یادرفتگان

اے حمید: الفاظ کا مصور

اردو کے ممتاز افسانہ نگار اے حمید کی شخصیت اور فن کے حوالے سے معروف اہل قلم کے
تاثرات اخبار اردو کے قارئین کی نذر کیے جا رہے ہیں۔ (مدیر)

فسانہ نگا رجو پہلوان بنتے بنتے رہ گیا
انتظار حسین

۱۹۴۸ء میں جب اے حمید پہلی مرتبہ ٹی ہاؤس میں نمودار ہوا تھا تو بالکل نہیں لگا تھا کہ وہ اکھاڑے سے بھاگ کر اور اپنے پہلوان باپ کی مار کھا کر یہاں آیا ہے۔ اس کی چال ڈھال چغلی کھا رہی تھی کہ یہ کوئی رومانٹک روح ہے جو بھٹک کر یہاں آ نکلی ہے۔ انہی دنوں اس کا ایک افسانہ شائع ہوا۔ اس کا عنوان تھا ’منزل منزل‘۔ یہ اردو افسانے کی دنیا میں اس کا پہلا قدم تھا۔ اس افسانے سے بھی یہی غمازی ہوتی تھی کہ یہ نوخیز رومانی مزاج لے کر افسانے میں نمودار ہوا ہے۔
اس اکھاڑے کا نقشہ کھینچتے ہوئے اے حمید نے ان امرودوں کے پیڑوں کو بہت یاد رکھا جو اس اکھاڑے کے ارد گرد کھڑے تھے اور میٹھے امرودوں سے لدے ہوئے تھے۔ ہم نے پوچھا کہ پھروہاں سے بھاگ کیوں آئے۔ کہنے لگا کہ یار میرا باپ مجھے مارتا بہت تھا اور بہت ڈنڈ بیٹھک کراتا تھا۔ بس میں بھاگ کھڑا ہوا۔
بھاگ کر وہ کہاں کہاں گیا کلکتہ، بمبئی، رنگون، کلکتہ، بنگال کا جادو، کانسی کی گڑیاں، مٹکیاں، ایک دیوداسی سانولی سلونی۔ اے حمید نے اس کا عجیب نقشہ کھینچا۔ پھر ٹھنڈا سانس بھر کر کہا کہ ’’وہ ایسی نظروں سے اوجھل ہوئی کہ پھر نظر ہی نہیں آئی۔‘‘
اے حمید کس خمیر کا بنا تھا اور آنکھوں میں کس قسم کے خواب لیے پھرتا تھا۔ مت پوچھیے کہ اپراوتی ندی اور اس نوح کے جنگلوں کا ذکر کرتے ہوئے اس کا تخیل کیسے کیسے گل کھلاتا۔ پھر اس سب کچھ کا عکس اس کے افسانوں میں بھی نظر آیا۔ یہ رنگ اس کے افسانے کو لے اڑا اور پھر ترقی پسند تحریک ان دنوں اپنے عروج پر تھی۔ اس نے اس دانے کو نگینہ سمجھ کر چن لیا۔
ویسے تو اس قسم کا مزاج ترقی پسند نظریے کو وارا نہیں کھاتا۔ اس کے حساب سے تو یہ فراریت پسندی ہے مگر افراد بھی اور تحریکیں بھی تجربے سے بھی تو کچھ نہ کچھ سیکھتی ہیں۔ کرشن چندر کی مثال سے ترقی پسند تحریک نے یہ جانا کہ ایسی رومانی طبیعتیں بھی اگر تھوڑی سی حقیقت نگاری کو اپنا لیں تو تحریک کے مقاصد پورے کر سکتی ہیں اور کرشن چندر ایسا رومانیت پسند بھی گرجن کی ایک شام، ایسے رومانی افسانے لکھنے کے بعد ’ان داتا‘ جیسا افسانہ بھی لکھ سکتا ہے۔
مگرافسوس کہ اے حمید کرشن چند ر نہیں بن سکا۔بس بنتے بنتے رہ گیا۔ کرشن چندر سے اسے داد بھی کمال ملتی تھی۔ ابھی تک ہمیں اس کا یہ لکھا ہوا فقرہ یاد ہے کہ اے حمید کا افسانہ پڑھتے ہوئے لگتا ہے کہ میں زردے میں ملائی ملا کر کھا رہا ہوں۔ یہ فقرہ خود ایک رومانٹک مزاج کی چغلی کھا رہاہے۔
اے حمید کی بدقسمتی یہ تھی کہ اس نے اپنے افسانے کے دائرے سے نکل کر جس سمت میں قدم بڑھایا کامیابی نے اس کے قدم چومے۔ اس کے ابتدا کے افسانوں کے دو مجموعے اور ایک ناول’دڑبے‘۔ یہاں وہ اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔ مگر ہوا یہ کہ جب اس نے بچوں کے لیے لکھنا شروع کیا تو وہاں اس کی بہت پذیرائی ہوئی۔ پھر اس نے چند ایسے ناول لکھے جن کے متعلق ادب کے نقادوں کے رائے کچھ بھی ہو مگر قبول عام کی سند اسے مل گئی۔
______________________
جو بادہ کش تھے پرانے۔۔۔
حمید اختر

۴۸۔۱۹۴۹ء کا وہ زمانہ ہم کیسے بھول سکتے ہیں جب احمد ندیم قاسمی، ظہیر کاشمیری، قتیل شفائی، صفدر میر، احمد راہی، اے حمید، عبدالمتین عارف، عبداللہ ملک اور بہت سے دوسرے لکھنے والوں سے ہمارا روز مرہ کا ساتھ رہتا تھا۔ حلقہ ارباب ذوق کا ہفتہ وار جلسہ ہو، انجمن ترقی پسند مصنفین کی میٹنگ ہو یا ٹی ہاؤس اور پیراڈائز ریسٹورانٹ کا اجتماع ، ان دوستوں کی اکثریت ایک ساتھ نظر آتی۔ قوم جب الاٹ منٹوں کے چکر میں پڑی ہوئی تھی، امر تسر، جالندھر، لدھیانہ، دہلی اور مشرقی پنجاب کے دوسرے شہروں سے آنے والے نوجوان ادیبوں اور شاعروں کا یہ گروپ نئی دنیا بسانے کا خواب ذہن میں سجائے اس کے لیے کام کرتا نظر آتا۔ ان سبھی نوجوانوں کا خیال تھا کہ وہ اپنے قلم کی طاقت سے لوٹ کھسوٹ کے مروجہ سرمایہ دارانہ نظام کی بجائے مساوات پر مبنی ایسا نظام لانے میں کامیاب ہو جائیں گے جس میں ملکی وسائل سبھی لوگوں کے حصے میں منصفانہ طو رپر آئیں گے۔ بالا دست طبقے ان کے مقابلے میں تھے اور ان کے ظلم و ستم کا سلسلہ جاری تھا لیکن اس حلقے کے لوگوں کی اکثریت اپنی زندگی کی آخری سانس تک اس مقصد کے حصول کے لیے سرگرم عمل رہی۔ احمد راہی ہوں، صفدر میر ہوں، حمید اختر ہوں یا اے حمید ان میں سے کسی نے شاید ہی کوئی مکان الاٹ کرانے کی کوشش کی ہو۔
گزشتہ تقریباً تین برس سے وہ گوشہ نشین تھا، وہ گھر سے بہت کم باہر نکلتا تھا۔ اتفاقاً سمن آباد میں اس کا گھر چاروں طرف سے سبزے میں گھرا ہوا تھا۔ جہاں سبزہ ہو گا وہاں پرندے بھی ضرور آئیں گے۔ اس لیے برما کے جنگلوں میں جوانی کے دن گزارنے والا، ایراوتی ندی کی لہریں گننے والا اور پھولوں کے درمیان زندگی گزارنے والا اے احمید برسوں سے اپنے گھر کے آس پاس واقع اسی سبزے پے قانع تھا۔ وہ ایک نہایت بھولا بھالا انسان تھا۔ وہ غالباً اردو کا پہلا اور آخری ادیب تھا جس نے ریڈیو کی مختصر عرصے کی نوکری کے سوا ادبی تحریروں ہی کو معاش کا ذریعہ بنائے رکھا، پبلشروں سے دھوکے بھی کھائے، ایک اخبار میں برسوں ہفتہ وار کالم لکھا مگر معاوضہ کبھی پورا نہ پایا۔
(بشکریہ روزنامہ ایکسپریس، ۳؍ مئی ۲۰۱۱ء)
____________________________
کچھ اے حمید کے بارے میں
ڈاکٹرانور سدید

اے حمید کا شمار اردو کے ان ممتاز افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے افسانے کے فن کو ثروت مند بنانے میں اپنی پوری زندگی صرف کر دی اور کہانی کے بیانیہ کو اپنے رومانی اسلوب سے اس طرح آراستہ کیا کہ پھر تخلیق قاری اور مصنف میں کوئی فاصلہ نہ رہا۔ اے حمید ان کامیاب مصنفین میں سے ہیں جنھوں نے اپنے معاصرین کو اور بچوں کی متعددنسلوں کو متاثر کیا۔ آزادی کے بعد ان کا افسانہ ’’منزل منزل‘‘ شائع ہوا تو وہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔ انھوں نے افسانے کے محدود کینوس کو وسعت دی تو ناول نگاری کی طرف آ گئے اور ’’دڑبے‘‘ جیسا کامیاب ناول لکھا جو اندرون لاہور کی تہذیبی زندگی کا آئینہ دار ہے۔
اے حمید کا شمار سعادت حسن منٹو، احسان دانش اور ساغر صدیقی جیسے ادیبوں میں ہوتا تھا جنھوں نے قلم کی مشقت سے اپنی زندگی کی ضرورتیں پوری کرنے کا سلسلہ عمر بھر جاری رکھا۔ اے حمید مجلسی انسان تھے لیکن وہ لاہور کی ادبی تقریبات میں بہت کم شریک ہوئے اور دن کا زیادہ وقت اپنی لائبریریوں میں قلم قرطاس کے ساتھ گزارتے۔ حتیٰ کہ ان کے ٹیلی فون بھی ان کی بیگم صاحبہ ریحانہ سنتی تھیں اور خود ہی جواب دے کر اے حمید کی تحریر میں خلل انداز نہ ہوتی تھیں۔
_______________________
میں تمہیں ملنے آتا رہوں گا!
عطاء الحق قاسمی

بہار کا آخری پھول بالآخر شاخ سے گر کر پیوند خاک ہو گیا۔ یہ پھول اے حمید تھا اور ایسا پھول پورے گلستان ادب میں کسی بھی شاخ پہ موجود نہیں تھا۔ اس کی خوشبو سب سے الگ تھی۔ اس کے قوس قزح ایسے رنگ سب سے جدا تھے اور اس کی خوبصورتی سب سے انوکھی اور سب سے الگ تھی !
امرتسر کے متوسط کشمیری گھرانے سے تعلق رکھنے والا اے حمید خواب و خیال کی دنیا میں رہنے والا ایک شخص تھا ۔ وہ بدصورتیوں میں بھی حسن تلاش کرتا تھا اور اسے جہاں حسن نظر آتا وہ اسے ملٹی پلائی کر دیتا۔ اس کی دنیا پھولوں ، درختوں، خوش رنگ پتوں اور رنگ برنگے پرندوں کے اسرار سے آباد تھی۔ یہ سب اس کے دوست تھے۔ وہ جب تنہا بھی ہوتا، انہی کے درمیا ن ہوتا۔ اے حمید ان سے باتیں کرتا اور خوش ہوتا۔ باہر کی دنیا سے اس کا رابطہ بہت کم تھا۔ اس کی دوسری محبت اس کی یادیں تھیں جو اس کی تحریر میں اتنی رومانی صورت میں سامنے آتیں کہ اے حمید کے ساتھ ہم بھی اس میں گم ہو جاتے تھے۔ وہ امر تسر کو کبھی نہ بھلا سکا جہاں اس کا بچپن اور جوانی گزری تھی۔ اے حمید پکا کشمیری خواجہ تھا اور اس کی ساری شخصیت کشمیری کلچر میں گندھی ہوئی تھی۔ میرے مرحوم بہنوئی امین پیرزادہ ان کے بچپن کے دوست تھے۔ اے حمید سے جب کبھی میری ملاقات ہوتی ان کے بارے میں ضرور پوچھتے او رپنی اور ان کی بچپن کی شرارتیں بیان کرتے ہوئے ایک بار پھر ماضی میں واپس چلے جاتے جو انھیں حال سے کہیں زیادہ عزیز تھا!
جس شخص کا نام اے حمید تھا، وہ انتہائی غیور شخص تھا۔ اس نے ساری عمر رزق حلال پر انحصار کیا۔ وہ اپنے سمن آبادکے گھر میں تخلیقی کاموں کے علاوہ اپنی روزی روٹی کے لیے بھی تحریروں کے انبار لگانے میں لگا رہتا۔ دن میں بارہ بارہ گھنٹے لکھ لکھ کر اس کی انگلیاں ٹیڑھی ہو گئی تھیں۔ اس نے پی ٹی وی کے لیے ’’عینک والا جن‘‘ کی سیریز لکھی اور کئی سو قسطوں میں لکھی۔ یہ ڈرامہ سیریز بچوں ہی میں نہیں بڑوں میں بھی بہت مقبول تھی۔
انتقال سے ایک رات قبل ان سے بات ہوئی تو وہ مایوس نظر آئے اور مجھے دعا کے لیے کہا اور پھر آج صبح ایم آر شاہد نے مجھے فون پر اطلاع دی کہ آپ کا اور ہم سب کا محبوب ادیب انتقال کر گیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اور اے حمید سے میری آخری ملاقات سمن آباد لاہو کی مسجد خضریٰ کی گراؤنڈ میں ہوئی جہاں ایک چار پائی پر ان کا جسد خاکی سفید کفن میں لپٹا ہوا تھا۔ میں ان کے پاس گیا، میں نے پوچھا ’’حمید صاحب!آپ جا رہے ہیں؟‘‘ انھوں نے کہا ’’ہاں میں جا رہا ہوں لیکن میں پھولوں ، خوش رنگ پتوں، رنگ برنگے پرندوں کی یادوں کے دریچوں سے تمہیں ملنے آتا رہوں گا۔۔۔میرا انتظار کرنا!‘‘(بشکریہ روزنامہ جنگ، ۳۰؍ اپریل ۲۰۱۱ء)
____________________________
اے حمید اور اسرار زیدی
امجد اسلام امجد

اے حمید کی تحریر کی اگرچہ بے شمار خوبیاں ہیں لیکن میرے نزدیک ان کا چیزوں کو دیکھنے کا رومانی نقطۂ نظرناسٹیلجیا، مہم جوئی اور یادنگاری ایسی منفرد خوبیاں ہیں جو انھیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔ ان کی نثر بہت ہموار اور خوب صورت تھی اور ان کا بیانیہ بہت مضبوط اور اثر انگیز تھا۔ واقعہ اور کردارنگاری کا یہ جوہر ان کی آخری عمر میں بچوں کے لیے لکھے گئے طویل ڈرامائی سلسلے ’’عینک والا جن‘‘ میں کھل کر سامنے آیا ۔ مجھے یقین ہے کہ اگر وہ تسلسل اور باقاعدگی سے ٹی وی کے لیے لکھتے تو ان کا شمار ہمارے دور کے اہم ترین ڈراما نگاروں میں بھی ہوتا۔
اے حمید نے جس طرح امرتسر میں گزرے ہوئے دنوں اور اس شہر کے مخصوص ماحول کو مع اپنے چند غیر ملکی سفروں کے مشاہدات کے قلم بند کیا ہے۔ وہ کئی حوالوں سے بہت اہم اور قابل ذکر ہے کہ زندگی بھر تسلسل کے ساتھ ایک مخصوص ماحول، زمانے اور گنتی کے چند سفری مشاہدات کو اس قدر خوبصورتی سے لکھنا کہ قاری ہر بار انھیں ایک نئی دلچسپی کے ساتھ پڑھنے پر مجبور ہو جائے۔ کوئی معمولی بات نہیں۔ اے حمید کی تحریر کی تازگی اور اظہار پر غیر معمولی گرفت ایسی خوبیاں ہیں جو یقیناً نسل در نسل یاد رکھی جائیں گی۔
ہمہ وقت ان کے گرد ان کے احباب اور نوجوان لکھنے والوں کی بھیڑ ہوا کرتی تھی کہ طویل بحث کے آخر میں وہ بڑے دھیمے انداز میں چند لفظوں میں ایک ایسی رائے دیتے جس سے وہ مسئلہ اگر ہمیشہ کے لیے نہیں تو کم از کم وقتی طو رپر ضرور حل ہو جاتا تھا۔
_______________________
اے حمید: الفاظ کا مصور
پروفیسر رئیس فاطمہ
اے حمید اور ان کے ہم عصرادیب اور شاعر اس لحاظ سے خوش قسمت تھے کہ جب ان لوگوں نے لکھنا شروع کیا تو قاری بھی موجود تھا، صرف ریڈیو تفریح طبع کا ذریعہ تھا۔ اس وقت جو کچھ لکھا جاتا تھا، اس کے پڑھنے والے پہلے سے موجود ہوتے تھے۔۔۔ کسی قلم کار کا اسلوب اس کی شخصیت کا بھی آئینہ دار ہوتا ہے۔ اے حمید کے اندر کی روماینت اور انسانوں سے محبت نے ان کی تحریر کو دو آتشہ بنا دیا۔وہ منظر نگاری کے ذریعے ماحول کی ایسی عکاسی کرتے تھے کہ کرداروں کے طبقاتی فرق ہی نہیں ذہنی کیفیات اور نفسیاتی دباؤ کا بھی بخوبی اندازہ ہو جاتا تھا۔ کرشن چندر اور حجاب کی طرح انھیں بھی رنگ، خوشبو، پھول، درخت اور موسم اچھے لگتے تھے۔ ان کی کوئی بھی تحریر اٹھا لیجیے، اس میں زرد گلاب ، نسترن، نرگس، چنبیلی، مولسری، موتیا، نیلوفر،بیلے کی کلیاں، چاندنی، سمندر اور نیلگوں آسمان ضرور ملے گا۔
’’منزل منزل‘‘ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ تھا۔ دھوپ اور شگوفے؛ ’’بارش آگہی‘‘؛ ’’پھول کی واپسی‘‘؛ جہاں برف گرتی ہے‘‘؛ ’’زرد گلاب‘‘؛ ’’پھر بہار آئی‘‘؛ ’’چاندنی اور کلیاں‘‘؛ ’’پورب کی ہوا‘‘؛’’پھول کی واپسی‘‘ ؛ ’’بادبان کھول دو‘‘؛ ’’اداس جنگل کی خوشبو‘‘؛ ’’سمندر جاگتا ہے‘‘؛ ’’پیلا اداس چاند‘‘؛ ’’پازیب‘‘؛ ’’بگولے‘‘؛ ’’جنوبی ہند کے جنگلوں میں‘‘؛’’ پہلی محبت کے آنسو‘‘ وغیرہ بھی ان کے مجموعے ہیں۔ ان کے خاکوں کا مجموعہ ’’چاند چہرے‘‘ اپنی انفرادیت کی بنأ پر ایک الگ اہمیت کا حامل ہے ۔وہ ایک اردواخبار کے لیے کالم نگاری بھی کرتے تھے۔ اردو نثر اور شاعری کے حوالے سے شاہکار سیریز کی کتب بھی اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہیں۔ اے حمید نے بچوں کے لیے بھی لکھا، ٹی وی کے لیے بھی بہت لکھا لیکن ان کی ادبی حیثیت متعین کرنے کے لیے ان کے ناول اور افسانے ہی کافی ہیں۔
اے حمید کے وہ افسانے انسان کو زیادہ پسند آتے ہیں جو فسادات کے پس منظر میں لکھے گئے ہیں۔ دراصل وہ سنی سنائی نہیں ہیں۔ وہ حدیث دل ہیں حدیث دیگراں نہیں۔ اسی طرح اے حمید کی تحریریں ان سب لوگوں کے لیے ہیں جن کا مذہب صرف محبت اور انسانیت کا احترام ہے۔
اے حمید کا نام اردوزبان و ادب میں فکشن کے حوالے سے ایک معتبر نام ہے۔ انھوں نے جو کچھ لکھا وہ اپنی اندرونی لگن اور جذبے سے مجبور ہوکر لکھا۔ وہ ایک ایسے سچے فن کار تھے جس کا دل محبت سے معمور تھا۔ اب ایسے لوگ کہاں۔۔۔