جاپان میں اُردو تدریس
مامیا کین ساکو
ایسوسی ایٹ پروفیسر گریجویٹ اسکول ، جامعہ ٹوکیو برائے مطالعات خارجی ،ٹوکیو ، جاپان

اوساکا یونیورسٹی کا منصوبہ

اکتوبر ۲۰۰۷ء سے اوساکا یونیورسٹی میں ایک منصوبہ کا آغاز کیا گیا۔ یہ منصوبہ وزارت تعلیم و سائنس ، حکومت جاپان کی طرف سے مالی امداد کے تحت ہے ۔ اس یونیورسٹی میں غیر ملکی طلبہ کے لیے جاپانی زبان سمیت کل ۲۵ غیر ملکی زبانیں مستقل طور پر پڑھائی جاتی ہیں اور ان زبانوں کو کمپیوٹر کے ذریعے سیکھنے کا مکمل کورس فراہم کرنے کا یہ منصوبہ اُردو ، عربی اور ترکی زبانوں سے شروع ہو ا۔ ایک سال میں کورس کا بنیادی حصہ تیار کیے جانے کے بعد کچھ ترامیم کی گئیں ۔ یہ کورس درج ذیل ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں ۔
httP://www.coelang.tufs.ac.jp/modules/ur/index.html
اس کورس میں حروف تہجی کی مشق کے لیے مشق کے کاغذ کے ساتھ ویڈیو بھی فراہم کی جاتی ہے جبکہ الفاظ کے ذخیرہ کے ساتھ تصاویر بھی دیکھ سکتے ہیں ۔ اُردو کے الفاظ میں کچھ ایسے الفاظ بھی شامل ہیں جسے صرف پڑھ کر ہی سمجھنا جاپانی لوگوں کے لیے مشکل ہے ۔ مثال کے طور پر جلیبی اور ربڑی کو لیجیے ۔ یہ جنوبی ایشیا میں بہت مشہور مٹھائیاں ہیں لیکن جاپانی طلباء و طالبات کے لیے زبانی تشریح سے سمجھنا کافی مشکل ہو گا ۔ تصویر میں ان چیزوں کو دکھانے سے سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔
اُردو کا ماحول، جو جاپان میں قطعی طور پر نہیں ہے ، سمجھنے کے لیے ویڈیو کے ذریعے اُردو کی مجازی دنیا پیش کی گئی ہے ۔ جاپان میں جاپانی زبان ہی بولی جاتی ہے اور دوسری زبانیں استعمال کرنے کا نہایت کم موقع ملتا ہے ۔ ایسے ماحول میں غیر ملکی زبان سیکھنا آسان نہیں ہوتا ۔ اس بات کو مد نظر رکھ کر اس کورس میں مجازی دنیا پیش کی گئی ہے ۔ گویا ویڈیو کے ذریعے اُردو کی مجازی دنیا میں اُردو میں بول چال یا گفتگو سیکھ سکتے ہیں۔
ٹوکیو میں اُردو ویب سائٹ کی تیاری
ادھر ٹوکیو میں بھی اس طرح کی کوشش جاری ہے ۔ جامعہ ٹوکیو برائے مطالعات خارجی کی ویب سائٹ پر بھی اُردو پڑھ سکتے ہیں ۔ ۲۰۰۸ء میں جامعہ ٹوکیو برائے مطالعاتِ خارجی میں شعبہ ہندی و اُردو زبانوں کا ۱۰۰ سالہ جشن منایا گیا تھا اور اپریل ۲۰۱۲ء میں اس یونی ورسٹی میں جاپان کی تاریخ میں پہلی بار اُردو اور ہندی کے ساتھ شعبہ بنگالی بھی قائم کیا جا رہا ہے ۔
اس ویب سائٹ پر جاپانی اور اُردو میں ذیلی عنوان کے ساتھ بھی ویڈیو دیکھ سکتے ہیں ۔ اس لیے ابتدائی مرحلہ کے پڑھنے والے بھی آسانی کے ساتھ سمجھ سکتے ہیں ۔ اس ویب سائٹ کی تیاری میں ہاگیتا ہیروشی ، جو صدر شعبہ اُردو ہیں ، اور عامر علی خان ، جو ۶ سال سے ٹوکیو میں اُردو پڑھا رہے ہیں ، مرکزی کردارادا کر رہے ہیں ۔
اس سال ۲۰۱۱ء میں قاعدہ کا حصہ بھی تیار کیا جا رہا ہے جسے مارچ ۲۰۱۲ء تک درج ذیل ویب سائٹ میں شامل کیا جائے گا ۔
www.coelang.tufs.ac.jp/modules/ur/index.html //:Http
یہ ویب سائٹ صرف جاپانی زبان میں پیش کی جاتی ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ جاپان میں جاپانی زبان ہی چلتی ہے ، جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے ۔
جاپانیوں کے لیے اُردو مشکل یاآسان زبان ؟
جاپان میں کوئی ۱۰۰ سال پہلے سے اُردو کی تعلیم شروع ہو گئی تھی ۔ یہاں آوازوں ، حروف اور فعل کی گردان کے نقطۂ نظر سے توجہ دی جائے گی اور لسانیاتی طور پر غور کیا جائے گا کہ اُردوجاپانی لوگوں کے لیے ،جن کی مادری زبان جاپانی ہے ، مشکل زبان ہے یا آسان ؟
جاپانی کے لیے اُردو کی آوازیں ادا کرنا
یہ حقیقت ہے کہ جاپانی لوگوں کے لیے اُردو میں باتیں کرنا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا انگریزی یا جرمن میں کیوں کہ اُردو اور جاپانی میں الفاظ کی ترتیب ایک جیسی ہے ۔ مثلاً اردو کا جملہ ’’ آج صبح میں ناشتہ کر کے اُردو پڑھنے یونیورسٹی آیا ‘‘ اسی ترتیب سے جاپانی زبان میں بھی بولا جاتا ہے ۔ اُردو کی کچھ آوازیں جاپانی لوگوں کے لیے صحیح طور پر ادا کرنا مشکل ہے ۔ خاص طور پر ک اور کھ کو تفریق کرنا مشکل ہے ، یعنی ہائیہ آوازوں کو جاپانی زبان میں نطقہ کا درجہ نہیں ہے ۔ اور د اور ڈ کا فرق بھی جاپانی لوگوں کے لیے بہت مشکل ہے ۔ یعنی جاپانی زبان میں کوز آوازوں کو بھی نطقہ کا درجہ نہیں ہے ۔ جاپانی زبان کے مقابلے میں اُردو میں حروفِ علت کی تعداد زیادہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جاپانی لوگوں کے لیے دا ، دھا ، ڈا اور ڈھا سب ایک جیسی آوازمیں سنائی ہیں ۔ حروفِ صحیح کی طرف دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ اُردو میں اور جاپانی میں بڑا فرق نہیں ۔ یعنی ۵ حروف صحیح آ ، ای ، اؤ ، اے اور اودونوں زبانوں میں پائے جاتے ہیں لیکن جاپانی زبان میں او اور اَو کو اور اے اور اَے کو تفریق نہیں کیا جاتا ہے ۔
ان باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جاپانیوں کے لیے اُردو کا صحیح تلفظ کافی مشکل ہے ۔
جاپانی کے لیے اُردو لکھنا
جاپانیوں کے لیے اُردو لکھنا بھی آسان نہیں ہوتا ۔ اُردو کے حروف تہجی کی تعداد جاپانی زبان کے مقابلے میں نہایت کم ہے ۔ مثال کے طور پر لفظ پسند کو لیجیے ۔ اس لفظ میں حروف پ ، س ، ن اور د شامل ہیں لیکن زبر ، زیر کی علامات کے بغیر پتا نہیں چلتا کہ پ کے ساتھ کون سی آواز ( حرفِ علت ) ہے ، یعنی پ زبر کے ساتھ ہے یا زیر کے ساتھ ؟ اس طرح کسی لفظ کے حرف دیکھنے سے تو پتا نہیں چلتا کہ س بھی زبر کے ساتھ ہے یا سکون ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ ایسے لفظ کی ، جو ہمیں معلوم نہیں ہے ، صحیح تلفظ ادا نہیں کر سکتے ۔ اُردو پڑھنے والے جاپانی کے لیے یہ بڑی دقتوں میں سے ایک مانی جاتی ہے ۔
ادھر جاپانی زبان میں ۳ قسموں کے حروف تہجی سمجھنا لازمی ہے ۔ یہ تینوں حروف جانے بغیر کوئی جاپانی زبان کا ایک جملہ بھی نہیں پڑھ سکتا ۔ جاپانی زبان میں ہیراگانا (hiragana ) ، کاتا کانا ( 7 katakana ) اور کانجی kanji) ) ہوتے ہیں ۔ ہیرا گانا جاپانی الفاظ لکھنے کے لیے ، کاتا کانا غیر ملکی زبانوں کے الفاظ لکھنے کے لیے ہیں ۔ کانجی علامتی حروف ہیں ، جو چینی زبان سے لیے گئے ہیں ۔ خاص طور پر کانجی غیر ملکیوں کے لیے مشکل ہے ، کیوں کہ ہر کانجی تصویر جیسی علامت ہوتی ہے اور انھیں ایک ایک یاد کرنا ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر کا مطلب درخت ہے اور اس کانجی کا تلفظ کی (ki)ہے۔ جو کو ۲ بار لکھا جاتا ہے ، کا مطلب درختوں کا جھنڈ یا جھاڑی ہو جاتا ہے اور تلفظ ہایاشی (hayashi ) ہے ۔ جو کو اوپر نیچے ۳ بار لکھا جاتا ہے ، کا مطلب جنگل کا ہے اور اس کا تلفظ موری ( 7 7 mori ) ہے ۔ 7
اس سے پتا چلتا ہے کہ اس کانجی کا ، جس میں شامل ہے ، درخت سے کوئی نہ کوئی تعلق ہوتا ہے لیکن ان کا تلفظ بالکل الگ ہوتا ہے ۔ اس طرح جاپانی زبان میں کوئی ۳۰۰۰ ( تین ہزار ) کانجی استعمال کیے جاتے ہیں اور انھیں پڑھے بغیرروزمرہ زندگی میں دقت ہوتی ہے ۔ یہ جاپان میں غیر ملکیوں کے لیے سب سے بڑی دشواری ہوتی ہے ۔
جاپانی کے لیے اُردو کے فعل کی گردان سمجھنا
قاعدہ کی طرف دیکھا جائے تو اُردو کے یہ جملے جاپانی لوگوں کے لیے مشکل ہوتے ہیں ۔
۱۔ ہم نے کھانا کھایا ۔
۲۔ہم نے چائے پی ۔
اُردو کے قاعدہ کے مطابق کھانا مذکر ہونے کی وجہ سے کھایا کی شکل اختیار کرتا ہے اور چائے مؤنث ہے تو پی کی شکل آتی ہے اور اس کا کوئی تعلق نہیں ہے کہ فاعل کون ( مذکر ہے یا مؤنث ) ہے۔ لسانیاتی نقطۂ نظر سے اُردو زبان آلی فاعلی زبانوں میں گنی جاتی ہے ، ادھر جاپانی زبان اس گروہ میں نہیں ۔
جاپانی زبان میں اُردو یا انگریزی کی طرح ضمیر شخصی کے مطابق افعال کی گردان نہیں ہوتی اور اُردو کی گردان میں فعل لازم اور فعل متعدی کا بھی فرق ہے ۔
حال کی شکل میں : میں کھانا کھاتا ہوں ؍ ہم کھانا کھاتے ہیں ؍ وہ کھانا کھاتا ہے ؍ وہ کھانا کھاتی ہے ، وغیرہ وغیرہ
ماضی کی شکل میں : میں نے کھانا کھایا ؍ ہم نے کھانا کھایا ؍ اس نے کھانا کھایا ؍ اس نے کھانا کھایا وغیرہ وغیرہ
مستقبل کی شکل میں : میں کھانا کھاؤں گا ؍ ہم کھانا کھائیں گے ؍ وہ کھانا کھائے گا ؍ وہ کھانا کھائے گی وغیرہ وغیرہ
ان جملوں سے پتا چلتا ہے کہ اُردو میں صرف ماضی کی شکل میں نے کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس لیے نے کا استعمال جاپانی لوگوں کے لیے دقت کا باعث ہوتا ہے ۔
آوازوں اور فعل کی گردان میں بھی جاپانی اور اُردو میں فرق ہیں اور جاپانی کے لیے صحیح اُردوبولنا آسان نہیں ہے مگر آپس میں زبان نہ جانے بغیر گہرے تعلقات رکھنا بھی ہم نا ممکن سمجھتے ہیں ۔ اوساکا اور ٹوکیو کی سرکاری یونی ورسٹیوں میں مستقل طور پر ۲۵یا ۲۶ غیر ملکی زبانیں سکھائی جانے کا مقصد یہی ہے ۔ افسوس کی بات ہے کہ اب تک جاپانی معاشرے میں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک میں کام کرنے کے لیے انگریزی ہی جاننا کافی ہے لیکن ہمارے خیال میں یہ صحیح نہیں ۔ پاکستان کی قومی زبان اُردو ہے ، جو آئین میں بھی درج ہے۔ بھارت میں بھی ۲۰ کروڑ سے زیادہ لوگوں کی مادری زبان اُردو ہے ۔ دنیا بھر میں اُردو بولنے والے پھیلے ہوئے ہیں ۔ آپس میں سمجھنے کا آسان ترین طریقہ یہی ہو گا کہ ایک دوسرے کی زبان سیکھ لی جائے ۔ حالیہ زمانے میں انگریزی بھی اہم زبان ہے لیکن دل کی باتیں سمجھنے کے لیے صرف انگریزی میں باتیں کرنا کافی نہیں۔ جاپان کی یونی ورسٹیوں میں غیر ملکی زبانیں سیکھنے کی ویب سائٹ تیار کرنے کا مقصد بھی یہی ہے ۔ ہماری خواہش ہے کہ اِس ویب سائٹ کے ذریعے زبان سیکھنے کی اہمیت مزید سمجھی جائے ۔