شریف کنجاہی ایوارڈ کی تقریب میں دل کی باتیں

زاہد حسن چغتائی

شریف کنجاہی ہمارے عہد کا نابغہ ہے۔ علم' ادب' شاعری' نثر' تنقید اور بالخصوص تحقیق کا شیدائی' ہمہ صفت موصوف ' ہمہ دانی میں یکتا' شہد سے زیادہ میٹھے ذائقے اور لہجے قلب و نظر میں انڈیلنے والا لکھاری۔ کوثرو تسنیم میں دھلی ہوئی شخصیت ' برگد سے زیادہ گھنے سائے والا بزرگ۔ اپنا عہد خود مرتب کرنے والا اہل قلم اور اپنی ذات میں انجمن کی طرح جگمگاتا عالم با عمل' جس کی ہمالہ صفت اور خورشید مثال شخصیت آج بھی گجرات کے جانان قصبہ کنجاہ میں کہکشاں کی طرح اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔گزشتہ دنوں اسی کنجاہ قصبہ میں شریف کنجاہی ایوارڈ کی سالانہ تقریب منعقد ہوئی۔ راولپنڈی' اسلام آباد سے راقم الحروف کو کنجاہ کے ادبی حلقوں کے سرپرست زہیر کنجاہی' بشیر رانجھا اور ممتاز رانجھا کے ہمراہ اس تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ کنجاہ پہنچ کر معلوم ہوا کہ تقریب کے منتظم نوجوان شاعر اور صحافی احسان فیصل کنجاہی اور ان کے رفقاء سجاد احمد رحمانی' راجہ سلیم و دیگر ہیں۔ تقریب ڈنگہ روڈ پر ایک سکول میںمنعقد کی گئی تھی۔
وقت سے پہلے پہنچ جانے کا فائدہ یہ ہوا کہ کنجاہ اور گجرات کے منتخب علمی ' ادبی اور صحافتی حلقوں کی نمائندہ شخصیات سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ اس محفل میں عارف علی میر (المیر ٹرسٹ لائبریری گجرات) سمیت احمد دبیر اصغر' سجاد احمد رحمانی' اشرف نازک' جاوید اقبال رندھاوا ' افتخار احمد بھٹہ کے علاوہ کئی دیگر احباب بھی شریک تھے۔ جن کی گفتگو میں علم' ادب اور تحقیق سرچڑھ کر بول رہی تھی۔ راقم نے اس موقع پر مولانا غنیمت کنجاہی سے لے کر خاقان خاور ' پیر فضل ' انور مسعود' روحی کنجاہی اور کئی دیگر نابغوں کو یاد کیا تو اک سماں بندھ گیا۔ ہر شریک محفل لکھاری کے لہجے اور نطق میں تحقیق اور مطالعہ جھلک رہا تھا۔ مجھے یوں لگا جیسے شریف کنجاہی بھی اس محفل میں موجود ہیں اور سچی بات ہے کہ ان کے بخشے ہوئے حرف و صوت کا ذائقہ سب کی گفتگو میں موجود تھا۔ کوئی لکھاری ایسا نہ تھا جو محفل میں اپنی شائع شدہ تصانیف کے ساتھ نہ آیا ہو۔ تمام کنجاہی اہل قلم دوست مہمانوں کو اپنی کتابیں پیش کرتے ہوئے حد درجہ سرشاری و کامرانی کے عالم میں تھے۔ ان کے چہرے کے تاثرات چاند پر بکھری روشنی کی طرح تھے' گویا زبان حال سے کہہ رہے ہوں۔ علم رابردل زنی یارے بودمولانا غنیمت کنجاہی کا ذکر آیا تو مجھے بہت ندامت ہوئی کہ فارسی ادبیات کا ذوق رکھنے کے باوجود میں مولانا کی فارسی شاعری کا مربوط مطالعہ نہ کرسکا۔ البتہ میں نے کنجاہی دوستوں کو بتایا کہ کلام غنیمت کنجاہی کے جستہ جستہ مطالعہ سے ضرور فیض یاب ہوا ہوں۔ احباب میں سے کسی نے خاقان خاور کا ذکر کیا تو کلیجہ منہ کو آ گیا۔ ہائے کیا چاند تھا جو زمین میں اتر گیا۔ اس کے ساتھ نیاز مندی کو آج بھی سینے سے لگائے بیٹھا ہوں۔ دفتر نوائے وقت اسلام آباد میں اس کی آمد میرے دل کی بہار ہوا کرتی تھی اور کشمیر روڈ صدر میں جب اس کے دفتر میں ملاقات ہوتی تو میں گھنٹوں ان کی شاعری اور شخصیت کے طلسم میں مبتلا ہو کر دل و نگاہ میں اک سرشاری محسوس کیا کرتا تھا۔ وہ شاہ دولہ گجراتیؒ کے خانوادے سے تھا۔ اس کی فقیری اور طمانیت آج بھی میرے دل کا سکون ہے۔
تقریب کے آغاز میں جب برادرم احسان فیصل کنجاہی نے بتایا کہ اس مردم خیز قصبۂ کنجاہ سے کم و بیش سو کے لگ بھگ ادبی کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور لکھاریوں کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ سب کے لیے یہ تحیر کا عالم تھا۔ میرے لیے اب قصبہ کنجاہ کو ایک ابھرتا ہوا ادبی دبستان ماننے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا اور جب اس تقریب کی ایک مقررہ ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ نے یہ کہا کہ آج کنجاہ کا ہر لکھاری انہیں شریف کنجاہی دکھائی دے رہا ہے تو میرے ذہن کے نہاں خانوں سے ایک جملہ ابھرا کہ بلاشبہ یہ مستقبل کے شریف کنجاہی ادبی دبستان کا زائچہ ہے۔
تقریب میں ''سدھراں'' اور ''سفنے'' ایسے پنجابی شعری مجموعے کے خالق لیاقت گڈ گور نے اپنا کلام سنایا تو پتہ چلا کہ پنجاب کی اس ماں بولی میں آج بھی وہ شعری طمطراق موجود ہے' جو اسے اسلاف نے اپنے شعری لحن کی صورت بخشا تھا۔ یوں تو ڈاکٹر شاہدہ دلاور کا پنجابی کلام بھی حاصل محفل تھا اور تقریب میں ہر شخص سر دھنتے ہوئے انہیں بے پناہ داد دے رہا تھا۔ بلاشبہ وہ اس محفل میں ازحد عزت کے لائق شخصیت تھیں۔ جنہوں نے شریف کنجاہی کی زندگی میں ہی ان پر تحقیق و تنقیدی کام کیا تھا۔ راقم نے بھی اپنے اظہار خیال میں انکشاف کیا کہ میرے پاس شریف کنجاہی کا ایک غیر مطبوعہ نادر خط موجود ہے' جو مجھے ادبی تحقیق کی صحرا نوردی کے دوران نوادرات کے پلندے سے دستیاب ہوا تھا۔ تقریب میں سب سے پرکشش اور جاذب شخصیت صاحب صدارت پروفیسر زہیر کنجاہی کی تھی جو وہاں موجود ہر لکھاری اور شریک محفل کے دل کی دھڑکن بنے رہے۔ میں نے اس موقع پر کہا کہ یقیناً وہ ایک ایسے قدآور لکھاری ہیں جو کنجاہ اور راولپنڈی ' اسلام آباد کا مشترکہ ادبی اثاثہ کہلا سکتے ہیں۔تقریب میں مختلف شہروں اور قصبوں سے امسال جن اہل قلم کو شریف کنجاہی ایوارڈ سے نوازا گیا ان میں راولپنڈی ' اسلام آباد سے راقم الحروف' لاہور سے ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ' گجرات سے صبح میر' حویلیاں سے کاشف بٹ' راولپنڈی سے ممتاز رانجھا اور پروفیسر ثناء اﷲ کنجاہی کے علاوہ اصغر کنجاہی' صدف کنجاہی ' ظفر ادیب اور ملکۂ طالب ایڈووکیٹ شامل ہیں۔
(بشکریہ روزنامہ نوائے وقت)