موسیٰ کلیم/ ارباب کرار
ترجمہ و اضافہ جات: جاوید اخترملک
سرکاری علمی ادار ے اور تراجم

سرکاری اداروں میں ترجمے کے کام کے معیار و مقدار اور ادارہ جاتی مسائل کے حوالے سے اہل علم و دانش کی آراء پر مبنی ایک تجزیاتی رپورٹ(ادارہ)

ہمارے ادبی اور علمی تراجم کرنے والے سرکاری ادارے سست رفتاری سے اپنے امور سرانجام دیتے رہے ہیں ۔ ان کو ملنے والے فنڈ انتظامی امور پر خرچ ہوجاتے ہیں جبکہ پیشہ ور ماہرین کے انتخاب میں اہلیت کی بجائے اقرباپروری سے کا م لیا جاتا ہے۔ بہت سے اہم کام اس وجہ سے ترجمہ ہی نہیں ہو پاتے کہ پاکستانیوں کی بھاری اکثریت ایسی ہے جو صرف اپنی ہی زبان میں مطالعہ کا رجحان رکھتی ہے۔ مقتدرہ قومی زبان کے سابق صدرنشین اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے موجودہ ریکٹر پروفیسر فتح محمد ملک کہتے ہیں کہ سرکاری ادارے مجوزہ کتب کے تراجم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔وہ یاد کرتے ہیں کہ ماضی میں لوگ ایسے کاموں کے لیے حد درجہ متحرک رہتے تھے جبکہ ان اداروں کے سربراہوں کو ترجمہ کی مطلوبہ کتب اور اہل مترجمین کی فہرست ازبر ہوتی تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ کام اکارت ہو گیا۔ ۲۰۰۶ء میں مقتدرہ قومی زبان کو ۵۰ کتب کے تراجم کا پراجیکٹ دیا گیا لیکن اس مجوزہ فنڈ اور وقت میں صرف۲۵ کتابوں کا ترجمہ کیاجا سکا۔ مقتدرہ قومی زبان کے معتمد سرفراز طارق کہتے ہیں کہ ان میں سے نصف کتابوں کی اشاعت اور انتظامی امورپر آنے والے اخراجات مجوزہ فنڈ سے تجاوز کر گئے۔ ڈاکٹر انور سدید مقتدرہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ادارہ اپنے اصول و ضوابط پر عمل کرنے میں ناکام رہاہے اور اس ادارے نے اپنی ہی ترجیحات بنارکھی ہیں۔
پاکستان رائٹرز گلڈ کے جنرل سیکریٹری ناصر زیدی کہتے ہیں کہ اپنے پراجیکٹس کو مجوزہ وقت میں ختم کرنے کی کوشش میں معیار کو فراموش کر دیا جاتاہے۔ ایسی ہی صورت حال کے بارے میں اکادمی ادبیات پاکستان کے خرم خرام صدیقی کہتے ہیں کہ مختلف چیئرمینوں نے اسے اپنی ذاتی نمود ونمائش کا ذریعہ بنایا ہے۔ اردو سائنس بورڈ سے تعلق رکھنے والی افسر تحقیق کہتی ہیں کہ دونوں زبانوں پر عبور رکھنے والے مترجم بڑی مشکل سے دستیاب ہوتے ہیں۔
بہاء الدین زکریا یونیورسٹی، ملتان کے استاد شعبہ اردو ڈاکٹر قاضی عبدالرحمن عابد کہتے ہیں کہ مترجم جدید تنقید کے مباحث سے بھی کلی طور پر واقف نہیں اور نہ ہی اُردو میں جدید اور ما بعد جدید تنقید کے لیے معیاری اصطلاحات متعارف ہوسکی ہیں۔ اس طرح کی مثالوں میں ایڈورڈ سعید کے تراجم دیکھے جاسکتے ہیں۔ سماجی اور تکنیکی علوم کے تراجم بھی اس طرح کے مسائل سے دوچار ہیں۔ ترجمہ کرنے والوں کے پاس متعلقہ علوم کی کوئی زیادہ جان کاری نہ ہونے کے باعث اکثر اوقات گنجلک پیدا ہوجاتا ہے۔ سو ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے نئے مترجمین ان چیزوں کی طرف دھیان دیں اور ترجمہ میں اصل متن سے قریب رہنے کے ساتھ ساتھ سلاست، روانی ، اصطلاحات سازی اور ادبی متن کے حسن کو برقرار رکھنے کی سعی کریں۔
معروف مترجم شاہد حمید کہتے ہیں کا سرکاری اداروں سے چھپنے والی کتب اپنے اندر بے شمار کمزوریاں لیے ہوتی ہیں، بعض اوقات مترجم اردو میں ترجمہ کرتے ہوئے انگریزی کے جملے ،پیراگراف ، حتیٰ کہ صفحات تک چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ وہ اس کو بھر پور انداز میں ترجمہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے جو غیر اخلاقی عمل ہے۔ قومی انگریزی اردولغت میں بے شمار الفاظ کے غلط معنی درج ہیں۔ اس کی وجہ محض یہ ہے کہ جن افراد کو اس کام پر لگایا گیا، وہ دونوں زبانوں پر مکمل دسترس نہیں رکھتے تھے۔
ادارہ ثقافت اسلامیہ ، لاہور کے ڈائریکٹر قاضی جاوید بھی شاہد حمید کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں:’’ترجمہ دو اقوام، ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے اور ہمارے معاشرے میں اسے خاطر خواہ اہمیت نہیں دی جا رہی۔‘‘ایسے اداروں کے لیے ماہر مترجمین تلاش کرنا انتہائی مشکل کام ہے کیونکہ اگر مترجمین تلاش ہی کرلیے جائیں تو ان کے پاس سرکاری اداروں کے لیے کام کرنے کا وقت نہیں ہوتا یا وہ اس کم معاوضے میں کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ۔
مجلس ترقی ادب کے ڈائریکٹر شہزاد احمد بھی قاضی جاوید کی بات سے متفق ہیں کہ ماہرمترجمین کو تلاش کرنا انتہائی مشکل ہے جس کی وجہ سے تراجم کا معیار متاثر ہو رہا ہے ۔اس مسئلے کے حل کے لیے وہ یہ تجویز پیش کرتے ہیں کہ مترجمین کا ایک پینل ہونا چاہیے۔انگریزی ،عربی ، فارسی اور ہندی کے یونٹ موجود ہوں اور اس میں سے ہر یونٹ میں پانچ مترجم کام کریں ۔کچھ ماہرین اور نقاد یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ سرکار کو چاہیے کہ ایسے تمام اداروں کو بند کر کے ترجمہ کے لیے ایک قومی ادارہ بنادیا جائے تاکہ اردو سے دیگر زبانوں اور دیگر زبانوں سے اردو میں معیاری تراجم پیش کیے جا سکیں ۔ اس طرح ہم لوگ بین الاقوامی ادب اور اہم ترین کتابوں سے بھی مستفید ہو سکیں گے۔
ڈاکٹر آصف فرخی اور دیگر دانشوروں کے نزدیک مسئلہ یہ ہے کہ لوگ مطالعہ نہیں کرتے اور ادب میں دلچسپی نہیں رکھتے لہٰذا کتابوں کی مارکیٹ انتہائی محدود ہے۔ اگر آپ اس خیال کو تسلیم نہ کریں تو بھی انتہائی مایوس کن شرح خواندگی؛ اسکولوں میں تعلیم کا گرتا ہوا معیار؛ کتاب گھروں اور لائبریریوں کی ابتر حالت، جیسی ادیبوں اور ناشرین کی آراء اس نقطۂ نظر کی تصدیق کرتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں لوگ کتابیں خریدتے ہیں نہ لائبریریاں انھیں رکھنے کی زحمت اٹھاتی ہیں۔ ویسے ہی ہمارے ہاں لائبریریاں اور کتب فروش روز بروز کم ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ وہ ایک غیر منافع بخش کاروبار چلانے سے قاصر ہیں۔
ایک اور دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ انٹرنیٹ کی آمد سے مطالعہ کرنے اور کتابیں خریدنے کی روایت تبدیل ہوئی ہے۔ لہٰذا کتابیں چھپوانے اور انھیں ترجمہ کرنے میں دلچسپی کم ہو گئی ہے۔
مقتدرہ کے ایک افسر ترجمہ نذر حسین کاظمی کی رائے ہے کہ سرکاری اور غیر سرکاری اشاعتی اداروں کے ابلاغ کے نظام کو از سر نو تشکیل دینے کی ضرورت ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے سرکاری اداروں کو باہمی اشتراک و تعاون سے مزید مستحکم بنانا ہو گا تاکہ عوام سے براہ راست تعلق قائم ہو سکے۔
مقتدرہ کی اسکالر ڈاکٹر انجم حمید کہتی ہیں کہ مقتدرہ اب تک مختلف موضوعات پر متعدد گراں قدر تراجم پیش کر چکا ہے۔ ہو سکتا ہے کسی خاص نقطۂ نظر سے کہیں کوئی کوتاہی رہ گئی ہو مگر ان کتب کے بے شمار استفادہ کرنے والے بھی موجود ہیں۔ بہتر ہوتا کہ کسی ایک عنوان یا کتاب کی علمی کمزوری کی جانب اشارہ کر دیا جاتا کیوں کہ تعمیری اور مثبت تنقید ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے لیکن ٹھوس ثبوت اور محکم دلائل کی عدم دستیابی ابہام پیدا کر دیتی ہے۔
مترجمین کے لیے معاوضہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے جو بڑی تندہی سے اپنا کام کر رہے ہیں، خاص طور پر جب کتاب کسی خاص موضوع پر لکھی گئی ہو اور مصنف کسی شعبے میں پیشہ وارانہ مہارت رکھتا ہو اور دونوں زبانوں میں مہارت ضروری ہو۔
ترجمہ کی صنعت سے متعلق لیے گئے اس ایک مختصر جائزہ کے مطابق مترجم کو ایک صفحے کے ترجمے کے عوض اوسطاً ڈیڑھ سو سے دو سو روپے ادا کیے جاتے ہیں۔ سرکاری ادارے بھی بہت زیادہ ادائیگی نہیں کرتے۔ مقتدرہ قومی زبان ۳۷۵ روپے فی ہزار الفاظ کی شرح سے ادائیگی کرتا ہے اور اس شرح میں ۱۹۹۸ء سے اضافہ نہیں کیا گیا*۔ اس سے پہلے اس ادارے میں ۱۵۰ روپے فی ہزار الفاظ کی شرح سے بھی ادائیگی کی جاتی رہی ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان کسی نثر پارے کو ترجمہ کرنے کا معاوضہ ۹۰۰ روپے ادا کرتی ہے، چاہے اس میں کتنے ہی الفاظ کیوں نہ ہوں جبکہ کسی نظم کا ترجمہ کرنے کے ۶۰۰ روپے ادا کیے جاتے ہیں۔ یہ شرح سہ ماہی جریدہ’پاکستانی لٹریچر‘ کے لیے ہے۔
اردو میں کتابیں شائع کرنے والے غیر سرکاری ادارے ’مشعل‘ کے مدیر مسعود اشعر کے مطابق معاوضے میں کمی کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم ماہر مترجمین تلاش نہیں کر سکتے۔ ان کے خیال میں: ’’اکثر مترجمین دونوں زبانوں پر عبور نہیں رکھتے اور ان میں سے کچھ کم تعلیم یافتہ بھی ہوتے ہیں۔‘‘ مہارت میں اسی خلا کی وجہ سے تصنیف ، ترجمہ اور اس کی ترقی کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے کی تشکیل نہیں ہو پائی۔سرکاری اداروں کے کردار کے حوالے سے، جن کے پاس تبدیلی لانے کے ذرائع موجود ہیں، ڈاکٹر آصف فرخی کہتے ہیں: ’’کچھ بھی نہیں کر رہے بلکہ صرف اپنی اور ان اداروں میں کام کرنے والے افراد کی تشہیر کا کام کر رہے ہیں۔‘‘
ایک سبب تعلیم اورادبی ذوق کا فقدان ہے۔ تنویر بلال اس کو یوں کہتے ہیں کہ مقبول ترین کتب کی فہرست کا جائزہ لیں تو ہم دیکھیں گے کہ اس میں ادبی کتابیں سرے سے موجود ہی نہیں رہ گئیں۔تنویر بلال کے مطابق:’’ یہ بات حیران کن نہیں کہ یونیورسٹیوں میں قائم ادب کے شعبہ جات بھی تنزل کا شکار ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم مہارت میں کمی کا شکار ہیں اور ادبی زبان کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔‘‘
فی الحال ایسا نظرآتا ہے کہ ہمارے ہاں ترجمہ کرنا ایک انفرادی سرگرمی ہے۔ مصنفین علاقائی ادب کو اردو سے انگریزی میں اور انگریزی سے اردو میں تراجم کر رہے ہیں لیکن بہت سے مترجمین یہ کہتے ہیں کہ وہ ایسے ادبی تراجم کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جو انھیں پسند ہوں یا جوان کے خیال میں زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچ سکیں۔ بجائے اس کے کہ وہ ایسے تراجم کریں جو سارے اشاعتی ادارے تجویز کریں۔
آخری بات یہ کہ جب تک ترجمے کی ادبی صنف کو اہمیت اور قدر نہیں بخشی جائے گی، اس وقت تک تراجم کی تعداد میں اضافہ نہیں ہو سکتا اور ہمارے کلاسیکی مصنفین ایک خاص طبقے تک ہی محدود رہیں گے۔اردو زبان مسابقت کی دوڑ میں مقابلے سے باہر ہوتی جا رہی ہے کیونکہ اس زبان کو ہمارے والدین اور بزرگ حوصلہ افزائی نہیں بخشتے اور یہی بات ہماری ثقافت میں ایک عجیب و غریب کیفیت اختیار کر گئی ہے۔ (حوالہ ہیرالڈ جولائی ۲۰۱۱ء)
* جنوری ۲۰۱۱ء سے مقتدرہ میں معاوضہ ۵۰۰ روپے کیا جا چکا ہے۔

اردو کے فروغ میں ابلاغ عامہ اثر پزیری
نئے صدر نشین نے مقتدرہ قومی زبان کے سربراہ کا منصب سنبھالتے ہی اُردو زبان کے حقیقی خدمت گزار تلاش کر کے اکٹھا کرنا شروع کردیے ہیں جو قابلِ ستائش اقدام ہے۔ اس سے ابلاغ عامہ کی طرف بھی خصوصی توجہ مبذول ہوسکے گی کیونکہ وہ اسے اہمیت بھی دیتے ہیں اور اس کی اثر پذیری سے بھی بخوبی واقف ہیں۔
آج کے دور کو ابلاغ عامہ کا دور کہنے والوں کی رائے کو قبول کرنے میں جو طبقہ رکاوٹ بنا ہو ا ہے، اس کے مقابل ایسے اہل علم وفن بھی ہیں جو صورتِ حال میں بہتری کے خواہاں ہیں۔ اس کے لیے جہد و سعی کرنا چاہتے ہیں اور ان تمام لوگوں کے ان اعتراضات پر کہ آج تو استاد اور شاگرد میں ابلاغ نہیں ، باپ اور بیٹے میں ابلاغ نہیں ، حکومت اور اپوزیشن ، مختلف ممالک کے مابین ابلاغ کی کمی ہے بلکہ شاید ابلاغ کا مکمل فقدان ہے۔ اس مایوس صورت حال میں ہمارے دوست مایوس نہیں، انھیں لفظوں کے قیام ، احترام اور اثر سب کا انداز ہ ہے۔ بات کہنے کا انداز اگر سطحی نہ ہو، کسی مشینی رویہ کا مرہون منت نہ ہو ، بات آگہی سے شروع ہو ، آگاہی کے لیے ہو تو لفظ آج بھی اثردکھائیں گے۔ قومی زبان کے حقیقی خدمت گزاروں کی طرح ابلاغ عام کے حقیقی خدمت گزاروں کو اکٹھا کر کے اس قومی فریضہ کو احسن انداز میں انجام دینے کا جو عزم انھوں نے ظاہر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس میں انھیں یقیناًکامرانی دے گا ۔

ڈاکٹر اے آر خالد
سابق استاد شعبہ ابلاغ عام

اردو میں پاکستانی زبانوں کے عطر کی آمیزش
پنجاب یونیورسٹی ،لاہور ،گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، فیصل آباد
ہم لسانی تبدیلیوں کا جب تک ادراک نہیں کریں گے، اردو زبان کا محاورہ اور زبان کا نیا ذائقہ نہیں بن پائے گا۔ یہ اس صورت میں ہو گا جب ہم پاکستانی زبانوں کا عطر اردو میں شامل نہیں کریں گے تاکہ اردو زبان یہاں کی تہذیبی اور زمینی بوباس میں رچ بس سکے۔

سید منظور علی تنہا

قومی زبان کی ترویج و ترقی کی چند تجاویز
۱۔ قومی زبان کا نفاذ جلد از جلد ضروری ہے۔
۲۔ آج کل انگریزی حروف میں اردو لکھنے کی روش عام ہے۔ اس کے تدارک کی خاطر اسلام آباد میں یا جامعات کے شعبہ جات میں اجتماعات ہونے چاہئیں۔
۳۔ اردو اہل قلم اور تخلیق کاروں کے لیے حوصلہ افزائی انعامات ہونے چاہئیں۔
۴۔ یوم اقبال ہر سال باقاعدگی سے منایا جانا چاہیے۔
۵۔ ذرائع ابلاغ تک صحیح اردو بولنے والے حضرات کی رسائی یقینی بنائی جائے تاکہ ذرائع ابلاغ کی اردو دانی پر حرف نہ آئے۔
پروفیسر ڈاکٹر فقیرا خان فقری جدون
ڈائریکٹر،
ادارہ ادبیاتِ اردو، فارسی و لسانیات ،جامعہ پشاور

اخبار اردو اپنے سائبر دور میں
اخبار اردو کے اندرون اور بیرون پاکستان معزز قارئین کو یہ جان کر یقیناً مسرت ہو گی کہ اخبارِ اردو کو وقت کے جدید تقاضوں کے مطابق سائبر دور میں داخل کیا جا رہا ہے۔ آئندہ سے اخبار اردو اپنی اشاعت پر ان شاء اللہ ماہ بہ ماہ مقتدرہ قومی زبان کی ویب گاہ www.nla.gov.pkکے ’اخبار اردو لنک‘ پر دستیاب ہو گا۔ معزز قارئین اس طرح نہ صرف پرچہ تاخیر سے ملنے کی دیرینہ کلفت سے بچ جائیں گے بلکہ بین الاقوامی تناظر کی نگارشات اور تازہ ترین خبریں بھی فوری ای میل کر کے کاروان اردو کے ہمرکاب رہیں گے۔(ادارہ)

اعزازی ترسیل موقوف
مقتدرہ قومی زبان کے ترجمان ماہنامہ ’اخبار اردو ‘ کی روز افزوں مانگ مگر محدود مالیاتی وسائل کے پیش نظر اعزازی ترسیل آئندہ سے بند کی جا رہی ہے۔ نفاذ اردو کے لیے کوشاں اور قومی زبان سے والہانہ لگن رکھنے والے اہل علم ودانش اور معزز اعزازی قارئین سے التماس ہے کہ اخبار اردو کا اپنا زر سالانہ نقد یا بذریعہ منی آرڈر فوری ارسال فرما دیں تاکہ آئندہ انھیں پرچہ جاری رکھا جا سکے۔ (ادارہ)