علی یاسر

اخبار اردوکاپہلا شمارہ
۳۰سالہ سفر کی کہانی

مقتدرہ قومی زبان حکومتِ پاکستان کا ایک ایسا ادارہ ہے جس کا قیام اس آئینی مقصد کے تحت عمل میں لایا گیاکہ اردو کی ترویج کے ساتھ ساتھ بابائے قوم کے فیصلے کے مطابق اسے سرکاری زبان کے طور پر رائج و نافذ کیا جائے۔ مقتدرہ کی ۳۳ برس سے زائد کی پیہم کوششیں اس بات کی گواہ ہیں کہ اردو کو اس کے مقام و مرتبہ کی رفعتوں سے روشناس کرانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے گئے تاکہ حکومت اردو کودفتری،تعلیمی،عدالتی اور سرکاری اداروں میں نافذ کر سکے۔دراصل ہمیں بحیثیت قوم اپنی قومی زبان کی عظمتوں کا احساس ہونا چاہیے۔ قوموں کی زندگی میں غیر ملکی زبانوں کو اپنانا کبھی بھی قابل فخرنہیں رہا ہے۔ قومیں غیر ملکی زبانوں کو سیکھا ضرور کرتی ہیں لیکن انھیں صرف اپنی قومی زبان کی معاونت کے لیے استعمال کرتے ہوئے ترقی کرتی چلی جاتی ہیں۔ اس عمل میں رسائل و جرائد کی اشاعت کسی قوم کے قومی اداروں کی کاوش کی نمائندہ اور جدوجہد کا مظہر ہوا کرتی ہے۔ مقتدرہ قومی زبان نے بھی اپنے قیام کے کم و بیش ڈیڑھ سال بعد اپنا ترجمان ماہنامہ ’اخبار اردو‘ کراچی سے جاری کیا۔ آج تیس سال بعد بھی یہ اپنی پوری آب و تاب اور نہایت اہتمام سے شائع ہو رہاہے اور نہ صرف ملک بلکہ بیرون مک بھی قومی زبان کے فروغ کا باعث بن رہا ہے۔ اخبار اردو کی تیسویں سالگرہ کے موقع پر یہاں اخبار اردو کی اشاعت کے مقاصد ؛ جذبے اور اولین شمارے کا تفصیلی ذکر کیا جا رہا ہے۔
اخبارِ اردو کا پہلا شمارہ کراچی سے جولائی ۱۹۸۱ء میں شائع ہوا کیونکہ مقتدرہ کا صدردفتر ان دنوں کراچی میں ہوا کرتا تھا۔ پہلی جلد، پہلا شمارہ اور قیمت ایک روپیہ اس کے مؤقر آغاز کی پہلی صورت تھی۔ اس اولین شمارے کا سادہ مگر پروقارسرورق وطنِ عزیز کے پرچم کے دونوں رنگوں، سبز اور سفید، سے سجا ہوا تھا۔ سرورق کے اوپری حصے پر ’’ماہنامہ اخبارِ اردو کراچی‘‘ کی خوب صورت لوح موجود ہے جبکہ اس کے نیچے بابائے قو م قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کے جلسۂ عام ڈھاکہ ۲۱ مارچ ۱۹۴۸ء کے خطاب کا یہ اقتباس درج تھا ’’میں واضح الفاظ میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو اور صرف اردو ہوگی۔ جو شخص آپ کو اس سلسلہ میں غلط راستہ پر ڈالنے کی کوشش کرے، وہ پاکستان کا پکا دشمن ہے۔ ایک مشترک قومی زبان کے بغیر کوئی قوم نہ تو پوری طرح متحد رہ سکتی ہے اور نہ کوئی کام کرسکتی ہے۔‘‘ اس فرمان کو پڑھ کر ایک فکر ضرور دامن ہوتی ہے کہ قائدِ کے فرمان پر عمل کرنے میں ہم سے تاحال کس قدر کوتاہی ہو رہی ہے۔ کیا مِیر،سرسید، غالبِ، اقبال، قائدِ اعظم اور دوسرے کتنے ہی بڑے لوگوں کے فرمودات اور ہماری آئینی زبان ’اردو‘ اس بات کی متقاضی نہیں کہ اسے قومی زبان کے ساتھ ساتھ بطورسرکاری اور دفتری زبان بھی فی الفور اپنا لیا جائے۔شاید بقول مولانا صلاح الدین احمد یک زبان ہو کر ہی ہم ایک اعلیٰ قوم بن جائیں۔
مقتدرہ قومی زبان ۴؍اکتوبر ۱۹۷۹ء کو قائم ہوا تو ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی اس کے اولین صدرنشین مقرر کیے گئے۔ اگرچہ مقتدرہ کے ترجمان ماہنامہ کی اشاعت کا پروگرام انہی کے دور سے زیر غور تھا مگر زندگی نے وفا نہ کی اور وہ ۲۱؍جنوری ۱۹۸۱ء کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ بعد ازاں اس منصوبے کو ان کے جانشین اور بابائے اردو کے دیرینہ رفیق کارمیجر آفتاب حسن نے اس کو عملی صورت دی۔
اخبارِ اردو کے پہلے شمارے کی مجلسِ مشاورت،مجلس ادارت اور اہل قلم میں بڑے بڑے عالم، دانش ور اور نادرروزگار ماہرینِ اردوشریک تھے۔ مجلسِ مشاورت پر ہی نظر دوڑائی جائے تو سب سے پہلا نام ڈاکٹر ابواللیث صدیقی کاملتا ہے جو اردو زبان و ادب کے ممتاز ماہرِ تعلیم، نقاد، محقق، ادیب اور دانش ور تھے۔ وہ لکھۂو کا دبستانِ شاعری، آج کا اردو ادب، غزل اور متغزلین، تاریخ زبان و ادبیاتِ اردو، تاریخِ اصولِ تنقید اور جدید اردو ادبیات جیسی گرانقدر تصنیفات کے مصنف تھے۔ پھر ڈاکٹر شمس الدین صدیقی، محمد رمضان ملک، ہلال احمد زبیری، ڈاکٹر نعیم الحسن نقوی، ڈاکٹر سید معین الرحمان اور ڈاکٹر ابوسلمان شاہجہانپوری جیسے جید دانش ور بھی مجلسِ مشاورت میں شامل تھے جن کا ڈنکا چار دانگ عالمِ اردو میں بجتا تھا۔
اس ابتدائی شمارے کے مدیر مسؤل میجرآفتاب حسن تھے جو اس وقت مقتدرہ کے قائم مقام صدر نشین تھے۔ آفتاب حسن سائنسی موضوعات کے معروف مصنف، محقق، ماہرِ تعلیم اور ادیب تھے۔ ان موضوعات پر ان کی درجنوں کتابیں ان کے صاحبِ علم و قلم ہونے کی دلیل ہیں۔ اخبارِ اردو کے اس پہلے شمارے کے مدیرِ اعزازی ڈاکٹر معین الدین عقیل تھے جن کا نام تحقیق و ادب کا ایک معتبر حوالہ ہے۔ یہ شمارہ المخزن پرنٹرس (مکتبۂ رشیدیہ) پاکستان چوک کراچی سے طباعت کے مراحل طے کر کے مقتدرہ قومی زبان کے دفتر ۳۴۔ڈی، بلاک ۷، گلشنِ اقبال، کراچی ۴۷ سے جاری ہوا۔
اخبارِ اردو کے اولین شمارے کی فہرست مندرجات میں مقتدرہ قومی زبان کے بارے میں اولین صدر نشین ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی مرحوم کاکلیدی مضمون موجود ہے۔وہ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ و ثقافت کے ممتاز مؤرخ ‘ ماہر تعلیم ‘ دانشور ‘ منتظم ،وزیر مملکت اور متعدد کتب کے مصنف تھے۔ اس کے بعد مقتدرہ کے مقاصد اور منصوبوں کے بارے میں میجرآفتاب حسن کا تفصیلی مضمون شامل ہے۔اس میں ’’دفتروں میں اردو کا نفاذ‘‘ کے عنوان سے مقتدرہ کی تجاویز درج ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملکی لسانی و ادبی سرگرمیوں کا احوال لکھا گیا ہے۔ بین الاقوامی تناظر میں گردو پیش کے عنوان سے برطانیہ اور بھارت کی اردو سرگرمیوں کے بارے میں بھی خبریں موجود ہیں۔ تازہ مطبوعات کے عنوان سے کتابوں پر مختصر تبصرہ اور پھر آخر میں مقتدرہ قومی زبان کی سرگرمیاں تحریر ہیں۔ یہ شمارہ کُل ۲۲ صفحات کو محیط ہے لیکن اپنے مضامین، انتخاب، متن، دیگر نگارشات اور خبروں کے حوالے سے یہ کئی سو صفحوں پر چھپنے والے جرائد سے کہیں زیادہ قابلِ قدر ہے۔ فہرست کے بعداداریے کے طور پر معروضات بیان کی گئی ہیں۔ اس میں مقتدرہ قومی زبان کی ڈیڑھ سالہ ان ابتدائی کوششوں اور سرگرمیوں کے حوالے سے پاکستان میں قومی زبان کے نفاذ کی رفتار کو تیز تر کرنے کا ذکرملتا ہے۔
اخبار اردو کے پہلے شمارے پر تفصیلی تجزیاتی نظر دوڑائیں تو معلوم ہو گا کہ قومی یکجہتی کی علامت کے طور پر اردو کو صحیح معنوں میں قومی زبان بنانے کے لیے نہایت مفید اور قابل عمل معروضات پیش کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ماہنامہ کو اردو زبان کے نفاذ، اس کے مسائل، لسانی مباحث، تحقیقات اور لسانی و ادبی خبروں کے لیے مخصوص کیا گیاتھا جس کے لیے قارئین کے مشوروں اور تجاویز کو مشعلِ راہ قرار دیا گیا ۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کا صفحہ ۳ پرمضمون ’’مقتدرہ قومی زَبان‘‘ ہے۔ لفظ ’’زَبان‘‘ پر زبر سے قارئین کے اس دیرینہ مغالطے کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو ’’زُبان‘‘ اور ’’زَبان‘‘ دونوں کے مفہوم کو واضح طور پر سمجھنے پر ہے۔ زُبان (tongue) اور زَبان (language) کے معنوں میں ہے یعنی زُبان منہ کے اندر اور زَبان منہ سے باہر نکلنے والے الفاظ ہیں۔اس مضمون میں مقتدرہ قومی زبان کی ضرورت اور اہمیت کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک اردو کو صحیح معنوں میں قومی زبان کا درجہ نہ ملنے پر افسوس اور مستقبل میں اسے سرکاری و دفتری امور کی زبان قرار دلانے کے عزم کا اظہار ہے۔ مقتدرہ کے قیام کے مقاصد، تالیف و ترجمہ، لغات و تصنیفات، املاء اور ٹائپ رائٹروں کی تیاری کے سلسلے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے بارے میں تفصیل سے لکھا گیا ہے۔ قوم کے مزاج کو بدلنے کے لیے طباعتی اور ٹائپ مشینوں پر اردو زبان میں انجام شدہ کام کا بیان ہے۔ ٹائپ کاری، مختصر نویسی، خطاطی اور مختلف تعلیمی و دفتری امور میں اردو کی ترویج کے طریقۂ کار کو واضح کیا گیا ہے۔
میجر آفتاب حسن کا صفحہ ۷ پرمضمون ’’مقتدرہ قومی زبان، مقاصد اور منصوبے‘‘ بھی اسی طرح کی ایک تحریر ہے جس میں قومی زبان کی ترویج اور نفاذ کے مسائل و وسائل کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔اس مضمون میں ٹائپ کاری، تربیتی ادارے، خوش نویسی، لغات، اصطلاحات، ابلاغ عامہ، اصطلاحاتِ قانون، دارالترجمہ کا قیام، اردو ہندسوں کی تاریخ و روایت، جامع لغت انگریزی۔اردو اور مختلف اداروں سے اردو کے نفاذ کے سلسلے میں خط و کتابت کی بابت تفصیل سے لکھا گیا ہے۔ اس مضمون میں ’’حکومت کا ایک جرأت مندانہ فیصلہ راستے کی تمام مشکلات کو دور کردینے کے لیے کافی ہوگا‘‘جیسے درج الفاظ حکومت کو نفاذاردو کے لیے حوصلہ دلانے کے لیے اب بھی کافی ہیں۔ کاش کوئی حکومت تو جرأت مندانہ اقدام کرتے ہوئے اردو کو اس کا حق دلا سکتی۔ اس مضمون میں مقابلے کے امتحانات، ذریعۂ تعلیم، رسم الخط، افکار و اذکار وغیرہ کے معاملات پر اردو کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ مقتدرہ قومی زبان کی وہ مختصر روداد تھی جس پر اس دور میں کام ہو رہا تھا اور دیگر اداروں اور حکومت سے اردو کے نفاذ پر تعاون کی اپیل بھی اس میں موجود ہے۔ اس مضمون میں مقتدرہ قومی زبان کی جانب سے دفتروں میں انگریزی کی جگہ اردو رائج کرنے کی جوجامع تجویز دی گئی اس کے اصول بھی وضع کیے گئے ہیں۔ عدالتی کارروائیوں، ٹیلی پرنٹروں اور ٹائپ رائٹروں کے ساتھ ساتھ خوش نویسوں کو بھی اردو کو ذریعۂ تحریر و بحث بنانے کی تجویز دی گئی۔ اصلاح کو اوپر سے شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ نتائج مثبت اور پائیدار ہوں۔ مقتدرہ نے مختلف فرہنگوں کی تیاری کے بارے میں بھی لکھا کہ اصطلاحات اور لغات سے ہر دفتر کو استفادہ کرنا چاہیے اور یہ ہر دفتر میں موجود ہونی چاہئیں۔دفتری تربیتوں، نصاب، کابینہ کے اجلاس کے خلاصے بہ زبانِ اردو اور دفتری اردو کے نفاذ کے سلسلے میں بھی چند امدادی تجاویز دی گئی ہیں۔
لسانی و ادبی سرگرمیوں کے عنوان سے صفحہ ۱۵ پر مدراس( بھارت) سے آئے ہوئے ایک ممتاز محقق اور عالم پروفیسر محمد یوسف کوکن عمری کی کراچی آمد اور ان کے بنیادی تعارف پر مبنی تحریر ہے۔ خبروں میں قومی زبان کا پہلا عدالتی فیصلہ جو وفاقی شرعی عدالت نے ۲۱ جون ۱۹۸۱ء کو بہ زبانِ اردو جسٹس کریم اللہ درانی نے لکھا ، کے بارے میں مختصر خبر ہے۔سرورق کے اندرونی صفحے پر پاکستانی سائنس دان ڈاکٹرصلاح الدین حیدر کے اردو برقیاتی خورد حاسب (Electronic Micro Computer)کی ایجاد کے بارے میں تفصیل سے لکھا گیا ہے۔اس کارنامے پر مقتدرہ کے صدر نشین اور اردو دنیا کے اکابر کی جانب سے ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کو تحسین و تبریک پیش کی گئی۔واقعی یہ اس دور کی بہت بڑی خبر اور کامیابی تھی۔اس کا اندازہ آج تیس سال بعد ہم بہتر انداز میں کر سکتے ہیں۔ ایک خبر مشتاق احمد یوسفی کو پاکستان بینکنگ کونسل کی طرف سے ’’قائداعظم صد سالہ طلائی تمغہ‘‘ ملنے کے بارے میں ہے۔ اسی طرح ایک اور خبر ’’چند رسائل نے گزشتہ عرصہ میں کئی خاص نمبر شائع کیے‘‘ کے عنوان سے ہے جس میں تفصیل کے ساتھ اردو کے مؤقر رسائل ’’اردو‘‘، ’’فنون‘‘، ’’اوراق‘‘، ’’افکار‘‘، ’’نگارِ پاکستان‘‘ اور ’’نیا دور‘‘ وغیرہ کے خاص شماروں کے بارے میں لکھا گیا ہے۔ ایک خبر میں کراچی میں گزشتہ دو ماہ میں منعقد ہونے والے مشاعروں کا احوال بیان کیا گیا ہے۔ معروف و ممتاز افسانہ نگار اور ڈراما نویس میرزا ادیب کی خود نوشت ’’مٹی کا دیا‘‘ کی عنقریب اشاعت کا مژدہ بھی خبروں میں سنایا گیا۔ معروف محقق اور ماہر اقبالیات ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کو ان کی تحقیق ’’تصانیف اقبال کا تحقیقی و توضیحی مطالعہ‘‘ پر پی ایچ ڈی کی ڈگری ملنے کی خبر بھی دی گئی جس میں ہاشمی صاحب کی جوانی کی تصویر بھی خبر کے ساتھ جلوہ افروز ہے۔ انگریزی اردو لغت کے نئے ایڈیشن کی خبر بھی ہے جسے انجمن ترقی اردو کراچی نے شائع کیا۔ اسی طرح خبروں میں اردو غزل کے عنوان سے معروف ادیب اور نقاد پروفیسر نظیر صدیقی کی تنقیدی کتاب کے زیر ترتیب ہونے کی خبر ہے۔ محمد علی صدیقی کی نئی کتاب کے عنوان سے ان کے تنقیدی مضامین کا تازہ مجموعہ ’’نشانات‘‘ کے نام سے شائع ہوگیا ہے، بھی ایک خبر ہے۔ شان الحق حقی (اب مرحوم) کے دوسرے شعری مجموعے ’’حرفِ دل رس‘‘ کی عنقریب اشاعت کی خبر بھی شائع کی گئی ہے جس کے ساتھ حقی صاحب کی تصویر بھی چھپی ہے۔ خبروں کے ساتھ ساتھ قارئین اور ماہرینِ زبان و ادب سے آراء، تحریریں، رودادیں، خبریں، تازہ کتب اور سرگرمیوں کی ڈائریوں کے ارسال کرنے کے لیے استدعا بھی کی گئی ہے۔
برطانیہ اور بھارت کی تحقیقی، ادبی، علمی خبروں اور سرگرمیوں کا ذکرصفحہ ۱۹ پر ہے جسے گردوپیش کا عنوان دیا گیا ہے۔ تازہ مطبوعات کے عنوان سے قائداعظم اکیڈمی کی دو کتابوں کی اشاعت کا ذکر صفحہ ۲۰ پرہے۔ اسی صفحے پر ’’اورئینٹل کالج میگزین‘‘ کی اشاعت کی خبر ہے۔ معروف افسانہ نگار اور ناول نویس بانو قدسیہ کے شہرۂ آفاق ناول ’’راجہ گدھ‘‘ کی اشاعت کی خبر بھی ہے جسے بانو قدسیہ کی سالہا سال کی محنت کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح ایک اور خبر میں انسٹی ٹیوٹ آف سنٹرل اینڈ ویسٹ ایشین اسٹڈیز کا تازہ کارنامہ کے عنوان سے ڈاکٹر سلیم اخترکے مرتب کردہ فارسی شاعروں کے ایک اہم تذکرے ’’مجمع الشعرای جہانگیر شاہی‘‘ مصنفہ ملا قاطعی ہروی کی اشاعت کی خبر ہے۔ ایک خبر میں ممتاز محقق اور شاعر مشفق خواجہ کی تازہ تصنیف ’’غالب اور صفیر بلگرامی‘‘ کے شائع ہونے کا تذکرہ ہے۔ صفحہ اکیس پر شائع ہونے والی خبر اس لحاظ سے قابلِ توجہ ہے کہ اس میں برطانیہ کی عدالتِ عالیہ نے اردو کو بریڈ فورڈ میں دوسری سرکاری زبان قرار دینے کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا۔
اخبارِ اردو کے اس اولین شمارے کے آخری صفحے (۲۲) پر مقتدرہ قومی زبان کی سرگرمیوں کے بارے میں خبر ہے۔ اسی طرح مقتدرہ کے دفاتر کے لیے عمارت کی تعمیر اور ذیلی مجالس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے غور کرنے کی خبریں بھی موجود ہیں۔ آخری صفحے کی آخری خبر میں بھارت کے ممتاز شاعر اور ادیب پروفیسر جگن ناتھ آزاد کے دورۂ مقتدرہ قومی زبان کا احوال ہے۔ اس خبر کے مطابق جگن ناتھ آزاد نے صدر نشین میجر آفتاب حسن سے ملاقات کی جس پر ترویجِ اردو کے باہمی معاملات زیر بحث آئے۔ اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ اردو صرف پاکستان کے عوام کے اتحاد کی ہی مظہر نہیں بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک مضبوط لسانی رابطے کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔
یہ مختصر احوال اس پہلے شمارے کا ہے جواب اپنی تیس سالہ خدمات کا مظہر ہے اور اردو زبان کے نفاذ اور ترویج کے لیے کوشاں ہے۔ اللہ کرے کہ اب پوری قوم اور رہبران قوم قومی زبان پر توجہ دیتے ہوئے اس کے نفاذ اور ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کر لیں تاکہ مقتدرہ کی ۳۳ سالہ محنت ٹھکانے لگے اور وہ نفاذ اردو کے اعلان کے بعد والے مرحلے کے لیے تیاری شروع کر سکے۔