جمشید عالم

برطانیہ کا لسانی منظر نامہ


مملکت متحدہ برطانیہ عظمیٰ (انگلستان، ویلز اور سکاٹ لینڈ) اور شمالی آئرلینڈ پر مشتمل ہے۔ مملکت متحدہ برطانیہ کی آبادی۱ء ۶۲ ملین ہے۔ انگلستان میں ۶ء۵۱ ملین، سکاٹ لینڈ میں ۲ء۵ ملین، ویلز میں ۰ء۳ ملین اور شمالی آئر لینڈ میں ۸ء۱ ملین افراد آباد ہیں۔ برطانیہ میں اعلان شدہ کوئی سرکاری زبان نہیں ہے۔ ۹۵ فی صد آبادی انگریزی زبان بولتی ہے، اس لیے عملی طور پر یہ ملک کی سرکاری زبان ہے۔ دوسری سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ویلش ہے۔ یہ انگریزی سے مکمل طور پر مختلف زبان ہے۔ ویلز کے ۲۰ فی صد افراد اپنی مقامی زبان میں بات کر سکتے ہیں۔ ویلز سے انگلستان میں آباد ہونے والے دو لاکھ افراد ویلش زبان بول سکتے ہیں۔ سکاٹ لینڈ کے کچھ علاقوں میں سکاٹش گیلک پہلی زبان کے طو رپر استعمال کی جاتی ہے۔ برطانیہ میں بارہ مقامی زبانیں ہیں۔ سرکاری طور پر تسلیم شدہ اقلیتی زبانوں میں ویلش، سکاٹش گیلک، نشیبی علاقے کی سکاٹ (لولینڈ سکاٹ)، کارنش اور آئر ستانی (آئرش) زبان وغیرہ شامل ہیں۔
مقامی زبانوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی
مملکت متحدہ برطانیہ میں چند علاقوں کی مقامی زبانوں کے فروغ کے لیے قانون سازی کی گئی ہے۔ ’’یورپی منشور برائے علاقائی یا اقلیتی زبانیں‘‘ کے تحت برطانوی حکومت نے چند علاقائی زبانوں کو تسلیم کرنے اور چند لسانی روایات کو قبول کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ان زبانوں میں ویلش، سکاٹش گیلک، کارنش، آئرش اور السٹرسکاٹ شامل ہیں۔
ویلش زبان
ویلش زبان ایکٹ ۱۹۹۳ء اور حکومت ویلز ایکٹ ۱۹۹۸ء نے ویلش زبان کا سرکاری طو رپر تحفظ کیا ہے۔ بنیادی طور پر اس ایکٹ نے تین مقاصد حاصل کیے:
(۱) ویلش زبان بورڈ قائم کیا گیا۔ اس بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ ویلش زبان کے استعمال کو فروغ دے اور ایکٹ کی دوسری دفعات پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔
(۲) ویلش زبان بولنے والوں کو عدالتی کارروائی کے دوران ویلش بولنے کا حق دیا گیا۔
(۳) اہل ویلز کو خدمات فراہم کرنے والے برطانوی حکومت کے تقریباً تمام محکموں کو اس بات کا پابند کیا گیا کہ ویلش اور انگریزی کو مساوی حیثیت دیں۔ خاص طور پر مطبوعہ دستاویزات اور سرکاری ویب سائٹیں انگریزی اور ویلش دونوں زبانوں میں ہونی چاہئیں۔
دسمبر ۲۰۱۰ء میں ویلش اسمبلی نے متفقہ طو رپر ویلش کو ویلز میں سرکاری زبان بنانے اور اس زبان کے فروغ کے لیے مزید اقدامات کرنے کا قانون منظور کیا۔ ویلز میں والدین کو قانونی حق حاصل ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ویلش میں تعلیم دلائیں۔ ویلز کے تعلیمی نصاب کے تحت ویلز کے سکولوں کے تمام طلبہ کے لیے لازمی ہے کہ ۱۶ سال کی عمر تک ویلش زبان کی تعلیم حاصل کریں۔ بہت سے طلبہ اے لیول اور کالج میں بھی ویلش جاری رکھتے ہیں۔ ویلز کے مغربی حصے میں پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کے تمام بچے ویلش میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ کچھ علاقوں میں ۷۵ تا ۸۰ فی صد طلبہ اور چند علاقوں میں تقریباً ۹۰ فی صد طلبہ ویلش زبان میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ انگریزی میڈیم اسکولوں میں ویلش زبان بطور دوسری زبان پڑھائی جاتی ہے۔ ویلز میں بحیثیت مجموعی اسکولوں کے بچوں کی ۲۵ فی صد تعداد ویلش زبان میں تعلیم حاصل کرتی ہے۔ ویلش کی تمام یونیورسٹیوں میں ویلش زبان میں چند کورس کرائے جاتے ہیں۔ ویلز حکومت نے حال ہی میں چھ مراکز فضیلت قائم کیے ہیں جن میں بالغوں کو ویلش پڑھائی جائے گی۔ ویلش میں گفتگو کرنے کی قابلیت یا ویلش میں باقاعدہ تعلیم ویلز کے چند پیشوں (تعلیمی اداروں میں تدریس یا کسٹمر سروس) کے لیے قابل ترجیح ہے۔
سکاٹش گیلک
مردم شماری ۲۰۰۳ء کے مطابق برطانیہ میں تقریباً ۵۹ ہزار افراد گیلک زبان میں بات کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ دس ہزار افراد دوسرے ملکوں میں آباد ہو گئے ہیں۔ سکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ نے ’’گیلک زبان (سکاٹ لینڈ) ایکٹ ۲۰۰۵ء‘‘ کے ذریعے سکاٹش گیلک زبان کو پہلی بار قانونی حیثیت دی۔ یہ ایکٹ گیلک زبان کو سکاٹ لینڈ کی سرکاری زبان تسلیم کرتا ہے اور انگریزی کے ساتھ گیلک زبان کو یکساں احترام دیتاہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سکاٹ لینڈ کی حکومت نے ایک بورڈ قائم کیا ہے۔ گیلک زبان کے فروغ کے لیے اس بورڈ کو کلیدی کردار ادا کرنے کی ذمہ داری سپرد کی گئی ہے۔ ۲۰۱۰ء میں گیلک ذریعۂ تعلیم کی صورت حال ۷۳ سکولوں (نرسری، پرائمری، سیکنڈری) میں مندرجہ ذیل تھی۔
ذریعہ تعلیم تعداد طلبہ فی صد
گیلک ۱۰۰۷ ۱۵ء۰
دولسانی (گیلک اور انگریزی) ۱۱۵۸ ۱۷ء۰
گیلک بطور مضمون ۱۱۴۳ ۱۷ء۰
۳۳۰۸ ۴۹ء۰
سکاٹش گیلک ذریعۂ تعلیم میں انگریزی بطور دوسری زبان پڑھائی جاتی ہے۔
آئرستانی (آئرش)
شمالی آئرستان (شمالی آئرلینڈ) میں ۲۰۰۱ء کی مردم شماری کے مطابق ۱۱۰۰۰۰ افراد (آبادی کا ۷ فی صد) آئرستانی زبان میں بات کرتے ہیں۔ ]برطانیہ کے باقی حصوں میں ہونے والی مردم شماری میں آئرستانی زبان میں بات کرنے کے حوالے سے سوال نہیں کیا گیا[ سرکاری طو رپر ایک محدود دائرے میں انگریزی کے ساتھ آئرستانی زبان کااستعمال کرنے کی اجازت ( زیادہ تر کسی سرکاری دستاویزکے ترجمے کا مطالبہ کرنا)ہے۔ آئرستانی ذریعۂ تعلیم کے ۳۵ اسکول ہیں جن میں ۲۶۵۳ طلبہ (۲ فی صد) پرائمری اسکولوں میں اور ۶۳۲ طلبہ (۵ء۰ فی صد) سیکنڈری اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔
السٹرسکاٹ
۱۹۹۹ء میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق شمالی آئرستان میں تیس ہزار افراد (آبادی کا ۲ فی صد) السٹرسکاٹ میں بات کرتے ہیں۔ سرکاری طو رپر ایک محدود دائرے میں کسی سرکاری دستاویز کے انگریزی کے ساتھ السٹر سکاٹ میں ترجمے کی درخواست کی جا سکتی ہے۔ یہ زبان ذریعۂ تعلیم کے طور پر استعمال نہیں ہوتی۔
کارنش
جنوب مغربی انگلستان کے علاقے کارنیوال کی قدیم اقوام میں قبل رومن برطانوی باشندے اور گال خصوصاً آئرستان ، ویلز، اسکاچستان (سکاٹ لینڈ)، کارنیوال، برٹنی اور جزیرۂ آدم کے باشندے شامل ہیں۔ان کی قدیم کیلٹی زبان مغربی یورپ کی قدیم اقوام کی زبان تھی۔ اس زبان کا احیأ گزشتہ سو سال میں کیا گیا ہے۔ تقریباً ۳۵۰۰ افراد یہ زبان بولتے ہیں۔ علاقائی یا اقلیتی زبانوں کے لیے یورپی یونین کے منشور کے تحت برطانیہ نے ۲۰۰۲ء سے کارنش زبان کو سرکاری اقلیتی زبان کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔
مان (مینکس)
برطانوی جزائر میں سے۷۷۰۰۰ کی آبادی والے ایک جزیرہ آدم کے قدیم باشندوں کی کیلٹی زبان۔ اس زبان کا احیأ بھی پچھلے سو سال میں کیا گیا ہے۔
نارمن فرانسیسی
نارمن دور (۱۰۶۶ء کے بعد کی فرانسیسی زبان جب اسکینڈنیویائی اور فرنکی مخلوط نسل کے افراد نے انگلستان فتح کیا) کی فرانسیسی زبان ابھی بھی دارالعوام اور دارالامراء کے اہل کاروں کے درمیان چند سرکاری امور کی انجام دہی اور پارلیمنٹ کی تحلیل جیسے چند مواقع پر استعمال کی جاتی ہے۔
لاطینی
قدیم روما کی اطالوی زبان؛ قرون وسطیٰ میں ۱۰۶۶ء سے تیرھویں صدی عیسوی تک قانون اور تحریری سرکاری دستاویزات کی زبان رہی۔ چند سرکاری رہنما اصولوں (مثلاً سگریٹ پینا منع ہے)، قانونی اصطلاحات (مثلاً حبس بے جا) اور مختلف تقریباتی سیاق میں لاطینی زبان اب بھی استعمال ہوتی ہے۔ برطانوی سکوں پر بھی لاطینی مخففات نظر آتے ہیں۔
ایک سے زیادہ زبانیں بولنے کی صلاحیت
برطانوی شہری ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے دوران یا خصوصی نجی کورس کے ذریعے کوئی نہ کوئی دوسری یا تیسری زبان سیکھتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ برطانیہ میں شہریوں کی بڑی تعداد دوسری یا تیسری زبان بول سکتی ہے۔
برطانیہ کی ۲۳ فی صد آبادی فرانسیسی زبان، ۹ فی صد آبادی جرمن زبان اور۸ فی صد آبادی ہسپانوی زبان بول سکتی ہے یا سمجھ سکتی ہے۔ عام طور پر برطانیہ کے ۳۸ فی صد شہری انگریزی زبان کے علاوہ دو مزید زبانیں بول سکتے ہیں۔ ۶ فی صد شہری انگریزی کے علاوہ تین مزید زبانیں بول سکتے ہیں۔ ۶۲ فی صد شہری صرف انگریزی زبان بول سکتے ہیں۔
تارکین وطن کی زبانیں
ترکِ وطن کر کے برطانیہ آنے والے تارکین وطن بہت ساری زبانیں اس سر زمین پر لے کر آئے۔ ۱۹۷۹ء کے ایک سروے کے مطابق لندن کے سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے خاندان اپنے گھروں میں ۱۰۰ سے زیادہ زبانیں بولتے تھے۔ ۱۹۸۹ء کے ایک سروے کے مطابق ایسی زبانوں کی تعداد ۱۸۴ اور ۱۹۹۹ء میں ان زبانوں کی تعداد ۳۰۰ سے زیادہ ہو گئی۔ اس طرح لندن دنیا کا سب سے بڑا بین الاقوامی شہر بن گیا جہاں دنیا کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی ۵۰ سے زیادہ قوموں کے افراد ترک وطن کر کے آباد ہو گئے ہیں۔
برطانیہ کی ۱ء۶۲ ملین آبادی میں مختلف ملکوں سے ترک وطن کر کے مستقل آبادہونے والوں کی تعداد کا تناسب مندرجہ ذیل ہے۔
قوم آبادی کا فی صد قوم آبادی کافی صد
گوری نسل ۱ء۹۲ دوسرے ایشیائی(غیر چینی) ۴ء۰
مخلوط نسل ۲ء۱ سیاہ فام کریبین ۰ء۱
بھارتی ۸ء۱ سیاہ فام افریقی ۸ء۰
پاکستانی ۳ء۱ سیاہ فام دیگر ۲ء۰
بنگلہ دیشی ۵ء۰ متفرق ۳ء۰
چینی ۴ء۰ ۰ء۱۰۰
اس وقت لندن کے ایک تہائی باشندے ایسے ہیں جو برطانیہ میں پیدا نہیں ہوئے اور ان کی دوسری یا تیسری نسل یہاں رہتی ہے۔ ۲۰۱۰ء کے ایک سروے کے مطابق انگلستان کے پرائمری سکولوں میں ۱۶ فی صد اور ثانوی سکولوں میں ۶ء۱۱ فی صدطلبہ کی مادری زبان انگریزی نہیں ہے۔جنوبی ایشیا سے مملکت متحدہ برطانیہ میں آنے والے تارکین وطن کثیر تعداد میں مختلف زبانیں بولتے ہیں۔ ان زبانوں میں اردو، پنجابی ، گورمکھی، سندھی ، پشتو، سرائیکی، گجراتی، کشمیری، بنگالی، سلہٹی اور تامل وغیرہ شامل ہیں۔
سیاہ فام برطانوی شہری انگریزی کو پہلی زبان کے طور پر بولتے ہیں۔ ان کے آباؤ اجداد جزائر غرب الہند، خاص طو رپر جمیکا، سے آئے تھے اور وہ عام طور پر انگریزی پر مبنی کرول زبانیں بولتے ہیں۔
مملکت متحدہ برطانیہ میں فرانسیسی ایک مقبول زبان ہے اور ملک کی ۲۳ فی صد آبادی فرانسیسی سمجھتی ہے۔ سیاہ فام برطانوی آبادی کا ایک بڑا حصہ، خاص طور پر افریقی نژاد تارکین وطن، فرانسیسی کو پہلی یا دوسری زبان کے طور پر بولتا ہے۔
کثیر نسلی اور کثیر ثقافتی معاشرہ
برطانیہ اپنے آپ کو ایک کثیر نسلی اور کثیر ثقافتی معاشرہ سمجھتا ہے۔ تارکین وطن کی بتدریج آمد اور آباد کاری کے نتیجے میں برطانوی معاشرے کے انداز فکر میں قابل محسوس تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اب نسلی، ثقافتی اور مذہبی تنوع کو پسندیدہ معاشرتی حقیقت سمجھا جاتا ہے اور برطانیہ میں رہنے والوں کی اکثریت مختلف النوع نسلی اور ثقافتی رنگا رنگی کو مثبت صورت حال کے طور پر قبول کرتی ہے۔
برطانوی حکومت نے معاشرے میں یک جہتی پیدا کرنے، نسلی مساوات کے فروغ اور مختلف ثقافتی گروہوں کے بچوں کی تعلیمی کا کردگی میں تفاوت کم کرنے کے لیے درج ذیل مختلف اقدامات کیے ہیں۔
(۱) قانون سازی
برطانوی حکومت نے کئی ایسے معاملات میں قانون سازی کی ہے جن کا مقصد معاشرے کے مختلف طبقات میں امتیاز ختم کرنا اور برطانیہ میں نئے آباد کاروں کی نسلی علیحدگی کا انسدادہے۔ ان پارلیمانی قوانین میں انسانی حقوق ایکٹ، ۱۹۹۸ء اور نسلی تعلقات (ترمیمی) ایکٹ، ۲۰۰۰ء شامل ہیں۔ ان قوانین کے ذریعے حکومت کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ نسلی مساوات کے فروغ اور بالواسطہ و بلا واسطہ نسلی امتیاز کے انسداد کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ حکومت اپنی پالیسی منظم طریقے سے اور تسلسل کے ساتھ اس طرح بروئے کار لائے کہ لوگوں میں نسلی مساوات کا احساس بیدار ہو اور اس مقصد کے حصول کے لیے عملی دلچسپی و فکر مندی پیدا ہو۔
(۲) دوسری زبان کی لازمی تعلیم
برطانیہ میں طلبہ کے لیے ایک خاص عمر تک دوسری زبان کی تعلیم حاصل کرنا لازمی ہے۔ انگلستان میں ۱۴ سال کی عمر تک اور سکاٹ لینڈ میں ۱۶ سال کی عمر تک دوسری زبان سکھائی جاتی ہے۔ انگلستان اور سکاٹ لینڈ میں بطور دوسری زبان سیکھی جانے والی مقبول ترین زبانیں فرانسیسی اور جرمن ہیں۔ ویلز میں ۱۶ سال کی عمر تک ویلش زبان میں تعلیم دی جاتی ہے یا ویلش بطو ردوسری زبان پڑھائی جاتی ہے۔ ایسے طلبہ جن کی مادری زبان انگریزی نہیں ہوتی، انھیں انگریزی زبان بطور ثانوی زبان پڑھائی جاتی ہے۔
(۳) اقلیتی طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کی نگرانی
برطانیہ کے محکمہ تعلیم نے ثقافتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے اعداد و شمار جمع کرنے کا ایک نظام وضع کیا تاکہ ہر طالب علم کی تعلیمی پیش رفت کی نگرانی کی جا سکے اور تعلیمی میدان میں اس کی کارکردگی میں اضافہ کرنے کے لیے مناسب اقدامات کیے جا سکیں۔
(۴) ثقافتی اقلیتی کارکردگی گرانٹ
معاشرے کے مختلف طبقوں میں مساوات پیدا کرنے کے لیے ۲۰۰۴ء میں شعبہ تعلیم کے لیے ایک ’ثقافتی اقلیتی کارکردگی گرانٹ‘ مختص کی گئی۔ اس گرانٹ کے ذریعے ایسے سکولوں کی مالی معاونت کی جاتی ہے جہاں اقلیتی ثقافتی طلبہ کی کثیر تعداد تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ یہ پروگرام شروع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عام طلبہ اور اقلیتی ثقافتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کا فرق کم کیا جائے اور اقلیتی طلبہ کی مخصوص دولسانی ضروریات پوری کی جائیں۔
(۵) ضمنی سکول
شام کے اوقات میں یا ہفتہ کے دن مخصوص لسانی گروہوں کو ان کی زبان، ثقافت اور مذہب کی تعلیم دینے کے لیے رضا کارانہ بنیاد پر ضمنی سکول کھولے گئے۔ حکومت کی طرف سے ان سکولوں کو مالی امداد فراہم کی گئی۔
(۶) تربیت اساتذہ
مختلف تعلیمی جائزوں اور اعداد و شمار کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ مختلف ثقافتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی تعلیمی کارکردگی غیر معیاری ہے۔ ایسے طلبہ کی تعلیمی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اساتذہ کے تربیتی نصاب میں تبدیلیاں کی گئیں۔ علاوہ ازیں سکول میں ثقافتی تنوع کی حامل جماعتوں کے مسائل حاصل کرنے کے لیے اساتذہ کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ کیا گیا۔
(۷)نسلی مساوات کمیشن
معاشرے سے نسلی امتیاز کے خاتمے کے لیے ’نسلی مساوات کمیشن ‘قائم کیا گیا۔ کمیشن نے اپنی منصبی ذمہ داری یہ بیان کی ہے: ’’ہم ایک منصفانہ اور نسلی امتیاز سے پاک معاشرے کے لیے کام کرتے ہیں، ایک ایسا معاشرہ جہاں تنوع کا احترام کیا جاتا ہے۔ ہم ترغیب و تحریک اور قانونی طور پر حاصل شدہ اختیارات کے تحت ہر شہری کو موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ امتیاز، تعصب اور نسل پرستی کے خوف سے آزاد زندگی گزارے۔‘‘
نسلی مساوات کمیشن کئی وجوہات کی بنا پر تحقیقات کرتا ہے۔ مثلاً
(i) کسی خاص دائرے (مثلاً ثانوی سکول میں داخلہ) میں مساوی مواقع اور اچھے نسلی تعلقات کے فروغ کے لیے۔
(ii) کسی خاص شعبے یا میدان میں اس بات کا جائزہ لینا کہ کسی ثقافتی گروہ کے خلاف امتیاز تو نہیں برتاجا رہا۔ اگرکمیشن کو شک ہو جائے کہ کسی خاص کمپنی یا تنظیم میں نسلی وجوہات کی بنیاد پر امتیاز ہو رہا ہے تو باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کیا جاتاہے۔
لسانی تنوع کے چیلنجوں کا جواب
کثیر ثقافتی معاشرے کے لسانی مسائل حل کرنے کے لیے ماہرین تعلیم، دانشوروں، اساتذہ اور صائب الرائے لوگوں نے مندرجہ ذیل تجاویز پیش کی ہیں۔
(۱) برطانوی معاشرہ دن بدن زیادہ متنوع ہوتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر یہ عمل شہری علاقوں میں زیادہ تیز رفتاری سے وقوع پذیر ہو رہا ہے۔تعلیمی پالیسی کو بھی ان تبدیلیوں کا جواب دینا چاہیے۔ ایک ایسی مربوط قومی تعلیمی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے جو مختلف علاقوں میں رہنے والے بچوں کی لسانی ضرورتوں کو پورا کرے۔
(۲) لسانیاتی ، تعلیمی، نفسیاتی اور معاشرتی وجوہات کی بنا پر تمام طلبہ کے لیے اپنی پہلی زبان برقرار رکھنا ہر لحاظ سے مناسب ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ انگریزی زبان بھی سیکھیں تاکہ معاشرے کی سرگرمیوں میں مکمل اور فعال کردار ادا کر سکیں۔
(۳) پہلی زبان کے طو رپر انگریزی زبان بولنے والے افراد کو کسی نہ کسی ثقافتی گروہ کی زبان سیکھنی چاہیے تاکہ انھیں ذاتی طور پر لسانیاتی اور ثقافتی افق وسیع کرنے کے مواقع ملیں۔ یقیناً ان کا یہ عمل ہم عصر کثیر لسانی کثیر ثقافتی برطانوی معاشرے کی تعمیر کی سمت میں ایک اہم مثبت قدم ہو گا۔
(۴) عام سکولوں میں تمام زبانیں پڑھانے کا انتظام ہونا چاہیے۔ وہ طلبہ جن کی مادری زبان انگریزی ہے، انھیں بھی گروہی زبان پڑھنے کی سہولت ہو۔
(۵) گروہی زبانوں کا درجہ یورپی زبانوں کے برابر ہونا چاہیے۔ یہ زبانیں یورپی زبانوں کے متبادل کے طور پر پیش نہ کی جائیں بلکہ اضافی زبانوں کے طور پر پیش کی جائیں تاکہ گروہی طلبہ کو بھی اپنی ثقافتی زبان اور یورپی زبان بیک وقت سیکھنے کی سہولت ہو اور تعلیم مکمل ہونے پر عملی زندگی کے دوران یورپی منڈی میں ترقی کے یکساں مواقع حاصل ہوں۔
کثیر لسانی، کثیر ثقافتی برطانوی معاشرے کی صورت حال کے مختلف پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ برطانوی حکومت کو ایک ایسی قومی لسانی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے جو مختلف غیر ملکی جدید زبانوں اور تارکین وطن کی ثقافتی زبانوں پر محیط ہو، جس میں زبان سیکھنے کے مختلف مراحل ، اساتذہ کی تربیت اور ان کی دستیابی پر واضح حکمت عملی اپنائی گئی ہو۔ یہ ایک ایسی لچکدار پالیسی ہونی چاہیے جس میں مقامی ضروریات اور ردّ عمل کا مناسب خیال رکھا گیا ہو۔
حوالہ جات
1. CIA World Factbook-UK;
(https//www.ciagov/librarypublications/factbook/uk/html
2. Languages of the United Kingdom;
(http://en.wikipedia.org/wiki/langauges of the united Kingdom.
3. Immigration and Integration Policies in UK; by: Anca Voicu; (Romanian Journal of Eu Affairs) Vol: 9 No. 2;2009.
4. Government of Wales Acts 1993, 1998 and 2006.
5. Gaelic Language (Scotland)Act 2005.
6. Languages of United Kingdom. (http//www.ethnologue.com/showcountry.asp?name=gb
7. Language Policy in Multilingual UK; by: Terry Lamb; University of Notingham; (Language Learning Journal Summer 2001, No. 23, 4-12).
8. Sustainable Governance Indicators 2009; Security and Integration UK Integration Policy; by: Bertelsmann Stiftung.
9. National Langauges Strategy: UK. "Languages for all= Langauges for life"
10. European Intercultural workplace (EIW.)-United Kingdom; University of Westminister.


ویب گاہ
ہمارے اردگرد غیر ملکی زبانوں کے بے شمار نئے الفاظ آ چکے ہیں جنھیں ہم اپنے روز مرہ کے کاموں میں فراوانی سے استعمال کرتے ہیں۔ انہی میں سے ایک لفظ ویب سائٹ (Website)ہے۔ ہم اس لفظ کو اردو میں من و عن لکھتے اور بولتے ہیں۔ اگر اس مکمل انگریزی لفظ کی جگہ’’ ویب گاہ‘‘ لکھا اور پڑھا جائے تو اہل علم اور قارئین کی کیا رائے ہو گی۔ ’’ویب گاہ‘‘ کا لفظ ایران میں ویب سائٹ کے متبادل کے طور پر لکھا اور پڑھا جا رہا ہے۔ اخبار اردو