ایک ''دیوان غالب'' کا سوال ہے!

غازی صلاح الدین

آئیے،ایک اسکیم بناتے ہیں۔ کراچی کے ایک دولت مند علاقے مثلاً ڈیفنس میں ایک سڑک کا انتخاب کرتے ہیں جو دو بڑے خیابانوں کے درمیان ہو اور جس میں کوئی ۳۰ یا ۴۰ کے قریب گھر ہوں۔ وہاں ہم ہر دروازے پر جا کر یہ سوال کریں کہ کیا آپ کے گھر میں'' دیوان غالب''ہے؟آپ کا کیا خیال ہے ، کتنے فی صد ایسے گھروں میں کہ جن کے پور چ میںدو یا تین کاریں کھڑی ہوں ''دیوان غالب '' موجود ہو گا؟ یہاں آپ ''دیوان غالب '' کو محض ایک علامت سمجھیں ۔ اقبال یا فیض سے بھی کام چل سکتاہے۔ کیونکہ شاعری ہماری ذہنی اور جذباتی زندگی کا حصہ ہے اس لیے میں نے ''آگ کا دریا'' یا '' اداس نسلیں'' کا ذکر نہیں کیا اور اس امکان کو نظر انداز کیے بغیر کہ واقعی دو چار گھروں میں ''دیوان غالب '' موجود ہو یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے پڑھنے لکھے اور معاشرے میں نمایاں مقام رکھنے والے طبقے میں پڑھنے لکھنے کا کوئی خاص رواج نہیں ہے۔ اندرون ملک ہوائی سفر میں کتنے مسافر کتاب پڑھتے دکھائی دیتے ہیں ؟ بات اردو کی ہو رہی ہے لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ شیکسپیٔر کی کلیات کا تقاضا بھی کر سکتے ہیں۔ یہ فرمائش بھی کی جا سکتی ہے کہ حضور ہمیں اپنی ذاتی لائبریری تو دکھا دیں؟
کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ اس موضوع کو چھیڑنے کا یہ مناسب موقع نہیں ہے کیونکہ کراچی میں '' سردیوں کے اس مہینے میں '' علم و ادب اور کتابوں کے پھو ل کھلے ہیں۔ آرٹس کونسل میں پانچویں عالمی اردو کانفرنس منعقد ہوئی ہے اور ایکسپو سینٹر میں کتابوں کا عالمی میلہ سجا ہے ۔ گویا ایک موقع ملا ہے ۔ کتاب دوستوں کو ایک دوسرے سے ملنے اور اپنے پسندیدہ موضوعات پر گفتگو کرنے کا۔ آبادی سے لبالب بھرے اس شہر میں اتنے باذوق لوگ تو ہیں جو دیواروں سے گھری کسی جگہ میں میلہ کا سماں پیدا کریں۔ میرا مسئلہ البتہ یہ ہے کہ ایسی تقریبات میرے اس دکھ میں اضافہ کرتی ہیں کہ ہم علمی فکری اور تہذیبی سطح پر کتنے مفلس ہیں۔ کتابیں عام لوگوں کی زندگی میں کوئی خلل پیدا نہیں کرتیں ۔ مطالعے کا شوق اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں تک میں انتہائی محدود ہے ۔ میں جب اس ضمن میں اپنے ملک کا دوسرے ملکوں سے موازنہ کرتا ہوں اور جو اعدادوشمار میسر ہیں ان کا جائزہ لیتا ہوں تو دل ڈوبنے لگتا ہے ۔ میری نظر میں یہ سب سے بڑا پیمانہ ہے اس بے راہ روی اور افراتفری کا جس سے ہم دوچار ہیں ۔ صورت حال مسلسل خراب ہوتی جارہی ہے ۔ پاکستانی ذہن صحرا میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ انگریزی ، اردو اور مادری زبانوں کی کشمکش نے ہمیں بے زبان بنا دیا ہے۔ پچھلے مہینے تین دن میں نے پشاور میں گزارے ۔ بچوں کا ادبی میلہ وہاں لگا تھا۔ دانشوروں اور اساتذہ سے ملاقاتیںرہیں ۔ کئی نے شکوہ کیا کہ اتنے بڑے شہر میں کتابوں کی کوئی اچھی دوکان اب باقی نہیں رہی ۔ ایک صحافی نے اپنے ایک انگریزی مضمون کا ذکر کیا جو ایک بڑی دوکان کے بند ہو جانے کا نوحہ تھا۔ میں پشاور کلب میں ٹھہرا تھا ۔ پاس کے صدر بازار گیا تو دوکانوں کی چکا چوند نے حیران کر دیا ۔ کمرشل زندگی پوری آب و تاب کے ساتھ رواں تھی ۔ مغرب کے بعد جواہرات کی چند دوکانوں کی چکا چوند دید کے قابل تھی۔ اس سارے منظر میں کتابوں کی دوکان جیسا کوئی شجر سایہ دار نہ ملا۔ لاہور اور اسلام آباد میں پردیسی بہت ہیں اس لیے وہاں کتابوں یعنی انگریزی کتابوں کی کھپت کافی ہے۔ کراچی اور پشاور کئی دوسرے معنوں میں جڑواں شہر ہیں۔ بھائیوں جیسے شہر کہ جہاں بھائی، بھائی سے دست و گریباں ہے۔ پشاور کے مرکزی بازار کی ایک ذیلی سڑک بلکہ گلی میں مجھے اردو کی چند دکانیں ملیں۔ کراچی میں اردو بازار ایک سہارا ہے لیکن بنیادی بات یہی ہے کہ کتابوں سے ہمارا رشتہ بہت کمزور ہے۔ ایک اور مشق بھی ایسی ہے جو کی جانی چاہیے۔ نامہ نگاروں کی ایک چھوٹی ٹیم کراچی کے صدر بازار یا کسی اور بڑے بازار کا یہ سروے کرے کہ وہاں جواہرات کی کتنی دوکانیں ہیں اور کتابوں کی کتنی۔ اگر آپ کراچی میں رہتے ہیں تو اگلی بار جب آپ صدر جائیں تو یہ دیکھیں کہ جواہرات کی دوکانیں کتنی ہیں ان میں جو مال بکتا ہے اس کی قیمت کتنی ہیں۔ شادیاں زیورات کے بغیر نہیں کی جا سکتیں۔ زندگیاں کتابوں کے بغیر گزر سکتی ہیں۔
میرا یہ مشن ہے کہ میں نوجوانوں میں مطالعے کا شوق پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہوں۔ یہ بھی اب بتانے کی بات ہے کہ کتابیں مسرت حاصل کرنے کاایک ذریعہ ہیں۔ فکشن ہمیں زندگی کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ شاعری ، اچھی شاعری ہمارے جذبات کی گرہیں کھولتی ہے۔ میں نوجوانوںسے یہ بھی کہتا ہوں کہ ناول نہیں پڑھو گے اور شاعری سے شناسائی نہیں ہو گی تو مشق کرنا کیسے سیکھو گے اور شاعر نے تو یہ بھی کہا کہ ''عشق کرنا جو سیکھا تو دنیا برتنے کا فن آ گیا۔ میں نے یہ دیکھا ہے کہ ہمارے یہاں کتابیں نہ پڑھنے کے عذر کے طور پر وہ جھوٹ بولے جاتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اب انٹر نیٹ، ٹیلی وژن اور دوسرے ایسے جادوئی کھلونوں کے ہوتے ہوئے، کتابوں کی اتنی اہمیت نہیں رہی۔ گویا یہ انٹرنیٹ وغیرہ صرف پاکستان میں ایجاد ہوئے ہیں۔ دنیا میں اور کہیں نہیں ہیں۔ دوسرا جھوٹ یہ ہے کہ کیا کریں فرصت نہیں ملتی۔ اس کے جواب میں ، میں کہتا ہوں کہ اچھا آپ صدر اوباما سے بھی زیادہ مصروف ہیں۔ دنیا کے جتنے بڑے لوگ ہیں۔ کتابیں پڑھے بغیر ان کا گزارا نہیں اور یہ کتنے مزے کی مصروفیت ہے صرف وہی لوگ جانتے ہیں جنھیں اس کی عادت ہے۔ یہ وہ شوق ہے جو درسگاہوں ہی میں پروان چڑھ سکتا ہے۔
یہ سچ ہے کہ اب کمپیوٹر کی دنیا کی نئی ایجادات نے صدیوں سے جاری کتابوں کی ہیئت یا ساخت کو تبدیل کر دیا ہے۔ کاغذی پیرہن والی کتابوں کی فروخت میں کمی ہوئی ہے اور جنھیں ہم ڈیجیٹل کتابیں کہیں ان کی اشاعت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن اس انقلاب نے کتب بینی میں بھی ایک انقلابی اضافہ کیا ہے۔ اب زیادہ کتابیں لکھی اور پڑھی جا رہی ہیں۔ مہذب معاشروں میں کتابیں کتنے شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ اس کی ایک مثال میں یہاں دینا چاہتا ہوں۔ ''ہیری پوٹر'' بچوں اور بڑوں کا ایک پسندیدہ کردار ہے۔ ہیری پوٹر کے سات ناول شائع ہوئے اور ان پر بنائی جانے والی فلموں نے اودھم مچا دیا۔ میں اکثر یہ سوال پوچھتا ہوں کہ مختلف زبانوں میں یہ ناول کتنی تعداد میں فروخت ہوئے ہوں گے۔ اندازہ لگائیے کئی لاکھ ؟ جی نہیں۔ کئی کروڑ جی ہاں۔ کئی نہیں پورے ۴۵ کروڑ۔ اور ان ناولوں کی مصنفہ جے کے رالنگ کور ائلٹی کے طور پر اتنی رقم ملی کہ وہ اب برطانیہ کی سب سے دولت مند خاتون ہیں۔ ملکہ برطانیہ سے بھی زیادہ دولت مند اور جب انھوں نے پہلا ناول لکھنا شروع کیا تھا تو گھر کا خرچ بھی مشکل سے پورا ہوتا تھا۔ گفتگو کے لیے ابھی بہت کچھ باقی ہے۔ جو بات میری سوچ کا راستہ روکتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم دوسرے ملکوں سے اتنے مختلف اتنے پیچھے کیوں ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے کہ بیشتر مسلمان ملک اور معاشرے ادب اور علم و دانش کے میدان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پا رہے۔ یہ ایک مشکل اور حساس موضوع ہے۔ پھر بھی اس پرٹھنڈے دل سے حقائق کی روشنی میں غور کرنا چاہیے۔
(بشکریہ روزنامہ جنگ)