لومڑی
گراز یاڈیلیڈا
ترجمہ: عباس ذیدی


مئی کے مہینے کے لمبے اور گرم دن لوٹ آئے تھے اور انکل ٹامس ایک بار پھر گزرے ہوئے سال-- دس سال پہلے__ کی طرح اپنے گھر کے سامنے کھلی فضا میں بیٹھ گئے۔ ان کا گھر پہاڑ کے دامن کے مقابل سیاہ رنگ کے چھوٹے گھروں کی قطار میں آخری تھا۔ موسم بہار نے بلا جواز ہی اپنا شہوانی قسم کے پھیلاؤ کے ساتھ رنگ جمالیاتھا: وہ نحیف و ناتواں بزرگ جو اپنے کالے رنگ کے کتے اور زرد نما پالتو بلی کے درمیان ساکن بیٹھا ہوا تھا، اپنے اردگرد موجود چیزوں کی طرح بے حس و حرکت دکھائی دے رہا تھا۔
رات کا وقت ایسا تھا جب گھاس کی بھینی بھینی خوشبو اسے ان کھیتوں اور چراگاہوں کی یاد دلاتی جہاں اس نے اپنی زندگی کے بیشتر ایام گزارے تھے؛ اور جب چاند، اپنے بھر پور جوبن پر، سمندر کے اوپر، سورج کی سی شکل میں، ابھرتا تھا، جب ساحلی پہاڑ، سلیٹی آسمان کے نیچے سیاہ دکھائی دیتے تھے اور وہ بڑی وادی اور چھوٹی پہاڑیوں کا ہالہ جو افق کے دائیں جانب دکھائی دیتا، اس پر ایک چادر پڑی ہوئی دکھائی دیتی تھی، روشنی اور عکس سے مزین علاقے، اُس خاص وقت میں وہ بوڑھا اور ناتواں شخص بچپن سے تعلق رکھنے والی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے بارے میں سوچا کرتا تھا مثلاً لسبے (Lusbe)سے متعلق، یہ وہ شیطانی چیلا ہے جو بدروحوں کو چراگاہوں میں، جنگلی سؤروں کے روپ میں ، بھیجا کرتا ہے؛ اور اگر کبھی چاند کسی پہاڑ کے پیچھے چھپ جاتا تو وہ بڑی سنجیدگی کے ساتھ ان سات گائیوں سے متعلق سوچتا جنھیں یہ زمین، رات کا کھانا کھاتے وقت ، اپنی کسی مخفی جگہ پر ، بڑی خاموشی کے ساتھ نگل لیتی ہے۔
وہ شاذ ہی کلام کرتا تھا، ایک دن اس کی پوتی زانا (Zana) جب اسے یہ بتانے آئی کہ رات ہو گئی اور بستر میں جانے کا وقت ہو گیا ہے تو اس نے اپنے دادا کو سٹول پر بیٹھے ہوئے اتنا خاموش، ساکن اور بے حس و حرکت پایا کہ وہ سمجھی کہ اس کے دادا اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں۔ خوفزدہ ہو کر اس نے پڑوس سے اپنی آنٹی لینارڈا (Lenarda) کو بلایا، دونوں خواتین بزرگ کو ہلانے جلانے میں کامیاب ہو گئیں، اسے کمرے میں پہنچایا جہاں وہ آتش دان کے سامنے قالین پر دراز ہو گیا۔
زانا (Zana)نے اپنے دادا کو ہاتھ لگا کر کہا، ’’آنٹی ! ہمیں ڈاکٹر کو بلانا ہوگا دادا ابو کسی لاش کی طرح ٹھنڈے ہو رہے ہیں‘‘۔
’’
ہمارا ڈاکٹر یہاں سے چلا گیا ہے۔ وہ دو مہینے کے لئے ملک (اٹلی) کے مرکزی حصے کی طرف گیا ہے تاکہ وہاں کان کی بیماریوں سے متعلق مزید تعلیم حاصل کر سکے کیونکہ اس کے خیال میں اس کے گرد و نواح میں سب لوگ بہرے ہو رہے ہیں اور وہ جب ان سے کھیتوں کا ٹھیکہ دینے کے لئے کہتا ہے تو۔۔۔۔۔ کہ جیسے اس نے یہ زمین لوگوں کے پیسوں سے نہ خریدی ہو، اللہ اسے عدل سے کام لینے کی توفیق عطا کرے! اور اب اس ڈاکٹر کی بجائے شہر کا ایک احمق اور چھچھورا ڈاکٹر موجود ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ شاہِ ہسپانیہ کا درباری طبیب ہے، کیا معلوم وہ یہاں آئے یا نہ آئے؟ ‘‘
زانا نے کہا، ’’آنٹی اسے یہاں آنا ہی ہوگا، وہ ایک مریض کو (گھر جا کر) دیکھنے کے بیس لیرے (Lire) وصول کرتا ہے‘‘۔
اور وہ خاتون ڈاکٹر کو بلانے چلی گئی۔
ڈاکٹر کے گھر میں کوئی متبادل ڈاکٹر موجود تھا اور اس پورے علاقے میں وہ ہی واحد ڈاکٹر تھا۔ ڈاکٹر کا گھر باغیچے اور درختوں سے گھرا ہوا تھا اور صحن میں انگور اور تخم دان کی بیلیں چڑھی ہوئی تھیں، یہ گھر اس متبادل ڈاکٹر کے لئے بھی ایک آرام دہ اور پر سکون جگہ تھی، جو ایک ایسے چھوٹے سے قصبے کا رہائشی تھا جہاں بڑے شہروں کی تمام تراچھائیاں اور برائیاں موجود تھیں اور ہر قسم کے لوگوں کی بہتات تھی جیسے قاتل، پیشہ ور عورتیں اور جواری وغیرہ ۔
آنٹی لینارڈا جب ڈاکٹر کے گھر پہنچی تو اسے اپنے ڈائننگ روم میں بیٹھا کتاب کے مطالعے میں غرق پایا، آنٹی لینارڈا یقیناً اس نتیجے پر پہنچتی کہ یہ کوئی طب کی اہم کتاب ہے کیونکہ ڈاکٹر کی اس کتاب پر توجہ قابل دید تھی۔
پیشتر اس کے کہ وہ ڈاکٹر آنٹی لینارڈا کی موجودگی اپنے کمرے میں محسوس کر سکے، ڈاکٹر کی آیا کو دو مرتبہ اسے آواز دے کر کہنا پڑا کہ یہ خاتون آپ سے ملنے آئی ہیں۔ ڈاکٹر نے کتاب فوراً بند کی اور آنٹی کے ساتھ چل پڑا۔ وہ ایک لفظ بھی نہ بولا اور اس ناہموار راستے پر اس خاتون کے ساتھ چلتا رہا۔
اس وادی کے وسط میں پہنچ کر، خاتون کے گھر کی کھڑکی کے سامنے ڈاکٹر کی نظر پہاڑ کی چوٹیوں پر پڑی۔ اس وادی میں پھیلی ہوئی خالص خوشبو میں گڈریوں کے چھوٹے فارمز سے آنے وال بُو کی بھی آمیزش تھی، اس کیفیت میں ایک اداسی اور ایک خوبصورتی بھی تھی، لیکن انکل ٹامس کے صحن میں گھاس کی خوشبو غالب تھی، دیوار کے قریب چاندنی کے سے عکس میں ڈاکٹر نے ایک حسین اور خوبصورت لڑکی کو کھڑے دیکھا وہ خوبرو لڑکی ڈاکٹر کو دیکھ کر فوراً کچن میں چلی گئی موم بتی لیکر آئی اور اپنے دادا کے سامنے گھٹنوں کے بل کھڑی ہو گئی جبکہ آنٹی لینارڈا ساتھ والے کمرے سے ڈاکٹر کے لئے ایک کرسی لانے کے لئے دوڑی۔
پھر اس نے سر اٹھا کر ڈاکٹر کی طرف دیکھا، ڈاکٹر نے ایسا لطف محسوس کیا جسے وہ ساری زندگی فراموش نہیں کر سکا۔ اس نے خیال کیا کہ اس نے پہلے کبھی بھی کسی عورت کا چہرہ اتنا حسین و جمیل اور ترو تازہ نہیں دیکھا۔ جتنا اس لڑکی کا ہے، ایک کشادہ پیشانی جس پر دلکش بھنویں (جس میں ایک ، دوسری سے ذرا سی ابھری ہوئی تھی) سیاہ چمکدار بال؛ واضح اور باریک سی ٹھوڑی؛ گالوں کی ہڈیاں ستواں جو اس کے گالوں پر ہلکا سا عکس ڈال رہی تھیں؛ سفید اور سیدھے دانت ، جو اس کے تفخر بھرے چپرے پر معمولی سے ظالم ہونے کا تاثر دے رہے تھے؛ جبکہ اس کی گہری سیاہ آنکھوں میں اداسی بھری ہوئی تھی۔
زانا نے جب یہ محسوس کیا کہ اسے اتنے غور سے دیکھا جا رہا ہے تو اس نے اپنی نگاہیں جھکا دیں اور پھر نہیں اٹھائیں لیکن جب اس کے دادا نے ڈاکٹر کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں دیا تو وہ دھیمے سے انداز میں بولی: ’’یہ تقریباً بیس سال سے بہرے ہیں‘‘۔
’’
اوہ! آپ نے پہلے نہیں بتایا، چلیں ان کے پاؤں دھلانے کے لئے پانی کا بندوبست کریں، ان کے پاؤں انتہائی ٹھنڈے ہو رہے ہیں‘‘۔
’’
کیا پاؤں کا دھلانا انہیں ناگوار نہیں گزرے گا؟‘‘ آنٹی لینارڈا نے زانا سے مشورہ لینے کے سے انداز میں پوچھا، ’’ انہوں نے اپنے بوٹ آٹھ مہینے سے نہیں اتارے ‘‘!
’’
تو کیا آپ انہیں یہیں چھوڑنا چاہتے ہیں؟ ‘‘
’’
اس کے علاوہ ہم انہیں کہاں چھوڑیں؟ یہ ہمیشہ اسی جگہ سوتے ہیں‘‘۔
ڈاکٹر کھڑا ہوا، نسخہ لکھا، اسے زانا کے ہاتھ میں تھمایا اور اپنے اردگرد دیکھا۔
وہ جگہ کسی غار کی طرح سیاہ تھی، وہ کسی لکڑی کی سیڑھی کے ذریعے،پچھلی طرف سے راستہ نکال سکتا تھا؛ یہاں پر موجود ہر چیز انتہا درجے کی غربت کی عکاسی کر رہی تھی۔ اس نے بڑے رحمدل انداز سے زانا کو دیکھا، وہ اتنی دبلی پتلی اور گوری لگ رہی تھی کہ اسے کسی غار کے دہانے میں اگنے والا سوسن سفید یاد آگیا۔
پھر ڈاکٹر نے جھجکتے ہوئے کہا، یہ بزرگ کم غذائی کا شکار ہیں، اور آپ کو بھی مناسب غذا نہیں ملتی۔ آپ دونوں کو وافر اور بہتر غذا کی ضرورت ہے۔ اگر آپ۔۔۔۔‘‘وہ فوراً ہی سمجھ گئی اور بولی، ’’جی ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں ‘‘!
زانا کا لہجہ اتنا طنز بھرا تھا کہ ڈاکٹر وہاں سے چلتا بنا۔
ڈاکٹر اس وادی کے کچے پکے اور اونچے نیچے راستے سے ہوتا ہوا واپس اپنے گھر واپس آگیا۔ چاند نے اپنے ہالے کو منور کیا ہوا تھا، اور انگور کی بیل انگوروں کے گچھوں سے لدی ہوئی تھی اور اُن کی خوشو مخمور کن تھی۔اس کی بوڑھی آیا دروازے کے قریب ہی کھڑی تھی، زانا کا خوبصورت اور عجیب و غریب تاثرات سے بھرا چہرہ اس کے ذہن میں سمایا ہوا تھا۔ اس نے اپنی آیا سے پوچھا، ’’کیا تم انکل ٹامس اچیٹو کو جانتی ہو؟ ‘‘
’’
اچیٹو خاندان کو کون نہیں جانتا، انہیں میرے علاقے نورو (Nuoro)تک جانا جاتا ہے، کئی تعلیم یافتہ افراد زانا سے شادی کے خواہش مند ہیں‘‘۔
’’
جی وہ بہت خوبصورت ہے، میں نے اسے پہلے نہیں دیکھا تھا‘‘۔
’’
وہ باہر نہیں نکلتی، پردیسی لوگ ، نورو (Nuoro) تک سے یہاں آتے ہیں کہ اس کی ایک جھلک دیکھ سکیں اور اس مقصد کی خاطر اس کے گھر کے قریب سے ہوکر گزرتے ہیں‘‘۔
’’
کیا قصبے کے منادی کرنے والے نے اس کی خوبصورتی اور اس کے حسن کی منادی کی تھی؟ ‘‘
’’
نہیں میرے پیارے! ایسا نہیں ہے، بات یہ ہے کہ وہ بوڑھا شخص اتنا امیر کبیر اور رئیس ہے کہ اسے خود اپنی جاگیر اور دولت کا اندازہ نہیں۔ جاگیر اتنی بڑی ہے کہ جتنا ہسپانیہ کا رقبہ۔ اور لوگوں کا کہنا ہے کہ اس بوڑھے شخص کے پاس بیس ہزار سکوڈی (۱ )(Scudi)ہیں جو کسی جگہ مدفون ہیں۔ صرف زانا کو اس جگہ کا علم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ڈون جو اشینو (Don Juacchinu) سے بھی شادی نہیں کرنا چاہتی، کیونکہ اس کا شمار اشرافیہ میں تو ہے لیکن وہ دولت مند نہیں‘‘۔
’’
کیا میں یہ جان سکتا ہوں کہ اتنی دولت آئی کہاں سے‘‘؟
اس دنیا کی چیزیں کہاں سے آتی ہیں؟ لوگوں کا خیال ہے ( میں اپنے حوالے سے کوئی بات نہیں کر رہی) کہ پرانے اور اچھے دنوں میں جب رسالے کے سپاہی اتنے تیز نہیں ہوتے تھے جتنے آج کل چھتر بند سوار تو اس وقت کوئی گڈریا اپنے گھر لوٹتے وقت پنیر کی بوری لے کر واپس آتا اور کوئی سونے کے سکے اور چاندی کی پلیٹ لے کر۔۔۔ ‘‘
اس بوڑھی آیا نے ان تمام چیزوں کو مربوط کرنا شروع کر دیا ، یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ اپنی یاد داشت سے کہانیاں جوڑتی چلی جا رہی ہے اور وہ شخص سنتا چلا جا رہا ہے اور انگور کی بیل کا عکس سونے کی ٹکڑیوں کی صورت گھر میں پھیل رہا تھا، تب ڈاکٹر زانا کی مسکراہٹ اور اس کے الفاظ، ’’ہم سب کچھ کر سکتے ہیں‘‘ کو سمجھ پایا۔
ان لوگوں کے گھر جانے کی ایک دن بعد ڈاکٹر ایک مرتبہ پھر وہاں گیا: وہ بوڑھا شخص قالین پر بیٹھا بڑے دھیمے اور پر سکون انداز میں ڈبل روٹی کو ٹھنڈے پانی میں بھگو کر کھا رہا تھا، اس کے ایک طرف کتا بیٹھا تھا اور دوسری طرف بلی۔ سورج کی شعاعیں دروازے سے چھن کر اندر آ رہی تھیں اور ماہ مئی کی خوشگوار ہوا نے بوڑھے شخص کے کمرے سے آنے والی چمڑے کی بو کو معتدل کر دیا تھا۔
’’
ان کی طبیعت کیسی ہے؟ ‘‘
زانا نے اپنی آواز میں طنز کی معمولی سی آمیزش کے ساتھ جواب دیا، ’’بہتر ہیں! آپ دیکھ سکتے ہیں‘‘۔
’’
جی میں دیکھ سکتا ہوں، انکل ٹامس! آپ کی عمر کتنی ہے؟ ‘‘
انکل ٹامس نے جواب میں اپنے باقی ماندہ چند سیاہ دانت دکھاتے ہوئے کہا،’’جی میں ایسا کر سکتا ہوں !‘‘
زانا فوراً بولی،’’یہ سمجھئے کہ آپ چبانے سے متعلق کچھ کہہ رہے ہیں‘‘۔ پھر زانا نے اپنے دادا پر جھک کر اپنی انگلیاں دکھاتے ہوئے اشارہ کیا، ’’اس طرح ، کیا یہ درست نہیں‘‘؟
’’
جی! ۹۰ سال، اللہ مجھے سلامت رکھے‘‘۔
’’
بہت بہتر، میرا خیال ہے آپ سو سال تک زندہ رہیں گے، یا شائد اس سے بھی زیادہ !
اور زانا آپ! کیا آپ ان کے ساتھ اکیلی ہی رہتی ہیں؟ ‘‘
اس کے بعد زانا نے تفصیلاً بتایا کہ اس کے دیگر رشتہ دار، اس کی آنٹیاں، انکل، چچا زاد، بوڑھے اور بچے کس طرح فوت ہوئے؛ وہ موت کے بارے میں اتنے سادہ اور سہل انداز میں گفتگو کررہی کہ جیسے یہ کوئی غیر اہم اور معمولی سا واقعہ ہو؛ پھر ڈاکٹر بوڑھے شخص کی طرف متوجہ ہوا اور چیخنے کے سے انداز میں کہا، ’’آپ رہن سہن میں تبدیلی لے کر آئیں! صفائی ستھرائی! بھنا ہوا گوشت ! معیاری شراب اور ذرا زانا کو بھی اپنی زندگی سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کریں‘‘۔
جواب میں بوڑھے شخص نے کہا: ’’وہ کب واپس آرہا ہے؟ ‘‘
’’
کون‘‘؟
زانا نے جواب میں کہا، ’’اوہ ! بات دراصل یہ ہے کہ دادا ابو ان ڈاکٹر صاحب کا انتظار کر رہے ہیں جو اس علاقے میں مستقل تعینات ہیں ، کہ وہ واپس آئیں اور ان کے کانوں کا علاج کریں‘‘۔
’’
شاندار! اس کا مطلب ہے کہ ہمارے ڈاکٹر صاحب کی شہرت ہو چکی ہےُ‘‘۔
وہ بوڑھا شخص چیزوں کو اپنے ہی خاص انداز میں سمجھے چلا جا رہا تھا۔ اس نے اپنی بوسیدہ اور پھٹی ہوئی جیکٹ کی آستین کو پکڑا، جو میل سے اٹی ہوئی تھی، اور بولا، ’’میلی! یہ ایک رواج بن چکا ہے۔ جو لوگ امیر کبیر ہوں انہیں اپنی دولت دکھانے کی ضرورت نہیں‘‘۔
حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر نے اپنے قصبے میں جن لوگوں کو صاف ستھرا دیکھا اور پایا وہ یقینی طور پر غریب لوگ ہی تھے؛ امیر کبیر لوگ اپنے کپڑوں اور اپنی طنزیہ وضع قطع پر توجہ نہیں دیتے، شائد وہ اسی طرح سہولت محسوس کرتے ہیں۔ اس نے ایک دن آنٹی لینارڈا کو دیکھا جو اس کے صحن میں، کسی ملازمہ جیسا لباس پہنے، اس کا انتظار کر رہی ہے، اگرچہ وہ بھی ایک امیر خاتون ہے جس نے ۴۳ سالہ ہونے کے باوجود ایک بیس سالہ خوبرو نوجوان سے شادی کی ہے۔
’’
صبح بخیر ڈاکٹر! مجھے آپ سے ایک کام ہے۔ میرا خاوند جیکو (Jacu)فوج کی ملازمت کی وجہ سے دوسرے شہر میں ہے، اب جبکہ بھیڑوں کی اون اتارنے کا دن (تہوار) قریب ہے تو میں چاہتی ہوں کہ وہ چھٹی لے کر گاؤں آجائے، کیا آپ کی شاہی دربار میں کوئی شناسائی نہیں‘‘؟
’’
نہیں محترمہ! اتفاق سے نہیں ‘‘
’’
میں نے اپنے( مستقل طور پر تعینات )ڈاکٹر سے یہ بات کی تھی کہ آپ جب بھی روم جائیں اس بات کا خیال رکھیں، انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا لیکن پھر وہ بھول جاتے ہیں۔ میرا خاوند جیکو ایک خوبرو نوجوان ہے (میں اس لئے شیخی نہیں بھگارر ہی کہ میں اس کی بیوی ہوں) اور شہد کی طرح میٹھا ہے۔۔۔۔ وہ اپنی شخصیت کی ذرا سی جھلک دکھا کر سب کچھ حاصل کر سکتا ہے۔۔۔۔۔ ‘‘
اس نے یہ خاص بات کرتے ہوئے اپنے تکلے کو حرکت دی۔ ڈاکٹر نے کچھ نہ کہا اور مسکراتا رہا۔
’’
محترمہ! اس دنیا میں اپنی پسند کی ہر چیز حاصل کرنے کے لئے صرف جھلک اور دبدبہ ہی کافی نہیں‘‘۔
پھر وہ ڈاکٹر اپنے گھر واپس چلا گیا اور اس کے ذہن میں زانا اور ماضی کی بہت سی چیزیں آنے لگیں۔ وہ سوچ رہا تھا کہ وہ کبھی اپنی جوانی میں خوبرو اور وجیہہ ہوتا تھا لیکن اب اس کے پاس کچھ نہیں نہ تو اس کے پاس محبت ہے ، نہ دولت اور نہ ہی خوشی۔ یہ بات بھی درست ہے کہ اس نے ان چیزوں کے لئے تگ و دو بھی نہیں کی، شائد وہ اس چیز کے انتظار میں رہا کہ وہ چیزیں اچانک خود اپنی ’’پیش کش‘‘ کریں گی؛ اور وہ مسلسل ان کی راہ تکتا ہی رہا اور وقت ضائع ہوتا رہا لیکن گزشتہ چند سالوں کے دوران اسے باغیانہ خیالات کے دورے پڑتے رہے؛ اس نے اپنی جائیداد فروخت کر دی اور محبت، دولت اور خوشی کی تلاش میں نکل پڑا۔ ایک دن اسے یہ احساس ہوا کہ ان چیزوں کو خریدا نہیں جا سکتا اور جب اس کی جیب خالی ہو گئی تو وہ واپس اپنے چند مریضوں کے پاس گیا، ان کے ساتھ ہنسی مذاق کیا، بے مقصد قسم کی طویل چہل قدمی کی ، اور پیلے رنگ کی جلد والے فرانسیسی ناول پڑھے۔
دوسری طرف آنٹی لینارڈا اس بات کی قائل تھی کہ خوبصورت نگاہیں اور شخصیت کا رعب ہر چیز کے حصول کو ممکن بناتا ہے، اس کے خیال میں اب بوڑھے شخص کی طبیعت تو درست ہو چکی ہے، ڈاکٹر ان کے گھر میں بار بار جاتا ہے اور شائد وہ زانا میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اس نے زانا سے ایک مرتبہ پوچھا،’’کیا تم اس ڈاکٹر کونہیں بتا دیتیں۔ ہر شخص بھیڑوں کی اون اتارنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے، لیکن مجھے اجرت پر یہ کام نہیں کروانا۔ یہ ڈاکٹر آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر تمہاری طرف دیکھتا ہے، اگر تم اسے جیکو کی چھٹی کے لئے کہو تو یہ کبھی بھی تمہیں انکار نہیں کرے گا‘‘۔
زانا نے وعدہ نہیں کیا؛ پھر کچھ دن گزرنے کے بعد جب گرم ہوا، صاف نیلا آسمان اور چمکتی دھوپ نا قابل بیان اداسی پھیلا دیتے ہیں، ڈاکٹر انکل ٹامس کے گھر گیا اور گھر کے سامنے ہی کرسی پر جا کر بیٹھ گیا تو زانا نے اس سے مذاق کیا اور کچھ بیماریوں کی وجوہات کے بارے میں پوچھا، (دوائیوں میں استعمال ہونے والے) زہر کیسے تیار کئے جاتے ہیں، اس نے بڑے سکون کے ساتھ اور بہت سی چیزوں کے بارے میں بھی باتیں کیں مگر اس نے وہ بات نہیں کی جو اس کی ہمسائی چاہ رہی تھی۔
کبھی کبھار آنٹی لینارڈا بھی زانا اور ڈاکٹر کی گفتگو میں شامل ہوتی۔ یہ بات ڈاکٹر کو پسند نہیں آئی کیونکہ وہ زانا کے ساتھ تنہائی میں گفتگو کرنا چاہتا تھا، اور اسے اس بات کا بھی یقین ہو جاتا تھا کہ انکل ٹامس اب سوچکے ہیں، اس کی وجہ یہ تھی کہ رات کی ہوا بہرے شخص کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے۔ آنٹی لینارڈا کو صرف بھیڑوں کی اون اتارنے کی فکر تھی۔
وہ ڈاکٹر سے کہتی، ’’محترم ڈاکٹر صاحب! ذرا ان خوشیوں کے تہواروں کی طرف دیکھیں جو آنے والے ہیں سین میکلے (San Michele) اور سین کونستینٹیو San) (Constantinoکی ضیافت میں آپ کو ضرور مدعو کروں گی اگر جیکو آجائے، اس کے بغیر میرے لئے یہ تہوار اور ضیافتیں مرگ سے کم نہیں ‘‘۔
’’
محترمہ! کیا آپ حقیقت جاننا چاہتی ہیں؟ وہ لوگ جیکو کو صرف ایک ہی صورت میں چھٹی دے سکتے ہیں، اگر آپ بیمار ہوں تو، لیکن آپ تو اچھی صحت کی مالک، تندرست و توانا ہیں‘‘۔ پھر اس خاتون نے شکایات شروع کر دیں؛ جب سے جیکو گیا ہے مجھے اپنے جسم میں مختلف قسم کے درد محسوس ہوتے ہیں اور اب جبکہ اون اتارنے کا وقت قریب ہے تو اس کی تکلیف شدید تر ہو گئی ہے۔ ڈاکٹر کو مزید قائل کرنے کے لئے وہ بستر پر دراز ہوگئی۔ ڈاکٹر نے اس کا معائنہ کیا، سرٹیفکیٹ لکھ دیا اور کچھ دوائیں بھی تجویز کر دیں۔ زانا اس خاتون کے قریب ہی کھڑی رہی، لالٹین کی سرخ روشنی میں دوا نکالی اور دھیمے سے انداز میں کہا: ’’یہ زہر نہیں، کیا ایسا ہی ہے‘‘؟
پھر وہ گھر کے صحن میں چلی گئی جہاں ڈاکٹر ،پینٹ کی ہوئی کرسی پر بیٹھا تھا۔ وہ ابتدائی ماہ جون کی ایک شام تھی گرمی اور خوشبو سے معطر، محبت اور خوشگوار یادوں سے بھر پور اور ان یادوں کا تعلق ڈاکٹر کے ماضی سے تھا، جوتلخ بھی تھیں اورشیریں بھی، جس طرح اس نیم تاریکی میں ڈوبی وادی میں ایک تلخ و خوشگوار بو پھیلی ہوئی تھی جوجنس کنیر کی تھی۔ اس نے اپنی کرسی ذرا سی آگے کی اور زانا کے قریب ہو گیا، پھر ان کی معمول کی گفتگو شروع ہوگئی۔ معمول کے مطابق کوئی گڈریا انکل ٹامس کے گھر کے قریب سے گزرتا مگر وہ ان کے گھر میں ڈاکٹر کو دیکھ کر حیرت میں گرفتار نہ ہوتا۔ اب ہر کوئی جان گیا تھا کہ ڈاکٹر مسلسل زانا سے ملنے آتا ہے اور یہ کہ زانا اسے قبول کرلے گی ورنہ وہ اسے اپنے قریب نہ آنے دیتی۔ لیکن وہ دونوں معمول کے مطابق بڑی معصومانہ گفتگو کرتے جس میں فصلوں ، زہریلی جڑی بوٹیوں اور ادویات کے موضوعات زیر بحث آتے۔
’’
جنسِ کنیر؟ نہیں یہ زہریلی نہیں، لیکن شوکران زہر ہے، کیا تمہیں معلوم ہے یہ کیسی دکھائی دیتی ہے؟ ‘‘
’’
جی، کون نہیں جانتا‘‘۔
’’
اسے زہرِ خند کی بھی کہتے ہیں یہ لوگوں کو ہنسا ہنسا کر مار دیتا ہے۔۔۔۔ جیسے تم ‘‘
’’
چلیں ڈاکٹر صاحب میری کلائی چھوڑ دیں۔ مجھے آنٹی لینارڈا کی طرح بخار نہیں ہے‘‘۔
’’
بخار مجھے ہے، زانا‘‘۔
’’
پھر تھوڑی سی مقدار میں کونین لے لیں، یا یہ بھی زہر ہے‘‘؟
’’
آج تم زہر سے متعلق ہی گفتگو کیوں کر رہی ہو؟ کیا تم کسی کے قتل کا ارادہ رکھتی ہو؟
اگر ایسا ہے تو تم مجھے بتاؤ، میں تمہاری خاطر اسے مار دوں گا۔۔۔ لیکن۔۔۔۔؟ ‘‘
’’
لیکن؟ ‘‘
’’
لیکن۔۔۔۔ ‘‘
وہ زانا کی کلائی دوبارہ تھام لیتا ہے، اور زانا بھی بخوشی ایسا کرنے دیتی ہے۔ چاروں طرف اندھیرا چھا چکا تھا اور ادھر ادھر سے کوئی بھی انہیں دیکھ نہیں سکتا تھا۔
’’
جی ! مجھے تھوڑے سے زہر کی ضرورت ہے، لومڑی کے لئے‘‘۔
’’
ہیں! کیا وہ اتنا قریب آجاتی ہے؟ ‘‘
’’
جی آجاتی ہے! چلیں اب تو میرا ہاتھ چھوڑ دیں،‘‘ زانا ذرا با رعب انداز میں ڈاکٹر سے مخاطب ہوتی ہے اور اپنا ہاتھ چھڑوا لیتی ہے، لیکن ڈاکٹر اس کا دوسرا ہاتھ، انتہائی مضبوطی سے ،تھام لیتا ہے جیسے وہ کوئی چور ہو۔
’’
زانا! مجھے ایک بوسہ لینے دو، صرف ایک‘‘۔
’’
آپ یہاں سے جا سکتے ہیں، اور جا کر جلتی ہوئی لکڑی کا بوسہ لے سکتے ہیں۔ لیکن۔۔ ٹھیک ہے، اگر آپ مجھے زہر فراہم کر دیں تو۔۔ وہ لومڑی آتی ہے اور ہماری بھیڑوں کے نو زائیدہ بچوں کو لے جاتی ہے۔۔۔۔ ‘‘
جب ڈاکٹری سر ٹیفکیٹ کی ہمراہی میں جیکو کی چھٹی کی درخواست ارسال کر دی گئی تو آنٹی لینارڈا اپنے کام سے کام رکھنے لگی۔ اور وہ اس بات کو جا ن گئی کہ ڈاکٹر اب اس لڑکی کا گرویدہ ہو چکا ہے جو دن میں دو مرتبہ انکل ٹامس کے گھر آتا ہے اور وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس قصبے میں تعینات ڈاکٹر کی واپسی سے قبل ہی انکل ٹامس کے بہرے پن کا علاج کر دے گا۔ زانا بے کیف سی ہو گئی تھی، وہ اس ڈاکٹر کے سامنے کبھی کبھار آتی، اکثر اپنے کمرے میں بند رہتی، جیسے مکڑی اپنے جالے میں رہتی ہے۔
وہ صرف اتوار کو عبادت کی غرض سے باہر نکلتی، ڈاکٹر گرجا گھر کے قریب اس کا انتظار کرتا۔ ایک ایک کر کے خواتین گرجا گھر میں داخل ہوتیں، انہوں نے اتوار کی مناسبت سے ہی کپڑے زیب تن کئے ہوتے، کڑھے ہوئے ایپرن، اپنے ہاتھ باندھے ہوئے، یا اپنے ہاتھوں میں بچے تھامے ہوئے، سرخ رنگ کے چوغوں میں ملبوس جن پر نیلے رنگ کی صلیبیں بنی ہوئی تھیں، عبادت کے لئے چلی آتیں، جب وہ ایک خاص مقام پر رکتیں تو وہ اپنا رُخ نورو (Nuoro)کے اس پہاڑ کی طرف کرتیں، جس پہاڑ پر حضرت عیسٰی ؑ کا مجسمہ بنایا ہوا ہے، اور دعا مانگتیں۔ سورج کی شعاعیں ان کے یونانی نژاد چہروں سے منعکس ہوتیں۔ لیکن وہ ’’گنہگار‘‘ ڈاکٹر صرف زانا کی طرف ہی دیکھتا اور لوگوں کا یہی خیال تھا کہ ٹامس اچیو کی بیٹی نے اس ڈاکٹر کو مردم گیاہ کی بوٹی پلا دی ہے۔
ایک دن خواتین کے ، اسی نوعیت کے، جلوس میں چند مرد بھی چلے آرہے تھے، ان میں سے ایک جیکو تھا جوآج کل چٹھیوں پر آیا ہوا تھا۔ وہ واقعی خوبرو اور لاجواب تھا، لمبا وجیہہ، کلین شیو، سبز آنکھوں والا، اور اس کی آنکھوں میں اتنی جاذبیت تھی کہ اس کے قریب سے گزرنے والی خواتین ،نہ چاہتے ہوئے بھی ،اس پر توجہ دینے پر مجبور ہوجاتیں جبکہ وہ فتح کرنے کی صلاحیت پیدا کر دی تھی لیکن چیزوں کی، نہ کہ عورتوں کی۔ جیسے ہی وہ چھٹی پر آیا ڈاکٹر کا شکریہ ادا کرنے اس کے گھر گیا اور اس اون اتارنے والے تہوار پر ضیافت کی دعوت دی۔ ڈاکٹر نے اس سے خالص اطالوی زبان میں گفتگو کی اور اس نے بھی بھر پور انداز میں اس کا ساتھ دیا۔ پھر ڈاکٹر نے اس سے پوچھا: ’’کیا آپ خاصے لوگوں کو مد عو کر رہے ہیں؟‘‘ اس نے جواب دیا، ’’جی یقیناً، کیونکہ یہ خاندان بہت بڑا ہے اور میرے جیسے شخص کے-- اگرچہ دشمن بھی بہت ہیں--دوست بہت بڑی تعداد میں ہیں۔ اس کے علاوہ میں بہت وسیع النظر ہوں اسی لئے میں نے لینارڈا کے پہلے خاوند کے رشتہ داروں کو بھی مدعو کیا ہے، وہ مجھے قتل بھی کر سکتے ہیں، اگر لینارڈا کے تین خاوند بھی ہوتے تو میں ان سب کے رشتہ داروں کو مدعو کرتا‘‘۔
’’
آپ بہترین قسم کے سماجی انسان ہیں۔ آپ کو کامیابی و کامرانی نصیب ہو، میں سمجھا آپ اپنے ہمسایوں کو بھی مدعو کریں گے !‘‘
ایک سماجی اور کامیاب شخص ہونے کے ناطے جیکو نے ایسا رویہ اختیار کیا جیسے وہ زانا کے لئے ڈاکٹر کی دیوانگی کو جانتا ہی نہیں۔
’’
جی یہ بات درست ہے کہ ایک پڑوسی کی حیثیت رشتہ دار سے زیادہ ہی ہے‘‘۔
بالآخر تہوار کا دن آہی گیا آنٹی لینارڈا ، زانا اور دیگر خواتین اس چھکڑے میں بیٹھ گئیں جسے جیکو چلا رہا تھا۔
بھیڑوں کا ریوڑ چراہ گاہ میں تھا اور وہ مضبوط چھکڑا، جسے دو سیاہ بیل کھینچ رہے تھے اونچے نیچے راستے پر ہچکولے کھا رہا تھا؛ لیکن جو خواتین اس میں بیٹھی تھیں وہ بالکل بھی خوفزدہ نہیں تھیں اور زانا اپنے گھٹنوں کو پکڑے بڑے اطمینان سے بیٹھی ہوئی تھی جیسے وہ اپنے کمرے کے آتش دان کے سامنے بیٹھی ہو۔ وہ اداس دکھائی دے رہی تھی لیکن اس کی آنکھوں میں ایک خفیہ قسم کی چمک موجود تھی جیسے جنگل کے وسط میں کوئی چنگاری چمک رہی ہو۔
جیکو بڑے خوشگوار اور مزاحیہ انداز میں بولا، ’’ہمسائی صاحبہ! معاف کرنا آپ کا چہرہ کسی مردہ شخص کی طرح لگ رہا ہے۔ وہ آجائیں گے؛ آجائیں گے، وہ عبادت کے اختتام پر پادری کے ساتھ آجائیں گے۔۔۔ ‘‘
پھر ایک اور خاتون نے مذاق کیا، ’’زانا خوش ہو جاؤ، میں ایک سر پٹ دوڑتے گھوڑے کی آواز سن رہی ہوں جو کسی شیطان کی طرح ادھر آرہا ہے‘‘۔
’’
یہ کرسی کیسی ہے! اور اس زنجیر (چین) کی کیا قیمت ہو گی؟ نو ریالی(۲ ) (Reali) ؟ اس پر زانا خفا ہو گئی،’’تم پر قہر ناز ل ہو! مجھے اکیلا چھوڑ دو، اگر آج میں اس شخص کی طرف دیکھ بھی لوں تو کوّے میری آنکھیں نکال لیں۔۔۔ ‘‘
ڈاکٹر اور پادری دوپہر سے ذرا پہلے وہاں پہنچ گئے، ان کا خیر مقدم کیا گیا۔ شاہ بلوط کے ایک درخت کے نیچے جیکو، اس کا ایک ملازم اور اس کے دوست بھیڑوں کی اون اتارنا شروع ہو گئے، بھیڑوں کو نیچے لٹا کر، انہیں قابو کر کے ، یہ کام ایک بڑے پتھر پر کیا جا رہا تھا جو ایک قربان گاہ دکھائی دے رہا تھا۔ جنگلی گھاس میں کتے ایک دوسرے کا پیچھا کر رہے تھے، درختوں پر پرندے چہچہا رہے تھے، ایک بوڑھا شخص جو کسی معتبر مذہبی شخصیت کی طرح دکھائی دے رہا تھا، اون اکٹھی کر کے بوری میں بھرتا چلا جا رہا تھا، خوشگوار ہوا چل رہی تھی، درخت ہوا سے جھکے چلے جا رہے تھے اور وہ یہ دیکھنا چاہ رہے تھے کہ لوگوں کا یہ گروہ بھیڑوں کو اپنے ہاتھوں میں تھامے کیا کرنے چلا ہے، جب ایک بھیڑ کی اون اتار لی جاتی تو وہ آزاد ہو کر اون کے ڈھیر پر چھلانگ مارتا تا کہ زمین سے اپنی ٹانگیں رگڑنے کے بعد کچھ سکون محسوس کر سکے۔
کچھ دیر تک ڈاکٹر اپنے ہاتھ پیچھے کی طرف باندھے یہ منظر دیکھتا رہا، پھر وہ اس کٹیا کی طرف چلا گیا جہاں جیکو کے بوڑھے باپ کی نگرانی میں خواتین کھانا تیار کر رہی تھیں، کیونکہ اس نے خود کو اس کام کو کروانے کے لئے مختص کر رکھا تھا۔ تھوڑے ہی فاصلے پر شاہ بلوط کے ایک اور درخت کے نیچے پادری گھاس پر دراز ہو کر کچھ مخصوص نوجوانوں کو بوکاسیو کی کوئی داستان سنا رہا تھا۔ خواتین نے زانا کو ٹہوکا سا لگایا اور ڈاکٹر کی طرف اشارہ کیا؛ اور اچانک، موڈ کی تبدیلی کے ساتھ ہی، زانا نے ڈاکٹر سے مذاق کرنا شروع کر دیا، اور کہا کہ وہ کم از کم خود کو کچھ تو کار آمد بنائے اور چشمے سے پانی لے کر آئے۔ ڈاکٹر زانا کے ساتھ مزاحیہ انداز میں گفتگو کرنے کے بعد بالٹی لے کر چشمے سے پانی بھرنے کی خاطر چل پڑا، اس کے بعد وہاں کا ماحول عجیب و غریب ہو گیا اور لوگ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے۔
پادری کے گرد بیٹھا ہوا گروپ ڈاکٹر پر ہنسنا اور چلانا شروع کر دیتا ہے، اور جو بوڑھا شخص گوشت بھون رہا تھا وہ ڈاکٹر کا تمسخر اڑانے کے لئے اپنا انگوٹھا اپنی انگلیوں میں پکڑ لیتا ہے۔ جب زانا نے دیکھا کہ ڈاکٹر جیسے پڑھے لکھے اور سمجھ دار شخص کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو اس نے سب کو کوسنا شروع کر دیا اور اپنے سر کا رومال سنبھالے ڈاکٹر کی طرف بھاگی اور اسے آلیا، اس کے ہاتھ سے بالٹی چھین لی۔ دور کھڑی خواتین غور سے دیکھ رہی تھیں کہ زانا ڈاکٹر کے پیچھے پیچھے کیسے جا رہی ہے اور ڈاکٹر چشمے کی طرف جانے والے راستے پر تیز قدموں سے کیسے چلتا چلا جا رہا ہے اور جیکو کے بوڑھے باپ نے آگ پر بری طرح تھوکنا شروع کر دیا، جیسے وہ اسے بجھانا چاہتا ہو۔
’’
ٹامس اچیٹو کی پوتی، آپ نے اسے دیکھا؟ وہ اس شخص کے ساتھ تنہائی میں جانا چاہتی ہے، اگر یہ میری بیٹی ہوتی تو میں اس کی گردن پر اپنا پاؤں رکھ دیتا۔ ‘‘
آنٹی لینارڈا بڑی آہستگی سے اپنے سسر سے مخاطب ہوئی، ’’ابا جان! اس کا جو جی چاہ رہا ہے اسے کرنے دیں، وہ جانتی ہے کہ محبت کیا ہے، اور یہ آپ کو کیسے دیوانہ بناتی ہے، جیسے کوئی جادو بھرا پانی پی کر ہوتا ہے‘‘۔
ڈاکٹر سورج کی چمک سے چکا چوند ہو رہا تھا اور زانا اس کے پیچھے پیچھے چشمے کی طرف جا رہی تھی، چشمے کے قرب جا کر ڈاکٹر نے ایک مرتبہ پھر زانا کو اپنی بانہوں میں لینے کی کوشش کی۔ زانا نے ڈاکٹر کو ایسی نظروں سے دیکھنے کی کوشش کی جیسے ملکۂ شیبا کی نظریں، لیکن اس نے ڈاکٹر کو دھکیل دیا اور اسے دھمکی دی کہ وہ پانی بھری بالٹی اس کے سر پر انڈیل دے گی۔ ہمیشہ ہی کی طرح،پہلی ملاقات سے ہی اس کا یہ وتیرہ رہا؛ اپنے صحن کی دیوار کے سایے میں : وہ اسے قریب بلاتی اور پھر دھکیل دیتی، نیم سنجیدہ، نیم عیار اور ہمیشہ اسے ایک ہی چیز کے لئے کہتی: تھوڑا سا زہر۔
’’
ٹھیک ہے زانا! میں تمہیں خوش کر دوں گا۔ آج رات میں تمہارے گھر آؤں گا اور میں اپنے ساتھ ایک چھوٹی بوتل بھی لاؤں گا جس کے اوپر ایک کھوپڑی بنی ہو گی، لیکن خیال کرنا تم جیل مت چلی جانا‘‘۔
’’
میں نے آپ کو بتایا نا کہ یہ لومڑی کے لئے ہے۔ اچھا اب مجھے چھوڑیں، ذرا سنیں! کوئی آرہا ہے‘‘۔
دراصل چشمے کے قریب کی جھاڑی ایسے ہلی تھی جیسے کوئی جنگلی سوؤ آرہا ہو، پھر وہاں سے جیکو بر آمد ہوا۔ اس کے چہرے کی ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں، اگرچہ وہ ظاہر یہ کرنا چاہ رہا تھا کہ ان دونوں کو یہاں پا لینا ایک مذاق تھا۔
’’
ارے آپ لوگ یہاں تنہائی میں کیا کر رہے ہیں، یہ کھانے کا وقت ہے نہ کہ (تنہائی میں) ملاقات کا۔۔۔ ‘‘
زانا نے بڑے طنزیہ انداز میں اس سے کہا، ’’تم بھوکے نہیں ہو، بلکہ تم پیاسے ہو‘‘، پھر پانی بھری بالٹی اس کی طرف کرتے ہوئے بولی، ’’لو خوبرو نوجوان: تھوڑا سا پانی پی لو۔۔۔۔۔ ‘‘
لیکن جیکو نے خود کو زمین پر گرا لیا اور ہانپتے کانپتے ،چشمے سے ہی پانی پیا۔
ضیافت میں کھانے کے دوران ڈاکٹر کھلکھلایا جبکہ پادری نے اس کی طرف روٹی کے ٹکڑے پھینکے اور اسے تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ ڈاکٹر ہنستا رہا مگر گاہے بگاہے اس کی توجہ کسی اور طرف بھی مبذول ہوتی رہی اور کوئی نیا خیال بھی اس کے ذہن میں آتا رہا۔ کھانا کھانے کے بعد وہ اس کٹیا کے پیچھے چٹانوں کے سایے میں جا کر لیٹ گیا، وہاں سے وہ لوگوں کو تو دیکھ سکتا تھا مگر اسے نہیں دیکھا جا سکتا تھا، اس نے پورے علاقے کا طائرانہ نظارہ کیا، خاص طور پر اس درخت کا جہاں بھیڑوں کی اون اتاری جا رہی تھی۔ پادری اور اس کے ساتھیوں نے (روایتی) گیت گانا شروع کر دیے تھے اور خواتین قطار میں بیٹھ کر ، بڑی توجہ سے، گیت سن رہی تھیں۔
اس خاموشی، آوازوں اور گیتوں کے بیچ کبھی کبھار قہقہوں کی بھی آوازیں سنائی دیتیں جیسے نیلے آسمان کی لامحدود وسعت میں ہلکے ہلکے باریک سفید بادل؛ ڈاکٹر یہاں لیٹا گھوڑے کی گھاس چرنے کی آواز اور کٹیا کے اندر بیٹھے کتے کی ہڈی چبانے کی آواز بھی سن رہا تھا، جس کٹیا میں جیکو بار بار اون سے بھری بوری خالی کرنے آتا تھا۔
جب گیتوں کے مقابلے نے زور پکڑا تو زانا اچانک اٹھی اور کٹیا کے اندر چلی گئی۔ ڈاکٹر نے سگار پیتے ہوئے اسے دیکھا اور پھر اس نیلے دھاگے کو دیکھنے لگا جو اس کی سگار کے اوپر لگا ہوا تھا، پھر ایک خاص قسم کی کھلکھلاہٹ کی وجہ سے اس کے اوپر والا ہونٹ سکڑا اور اس کے دانتوں میں کی گئی سونے کی فلنگ دکھائی دینے لگی۔
جیکو ایک مرتبہ پھر کٹیا میں داخل ہوا اور اس کٹیا کی درزوں میں سے زانا کی کیٹلی اور نیم کراہتی آواز سنائی دی، ’’میں قسم کھاتی ہوں۔۔۔۔ اگر میں جھوٹ بولوں تو مجھے چیلیں کھائیں۔۔۔۔ اس ڈاکٹر نے میرے ہاتھ کو بھی نہیں چھوا۔ اس کے سامنے مسکرانے کی کوئی اور وجہ ہے۔۔۔ اور اس میں ہمارے ہی بھلے کی بات ہے۔۔۔ لیکن یہ امتحان بھی گزر جائے گا۔۔۔ ختم ہو جائے گا۔۔۔ ‘‘
جیکو، جو بظاہر وہاں صرف اون کی بوری خالی کرنے کی غرض سے آیا تھا، بالکل خاموش رہا، زانا بڑی بے تابی سے گفتگو کر رہی ، اور اس کی آواز نفرت سے بھری ہوئی تھی’’میرا کیا بنے گا؟ کیا میں ہمیشہ تمہاری بیوی سے جلتی رہوں ؟ کوّے کی طرح کی بوڑھی، لومٹری!۔ لیکن اب اس کا خاتمہ ہونے والا ہے۔۔۔ بہت جلد۔۔۔ ‘‘
پھر جیکو ہنس دیا؛ اور ایک مرتبہ پھر قہقہے، گیت گانے اور گھوڑے کے گھاس چرنے کی آوازیں آنے لگیں۔
ایسے میں ڈاکٹر نے چاہا کہ وہ ذرا محظوظ ہو۔اس نے چھلانگ لگائی اور چیخنا شروع کر دیا: دیکھو ! لومٹری! لومٹری !‘‘
دونوں چاہنے والے، حیرت میں ، کٹیا سے باہر بھاگے، جبکہ اس گروپ نے گیت گانا بند کر دیا، خواتین نے اردگرد دیکھنا شروع کر دیا اور کتوں نے بھونکنا شروع کر دیا جیسے واقعی کوئی لومٹری وہاں سے گزری ہو۔
________________________________
۱۔ اٹلی میں سابقہ عہد میں چلنے والا چاندی کا سکہ جو تقریباً ۹۷ امریکی سینٹس کے برابر ہے۔
۲۔ ایک ریالی--سابق ہسپانوی چاندی کا سکہ-جو تیرہ امریکی سینٹس کے برابر ہے۔