وفیات
ادیب اور ماہر تعلیم پروفیسر آفاق صدیقی انتقال کر گئے


ممتاز شاعر، محقق اور ماہر تعلیم پروفیسر آفاق صدیقی طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔ ان کی عمر ۸۴ برس تھی، انہیں سخی حسن قبرستان کراچی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔آفاق صدیقی کے انتقال پر صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی ، ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد ، وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور ملک بھر کی ممتاز سماجی و سیاسی شخصیات نے افسوس کا اظہار کیا اور مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔ پروفیسر آفاق صدیقی، سندھی اور اردو بولنے والوں کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتے تھے۔ انھوں نے اردو اور سندھی ادب کے حوالے سے نہایت اہم تحقیقی کام کیا ہے۔ شاہ عبد اللطیف بھٹائی اور سچل سرمست کے کلام کو اردو کا جامہ پہنانے میں انھوں نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کا ایک اور کارنامہ شیخ ایاز کی نظموں کے تراجم اور ان کی اردو شاعری کا ترجمہ بھی شامل ہے ، ان کی مادری زبان اردو تھی، لیکن انھیں سندھی زبان سے خاص نسبت تھی۔ انھوں نے شاہ لطیف کے معروف رسالے شاہ جو رسالو کا ترجمہ بھی کیا ہے۔ شاہ لطیف پر ان کی تحقیقی کتاب ’’عکس لطیف ‘‘ ۱۹۶۴ میں شائع ہوئی۔ اسی طرح سچل سرمست کے فن اور شخصیت پر ان کی کتاب شاعر ’’حقنوا‘‘ سندھی سے اردو زبان میں ایک عظیم کارنامہ ہے ، انھوں نے تقریباً۵۰ کتابیں تصنیف و تالیف کیں، ان کی بیشتر کتابیں اشاعت کی منتظر ہیں۔

نامور نعت گو شاعر بشیر حسین ناظم اسلام آباد میں سپرد خاک کر دیے گئے
برصغیر پاک و ہند کے نامور ادیب، شاعر، نعت گو اور نعت خوان بشیر حسین ناظم کو ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں اسلام آباد کے ایچ ایٹ قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا۔ مرحوم کی عمر ۸۰سال تھی۔ مرحوم کی نماز جنازہ ممتاز عالم دین صاحبزادہ ساجد الرحمن نے پڑھائی۔ نماز جنازہ میں راولپنڈی ،اسلام آبادکے ادیبوں، شاعروں اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔ بشیر حسین ناظم طویل عرصہ سے روزنامہ نوائے وقت سے وابستہ تھے۔ مرحوم بشیر حسین ناظم روزنامہ نوائے وقت کے ملی ایڈیشن میں مذہبی اور ملی مضامین لکھتے تھے۔ بشیر حسین ناظم ہمہ پہلو شخصیت تھے۔ وہ بیک وقت ایک عالم دین، بیوروکریٹ، دانشور ،شاعر، نعت گو، نعت خوان، مترجم اور انتہا کے بزلہ سنج تھے۔ بشیر حسین ناظم نے فارسی، عربی اور پنجابی زبان میں ایم اے کیا۔ انھوں نے ایل ایل بی اور درس نظامی بھی کیا۔ بشیر حسین ناظم نے اے جی پی آر سے اکاؤنٹنٹ کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا ۔وہ مجسٹریٹ کے منصب پر بھی فائز رہے۔ وزارت اطلاعات میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر رہے۔ ۱۹۸۲ء میں وفاقی وزارت مذہبی امور کے ڈائریکٹرجنرل ریسرچ اینڈ ریفرنس کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ انھیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ، پرائیڈ آف پرفارمنس اور علامہ اقبال گولڈ میڈل دیا گیا۔ وہ پچھلے ۶۵سال سے لاہور میں علامہ اقبال ڈے میں باقاعدگی سے شرکت کرتے رہے۔ مرحوم بشیر حسین ناظم نے ۳۲کتب تصنیف کی ہیں۔ انھوں نے متعدد فارسی شعراء کے کلام پر نظمیں کہیں۔ حمدیہ کے عنوان سے حمد تحریر کی۔ حضرت احمد رضا بریلویؒ کے سلام ’’مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام ‘‘کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا۔ بیعت و خلافت کے موضوع پر فارسی کتب کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ حضرت داتا گنج بخش ہجویریؒ کی کتاب کشف المحجوب کا فارسی سے اردو میں ترجمہ کیا۔ ان کا فارسی کلام ارژنگ تمنا اور پنجابی کلام نوری لاٹاں شائع ہوا ہے۔ انھوں نے نوری طاق کے عنوان سے بیعت اور خلافت کے موضوع پرکتاب تحریر کی۔ بشیر حسین ناظم محافل نعت کے روح رواں تھے۔ انھوں نے سالہا سال تک نعتیہ محافل میں شرکت کی۔

فوزیہ وہاب کے انتقال پُر ملال پر مقتدرہ قومی زبان کے کارکنان کا اظہار افسوس
مقتدرہ قومی زبان کے کارکنوں نے فوزیہ وہاب کی اچانک وفات پرتعزیت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اپنی پارٹی کے لیے پُر خلوص اور سچی لگن کی وجہ سے وہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھیں۔ اُن کے فن لطیف ، سیاست اور میڈیا کے حوالے سے خدمات کو سراہاگیا۔ واضح رہے کہ ان کے شوہر وہاب صدیقی ان صحافیوں میں سے تھے جنھوں نے جمہوریت کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔ فوزیہ وہاب ایک نڈر اور ہمدرد خاتون تھیں ۔ انھوں نے حسینہ معین کے ایک ڈرامہ میں بطور آرٹسٹ کام کیا ۔فوزیہ وہاب کو فنِ لطیف اور سیاست کی دنیا میں یکساں مقبولیت حاصل تھی اورملکی سطح پر ان خدمات کی وجہ سے انھیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
****