معیاری اردو قائدہ : ایک جائزہ
ڈاکٹر محمد سلیمان اطہر

Abstract
National Language Authority of Pakistan is an official institute for the promotion of Urdu, the National Language, in the country. It has published a lot of written, translated and compiled books on Urdu language & literature. It has also compiled & published an Urdu Primer named ''Me'yaari Urdu Qaida'' under the chairmanship of Dr Iftikhar Arif. The compilers of the Meyari Urdu Primer are Dr. Moeen uddin Aqeel, Dr. Rauf Parekh, Dr. Najeeba Arif and Islam Nishter.
This paper has three parts. In the first part, there is an introduction to Urdu and the Primer. In the second part, I have tried to present a critical view of the above mentioned Urdu Primer. At the end, some suggestions are also made for the compilation of a real Urdu primer that may meet the needs of beginners and small children of various lingual areas, having their own unique mother tongues in Pakistan.

’’ اردو‘‘ دنیا کی بڑی زبانوں میں سے ایک زبان شمار کی جاتی ہے ۔ پاکستان اور بھارت کے باشندوں کی اکثریت اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک مثلاً نیپال، بھوٹان، سری لنکا اور بنگلہ دیش وغیرہ کے بعض باشندے اس کی بول چال سے بخوبی واقف ہیں۔قیام پاکستان ہی سے اردو کو ملک کی قومی زبان کی حیثیت حاصل ہے اوریہ ملک کی مختلف لسانی اکائیوں کے مابین رابطے کی زبان کی حیثیت سے مستعمل ہے۔پاکستان کی شہری ثقافت، تعلیم وتدریس، عسکری چھاؤنیوں، سیاسی اداروں، عدلیہ و انتظامیہ کے اداروں اور مختلف ادبی محفلوں میں یہ بنیادی زبان کا کردارادا کررہی ہے۔اسی لیے اردو پاکستان کے تمام نجی، سرکاری اور نیم سرکاری (اردو میڈیم ، انگلشں میڈیم) تعلیمی اداروں میں ابتدائی جماعت سے بارھویں جماعت تک ایک لازمی مضمون ’’اردو لازمی‘‘ کی حیثیت سے پڑھائی جارہی ہے۔ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے جو برصغیر میں بیسویں صدی عیسوی ( ۱۹۴۷ء) میں دنیا کے نقشے میں ظہور پزیر ہوئی۔ تحریک پاکستان کے دوران اردو زبان کے کردار اوراہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ،قیام پاکستان کے بعد، اسے نہ صرف ملک کی قومی زبان قرار دے دیا گیاتھابلکہ اس کی ترویج وترقی کے لیے ’’مقتدرہ قومی زبان‘‘ کے نام سے ایک سرکاری ادارہ قائم کردیا گیا جو مختلف عنوانات پراردو زبان میں تحقیقی وتنقیدی کتب اور بین الاقوامی علم و ادب کے اردوتراجم شائع کرنے کے علاوہ ’’اخبار اردو‘‘ کے نام سے ایک ماہنامہ بھی شائع کررہا ہے جس میں اردو اہل علم کے لکھے ہوئے مضامین شائع ہوتے ہیں۔
کسی بھی زبان کی تدریس کے لیے اس کا بنیادی قاعدہ (Primer)اساسی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ یہ بنیادی قاعدہ اپنے متن کے مشمولات، طباعت اور جاذبیت کے لحاظ سے جتنا بہتر ہوگا، زبان کی تدریس اتنی ہی مؤثراور مفید ہوگی۔چنانچہ اسی مقصد کو مد نظر رکھتے ہوئے مقتدرہ نے سال ۲۰۱۰ء میں اردو زبان کا ایک بنیادی قاعدہ تالیف کیا ہے جسے ’’معیاری اردو قاعدہ‘‘سے موسوم کیاگیا ہے۔اس کی مجلس تالیف میں ڈاکٹر معین الدین عقیل(سربراہ)، ڈاکٹر رؤف پاریکھ (رکن)، ڈاکٹر نجیبہ عارف(رکن) اور محمد اسلام نشتر (رابطہ کار) شامل ہیں جبکہ اس اس وقت کے صدرنشین افتخار عارف اس قاعدے کے نگرانِ اعلیٰ ہیں۔ اس قاعدے کو عالمی معیاری کتاب نمبر بھی ( ۱۔۲۳۱۔۴۷۴۔۹۶۹۔۹۷۸ (ISBN الاٹ شدہ ہے۔قاعدے کے سرورق پرچھوٹے بچوں کی تصویریں بنی ہیں جن میں پانچ بچیاں اور تین بچے دکھائی دیتے ہیں۔ سرورق سے یہ تصوردینے کی کوشش کی گئی ہے کہ پاکستان میں لڑکوں کی نسبت لڑکیوں کو پڑھانے کو رواج نسبتاً زیادہ ہے جبکہ عملی زندگی میں یہ بات بالکل برعکس ہے۔ قاعدے کے تدریسی متن سے پہلے ’’پیش لفظ‘‘ کے عنوان سے ایک مختصر سا مضمون شامل ہے جس میں اس قاعدے کی غرض وغایت،ضرورت واہمیت ، تدریسی اجزاء،تالیفی طریقہ کاراور تعریفی کلمات شامل ہیں۔اس کے بعد اگلے دو صفحات پرآرٹ کے نمونے موجود ہیں ایک صفحے پروفاقی شہر اسلام آباد کی فضائی جھلک کے علاوہ ایک چڑیا گھر کی تصویر کشی کرنے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ دوسرے صفحے پر کسی غیر ملکی پارک کی تصویر ہے۔ تدریسی متن کے آخر میں علامہ اقبال کی مشہور نظم’’ دُعا‘‘ چھپی ہوئی ہے۔نیزقاعدے کی پشت پراس قاعدے کی افادیت کے حوالے سے بلند وبالا دعوؤں پرمبنی دو بیانات شامل ہیں۔صدر نشین افتخار عارف کے بقول :
’’
مقتدرہ قومی زبان کا ’معیاری اردو قاعدہ‘ موجودہ دور میں اردو کی ضرورتوں کے پیش نظر مرتب کیا گیا ہے۔ملک کے ممتاز ماہرین لسانیا ت پروفیسر ڈاکٹر معین ا لدین عقیل، ڈاکٹر رؤف پاریکھ اور ڈاکٹر نجیبہ عارف نے نہایت محنت، توجہ اور انہماک کے ساتھ اسے ترتیب دیا ہے۔ یقین کیا جاناچاہیے کہ اردو کے فروغ و ترویج میں یہ قاعدہ بنیاد گزاری کا فریضہ انجام دے گا۔‘‘[۱ ]
معیاری اردو قاعدے کے مذکورہ بالامرتبین کا دعو یٰ ہے کہ
’’
یقین ہے کہ یہ قاعدہ اپنے مقصد کی تکمیل میں مفید اور مؤثر ثابت ہوگا اور اساتذہ، والدین اور ماہرین تعلیم کے ساتھ ساتھ طالب علم بھی اسے اردو زبان کا ایک مکمل اور معیاری قاعدہ پائیں گے۔[۲ ]
تنقیدی وتجزیاتی نقطہ نظر سے مقتدرہ قومی زبان کے شائع کردہ ’’معیاری اردو قاعدہ‘‘ کوچھ حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
حصّہ اوّل : یہ صفحہ ۱ سے صفحہ ۲۹ تک مشتمل ہے جس میں چون(۵۴) اردو ابجد کو رنگین تصاویرکی مدد سے سکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔صفحہ نمبر’’۱ ‘‘پر اردو ابجد کے پہلے صوتیے ’’الف ‘‘ سے اخبار،انڈا، انگور، انار اور اونٹ لکھے گئے ہیں۔ دور دراز کے پس ماندہ دیہی علاقوں میں رہنے والے بچوں کی اکثریت اخبار کے تصورسے واقف نہیں ہیں۔ اسلام آباد اور بڑے شہروں کے پوش علاقوں کے بچے مدنظر رکھ کر اس سے آغاز کرنا غیر معقول نظر آتا ہے ،جن کے گھروں میں بالعموم روزانہ کا اخبار باقاعدگی سے آتا ہے جبکہ دوسرے صوتیے’’آ‘‘ سے آنکھ، آری، آم اور آلو کے الفاظ مع تصاویر دیے گئے ہیں ۔صفحہ نمبر’’۲ ‘‘ پر’’ب‘‘ صوتیے سے بستہ، بکری، بطخ، بچی اور بندر بنائے گئے ہیں جبکہ ’’بھ ‘‘ صوتیے سے بھالو، بھینس اور بھیڑ کے الفاظ بنائے گئے ہیں۔صفحہ نمبر ’’۳‘‘پر ’’پ ‘‘صوتیے سے پنکھا، پاؤں، پگڑی اور پَر مع تصاویر درج ہیں جبکہ ’’پھ‘‘صوتیے سے پھول، پھل اور پھلی دیے گئے ہیں۔ تصویر میں سورج مکھی کا پھول دکھائی دیتا ہے جبکہ روایتی طورپر پاکستانی بچے گلاب کے پھول سے بخوبی واقف ہیں اگر اس کی تصویر چھاپی جاتی تو زیادہ معقول دکھائی دیتی۔صفحہ نمبر’’۴‘‘ پر ’’ت‘‘صوتیے سے تتلی، ترازو، تالا، تکیہ اور تربوز کے الفاظ مع تصاویر موجود ہیں جبکہ ’’تھ‘‘صوتیے سے تھیلا، تھان اور تھالی بنائے گئے ہیں۔تھان کی وضاحت کے لیے کپڑے کی دکان کی ایک مبہم سی تصویر دکھائی گئی ہے اگر اس کی جگہ صرف ایک ہی تھان دکھایا جاتاتو بہتر تفہیم دے سکتا ہے۔
صفحہ نمبر’’۵‘‘پرصوتیے ’’ٹ‘‘ سے ٹماٹر ، ٹیکا اورٹوکری کے الفاظ دیے گئے ہیں۔ ٹوپی کی تفہیم کے لیے جناح کیپ کی تصویر دی گئی ہے جو پاکستان میں اب شاذونادر ہی استعمال ہوتی ہے بلکہ تقریباً متروک ہوچکی ہے البتہ بعض قوال حضرات یا دیہی علاقوں کے نیم خواندہ امام مسجدبالعموم جناح کیپ استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں سندھی ٹوپی اور نمازی ٹوپی کا استعمال ملک میں عام ہے ان کی تصاویر شامل کی جاسکتی ہیں۔ اسی طرح لفظ ’’ٹیکا‘‘ کی تفہیم کے لیے دواسے کچھ بھری ہوئی ’’سرنج‘ کی تصویر دی گئی ہے جو کہ ٹیکے کی حقیقی وضاحت نہیں کرتی ۔ جبکہ ہائیہ صوتیے ’’ٹھ‘‘ سے ٹھیلا، ٹھیک اور ٹھوڑی کے الفاظ بنائے گئے ہیں۔صفحہ نمبر’’۶‘‘ پرصوتیے ’’ث‘‘ سے ثمر اور ثابت کے دو الفاظ بنائے گئے ہیں تاہم تصویر میں لفظ ’’ثابت‘‘ کے سامنے ایک انڈے اور اس کی ٹوٹی ہوئی صورت دکھائی گئی ہے جس سے اس لفظ کی معنوی حیثیت کو محدو د کردیا گیا ہے۔جبکہ مشق میں آگ، استری، باجا، تتلی اور پیاز تصاویر اور ان کے ابتدائی حروف دیے گئے ہیں۔
صفحہ نمبر ’’۷‘‘پرصوتیے ’’ج‘‘ سے جالا، جال، جیب، جوتااور جراب کے الفاظ مع تصاویر دیے گئے ہیں لیکن لفظ ’’جال‘‘ کی تصویر اس کی تفہیم نہیں کراتی۔جیب کا تصور بھی پتلون تک محدود کردیا گیا ہے۔پاکستان میں لوگوں کی اکثریت شلوار قمیص پہنتی ہے بہتر ہوتااگر پاکستانی لباس کی نمائندگی کرنے والی جیب کی تصویر شامل کی جاتی۔ جبکہ ہائیہ صوتیے’ ’جھ‘‘ سے جھنڈا، جھولا اور جھاڑو کے الفاظ بنائے گئے ہیں۔تصاویر ان الفاظ کی مکمل وضاحت کرتی ہیں۔صفحہ نمبر’’۸‘‘ پرصوتیے ’’چ‘‘ سے چڑیا، چمچہ، چابی، چارپائی اور چوزہ کے الفاظ درج ہیں۔جبکہ ہائیہ صوتیے ’’چھ‘‘ سے چھتری، چھلکا اور چھتا کے الفاظ درج ہیں ۔لفظ ’’چھلکا ‘‘کی وضاحت کے لیے نیم چھیلا ہوا ایک کیلا دکھایا گیا ہے۔ اس کی جگہ صرف کیلے کا چھلکا دکھایاجانا چاہیے تھا۔ چھتے کی تصویر بھی مبہم اور غیر واضح ہے۔صفحہ’’۹‘‘پرصوتیے ’’ح‘‘سے حوض ، حویلی اور حلوائی بنائے گئے ہیں۔حلوائی کی تفہیم کے لیے اردو کتب میں مستعمل سالوں پرانی ایک تصویر شامل کی ہے جس میں دکھائے گئے حلوائی کے حلیے کا تصوربھی خال خال رہ گیا ہے۔جبکہ ’’خ‘‘ سے خرگوش، خربوزہ، خوبانی اور خیمہ کے الفاظ بنائے گئے ہیں۔خربوزہ اور خوبانی کی تصاویر میں ایک ایک مکمل اور ساتھ ہی کٹے ہوئے پھل دکھائی دیتے ہیں جس سے مبتدیوں کو الجھن ہوسکتی ہے۔ خیمہ کی تصویر میں جدید یورپی طرز کا خیمہ دکھایا گیا ہے جبکہ اس کی جگہ چولستان ،تھر ، صحرائی علاقوں یا شہری وقصباتی علاقوں میں مقیم خانہ بدوشوں کے زیر استعمال کسی عام خیمے کی تصویر دکھائی جاسکتی ہے تاکہ بچے اپنی دیسی ثقافت اور معاشرت سے آگاہ ہوسکیں۔
صفحہ’’۱۰‘‘ پر صوتیے ’’د‘‘ سے درخت، دروازہ، دانت، دوات اور دیوار کے الفاظ مع تصاویر دیے گئے ہیں۔دوات اوردروازے کی تصاویر غالب کے دور کی عکاسی کرتی ہیں۔دوات میں قلم کی جگہ ایک پر رکھا ہوا ہے۔کیا اس قاعدے کے مرتبین نے بذاتِ خود کبھی ’’پر‘‘ کی مدد سے لکھا ہے ؟ دیوارکی تصویر بھی فرضی سی معلوم ہوتی ہے جو اپنے لفظ کی موہوم سی وضاحت کرتی ہے۔جبکہ صوتیے ’’دھ‘‘ سے دھنک، دھوبی اور دھاگے کے الفاظ لکھے گئے ہیں۔تاہم دھاگے کی وضاحت کے لیے پانچ عدددھاگے کی نلکیاں دکھائی گئیں ہیں جن سے لفظ کی تفہیم میں ابہام پیدا ہوتا ہے۔صفحہ ’’۱۱‘‘ پراردو صوتیے ’’ڈ‘‘ سے ڈاکیا، ڈول، ڈنڈا نیز ڈور کے الفاظ مع تصاویر دیتے گئے ہیں ۔الفاظ اور ان کی تصاویر میں ہم آہنگی نظر آتی ہے تاہم ڈنڈے کی تصویر اتنی غیر واضح ہے کہ اس پر بانسری کا شائبہ ہوتا ہے۔ جبکہ ہائیہ صوتیے ’’ ڈھ‘‘ سے ڈھول، ڈھکن، ڈھیر اور ڈھلان کے الفاظ مع تصاویر دیے گئے ہیں۔ تصاویر اپنے الفاظ کی مکمل وضاحت کرتی ہیں۔صفحہ ’’۱۲‘‘ پر اردو صوتیے ’’ذ‘‘ سے ذخیرہ اور ذرے کے الفاظ لکھے گئے ہیں۔ذخیرے کی وضاحت کے لیے مصنوعی تصویر کا سہارا لیا گیا ہے۔جبکہ صوتیے ’’ر‘‘ سے رکشا، رسی، رومال، ریل نیز رحل کے الفاظ مع تصاویر دیتے گئے ہیں۔صفحہ’’ ۱۳‘‘ پر ہائیہ صوتیے’’رھ‘‘ سے اردو گنتی کے الفاظ ’’گیارھواں ،بارھواں اور تیرھواں مع تصاویر موجود ہیں جبکہ اردو کے معکوسی صوتیے ’’ ڑ‘‘ کے ضمن میں تین الفاظ پہاڑ، لڑکی اور لڑکا مع تصاویر دیے گئے ہیں اور نیچے وضاحتی فقرہ لکھ دیا گیا ہے کہ اس صوتیے سے اردو زبان کو کوئی لفظ شروع نہیں ہوتا بلکہ یہ اردو الفاظ کے درمیان اور آخر میں آتا ہے۔صفحہ’’۱۴‘‘ پر ہائیہ صوتیے ’’ڑھ‘‘ سے چار اردو الفاظ ریڑھا، بوڑھا، ڈاڑھی اور سیڑھی مع تصاویر دیے گئے ہیں مگر بوڑھے اور ڈاڑھی کی وضاحت کے لیے دی گئی دونوں تصاویر میں عمر رسیدہ باریش بزرگ نظر آتے ہیں ۔استاد بھی تصویر کی مدد سے بوڑھے اور ڈاڑھی کے فرق کو واضح نہیں کرسکتا۔اگر تیر کی مدد سے ڈاڑھی کی طرف اشارہ کردیا جاتاتو معقول بات ہوتی جبکہ صوتیے ’’ز ‘‘ سے زیبرا، زرافہ، زبان، زنجیر اور زیور کے الفاظ وتصاویر ہیں۔زیور کی تصویر میں صرف ایک مخصوص دیہی ہار دکھایا گیا ہے جو کہ اکیلا اس لفظ کی عکاسی نہیں کرتا۔صفحہ’’۱۵‘‘ پر صوتیے ’’ ژ ‘‘ سے ژالہ باری اورٹیلی ویژن کے الفاظ دیے گئے ہیں اور بقیہ آدھے صفحے پرمشق کے عنوان سے نو عدد الفاظ لکھے گئے ہیں۔
صفحہ’’۱۶‘ ‘ پر اردو صوتیے سین’’س‘‘ سے ستارہ، سیب، سورج اور سانپ کے الفاظ مع تصاویر موجود ہیں مگر سورج کی تصویر اتنی غیر واضح ہے کہ بچوں کو اپنے لفظ کی تفہیم دینے سے قاصر ہے۔ جبکہ صوتیے شین’’ش‘‘ سے شیر، شاخ، شتر مرغ اور شلجم کے الفاظ مع تصاویر دیے گئے ہیں مگر شلجم کی تصویر میں تین عدد شلجم دکھائی دیتے ہیں ۔ اصولاً تصویر میں ایک ہی شلجم دکھائی دینا چاہیے جوکہ بہتر تفہیم دے سکتا ہے۔صفحہ ’’۱۷‘‘ پر صوتیے’’ص‘‘ سے صراحی، صابن، صندوق اور صوفہ کے الفاظ و تصاویر ہیں۔ صراحی مٹی سے بنا ہوا پانی پینے کاایک دیسی برتن ہے مگر تصویر میں صراحی کی جگہ پھولوں کے بغیر گلدان کی تصویر لگائی گئی ہے۔ اسی طرح صابن کی تصویر میں ایک کی جگہ دو عدد صابن دکھائے گئے ہیں۔ صندوق کی تصویر ہمیں قدیم میر تقی میر کے دور کی یاد دلاتی ہے جس میں گھریلو استعمال کے لیے لکڑی کے صندوق بنائے جاتے تھے۔جبکہ صوتیے ’’ض‘‘ سے ضعیف اور ضیافت کے الفاظ مع تصاویر چھپے ہوئے ہیں۔صفحہ ’’۱۸‘‘ پر صوتیے ’’ط‘‘ سے طیارہ اور طالب علم کے الفاظ و تصاویر موجود ہیں۔جبکہ صوتیے ’’ ظ‘‘ سے صرف ایک لفظ ’’ظروف‘‘ مع تصاویر دیا گیا ہے اور نیچے مشق میں تین الفاظ طوفان، طاقتورا ور ظہر لکھے گئے ہیں۔صفحہ’’۱۹‘‘ پر اردو صوتیے عین’’ع‘‘ سے عمارت، عینک، عقاب اور عورت کے الفاظ مع تصاویر درج ہیں۔دور سے کھینچی ہوئی عمارت کی تصویر عام بچوں کے لیے غیر مبہم محسوس ہوتی ہے۔ جبکہ اردو صوتیے غین’’غ‘‘ سے غبارہ، غلیل، غالیچہ اور غوطہ خور کے الفاظ مع تصاویر دیے گئے ہیں۔پاکستان کی اکثریت آبادی ’’غلیل ‘‘ کے استعمال کو ترک کر چکی ہے ۔ اب تو دیہی علاقوں میں بھی اس کااستعمال شاذونادر ہی ہوتا ہے تو خانہ پری کے لیے اس لفظ کوسبق میں شامل کرنے کا کیا مطلب؟صفحہ’’۲۰‘‘ پر صوتیے’’ف‘‘ سے فاختہ، فوجی، فٹ بال اور فانوس کے الفاظ وتصاویر دی گئی ہیں جبکہ صوتیے قاف منقوط ’’ق‘‘ سے قلم، قائد اعظم، قمیض اور قینچی کے الفاظ و تصاویر موجود ہیں۔
صفحہ ’’۲۱‘‘ پر اردو صوتیے کاف غیر منقوط’’ک‘‘ سے کتاب، کیلا، کرسی، کشتی اور کبوتر کے الفاظ وتراکیب دیے گئے ہیں جبکہ ہائیہ صوتیے ’’کھ‘‘ سے کھمبا، کھڑکی،کھجور اور کھیت کے الفاظ وتصایر دیے گئے ہیں۔کھیت کی تصویر زیادہ واضح نہیں ہے۔ کھجور میں تصویر ایک واضح کھجور دکھانے کی بجائے تین عدد کھجوریں دکھائی گئی ہیں جوکہ ابتدائی قاعدے کے لیے مناسب معلوم نہیں ہوتیں۔صفحہ’’۲۲‘‘ پرصوتیے ’’گ‘‘ گلاب، گیند، گاجر اور گڑیا کے الفاظ و تصاویر موجود ہیں۔جبکہ ہائیہ صوتیے ’’گھ‘‘سے گھوڑا، گھونسلا، گھڑی اور گھاس کے الفاظ مع تصاویر دیے گئے ہیں۔تصویر میں گھاس کا میدان دکھایا گیا ہے اگر اس کی جگہ گھاس کا ایک پودا دکھایا جاتا تو زیادہ تفہیم کا حامل ہوتا۔ صفحہ ’’۲۳ ‘‘ پر صوتیے ’’ل‘‘ سے لفافہ، لیموں، لالٹین اور لومڑی کے الفاظ مع تصاویر دیے گئے ہیں۔لیموں کی تصویر میں بھی سابقہ غلطی دہراتے ہوئے ایک کی جگہ اڑھائی لیموں دکھائے گئے ہیں۔جبکہ خالص اردوہائیہ صوتیے ’’ لھ‘‘ سے چولھااور دلہن کے الفاظ مع تصاویر دیے گئے ہیں۔ مگر چولھے کی تصویر مٹی کے تیل سے جلنے والے چولھے کی عکاسی کرتی ہے۔ پاکستان کی دیہی و قصباتی آبادی میں اس کا استعمال متروک ہے جبکہ شہروں میں بھی اس کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی بجائے گیس کے چولھے یا لکڑی کے چولھے کی تصویر زیادہ معنویت کی حامل ہوتی۔صفحہ ’’۲۴‘‘ پرصوتیے میم’’ م‘‘ سے مسجد، میز، مچھلی، مور اور مولی کے الفاظ وتصاویر موجود ہیں۔تصویر میں ایک مولی کی جگہ مولیوں کا ایک گٹھا دکھایا گیا ہے۔جبکہ اردوہائیہ صوتے ’’ مھ‘‘ سے صرف ایک لفظ کمھار مع تصویر دیا گیا ہے۔صفحہ ’’۲۵‘‘ پر صوتیے نون’’ ن‘‘ سے ناک، نقشہ، ناخن اور نقطہ کے الفاظ مع تصاویر موجود ہیں ۔ناخن کی تصویر میں ہاتھ کی انگلیاں نظر آرہی ہیں ناخن کی طرف کوئی اشارہ نہیں ہے۔ جبکہ نقشے کی تصویر ایک ننھے بچے کو نقشے کا تصور دینے سے قاصر ہے۔ایسا لگتا ہے کہ تصاویر کے انتخاب میں مؤلفین نے بچوں کی ذہنی عمر مدنظر نہیں رکھی جبکہ اردو نیم صوتیے’’ں‘‘ کا تصور دینے کے لیے پتنگ، چاند، ٹانگ اور رنگ کے الفاظ وتصاویر دیے گئے ہیں۔چاند کی تصویر سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ گویاچودھویں کے چاند کو گرہن لگا ہو۔
صفحہ’’ ۲۶‘‘ پراردو ہائیہ صوتیے ’’ نھ‘‘ سے صرف ایک لفظ ننھی مع تصویر دیا گیا ہے جبکہ صوتیے واؤ’’و‘‘ سے ورق، وردی اور ورزش کے الفاظ وتصاویر دیے گئے ہیں۔تصاویر اپنے الفاظ سے مکمل ہم آہنگ نہیں ہیں مثلاًورق کی تصویر میں ایک کھلی ہوئی کتاب نظر آتی ہے۔ صفحہ ’’۲۷‘‘ پر صوتیے ہا’’ہ‘‘ سے ہاتھی، ہرن،ہار اور ہتھوڑی کے الفاظ وتصاویر موجود ہیں۔جبکہ ’’ء‘‘ کے ضمن میں چائے اور آئینہ اور گائے کے الفاظ وتصاویر دیے گئے ہیں۔آخر میں وضاحت دی گئی ہے کہ ’’ء‘‘ سے کوئی اردو لفظ شروع نہیں ہوتا۔صفحہ ’’۸ ۲‘‘ پر اردو ابجد کے صوتیوں ’’ی‘‘ اور ’’ے‘‘ سے مشترکہ الفاظ ’’ یکہ، یاسمین اور یاک ‘‘ مع تصاویر دیے گئے ہیں لیکن ’’ی‘‘ اور ’’ے‘‘ کے مابین کوئی فرق نہیں بتایا گیا۔ لفظ ’’یکہ‘‘ اب عملاً متروک ہوچکا ہے کیونکہ اس کی جگہ تانگے کا لفظ عام مستعمل ہے اور ویسے بھی اب تانگے کی جگہ شہروں سمیت قصبوں اور دیہاتوں میں بھی چنگ چی موٹر سائیکل رکشوں نے لے لی ہے۔یاسمین کی تصویر میں ایک پھول کی بجائے پھولوں سے لدا پودا نظر آرہا ہے جبکہ بقیہ صفحے پر چھوٹی سی مشق دی گئی ہے۔
حصّہ دوم : اس حصّے(صفحہ ۲۹تا صفحہ ۳۰) میں تمام اردو صوتیوں کو (مفرد حرف تہجی، مرکب حروف تہجی، ترتیب وار حرف تہجی، بے ترتیب حروف تہجی)چار مختلف اندازمیں یکجا لکھا گیا ہے۔صفحہ ’’۲۹‘‘ پر’’مفرد حروف تہجی ‘‘ اور ’’مرکب حروف تہجی‘‘ کے عنوان سے اردو ابجد کے عام صوتیے اور ہائیہ صوتے دو الگ الگ حصوں میں لکھے گئے ہیں ۔ہائیہ صوتیوں کے شروع میں’’ آ‘‘ بھی لکھا گیا ہے۔اردو صوتیوں کو مرکب حروف قرار دینا لسانی اصولوں کے منافی ہے کیونکہ اردو ماہرین لسانیات بالعموم اس امر پر متفق ہیں کہ دیگر اردو صوتیوں کی طرح ہائیہ صوتیے بھی بھاری مفرد تکلمی آوازیں ہیں اورانھیں مرکب آوازیں قراردینا غیر فصیح اور لاعلمی پر مبنی ہے۔ علاوہ ازیں اردو ابجد ایک مناسب اصطلاح ہے اس کی بجائے اردو حروف تہجی لکھنا معقول نظر نہیں آتا۔صفحہ’’۳۰ ‘‘ پر ترتیب وار اور بے ترتیب انداز میں تما م اردو ابجد دودفعہ لکھے گئے ہیں۔
حصّہ سوم : اس حصّے(صفحہ۳۱ تا صفحہ۳۲) میں ہراردو صوتیے کی مختلف اشکال کا تعارف پیش کیا گیا ہے ۔ ہائیہ صوتیوں کے بغیر باقی اردو ابجد کی اردوخط نستعلیق میں مستعمل ابتدائی، درمیانی اور آخری اشکال کی مثالوں سے وضاحت کی گئی ہے۔اردو صوتیوں کی مختلف الفاظ میں ایک سے زائدمستعمل اشکال کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ بچے اور غیر ملکی مبتدی تو درکنار ، وسطی یا ثا نوی جماعتوں کے عام طالب علم بھی انھیں آسا نی سے سیکھ کر یاد نہیں رکھ سکتے کیونکہ ان اشکال کا حلیہ کافی حد تک خط شکستہ سے ملتا جلتا ہے جسے صرف مخصوص اہل علم ہی سمجھ سکتے ہیں۔
حصّہ چہارم : اس حصّے (صفحہ ۳۳ تا صفحہ۳۴) میں اردو الفاظ کے جوڑ اور توڑ سکھانے کے لیے چند الفاظ پر مشتمل مشق کا اہتمام کیا گیاہے۔
حصّہ پنجم: اس حصے میں صفحہ ’’۳۵، ۳۶، ۳۷‘‘پر دس اردو مصوّتے (حروف علّت ) یعنی زبر، زیر، پیش، الف ممدودہ، واو معروف، واو مجہول، واو لِین، یاے معروف، یاے مجہول اور یاے لِین کی دس الگ الگ مشقیں دی گئیں ہیں۔الگ الگ الفاظ کے علاوہ، ہر مشق میں چار چار جملے بھی دیے گئے ہیں اور سرخ روشنائی سے الفاظ میں مستعمل حروفِ علت کی نشاندہی کی گئی ہے۔تاہم استاد، اتالیق یا بچے کی مزید تفہیم کے لیے ’’واو ‘‘اور ’’یاے ‘‘ کی اقسام کی پہچان کرنے کا کوئی طریقہ نہیں بتایا گیا۔صفحہ ’’۳۸‘‘ پر تشدید اور جزم کی مشق دی گئی ہے اور حروف علّت کی طرح،ان میں بھی طالب علموں کی تفہیم کے لیے سرخ روشنائی سے حروف پر تشدید اور جزم کی علامتیں بنائی گئیں ہیں۔صفحہ ’’۳۹‘‘ پر واو معدولہ کے الفاظ مع فقرے، ال والے الفاظ اور دوست کے نام ایک مختصر ترین خط دیا گیا ہے۔
حصّہ ششم : قاعدے کے آخری حصے میں ’صفحہ’’۴۰‘‘ پر’’چند ضروری علامتیں اور حرف‘‘ کے عنوان سے تنوین، الف بالا(کھڑا زبر)، الف زیریں(کھڑا زیر) اور تائے مدوّرہ کا تصور دینے کے لیے چند چند الفاظ کی مشق دی گئی ہے۔
پورا قاعدہ خطِ نستعلیق میں ہے اور اس میں اردو زبان کے چون(۵۴) صوتیوں اور دس مصوّتوں کے علاوہ، تشدید، جزم، واؤ معدولہ کے علاوہ ’ال‘ کا تصور سکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔اردو صوتیوں اور ان سے بننے والے الفاظ کو صرف سیاہ روشنائی میں لکھا گیا ہے۔اردو ابجد کے ہر صوتیے سے شروع ہونے الفاظ میں متعلقہ صوتیے کی علامت کو الگ رنگ سے نمایاں نہیں کیاگیا۔بیشتر تصاویر غیر واضح اور مبہم ہیں کیونکہ تصاویر کے رنگوں میں کوئی خوبصورت امتزاج نہیں ہے۔مدھم ہونے کی وجہ سے وہ بچّوں کے تصّورات کو واضح کرنے سے قاصر ہیں جس کی وجہ سے تفہیم میں مشکل پیش ہوسکتی ہے۔ ہر صوتیے سے مشق کے لیے بہت کم الفاظ بنائے گئے ہیں۔اساتذہ اور اتالیق حضرات کے لیے ’’ ہدایات برائے اساتذہ ‘‘ کے عنوان سے بہت کم مواد شامل ہے۔آخری صفحات میں مصوّتوں کی وضاحت کے لیے دیے گئے فقرات میں دو الفاظ کے مابین فاصلہ اتنا کم ہے کہ اردو زبان کے مبتدی اورچھوٹے بچے اردو الفاظ کی حدود کا تعیّن نہیں کر سکتے جس کی وجہ سے الفاظ کی شناخت آسانی سے نہیں ہوسکتی۔’’ال‘‘ والے الفاظ سکھاتے ہوئے یہ صراحت نہیں کی گئی کہ کن الفاظ میں ’’ال‘‘ کی آواز کی ادائیگی کی جانی چاہیے اور کن الفاظ میں ’’ال‘‘ کی صوت نہیں آتی۔
قاعدے کے تجزیاتی مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مؤلفین کی علمی قابلیت سے یہ تالیف ہر گز ہم آہنگ نہیں اور یہ افراد لسانیات کی مبادیات سے ناواقف دکھائی دیتے ہیں، قاعدے میں پاکستان کے مختلف لسانی خطوں میں الگ الگ مادری زبانیں بولنے والے ننھے بچوں اور مبتدیوں کی لسانی ضروریات کو پیش نظر نہیں رکھا گیااورقاعدے کے مختلف اجزا کا بغور مطالعہ کرنے کی زحمت نہیں کی بلکہ اس کے مسودے کو جوں کا توں اشاعت کے لیے بھیج دیا گیا۔دنیا کی کسی بھی زبان میں کسی ایک دور میں مرتب کردہ ابتدائی لسانی قاعدہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرف آخر نہیں مانا جاسکتا کیونکہ علم کبھی جمود کا شکار نہیں ہوتا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، معاشرتی وسماجی اور جدید لسانی تقاضوں کے مطابق ابتدائی قاعدوں میں ترامیم ہوتی رہتی ہیں۔ لہٰذا قاعدے کی پشت پر درج شدہ مرتبین کے دعوے لسانی حقائق کے منافی ہیں۔
سفارشات
اردو قاعدے کومثالی و معیاری بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔
۱ ) قاعدے کے ایک صفحے پر اردوابجد کے ہر صوتیے سے شروع ہونے والے چھ سے دس مختلف الفاظ مع تصاویر دیے جانے چاہیئیں اور ہر لفظ میں اس صوتیے کی شناخت کے لیے ایک منفرد رنگ کا استعمال کیاجانا چاہیے۔اس سے بظاہر قاعدے کی ضخامت بڑھے گی تاہم اصول مشق کو تقویت ملے گی۔بقول ڈاکٹر عطش درانی، پاکستان میں تدریس اردو کے لیے صرف ایک نصابی کتاب مرتب کرلینا ہی کافی سمجھا جاتا ہے اور یہ بات مدنظر نہیں رکھی جاتی کہ درسی مواد میں مختلف اجزا شامل کردینے سے ریاضی کے فارمولے کی طرح سارے مسائل خود بخود حل نہیں ہوجاتے بلکہ زبان بول چال کے اندر ہوتی ہے[۳] اور ابتدائی درجے میں اردو بول چال کی ابتدا کے لیے درسی متن میں بچے کے ماحول میں پائی جانی والی اشیا کی نمائندگی کرنے والے زیادہ سے زیادہ اردو الفاظ کی مشق کا ہونا بہت ضروری ہے۔ ڈاکٹر سلیم فارانی کی بھی یہی رائے ہے کہ ابتدائی جماعت میں بچہ مختلف چیزوں کے ناموں سے شناسا ہونے کے لیے مضطرب رہتا ہے۔وہ متفرق معلومات جمع کرنے میں لطف لیتا ہے۔وہ اپنے ماحول کی اشیا سے متعارف ہونا چاہتا ہے۔[۴]علاوہ ازیں ، اردو قاعدے کی تدریس کے وقت، کسی بھی صوتیے سے بننے والے مختلف الفاظ اور ان الفاظ کے حامل سادہ سادہ فقرے فوری طور پر اردو استاد کے ذہن میں نہیں آتے اور نہ ہی اردو کی تدریس پر مامور ہر استاد نئے نئے الفاظ بچوں کے سامنے پیش کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔اس لیے ضرورت اس امر کی ہوتی ہے کہ بچوں اور استاد کے پاس کوئی تیار مسالہ موجود ہو اور یہ تیار مسالہ صرف قاعدہ ہی مہیاکرسکتا ہے۔[۵ ]
۲ ) اردو قاعدے میں شامل ہر تصویرواضح، نمایاں اور اپنے متعلقہ لفظ کی مکمل وضاحت کرتی ہو۔اس کے رنگوں میں حسین امتزاج ہو۔کمپیوٹر پر موجودفرضی تصویروں کی بجائے ڈیجیٹل کیمرے سے اصلی تصویریں کھینچ کر قاعدے میں شامل کی جانی چاہیے۔ڈاکٹر شاہد اقبال کامران کا بھی یہی کہنا ہے کہ اردو قاعدہ اپنی پیش کش کے اعتبار سے پر کشش، نظر نواز، رنگین اور دلچسپ ہونا چاہیے کیونکہ یہی وہ پہلی درسی کتاب ہے جو ایک طالب علم کو لسانی تربیت کے لیے ملتی ہے۔اردوقاعدہ جہاں شعوری تدریس کے لیے ضروری ہے وہاں اس میں پیش کیے جانے والے لسانی مواد سے متعلق تصاویرکی علامتی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے کیونکہ یہ تصاویر غیر محسوس انداز میں خاموشی سے لسانی پیغامات کی ترسیل کا بہترین اور دیرپا ذریعہ ہیں اور ننھے طالب علموں کی یادداشت میں لسانی مواد محفوظ کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ [۶ ]
۲ ) مشقی فقرات کے لفظوں کے مابین نمایاں فاصلہ ہونا چاہیے تاکہ کسی قسم کا ابہام پیدا نہ ہو۔جیسا کہ ڈاکٹر سلیم فارانی لکھتے ہیں کہ درسی کتب کی لکھائی اور چھپائی حسبِ معیارِ طلبا جلی ہو تاکہ طلبا پڑھنے میں دقّت محسوس نہ کریں، کھلی اور صاف ہو تاکہ الفاظ میں امتیاز ہوسکے اور پڑھنے میں سہولت ہو۔[۷]مثلاً آم کھا۔ پانی لا۔ جگ میں شربت ڈال۔ بوتل سے پانی پی ۔ قلم سے لکھ۔ عموماً اردوقاعدوں میں شامل فقرات میں، الفاظ کے مابین مناسب فاصلہ نہ ہونے کی وجہ سے دو لفظوں کی حد فاصل قائم کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ جس سے تدریسی و تفہیمی مسائل جنم لیتے ہیں۔
۲ ) ہرصوتیے کی تدریس کے حوالے سے صفحے کے آخر میں ’’ہدایات برائے اساتذہ ‘‘ کے عنوان سے ضروری معلوماتی لسانی مواد شامل ہونا چاہیے۔مثلاً ’’ب‘‘ کی تدریس کے لیے پہلے بچوں کے سامنے تختہ چاک پر ایک بہت بڑا حجم کی حامل ’’ ب‘‘ بنائیے، مختلف بچوں سے باری باری اس کی صوتی ادائیگی کرائیے،اس کی بناوٹ سمجھائیے، صوتیے ’’ب‘‘ سے بننے والے درسی الفاظ کی مشق کرائیے اور آخر میں بچوں سے ’’ب ‘‘ سے بننے والے دیگر غیر درسی الفاظ پوچھیے اور خود بھی بتائیے۔
۳ ) الفاظ کے انتخاب کے سلسلے میں پاکستان کی دیہی وشہری ثقافت اور معاشرت میں مستعمل ذخیرہ الفاظ سے استفادہ کیاجاناچاہیے۔ بقول معین الدین بچوں کی ابتدائی لسانی نشو ونما پر معاشرت اور ماحول کا گہرااثر ہوتا ہے اور کثیر اللسانی معاشرے میں ذولسانی اثرات بنیادی لسانی عادات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے بچوں کے ذولسانی ماحول کو مدنظر رکھ کر ذخیرہ الفاظ منتخب کیا جانا چاہیے[۸]نیز اکیسویں صدی کے لسانی تقاضوں کے مطابق اردو ذخیرہ الفاظ کا حصہ بننے والے انگریزی دخیل الفاظ مثلاً سِم ، بیٹری، چارجر،موبائل،کارڈ،ٹاور،فٹ بال، ماؤس، کی بورڈ، مانیٹر، سپیکر وغیرہ کو بھی شامل نصاب کیا جانا چاہیے۔اور قاعدے کے آخر میں ایسے انگریزی الاصل الفاظ کی فرہنگ تیار کرکے اُسے اردو قاعدہ کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ چھوٹے بچوں اور مبتدیوں کے علاوہ اساتذہ بھی درست تلفّظ اور مفہوم کو مدِّ نظر رکھ کرزیادہ سے زیادہ اِستفادہ کر سکیں۔ [۹ ]
۴ ) اردو صوتیوں کے ہر گروہ مثلاً (ا،آ)،(ب، پ، ت، ٹ،ث)، (ج، چ، ح، خ)، (د، ڈ،ذ)، ( ر،ڑ،ز، ژ)، (س،ش، ص،ض)، (ط،ظ) ،(ع، غ)، (ف، ق، ک، گ)، (ل، م، ن، و، ) ، (ہ، ء، ی، ے) کی مزید وضاحت کے لیے دو حرفی، سہ حرفی او ر چار حرفی آسان فہم الفاظ پر مشتمل مشقیں شامل کی جانی چاہیے تاکہ بچوں اور اردو زبان کے مبتدیوں کے لیے اردو زبان کی مضبوط بنیاد رکھی جاسکے ۔ ذخیرہ الفاظ کی تدریجی تدریس کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگا یا جاسکتا ہے کہ مولانا محمد حسین آزاد نے تدریس اردو کے لیے ۱۸۶۵ء میں جو اردو قاعدہ مرتب کیا اس میں اردو ابجدسکھانے کے بعد، دو دو حروف والے الفاظ کی مشق شامل کی گئی، پھر تین تین حروف والے الفاظ پر مشتمل سادہ جملے شامل کیے گئے اور آخر میں چار چار حروف سے بننے والے الفاظ و فقرات درسی کتاب کا حصہ بنائے گئے[۱۰]۔ مثلاً رب، آس، دل، دم، مت، سن، کان، باپ، بات، باٹ، رات، خدا، لڑکا، لڑکی، پانی، رانی وغیرہ۔ایسی ہی ملتی جلتی بات ڈاکٹر عطش درانی بھی کہتے ہیں کہ سب سے پہلے بچے کو اردو صوتیے سکھائے جانے چاہیئیں۔دوسرے مرحلے میں حروفِ صحیح کو مختلف حروفِ علت مثلاً (ا، و،ی،ے) سے ملا کر انھیں سکھایا جائے اور آخر میں مکمل لفظ کا تصور دیا جائے۔[۱۱ ]
۵ ) اردو قاعدے میںآسان فہم ہم صوت الفاظ مثلاً آم، عام؛ نذیر، نظیر؛ کاش، قاش وغیرہ کی مشق بھی شامل کی جانی چاہیے۔
۶ ) سندھی، فارسی، دری، پشتو، بلوچی اور عربی کی طرز پر اردو زبان کا ایک اپنا منفرد اورمخصوص یونی کوڈ خصوصیت کا حامل’’خط نسخ‘‘ ہونا چاہیے جس کی مدد سے چھوٹے بچوں اور مبتدیوں کو اردو ابجد اور ان کی مختصر اشکال آسانی سے سکھائی جاسکیں۔ایسے خط نسخ میں زبر، زیر، پیش،تشدید اور جزم وغیرہ کے تصورات آسانی سے سمجھائے جاسکتے ہیں۔ ہر اردو صوتیے کی صرف ایک ہی مختصر شکل سکھائی جانی چاہیے۔ ابتدائی طالب علموں اور اردو زبان کے مبتدیوں کو اردو ابجد کی ’’ابتدائی، درمیانی اور آخری‘‘ شکل کے چکر میں نہیں ڈالنا چاہیے۔بقول ڈاکٹر نصیر احمد خاں، اردو صوتیے لفظ کے شروع، درمیان اور آخرمیں اپنی اصل شکل کے علاوہ اس طرح کٹی پھٹی شکلوں میں آتے ہیں کہ وہ تحریر میں گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے دکھائی دیتے ہیں۔[۱۲] اور مبتدیوں کے لیے ان کی پہچان کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ چنانچہ بچے جس طرح اردو ابجد اور ان کی ایک ایک مختصر شکل سیکھیں، ویسے ہی انھیں اردو الفاظ میں لکھیں اور ہجے کریں۔اس طرح تدریس اردو کے ضمن میں ابتدائی سطح پربے شمار مسائل و مشکلات حل ہو سکتے ہیں۔کمپیوٹر سافٹ ویئر بھی اسی طرز پر بنائے جانے چاہیئیں تاکہ انگریزی رسم الخط کی طرز پر یونی کوڈ اشکال کو فروغ دیا جاسکے۔ خط نستعلیق کے موجد ایرانی ہیں مگر انھوں نے تعلیمی ترقی کے لیے ایرانی خط نسخ ایجاد کر لیا ہے ۔ آج تمام ایرانی اخبارات اور جرائد ورسائل اسی منفرد ایرانی خط نسخ میں شائع ہورہے ہیں۔اس طرح اِملا کی بدخطی کے مسائل بھی بہت حد تک ختم ہوسکتے ہیں۔ الفاظ کے جوڑ اور توڑ سکھانے میں آسانی رہے گی۔ وہ از خود مختلف الفاظ کے ہجے کرنے میں سہولت محسوس کریں گے۔مروّجہ خط نستعلیق میں اردو صوتیوں کی مختلف اشکال چھوٹے بچوں اور مبتدیوں کے لیے ایک خوفناک جناتی طرزِ تحریر ثابت ہوتا ہے۔ رہی سہی کسر پرائمری سکولوں میں تعینات بیشتر نیم خواندہ پی ٹی سی اساتذہ کی غیر معیاری تدریس سے پوری ہوجاتی ہے۔چھوٹے بچے ذہنی طور پر الجھ کر رہ جاتے ہیں اور سکول سے بھاگنا شروع کردیتے ہیں۔ ان بچوں کی اکثریت اسی لیے تعلیمی سلسلہ منقطع کردیتی ہے۔ اس تعلیمی انقطاع کے قصور وار نہ صرف اساتذہ ہیں بلکہ ہمارے نستعلیق رسم الخط کی پیچیدگیا ں بھی ہیں۔[۱۳] مثلاً قدرت، ندرت، شدت، کدورت، حدت، مدت، کدال وغیرہ میں ’’د‘‘ اور ’’ ر‘‘ کی اشکال ایک جیسی ہیں۔ اسی طرح مذہب، زکریا، شازیہ، کذاب وغیرہ میں بھی ’’ذ‘‘ اور ’’ز‘‘ کی اشکال ایک جیسی ہیں جو مبتدیوں کے لیے ہجے کرتے وقت غلطیوں کا سبب بنتی ہیں۔ سندھی، پشتو، بلوچی اور سرائیکی وغیرہ پہلے ہی اپنے اپنے خط نسخ میں لکھی جارہی ہیں۔ خط نسخ کی بدولت سندھی اور پشتون بچے خصوصاً املائی مسائل سے بچ سکیں گے۔
۷ ) اردو مصوّتے (حروف علّت) یعنی زبر، زیر، پیش، الف ممدودہ، واو معروف، واو مجہول، واو لِین، یاے معروف، یاے مجہول اور یاے لِین کے علاوہ تشدید ، جزم، واو معدولہ اور ’’ال‘‘ کے تصورات کی وضاحت کے لیے الگ الگ صفحات مختص ہونے چاہئیں۔تشدید کی تفہیم کے لیے الفاظ پر نہ صرف تشدید کی علامت منفرد رنگ سے نمایاں طورپر لگی ہو بلکہ ہر لفظ کے سامنے اس کے ہجے بھی دیے جانے چاہئیں تاکہ مبتدیوں اور بچوں کوتشدید والے الفاظ کے درست ہجے کرنے میںآسانی رہے۔
صفحے کے شروع میں ان میں سے ہر کی تعریف اور پہچان کا طریقہ بتایا جانا چاہیے کیونکہ ’’مصوّتے، علّت،ممدودہ، معروف، مجہول، لِین، تشدید، جزم، معدولہ‘‘ خالص عربی زبا ن کے الفاظ ہیں۔ ننھے بچے اور اردو زبان کے مبتدی تو درکنار ، پرائمری سکول کے اساتذہ کی ایک سادہ بھاری اکثریت بھی ان کے درست معنی اور مفہوم سے واقف نہیں ہے۔ اس کے بعد مشق کے لیے زیادہ سے زیادہ الفاظ دیے جانے چاہئیں اور بقیہ صفحے پرمشق کے لیے اُن کے حامل سادہ ترین فقرات لکھے جانے چاہیئیں تاکہ ان کی آموزش میں کسی قسم کی کوئی دشواری پیش نہ آسکے۔
۸ ) چونکہ اردو ایک مخلوط زبان ہے ، لہٰذا مختلف دخیل الفاظ خصوصاً انگریزی دخیل الفاظ مثلاً سِم، چارجر، موبائل، ڈرم، شوز، بیگ، یونیفارم وغیرہ کے تلفظ کی وضاحت کے لیے اعراب کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔
۹ ) ابتدائی اردوقاعدے میں انشا پردازی کے نمونے مثلاًخط ، کہانی اور مضمون وغیرہ شامل نہیں ہونا چاہیے البتہ چندایک دلچسپ اور سادہ اردو نظمیں شامل کی جاسکتی ہیں جنھیں بچے اپنے استاد کی پیروی میں ذوق و شوق سے زبانی سیکھ سکتے ہیں اور گاہے بگاہے گیت کی طرز پرسنا بھی سکتے ہیں۔
۱۰ ) معیاری اردو قاعدہ مرتب کرنا عام بات نہیں ہے بلکہ اسے وفاقی نصاب ساز سرکاری ادارے کے حوالے کیا جانا چاہیے تاکہ وہ اس سے استفادہ کرتے ہوئے مختلف صوبوں میں الگ الگ مادری زبانیں بولنے والے بچوں کے لیے ان کے لسانی، سماجی،معاشرتی ا ورثقافتی تناظرات میں اس ابتدائی قاعدے میں چند ایک ترامیم کرکے اسے نصاب کا حصہ بنا سکیں۔
حوالہ جات
۱ ) افتخار عارف، ’’میعاری اردو قاعدہ‘‘،مقتدرہ قومی زبان پاکستان،۲۰۱۰ء۔
۲ ) پروفیسر ڈاکٹر معین ا لدین عقیل، ڈاکٹر رؤف پاریکھ ،ڈاکٹر نجیبہ عارف(مرتبین) ،’’میعاری اردو قاعدہ‘‘، مقتدرہ قومی زبان پاکستان، ۲۰۱۰ء۔
۳ ) عطش درّانی،ڈاکٹر،’’اردو تدریسیات‘‘،اردو سائنس بورڈ، لاہور،۲۰۰۷ء،ص۴۸۔
۴ ) سلیم فارانی، ڈاکٹر، ’’اردو زبان اور اس کی تعلیم‘‘، ادارہ مطبوعات فارانی، لاہور، ۲۰۰۰ء، ص۴۲۵۔
۵ ) سلیم فارانی، ڈاکٹر، ’’اردو زبان اور اس کی تعلیم‘‘،ص۵۱۱۔
۶ ) شاہد اقبال کامران ،ڈاکٹر،’’پاکستان میں تدریس اردو: پہلی جماعت سے اعلیٰ ثانوی سطح تک‘‘، پورب اکادمی، اسلام آباد،۲۰۰۸ء،ص۴۲۔
۷ ) سلیم فارانی، ڈاکٹر، ’’اردو زبان اور اس کی تعلیم‘‘، ص۵۲۲۔
۸ ) معین الدین،’’ہم اردو کیسے پڑھائیں‘‘، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،نئی دہلی،طبع سوم،۲۰۰۴ء،ص۲۳۔
۹ ) اطہر، محمد سلیمان،’’اردو قاعدہ اور اردو اِملا :تحقیقی و تنقیدی جائزہ‘‘، مشمولہ، تخلیقی ادب، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز، اسلام آباد،شمارہ پانچ، جنوری ۲۰۰۸ء،ص۲۲۵۔
۱۰ ) رضا علی عابدی،’’اُردو کاحال‘‘،سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۰۵ء،ص۹۹۔
۱۱ ) عطش درّانی،ڈاکٹر،’’اردو تدریسیات‘‘،ص۲۷۱۔
۱۲ ) نصیر احمد خاں، ڈاکٹر، ’’اردو لسانیات‘‘، اردو محل پبلی کیشنز نئی دہلی، ۱۹۹۰ء، ص۲۲۸۔
۱۳ ) اطہر، محمد سلیمان،’’اردو قاعدہ اور اردو اِملا :تحقیقی و تنقیدی جائزہ‘‘، ، ص۲۲۵۔