حافظ صفوان محمد چوہان
سندھ وبلوچستان
کے کچھ اساتذہ اور اہلِ علم سے ملاقات


ڈاکٹر رؤف پاریکھ لغت نویسی کی باریکیوں پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ اُن سے اردو لغت بورڈ کے شائع کردہ اردو لغت (تاریخی اصول پر) کے ملخص ایڈیشن اور نظرِ ثانی شدہ دوسرے ایڈیشن کے بارے میں گفتگو کے ساتھ اردو کارپس کے لیے ڈیٹا ذخائر (Repository) کی فراہمی کے بارے میں امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے کئی سال پہلے اوّلین اردو سلینگ لغت مرتب کرکے شائع کی تھی۔ راقم کے پاس اِس لغت کا وہ نسخہ ہے جس پر ڈاکٹر وحید قریشی نے قلم لگایا تھا۔ اردو کے حروفِ تہجی کے بارے میں بات ہوئی کہ اِن کی تعداد کیا ہے۔ ڈاکٹر پاریکھ نے راقم کی اِس طالبعلمانہ رائے سے اتفاق کیا کہ اردو کے حروفِ تہجی کی تعداد ۳۸ ہے جب کہ مخلوط الہا یعنی ہائیہ آوازیں تعداد میں غیر متعین ہیں جو مختلف علاقوں کے بولنے والوں کے منہوں کی ساخت کی وجہ سے ہے۔ راقم مشینی دور کی اردو کی تکنیکی ضروریات کے حوالے سے کچھ باتوں کا علم رکھنے کے سبب یہ سوچی سمجھی رائے رکھتا ہے کہ اردو کے حروفِ تہجی کی تعداد پر بحث کوئی اچھا نتیجہ نہیں نکالے گی ۔انگریزی کی کئی ایک آوازوں کے لیے حروفِ تہجی نہیں ہیں (مثلًا ش کی آواز کے لیے) اور اِس کمی کی وجہ سے انگریزی میں حروفِ تہجی کے اضافے کی بے کار بحث شروع نہیں ہوتی اُسی طرح اردو میں بھی یہ نہیں کرنا چاہیے۔ دنیا کی ہر چھوٹی بڑی زبان کی طرح اردو کے حروفِ تہجی کی تعداد بھی Static ہے نہ کہ Dynamic اور یہ مسئلہ علمی سے زیادہ تاریخی اور ثقافتی بنیاد رکھتا ہے۔ ہر آواز کی شخصیت کی پہچان کے لیے الگ علامت کا ہونا صوتیات کا مسئلہ ہے نہ کہ حروفِ تہجی کا اور دنیا کی ہر زبان کے لیے یہ صوتیاتی مسئلہ International Phonetic Alphabet (IPA) کا نظام پہلے ہی طے کرچکا ہے۔ ہمارے سادہ خیال لوگ عموماً حرفِ تہجی اور صوتیے میں فرق نہیں کرپاتے اور اِسی لیے اردو کے حروفِ تہجی کی تعداد کو Dynamic کہہ دیتے ہیں۔ جنابِ شان الحق حقی کے بنائے ہوئے اسنادی کارڈ اور اردو لغت (تاریخی اصول پر) کے لیے بنائے گئے بنیادی اصول اردو پر اُن کے لازوال احسانات ہیں۔ یہ بھی طے پایا کہ راقم اور ڈاکٹر رؤف پاریکھ اردو لغت کے ملخص ایڈیشن کے لیے ایک مشترک نمائندہ تحقیقی مقالہ لکھیں گے تاکہ کچھ ریسرچ سکالر بچوں بچیوں کو اِس سمت میں کام کرنے/ کرانے کا ماڈل مہیا ہوجائے۔
محترمہ ڈاکٹر نگار سجاد ظہیرنے الایام۔۳ عنایت فرمایا۔ یہ تحقیقی مجلہ مجلس برائے تحقیقِ اسلامی تاریخ و ثقافت کا ترجمان ہے اِس شمارے کی فہرستِ مضامین ملاحظہ کیجیے: پروفیسر عابد صدیق مرحوم کی یاد میں (پروفیسر ظفر احمد چودھری)، اسیرانِ بدر اور عتابِ خداوندی (ڈاکٹر محمد شکیل اوج)، انگریزی میں سیرت نگاری (غلام رسول ملک)، اسلام اور مغرب کے درمیان مکالمے کی صورت سرسید اور اقبال کے حوالے سے (ڈاکٹر محمد آصف)، قاضی محمد سلیمان منصور پوری اور اُن کی کتاب رحمۃ للعالمین (ڈاکٹر محمد سہیل شفیق)، اوراق الوردہ (محمد رئیس نعمانی)، کتاب المحبر قسط۔۳ (ڈاکٹر محمد حمید اللہ)، چوں گوشِ روزہ دار بر اللہ اکبر است (ڈاکٹر حافظ صفوان محمد چوہان)، انگریزی میں ترجمۂ مسدسِ مدوجزرِ اسلام (سید منیر واسطی/ ریاض احمد ہمدانی)، مکاتیب ڈاکٹر طاہر فتح پوری بنام ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر، عالمی سیرت کانفرنس کی روداد (ڈاکٹر محمد سہیل شفیق)۔ڈاکٹر نگار آج کل کتاب المحبّر کی تدوین میں مصروف ہیں۔ یہ کتاب تیسری صدی ہجری/ نویں صدی عیسوی کے ایک عرب ماہرِ لسانیات اور مورخ ابوجعفر ابنِ حبیب بن امیہ بن عمرو (م ۲۴۵ھ/ ۷۶۰ء) کی تصنیف ہے جس کا موضوع اسلامی تاریخ ہے۔ اِس کتاب کا واحد مخطوطہ برٹش میوزیم (لندن) میں محفوظ ہے جسے ڈاکٹر محمد حمید اﷲ صاحب نے بڑی محنت سے ایڈٹ کیا اور دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدر آباد دکن سے ۱۳۶۱ھ/ ۱۹۴۲ء میں شائع کرایا۔ اِس کے بعد اُنھوں نے (قیامِ پاکستان سے پہلے ہی) اِس کا اردو ترجمہ اِملاء کرایا۔ اِس اِملاء شدہ نسخہ میں ڈاکٹر نگار اصل محقق عربی نسخہ کی مدد سے اُس کی درستی کا کام کررہی ہیں۔ اِس کے ساتھ ساتھ Research Facility Center (RFC)کراچی یونیورسٹی کی طرف سے تفویض کیا گیا ایک تحقیقی پراجیکٹ خوارج: ایک مطالعہ بھی اُن کے پیشِ نظر ہے جس میں خوارج کے آغاز، نشوو ارتقاء، افکار و نظریات کا تدریجی ارتقاء اور اُن کے پھیلاؤ پر تحقیق پیش کی جائے گی۔ RFC ہی کی طرف سے تفویض کیے گئے ایک ایسے علمی پراجیکٹ کا نتیجہ اُن کی کتاب شعوبیت کی صورت میں ابھی حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ کچھ اور ادَبی مصروفیات کے ساتھ الایام۔ کی تیاری بھی چل رہی ہے۔
صدر نشین مقتدرہ قومی زبان کی ہدایت پراردو لغت بورڈ کے عملہ سے غیر رسمی ملاقات کی، یہاں عقیل احمد صدیقی (نائب مدیر)، نزہت سیما ارشاد (نائب مدیر)، تبسم اختر ہاشمی (سکالر) اور انتظامیہ کے محمد رضی الدین، وصی اللہ خان اور ارشد محمود وغیرہ سے ملاقات ہوئی۔ اردو لغت (تاریخی اصول پر) کے ملخص ایڈیشن اور نظرِ ثانی شدہ دوسرے ایڈیشن پر ہونے والے اب تک کے کام کو بغور دیکھا گیا،یہ سارے کام ابھی تیاری کے ابتدائی مراحل میں ہیں اور اِن کے شروع کے کچھ صفحات ہی برائے ملاحظہ پیش کیے جاتے ہیں۔ ملخص ایڈیشن (Concise) کا نام جدید اردو معیاری لغت رکھا گیا ہے۔ راقم نے ذکر کردہ دونوں ایڈیشنوں کے لیے اور لغت بورڈ کے آئندہ کام کے لیے لائحۂ عمل کو تحریری سراپے میں ایک مقالے کی شکل میں بعنوان اردو لغت (تاریخی اصول پر): بدلتے لسانی تناظر میں چند تجاویز پیش کیا تھا جو اعلیٰ تعلیمی کمیشن پاکستان کے منظور کردہ تحقیقی مجلوں میں شائع ہوا۔ اِس مقالے کا مطالعہ یہاں کے کارگزار لوگوں کے لیے مفید رہا ۔
سندھ یونیورسٹی جامشورو میں ڈاکٹر سید جاوید اقبال، صدرِ شعبۂ اردکے دفتر پہنچا۔ اُن کے شعبے کی تاریخ بہت پرانی اور قابلِ فخر ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی صاحب نے یہاں سے پی ایچ ڈی کی تھی۔ اُن کے شعبے کا تحقیقی مجلہ ششماہی تحقیق اعلیٰ تعلیم کمیشن پاکستان کے منظور کردہ مجلوں میں سے ہے جس کی ایک خاص خوبی ضخیم شمارے شائع کرنا ہے۔ اِس کا آئندہ شمارہ مکاتیب نمبر ہوگا۔ ڈاکٹر سید جاوید اقبال انتہائی محنتی آدمی ہیں۔ اُنھوں نے مجھے اپنے یہاں ہونے والے ایم فل کے کچھ تحقیقی کاموں کا خاکہ ہمدست کیا۔ کچھ عنوانات دیکھیے: ڈاکٹر الیاس عشقی کے اردو مقالات و مضامین کی ترتیب، تدوین اور تعلیقات (عبد السلام عادل)، خواجہ حسن نظامی کے سفر ناموں کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ (نیر رفیق)، مضامینِ شان الحق حقی کی ترتیب اور تجزیاتی مطالعہ (قدرت اللہ بیگ)، مضامینِ فاروقی کی ترتیب اور تجزیاتی مطالعہ (محمد آصف خان)، اردو کی ادَبی اصناف کے ارتقاء میں مولوی عبدالحق کی خدمات کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ (شفیق احمد)۔ اِس فہرست سے شعبۂ اردو میں ہونے والی تحقیق کے رخ اور گہرائی کا پتہ ملتا ہے۔
ڈاکٹر شاہ محمد مری کی زیرِ ادارت شائع ہونے والا ماہنامہ سنگت بلوچستان میں اردو کا نمائندہ رسالہ ہے جو دور دور تک جاتا ہے۔ اُنھیں کرنٹ کارپس بیسڈ اردو۔انگریزی لغت پیش کی۔ یہ فیلڈ ورک کی بنیاد پر تیار کردہ جدید اردو کا پہلا لغت ہے جس میں اردو کے چلن دار اور کثیر الاستعمال الفاظ کو خصوصیت سے شامل کیا گیا ہے اور اِس میں ایسے بہت سے لفظ ملتے ہیں جو کسی اور لغت میں شامل نہیں ہیں۔ یہ لغت پرانے اردو۔انگریزی لغات کا بدل نہیں ہے بلکہ ایک طرح سے اُن کا ضمیمہ ہے۔ اُن کے ہاں ڈاکٹر فاطمہ حسن صاحبہ بھی تشریف فرما تھیں۔
مشتاق احمد یوسفی صاحب سے ان کی زیرِ ترتیب کتاب کے بارے میں گفتگو ہوئی جس میں اُنھوں نے بیس (۲۰) مضامین شامل کرنے کا عندیہ دیا جنھیں جمع کردہ ۶۲ مضامین میں سے منتخب کیا گیاہے۔
یوسفی صاحب نے فرمایاکہ کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ کسی لفظ کے لیے لغت کھولنے پر اپنی کم علمی کا احساس نہ ہوتا ہو۔ فرمایا کہ میں بیس پچیس مرتبہ روزانہ لغت دیکھتا ہوں۔ لفظ بھیانک کے اشتقاق پر گفتگو فرماتے رہے، اور اِسی طرح برشگال پر
راقم نے یوسفی صاحب سے کارپس کی بنیاد پر تیار کیے جانے والے اپنے زیرِ تکمیل اردو لغتِ زبان و ثقافت کے بارے میں کئی طرح کی رہنمائی حاصل کی۔ اُنھوں نے فرمایا کہ اب اردو میں صرف اشتقاقات کا لغت تیار ہونا باقی ہے، اور راقم کو ہدایت کی کہ آپ یہ کام کیجیے۔ اور پھر اِس کے لیے راہ سجھائی کہ ہندی کے کسی بڑے لغت کے گہرے مطالعے سے یہ راہ آسان ہوگی۔