اُردوکامِلّی تشخص اور کردار

پروفسیر غازی علم الدین

زبان اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے(۱)۔ انسانی شخصیت میں یہ ایک اہم مظہر کی حیثیت رکھتی ہے۔ زبان نہ ہوتی تو نہ شعر ہوتا نہ فلسفہ، نہ سائنس ہوتی نہ نت نئی ایجادات، نہ انسان صحیح معنوں میں خدا کو پہچانتا نہ خود اپنی انسانی نسل کے بھائیوں اور بہنوںکو۔ یہ حقیقت ہے کہ اچھی زندگی ہمیں زبان کے طفیل نصیب ہوئی ہے۔ قوّتِ تکلّم انسانی شرف کا ایک امتیازی وصف ہے۔ یہ قوّت اس قدر اہمیت کی حامل ہے کہ بعض اوقات اسے واحدامتیازی وصف کے طورپر ذکر کیاجاتاہے ۔ کہاجاتاہے کہ انسان حیوانِ ناطق ہے۔ نطق یعنی قوت گویائی انسان اور حیوان کی ہم نوعی کے باوصف واحد وجہِ امتیاز قرار پاتی ہے۔ زندہ انسان اور زندہ زبان میں اس قدر قریب کی مشابہت ہے کہ کسی زبان کو ''زندہ'' یا ''مردہ'' کہنا مجازی طورپر ہی نہیں ، لغوی طورپر بھی درست معلوم ہوتاہے۔ مسلسل حرکت اور رنگارنگی میں بھی یہ دونوں ایک دوسرے کے مثیل ہیں۔ قوّت تکلّم کی اس اہمیت کے پیشِ نظر ہر مذہب نے اس کی تہذیب و اصلاح کو اپنی تعلیمات کا حصہ بنایاہے۔ اسلام ہمہ گیر رہنمائی کا مدّعی ہے اس لیے قوتِ اظہار کے اس شرف پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ ذکر ِ الٰہی جو قلب و نظر کا اطمینان (۲) ہے زبان ہی کا وظیفہ ہے اور''حَصَائدِاَلْسِنَہ'' (۳) اسی قوتِ اظہار کے غیر مناسب استعمال کو کہاگیاہے۔
جس طرح انسان ابتداء ہی سے اپنے گرد پھیلی ہوئی کائنات پر غوروفکر کررہاہے اسی طرح اس کے اندر پھیلی ہوئی کائنات بھی اس کی توجہ کا مرکز ہے جس کے عجائبات گوناگوں اور اسرار لامتناہی ہیں۔ زبان بھی انھی اسرار میں سے ایک ہے۔ یہ بنیادی سوالات ہمیشہ ہی سے موضوعِ بحث رہے ہیں کہ روئے زمین پر انسان کب سے آ باد ہے اور کیا انسانی زبان کی اصل ایک ہی ہے؟ اس کی ابتداء کیسے ہوئی اور کیسے پھیلی؟ اور پھر اس میں تغیرات کس طرح سے آ ئے؟ زبانوں کے کتنے خاندان ہیں اور کون کون سی زبانیں کس کس خاندان سے تعلق رکھتی ہیں؟ لہجے کیسے وجود میں آئے، معاشرے کا زبان پراور زبان کا معاشرہ پر کیا اثر پڑتاہے؟ معاشرے کے مختلف طبقات کی زبانوں میں فرق کی نوعیّت کیا ہے؟ انسانی زبان اورفکر کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
زبان کے عناصرِ ترکیبی کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا محمدحسین آزاد لکھتے ہیں :
''زبان کا استقلال اورآئندہ کی زندگی چارستونوں کے استقلال پر منحصر ہے، قوم کا ملکی استقلال، سلطنت کا اقبال، اس کا مذہب اور تعلیم و تہذیب۔ اگریہ چاروں پاسبان پورے زوروں سے قائم ہیں تو زبان بھی زور پکڑتی جائے گی۔ ایک یا زیادہ جتنے کمزور ہوں گے اتنی ہی زبان ضعیف ہوتی جائے گی یہاں تک کہ مر جائے گی۔''(۴)
ہر زبان کے ساتھ متعلقہ قوم کی تہذیب و تمدن اور تاریخ و روایات وابستہ ہوتی ہیں۔ہر ملک کی قومی زبان اس کے قومی تشخص کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ قومی ز بان اور قومی تشخص میں چولی دامن کا ساتھ ہوتاہے۔ زیرِ نظر مضمون میں اردو زبان و ادب کے ملّی تشخص اور کردار کی نسبت جائزہ لیا جائے گا۔ اس تحریر سے میری یہ ہرگز مراد نہیں ہے کہ اردو کے فروغ وا شاعت میں صرف اور صرف مسلمانوں نے ہی کام کیاہے اور دوسری قوموں نے اس سلسلے میں کچھ نہیں کیا۔ رتن ناتھ سرشار، مالک رام، نول کشور، منشی پریم چند، ہری چند اختر، تلوک چند محرومؔ، پنڈت دیاشنکر نسیم، سری رام، ؔچکبست ، کرشن چندر، رام بابوسکسینہ، منشی تیرتھ رام فیروزپوری، دیوان سنگھ مفتون، فراق گورکھپوری، گیان چند، آنند نرائن ملاّ، راجندر سنگھ بیدی، پروفیسرجگن ناتھ آزاد، ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اور مسز سروجنی نائیڈو کی اردوزبان و ادب کے بارے میں خدمات سے بھلاکون انکار کرسکتاہے؟ لیکن امرِ واقع یہ ہے کہ مسلمانوں کی کوششیں تمام قوموں سے بڑھی ہوئی ہیں جس کی وجہ یہ تھی کہ کسی دوسری قوم نے اس زبان کو من حیث القوم نہیں اپنایا کیوں کہ ان کے پاس وسیلۂ اظہار کے لیے دوسری دیسی زبانیں بھی موجود تھیں جنھیںانھوں نے وقتاً فوقتاً استعمال بھی کیا ہے لیکن مسلمانوں نے من حیث القوم ہندوستان کی سینکڑوں زبانوں میں سے صرف اسی ایک زبان پر قناعت کی اور اپنے خیالات کے اظہار کا واحد، بھرپور اور مؤثر وسیلہ بنایا۔
اسلام ایک طریقِ حیات ہے اور انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو محیط ہے۔ عربی زبان اسلامی احکامات کی امین ہے۔ اس لیے اس میں زندگی کے تمام شعبوں کے لیے کلمات و مفردات کا ایک بحرِ زخار موجود ہے ۔ جس نسبت سے یہ کلمات برصغیر کی مقامی زبانوں میں داخل ہوتے گئے اُسی نسبت سے ان کا عربی زبان سے قرب بڑھتاگیا۔ یہ اس اثرپذیری کا نتیجہ تھا کہ مقامی زبانوں میں عربی زبان کا لسانی بُعدختم ہونے لگا اور آخر وہ وقت آیا کہ مسلم ہند کی زبان بھی مشرف بااسلام ہوگئی۔ اردو جو اسلامی ثقافت کی زندہ مثال ہے، عربی اثرات کا نتیجہ ہے۔ یوں کہاجاسکتاہے کہ عربی زبان نے اردو کی ساخت و پرداخت میں مادرانہ کردار اداکیاہے۔ا ردو کے علاوہ پنجابی ، سندھی، پشتو، بلوچی، سرائیکی، بنگلہ، کھڑی بولی اور دیگر تمام زبانوں کا اِحصاء کیاجائے اور ان کے مفردات کا مآخذ تلاش کیاجائے تو سینکڑوں نہیں ہزاروں الفاظ عربی الاصل نکلیں گے۔ عربی زبان و ادب سے رابطے اور دینِ اسلام کی اشاعت کے سلسلے میں کثیر تعداد ان علماء و ادباء کی سرگرمِ عمل نظرآتی ہے جو برصغیر کی کوکھ سے پیدا ہوئے مگر عرب تہذیب و تمدن کو اپنانے لگے اور دینِ اسلام کی تشریح و توضیح میں اپنی زندگیوں کو وقف کیے رہے۔ یہ ان اربابِ علم کی محنت کا ثمرہے کہ برصغیر پاک و ہندکے عوام اپنے دین سے محبت کرنے والے ہیں اور تہذیبی و تمدنی اقدار کے حوالے سے اپنے عرب بھائیوں سے بہت قریب ہیں۔''(۵)
برصغیرپاک وہند میں ہزار سالہ اسلامی حکومت کا سب سے اہم اور عظیم الشان کا رنامہ مقبولِ عام زبان اردو کی تشکیل ہے۔ اردوکی تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی حیثیت متعیّن کرتے ہوئے پروفیسر رشید احمدصدیقی لکھتے ہیں :
''اردو ہماری گزشتہ عروجِ عظمت کی تنہا یادگار یا سوگ وار ہے۔ مسلمانوںنے نہ صرف اردو کی بنیاد رکھی بلکہ اس کی تمام تدریجی اور ارتقائی منازل میں اِنہی کا ذہن و دماغ کارفرمارہاہے۔ یہ مسلمانوں کی معاشرت، ان کی ذہنی اور دماغی ترقی کی تنہا حامل ہے۔ کسی قوم کی زبان اس کی قومی حیثیت کی علم بردار ہوتی ہے ۔ کسی قوم کے اوّلیں آثارِ انحطاط کا مطالعہ کرناہو تو اس قوم کی زبان پر نظر ڈالیے۔ آپ پر یہ حقیقت جلد منکشف ہوجائے گی کہ قومی زوال کی ابتداء ہمیشہ زبان کے زوال سے ہوئی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس کے اثر سے تشخصاتِ ملّی تک فنا ہوگئے ہیں۔''(۶)
برصغیر کی زبانوں پر عربی و فارسی زبانوں کے براہِ راست اثرات اسی وقت سے شروع ہوگئے تھے جس وقت مسلمانوں نے ہندوستان میں قدم رکھا۔ ان زبانوں میں رفتہ رفتہ عربی و فارسی کے الفاظ غیرشعوری طورپر داخل ہونے لگے جن کے وجود کا علم ہمیں اس وقت کے دیسی ادب کی ورق گردانی سے ہوتاہے۔ ان اثرات کو قبول کرنے میں اردو زبان بھی اپنی دوسری معاصر زبانوں کے برابر کی شریک تھی۔ برصغیر میں بسنے والے مسلمانوں نے جب اردو کو اپنے لیے چن لیا تو اس میں عربی وفارسی کے دخیل الفاظ کا حصہ بھی زیادہ ہوگیا۔ مسلمان اپنا ایک جداگانہ مذہبی نظام اور ایک مخصوص فلسفۂ حیات لے کر آئے تھے اور اپنے خیالات کو ظاہر کرنے کے لیے خاص الفاظ اور اسالیبِ بیان کے ساتھ ساتھ مذہبی رسوم و عبادات وغیرہ کے لیے توحید، رسالت، صوم و صلوٰۃ، زکوٰۃ، نماز اور روزہ جیسی کثیر تعداد اصطلاحات کا ذخیرہ بھی رکھتے تھے جسے انھوںنے اردو زبان میں بجنسہٖ منتقل کردیا۔ اس سے جہاں اردو بولنے والے مسلمانوں کو اپنی مذہبی تعلیم و تبلیغ میں مدد ملی، وہاں اردو زبان کا دامن بھی وسیع ہوگیا۔(۷)
برصغیر کے مسلمانوں کی اپنی سماجی زندگی کا ایک خاص نہج تھا اور زندگی کے کچھ رسوم و رواج اور کچھ تقاضے بھی تھے۔ پیدائش ، شادی بیاہ اور موت کی تقریبات، ختنہ، عقیقہ اور نذر نیاز کے طریقے اور نشست و برخاست کے قرینے تھے۔ وہ بعض ایسے کھانے کھاتے آئے تھے ، بعض ایسے لباس پہنتے آئے تھے اور بعض ایسی اشیا ء (ظروف اور فرنیچر وغیرہ) استعمال کرتے آئے تھے جن کی وضع قطع اور جن کے نام ہندوستان کے لیے بالکل نئے تھے۔ بعض ایسے قصے اور بعض ایسے واقعات کی یادیں تھیں جو ان کے ماضی اور وطنِ قدیم سے متعلق تھے اور جن سے اردو زبان اب تک بالکل ناآشنا تھی، اس لیے ان کے یہ سب نام اور یہ سب تلمیحات انھیں جوں کی توں اس زبان کے سپرد کرنا پڑیں تاکہ وہ ان کی یومیہ زندگی کی بھرپور کفالت کرسکے اوران کے خواب اور بیداری کی مکمل طورپر امین بن جائے۔ یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں نے اپنی ظاہری و باطنی اور انفرادی و اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کی عکاسی اور ترجمانی کی اہل بنانے کے لیے اردو زبان کو عربی و فارسی کے کثیر تعدادالفاظ، اصطلاحات ، محاورات، تلمیحات اور اسالیبِ بیان عطا کردیے۔ یہ بات صرف اردو زبان تک ہی ختم نہیں ہوئی بلکہ ان کوششوں کا سلسلہ اردو ادب تک بھی پہنچا اور وہ اس طرح کہ عربی و فارسی کا تمام عروض اردو میں منتقل کرلیا گیا۔ عربی و فارسی زبان کی تمام بحریں اردو نظم میں استعمال کی گئیں۔ مختلف اصناف مثلاً غزل، قصیدہ، مثنوی، رباعی وغیرہ کا اضافہ کیا گیا۔ شعری تنقید کا انداز مستعار لیا گیا۔ اصلاحِ زبانِ اردو کی جو کوششیں آج تک اساتذۂ اردو نے کی ہیں ان میں دیسی الفاظ کو کم کرنے اور عربی و فارسی الفاظ کو رائج کرنے پرپوری قوت صرف کی گئی۔ عربی و فارسی محاورات کا ترجمہ کرنے کی کوشش تو بہت سے شاعروں نے کی ہے ۔ یہ سب کچھ اردو کو اس برصغیر میں عربی وفارسی کے حقیقی جانشین بنانے کے لیے کیا گیا کیوںکہ مسلمانوںکو ان زبانوں سے پیار ہے۔ مسلمانوںنے اردو کو اپنانے کے لیے عربی و فارسی میں موجود قریب قریب پورا مذہبی سرمایہ اس زبان میں منتقل کردیا۔ مسلمان علماء نے قرآن مجید کا اردو میں ترجمہ کیا اور تفاسیر لکھیں۔ قرآن و حدیث، فقہ، سیرت، تصوف، اسلامی فلسفے اور تاریخ کے سرمائے کو اردو میں منتقل کیا۔ سیرت پاک پر سینکڑوں کتابیں اردو میں لکھی گئیں۔ بزرگانِ دین کی سوانحِ عمریاں اور مسلمانوں کی تاریخیں نہ صرف ترجمہ ہوئی ہیں بلکہ اردو میں بھی خود نئے سرے سے لکھی گئی ہیں۔ اس قدر وافر مذہبی سرمائے کا وجود یہ ثابت کرتاہے کہ ہندوستانی مسلمانوںنے اردو زبان کو اپنے لیے منتخب کرکے اپنی پوری کی پوری متاعِ عزیز اسے سونپ دی ہے۔ (۸)
اردو زبان اپنی خصوصیات کی بنا پر جس درجہ ممتازہے اس کی مثال برصغیر پاک و ہند کی کوئی دوسری زبان پیش نہیں کرسکتی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دیسی زبانوں میںسے اردو ہی وہ اکیلی زبان تھی جسے اکبر راج میں اس کے محل والوںنے اپنا لیا تھا، جسے شاہ جہان نے ہندوستان کے کونے کونے تک پہنچادیا تھا اور جسے ۱۸۳۲ ء میں انگریزوں نے فارسی کی جگہ سرکاری زبان بھی بنادیاتھا۔ یہی زبان آج پورے برصغیر کی لمبائی چوڑائی میں سب زبانوںسے زیادہ بولی جاتی ہے۔ اس میں جتنا اسلامی ادب موجود ہے اتنا عربی و فارسی میں بھی مشکل سے مل سکے گا۔ اردو میں جو کچھ مواد اسلامی علوم اور عربی و فارسی زبان وادب سے متعلق موجود ہے اس کی تہ میں مسلم ہند کی تاریخ اور تہذیب کے معتبرشواہد ملیں گے۔ مسلمانوں کے قیامِ حکومت کے ساتھ ہی ہندوستان اسلامی علوم کا بڑا مرکز بن گیا۔ لاہور، ملتان، دہلی ، گجرات اور لکھنؤ وغیرہ مراکز ایسے تھے جہاں ہندوستان اور بیرون ہند کے علماء وفضلاء علوم کی تحقیق و تدقیق میں مصروف ہوئے۔ یہ روایت صدیوں تک قائم رہی۔ اسی وجہ سے دہلی جو دارالسلطنت تھا، اس نے علمی اور تہذیبی ترقی کے اعتبار سے بغداد اور قرطبہ کو بھی دھندلا کردیا۔ یہاں کے علماء کی تصانیف کا معیار کسی بھی ملک کی تصانیف سے کم نہیں۔ یہاں کے علماء کی فکری روایت بیرونِ ہند علماء کی فکری روایت سے بہت مستحکم رہی ہے۔ گزشتہ دور کے چند صاحبِ فکر بزرگوں جن میں سرسیّد احمد خان، مولانا شبلی نعمانی،مولانا حالی، علامہ اقبال ، سیّدسلیمان ندوی، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اور مولانا ابوالحسن علی ندوی وغیرہ ممتاز ہیں، ان کی تصانیف کا مقابلہ اسلامی ممالک کے کسی عالم کی تصانیف سے کرلیں تو معلوم ہوگا کہ ان کی اسلامی تفکیرکا کیا مرتبہ ہے۔
اسلامی ہند میں اردو کے فروغ کے حوالے سے ڈاکٹر تاراچند لکھتے ہیں:
''نئی زبان(اردو) میں اس شدید قسم کی کشش تھی کہ اس نے جلد ہی عوام میں قبولیت کا درجہ حاصل کرلیا تھا۔ پھر مسلمان صوفیا نے اس زبان کے ذریعے اسلام کو پھیلانا شروع کیا تو یہ اور بھی مقبول ہوگئی۔ یہاں تک کہ اٹھارویں صدی کے آخر تک یہ ایک ادبی و علمی زبان کی حیثیت اختیار کرگئی اور ملک کے ہرصوبے اور ہر شہر میں سائنسی اور ادبی انجمنیں اردو کے نام سے کام کرنے لگیں لیکن انیسویں صدی کے آغاز میں اردو کی یہ مقبولیت انتہاء پسند ہندوؤں کو انتہائی ناگوار گزری۔''(۹)
زبان اور رسم الخط کا تعلق بھی روح اور قالب سے کم نہیں۔رسم الخط تلفظ کا تابع ہوتاہے اور اس کا ہر حرف ایک جداگانہ آواز کی نیابت کرتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ابتداء ً زبان صرف اصوات کا نام ہوتاہے اور اشکال ثانوی حیثیت رکھتی ہیں لیکن حروف یعنی الفاظ کی تحریری شکلیں بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہیں جتنی کہ ان کی آوازیں۔ زبان اور رسم الخط کا مکمل اور مناسب اجتماع و امتزاج زبان کو زندہ اور پائندہ بناتاہے اس لیے کسی زبان کو اس کے رسم الخط سے جدا نہیں کیاجاسکتا۔ زبان رسم الخط کے بغیرمکمل نہیں ہوتی بلکہ ادھوری رہتی ہے۔ جس زبان کا اپنا رسم الخط نہ ہو اس کا دامن علم وادب کے خزانوں سے تہی رہ جاتاہے۔ جس طرح روح اور جسم ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں، بالکل اسی طرح زبان اور رسم الخط کا آپس میں گہرا تعلق ہے ۔ اردو اور اس کے رسم الخط سے ہمارا رشتہ بہت قدیم ہے۔ اردو صرف زبان کا نام ہی نہیں بلکہ ایک تہذیبی علامت بھی ہے۔ برصغیرمیں اردو ہندی تنازع کا اصل محرک رسم الخط کی تبدیلی تھا۔ہندواردو زبان کے لیے دیوناگری رسم الخط رائج کرناچاہتے تھے۔ اگر ایسا ہوجاتا تو برصغیر کے مسلمانوں کو ان کے شان دار ماضی، معاشرتی روایات اور تہذیبی و ثقافتی سرمائے سے دست بردار ہوناپڑتا۔ اردو زبان کو قرآنی حروف کا لباس عطاکردینے کااثر یہ ہوا کہ ہندوستان میں جہاں جہاں مسلمان بستے تھے وہ اپنے علاقے کی مقامی بولی بولتے ہوئے بھی اردو زبان کو اپنی تحریر کے لیے استعمال کرنے لگے کیوں کہ عربی رسم الخط سے مسلمانوں کی عقیدت بالکل فطری تھی۔ اس لیے اردو کا دائرہ اثر اس قدر وسیع ہوا کہ برصغیر کے گوشے گوشے میں اس کی آوازیں سنائی دینے لگیں اور پشاور سے ڈھاکا اورکشمیر سے راس کماری تک اس کے بولنے اور سمجھنے والے پیدا ہوگئے۔ چنانچہ اردوکی نشر واشاعت میں اسلامیانِ ہند کی کوششوں کو جتنا دخل ہے اس سے اردو زبان کا کوئی مؤرخ انکار نہیں کرسکتااور نہ اس حقیقت کو چھپا سکتاہے کہ سلطنتِ مغلیہ کے زوال پر مسلمانوں ہی کے ہاتھوں اطرافِ ہند میں اردو زبان کے مختلف مراکز قائم ہوئے جن سے رفتہ رفتہ ترویجِ اُردو کی صوبہ جاتی تحریکوں نے جنم لیا اور کُل ہند انجمن ترقی ٔ اردو کے علاوہ متعدد چھوٹے چھوٹے اداروں کا قیام عمل میں آیا۔ (۱۰)
اردو رسم الخط اپنی ایک مبسوط تاریخ رکھتاہے۔ رسم الخط قوموں کے لسانی مزاج کا آئینہ دار ہوتاہے اور اس سے ایک قوم کے مخصوص تہذیبی نقوش کا پتاچلتاہے۔ زبان اور رسم الخط کی اہمیت اس حوالے سے دو چند ہوجاتی ہے کہ یہ دونوں (زبان اور رسم الخط) قوموں کی تہذیبی اساس کو مضبوط بنیادیں فراہم کرنے کا سبب ہیں۔ تہذیب و ثقافت کی تشکیل و تزئین اور فروغ و ارتقا میں زبان کچھ نہ کچھ کردار ضرور ادا کرتی ہے۔ ہر رسم الخط صوتی ادائی کا عکاس ہوتاہے۔ اس کی معرفت ہی سے آوازیں ادا ہوسکتی ہیں۔ موجودہ رسم الخط عربی و فارسی اور اردو کی آوازوں کا آلۂ اظہار ہے۔ اردو کا موجودہ رسم الخط دنیائے اسلام کا رسم الخط ہے جس سے ہمارے دینی رشتوں کی اساس مضبوط ہوتی ہے۔ اردو رسم الخط دل آویز ہے جو ایجاد اور اختراع کے نئے نئے پہلوؤں سے مزین ہے۔ اس میں تخلیقی صلاحیتیں بدرجۂ اتم موجود ہیں۔اس رسم الخط کو اس کے لکھنے والوںنے اپنی جدّتِ طبع اور رنگینیٔ قلم سے مصوّری کا درجہ عطا کردیا ہے۔
جب تک اردو زبان دیوناگری میں قلم بند ہوتی رہی،ہمالیہ کی فصیل پار نہ کرسکی لیکن عربی و فارسی رسم الخط میں منتقل ہونے کی دیر تھی کہ اسے ہندوستان کی سرحدوں کو پھلانگ کر ایران و عربستان کی زبانوں اور ان کے بولنے والوں سے تعارف و ملاقات کا موقع بھی ہاتھ آگیا۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہاجاسکتاہے کہ دیو ناگری کے حصارِ آ ہنی میں قید رہنے والی زبان کو مسلمانوں کی بدولت آزادی نصیب ہوئی اور اُسے وہ پرِ پرواز مل گئے جن کے زور پر وہ آج دنیا کی زبانوں میں تیسرے نمبرپر شمار ہونے لگی ہے۔ چناں چہ ہندوستان سے باہر اردو کی ترویج و اشاعت بھی اس کے قرآنی رسم الخط کا ہی اعجاز تھا جس کے احسان سے یہ زبان تاقیام قیامت سبک دوش نہیں ہوسکتی(۱۱)۔
فورٹ ولیم کالج وہ واحد ادارہ تھاجہاں سب سے پہلے پنڈت للولال جی نے اردو ہندی تنازع کا آغاز کیا۔ انگریزوں کی پالیسی ''لڑاؤ اور حکومت کرو'' اُن کے روزِ اوّل سے ہی کارفرماتھی۔ چناں چہ آہستہ آہستہ انگریز نے نسلی، لسانی ، مذہبی، فرقہ جاتی اور علاقائی تعصّب کو بھڑکایا اور خاص طورپر علیحدہ خطہ، تہذیب و ثقافت اورتمدّن و کلچر کے موضوع پر کتابیں لکھوائیں جنھوں نے ان تمام قسم کے تعصبات کو بھڑکانے میں شعلۂ جوالہ کا کام کیا۔ ہندی زبان کو فورٹ ولیم کالج نے خاص وجوہات کی بنا پر ترتیب دیا۔ مشرقی زبانوں کے شعبے میں عربی، فارسی،سنسکرت اور اردو شامل تھیں۔ ڈاکٹرجان گِل کرِسٹ اس کے صدر تھے۔ برطانوی افسروں کو مقامی زبان کی تعلیم کے لیے مصنفین اور مترجم مسلمان اور ہندوتھے۔ یہ کتابیں فارسی رسم الخط (نستعلیق) میں شائع کی گئیں۔ ایک ہندو مترجم للولال جی نے، جو گجرات کا برہمن تھا، بھگوت گیتا کا ترجمہ ''پریم ساگر'' کے نام سے کیا لیکن اس میں یہ بات ملحوظ رکھی گئی کہ فارسی اور عربی الفاظ کو نکال کر ان کی جگہ برج بھاشا اور سنسکرت کے الفاظ شامل کیے گئے اور فارسی رسم الخط کی بجائے دیوناگری رسم الخط میں لکھاگیا۔ اس کام پر مصنف کی بہت تعریف کی گئی کیوں کہ اس طرح ایک نئی زبان، جسے ہندوؤں کی زبان کہا جاسکے، کا راستہ کھل گیا تھا۔ ''پریم ساگر'' کا پہلا ایڈیشن ۱۸۰۳ ء میں شائع ہوا اور بعد میں اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے۔ا س نئی طرزِ تحریر کا، جسے ہندی کا نام دیا گیا، پہلے کوئی وجود نہ تھا۔ ڈاکٹر تاراچند لکھتے ہیں :
''جدید ہندی کا اس وقت کوئی وجود نہ تھا کیوںکہ اس زبان میں پہلے کوئی لٹریچر نہ تھا۔ پہلی دفعہ اسے بطور ادبی زبان کے استعمال کیا گیا تھا۔ کالج کے پروفیسروں نے للولال جی کی اس زبان میں،جس میں اردولکھی جاتی تھی، کتابیںلکھنے کی حوصلہ افزائی کی۔ البتہ اس میں فارسی اور عربی الفاظ کی جگہ سنسکرت الفاظ استعمال کیے گئے ۔ یہ نئی زبان ہندوؤں کی ضرورت کے مطابق خیال کی گئی ۔ پھر اس میں عیسائی مشنریوں نے بائبل کا ترجمہ کرکے اسے مقبول بنایا۔ نیا انداز جسے ہندی کہا گیا اسے مقبول ہونے میں کافی عرصہ لگ گیا۔ درحقیقت جدید ہندی ۱۸۵۷ ء کے بعد ہی اس قابل ہوسکی کہ لوگ اس پر توجہ دیں۔ صوبائی گورنرلوگوں کو اردو زبان کے استعمال سے منع کرتے اورہندی کی ترغیب دیتے کیوں کہ برطانوی حکومت ہندی کی ترویج میں بہت دل چسپی رکھتی تھی۔ اس طرح ہندی کے فروغ سے ہندوقومیت کو تقویت ملتی تھی۔'' (۱۲)
ہندوؤں کو اردو زبان اس لیے گوارا نہ تھی کہ اس کا ظاہری پیکر فارسی اور عربی تھا اور وہ مہاتما گاندھی کے بقول قرآن کے حروف اور اسلوب کا مالک تھا۔ یہ بات تکلیف دہ تھی کہ اردو ابجد کی شکل قرآن کی زبان سے ملتی جلتی تھی۔ قرآن کے آثار باقی اور جاری رہنا گویا مسلمانوں کو باقی رکھنے کی گنجائش پیدا کرنا تھا۔ شیخ محمد اکرام ہندوؤں کی اردو سے مخالفت اور ناگواری کے حوالے سے لکھتے ہیں :
''زبان و ادب کے معاملات میں بھی ہندوتہذیب کے احیاء کے حامیوں کا رویہ اس سے کم امتیازی نہیں رہا ہے ۔ انیسویں صدی کے شروع میں 'فورٹ ولیم کالج' میں للولال جی اوراُن کے ساتھیوں نے نئی ہندی اس طرح ''پیدا ''کی کہ اردو زبان سے تمام عربی اور فارسی کے الفاظ نکال دیے اور سنسکرت اور ہندی مآخذ کے الفاظ شامل کرلیے ۔(۱۳) یہی وہ رویہ تھا جس نے ان عوامل کو جنم دیا جس کا نتیجہ ہندوستان کی تقسیم کی صورت میں ظاہر ہوا۔ مہاتما گاندھی جیسے نامور انسان بھی اردو کی ثقافتی اہمیت کا صحیح اندازہ نہ لگاسکے۔ ۱۹۴۰ ء میں ناگ پور میں ہندی ساہتیہ سملین کے اجلاس میں انھوں نے کہا ''اردو کو مسلمان بادشاہوں نے ترقی دی۔ اب یہ مسلمانوں کا کام ہے کہ اگر وہ چاہیں تو اس کی پرورش کریں''۔(۱۴)
اردو ہندی تنازع کے پسِ پردہ کئی مقاصد تھے۔ یہ تنازع بیک وقت مسلمانوں کے مذہب اور ثقافت پر ادبی میدان میں ایک بھرپور حملہ تھا۔ عربی کے الفاظ کے اخراج سے مسلمانوں کے مذہب کو نقصان پہنچانا مقصود تھاا ور فارسی الفاظ کو خارج کرنے سے مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت اور ادب برائے زیست کو برصغیر سے رخصت کرنا مقصود تھا۔ مسلمانوں کی تہذیب کو ختم کرکے ہندو تہذیب و ثقافت کو فروغ دے کر سیاسی بالادستی حاصل کرنا تھا۔رسم الخط کے بدلنے سے مراد مسلمانوں کو جہالت کی تاریکیوں میں دھکیلنا مقصود تھا کہ وہ فکری طورپر منجمد ہوجائیں۔ اردو برصغیرمیں مسلمانوں کی ثقافت کی زبان تھی۔ عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی ۔اس کا ارتقا برصغیرمیں مسلمانوں کی آمد اور قیام کا مرہون منت تھا۔ یہ آہستہ آہستہ ترقی کرکے پورے برصغیر میں رابطے کی زبان کی حیثیت اختیار کرگئی۔جب یہاں انگریزوں کی حکومت قائم ہوئی تو ان کے لیے بھی اسے رابطے کی زبان تسلیم کرنے کے سوااور کوئی چارہ کار نہیں تھا۔ چنانچہ۱۸۳۵ ء میں فارسی کی جگہ اردو کو عدالتی زبان بنا دیا گیا۔ گویا یہ اقدام مسلمانوں کی ثقافتی اور سیاسی حیثیت کو تسلیم کرنے کے مترادف تھا۔ یہ بات ہندوؤں کو پسند نہ آئی۔ ہندوؤں نے دیکھا کہ انیسویں صدی کے پہلے ربع میں شاہ عبدالقادر دہلوی کے اردوزبان میں سادہ ترجمۂ قرآن کو بہت مقبولیت حاصل ہورہی ہے تو وہ جل بھُن گئے۔ بنگال اور بہار میں تبلیغی، اصلاحی اور علمی رسائل و کتب کی اشاعت پر وہ مزید سیخ پا ہوگئے ۔ ہندوؤں کو یہ خطرہ محسوس ہورہا تھا کہ اردو کے ذریعے مسلمان اپنے دین اور اپنی روایات کے تحفظ کااہتمام کررہے ہیں لہذا انھوں نے اردو کو بھی مسلمانوں کی طرح ملیچھ قرار دے دیا۔
۱۸۶۷ ء میں یو پی کے ہندوؤں نے اردو کے خلاف تحریک چلائی اور مطالبہ کیا کہ اردو کی جگہ ہندی کو سرکاری زبان کے طورپر استعمال کیا جائے اور دیوناگری رسم الخط کو سرکاری حیثیت دی جائے۔ اس تحریک کا بنیادی محرک اردو دشمنی اور ہندوثقافت کی بالا دستی منوانا تھا۔ سرسیّد احمد خان کے لیے یہ صورتِ حال پریشان کن ثابت ہوئی۔ سرسیّد ابتداء میں متحدہ قومیت کے قائل تھے۔ وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو خوب صورت دوشیزہ کی دو آنکھیں سمجھتے تھے لیکن ۱۸۶۷ ء میں بپا ہونے والے ہندی اردو تنازع نے ان کے خیالات میں بنیادی تبدیلی پیدا کردی۔ وہ متحدہ قومیت کے مخالف اوردوقومی نظریے کے زبردست حامی اور مبلّغ بن گئے۔ انھوںنے ہندوؤں کے مستقبل کے ارادوں کو بھانپ لیا ۔ چنانچہ انھوںنے اس بات پر زور دینا شروع کردیا کہ مسلمان ہندوؤں سے علیحدہ قوم ہیں، انھیں اپنے مستقبل پر غور کرناچاہیے۔ ان کا تعلیمی پروگرام اسی فکر کی ایک کڑی تھا۔ معروف بھارتی مسلم دانش ور اور بھارتی پارلی منٹ کے سابق رکن ڈاکٹر رفیق زکریا لکھتے ہیں :
''ہندی اردو قضیہ دراصل ہندو اور مسلم دانش وروں کے مابین چھڑنے والی لڑائی تھی۔ اگرچہ بنیادی طورپر یہ ایک لسانی قضیہ تھالیکن اس کی وجہ سے دونوں فریقوں کے جذبات اس حد تک مشتعل ہوگئے تھے کہ ان کے مابین پائے جانے والے تعلقات پر شدید اور دور رس اثرات مرتب ہوئے۔ مسلم سیاست پر اس کا نہایت ہی واضح اثر ہوا۔ اس کی وجہ سے وہ تمام تعلیم یافتہ مسلمان جو پہلے ہی سے نئی ابھرنے والی ہندو قیادت کے تعلق سے شکوک اور شبہات میں مبتلا تھے اس بار شدت کی ساتھ اپنے مستقبل کے تعلق سے خطرہ محسوس کرنے لگے۔ سرسیّد احمد خان نے تو اس سے بہت پہلے ۱۸۶۷ ء ہی میں اپنے اعلیٰ عہدے دار مسٹر شیکسپیئر سے کہہ دیا تھا کہ ہندی کی حمایت کرنے والے ہندوؤں کی اردو مخالف تحریک کے بعد ہی انھیں اس کا یقین ہوگیا تھا۔ اب ہندوؤں اور مسلمانوں کی جانب سے کسی مشترکہ عمل کی کوئی امید باقی نہیں رہی ہے۔ لہذا اب مسلمانوں کو خود ہی منظم ہوکر اپنے قومی اثاثے کی حفاظت کرنی ہوگی۔''(۱۵)
۷؍نومبر۱۸۷۱ ء کوگورنر بنگال نے بھاگل پور سائنٹفک سوسائٹی کے اجلاس میں شرکت کی۔ اس موقع پر مولوی امداد علی نے اپنے خطبۂ استقبالیہ میں عربی اور فارسی کے الفاظ بکثرت استعمال کیے۔ بہاری تو پہلے ہی سے موقع کی تلاش میں تھے۔ انھوں نے گورنر کو ''غیرملکی'' زبان کی بجائے مقامی زبان کے اجراء کا مشورہ دیا۔ چنانچہ گورنر نے صرف اردو زبان کی مذمت کرتے ہوئے اسے ''غیرملکی'' زبان قرار دیا بلکہ وہ اردو کو نقصان پہنچانے کے اس قدر درپے ہوگیا کہ اس نے محکمہ تعلیم کو اردو کی نصابی کتب کی ممانعت کا حکم جاری کردیا۔ گورنر کے اس فیصلے کو حکومت کے دیگر اعلیٰ عہدے داروںنے ناپسند کیا۔ کلکتہ کے نیم سرکاری اخبار''دی انگلش مین'' نے بھی گورنر کے اس فیصلے پر نقطہ چینی کی۔ (۱۶)
۱۸۸۲ ء میں ''ہنٹرایجوکیشن کمیشن'' کی تشکیل کے موقع پر ہندوؤں کو دوبارہ اردو زبان کو نقصان پہنچانے کا موقع میسر آیا۔ اس بار یہ فتنہ پنجاب اوریوپی میں اٹھا جہاں انجمنوں اور سوسائٹیوں نے کمیشن کو اردو کے خلاف لاتعداد میموریل پیش کیے۔ ایک مرتبہ پھر سرسیّد اردو زبان کی حفاظت کے لیے آگے بڑھے اور ہنٹرکمیشن کو یہ باور کرانے میں کام یاب ہوئے کہ یہ مسئلہ لسانی کی بجائے سیاسی رنگ اختیار کرچکاہے۔
مارچ۱۸۹۸ ء میں یوپی کے متعصب گورنر اینٹونی میکڈانل کو یوپی کی عدالتوں اور سرکاری دفاتر میں ہندی اور ناگری رسم الخط کے اجراء کے متعلق ایک عرض داشت پیش کی گئی۔ میکڈانل مسلمانوں کے بارے میں سخت متعصب تھا اور اسے مسلمانوں سے غداری کی بو آتی تھی۔ اسی سبب اس نے گورنر جنرل کو لکھاکہ ''مسلمان برطانوی سلطنت کے لیے خطرہ ہیں اور ان کی سرکاری ملازمتوں میں مضبوط پوزیشن کو سیاسی طورپر جہاں تک ممکن ہو ختم کیاجائے۔'' لہذا اس نے مسلمانوں کو زک پہنچانے کی خاطر نہ صرف یوپی کی عدالتوں اور سرکاری دفاتر میں اردو کے علاوہ ناگری رسم الخط جاری کرنے سے متعلق ۱۸؍اپریل ۱۹۰۰ء کو ایک حکم جاری کیا بلکہ یہ بھی حکم دیا کہ آئندہ سے دفاترمیں مختلف آسامیاں پُر کرتے وقت صرف انھی لوگوں کو مقررکیاجائے جو فارسی اور ناگری رسم الخط دونوں سے واقف ہوں۔ (۱۷)۔ اُردو دشمنی میں سراینٹونی میکڈانل کی ہندوؤں سے ہم نوائی ہندوستان کے مستقبل، ہندومسلم اتحاد اور مسلمانوں کی زبان، ثقافت اور علمی ورثے کے لیے خطرناک تھی۔ چنانچہ ''مسلم کرانیکل'' اس بارے میں یوں لکھتاہے:
''یہ کہنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ حالیہ برسوں میں ہندوؤں اورمسلمانوں کے مابین پائے جانے والے تعلقات میں کوئی شے کشیدگی کا اس قدر باعث نہیں بنتی جتنی کہ وہ فاش غلطی جو زبان کے مسئلے میں سراینٹونی میکڈانل سے سرزد ہوئی ہے۔'' (۱۸)
یوپی کے مشہور متعصب وزیرتعلیم مسٹرسمپورنانند نے اپنی اردو دشمنی کا بڑا سبب یہ بتایا تھا کہ ''جب میں گھر گیا تو میری لڑکی نے بھگوان کے بجائے خدا کہا'' اس سے انھوںنے یہ نتیجہ نکالا کہ ''خدا کی طرح اور بہت سے الفاظ جو مسلمانوں کے بنیادی عقائدسے تعلق رکھتے ہیں آہستہ آہستہ غیرشعوری طورپر اردو زبان کے ذریعے ہندوؤں کے دماغوں میں داخل ہوگئے ہیں اور اس سے ان کے مذہبی عقائد کے متاثر ہونے کا خطرہ ہے ''۔ (۱۹)
مسلم لیگ کے چوتھے اجلاس میں مسلمان نمائندوں نے یہ فریاد پیش کی کہ بمبئی کے ناظم تعلیمات نے مراسلہ جاری کیاہے کہ پبلک کے سکولوں میں سے اردو کو الگ کردیاجائے۔ اگر مسلمان اردو کی تعلیم جاری رکھناچاہیں تو دینی تعلیم کی طرح اس کا اہتمام اپنے گھروں پر کریں۔ اس طرح گویا اعلان کردیا گیا کہ ہندوؤں کا جس طرح اسلام سے کوئی تعلق نہیں اسی طرح اردو سے بھی کوئی واسطہ نہیں۔ (ـ۲۰)۔ بہار کے صوبے میں اردو میں تحریر کردہ عرضی عدالتوں میں قبول کرنے سے انکار کردیا گیا۔ مسلمان وکلاء اور دیگر اکابر نے ایک التجائی مہم شروع کی جس کی تائید ۱۹۲۵ ء کے سالانہ جلسہ مسلم لیگ میں کی گئی۔ (۲۱)
۱۹۳۷ ء میں کانگریسی وزارتوں کی تشکیل ہوئی تو تمام ہندوصوبوں کے وزراء اعلیٰ ، برہمنوں کوبنادیا گیا ۔ اب یہ حال ہوگیا کہ ڈاک خانے والوںنے اردو میں تحریرکردہ منی آرڈر بھی قبول کرنے سے انکار کرناشروع کردیا اور اُن خطوط کو مکتوب الیہ تک پہنچانے سے انکار کردیا جن پر اردو میں پتا لکھا ہوتا۔ اکتوبر۱۹۳۸ ء میں سندھ مسلم لیگ کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے قائداعظم نے اپنے خطبہ صدارت میں کانگریسی وزارتوں کو ملک کے لیے ایک مصیبت قراردیا۔ انھوںنے اپنی تقریر میں بندے ماترم، ودیا مندرسکیم اور کانگریسی جھنڈے کو قومی حیثیت دینے کے خلاف مسلمانانِ ہند کے نفرت انگیز جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا :
''مسلمانوں کی تہذیب و تمدن اور ان کی سیاسی قوت کو تباہ کرنے کے لیے اردو کومٹایاجارہاہے اور اس کے بجائے ایک ایسی زبان کو ہندوستان کے عوام کی زبان بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جو سنسکرت کی آمیزش سے تیار کی گئی ہے۔'' (۲۲)
کانگریسی وزارتوں کے دوران (۱۹۳۷ - ۳۹ء ) مسلمانوں کے وجود ، ثقافت اور زبان کو ختم کرنے کی بھرپور عملی کوششیں ہوئیں۔ مسلمانوں کے دیہات پر ہندوؤں نے منظم حملے کیے۔ مسلمانوں کا قتل عام ہوا۔ دیہات جلادیے گئے۔ گھروں کو لوٹ لیا گیا اور پھر مسلمانوں پر جھوٹے مقدمات قائم ہوئے۔ انصاف کے دروازے ان پر بند کردیے گئے۔ مسلم پریس کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ ہندوؤں نے فیصلہ کرلیا کہ مسلمانوں کی ثقافتی زبان اردو کو ختم کردیاجائے۔ چناں چہ اردو کتابوں پر پابندی لگادی گئی۔ اردو سکولوں کو بند کیا جانے لگا۔ ایک طرف مسلمانوں کے ہر ثقافتی نشان کو مٹانے کی ہرممکن عملی کوشش کی جارہی تھی جب کہ دوسری طرف ہندو مت اور ہندو ثقافت کے ہر نشان کو ابھارنے کے لیے ہرممکن قدم کو اٹھایاجارہا تھا۔ اس امر کی شدت کا احساس گاندھی کے اس بیان سے بخوبی لگایاجاسکتاہے:
''ہندوستان میں ہندوتہذیب کے ذریعے سوراج قائم ہوسکتاہے۔ دھرم کی روشنی میں ضروری ہے کہ قرآن کی تعلیم کو دنیا سے نابود کردیاجائے اور اس کی جگہ راشٹردھرم کی تعلیم مسلمانوںکودی جائے۔ میں مسلمانوں کی گولی سے نہیں ڈرتا۔ ڈرتا ہوں تو ان کی زبان یعنی ا ردو سے جو برصغیر میں ان کی ثقافت اورتہذیب کی زبان ہے۔ اگر مسلمانوں کو ختم کرناہے تو پہلے ان کی زبان ختم کرو، ان کی ثقافت اور تہذیب خود بخود ختم ہوجائے گی۔''(۲۳)
اس کے جواب میں قائداعظم محمدعلی جناح نے ۱۹۳۹ ء میں مرکزی اسمبلی کے بجٹ سیشن کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے ببانگِ دہل فرمایا تھا:
''ہندواسلامی ثقافت و تہذیب اور اردو زبان کو مٹانے پر تلے بیٹھے ہیں لیکن میں ان کو خبردار کرتاہوں کہ ہم مرتے مر جائیں گے لیکن اسلامی تہذیب و ثقافت اور اردو زبان تباہ نہیں ہونے دیں گے۔''(۲۴)
پنڈت جواہر لال نہرو نے کانگریس کے لیے مسلمانوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی خاطر مسلم ماس کانٹکٹ(مسلم رابطہ عوام) کا شعبہ قائم کیااور اعلان کردیاکہ اب کانگریس جناح سے کوئی بات چیت نہیں کرے گی اور اس کے بجائے وہ براہ راست مسلمان عوام کے پاس جائے گی اور انھیں بہلا پھسلا کر، ورغلاکر اور بہکا کر اپنے حلقے میں کھینچ کر لے آئے گی (۲۵)۔ یکم اپریل ۱۹۳۷ ء کو پنڈت نہرو نے ہندوستان کی تمام صوبائی کانگریس کمیٹیوں کو ذیل کا گشتی مراسلہ بھیجا۔ اس میں سے ایک اقتباس بطورحوالہ پیش کیاجاتاہے جس سے ہندوؤں کی اردو دشمنی واضح طورپر دکھائی دیتی ہے۔
''اس سلسلہ میں ایک اور ضروری گزارش کرناچاہتا ہوں ۔ ہمارے مرکزی دفتر میں اکثر شکایتیں موصول ہوتی ہیں کہ کانگریس کے جلسوں کے اشتہار عموماًاردومیں شائع نہیں کیے جاتے اور اس طرح مسلمانوںکو کانگریس کے جلسوں، جلوسوں کی اطلاع نہیں ہونے پاتی۔ یہ شکایت بالکل درست ہے ۔ مہربانی فرماکر اپنے صوبے کی ضلع وار اور مقامی کانگریس کمیٹیوں کو سخت ہدایت کردیجیے کہ آئندہ اردو میں بھی اشتہار شائع کریں۔ بالخصوص پنجاب ، یوپی اور دہلی کے صوبوں اور ہندوستان کے دیگر بڑے بڑے شہروں میں اس قاعدے کی پابندی بے حد ضروری ہے۔'' (۲۶)
بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح اردو کو پاکستان کی قومی زبان کی حیثیت سے بلند مرتبے پر دیکھناچاہتے تھے۔ انھیں اردو کی اہمیت اور قوت کا اندازہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انھوںنے پاکستان اور اردو زبان، دونوں کا مقدمہ بیک وقت لڑا۔ مصورِ پاکستان علامہ محمداقبال نے بھی اردو دوستی کا حق خوب اداکیا۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق مرحوم نے ۱۹۳۶ ء میں اردو کانفرنس منعقدکی اور باصرار علامہ محمداقبال کو شرکت کی دعوت دی۔ علامہ بیمار تھے۔آپ نے جواب میں لکھا:
''اگر اردو کانفرنس کی تاریخوں تک میں سفر کے قابل ہوگیا تو ان شاء اللہ ضرور حاضر ہوں گا۔ لیکن اگر حاضر نہ بھی ہوسکا تو یقین جانیے کہ اس اہم معاملے میں کلیتہً آپ کے ساتھ ہوں۔ اگرچہ میں اردو زبان کی بحیثیت زبان خدمت کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا تاہم میری لسانی عصبیت دینی عصبیت سے کسی طرح کم نہیں ۔ ''
اسی طرح اپنے ایک اور خط میں علامہ اقبال نے بابائے اردو کو انجمن ترقیٔ اردو کی بابت لکھاتھا:
''آپ کی تحریک سے مسلمانوں کا مستقبل وابستہ ہے۔ بہت سے اعتبارات سے یہ تحریک اس تحریک سے کسی طرح کم نہیں جس کی ابتداء سرسیّد احمد خان نے کی تھی۔''(۲۷)
ہندوؤں کی اردو سے مخالفت نے سرسیّد احمد خان اور دیگر اکابر سے مسلمانوں کے لیے کئی تعلیمی ادارے قائم کروائے۔ ۱۸۷۵ ء میں سرسیّد نے علی گڑھ میں ایک سکول کی بنیاد رکھی جسے ۱۸۷۷ ء میں کالج کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ سرسیّد کا یہ کارنامہ مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتاہے۔ ۱۸۸۶ ء میں سرسیّدنے محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کی بنیاد ڈالی جس نے سرسیّد کے کام کو اور آگے بڑھایا۔ نواب عبداللطیف نے محمڈن لٹریری سوسائٹی کلکتہ میں قائم کی۔ اس طرح پنجاب میں انجمن حمایت اسلام کا قیام عمل میں آیا۔ سندھ میں حسن علی آفندی نے سندھ مدرسۃ الاسلام قائم کیا۔ پشاور میں سرسیّد کی تعلیمی تحریک سے متاثر ہوکر اسلامیہ کالج پشاور قائم کیا گیا۔ ۱۹۰۵ ء میں نواب محسن الملک نے ایک تقریر میں زور دے کرکہا کہ مسلمانوں کے تمدن کی حفاظت کا جذبہ تقاضا کرتاہے کہ اُن کی کوئی سیاسی تنظیم ہو۔ ۱۹۰۶ ء میں ان کا یہ خواب پوراہوگیا۔ گویا اردو ہندی تنازع مسلم لیگ کی تشکیل کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ (۲۸)
ہندوؤںنے اردو کو مسلمانوں کی ہزارسالہ حکومت کی نشانی سمجھا۔ وہ اسے صرف مسلمانوں کی زبان سمجھتے تھے اس لیے انھوںنے اردو ہندی کا جھگڑا کھڑاکردیاتھا۔ یہ لسانی جھگڑا ہندومسلم جھگڑے ہی کا ایک حصہ تھا۔۱۹۴۷ ء کے بعد بھارت میں ہندی کو رانی اور اردو کو باندی بنادیاگیا جس سے ہندوؤں کا مطلب یہ تھا کہ جب مسلمانوںنے اپنا گھر الگ کرلیا تو اپنی زبان کو بھی وہی سنبھالیں۔ہندوؤں کی لسانی تنگ نظری کے بارے میںڈاکٹر سیّد عبداللہ لکھتے ہیں :
''ایک زمانہ وہ تھا جب ہندو فارسی اور عربی کے عالم ہوا کرتے تھے لیکن اردو ہندی تنازع اور سیاسی حالات نے ان کے خیالات میں تبدیلی پیداکردی اور وہ تعصب سے مغلوب ہوگئے۔ وہ اردو سے برگشتہ ہوکر ہندی کے حامی ہوتے گئے۔ ''(۲۹)
ہماری ڈیڑھ سوسالہ سیاسی اور ملّی تاریخ شاہدہے کہ پورے برصغیر میں مسلمانوں کی تمام قومی اور سیاسی جدوجہد کے دوران اردو اور صرف اردو کو ہی بین العلاقائی اور بین الصوبائی حیثیت حاصل رہی ہے۔ اس نے سب کو اتحاد و اتفاق کی لڑی میں پرویا۔ محبت اور یگانگت کا سبق سکھایا۔ سیّد احمد شہیدبریلوی کی تحریکِ جہاد، تحریکِ دیوبند، تحریکِ علی گڑھ، تحریکِ ندوۃ العلمائ، تحریکِ خلافت، تحریکِ آزادی، تحریکِ پاکستان اور تحریکِ اتحاد عالمِ اسلامی، ان سب اسلامی تحریکوں میں ذریعۂ اظہار اردو ہی بنی رہی۔ مسلمانوں نے پشاور وکشمیر سے لے کر راس کماری تک اور سندھ بلوچستان سے لے کر بنگال اور آسام تک اپنے قول و فعل سے اردو کی اس عمومی اور اجتماعی حیثیت کو جانا اور ماناہے۔ا س لیے سردار عبدالرب نشتر نے کہا تھا:
''واقعاتی اور تاریخی نقطۂ نگاہ سے یہ حیثیت اردو ہی کو حاصل ہے کہ وہ پاکستان کی قومی زبان بنے۔ جن چیزوںنے ہم میں یہ احساس، یہ جذبہ اور یہ ذوق وشوق پیداکیاتھا کہ اپنا علیحدہ وطن بنائیں ان میں سے ایک اہم چیز یہ تھی کہ ہم اردو کو اغیار کی دست برد سے محفوظ کردیں۔''(۳۰)
مدیر''ادبی دنیا'' مولانا صلاح الدین احمد اردو زبان کے تاریخی کردار کے بارے میں لکھتے ہیں :
''مسلمانانِ ہند کا باہمی اتحاد جس قدرِ مشترک پر قائم ہے، وہ ہماری قومی زبان اردو ہے ، جو نہ صرف ہمارے ارتباطِ باہم کا سب سے مؤثر اور زندہ ذریعہ ہے بلکہ ہندوستان میں ہمارے ہزار سالہ تمدّن کی امین اور ہماری مذہبی، ثقافتی اور علمی روایات کی سرمایہ دار ہے۔ اردو ہماری قومی زندگی اور ہماری ملّی تہذیب کا نشان بن کر نمودار ہوئی اور ہم نے اسلام کے بعد اردو کو اپنی عزیز ترین تمناؤں کا مرکز بنایا۔ پاکستان کا ایوانِ عظیم الشان ہم جن محکم ستونوں پر قائم کرناچاہتے تھے، وہ تعداد میں چارتھے:اسلام، اتحاد، آزادی اور اردو ۔ اور جب ہمارے قائداعظم نے ہمیں اپنی منزلِ مقصود کی طرف پکارا تھا تو ایوانِ مملکت کے انھی چار ستونوں کی نشان دہی فرمائی تھی۔''(۳۱)
اردو کا تحفظ برّصغیر میں مسلمانوں کی جنگ آزادی کا ایک مستقل حصہ رہاہے اور یہ تاریخی اہمیت اس زبان کا طرۂ امتیاز ہے۔ تحریک پاکستان میں اردو، پاکستان کی قومی زبان کے طور پر مطالبۂ قیام پاکستان کے بعد دوسرا اور شاید سب سے بڑا ثقافتی مطالبہ، نعرہ اور وعدہ رہی ہے۔ تحریکِ پاکستان کا محرکِ اوّل اگر اسلام تھا تو محرکِ دوم اردو زبان تھی اور قائداعظم کو بھی دیگر اکابر کی طرح اس حقیقت کا بخوبی علم تھا۔ اردو زبان کی عظمت یہ ہے کہ برّصغیر پاک و ہند میں اس نے تاریخ لکھنے کا نہیں بلکہ مسلمانانِ ہند کی تاریخ بنانے میں بھرپور کردار اداکیااور یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اس لیے بھی کہ اردو نے صرف ہماری تاریخ بنانے ہی کا نہیں بلکہ پاکستان کا جغرافیہ بھی بنانے میں اہم کرداراداکیاہے۔ پاکستان کے حال اور مستقبل میں ثقافتی شیرازہ بندی، سیاسی استحکام، وحدت، ہم آہنگی، یک جہتی اور ریاستی تشخص کی ضامن اردو زبان ہی ہے۔
میرے نزدیک اردو زبان، اس کا رسم الخط اور املاء عقیدے کا مسئلہ ہے۔ برصغیر میں اردو کسی کی مادری زبان ہو یا نہ ہو، یہ ہرمسلمان کی مذہبی اور ثقافتی زبان ضرو رہے اور عربی و فارسی کے بعد اسلامیانِ ہند کی واحد ترجمان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برّصغیر پاک و ہند کا مسلمان اس زبان کی حق تلفی پر جذباتی ہوجاتا ہے۔ اس کا جذباتی ہونا ایک فطری امر ہے ۔ کیوں کہ اردو اس کے بزرگوں کی عزیز ترین کمائی ہے جسے سینچتے ، پروان چڑھاتے اور دیس بہ دیس نشر و اشاعت کرتے انھیں صدیاں گزری ہیں اور وہ اپنے بزرگوں کی اس مقدس میراث کا جائز وارث ہے۔
حواشی و حوالہ جات
ا۔ ترجمہ:اور اس کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمھاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف۔ بے شک اس میں نشانیاں ہیں جاننے والوں کے لیے۔(سورہ الروم: ۲۲)
۲۔ ترجمہ:خبرداررہو! اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتاہے۔(سورۃ الرّعد: ۲۸)
۳۔ النووی، محی الدین ابوزکریا یحییٰ ، َ، ص ۵۹
۴۔ محمدحسین آزاد، مولانا، سخن دانِ فارس(لاہور: بک ٹاک ٹمپل روڈ ، ۲۰۰۶ ء ) ص ۴۵
۵۔ قریشی، ڈاکٹرمحمداسحاق، برصغیر پاک و ہند میں عربی نعتیہ شاعری(لاہور: مرکز معارفِ اولیا ء محکمہ اوقاف حکومت پنجاب، ۲۰۰۲ ء ) ص ۴۷۶
۶۔ خطباتِ رشید احمدصدیقی۔مرتبین : مہر الٰہی ندیم(علیگ)/لطیف الزمان خان (کراچی: مکتبہ دانیال عبداللہ ہارون روڈ، ۱۹۹۱ ء ) ص ۸۸
۷۔ بخاری، ڈاکٹرسہیل، لسانی مقالات ،حصہ دوم(اسلام آباد: مقتدرہ قومی زبان، ۱۹۹۱ ء ) ص ۴۱۷
۸۔ ……ایضاً……، ص ۴۱۸
۹۔ تاراچند، ڈاکٹر، ہندوستانی زبان کا مسئلہ، (۱۹۴۴ ئ)
۱۰۔ لسانی مقالات، حصہ دوم ، ص ص ۴۱۵-۱۶
۱۱۔ ……ایضاً……، ص۴۱۶
۱۲۔ ہندوستانی زبان کا مسئلہ، (۱۹۴۴ئ)
۱۳۔ F.E Keay, A History of Hindi Literature, P-80
۱۴۔ محمداکرام، شیخ، پاکستان کا ثقافتی ورثہ (لاہور: ادارہ ثقافتِ اسلامیہ، ۲۰۰۱ ئ) ص ص ۱۲-۱۳
۱۵۔ زکریا، ڈاکٹررفیق، ہندوستانی سیاست میں مسلمانوں کا عروج(نئی دہلی: ترقیٔ اردو بیورو، ۱۹۸۵ ئ) ص ص ۳۹۶-۹۷
۱۶۔ ماہ نامہ اردو(جوبلی نمبر)کراچی: نومبر۱۹۵۳ ء ص ۹
۱۷۔ Separatism Among the Indian Muslims, P-44
۱۸۔ The Moslem Chronicle, May 30, 1903
۱۹۔ فاروقی، پروفیسر ڈاکٹرطاہر، ہماری زبان-مباحث و مسائل (کراچی: انجمن ترقیٔ اردو پاکستان، ۱۹۹۶ ئ) ص ۹۴
۲۰۔ محمدمنّور، پروفیسر، پاکستان-حصارِاسلام (لاہور: گوہرسنزاردو بازار لاہور، ۱۹۹۸ ئ) ص ۲۱
۲۱۔ ……ایضاً……، ص۲۳
۲۲۔ پیام شاہ جہان پوری، تاریخ نظریۂ پاکستان (لاہور: کتب خانہ انجمن حمایت اسلام، ۱۹۷۰ ئ) ص ۳۱۹
۲۳۔ دیکھیے رسالہ اردو قومی زبان نمبر، ۱۹۳۸ ء
۲۴۔ دیکھیے جمیل الدین احمد، Writings and Speeches of Muhammad Ali Jinnahجلد دوم (لاہور: ۱۹۷۴ ئ)
۲۵۔ بٹالوی، ڈاکٹرعاشق حسین، اقبال کے آخری دو سال(لاہور: سنگ میل پبلی کیشنز، ۱۹۸۹ ئ) ص ۳۷۶
۲۶۔ روزنامہ سول اینڈ ملٹری گزٹ مورخہ ۲؍اپریل ۱۹۳۷ ء
۲۷۔ ہماری زبان-مباحث ومسائل ص ۴۰
۲۸۔ پاکستان -حصارِاسلام ، ص ۲۶
۲۹۔ سیّدعبداللہ، ڈاکٹر، ابوالکلام آزاد-اِمامِ عشق و جنوں (لاہور: مکتبہ جمال ، اردو بازار، ۲۰۰۹ ء ) ص ۵۰
۳۰۔ ہماری زبان - مباحث و مسائل ، ص ۴۹
۳۱۔ صلاح الدین احمد، مولانا ، مضمون ''اردو کے چند مسائل'' مشمولہ مقالاتِ شام ہمدرد مرتبہ حکیم محمدسعید (لاہور: مکتبہ جدید ۹۶۹ ۱ ء ) ص ۲۰۱