ڈاکٹر طالب حسین اشرف
ڈیرہ اسماعیل خان کی ادبی اور تہذیبی زندگی کا ایک معتبر حوالہ
فیصل احمد گوندل

 

ڈاکٹر طالب حسین اشرف۵؍ مئی ۱۹۴۹ء کوڈیرہ اسماعیل خان میں پیداہوئے اور ایک بھر پور عملی اور علمی و ادبی حوالے سے سرگرم زندگی گزارنے کے بعد ۶۱ سال کی عمر میں راہی ملکِ عدم ہوئے۔ ڈاکٹر طالب حسین اشرف میرے حقیقی خالو اور سسر تھے مگر ہم انہیں ماموں کہا کرتے کہ ہمیں بچپنے سے یہی سکھایا گیا تھا شاید اس لفظ ''ماموں'' میں محبت اور اپنائیت زیادہ ہے۔ اور پھر تو ہمیں اس کی ایسی عادت پڑی کہ ہم انہیں ماموں کے سوا کسی اور لفظ سے کبھی مخاطب نہ کر سکے۔ اور انہوں نے بھی ہمیں ایسا ہی پیار دیاکہ و ہ محبتوں میں تفریق کے قاعدے سے ناآشنا تھے۔ ڈاکٹر طالب حسین اشرف ایک نہایت کشادہ دل، شائستہ مزاج اور شریف النفس انسان تھے۔ ان کی یہی خوبیاں تھیں کہ جو ان سے ایک بار ملتا وہ ان کا اسیر ہو کر رہ جاتا۔ ڈاکٹر طالب حسین اشرف نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا اور مختلف مقامی اخبارات مثلاً تمدن، مخلص، کوثر اور پیامِ نو میں کام کرتے رہے لیکن بعد ازاں وہ پیشۂ تدریس سے وابستہ ہو گئے اور پھر اسی کے ہو رہے۔ جبکہ ایک زمانہ میں انہوں نے ریڈیو کے لیے سکرپٹ بھی لکھے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا انہوں نے ایم ۔ اے اردو کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کیا تھا جس پر یونیورسٹی نے انہیں طلائی تمغے سے نوازا تھا۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب ایسے تمغے کچھ وقعت رکھا کرتے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے ایم۔ ایڈ، ایم ۔فل اور پھر اقبالیات میں پی۔ ایچ۔ڈی کی سند حاصل کی۔ اس دوران ان کا بطور کالج لیکچرر بھی تقرر ہوا تھا لیکن انہوں نے سکول سائیڈ کو ترجیح دی۔جس میں بالآخر انھوں نے مختلف اوقات میں پرنسپل اور ضلعی تعلیمی ادارے میں بطور انتظامی افسر کے کام کیا۔ اس کے ساتھ ہی وہ مختلف ادبی اداروں سے بھی وابستہ رہے۔ اسی دوران انہوں نے دامان آرٹس کونسل ڈیرہ اسماعیل خان کے تحت ڈیرہ کے قدیم و جدید شعراء کے تعارف اور اُن کے اردو، پشتو اور سرائیکی کلام پر مبنی کتاب ''دامانِ سخن'' شائع کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر طالب حسین اشرف ایک مجلسی اور ملنسار انسان تھے اس بات کا ثبوت ان کا وسیع حلقہ ٔ احباب ہے۔ ان کے قریبی دوستوں میں ڈیرہ اسماعیل خان کے کئی معروف اہلِ قلم شامل تھے جن میں سے بعض قومی سطح پر مشہور ہوئے۔ ان میں بہرام ساحل، پروفیسر نذیر اشک، غلام محمد قاصر، الطاف صفدر، منصور مروت، نصیر سرمد، ڈاکٹر اقبال سید، مختار ساقی، ڈاکٹر یحییٰ امجد اور غفار بابر وغیرہ کے نام آتے ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے دم سے ڈیرہ اسماعیل خان کی ادبی ، سماجی اور تہذیبی زندگی میں بہار تھی۔ اب ان میں سے اکثر لوگ راہی ملکِ عدم ہو چکے اور ڈیرہ شہر ایسے باکمال لوگوں کی رخصت کے بعد ویران ہوتا جا رہا ہے۔ ان لوگوں کی محفلوں میں ایسی علمی و ادبی بحثیں ہوا کرتی تھیں جن سے ادب کے نوآموز طالب علموں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا۔ ڈاکٹر طالب حسین اشرف کی اس ادبی وتہذیبی تاریخ کے شاید آخری ناظر تھے اور وہ آخری سالوں میں اس ادبی تاریخ کو محفوظ کرنے کا بعض اوقات تذکرہ کرتے تھے شاید وہ اس کا ارادہ بھی رکھتے تھے۔ لیکن انہیں اس کا موقع نہ مل سکا۔مجھے یاد نہیں پڑتا کہ انہوں نے کبھی کسی کی دل شکنی کی ہو۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ایسے لوگ صدیوں میں پیداہوتے ہیں، میرؔ کا یہ شعر ان پر واقعی صادق آتا ہے کہ:
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتا ہے
ڈاکٹرطالب حسین اشرف ایک اعلیٰ درجے کے باذوق اور کثیر المطالعہ شخص تھے انہیں کتابیں خریدنے اور پھر سلیقے سے رکھنے کا بہت شوق تھا وہ ہر کتاب پر اپنا نام، تاریخِ حصول اور شہر کا نام ضرور لکھتے تھے۔ سچی بات یہ ہے کہ کتاب خوانی اور کتاب خریدنے کا شوق میں نے انہی سے لیا اور یہ انہی کی دین ہے۔ وہ جب بھی کبھی دوسرے شہر جاتے تو وہاںسے ڈھیروں کتابیں خرید لاتے اسی وجہ سے ان کی ذاتی لائبریری میں سینکڑوں کتابیں جمع ہو گئیں جو وہ بوقت ضرورت اپنے دوستوں اور طلبہ کو مستعار دیتے۔ اور یوں پڑھنے والے کو مطلوبہ کتاب بآسانی دستیاب ہو جاتی۔ وہ نہ صرف کتب خریدتے بلکہ انہیں پڑھتے بھی تھے کہ ان کے کتب خانے میں موجود قریباً ہر کتاب جگہ جگہ سے نشان زد نظر آتی ہے۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ محض Book Collector نہیں تھے۔ اقبال سے تو انہیں عشق تھا چنانچہ صرف اقبالیات کے موضوع پربے شمار کتب ان کے ذخیرے میں شامل ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی نوجوان نسل کے اکثر شعراء نے ان کے کتب خانے سے حسبِ توفیق فیض اٹھایا ہے (جن میں کئی تو اب قومی سطح پر بطور شاعر ، ادیب اور صحافی معروف ہو چکے ہیں ان میں سے کچھ تو اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں) وہ اس بارے میں بڑے فراخ دل واقع ہوئے تھے۔ لوگ اُن کے ہاں آتے، دن کا بیشتر حصہ وہیں گزارتے، علمی وادبی بحثیں ہوتیں، ساتھ ہی کھانے پینے کے دور چلتے اور جاتے ہوئے دو چار کتب بھی اپنے ہمراہ لے جاتے۔ یہ کتنی بڑی بات ہے اس کا اندازہ صرف ان لوگوں کو ہو سکتا ہے جو خود کتب بینی اور کتاب رکھنے کا شوق پالتے ہیں۔
ادبی حوالے سے ڈاکٹر طالب حسین اشرف کی دلچسپی کا مرکز پہلے شاعری اور پھر تحقیق کا میدان بنا۔ وہ ایک اعلیٰ پائے کے شاعرتھے۔ اور فنی پختگی کے حامل تھے لیکن تحقیق سے لگاؤ بڑھنے کے ساتھ ہی شاعری پر ان کی توجہ کم ہوتے ہوتے بالکل ختم ہو کر رہ گئی ان کا سارا شعری سرمایہ ستر اور اسیّ کی دہائی میں کہے ہوئے کلام پر مشتمل ہے اب لگ بھگ دو عشروں سے وہ شاعری سے قریباً کنارہ کش ہو چکے تھے اور ان کی ساری توجہ تحقیق پر مرکوز ہو کر رہ گئی تھی تاہم وہ اپنا مجموعہ کلام شائع کرانا چاہتے تھے لیکن عمر نے ان سے وفا نہ کی۔ انہوں نے اپنا شعری مجموعہ ''آیات'' کے نام سے ترتیب دیا تھا جو کہ ابھی تک اشاعت پذیر نہیں ہو سکا۔ ڈاکٹر طالب حسین اشرف کے فن میں اردو کی شعری و فکری روایت کی پاسداری کے ساتھ ساتھ جدت کے عناصر بھی کا رفرما نظر آتے ہیں ان کی غزل میں نئے لہجے کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔ چنانچہ یہ شاعری روایت اور جدت کے حسین امتزاج کی صورت گری کرتی ہے۔ مثال کے طور پر ان کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
دیوار کے سائے میں کھڑا سوچ رہا ہوں
دیوار ہوں، سایہ ہوں کہ سانسوں کی صدا ہوں

وہ شخص سرنگوں تھا دشمن کے آستاں پر
جس کے لیے میں اکثر خود سے بھی لڑ پڑا تھا
خود سے شکست کھا کے بھی مانی نہیں ہے ہار
میں کہ انا پرست بڑا بااصول تھا

تیرے کشکول میں پتھر بھی نہ ڈالے گا کوئی
شہرِ بے مہر میں آواز لگاتا کیوں ہے

بسی ہوئی ہے نگاہوں میں درد کی خوشبو
مہک میں درد بھی کالے گلاب جیسا ہے

ہے اُس کا چہرہ کہ تقدیس کاہے تاج محل
کوئی خیال کی دنیا میں اس کو دیکھ آئے

کاغذ کے پھول کانچ کے گلدان میں سجا
لپکیں گی اس طرف کو بھی معصوم تتلیاں

شکستِ ذات کا احساس انگ انگ میں تھا
کہ بجھنے والا دِیا بھی کسی ترنگ میں تھا
ڈاکٹر طالب حسین اشرف جب تحقیق اور فلسفہ کی طرف مائل ہوئے تو اقبال کو اپنا رہنما مانتے ہوئے تمام تر توجہ اس کے مطالعے میں صرف کر دی انہوں نے اپنا ایم ۔فل کا مقالہ بعنوان 'ملفوظات اقبال تحقیق و تجزیہ'' ڈاکٹر صابر کلوروی کی زیر نگرانی مکمل کیا اور پھر اس کے بعد پی۔ ایچ۔ ڈی کا مقالہ پنجاب یونیورسٹی کے صدر شعبہ فلسفہ ڈاکٹر نعیم احمد خاں کی نگرانی میں مکمل کیا اور ڈاکٹریٹ کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی جس میں ان کاموضوع ''اقبال اور جدید علم کلام'' تھا۔ یہ دونوں مقالے اور اسناد انہوں نے شعبہ اقبالیات ، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے حاصل کیں۔ ہر دوعنوانات سے بخوبی ظاہر ہے کہ ان کے تخلیقی موضوعات کتنے سنجیدہ نوعیت اور منفرد فکر کے حامل تھے۔ اس کا ثبوت ان مقالات کے باقاعدہ مطالعے اور کتابیات کی فہرست سے بھی ہوتا ہے کہ محقق نے ان مقالات کے رقم کرنے میں کس قدر محنت کی ہے۔ تحقیق کے حوالے سے ان کے دوستانہ مراسم و روابط ملک بھر کے اعلیٰ محققین سے استوار ہوئے جن کے ساتھ ان کی کافی صحبتیں رہیں۔ان میں معروف اقبال شناس پروفیسر محمد منور، ڈاکٹر وحید قریشی ، ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی، ڈاکٹر محمد ریاض، ڈاکٹر سہیل احمد خاں، ڈاکٹر صدیق جاوید، ڈاکٹر صابر کلوروی،ڈاکٹر نعیم احمد خاں، ڈاکٹر محمد سہیل عمر اور ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی وغیرہ کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔ ان میں سے اکثر کے ساتھ ان کے بے تکلفانہ تعلقات قائم ہوئے ڈاکٹر طالب حسین اشرف کے تحقیقی مقالات بھی ابھی منتظر اشاعت ہیں۔ اور اقبال اکیڈمی لاہور کو اس طرف توجہ دینی چاہیے جو اقبال سے وابستہ بعض اوقات ہر الم غلم مواد چھاپ دیتی ہے اسے ان سنجیدہ علمی و فکری مقالات کی اشاعت میں اپنا دستِ تعاون ضرور بڑھانا چاہیے کہ خیبر پختونخوا کے اور افتادہ ایک چھوٹے سے شہر میں ایک اہم اقبال شناس کے مقالات یوں گوشہ گمنامی میں پڑے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ اہم مقالات نہ صرف زیور طباعت سے آراستہ ہوں بلکہ اردو کے بالخصوص اقبال شناسی کے نئے محققین کی تحقیقی وتنقیدی ضرورت کو بھی پورا کریں۔ شاید اقبال اکیڈمی اس طرف توجہ دے سکے۔
ڈاکٹر طالب حسین اشرف نے اپنی وفات سے آٹھ ، دس سال پہلے سے قرطبہ یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان(کیمپس) میں شعبہ اردو قائم کر کے وہاں ایم۔ فل سطح کی تدریس شروع کر دی تھی اگرچہ یہ ان کی پارٹ ٹائم جاب تھی لیکن اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ اس شہر اور آس پاس کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ایسے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی جائے جو اردو میں ایم فل یا پی۔ ایچ۔ ڈی کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کو قائم ہوئے ایک عرصہ گزر چکا ہے لیکن بدقسمتی سے اس میں ابھی تک شعبہ اردو قائم نہیں ہو سکا ہے۔ تاہم طلبہ کو پرائیویٹ ایم۔ اے اردو کرنے کی سہولت حاصل ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ڈاکٹر طالب حسین اشرف نے قرطبہ یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کیمپس میں شعبہ اردو قائم کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا اور آخر کار اس مقصد میں کامیاب رہے اس شعبہ اردو میں ان کی زیر نگرانی کئی طلبہ نے ایم۔ فل کی اسناد حاصل کیں۔ اور اب ان کی وفات کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔
ڈاکٹر طالب حسین اشرف نے ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی ناردرن یونیورسٹی نوشہرہ میں قائم ہونے والے شعبہ اردو کے صدر شعبہ کے فرائض سنبھال لیے تھے اور اپنی وفات کے وقت تک وہ اس منصب جلیلہ پر فائز تھے۔ ملازمت سے قطع نظر ان کی دلچسپی اردو کے طلبہ کی رہنمائی اور مدد تھی جس سے انہیں کبھی انکار نہیں تھا۔ کہ وہ انتھک محنت کے قائل تھے اور اس کے ساتھ ساتھ مشرق کی علمی و ادبی روایت کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنا چاہتے تھے۔ یہ ان کی قابلیت ، محنت اور خلوص تھا جس سے متاثر ہو کر خیبر پختونخواہ کی اکثر وہ جامعات جہاں شعبہ ہائے اردو کھل رہے تھے انہیں اپنے ہاں بطور صدر شعبہ یا پروفیسر رکھنا چاہتی تھیں اس سلسلے میں ان کی زندگی کے آخری دنوں میں خان عبد الولی خان یونیورسٹی مردان بھی اپنے ہاں شعبہ اردو قائم کرنے میں ڈاکٹر طالب حسین اشرف کی رہنمائی کی خواہاں تھی۔ تاہم زندگی کی کج ادائی نے انہیں اس کی مہلت نہ دی۔
ڈاکٹر طالب حسین اشرف اپنے مجلسی اندازِ گفتگو ، علمی پیرایۂ اظہار، اور مشرق کی تہذیبی اقدار کی پاسداری کی بدولت ایسی منفرد اور مہربان شخصیت کے مالک تھے جو صرف انہی سے منسوب تھی۔ اور بتاریخ ۱۴؍ اکتوبر ۲۰۱۰ء کو ان کے ناگہانی انتقال سے علم وادب کا ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچامگر وہ اپنے پسماندگان اور دیگر چاہنے والوں کے لیے ایک ایسا خلا چھوڑ گئے جو کبھی پُر نہ گا۔ بقول حافظ شیرازی
حیف دو چشم زدن صحبتِ یار آخرشد
روئے گُل سیر نہ دیدم کہ بہار آخرشد