مارلیش میں اردو اسپیلنگ یونین کے چیئرمین
شہزاد عبداللہ سے گفتگو
شریک گفتگو : نبلی پیرزادہ، عظمت زہرا


ماریشس میں اردو اسپیکنگ یونین کے چیئرمین شہزاد عبداللہ مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد تشریف لائے۔ اس موقع پر اُن سے ہونے والی بات چیت قارئین کے لیے پیش خدمت ہے۔
س : ماریشس میں اردو زبان کے پس منظر کے حوالے سے کچھ بتائیے۔
ج : ماریشس کی کل آبادی تیرہ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ جس میں ۷۰ فی صد افراد کا تعلق ہندوستانی پس منظر سے ہے جن میں سے ۱۸ تا ۲۰ فی صد مسلمان ہیں۔ جو اپنے بچوں کو تمام تر دینی تعلیم اردو میں ہی دیتے ہیں اور مسلمان آبادی کا یہی حصہ ماریشس میں اردو کے متعارف ہونے اور اس کے فروغ کی سب سے بڑی وجہ بنا ، اسی بنیاد پر اس چھوٹے سے ملک میں اردو زبان اور پاکستانی ثقافت کو بھی مقبولیت حاصل ہے۔ یہاں شاہرہِ قائداعظم، علامہ اقبال کلب اور پاکستانی ریسٹورنٹ جیسے نام پڑھنے کو ملتے ہیں۔ اردو زبان کو ماریشس میں ایک محبت بھرا مقام حاصل ہے۔ اس بات کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ماریشس کی حکومت نے ’ارو سینٹر‘ کے قیام کے لیے باقاعدہ جگہ فراہم کی ہے۔ جس کی تعمیر کے اخراجات حکومت پاکستان اٹھائے گی۔ اس سینٹر کا باقاعدہ نام ڈاکٹر محمد علامہ اقبال سینٹر ہو گا۔ اگرچہ ماریشس کی سرکاری زبان انگریزی ہے تاہم یونیورسٹی کی سطح تک اردو کو ایک اختیاری مضمون کے طور پر پڑھنے کے مواقع حاصل ہیں۔ اس وقت تقریباً دو سو پرائمری اور سیکنڈری سکولوں میں تقریباً ۱۴۵۰۰ بچوں کو اردو پڑھائی جا رہی ہے جبکہ او۔لیول کی سطح پر تقریباً چار تاساڑھے چار ہزار طلباء یہ زبان سیکھ رہے ہیں۔
س : ماریشس میں اب تک اردو کے فروغ کے لیے کیا کیا کام ہو چکا ہے؟
ج : اردو زبان سے محبت کے اظہار کے لیے مختلف کام کیے جا رہے ہیں۔ ان کاموں میں ایک اردو ویب گاہ کا قیام بھی شامل ہے۔ ’صدائے اردو‘‘ کے نام سے ایک سہ ماہی پرچہ بھی نکالا جاتاہے۔ علاوہ ازیں حال ہی میں ماریشس میں تحریر کیے جانے والے اردو زبان کے پہلے ناول ’’اپنی زمین‘‘ کی تعارفی تقریب ہوئی جسے پروفیسر عنایت حسین عیدن نے تحریر کیا ہے اور ماریشس میں ان کی ہجرت کی کہانی ہے۔ اس ناول کی تقریب رونمائی کراچی میں بھی منعقد کی جا چکی ہے اسی طرح کے دیگر کام بھی ہو رہے ہیں۔ پاکستان سے گہرے لگاؤ کا ایک اہم ثبوت ’’جناح ٹاور‘‘ کے نام سے ایک بیس منزلہ زیر تعمیر عمارت بھی ہے۔ ماریشس کی حکومت ایک اردو چینل کو لانچ کرنے میں ہماری مدد کر چکی ہے۔ وہاں کے لوگ پاکستانی ڈراموں کو بہت پسند کرتے ہیں اور اسی مقصد کے لیے پاکتسان ٹیلی وژن کے ساتھ ایک ایم او یو (MOU)بھی سائن ہو چکا ہے۔
س : اردو زبان میں دیگر کئی زبانوں کے الفاظ بھی شامل ہو رہے ہیں۔ آپ کے خیال میں اس سے اردو زبان کو کوئی خطرہ تو نہیں؟
ج : میرا نہیں خیال یہ بات ٹھیک ہے کہ اردو میں دیگر زبانوں خصوصاً انگلش کے الفاظ بھی شامل ہو رہے ہیں کیونکہ اردو زبان میں اتنی وسعت موجود ہے لیکن یہ کوشش ضرور کی جانی چاہیے کہ اردو کی اپنی منفرد شناخت برقرار رکھی جائے اور جہاں تک ممکن ہوغیر ملکی زبانوں کے الفاظ کو اُردو میں دانستہ شامل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔البتہ سائنسی اصطلاحات وغیرہ جن کے لیے متبادل الفاظ موجود نہ ہوں انھیں اسی طرح استعمال میں لایا جاسکتا ہے لیکن کوشش یہی ہونی چاہیے کہ اردو کے الفاظ کو فروغ دیا جائے ۔
س : کیا سائنس کی تعلیم اردو زبان میں مؤثر طریقے سے دی جا سکتی ہے؟
ج : بالکل دی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں تراجم کی ضرورت پڑ سکتی ہے لیکن ایسا ممکن ہے۔
س : ماریشس میں سماجی زندگی اور تعلیمی نظام کے حوالے سے کچھ بتائیے؟
ج : ماریشس کے لوگ نہایت امن پسند اور محبت کرنے والے ہیں۔ جو ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں اور معاشرتی ہم آہنگی اور مذہبی روا داری کے نظریے پر یقین رکھتے ہیں۔ اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مختلف مقامات پر مسجد اور مندر کی دیوار مشترک ہے۔ تعلیم کی تمام ذمہ داری حکومت پر ہے۔ انٹرمیڈیٹ کی سطح تک تعلیم مفت ہے اور اچھی ملازمتوں میں پرائیویٹ سکولوں اور سرکاری سکولوں سے فارغ التحصیل طلباء کی نمائندگی تقریباً برابر ہوتی ہے۔ پرائیویٹ سکول بھی موجود ہیں جو نسبتاً مہنگے ہیں تاہم سرکاری سکولوں میں بھی تعلیم کا معیار بہت تسلی بخش ہے۔ سکول کے بچوں کے لیے ٹرانسپورٹ بھی مفت ہے۔سرکاری سکولوں میں ذریعہ تعلیم انگریزی ہے جبکہ فرنچ کو لازمی مضمون کی حیثیت حاصل ہے۔ فرانس کی نو آبادیاتی رہنے کے باعث ماریشس کی کثیر آبادی فرانسیسی کا ہی ایک Dilectبولتی ہے اور اس بنا پر اسے انگریزی سیکھنے میں زیادہ دشواری کا سامنا نہیں ہوتا۔ ساتویں آٹھویں جماعت کے مرحلے پر قومی سطح کے ایک امتحان کا انعقاد ہوتاہے اور جو بچے اس امتحان میں کامیابی سے ہمکنار نہ ہوں، انھیں ان کے رجحان کے مطابق مختلف قسم کی Vocational Training دی جاتی ہے۔ اساتذہ کو معاشرے میں بہت احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور انھیں کسٹم ڈیوٹی میں ری بیٹ (Rebate) سمیت بہت سی مراعات حاصل ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک سکول کے بعد اساتذہ کے ٹیوشن پڑھانے کا بھی رواج تھا تاہم اب حکومت نے اس پر پابندی لگا دی ہے جیسا کہ اس طرح طالب علموں کو غیر نصابی سرگرمیوں کے لیے بالکل وقت نہیں ملتا جو ان کی شخصیت کی تعمیر کے لیے اتنی ہی ضروری ہیں جتنی کہ نصابی تعلیم۔ ایک خاص سطح تک تمام لوگوں کے لیے صحت کی سہولیات مفت ہیں۔ شام چھ بجے تمام مارکیٹیں اور خریداری کے مراکز بند ہو جاتے ہیں اور رات آٹھ بجے تک تقریباً تمام آبادی سو جاتی ہے اور علی الصبح بیدار ہوتے ہیں۔
س : ماریشس میں اردو کے فروغ کے لیے مزید کیا اقدامات بروئے کار لانے چاہیئیں؟
ج : ہمیں اپنی شائع ہونے والی کتب، رسائل و جرائد کا تبادلہ کرنا چاہیے۔ ایک فرنچ ۔ اردو ڈکشنری کی بھی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ دونوں ملکوں کے وفود کا تبادلہ ہونا چاہیے۔ بچوں کو اردو سکھانے کے لیے سی ڈی کی شکل میں مواد کی دستیابی نہایت معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
****