''ٹھمری'' میں ''پیلو'' کی بندش

زاہد حسن

 

ہار مونیم والے کی انگلیاں تیز ہو جاتیں تو طبلے والاسست پڑ جاتا ،سارنگی والا استاد کے راگ سے آواز ملانے کی کوشش کرتا تو سارنگی چیخنے لگتی.....ایک استاد تھا جو سر منڈل پر اور اپنی آواز پر قابو پائے تھا۔ اور کچھ ٹھمری کے بول ایسے تھے، جنہوں نے سننے والوں کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے تھا ورنہ شہر کے اور شہر والوں کے حالات ایسے نہ تھے کہ پکے راگوں کی محفلیں سجائی جاتیں۔ خیام جو استاد کے سروں میں گم تھا، ساتھ ہی ساتھ میں یہ بھی سوچتا جا رہا تھا کہ یقینا استاد ٹھمری میں جس برہن کی بات کر رہا ہے وہ تو برہوں کی اگنی میں آج بھی اسی طرح سلگ رہی ہے۔
کیسے گزاروں ساری ریناں......
تجھ بن سیاں موہے نیندنہ آئے
بالی، عمر موری، سونی رے سجنیا
تڑپت ہوں دن ریناں ......
استاد نے نیا راگ شروع کیا .....سننے والوں نے جھومنا او رجھولنا شروع کر دیا ۔ترچھی نجریا کے وار......
…۲…
خیام کو نہ جانے کیوں ایک عجیب سی الجھن اور بے چینی نے گھیر رکھا تھا۔ وہ کچھ برس پہلے لاہور میں نکلنے والے ایک جلوس کی یاد میں جا کھویا تھا۔ جس میں سڑکوں پر آ نکلنے والے ہجوم نے سارا کچھ تہہ و بالا کر دیا تھا اور اس ریسٹورنٹ میں بھی آگ کے شعلے اٹھ رہے تھے جہاں کبھی کبھار وہ آن بیٹھتا تھا۔ اور جہاں اس کی جان کاری رازی سے ہوئی تھی، ہاں! وہ اسے واقفیت تو ہر گز نہیں کہہ سکتا تھا اسے جانکاری ہی قرار دیا جا سکتا تھا کیونکہ رازی نے اسے اپنے بار ے میں کچھ بتایا نہیں تھا لیکن وہ اس کے بارے میں بہت کچھ جان گیا تھا اپنے آپ سے ...... بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کو لوگ کچھ بھی نہیں بتاتے اور آپ اپنے آپ سے ان کے بارے میں جان جاتے ہیں، جس طرح کہ رازی کے حوالے سے اس کے ساتھ ہوا تھا۔
…۳…
رازی کتنے ہی برس سے اس ریسٹورنٹ میں آکر بیٹھتا تھا ......اس کا یوں آکے بیٹھنا کوئی اچنبھے کی بات نہ تھی اور بھی کئی لوگ آن کر بیٹھتے تھے پر رازی ہمیشہ دو کرسیوں والی میز پر آن کر بیٹھتا اور ہمیشہ دو لوگوں کا کھانا منگواتا اور پھر کھانے کے دوران گفتگو شروع کر دیتا۔ دوسری کرسی کو مخاطب کر کے جیسے اس پر کوئی اس کے روبرو بیٹھا ہو۔ کبھی اس سے تلخی میں بات کرتا، کبھی منت سے، تو کبھی رازو نیاز کرنے لگتا......لوگ جو اس ریسٹورنٹ میں دوپہر کا کھانا کھانے آتے۔ شام کی چائے پینے آتے یا دیرینہ دوستوں سے گپ شپ لگانے آتے......رازی فوراً انہیں اپنی جانب متوجہ کر لیتا.....''پاگل ہے'' ہر انسان اپنی پہلی رائے دیتے ہوئے سوچتا یا بسا اوقات اپنے ساتھی سے یہ بات سانجھی کرتا۔ لیکن اکیلا خیام ہی تھا جس نے رازی کے بارے میں پوشیدہ اور کھلے رازوں کے بارے میں جاننے کی سعی کی تھی.....
شروع شروع میں اسے بہت دقت ہوئی، کوئی بھی رازی کے بارے میںاس سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھا .....اس خوف کے سبب کہ پاگل کے بارے میں جاننے والے کو بھی پاگل ہی نہ سمجھ لیا جائے..... پھر اسے اس ریسٹورنٹ کے ایک بہت ہی پرانے ملازم کے بارے میں پتہ چلا جو ریسٹورنٹ میں اس زمانے میں ملازم ہوا تھا جب رازی اپنے ہوش و حواس میں تھا....وہ ملازم دوسرے ملک کے ساتھ لگتی سرحدوں کے قریب آباد گائوں میں رہتا تھا۔''ہم برابر ہوا کی سر سرسراہٹ، سنتے ہیں اس طرف بھی اور ا سطرف بھی، سرحدوں کے اس پار اور اس پار برسنے والی بارش ہمارے کھیتوں میں یکساں ہریالی لاتی ہے، او رہم آپ کو گن کر بتا سکتے ہیں کہ کتنے پرندے روز ادھر سے ادھر رزق کی تلاش میں نکلتے ہیں او رکتنے واپس چلے جاتے ہیں۔ کتنے ادھر ہی رہ جاتے ہیں۔ شاید شکار وکار ہو جاتے ہوں۔'' اس ملازم نے پہلی ملاقات کے تجسس میں خوشی سے لرزتی ہوئی آواز میں اسے بتایا ..... اور پھر اس نے خیام کو رازی کے بارے میں بتایا۔
بات اتنی گہری ، پیچیدہ اور تفصیل سے بھری نہ تھی، یا پھر ملازم کو بھی اسی قدر معلوم ہو، اس کے پاگل پن کی اصل وجہ بننے والی بات تک اس کی رسائی ہی نہ ہو سکی۔!
…۴…
ترچھی.....نجر.....یا کے وار......
گانے والے نے آواز کی انتہائی حدوں کو چھوتے ہوئے سم لگایا۔ ادھر سب گانے بجانے والے واپس آئے ادھر خیام واپس پلٹا۔
البتہ سارنگی والے کے ہاتھ اور انداز ایسے ہی رہا، جیسے نیا راگ شروع ہونے والا ہو اور جونہی استاد لے پکڑے، سارنگی بھی اپنی آہ و درد سے بھری آواز نکالے۔
لیکن استاد نے جھک کر سب کو سلام کیا۔ تالیاںبجیں استاد نے سرمنڈل ایک طرف دھرا، چادرجس سے بکل اوڑھ رکھی تھی اتارنے لگا۔
لوگ ایک ایک کر کے اٹھنے لگے۔خیام رات کی نمی میں بھیگتی شاہراہ پر واپس ہو لیا..... اسی شاہراہ کے رستے میں وہ ریسٹورنٹ پڑتا تھا جہاں رازی آن کر بیٹھتا تھا۔ مدت ہوئی اس ریسٹورنٹ کو ایک احتجاجی ہجوم نے جلا ڈالا تھا۔
خیام کو یوں لگا، جیسے رازی بھی اس بھڑکتی آگ کے شعلوں میں کہیں جل بجھا ہو۔....
کچھ لحظوں کے لیے اس کی توجہ کہیں اور بٹ گئی ، چوک پر ٹریفک کا اژدھام تھا، وہ اپنے خیالات کو ایک ڈگر پر سفر کرنے میں قابو نہ رکھ سکا ......
…۵…
وہ ریگل چوک سے گزر رہا تھا جہاں کے دہی بڑے اس کی بیوی کو بے حد مرغوب تھے، اور جہاں کے ایک چائے خانے ''یادیں'' کے سموسے اسے پسند تھے، وہ پستہ قامت سموسے بعض اوقات ان کے ساتھ ملنے والی آلوئوں کی چٹنی کے شوق میں کھا جایا کرتا تھا جو انہی آلوئوں کے چھلکے سے بنائی جاتی جس سے سموسے تیار ہوتے تھے۔
اس نے کھڑے کھڑے دو سموسے کھائے، چٹنی کی پلیٹ کو منہ سے لگایا، جو اس کے حلق کے علاوہ اس کے ململ کے کاڑھے ہوئے کرتے پر بھی گر گئی تھی۔ ''خوامخواہ'' بیوی کو بولنے کا بہانہ مل گیا۔ ذرا سی احتیاط، چٹنی کو قمیص پر گرنے سے بچا سکتی تھی، خیر اب کیا ہو سکتا تھا۔'' اس نے سوچا اور دہی بڑے خریدنے کے لیے اگلی دکان کی طرف بڑھا۔ نہ جانے کیوں ٹھمری کے بول اس کے دماغ میں گونج رہے تھے۔ ایک طرفہ اور سر خوشی اس کے تن بدن میں لہر کی مانند سے گزر گئی۔ اس نے بول دہرائے
''کیسے گزاروں ساری ریناں .....
تجھ بن سیاں موہے نیند نہ آئے
بالی عمر موری، سونی رے سجنیا
تڑپت ہوں دن ریناں......
…۶…
.....وہ دستکیں دیے جا رہا تھا۔
محلے کے ارد گرد کے گھروں میں بچے جاگ کر رونے لگے تھے لیکن اس کی بیوی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی تھی.....
رازی کے بارے میں ملازم کی طرف سے اسے دی گئی معلومات بہت با معنی لیکن کس قدر مختصر تھیں۔ رازی میڈیکل کا طالبعلم تھا۔ اسے اپنی ہم جماعت روزینہ سے محبت ہو گئی تھی اور اکثر وہ اس ریسٹورنت میں کھانا کھانے آتے تھے ......پھر پتہ چلا کہ روزینہ کو جگر کا کینسر ہے۔ بس پتہ ہی چلا تھا کہ اس کی موت واقع ہو گئی انہیں علاج کے لئے مکمل چیک اپ کی بھی مہلت نہ ملی تھی۔
رازی کو روزینہ کی موت کا اس قدر صدمہ ہوا تھا کہ وہ اپنے ہوش و خرد سے جاتا رہا۔
اتنی ہی مختصر سی کہانی تھی رازی کی۔!
…۷…
خیام کی والدہ کو شوگر کی بیماری نے کھوکھلا ہی تو کر دیا تھا۔ وہ دروازہ کھولنے آئی تو اپنے طور پر کچھ بولتی چلی گئی......یقیناً مجھے کوس رہی ہو گی، خیام نے سوچا، میں بھی تو اپنی راتوں کی آوارگی پر قابو نہیں پا سکا اور یار ان سے برسوں ملاقاتوں کی کمائی محض ان کی طعنوں سے بھری باتیں تھیں ......اس سے زیادہ کچھ نہیں۔!
…۸…
صبح اسے محلے کے گھر گھر میں جا کر بتانا پڑا، رات سوتے میں اس کی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا ....محلے کی مسجد میں اعلان ہوا۔
''اب اس اکیلے کا کیا ہو گا۔' نعش کے قریب بیٹھی ایک ہمسائی نے کہا۔
''ماں ، کے بھی تو کبھی ہاتھ نہیں آیا، ورنہ اسے بیاہ ہی دیتی۔ اب پہاڑ جیسی زندگی، اکیلے گزارے گا، تو دن رات کا حساب پتہ چل جائے گا۔ دوسری نے ایک آہ بھرتے ہوئے کہا اور اپنے ناک بہاتے بچے کا ناک پلو وسے صاف کرتی ہوئی باہر جانے لگی۔
خیام کے دماغ میں کل رات استاد سے سنی ٹھمری