر مرہٹوں کا اقتدار قائم ہوگیا۔ ۱۷۸۸ء میں شاہ عالم کو پھر تخت پر بٹھایا گیا لیکن اس کی حالت مردہ بدست زندہ سے بہترنہ تھی ۔ ۱۸۰۵ء میں لارڈ لیک نے مرہٹوں کو شکست دے کر دہلی پرقبضہ کرلیا اور شاہ عالم کو تخت نشین رہنے دیا۔ شاہ عالم ۱۸۰۶ء تک بادشاہ رہا۔ اس کے بعد ۱۸۳۷ء تک اکبر شاہ ثانی اور ۱۸۵۷ء تک بہادر شاہ تخت دہلی پر مقیم رہے لیکن ان کی حیثیت بھی شاہ شطرنج سے زیادہ نہ تھی۔
اس دوران مشرق کی طرف ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت وسیع ہورہی تھی۔ پنجاب میں احمد شاہ ابدالی کا پوتا شاہ زمان راجہ رنجیت سنگھ کو لاہور کی گدی دے گیا تھا۔ ۱۸۲۰ء کے قریب اس نے کشمیر اور پشاور فتح کرلیے چنانچہ ۱۸۴۹ء تک یہ علاقے سکھوں کے قبضے میں رہے جو بالآخر ۱۸۵۶ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ماتحت چلے گئے۔ سندھ کے امیروں کا خاتمہ ۱۸۴۳ء میں ہوا۔ جنوب میں سلطان حیدر علی نے میسور کی حکومت قائم کی تھی لیکن ۱۷۹۹ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی ، مرہٹوں اور نظام کی متحدہ افواج نے ٹیپو کو شکست دی۔ ان ہنگاموں میں فقط نظام دکن کا تاج سلامت رہا۔۱۹۴۸ء تک ریاست حیدر آباد حکومت مغلیہ کی آخری یاد گار سمجھی جاتی تھی جس پر انڈین یونین نے قبضہ کرلیا۔ (۳۲ )
مغلیہ سلطنت کی بنیاد اس کی عسکری قوت، فارسی زبان اور شہنشاہ کی ذات کو قرار دیا جائے تو بیجانہ ہوگا۔ مغلوں کے نظام حکومت میں عسکریت کو بڑی قدر واہمیت حاصل تھی ۔پیشہ سپاہ گری فخرومباہات کا باعث سمجھا جاتا تھا۔ دور دراز ملکوں کے طالع آزما مغل عساکرمیں شامل ہوتے اور ترقی کے زینے طے کر کے سلطنت کے بڑے بڑے منصب حاصل کرتے تھے ۔ مغلوں کا عسکری نظام جاگیر دارانہ بنیادوں پر استوار تھا۔ منصب داروں کو جاگیریں عطا ہوتی تھیں۔ یہ منصب دار بوقت ضرورت حکومت کو سپاہ مہیا کرتے تھے۔(۳۳ )
اورنگ زیب کے بیٹوں کی خانہ جنگیوں نے جہاں مغلیہ افواج کو تباہ وبربادکردیا وہاں چھوٹے چھوٹے صوبے داروں اورجاگیرداروں کوبھی سرکش بنا دیا جو شاہی افواج کو سپاہ مہیا کرنے کے پابند ہوا کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے جاگیروں سے ہونے والی آمدنی سے شہنشاہ کا حصہ کم سے کم تر ہونے لگا۔ اس پر مستزاد نادر شاہ اور احمدشاہ ابدالی کے حملے تھے جن کی وجہ سے قندہار کا بل کے ساتھ ساتھ سندھ اور بلوچستان کا علاقہ بھی مستقل طورپر مغلوں کے ہاتھوں سے نکل گئے اور سکھوں کی پنجاب میں حکومت قائم ہونے کے بعد تو تخت دہلی کی اہمیت لال قلعے تک محدود ہو کر رہ گئی ۔ مغل دربار عسکری اور اقتصادی طورپر شکست وریخت کا شکار ہوئے تو اس دربار سے متعلق زبان وادب اور ثقافت بھی ختم ہونے لگی بلکہ اس پوری تہذیب پر زوال آگیا جسے مغلوں نے صدیوں میں استوار کیا تھا۔
بابر سے محمد شاہ تک افغانستان ، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے علماء ، شعراء ، ہنر مندا ور دیگر قابل افراد دربار دہلی تک پہنچنے کی کوشش کرتے اور اس اعلیٰ مقام کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے جس کا معیار مغل دربار نے مقرر کیا تھا کیونکہ اس خطے میں اعلیٰ ترین معیار کا درجہ صرف مغل دربار کو ہی حاصل تھا جس کے بعدایرانی دربار کا درجہ تھا۔ مغل دربار کی شکست وریخت نے جہاں اس مرکز کو ختم کردیا جس کی طرف چاروں طرف سے لوگ پہنچتے بلکہ مغلوں کے زوال نے ان افراد کے ساتھ اس مشترکہ ثقافت اور زبان کو بھی منتشر کردیا اور اس کا رخ مختلف ریاستوں اور صوبوں کی طرف پھیر دیا۔ نادر شاہ کے حملہ دہلی کے بعد یہ سلسلہ شروع ہوا اور ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے وقت اپنے عروج کو پہنچا۔ لیکن یہ سلسلہ عملی طور پر ۱۹۴۷ء تک جاری رہا۔ یہی وہ دور ہے جس میں اردو زبان اور اردو شاعری ہندوستان میں اپنے عروج کو پہنچی اور بلوچستان جیسے دور افتادہ علاقے تک پہنچی ، پھلی پھولی اور پروان چڑھی۔
اٹھارویں صدی عیسوی میں بلوچستان کے میر نصیر خان نوری اور ان کے قبائلی ساتھیوں کے تجربات اور مشاہدات نے بلوچستان میں جس تبدیلی کی بنیاد سیاسی سطح پر ایک منظم اور بہتر حکومت کی صورت میں رکھ دی تھی اس سے سماجی ، ثقافتی اور لسانی لحاظ سے بھی بلوچستان میں تغیرات نے راہ پالی۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ نصیر خان نوری ایران اور ہندوستان کی حکومتوں کے طرز پر نہ صرف جاگیر دارانہ نظام کو فروغ دیتے ہیں بلکہ مغلوں کی طرح باقاعدہ فوج بنانے کے ساتھ ساتھ پہلی بار ریاست قلات کا سکہ بناتے ہیں۔ معیشت کی بہتری کی خاطر ایک طرف زرعی زمینوں پر قابل عمل ٹیکسوں کا نظام لاگو کرنے کے ساتھ تجارتی راستوں کی نگرانی اور بہترحفاظت کی جانے لگتی ہے تو دوسری طرف سرحدوں پر رہنے والے طاقتور ہمسایوں سے بھی تعلقات میں توازن پیدا کرنے کی کوششیں ہوتی ہیں۔
ہر چند کہ تعلیم کے خلاف معاشرتی مزاج کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی لیکن علمی وادبی لحاظ سے اپنے ہمسایوں اور قریبی ممالک کے اثرات کے زیر اثر علماء اور شعراء کی پہلی مثال بھی میر نصیر خان نوری کے یہاں ہی ملتی ہے۔ چنانچہ ہم دربار قلات میں فارسی کے شاعر مولانا نور محمد گنجابوی (۳۴) کے علاوہ براہوئی زبان کے (۳۵) پہلے شاعر ملک داد قلاتی کی سرکاری سطح پر سرپرستی دیکھتے ہیں۔ بعض موؤخین بلوچی زبان کے شاعر جام دّرک کو بھی میر نصیر خان کے دربار سے منسلک کرتے ہیں۔ (۳۶ )
۱۷۹۴ء میں میر نصیر خان کی وفات کے کچھ عرصے بعد ہی جب بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے فرانسیسی حملوں کے خوف سے برٹش انڈیا کمپنی نے لیفٹیننٹ ہنری پوٹنگر اورکیپٹن چارلس کرسٹی کو بلوچستان کے حالات معلوم کرنے کی خاطر اس علاقے میں بھیجا تو گویا یہ بلوچستان میں سیاسی وسماجی حوالوں سے بہت بڑی اور دوررس تبدیلیوں کا نقطہ آغا ز تھا۔ انگریزوں نے نہ صرف بلوچستان کی صدیوں سے قائم بیگانگی کو ختم کیا بلکہ دور جدید کی تبدیلیوں سے بھی ا ہل بلوچستان کو�آشنا کیا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ابتدائی انگریز جاسوسوں کی آمد ورفت اور فرانس اور روس کے خوف سے انگریزوں کی دفاعی اور فوجی پیش بینی کے تحت جو اقدامات اٹھائے گئے اس کے نتیجے میں ۱۸۳۸ء میں ایک انگریزافسر لیچ کو پہلی بار خان آف قلات میر محراب خان کے دربار بھیجا جاتا ہے تاکہ بلوچستان میں جاسوسی کے علاوہ افغانستان کی جانب انگریز فوجوں کے گزرنے کی اجازت اور ان کے جانوروں کے لیے خوراک اور چارے کے انتظام کا معاہدہ کرسکے لیکن محراب خان ایسا معاہدہ کرنے سے انکار کردیتے ہیں۔ (۳۷) لیکن اس کے ایک سال بعد ہی جب انگریز شاہ شجاع الملک کوافغانستان کا بادشاہ تسلیم کرتے ہیں یا بناتے ہیں تو ۱۸۳۹ء میں الیگزنڈر برنز کو کوئٹہ سے قلات روانہ کیا جاتا ہے تاکہ میرمحراب خان سے کوئی معاہدہ کرسکے۔ برنز اپنے اس منصوبے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور ۱۸۳۹ء میں خان آف قلات اور انگریزوں کے درمیان یہ معاہدہ طے پاتا ہے کہ :
۱۔ انگریزوں کو افغانستان جاتے وقت کچھی اور درہ بولان استعمال کرنے کی اجازت کے ساتھ ساتھ خان قلات انگریز فوج کے رسل اور حمل و نقل کے سامان کی حفاظت کا ذمہ د ار ہوگا۔
۲۔ انگریز فوجیوں کے لیے سواری اور بار برداری کے جانوروں کاانتظام خان آف قلات کرے گا۔
۳۔ خان آف قلات میر محراب خان شالکوٹ(کوئٹہ ) میں شاہ شجاع الملک کا استقبال کرے گا اور اس کی اطاعت قبول کرے گا۔
۴۔ ان مندرجہ بالا خدمات کے عوض ایسٹ انڈیا کمپنی ہر سال ڈیڑھ لاکھ روپیہ بطور امداد (سب سیڈی) خان کو دے گی۔ (۳۸ )
دوسری طرف ۱۸۴۲ء تک امیران سندھ کو مختلف معاہدات کے ذریعے غلام بنا لیا گیا۔ ۱۸۳۹ء میں پہلی افغان جنگ اور اسی سال قلات پر حملہ کرنے اور خان آف قلات میر محراب خان کی شہادت کے بعد انگریز بلوچستان کے معاملات میں براہ راست دخیل نظر آتے ہیں۔ ۳۱ اگست ۱۸۴۰ء کو نفسک کے مقام پر مری قبیلے کے ساتھ انگریز فوجوں کی جنگ اور اس میں شکست کے بعد انگریزوں نے ۱۸۴۱ء میں خان آف قلات میر نصیر خان دوم کے ساتھ ایک اور معاہدہ کیا جس میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو بلوچستان کے مختلف مقامات پر فوج رکھنے کے اختیار کے ساتھ ساتھ کمپنی کی اجازت کے بغیر دیگر ریاستوں سے معاہدوں پر بھی پابندی قبول کرلی گئی ۔
۱۸۴۳ء میں مری قبائل نے قافلوں کو روکنے اور راستوں کو بند کرنے کے ساتھ ساتھ بادرہ اور کٹ منڈاھی پر قبضہ کیا اور یہ سلسلہ ۱۸۴۵ء تک چلتا رہا جس کے بعد ۱۸۸۵ء میں چارلس نپےئر نے مری علاقہ جات پر حملہ کر کے کاہان پر قبضہ کرلیا (۳۹) ۔اسی طرح ۱۸۴۷ء میں ولیم میری ویدر کی سرکردگی میں بگٹی قبائل کے خلاف کارروائی کر کے ان کے سردار کو اطاعت پر مجبور کردیا گیا۔ مری قبائل کو درہّ بولان سے گزرنے والے قافلوں پر حملوں سے باز رہنے کی بار بار سختی سے تنبیہ کی جاتی رہی لیکن وہ اپنی کارروائیاں کرتے رہے جس پر ۱۸۴۹ء میں خان آف قلات اور انگریزوں نے مل کر ان پر حملہ کیا۔ (۴۰ )
اس عرصے میں ایک طرف تو انگریز افسران خان آف قلات کے ساتھ دوستی کا دم بھرتے رہے اور دوسری طرف مختلف قبائلی سرداروں کو زور وزر سے خرید کر خان کی مخالفت کو ہوا بھی دیتے رہے۔ خان آف قلات کے اردگرد انگریز جاسوسوں اور قلات میں انگریز افسر کی موجودگی اور ۱۸۵۳ء میں ملا محمد حسن کو قید کروانے کے بعد ۱۴ ، مئی ۱۸۵۴ء کو خان آف قلات کے ساتھ انگریزوں نے ایک اور معاہدہ کیا جس کے بعد بلوچستان عملی طور پر برطانوی حکومت کے تابع ہوگیا۔
۱۸۳۹ء میں میر محراب خان کی شہادت اور اس کے بعد خان قلات اور انگریزوں کے درمیان ۱۸۴۱ء اور ۱۸۵۴ء کے معاہدوں نے بلوچستان کے دروازے انگریزوں کے لیے کھول دیے۔ چنانچہ ۱۸۵۴ء سے ۱۸۷۶ء تک بلوچستان میں انگریز فوج کی آمد اور فوجی اڈوں کے قیام کا سلسلہ جاری رہا حتیٰ کہ ۱۸۷۶ء میں خان قلات اور انگریزوں کے درمیان ایک اور معاہدہ طے پایا جسے معاہدہ مستونگ کہا جاتا ہے ۔ اس معاہدے کے چند سال بعد جیکب آباد میں خان قلات اور ۸ جون ۱۸۸۳ء کو نیا بت شال و بولان کو اجارہ پر دینے کا معاہدہ بھی طے پایا جس کی رو سے ضلع اور نیا بت شال بلا شرکت غیرے حکومت برطانیہ کے افسروں کے زیر انتظام چلا گیا ۔ (۴۱ )
انگریزوں اور خان قلات کے درمیان ہونے والے ان تمام اقرار ناموں اور معاہدات کو دیکھا جائے تو یہ بات بالکل واضح دکھائی دیتی ہے کہ انگریزوں کو درہ بولان اور افغانستان کی سرحدوں تک پہنچنے والی تمام شاہراہوں کی ضرورت تھی۔ وہ پر امن شاہراہوں کے ذریعے (۴۲) ہی افغانستان اور وسطی ایشیاء تک پہنچ سکتے تھے۔ انھوں نے اس مقصد کے لیے نہ صرف سڑکیں بنوائیں بلکہ چمن تک ریل کی پٹریاں بھی بچھائیں۔
انیسویں صدی کے پہلے نصف میں انگریزوں کی آمد کی وجہ سے ہندوستان کے مختلف علاقوں کے سپاہی اور تاجر ایک بہت بڑی تعدادمیں بلوچستان میں مختصر اور طویل عرصے کے لیے آتے رہے۔ ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ان افراد کی بلوچستان میں آمد کی تصدیق پوٹنگر کے سفرنامہ میں بھی ہے اورمیسن اور ہیوگز کی کتابوں میں بھی ان کا ذکر ملتا ہے۔ یہاں یہ بتانا بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ بیشتر انگریز بھی اُردو جانتے تھے اور بلوچستان میں رہنے والے ہندو بنیے بھی نہ صرف اُردو جانتے تھے بلکہ تجارت پر اپنی اجارہ داری کی وجہ سے بینکنگ کا کام بھی انہی کے توسط سے ہوتا تھا۔
یوں تو اہل بلوچستان اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے قبائل کی ایک بڑی تعداد بار بار زمانہ قدیم سے تجارتی اور جنگی مقاصد کی وجہ سے ہندوستان جاتی رہی جن میں بلوچستان کے میر چا کر خان رند اور ان کے ہزاروں قبائلی ساتھیوں کی ہجرت کا حال نہ صرف تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے بلکہ بلوچی شاعری کا ایک گرانقدر حصہ اسی ہجرت، اس کی وجوہات اور تفصیلات پر مشتمل ہے لیکن پاوندوں (خانہ بدوش تاجر) کے علاوہ جو آٹھ دس صدیوں سے ہر سال موسم سرما میں ہندوستان جا کر گرمیوں میں واپس آتے ان جنگوں، لشکر کشیوں اورہندوستان کی طرف ہجرت کرنے والوں کی روایت یک طرفہ تھی اور اٹھارویں صدی عیسوی میں یہ پہلی بار ہوا کہ ہندوستانی کاریگروں ، اہل حرفہ اور غلاموں کے علاوہ ہندوستانی فوجیوں کی ایک بہت بڑی تعداد پنجاب اور سندھ کے راستے سے بلوچستان میں داخل ہوتی ہے۔ ان لشکریوں کی زبان کیا تھی ، جو لشکریوں کے ذریعے بازاروں اور درباروں پہنچی ، یقیناًاُردو تھی اور ہندوبنیوں کے علاوہ بلوچستان میں اُردو بولنے والوں کی اتنی بڑی تعداد کا تاریخی سراغ ملتا ہے۔ نادر شاہ کے ساتھ عراق اور ترکی تک جانے والے ان ہندوستانی سپاہیوں کی تعداد ستر ہزار (۰۰۰،۷۰) سے زیادہ رہی جبکہ ہندوستانی ہنر مندوں ، کاریگروں اور تاجروں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی اس زمانے میں بلوچستان سے ہوتے ہوئے افغانستان ، ایران ، عراق حتیٰ کہ ترکی تک گئی اور یہ سب لوگ وہاں مستقل آبادنہیں ہوئے تو واپس بھی بلوچستان سے ہوتے ہوئے گئے ہوں گے یا ان کی ایک بہت بڑی تعداد بلوچستان اور سندھ کے راستوں سے اپنے اپنے علاقوں کی طرف گئی ہوگی۔
احمد شاہ درانی کے ہندوستان پرحملوں کے دوران بلوچ قبائل کی ایک بہت بڑی تعداد کا مسلسل ہندوستان کی طرف جانے اور بعض مقامات پر تسلسل کے ساتھ قیام کرنے کے متعدد تاریخی شواہد کتب تاریخ میں جابجا ملتے ہیں اور ۱۸۵۱ء تک اس آمد ورفت کا سلسلہ جاری بھی رہا۔ لیکن انیسویں صدی کے شروع میں ہی اپنے توسیع پسندانہ رجحانات کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے انگریز سندھ اور پنجاب کی جانب سے بلوچستان میں داخل ہوتے ہیں اور یوں ہندوستانی سپاہیوں اور تاجروں کی ایک بہت بڑی تعداد مسلسل اور مستقل طور پر ہمیں بلوچستان کے مختلف خطوں میں نظر آنے لگتی ہے۔ دوسری طرف ہندوستان کے مسلمانوں میں اپنی عظمت رفتہ کے احساس کی وجہ سے ملی یک جہتی کی جو تحریکیں شروع ہوتی ہیں ان کے اثرات بھی اہل بلوچستان پر پڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ۱۸۲۶ء میں سید احمد شہید اور ان کے مجاہدین بلوچستان سے گزرنے اور قیام کرنے کی مدت گو کہ قلیل تھی لیکن اس کے سیاسی اثرات اور نتائج دور رس نکلے ، ۱۸۳۸ء میں افغانستان کے شاہ شجاع الملک کی انگریزوں کی سرپرستی میں تاجپوشی اور ۱۸۳۹ء میں پہلے افغان جنگ اور قلات پرانگریزوں کے حملے اور میر محراب خان کی شہادت کے بعد مری اور بگٹی علاقوں میں انگریزوں کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں ہندوستانی سپاہیوں کی موجودگی نے اُردو کے فروغ میں انقلابی کردار ادا کیا۔
بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار ہندوستان سے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد کی یہ دوسری مثال تھی۔ ان ہندوستانی سپاہیوں اور تاجروں نے رابطے کی زبان کے طور پر یقیناًاردو کا ہی سہارا لیا ہوگا کیونکہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد نادر شاہ اور میر نصیر خان کے زمانے سے پنجاب پر سکھوں کے قبضے تک، ہندوستان کے مختلف علاقوں میں تسلسل سے آنے جانے کے علاوہ طویل عرصے تک قیام بھی کرتے رہے۔
یہی وہ زمانہ ہے جب بلوچستان میں اُردو رابطے کی زبان کے ساتھ ساتھ تخلیقی سطح پر بھی پروان چڑھنے لگی۔ اُردو کے پہلے شاعر ملا محمد حسن براہوئی کے اُردو اشعار کے علاوہ بلوچی شعراء کے یہاں اُردو الفاظ کا استعمال بھی ہونے لگا۔ رحم علی مری ، گدو ڈوم ، وغیرہ کے بلوچی اشعار میں اُردو الفاظ نہایت سہولت اور روانی کے ساتھ ملتے ہیں۔
۱۸۷۶میں کوئٹہ ایجنسی کے قیام کے بعد بلوچستان میں سماجی تبدیلیوں کی رفتار تیز تر ہوجاتی ہے ۔ رابرٹ سنڈیمن جو ڈیرہ غازی خان میں اسسٹنٹ کمشنر تھا اسے ایجنٹ ٹو دی گورنر جنرل اینڈ چیف کمشنر اور مسٹر بارنس کو پولیٹیکل ایجنٹ کے طور پر مقرر کیا جاتا ہے (۴۳)اور نئے کوئٹہ کی بنیاد گزاری کا کام بھی شروع کردیا جاتا ہے۔ ۱۸۷۷ء میں اسسٹنٹ ٹو دی ایجنٹ گورنر جنرل رچرڈ آئزک بروس نے نئے شہر کی بنیاد رکھی۔ ۱۸۷۸ء سے ۱۸۸۳ء کے درمیان شہر کے لیے زمین خریدی گئی جس کی زیادہ سے زیادہ قیمت بارہ روپے فی ایکڑ ادا کی گئی ۔ پرانا شہر جو کہ میری (قلعہ) اور اس کے اردگرد پر مشتمل تھا اور اس کے مکینوں اور باہر سے لوگوں کو بلا کر قطعات کی صورت میں زمینیں مفت تقسیم کی گئیں اور اس نئی بستی کا نام شال کی بجائے کوئٹہ رکھا گیا ۔ قلعہ کو آرڈنینس ڈپو میں تبدل کردیا گیا اور جب دوسری افغان جنگ کے بعد انگریزوں کی باقی ماندہ فوج کوئٹہ پہنچی تو مسٹر بروس کی جگہ مسٹر بارنس کو اسسٹنٹ ٹودی ایجنٹ گورنر جنرل مقرر کیا گیا ۔ (۴۴ )
کوئٹہ ایجنسی کے قیام کے بعد انگریزوں نے سب سے پہلے اپنی چھاؤنیاں قائم کیں جس کے بعد انھوں نے اسکول ، ہسپتال ، ڈاکخانے اور سب سے بڑھ کر ریلوے کی پٹڑیاں سبی اور ہرنائی کے راستے کوئٹہ اور بالآخر چمن تک بچھا دیں۔ سندھ پشین اور قندہار اسٹیٹ ریلوے کا سندھ پشین سیکشن ۱۸۸۸ء میں مکمل ہوا (۴۵ ) ۔جس میں کوئٹہ کو ہرنائی اور بوستان کے راستے سبی اور سندھ سے ملایا گیا جبکہ بوستان سے چمن تک پٹریاں بچھانے کا کام ۱۸۹۱ء میں مکمل ہوا۔ اس میں چمن کے قریب پاک وہند کی سب سے بڑی سرنگ کا کام بھی تھا جس کی لمبائی تین میل ہے۔ اس پر اس زمانے میں اٹھارہ لاکھ بیس ہزار روپے لاگت آئی تھی ۔ دوسری ریلوے لائن یعنی بولان ریلوے ۱۸۸۷ء میں شروع ہوئی اور ۱۸۹۶ء میں مکمل ہوئی۔ یہ ریلوے لائن سبی سے درہ بولان کو عبور کرتی ہوئی کوئٹہ پہنچتی ہے۔ ( ۴۶ )
۱۸۷۷ء کے بعد ہندوستان کے مختلف شہروں سے ہندوؤں ،سکھوں ، پارسیوں اور بوہروں کے علاوہ پنجابی عیسائیوں کی ایک بڑی تعداد کوکوئٹہ ، ژوب ، لورالائی ، سبی اور چمن میں آباد کیا گیا اور کوئٹہ کی فوجی اور تجارتی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہاں ایک بہت بڑی چھاؤنی کی بنیاد بھی ڈالی اور اسی زمانے میں اسٹاف کالج کوئٹہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ۱۸۹۱ء میں پہلی بار بجلی کے دو جنریٹر اسٹاف کالج کوئٹہ میں لگائے گئے۔ (۴۷) کوئٹہ ایجنسی کے قیام کے ساتھ ہی کوئٹہ ژوب ، درہ قلات ، بولان ، جنوب مشرقی بلوچستان، لورالائی اور ریلوے کی حدود میں آنے والے تمام علاقوں میں اُردو کا سرکاری طورپر نفاذ عمل میں لا یا گیا۔ (۴۸ )
انگریز اپنے ساتھ صرف ہندوستان بھر سے مختلف النسل فوجی اور تاجر ہی نہیں بلکہ انھوں نے ریل کے انجن اور پٹڑیوں کے ساتھ ساتھ بجلی کے جنریٹر ، پانی کھینچنے کی مشینیں ، موٹر سائیکلیں اور صنعتی ایجادات کی ایک نئی دنیا سے بھی اہل بلوچستان کو متعارف کروایا۔ ماہرین عمرانیات اور سماجی مفکرین ٹیکنالوجیکل عناصر اور تعلیم کو معاشرتی تغیرات کی بڑی وجہ قرار دیتے ہیں اور انھیں سماجی تبدیلی کے اہم اسباب میں شمارکرتے ہیں۔ (۴۹ )
فوجی چھاؤنیوں کے قیام اور تجارتی سامان کی بحفاظت ترسیل کی وجہ سے تجارتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا اور کوئٹہ کی آبادی جو ۱۸۷۷ء میں چار ہزار نفوس پرمشتمل تھی، ۱۸۹۱ء میں اٹھارہ ہزار آٹھ سو دو (۸۰۲، ۱۸ )، ۱۹۰۱ء میں چوبیس ہزار پانچ سوچوراسی (۵۸۴، ۲۴) اور ۱۹۲۱ء کے موسم سرما میں ہونے والی مردم شماری میں کوئٹہ کی آبادی تقریباً پچاس ہزار (۰۰۱،۴۹) ہو جاتی ہے۔ جبکہ گرمیوں میں اس کی آبادی کا تخمینہ ساٹھ ہزار لگایا گیا۔ (۵۰ )
۱۹۲۱ء کی مردم شماری کے مطابق کوئٹہ کی آبادی ساٹھ ہزار تو تھی لیکن اس میں مقامی آبادی کی تعداد دو ہزار سات سو تیس (۷۳۰،۲) تھی جو پٹھان ، بلوچ اور براہوئی تھے جبکہ چھاؤنی میں اکیس ہزار ، سات سوا کیا سی افراد کے علاوہ ستائیس ہزار، دو سوبیس ۲۲۰، ۲۷ دیگر افراد شہر کی آبادی کا حصہ تھے۔ جو سندھ اور پنجاب سے آکر آباد ہوئے۔ چمن ، لورالائی اور فورٹ سنڈیمن میں چھاؤنیوں کے قیام کی وجہ سے وہاں کی آبادیاں بھی ۱۹۰۱ء سے ۱۹۲۱ء کے دوران دگنی ہوگئیں ۔ (۵۱ )
لیکن اُردو زبان کے فروغ میں ان تعلیمی اداروں نے سب سے اہم کردار اداکیا جو انگریزوں نے کوئٹہ پر قبضے کے فوراً بعد قائم کرنا شروع کردیے۔ کوئٹہ میں پہلا اسکول ۱۸۸۶ء میں اینگلوور نیکولر مڈل اسکول کے نام سے قائم کیا گیا جس میں ۴۳ بچوں کو داخلہ دیا گیا ۔ا ن میں مقامی بچوں کی تعداد چھ تھی ۔ ۱۸۹۱ء میں اسکول کو ایک بڑی عمارت میں منتقل کیا گیا اور مقامی طور پر اسے سنڈیمن اسکول کے نام سے پکارا جانے لگا۔ ۱۸۹۲ء میں سنڈیمن اسکول کو ہائی اسکول کا درجہ دیا گیا ۔ (۵۲ )
بلوچستان میں انگریزوں کی آمد سے پہلے مساجد میں فارسی اور عربی کے ذریعے دینی تعلیم دی جاتی اور ان مدارس اور ان میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد بھی انتہائی کم تھی۔ضلعی گزٹ ائیرز کے مطابق ۱۹۰۳ء میں کوئٹہ پشین میں دو سو آٹھ (۲۰۸) مدرسے تھے جن میں نوسو (۹۰۰) طلبا اور نوے (۹۰) طالبات تعلیم حاصل کرتی تھیں۔ سبی کے چھیانوے (۹۶) مدارس میں طلباء کی تعداد آٹھ سو اکسٹھ جبکہ پینسٹھ (۶۵) لڑکیاں بھی ان مدارس میں تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ ژوب مدارس کی تعداد پچھتر (۷۵) تھی جن میں تین سو اڑتالیس بچے تعلیم حاصل کرتے تھے جبکہ لور الائی کے ایک سو اڑتیس (۱۳۸) مدارس میں آٹھ سو پینتالیس (۸۴۵) طلباء اور ایک سو تراسی (۱۸۳) طالبات تعلیم حاصل کرتی تھیں۔ قلات میں صرف ایک مدرسہ تھا جس میں گیارہ طلبا اور تیرہ طالبات زیر تعلیم تھیں۔ مکران اور خضدار کے بارے میں ضلعی گزٹ ائیرز خاموش ہیں۔ (۵۳ )
بلوچستان میں خواندگی کی شرح بہت کم رہی ہے۔ انگریزوں کی آمد کے بعد پہلی مرتبہ جب بلوچستان کے مختلف مقامات پر مردم شماری کی گئی تو اس میں تخمینہ کاریوں سے زیادہ کام لیا گیا لیکن ۱۹۱۱ء اور ۱۹۲۱ء کی مردم شماریوں میں نہ صرف زیادہ دقت سے کام لیا گیا بلکہ رپورٹیں بھی تیار کی گئیں۔ ۱۹۱۱ء کی مردم شماری میں مقامی خواندہ افراد کی تعداد تین ہزار چار سو چھیالیس(۴۴۶، ۳ ) تھی ۔ جن میں صرف پینتیس (۳۵) خواندہ خواتین تھیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ براہویوں میں صرف بتیس افراد فی ہزار (۳۲/۱۰۰۰) خواندہ تھے جبکہ بلوچوں میں یہ تعداد اڑتیس ( ۳۸ ) فی ہزار، پشتونوں میں پچاس (۵۰ ) فی ہزار ، جاٹوں میں ستاون(۵۷) فی ہزار، لاسیوں میں اڑسٹھ (۶۸) فی ہزار اور سادات میں ایک سو ستر (۱۷۰) فی ہزار یا سترہ فی صد تھی ۔ (۵۴)۔ ان مقامی خواندہ افراد میں پانچ سو پچپن (۵۵، ۵) افراد اُردو لکھ پڑھ سکتے تھے ( ۵۵ ) ۔گویا ۱۸۸۶ء میں پہلے اسکول کے قیام کے پچیس (۲۵) سال بعد ۱۹۱۱ء میں جب اسکولوں کی تعداد ۱۸۹ ہوچکی تھی اور ان اسکولوں میں تقریباً چار ہزار ( ۴۰۰۳ ) طلباء وطالبات زیر تعلیم تھے۔ جن میں مقامی طالبعلوں کی ایک بڑی تعداد عربی اور فارسی کی بجائے اُردو انگریزی میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اسی زمانے میں بلوچستان میں لائبریریوں کا قیام بھی عمل میں آتا ہے۔ سنڈیمن کوئٹہ میں پہلی لائبریری بناتے ہیں اور پھر یہ سلسلہ بھی فروغ پاتا ہے۔
انیسویں صدی کے نصف آخر میں جب بلوچستان میں سنڈیمن کی فارورڈ پالیسی انتہائی کامیابی سے حکومت برطانیہ کی سرحدوں کی توسیع میں مصروف تھی۔ ہندوستان میں ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد مسلمانوں کی بربادی میں جو تھوڑی بہت کسر باقی تھی وہ بھی پوری ہوگئی۔ مسلمانوں کو اپنا حقیقی دشمن جان کر انگریزوں نے نہ صرف زندگی کے ہر شعبے سے مسلمانوں کو بیدخل کرنا شروع کیا بلکہ مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کی باقاعدہ سرپرستی بھی شروع کردی۔ (۵۶ )
انگریز مسلمانوں کے درپے آزار تو تھے ہی ۱۸۵۷ء کے واقعہ کے بہانے ان کی جائیدادیں اور جاگیریں ضبط کرلی گئیں۔ ان کی عزتِ نفس پر حملے کیے گئے ، ان کی لاشیں گدھوں کو کھلائی گئیں۔ انھیں خونخوار جانوروں سے روندایا گیا۔ ان کی ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں اور بیویوں کو ان کے سامنے برہنہ کر کے خوارکیا گیا۔ کسی کو گولی مار دی گئی کسی کو پھانسی کے تختے پر لٹکا دیا گیا۔ بعض کو برہنہ کر کے پہلے زمین پر لٹایا گیاپھر ان کی مشکیں کسی گئیں اور ان کے جسم کو تانبے کی گرم سلاخوں سے داغا گیا۔ سکھ اور انگریز فوجیوں نے بہت سے مسلمانوں کو آگ میں زندہ جلا دیا اور بعض کو سؤر کی کھال میں بند کر کے نذر آتش کردیا۔ بعض کو مجبور کیا گیا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ غیر فطری عمل کے مرتکب ہوں ۔ سینکڑوں مسلمانوں کو ایک چھوٹے سے برج میں بند کردیا گیا اور جب انھیں قتل کرنے کے لیے باہر نکالا گیا تو پچاس آدمی گرم کی شدت اور حبس کی وجہ سے دم توڑ چکے تھے۔ بہتوں کو اس لیے پھانسی دی گئی کہ انگریزی فوج کے مارچ کے و قت ان کے چہرے دوسرے طرف کیوں تھے۔ ان پھانسی پانے والوں میں عوام الناس کے ساتھ ساتھ اہل علم وفضل بھی تھے اور سردار ورئیس بھی، شہزادے اور جاگیردار بھی تھے۔ دلی اور اس کے نواح میں جتنے شہزادے پکڑے گئے سب پھانسی پر لٹکا دیے گئے ۔ بادشاہ(بہادر شاہ ظفر) کے تین بیٹوں کو پہلے ننگا کیا گیا پھر برسر عام نگریزی فوج کے افسروں نے انھیں گولی کا نشانہ بنایا۔ ان کی لاشیں کوتوالی کے سامنے لٹکوادی گئیں۔ جہاں ان کی بوٹیاں گدھ اور کتے کئی روز تک نوچتے رہے ، ہزاروں خواتین عصمت دری کے خوف سے کنویں میں کود گئیں۔ شہر پرقبضے کے بعد فوجی افسروں کو ہر طرح آزاد کردیا گیا۔ ہر طرف لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہوا۔ مکانوں کے صحن اور دیواروں کو کھود کھود کر دفینے نکالے گئے ، قیمتی سازو سامان کے ساتھ ساتھ چھتوں کی کڑیاں ، تختی ا ور کوڑ تک نہیں چھوڑے گئے۔ بعض مسجدوں کو مسمار کردیا گیا اور ان کے قیمتی پتھر نکال لیے گئے۔ دہلی کی شاہی مسجد کو اصطبل میں تبدیل کر دیا گیا۔ سکھ اور انگریز فوجی اس میں گھوڑے باندھتے تھے ، شراب پیتے تھے اور سوؤذبح کر کے پکاتے تھے ۔ایک دہلی کا نہیں ہر شہر کا کم وبیش یہی حال تھا۔ ہر جگہ مسلمانوں کو چن چن کر لوٹا ، مارا اور قتل کیا گیا اور یہ صرف اس لیے کہ انگریزوں کی نظر میں ۱۸۵۷ء کی بغاوت کے اصل ذمہ دار صرف مسلمان تھے۔ ( ۵۷ )
مسلمانوں میں ملی یکجہتی کے فروغ کے لیے شاہ ولی اللہ (تفصیل کے لیے دیکھیے، صفحہ ۴، فرمان فتح پوری ) نے ابتدائی طور پر جن کوششوں کا آغاز کیا تھا ۔اسی کے پیش نظر انھوں نے احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان پر حملے کی دعوت دی تھی ۔ سلطنت مغلیہ کے زوال کے دوران سید احمد شہید کی تحریک سے بھی انگریزوں کو یہ خطرہ پیدا ہوا ہوگا کہ ہندوستان کے مسلمان افغانستان سے مدد حاصل کرسکتے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے پہلی افغان جنگ (۱۸۳۹ء ) کے بعد افغانستان اور بلوچستان کی طرف خصوصی توجہ دی اور مسلمانوں کی آخری ریاستوں کو بھی مسخر کرنے کی کوششوں کو تیز تر کیا۔
اپنے استعماری مقاصد کی تکمیل کی خاطرجہاں انھوں نے مسلمان ریاستوں پرقبضے کیے وہاں اپنے لڑاؤ اور حکومت کرو کے فلسفے کو مسلسل بروئے کار لاتے ہوئے مسلمانوں کی سماجی اور ثقافتی برتری کو بھی ختم کرنے کی پالیسی برقرار رکھی اور فارسی کو ختم کرنے کے بعد اُردو زبان کے خلاف بھی اپنی کارروائیوں کا آغاز کیا۔ اور اردو کے مقابلے میں ہندی زبان کو پروان چڑھانے اور فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ تاکہ صدیوں سے مسلمانوں کے زیرا ثر رہنے والے ہندوؤں کو ان سے مستقل علیحدہ کیا جائے اوریہ دونوں مل کر اس کے خلاف کسی مشترکہ جدوجہد میں شریک نہ ہوں۔ چنانچہ انیسویں صدی کے اوائل میں اس منصوبے پر کام آغاز کیا گیا اور فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں جب للو لال جی نے پریم ساگر کے نام سے بھگوت گیتا کے ایک حصے کا ترجمہ کیا تو دیوناگری خط میں عربی اور فارسی کے مروجہ الفاظ سے دانستہ گریز کر کے برج بھاشا اور سنسکرت الفاظ کو جگہ دی اور اسے ہندی کے نام سے ہندوؤں کی زبان کے طور پر پھیلانے کی شعوری کوشش کی ۔ (۵۸ )
للو لال جی کے اس کام میں ان کے دو ماتحت،پنڈت چتر بھوج مصرا اور سدل مصرا بھی شریک ہوئے اور کچھ دنوں بعد یہ ہوا کہ وہی اُردوجو فارسی رسم الخط میں ہندی ، ہندوستانی اور ریختہ وغیرہ کے نام سے جانی جاتی تھی ،دیوناگری رسم الخط میں منتقل ہو کر، الگ زبان کی حیثیت سے ایسی ہندی کہی جانے لگی جس کا اُردو سے کوئی رشتہ نہ تھا۔ (۵۹ )
فارسی زبان کی سرکاری حیثیت کو ختم کرنے کے بعد مسلمانوں کی ثقافتی برتری کو ختم کرنے کی خاطر انگریزوں کے اس اقدام کا ایک اور مقصد دراصل ان کی اس حکمت عملی کا حصہ تھا جو لڑاؤ اور حکومت کرو پر رکھی گئی تھی ۔
ہندوستان کے مختلف خطوں سے آنے والے مسلمانوں کی اکثریت گو کہ سرکاری ملازمین پر مشتمل تھی جنھوں نے ہندوستان کے حالات اور جنگ آزادی کے بعد مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا یقیناًاثر لیا ہوگا اور بلوچستان میں آنے و الے بہت سے لوگ عافیت کی تلاش میں بھی شاید ا س طرف آئے ہوں۔
۱۸۵۷ء کے بعد ہندوستانی مسلمانوں میں ملی یکجہتی کے احساس نے بھی فروغ پایا۔ سرسید احمد خان نے جوتحریک شروع کی اس کے اثرات بلوچستان تک بھی پہنچے چنانچہ علی گڑھ میں محمڈن اینگلو اورئینٹل کالج کے قیام کے پہلے ہی عشرے میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طالب علم حصول تعلیم کے لیے وہاں پہنچناشروع ہوگئے۔ وسطی بلوچستان میں واقع جھالاوان کے یوسف خان مینگل علی گڑھ میں اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ۱۸۹۵ء میں علی گڑھ کالج کے پہلے بلوچستانی طالب علم تھے۔ (۶۰ )
علی گڑھ کی تحریک کے ساتھ ساتھ دارالعلوم دیوبند نے بھی اُردو زبان کے فروغ میں حصہ لیا جہاں برصغیر کے گوشے گوشے سے دینی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے طلباء پہنچتے اور عربی اور فارسی کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں بھی اچھی استعداد حاصل کرتے جو دارالعلوم میں ذریعہ تعلیم کے طور پر مروج تھی ۔ چنانچہ ہم بلوچستان کے کلی عبدالرحمن زئی پشین کے ایک طالب علم مولانا الحاج محمد یعقوب کو انیسویں صدی کے اواخر میں دیوبند میں دیکھتے ہیں ۔ دارالعلوم دیو بند کا قیام ۱۸۶۷ء میں عمل میں لایا گیا تھا۔ (۶۱ )
بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں جنگ عظیم اول میں بلوچستان سے سپاہیوں کی ایک بڑی تعداد مختلف مقامات پر لڑنے کے لیے بھیجی گئی۔ ان میں ہندوستانی سپاہیوں کے علاوہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے افغان نژاد سپاہیوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی شامل تھی ۔ اسی زمانے میں بلوچستان میں اردو صحافت کا آغازبھی ہوا اور بلوچستان سے پہلا اردو روزنامہ راست گو کے نام سے جاری ہوا ۔گو کہ یہ اخبار انگریزوں نے جنگ عظیم کے دوران پروپیگنڈے کے لیے نکالا لیکن اُردو صحافت کی تاریخ میں بیسویں صدی کے اوائل میں نکلنے والے اس اخبار کی تاریخی حیثیت اہمیت کی حامل ہے۔ یہ اخبار ٹائپ میں چھپتا اور تار (ٹیلی گراف) کے ذریعے بمبئی سے خبریں حاصل کی جاتی تھیں۔ انگریزوں کا یہ ترجمان ۱۹۱۸ء میں بند کردیا گیا۔ (۶۲ )
۱۹۲۰ء کے بعد جب بلوچستان میں تحریک آزادی کی ابتداء ہوئی تو عوامی سطح پر اردو زبان اور شاعری دیگر تمام مقامی اور غیر مقامی زبانوں اور بولیوں پر سبقت لے جاتی ہے اور بلوچستان کے طول و عرض میں رابطے کی واحد زبان بن جاتی ہے۔ ۱۹۲۰ء کے بعد سیاسی ، صحافتی ، ادبی ،سماجی ، تجارتی حتیٰ کہ ذاتی رابطوں اور خطوط کی زبان اُردو بن جاتی ہے۔ علامہ اقبال ، مولانا ظفر علی خان اور ان کے اخبار زمیندار کے علاوہ مولانا الطاف حسین حالی اور کچھ خاص مواقع اور محفلوں میں غالب کے اشعار زبان زد عام وخاص ہوجاتے ہیں۔
۱۹۲۰ء سے قیام پاکستان تک اُردو شاعری ، اردو زبان کے فروغ میں نہ صرف لسانی اعتبار سے اپنے گہرے نقوش مرتب کرتی ہے بلکہ علمی اور تخلیقی سطح پر بھی اُردو کی اجارہ داری کو قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔
حوالہ جات :
۱۔ بروہی ، ڈاکٹر عبدالرحمن ، بلوچستان میں عربوں کی فتوحات اوران کی حکومتیں ، زمرد پبلی کیشنز ، مستونگ ، ۱۹۹۰ء ، صفحہ ۱۵۔
۲۔ ایضاً، صفحہ ۴۲۔۸۴۔
۳۔ کامل القادری ، مھمات بلوچستان ، نساء ٹریڈرز، کوئٹہ طبع دوم ۱۹۸۸ء ۔
۴۔ ایضاً، صفحہ ۱۰۷۔
۵۔ رومان ، پروفیسر ایم انور ،سندھ نگر، نساء ٹریڈرز ،کوئٹہ ، ۱۹۸۹ء ، صفحہ ۵۰۔۹۴ ۔
۶۔ رومان ، پروفیسر ایم انور ،سندھ نگر ، نساء ٹریڈرز، کوئٹہ ۱۹۸۹ء ، صفحہ ۵۰۔ ۹۴۔
۷۔ بروہی ، ڈاکٹر عبدالرحمن ، بلوچستان میں عربوں کی فتوحات اور ان کی حکومتیں ، زمرد پبلی کیشنز ، مستونگ ، ۱۹۹۰ء ، صفحہ ۱۵۔
۸۔ براہوئی ، ڈاکٹر عبدالرحمن ، براہوئی، زبان وادب کی مختصر تاریخ ، مرکزی اُردو بورڈ ، لاہور، ۱۹۸۲ء ۔
۹۔ کامل القادری، مھمات بلوچستان ، نساء ٹریڈرز ، کوئٹہ ،طبع دوم ، ۱۹۸۸ء صفحہ ۱۵۲۔
۱۰۔ ایضاً ، صفحہ ۱۵۷۔
۱۱۔ براہوئی ، ڈاکٹر عبدالرحمن ، براہوئی زبان وادب کی مختصر تاریخ ، مرکزی اردو بورڈ، لاہور ، ۱۹۸۲ء ، صفحہ ۲۲۔
۱۲۔ ایضاً ، صفحہ ۲۳۔
۱۳۔ مہر ، ڈاکٹر عبدالحق ، ملتان کے بادشاہ ، نامور گورنر اور حملہ آور، بیکن بکس ، گلگشت ملتان ،۱۹۹۴ء ، صفحہ ۱۱۶۔ ۱۱۹۔
۱۴۔ گیلانی ، سید اولاد علی ، مرقع مولتان ، جاذب پبلیشرز ، لاہور، ۱۹۹۵ء ، صفحہ ۱۱۵۔
۱۵۔ ایضاً ، صفحہ ۹۱۔
۱۶۔ القادری، مھمات بلوچستان، نساء ٹریڈرز ، کوئٹہ، طبع دوم ۱۹۸۸ء ، صفحہ ۱۵۲۔
۱۷۔ احمد زئی ، میر نصیر خان ، تاریخِ بلوچ و بلوچستان (جلد اول ) بلوچی اکیڈمی ، مکران ہاؤس ، کوئٹہ ۱۹۸۸ء ، صفحہ ۰ا۔ ۱۱۔
۱۸۔ خان آف قلات ، میر احمد یار خان ، مختصر تاریخ قوم بلوچ وخوانین بلوچ، ایوان قلات ، سریاب روڈ، کوئٹہ ، ۱۹۷۲ء ، صفحہ ۳۱۔ ۳۲۔
۱۹ ۔ نصیر ، گل خان ، تاریخ بلوچستان ، قلات پبلی شرز ، کوئٹہ ، ۱۹۷۹، صفحہ ۲۔
۲۰۔ ایضاً ، صفحہ ۱۹۔ ۲۰۔
۲۱۔ براہوئی ، ڈاکٹر عبدالرحمن براہوئی زبان کی مختصر تاریخ ، مرکزی اُردو بورڈ ، لاہور، ۱۹۸۲ء ، صفحہ ۳۶۔
۲۲۔ شیخ اکرام ، رود کوثر ، ادارہ ثقافت اسلامیہ ، لاہور، ۱۹۹۵ء ، صفحہ ۵۹۸۔
۲۳۔ لارنس لاک ہارٹ ، نادر شاہ (اردو ترجمہ از طاہر منصور فاروقی ) تخلیقات ، لاہور، ۱۹۹۸ء۔
۲۴۔ براہوئی ، ڈاکٹر عبدالرحمن ، براہوئی زبان وادب کی مختصر تاریخ ، مرکزی اُردو بورڈ ، لاہور، اگست ۱۹۸۲ء صفحہ ۲۳۔ ۲۴۔
۲۵۔ لارنس لاک ہارٹ، نادر شاہ (اُردو ترجمہ از طاہر منصور فاروقی ) تخلیقات ، لاہور، صفحہ ۱۶۱۔
۲۶۔ شیخ اکرام ، رودکوثر، ادارہ ثقافت اسلامیہ لاہور ، ۱۹۹۵ء ۔
۲۷۔ گنڈا سنگھ ، احمد شاہ ابدالی ، (اُردو ترجمہ ) تخلیقات ، لاہور، ۱۹۹۳ء ،صفحہ ۵۲۔
۲۸۔ گنڈا سنگھ ، احمد شاہ ابدالی ، (اُردو ترجمہ ) تخلیقات ، لاہور، ۱۹۹۳ء ، صفحہ ۸۴۔
۲۹۔ شیخ اکرام ، رود کوثر، ادارہ ثقافت اسلامیہ ،لاہور ، ۱۹۹۵ء ، صفحہ ۶۰۰۔
۳۰۔ نصیر، گل خان ، تاریخ بلوچستان ، قلات پبلشرز ، کوئٹہ ، ۱۹۷۹ء ، صفحہ ۵۲۔
۳۱۔ مہر ، غلام رسول ، تاریخ سندھ (حصہ ششم ، جلد اول) محکمہ ثقافت وسیاحت ، حکومت سندھ ، کراچی، صفحہ ۵۰۸۔
۳۲۔ شیخ اکرام ، رود کوثر ، ادارہ ثقافت اسلامیہ ، لاہور ، ۱۹۹۵ء ، صفحہ ۶۰۰۔ ۶۰۱۔
۳۳۔ ذوالفقار ، ڈاکٹر غلام حسین ، اردو شاعری کا سماجی وسیاسی جائزہ ، سنگ میل پبلی کیشنز ، لاہور، ۱۹۹۸ء ، صفحہ ۲۱۴۔
۳۴۔ کوثر، ڈاکٹر انعام الحق ، بلوچستان میں فارسی شاعری ، بلوچی اکیڈمی ،کوئٹہ ، ۱۹۶۸ء، صفحہ ۵۱۔ ۵۴۔
۳۵۔ براہوئی ، ڈاکٹر عبدالرحمن ، براہوئی زبان وادب کی مختصر تاریخ، مرکزی اردو بورڈ ، لاہور، ۱۹۸۲ء ، صفحہ ۹۲۔ ۹۳۔
۳۶۔ صابر، غوث بخش ، بلوچی زبان وادب کی مختصر تاریخ ، مقتدرہ قومی زبان ، اسلام آباد ۱۹۹۷ء ، صفحہ ۲۱/کامل القادری ،مہمات بلوچستان ، نساء ٹریڈرز کوئٹہ ، ۱۹۸۸ء ، ۴۰۱۔
۳۷۔ پیکولین ، بلوچ (اُردو ترجمہ از شاہ محمد مری، صفحہ ۱۵۵) ۔
۳۸۔ مری ، ڈاکٹر شاہ محمد ،بلوچ قوم قدیم عہد سے عصر حاضر تک ، تخلیقات ، لاہور، صفحہ ۱۵۷۔
۳۹۔ لونی ، عزیز ، Passes From Afghan Frontier ، ۱۹۹۲ء ، صفحہ ۱۵۵۔
۴۰۔ مری ، ڈاکٹر شاہ محمد، بلوچ قوم قدیم عہد سے عصر حاضر تک ، تخلیقات، لاہور، صفحہ ۱۶۹۔
۴۱۔ نصیر، گل خان ، تاریخ بلوچستان ، قلات پبلشرز ، کوئٹہ ، ۱۹۷۹ء ، صفحہ ۵۴۸۔ ۵۴۹، ۵۵۴، ۵۵۷۔
۴۲۔ نصیر ، گل خان ، تاریخ بلوچستان ، قلات پبلشرز، کوئٹہ ، ۱۹۷۹ء ، صفحہ ۵۵۶۔
۴۳۔ احمد ، کمال الدین ، صحافت وادی بولان میں ، بلوچی اکیڈمی ، کوئٹہ ، ۱۹۷۸ء ، صفحہ ۸۔
۴۴۔ احمد، کمال الدین ، صحافت وادی بولان میں ،بلوچی اکیڈمی ،کوئٹہ ، ۱۹۷۸ء ، صفحہ ۸۔
۴۵۔ احمد، کمال الدین ، صحافت وادی بولان میں ، بلوچی اکیڈمی ،کوئٹہ ، ۱۹۷۸ء ، صفحہ ۲۸۔
۴۶۔ ایضاً، صفحہ ۱۸۔
۴۷۔ ایضاً
۴۸۔ کوثر، ڈاکٹرانعام الحق ، بلوچستان میں اُردو ، مرکزی اُردو بورڈ ، لاہور ،۱۹۶۸ء ، صفحہ ۱۲۔
۴۹۔ رضوی ، ارشد، عمرانی افکار، کفایت اکیڈمی ، کراچی ، مئی ۱۹۶۶ء ، صفحہ ۱۲۶۔
۵۰۔ احمد ، کمال الدین ، صحافت وادی بولان میں ، بلوچی اکیڈمی ، کوئٹہ ، ۱۹۷۸ء ، صفحہ ۲۲۔
51. Major T.C Fowle, I.A & Rai Bahadur Dewan Jamiat Rai, Census of India, 1921, Vol. iv, Balochistan , Superintendent Government Printing, Culcuta, India, PP-321-30
52. Gazetteer of Baluchistan, 1907
53. Gazetteer of District, Quetta, Pishuin, 1907
54. Census of India, 1921, Vol IV, Baluchistan, 1923
55. Census of India, 1911 Vol. iv, Baluchistan, 1913
۵۶۔ فتحپوری ، ڈاکٹر فرمان ، ہندی اردو تنازعہ ، نیشنل بک فاؤنڈیشن ، اسلام آباد، طبع دوم ۱۹۸۸ء۔
۵۷۔ فتحپوری ، ڈاکٹر فرمان ، ہندی اردو تنازعہ ، نیشنل بک فاؤنڈیشن ،اسلام آباد، طبع دوم ۱۹۸۸ء۔
۵۸۔ فتحپوری ، ڈاکٹر فرمان ، ہندی اردو تنازعہ ،نیشنل بک فاؤنڈیشن ، اسلام آباد طبع دوم ۱۹۸۸ء ، صفحہ ۴۴۔
۵۹۔ ایضاً ، صفحہ ۴۴۔
۶۰۔ شرافت عباس ، سرآب ، جامعہ بلوچستان، کوئٹہ ۱۹۸۷ء ، صفحہ ۵۶۔۶۵۔
۶۱۔ کوثر، ڈاکٹر انعام الحق ، بلوچستان میں اُردو ، صفحہ ۱۵۸۔
۶۲۔ احمد، کمال الدین ، صحافت وادی بولان میں ، بلوچی اکیڈمی ، کوئٹہ ، ۱۹۷۸ء ، صفحہ ۲۲۔