حاصل مطالعہ

ندیم شناسی

احمد ندیم قاسمی: شاعر اور افسانہ نگار‘‘ کی اشاعت (۱۵؍ اکتوبر ۱۹۹۱ء) سے لے کر اپنے دمِ واپسیں (۱۰۔جولائی ۲۰۰۶ء) تک ندیم صاحب کے ہاں تخلیق کا الاؤ مسلسل روشن رہا ہے:
دل ہے کہ الاؤ ہے، سانسیں ہیں کہ شعلے ہیں
ہر وقت مرے اندر جیسے کوئی جلتا ہے
میرے باطن میں کوئی قافلہ ہے محوِ سفر
سانس لیتا ہوں تو آوازِ دِرا آتی ہے
احمد ندیم قاسمی کی شاعری اور افسانہ نگاری پر میری کتاب کے آخری باب کا عنوان ’’فنا اور بقا‘‘ہے۔ اپنی زندگی کے آخری بیس برس کے دوران یہ موضوع اپنے مختلف اور متنوع ابعاد کے ساتھ اُن کے فکر و تخیل کو تحریک دیتا چلا آیا ہے۔ اس دور میں اُن کے ہاں فانی و باقی کے اسرار و رموز پر تخلیقی غور و فکر بسا اوقات ھوالباقی سے مکالمے کی صورت اختیار کر لیتاہے۔ یہ مکالمہ ہمیشہ اُن روحانی اصول و اقدار سے پھوٹتا ہے جن کے گہوارے میں ندیم نے پرورش پائی تھی۔
ندیم کی نظر میں ذاتِ باری سراسر جمال ہے (ع: شبِ تارسے نہ ڈرا مجھے، اے خدا جمال دکھا مجھے)۔ اللہ جمیل ہے اور کائنات اس کے جمال کا آئینہ ہے۔ چنانچہ ندیم نے اپنے نعتیہ کلام کو ’’جمال‘‘ کے عنوان سے شائع کیا ہے۔ وہ آنحضورؐ کی ذاتِ والاصفات اللہ کے حُسنِ تخلیق کا عظیم ترین شاہکار سمجھتے ہیں۔
احمد ندیم قاسمی کی ترقی پسندی اور انقلابی آرزو مندی کا سب سے بڑا سرچشمۂ فیضان خیر البشر حضرت محمدؐ کا اُسوۂ حسنہ ہے۔ اُن کی نظر میں انسانی تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب اسلام کے ظہور سے عبارت ہے۔ اپنے نعتیہ کلام میں اُنھوں نے اِس حقیقت کو مختلف اور متنوع انداز میں ہر بار باندازِ دگر بیان کیا ہے۔
ندیم زمانِ مصطفیؐ سے لے کر عصرِ رواں تک انسانی ارتقاء کی سمت و رفتار سے ہر دم باخبر رہنے میں کوشاں رہے ہیں۔ جب وہ انسانی تاریخ میں ایک ترقی پسند اندازِ نظر کے ساتھ اسلام کے حقیقی انقلابی کردار پر غور کرتے ہیں تو بے ساختہ آنحضورؐ کو پکار اٹھتے ہیں: ’اب جو تا حشر کا فردا ہے، وہ فردا تیرا‘‘۔
خود انھوں نے ’’ایک ذاتی وضاحت‘‘ کے عنوان سے اپنے ترقی پسند نظریہ پر درج ذیل الفاظ میں روشنی ڈالی ہے:
’’جب میں جوان ہوا تو میرا پہلا مسئلہ یہ تھا کہ میں جس ملک میں رہتا ہوں، اس پر ایک غیر ملکی سامراج کیوں مسلط ہے اور دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ میرے آس پاس انسانوں کی اکثریت اپنی ابتدائی ضرورتیں بھی کیوں پوری نہیں کر سکتی اور وہ زندگی کی ہر آسائش سے کیوں محروم ہیں۔ بیشتر انہی دو دکھوں نے میری شاعری اور نثر میں اظہار پایا۔ نہ میں نے برطانوی استعمار کو بخشا اور نہ اپنی انسانی برادری کی محرومیوں کو نظر انداز کیا۔ ساتھ ساتھ میں نے انسانوں کی باہمی محبتوں اور ان کی محبتوں کی گونا گوں کیفیتوں کے بھی گیت گائے کہ کوئی بڑے سے بڑا نظریہ بھی انھیں گزند پہنچانے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ میری ترقی پسندی نے بنیادی انسانی جذبات کی کبھی نفی نہیں کی کیونکہ یہ جذبے ہی تو انسان کو انسان بناتے ہیں۔ آزادی کے بعد بین الاقوامی دہشت گردی کے علاوہ خود اپنے بھائی بندوں کا ظلم و جبر میرا موضوع فن رہا۔ میں نے ویت نام، فلسطین اور دیگر عالمی مسائل پر نظمیں لکھتے ہوئے، کشمیر کو کبھی فراموش نہ کیا۔ ایک عالمی شخصیت بننے کی بجائے میں نے اپنے پاکستانی تشخص پر اکتفا کیا کہ پاکستان ہی میری پہچان ہے۔ پاکستان کی تاریخ بیشتر آمروں کی تاریخ ہے مگر کوئی بھی آمر مجھ سے اپنے حق میں ایک حرف بھی وصول نہ کر سکا۔
طلوعِ آزادی کے فوراً بعد کا یہی وہ زمانہ ہے جب احمد ندیم قاسمی ریڈیو پاکستان پشاور سے اپنا تعلق ختم کر کے اُن چند سر کردہ شاعروں اور ادیبوں میں آشامل ہوتے ہیں جو پاکستان کی تہذیبی زندگی کی عوام دوست اور ترقی پسند اقدار کی پائیدار بنیادوں پر شیرازہ بندی میں کوشاں ہیں۔ چنانچہ بہت جلد احمد ندیم قاسمی کی سربراہی میں انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان کا قیام عمل میں آ جاتاہے۔ یوں احمد ندیم قاسمی پاکستان کی تہذیبی زندگی کو برطانوی استبداد کے نشانات سے پاک کر کے ، تحریک پاکستان کے خواب و خیال کو پاکستان کی اجتماعی زندگی کے ٹھوس اور متحرک قالب میں ڈھالنے کی جدوجہد میں قائدانہ کردار ادا کرنے لگتے ہیں۔
از: پروفیسر فتح محمد ملک
مغالطے مبالغے
’’بلند آواز عناصر کی خود اعتمادی انھیں اپنی آواز کے سوا کچھ سننے ہی نہیں دیتی ۔ ہماری صنعتوں کے زوال کا تعلق کسی بھی حکومت کے تین برس کے ساتھ نہیں ۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ ہمارے ہاں گملوں میں اُگی ہوئی ایک ایسی کرپٹ سرمایہ داری مسلط ہے جسے خون کا پیدائشی سرطان ہے۔ اسے ہر سال عالمی امداد اور سرکاری سرپرستی کی ضرورت پڑتی ہے جو کہ اس لیے دستیاب نہیں ہوپاتی کہ ہمارے ملک کی صنعت اور سیاست کی جڑوں میں کوئی فلسفہ ایک وسیع وعریض چٹان کی طرح پڑا ہے جو جڑوں کو پھیلنے ہی نہیں دیتا۔ جمہوریت اور صنعت دونوں جدید علوم کی پیداوار ہیں۔ جمہوریت کو اختلاف ،شمولیت اور فراخدلی کی ضرورت ہوتی ہے جو کھلے فکر کے ماحول میں میسر آتی ہے اور صنعت کا اصول ہے کہ یہ ریسرچ یعنی جستجو اور ایجاد پر پلتی ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں یہ کیسے پنپ سکتی ہیں جہاں صنعتکار سمیت ہر کسی کا نصب العین صرف بے حد منافع ہو۔ہمارے ہاں بجلی اور توانائی کے جدید نظام میں آنے والی کوتاہیوں پر عوام کا شدید ردعمل یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ انسان پچھلی صدیوں کے طرزِ زندگی کو قبول نہیں کرتا ، اسے جدید ترین سہولتیں مانگنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ ‘‘
از: مبارک حیدر

اوراقِ ہند
’’یہ تقریباً سبھی وسیع علاقے اور عمل داریاں ، ان کو چلانے پرا ٹھنے والے بے تحاشہ مصارف ، انھیں اپنے قبضے میں رکھنے کے لیے لڑی جانے والی تمام جنگیں ، یہ سب نتیجہ تھیں اس آرام وآسائش کی محبت کا ، جو شہروں میں بسنے والے لوگوں میں موجود ہوتی ہے ، اس لالچ کا جو تاجروں کے دلوں میں ہوتا ہے جو کہ بادشاہوں کی ہوس ملک گیری سے بڑ ھ کر ہے۔ ہم ہمیشہ ٹیکسوں کا گلہ کرتے ہیں ، اکثر بہت بجا طور پر ، لیکن ہم نے کبھی اس پر غور نہیں کیا کہ سب سے بڑا اور ظالمانہ ٹیکس وہ ہے جو ہم خود پر نفاستِ ذوق کی نت نئی شکلوں میں لاگو کرتے ہیں اور پھر یہ نفیس شوق ہماری ضرورت بن جاتے ہیں اور ایک تباہ کن عیاشی ثابت ہوتے ہیں، اگرچہ ہم انھیں عیاشی کا نام نہیں دیتے۔ ‘‘
’’۔۔۔۔۔۔کے نام کے ساتھ اعظم کہا جاتا تھا ، حالانکہ اس وقت کے شہزادوں میں وہ سب سے بڑا مردم آزاد اور ظالم شہزادہ تھا۔ اپنے باپ کو زہر دینے والا ، اپنے بھائیوں کو قتل کرنے والا اور سب سے بڑھ کر گھناؤنی یہ بات کہ وہ ایک منافق تھا جو اس بات کا قائل تھا کہ بڑے سے بڑا جرم آزادی سے کیا جاسکتا ہے اور بعد میں کفارے کے ڈھونگ سے بچاجاسکتا ہے۔‘‘
’’قندھار سکندر کا مخفف ہے ‘‘۔
’’وہ خزانہ جو نادر شاہ دہلی سے لوٹ کر لے گیا اور جو اس کے لیے بیکار ثابت ہوا کیونکہ جلد ہی اس کے بھتیجے نے اسے قتل کردیا ، اس بے تحاشہ دولت کا کیا بنا؟ کچھ حصہ تو بعد میں ہونے والی لوٹ مار میں دوسرے ہاتھوں کو منتقل ہوگیا ہوگا ، باقی خوفزدہ اور لالچی لوگوں نے کہیں زمین کے سوراخ میں چھپا دیا ہوگا۔ ‘‘
’’ایک پورے شہر کی گواہی لازماً جج پر اثر انداز ہوتی ہے چاہے وہ جتنا ہی محتاط اور چوکنا کیوں نہ ہو۔ ‘‘
’’جج کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ایک سخت گیر شخص تھا جو کوئی بات سننے سے پہلے ہی رائے قائم کرلیتا تھا اور خون آشام فطرت رکھتا تھا۔ ‘‘
’’تختہ دار کے ذریعے موت کو اس کا مقدر بنانے کے بعد ، جج کے حکم پر ایک مٹی اور کیچڑ بھری گاڑی میں ڈال کر اسے شہر کی گلیوں میں گھمایا گیا۔ اس کے منہ میں ٹھونسا ہوا کپڑا جو کہ اس کے ہونٹوں پر پھیل کر اس کے چہرے کومسخ کر رہا تھاٹھونسا۔ اس کے منہ میں کپڑا اس لیے ٹھونس دیا گیا تھا تاکہ وہ تختہ دارپر ججوں کے خلاف نہ بول سکے اور انھیں یہ خوف بھی تھا کہ وہ لوگوں کو اپنی بے گناہی کا یقین نہ دلادے ، کیونکہ وہ اپنی بے گناہی میں یقین رکھتا تھا ۔ گاڑی اور منہ میں ٹُھسے ہوئے کپڑے نے پیرس کے شہریوں کی روح تازہ کردی ، ایک بدنصیب کی موت سے انھیں کوئی صدمہ نہ ہوا۔ ‘‘
از : والٹےئر ، ترتیب وتدوین: حمیرا اشفاق

ماہتاک سنگت
’’یہ سچ ہے کہ ماحول فنکار کو متاثر کرتا ہے مگر باغی فنکار کبھی بھی ماحول کا محتاج نہیں ہوتا۔ وہ اپناماحول خود پیدا کرتا ہے۔ شعر وادب یا پھرکسی اور فن لطیف میں ماحول کے ساتھ مصلحت آمیزی عظیم ترین گناہ ہے۔ فن، حسن اور محبت اور سچائی کا انتھک پاسبان ہے۔ یہ نظر یہ آج بھی اتنا ہی سچا ہے جتنا کہ شاہ لطیف اور سچل سرمست کے زمانے میں تھا۔‘‘
’’جدید ادب کی اہمیت ! از : شیخ ایاز /محمد رفیق مغیری ‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ ۔۔۔۔شمبو کا نام ’ پتریلا‘کیسے پڑگیا۔ اس بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص اس کو تنگ کرتا ۔ ستاتا اور مذاق اڑاتا تو وہ کہتا کہ فلاں شخص نے مجھے پتروں سے مارا ، پیٹا، مجھے قتل کیا اور قتل کر کے ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ گردن کاٹ کرمیرا سر علیحدہ کردیا ۔ پھر میرا سر پتھروں سے کوٹ ڈالا ، ہڈیاں اور ہاتھ پاؤں توڑ دیے۔ وہ جب اس جیسی احمقانہ باتیں کرتا ،تو لوگ پوچھتے کہ پھر تم زندہ کیسے بچ گئے ؟ تو وہ کہتا کہ میں نے اپنے آپ کو پتروں (یعنی لوہے کے ٹکڑوں ) سے جوڑ دیا۔ اس وجہ سے اس کا نام پتریلا مشہور ہوگیا۔ (پتریلا یعنی لوہے کے ٹکڑوں سے جڑا ہوا)۔ ‘‘
’’ پتریلا فقیر ، از : محمد سراج مسوری بگٹی ‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’کوئٹہ کے کانسی قبرستان میں کئی قبروں کے بیچ سادہ سی ایک قبر ہے ، بلوچستان کی جدید سیاسی تاریخ کے موجد ، مالک ورہنما میر یوسف عزیز مگسی کی قبر ۔۔۔۔۔۔ یوسف عزیز کے اس مزار کے اولین وباقاعدہ مجاور تو بابو عبدالکریم شورش تھے ۔ جب تک زندہ رہے ہر جمعے کواپنی سائیکل پر سوار ہو کر ہزار گنجی سے یہاں آتے، مزار کی جھاڑ پھونک کرتے اور واپس ہوجاتے ، جب سائیکل چلانے کے قابل نہ رہے تو تانگے پر آجاتے ، مگر ناغہ نہ کرتے۔
انہی دنوں حبیب جالب کوئٹہ آئے تو یوسف عزیز کے مزار پر جانے کی فرمائش کی۔ ہم انھیں جب یہاں لے کر پہنچے تو مزار کی حالتِ زار دیکھ کر چھ فٹ کا ہٹاکٹا حبیب جالب مزار کے پہلو میں بیٹھ کر بچوں کی طرح زار وقطار روتا رہا، روتا جاتا تھا اور کہتا جاتا تھا : ’ یہ اس خطے کے سیاسی امام کی قبر ہے ، اگر مجھ جیسا پنجاب کا معمولی سا شاعر یہاں دفن ہو تو تم لوگ اس کا کیا حال کرو گے !۔۔۔‘‘
’’ کچھ لمحے یوسف عزیز مگسی کے مزار پر !از : عابد میر ‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’خود ہمارے سماج کے فیبرک میں انتہا پسندی کا جو نیا رنگ شامل ہوا ہے اور یہ رنگ مسلسل شوخ ہوتا چلا جارہا ہے، مظلوم طبقات ہی میں سے ایک طبقے کو یہ رنگ کیوں بھانے لگا ہے؟ اس سوال کا جواب بھی ضروری ہے ۔ اس سوال کے جواب کی جڑیں امریکہ اور برطانیہ کے تمدن میں پیوست نہیں ہیں ، خود ہماری اپنی تہذیبی زمینوں میں یہ جڑیں پھیلی ہوئی ہیں۔ ‘‘
فیض بیسویں صدی کے افق کا درخشاں ستارہ، از : ڈاکٹر صلاح الدین درویش، ’دستاویز‘ ۱۴۔۱۵‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ایسا لگتا ہے کہ اس معاشرے کے باطن میں کسی بڑے قاتل نے گھر کرلیا ہے۔ اب وہ اندر بیٹھا اس معاشرے کو ہنکا رہا ہے ۔ باہر سے اگر کوئی دیکھے تو وہ یہی سمجھے گا کہ اس معاشرے کا سب سے مرغوب مشغلہ قتل ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے۔ باقی رہے ہمارے قاضی ،مفتی، مولوی ملا۔ ان کی بارگاہ میں قصور وار کتنی جلدی واجب القتل قراردے دیا جاتا ہے۔ جیسے ان کی بارگاہ میں اس کے سوا اور کوئی سزا ہے ہی نہیں۔ ‘‘
ماہتاک ’سنگت‘ کوئٹہ شمارہ ۱۴ سے چند اقتباس

بیکار کے مہ وسال
نوبل انعام یافتہ ترک ناول نگار اور حان کمال کے ایک اور ناول ’بیکار کے مہ وسال‘کا ترجمہ افسانہ نگار خالد فتح محمد نے کیا ہے۔
’’ اُن کا نام محمد رشید اوغتچو تھا۔ وہ ۱۹۱۴ء میں ادانہ ترکی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ترکی کی قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس کے رکن منتخب ہوئے۔ اس کے بعد انھوں نے ۱۹۳۰ء میں پاپولر پارٹی کی بنیاد رکھی۔ا ن کی سیاسی سرگرمیوں کے نتیجے میں اُن کے خاندان کو ہجرت کر کے شام جانا پڑا ۔ جس کی وجہ سے ان کے بڑے بیٹے (اورحان کمال) سکینڈری سکول کی تعلیم مکمل نہ کرسکے۔ کسی حد تک یہ واقعات اور حان کمال کے خود سوانحی ناول’’ باپ کا گھر ‘‘ ۱۹۴۹ء میں درج ہیں۔ اپنے پیش لفظ میں انھوں نے اسے ’’ غیر اہم شخص ‘‘ کا روزنامچہ کہا ہے۔ بعد میں وہ اپنے آبائی قصبے واپس چلے گئے جہاں انھوں نے کپاس کے کارخانوں میں مختلف نوعیت کی ملازمتیں کیں اور ’’ فائٹ اگینسٹ ٹیوبر کلاسس فاؤنڈیشن ‘‘ میں بطور کلرک کام کیا۔ زندگی کا یہ دور ان کی شخصیت سازی میں ان مٹ اثرات چھوڑ گیا۔ انھوں نے ۱۹۳۷ء میں ایک یوگو سلاوتارکِ وطن کی بیٹی سے شادی کی ، اُن کے چار ناول(باپ کا گھر ، بیکار کے مہ وسال ، جمیلہ ، سیل نمبر ۷۲ کے قیدی ) اسی دور میں تخلیق ہوئے۔ فوجی ملازمت کے دوران ۱۹۳۹ء میں انھیں اپنے سیاسی نظریات کی وجہ سے پانچ سال قید کی سزا ہوئی ۔ بُرصہ کی جیل میں ناظم حکمت کے ساتھ تعلق کے دوران اُن کے سوشلسٹ نظریات ، اورحان کمال کی شخصیت پر اثر انداز ہوئے۔ اسیری پر مبنی اُن کی یادداشتیں کتابی شکل میں بھی چھپ چکی ہیں۔ ۱۹۵۱ء میں وہ استنبول منتقل ہوگئے جہاں انھوں نے قلم زندگی کا وسیلہ بنالیا۔ اُن کی تحریریں عموماً اُن لوگوں کی زندگیوں کا احاطہ کرتی ہیں ،جو زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہوں۔ بیسو یں صدی کی تیسری دہائی کے دوران اپنے تجربات کو موضوع بنا کر اُنھوں نے مختلف موضوعات کو قلم زد کیا: کمیت اور کارخانہ مزدور کے مسائل ‘بڑے شہروں میں تارکینِ وطن مزدوروں کی بیگانگی ، جیل کے قیدیوں کی زندگی ، فرض کی اندھی وفاداری ، غربت اور عورتوں پر تشدد اوراُن کا استحصال اُن کے موضوعات تھے۔ اُنھوں نے ۳۸ کتابیں تحریرکیں (۲۸ ناول اور ۱۰ افسانے ) اور اِن میں کچھ پر فلمیں اور ڈرامے بن چکے ہیں۔ ۱۹۷۰ء میں صوفیہ (بلغاریہ ) میں اُن کا انتقال ہوا ، وہ استنبول میں دفن ہیں۔ ‘‘
از : اورحان کمال ‘‘(ترجمہ: خالد فتح محمد)

سکون کی تلاش
علامہ عبداللہ یوسف علی کی سوانح حیات Searching for Surface کاترجمہ ’ سکون کی تلاش ‘ ادارۂ تحقیقات اسلامی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ، اسلام آباد نے شائع کیا ہے۔ اس میں سے تین اقتباسات پیش ہیں:
(i) ’’ لندن میں ۱۹۵۳ء کا موسمِ سرما خاصا درشت تھا۔ ۹۔ دسمبر ، اتوار کے روز ویسٹ منسٹر میں ایک پریشان حال بوڑھا شخص ، باہر ایک گھر کی سیڑھیوں پربیٹھا نظرآیا۔ پولیس اسے ویسٹ منسٹر ہسپتال لے گئی۔ اگلے ہی دن وہاں سے فراغت مل گئی اور اسے جیلسی کی ڈوو ہاؤس سٹریٹ میں لندن کاونٹی کونسل کا عمر رسیدہ اشخاص کے لیے قائم کردہ ایک آشرم اپنے ہاں لے گیا۔ ۱۰۔ دسمبر کو اسے دل کا دورہ پڑا اور فوری طور پر فلہم میں سینیٹ سٹیفنز ہسپتال لے جایا گیا ۔ ہسپتال میں داخلے کے تین گھنٹے بعد وہ بوڑھا شخص وفات پاگیا ۔
(ii) ’’ انھوں نے اپنی بیوی کا اسلامی نام معصومہ رکھا جو ان کی پہلی بیوی کی بے وفائی کے پس منظرمیں نہایت معنی خیز تھا۔‘‘
(iii) ’’ ایک معروف مخبر فتح علی خاں نواب آف قزلباش تھے جو میسٹن کومسلم لیگ کی درون خانہ اطلاعات فراہم کرتے تھے اور نواب رام پور پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے رہتے تھے ۔جن کے دربار میں علی برادران کے اعزہ ملازم تھے۔ فتح علی خاں نے نواب رام پور کی ریاستی زندگی کی بہت دلچسپ جھلکیاں پیش کی ہیں۔ فتح علی کی تحریر سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو ’’ دل چاہتا تھا کہ میرے پاس فرصت ہوتی اور میں ہزہائنس (نواب رام پور ) کے ہاں مزید قیام کرتا اور اپنی موجودگی میں کچھ ناپسندیدہ افراد کو ان کے دربار سے نکلوا دیتا اور نواب صاحب کی ایک انتہائی غیرمعمولی عادت سے ان کو چھٹکارا دلواتا جو یہ تھی کہ وہ رات کو بہت دیر تک جاگتے رہتے اور صبح کو دن چڑھے بہت دیر تک سوتے رہتے تھے۔ کسی قسم کی جسمانی ورزش نہیں کرتے تھے اور اس کا نتیجہ یہ تھا کہ ۲۴گھنٹے میں صرف ایک بار کھانا کھاتے تھے ۔‘‘ فتح علی خاں کا مکتوب بنام میسٹن ، مورخہ ۳۱ ۔ جنوری ۱۹۱۴ء LOL: MSS EUR F 136/5 مخطوطہ انڈیا آفس لائبریری۔ ‘‘

جینیاتی انجینئرنگ ایک تعارف
مقتدرہ قومی زبان میں شعبہ درسیات نے اپنے ترقیاتی منصوبے ’’سائنسی، تکنیکی و جدید عمومی موادِ مطالعہ کی قومی زبان میں تیاری‘‘ کے تحت اہم کتابوں کے تراجم کا ایک سلسلہ شروع کیا ۔ پیش نظر کتاب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
’جینیاتی انجینئرنگ ایک تعارف‘ ڈیسمونڈ ایس ٹی نکول کی مشہورِ زمانہ درسی کتاب ہے۔ جینیاتی انجینئرنگ کا مضمون عصرِ حاضر میں بہت اہم موضوع کی حیثیت سے سامنے آیا ہے۔ اس مضمون کے بنیادی اصول و ضوابط پر دسترس ہی اس کے تعارف میں نہایت اہم ہے۔ لہٰذا اس کتاب میں سب سے زیادہ زور جینیاتی ترمیم اور ردّ و بدل کے بنیادی اصولوں پر دیا گیا ہے۔ کتاب کے دیگر موضوعات میں جینومکس، پروٹین انجینئرنگ، کلوننگ، جین تھراپی، جین یا فتہ پودے اور جانور اور بائیو ٹیکنالوجی کے زندگی کے مختلف شعبوں میں اطلاق پر بحث کی گئی ہے۔
کتاب میں موجود ایسے الفاظ جن کے متبادل الفاظ اردو زبان میں موجود نہیں اور ان کا ترجمہ بین الاقوامی سطح پر قابل قبول نہیں مثلاً ایم آر این اے (MRNA)یا ڈی این اے (DNA)وغیرہ ، ان الفاظ کو اسی طرح تحریر کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر الفاظ کا ترجمہ کر دیا گیا ہے جیسے restriction enzymesکو پابند کنندہ خامرے کہا گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ منتخب اہم اصطلاحات کی ایک مختصر سی فہرست دی جا رہی ہے تاکہ جینیاتی انجینئرنگ سے بھرپور آگاہی ہو سکے۔
منتخب اصطلاحات
حیاتی معلومات
* Bioinformatics
کُند سرے
* Blunt end
متصل سرے
* Cohesive ends
کمپلیمنٹری
* Complementary
حفتی
* Conjugative
تحلیل
* Digestion
دہری لڑی
* Double strand
اظہار
* Expression
ادغامی
* Fusion
جینیات
* Genetics
جینی روپ
* Genotype
مخلوط
* Hybrid
اختلاط
* Hybridization
آب پاشیدگی
* Hydrolysis
داخل کرنا
* Insert
موڑنا
* Ligation
تبدیلی۔ تغیر
* Mutation
ردّ و بدل
* Manipulate
ابھرے ہوئے سرے
* Protruding ends
کثیر الاشکال
* Polymorphism
بازامتزاج
* Recombinant
پابند کنندہ خامرے
* Restriction enzymes
شناختی جگہیں
* Recognition sites
ترتیب
* Sequence
جین یافتہ
* Trangenic
از: عظمت زہرا، صائمہ یوسف

یحییٰ امجد: فکر و فن اور شخصیت
’’جنوبی پنجاب کے طالب علموں میں یحیےٰ امجد کا مقام محض ایک سینئر طالب عالم اور نقاد ومحقق کا نہیں تھا ۔ اُس کی محنت، لیاقت اور ناتواں سماجی پس منظر پر اعتماد نے کئی کم وسیلہ طالب علموں کو حوصلہ دیا کہ وہ اورئنٹل کالج لاہور کے نامور اساتذہ اور کتاب خانے سے براہِ راست فیض یاب ہوئے بغیر بھی نہ صرف اعزاز کے ساتھ ایم ۔ اے اُردواپنے اپنے کالجوں سے کرسکتے ہیں بلکہ چمکیلے دلاسوں جیسے فلیپوں کے بغیر زمانہ طالب علمی کے مضامین کو کتاب میں یکجا کر کے فن کی دنیا میں فیصلے کرسکتے ہیں۔ اس نے معلمی چھوڑ کر افسری پائی مگر درویشانہ انکسار اور کتاب سے والہانہ پیار کو اس آخری وقت تک قائم رکھا جو اس کی زندگی میں بہت جلدی آگیا۔ اس نے اپنی لگن بلکہ دھن میں موت کو شکست دی جب کہ پاکستان کی تہذیبی تاریخ لکھ کر جذبات نویسی کو ہزیمت بخشی۔ اس کی وفات کے بعد اس کے درویش صفت بھائی محمد قاسم خان نے ’یحیےٰ امجد ۔فکروفن اور شخصیت‘ شائع کی ہے۔

اَن تُلے موتی
’’ ظفرہرل ایک متجسس اور مضطرب روح رکھتا ہے ، وہ اپنی ڈاکٹریٹ کے لیے لکھنؤ ، اوساکا اورملتان کی فسوں کار دھرتی میں مرتعش تاریخ اور ثقافت کی رو کی بازیافت کے ساتھ ساتھ یہاں بسنے والوں کے تخیل ، محسوسات اور مسائل سے نبرد آزمأ ہونے یا چشم پوشی کے روّیوں پر بھی غور کرتا رہا ہے ، مگر اس کا پہلا عشق اپنی دھرتی جھنگ سیال سے ہے ، جہاں اُس نے ایک طرح سے اپنے ایک سینئر معاصر نواب سیال کے فن اور شخصیت سے متعلق دل آویز نقوش کو ’’اَن تُلے موتی‘‘ میں یکجا کردیا ہے۔
وہ والہانہ انداز سے نواب سیال کی آوارہ گردی ، آزاد منشی ، علم طلبی ، کتاب ، حُقّے، پہیلی اور مناظرے سے رغبت کے ساتھ ساتھ سخن گوئی کے باوجود ، بند آنکھوں کے ساتھ انگشتِ شہادت کواپنی تنہائی کے سناٹے کے لیے تال دینے کے لیے استعمال کرنے کا ذکرکرتا ہے۔ اس سے احساس ہوتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی کے لیے ایک مثالی قالب تلاش کرلیا ہے ۔ سو امید ہے کہ جب دس پندرہ برس کے بعد ظفر ہرل ، نواب سیال بن چکا ہوگا تو اسے اپنے کلام کی تدوین کے لیے کوئی نوخیز نواب سیال جھنگ، ملتان ، اوساکا یا لکھنؤ سے ہی مل جائے گا۔ ‘‘