اُردو زبان کے حقیقی خدمت گزار


اردو زبان کی سربلندی اور بالادستی کا خواب دیکھنے والا کوئی بھی شخص کسی ثقافتی اقلیت کا نمائندہ نہیں بلکہ قومی جمہوری نمائندہ ہے۔ پاکستان میں جیسے جیسے جمہوری اقدار پروان چڑھیں گی جمہوری ادارے مضبوط ہوں گے اور عام شہری کی عزت نفس اور بنیادی حقوق کا اہتمام کیا جائے گا۔ پاکستان میں رواداری، کشادہ دلی اور روشن خیال کو فروغ ہوگااور ہماری وہ ثقافتی یادداشت بھی بحال ہوتی چلی جائے گی جس کی امین ہماری قومی زبان اردو ہے اور بلاشبہ اس اردو سے محبت کرنے والے،اسے اپنی سہولت سمجھنے والے اور اس میں تخلیق اور اظہار میں فخر کرنے والوں میں اکثریت ان پاکستانیوں کی ہے،جن کی اپنی مادری زبانیں اپنی تاریخ اور تہذیب کا رنگ رکھتی ہیں ۔پر جس طرح دو،تین صدی قبل برصغیر میں ایک سے زیادہ زبانوں میں تخلیق کرنے والے لوگ محبوبِ خلائق ہوتے تھے ،اسی طرح آج پاکستان کے بڑے تخلیق کار وہی ہیں جو سندھی، بلوچی، پشتو، پنجابی، سرائیکی، ہندکو یا فارسی میں تخلیق کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے زرخیز تخیل اور گہرے احساس کو قومی زبان کے ذریعے ہی تمام پاکستانیوں تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سو، ہم چاہتے ہیں کہ مقتدرہ قومی زبان کا علمی اور لسانی اشتراک،جہاں قومی زبان کے لیے کام کرنے والے تمام فعال علمی اور ادبی اداروں اور افراد کے ساتھ ہو وہاں ہمارا تال میل سندھی لینگوئج اتھارٹی، پشتو اکیڈمی، بلوچی اکیڈمی، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج ، آرٹ اینڈ کلچر، ہندکو ادبی بورڈ اور سرائیکی انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ کے ساتھ بھی ہو۔ اردو کی کی طرح پاکستان کی جمہوری تحریک سے بھی ایک دن کا وعدہ کیا گیا تھا،اس دن کا، جب عام آدمی کے خلاف کٹنے والی ایف آئی آر ، پیش ہونے والا استغاثہ ، دی جانے والی صفائی اور منصف کی طرف سے سنایا جانے والا فیصلہ کسی ترجمان اور مفسر کی مدد کے بغیر اس کی سمجھ میں آسکے گا۔
ہماری یہ کوشش بھی ہوگی کہ ’’اخبار اردو‘‘ کے ذریعے اندرون ملک اور بیرون ملک، اردو دنیا سے رابطہ جاری رہے مگر اس رابطے میں آبرومندی ضروری ہے،اسی لیے ہم نے سالانہ خریدار بنانے کی مہم شروع کی،وزارتِ خارجہ نے بھی ہماری درخواست پر بعض ملکوں میں اخبارِ اردو کے شمارے سفارتی بیگ میں بھجوانے کی سہولت فراہم کی ہے،جس کے لیے ہم جواں سال وزیرِ خارجہ محترمہ حنا ربانی کھر کے ممنون ہیں۔ہم ’’اخبارِ اردو‘‘ کو آن لائن بھی کر رہے ہیں اور بیرون ملک مقیم احباب سے توقع بھی کر رہے ہیں کہ وہ مقتدرہ کی جانب سے فراہم کردہ برقیاتی رابطے nla.gov.pk کے ذریعے اسے کاغذ کی مہک کے بغیرپڑھ سکیں۔ ہماری کوشش ہوگی کہ ہم پاکستان بھر کی جامعات اور بیرون ملک دانش گاہوں میں موجود اردوشعبوں کے اساتذہ اور طالب علموں کے ساتھ ساتھ قومی زبان و ادب کے لیے کام کرنے والے ملکی اور بین الاقوامی اداروں سے اپنے رابطے کو مفید اور نتیجہ خیز بنائیں۔

انوار احمد