کچھ باتیں کچھ یادیں…دبئی کاسفر

عارفہ شمسہ

سب سے پہلے تو میں اپنی کوتاہی کا مداوا کروں کہ اسلام آباد سے دبئی کے سفر میں برخوردار فخر الاسلام کی محبت کا اعتراف نہ کر سکی۔ فخر میاں کہنے کو میرے مالک مکان ہیں لیکن غالباً میرا بیٹا ہوتا تو وہ بھی اتنا خیال کرتا یا نہ کرتا جتنا یہ کرتے ہیں۔ ہمہ وقت ہر کام کے لیے تیار رہتے ہیں، ان کی گڑیاسی بیوی نازی (کلثوم) کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ رہتی ہے،۱۳ سالہ بیٹی بسمہ بہت ہی پیاری ہے اور ان کے ہاں زرمینہ بچی مجال ہے جو میرے کسی کام کو منع کرے، بلکہ سب کا بس نہیں چلتا کہ ایک سے بڑھ کر ایک میرا خیال رکھیں، وہ ہی نہیں بلکہ ان کے تمام خاندان والوں نے بھی مجھے بے حد محبت دی ہے۔ اللہ فخر اور نازی کو اپنی بیٹی کی تمام خوشیاں صحت و تندرستی کے ساتھ دکھائے (آمین) دبئی جاتے وقت فخر میاں خاص طور پر مجھے ایمیگریشن تک چھوڑ کر آئے اور تاکید کی کہ اطمینان سے رہئے گا پیچھے کسی چیز کا خیال نہ کیجیے گا ۔
دبئی میں عنبرین کے دیور عدنان انصاری اپنے خاندان کے ساتھ کافی عرصہ سے مقیم ہیں۔ عدنان بچپن سے بہت شرارتی تھے۔ ان کی شرارتیں خاندان میں مشہور تھیں۔ اب ما شا اللہ بڑے برد بار ہو گئے ہیں۔ ان کی بیگم دینار جنھیں سب گھر میں نمو کہتے ہیں ماشاء اللہ آئی ٹی سپیشلسٹ ہیں۔ دو بیٹیاں شفق اور فاطمہ اور ایک بیٹا سلمان۔ تینوں چھوٹے ہی ہیں نمو کے پیر میں موچ آئی ہوئی تھی پھر بھی دفتر اور گھر میں جتی رہتی تھی، بھی دونوں نے انٹر نیٹ پرمیری کافی رہنمائی کی، بہت مصروف رہنے کے باوجود وہ مجھ سے ملنے کئی دفعہ آئے۔ ایک مرتبہ میں بھی ان کے گھر گئی۔ نمو نے مزے کاچائینی کھانا کھلایا،میری نواسی سلینہ کی شفق سے دوستی ہے۔ سب بچے مل کر کھیل رہے تھے تو عجیب سی خوشی کی لہر بدن میں اٹھ رہی تھی۔ یہ سب بچے ہی تو ہمارا سرمایہ ہیں۔ ہمارا مستقبل ہیں، خدا بچوں میں ہمیشہ پیار و محبت قائم رکھے ہم نے تو اپنی زندگی گزار لی۔ ان بچوںسے ہی آگے رشتے چلیں گے۔
دبئی جانے سے قبل اسلام آباد میںہی غیاث کا فون آیا کہ پھپھو دبئی میں اب آپ کے دو گھر ہیں۔ آپ میرے پاس رکیے گا۔ عنبرین آپ کی بیٹی ہے۔ میں آپ کا بیٹا ہوں۔ میں نے اُسے سمجھانے کی کوشش کی کہ تم سے پاکستان میں ملاقات ہوتی رہی ہے بچوں سے عنبرین سے تین سال سے اورفیصل سے چار سال سے ملاقات نہیں ہوئی۔ ظاہر ہے کہ تم سے ضرور ملوں گی۔ یہاں میں غیاث کا تعارف کراتی چلوں۔ تحریک پاکستان کے وقت نوجوانوں کا جوش اور ولولہ عروج پہ تھا، سب اندھا دھند لے کر رہیں گے پاکستان کے پیچھے دیوانے ہورہے تھے۔ جن میں خود میرا اپنا بھائی عرفان الحق شبلی آگے آگے تھا۔ اسی طرح ان کے دوست نوجوان سلطان الدین ریاست بھوپال کے معتبر اور مخیر کامدار سراج الدین کے بڑے بیٹے تھے۔ والد نے بہت سمجھا یاکہ ہوش سے کام لوانہوں نے یہاں تک کہ جائیداد سے بے دخل کرنے کی دھمکی بھی دی تھی مگر جنون و جذبہ کے سبب سب کچھ چھوڑ چھاڑکے دہلی آ کر ہمارے ہاں رہنے لگے اور بزم عمل (نوجوانوں کی مسلم لیگ) جس کے بانی نواب صدیق علی خان (پرنسپل سیکریٹری خان لیاقت علی خان) تھے، کے ساتھ شامل ہو گئے۔ شبلی بھائی بزم عمل کے جنرل سیکریٹری تھے، نواب صدیق علی خان کی کتاب ''بے تیغ سپاہی'' پاکستان کے شروع کے ایام کی اصل تاریخ ہے۔ کہتے ہیں حقیقی تاریخ وہ ہوتی ہے جو زمانہ حاضر میں لکھی جائے، بعد میں تو گزرتے وقت کے حالات شامل ہوتے جاتے ہیں، سلطان بھائی کے دو بیٹے ضیاء الدین اور غیاث الدین ، پانچ بیٹیاں فوزیہ، شگفتہ، تنویر، شہناز اور لبنیٰ ہیں۔ شگفتہ کی شادی میرے بھانجے نذر الاسلام سے ہوئی۔ تنویر نے شادی نہیں کی وہ ضیاء الدین اور ان کی بیگم ڈاکٹر خیرالنساء کے ساتھ گلشن اقبال میں رہتی ہیں۔ میرے بھائی کے شہید ہونے کے بعد سلطان بھائی نے بھائی بن کر نبھایا۔ پاکستان بننے کے بعد یہاں سے بھوپال جا کر شادی کی۔ بلقیس بھابھی اللہ جنت نصیب کرے اس قدر محبت کرنے والی ہستی تھیں کہ ان جیسا وضعدار، ملنسار اور بے پناہ محبت نچھاور کرنا میں نے بہت کم لوگوں میں پایا۔ اب ان کی اولاد غیاث الدین کی باتوں سے قارئین سمجھ گئے ہوں گے کہ ظاہر ہے یہی توقع رکھی جا سکتی تھی کہ وہ مجھ سے کہیں میں بیٹا ہوں۔ آپ کا ہر کام کرنا میرا فرض ہے۔ یہ روا داری، یہ وضعداری یہ خلوص یہ محبت خال خال ہی نظر آتی ہے۔ لیکن میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے محبتوں کے نذرانوں سے بے پناہ نوازا ہے۔ اللہ کا جتنا شکر کروں کم ہے۔ غیاث میاں کی بیگم فرحانہ بھی اللہ نے خوب جوڑی بنائی۔ جب وہ ایم بی بی ایس کے بعد پارٹ ون کر رہی تھیں تو بلقیس بھابھی کی بیماری کے سبب اکیلی آئی تھیں۔ میرے پاس رکی تھیں نہ چائے کا نہ پانی کا۔ نہ کھانے کا ہوش۔ بس پڑھائی میں دیوانی اب ماشاء اللہ چائلڈ سپیشلسٹ ہیں پہلے سعودی عرب میں تھیں اب دبئی کے زلیخا ہسپتال میں ہیں۔ دو پیارے سے بچے ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ انھوں نے عملاً بہت عمدگی کا ثبوت دیا کہ زلیخا ہسپتال اور بچوں کے سکول کے درمیان فلیٹ لیا ہے تاکہ سہولت رہے۔ چونکہ فرحانہ کی ڈیوٹی الگ الگ اوقات میں ہوتی ہے۔ فرحانہ کی بہن بھی وہاں ڈاکٹر ہیں جن کے ذریعے ہم نے ویل چیئر کا انتظام کروایا۔ میںغیاث کی تمام تر توقعات پر پوری نہ اتر سکی۔ اس لیے ممکن ہے وہ ناراض ہوں لیکن غیاث اور فرحانہ نے سارا کودبئی میرے ساتھ بھیجنے کا ارادہ کیا تھا۔ اب کیا بتائوں پی آئی اے والوں کی سروس کیسی بھی ہو، ایک ٹکٹ پر سامان لے جانے کے معاملے میں اتنے سخت ہیں کہ کیا بتائوں۔ لیکن مجھے یقین ہے فرحانہ اور غیاث سمجھ گئے ہوں گے میری مجبوری اور جہاں تک رہنے کا سوال تھا تو میں پہلے بتاچکی ہوں ہمارے نواسے حمزا کی میں ملکیت تھی وہ میرا کہیں رہنا گوارہ نہیں کرسکتے تھے، بے چارہ غیاث اور فرحانہ بچوںکے ساتھ رات گئے چھوڑنے عنبرین کے ہاں آئے۔
جس دن میں دبئی پہنچی ہوں اتفاق سے اسی دن شہناز کا فون آ گیا۔ ہماری آپاکی دو نندیں تھیں۔ سردار قیوم ، جن کے شوہر عبدالقیوم شکار کے لیے بر صغیر میں معروف تھے۔ ان کا ایک بیٹا اور چار بیٹیاں ہیں اور سلطان خیری۔ ابو الخیری نے اماںکے ذریعہ سلطان آپا سے شادی کی تھی ، سلطان آپاکی دو بیٹیاں اور چار بیٹے ہیں۔بڑی بیٹی شہناز جس کی کم عمری میں ہی شادی ہو گئی تھی اور وہ شادی ہو تے ہی دبئی چلی گئی تھیں۔ اب تو ماشاء اللہ نواسے والی ہو گئی ہیں۔ مجھے یاد ہے سلطان آپا بہت سیدھی تھیں۔ ان کی بیٹی شہناز بھی ان ہی کی طرح سیدھی سادھی سی لڑکی تھی۔ ان کے شوہر ضیا قادر کے بارے میں سنا تھا کہ بہت کم سخن ہیں۔ بعد میں ہماری بھانجی پروین کے صاحبزادے یاسر الزماں کی شادی شہناز کی بڑی بیٹی مہک سے ہوئی۔ جو دبئی ہی میں مقیم ہیں، ضیا قادر نے بچوں کو امریکہ میں تعلیم دلوائی تھی۔ دو سری بیٹی شکاگو میں ہے۔ بیٹا بالکل شہناز کی طرح سیدھا سادا اور ضیا قادر کی طرح کم گو اور فرمانبردار ہے۔ ہاں تو شہناز کا اسی دن عنبرین کے پاس فون آیا جیسے ہی اُسے پتہ چلا کہ میں آئی ہوئی ہوں تو بہت خوش ہوئی۔ وہ اتفاق سے عنبرین کے گھر سے بہت ہی قریب رہتی ہے۔ عنبرین نے مجھے بچوں کے سکول کے درمیان چھوڑا۔ بہت عرصہ بعد شہناز سے مل کر بہت خوش ہوئی۔ ذرا بھاری بھرکم ہو گئی ہیں لیکن انداز اور عادتیں وہی بھولی بھالی سی۔دوسرے دن یاسر اورمہک ان کا چار سالہ بیٹا زید شہناز کے ہاں تھے تو مجھے شہناز نے بلوالیا ۔ شہناز کے شوہر ضیا قادر سے مل کر بے حد خوشی ہوئی ۔ ان سے باتوں کے درمیان وقت کا اندازہ ہی نہ ہوا اور یقین نہ آیا کہ ان کی کم سخنی مشہور ہے۔ ضیا قادر نے میرے ریڈیو پروگراموں کو سُنا ہوا تھا۔ ریڈیو کے تذکرے وہ مجھ سے چھوٹے ہیں لیکن میرے زمانے کے تمام لوگوں کے بارے میں جانتے ہیں۔ بہت ہی اچھا لگا۔ یاسر نے مجھے عنبرین کے ہاں چھوڑا۔ راستے میں ہی میرے بھانجے انوار الاسلام کے بڑے صاحبزادے اظفر الاسلام کا فون آ گیا وہ عنبرین کا پتہ پوچھ رہے تھے، جسے عنبرین نے سمجھایا۔ تھوڑی سی دیر میں وہ اور میرے پیارے بڑے بھانجے صدرالاسلام جن کا پچھلے سال جنوری میں انتقال ہوا ہے، کے بڑے صاحبزادے اظہر الاسلام بھی تھے، جو محض اتفاق سے دبئی آئے ہوئے تھے اور اظفر کے پاس تھے۔ دونوں ہی میرے پاس آگئے۔ میرے سب بھانجے اور ان کی اولادیں مجھے شمسہ خالہ کہتے ہیں فیصل میاں بھی گھر پر تھے۔ اچھا لگا۔ اظفر کے بچوں کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ وہ بضد تھے کہ میرے ساتھ چلیں۔ میں نے وعدہ کیا کہ ابھی نہیں تم جائو میں اگلے ہفتہ آئوں گی ۔ اس زمانہ میں ورلڈ کپ ہورہا تھا۔ دبئی سے اظفر، یاسر اور یاسر کے سالے احمد ضیا سری لنکا ورلڈ کپ دیکھنے جارہے تھے ، ادھر پاکستان سے نذر، انور، عمر اور فہد بھی آ رہے تھے۔ لہٰذا وہ وعدہ مَیں نبھا نہ سکی۔ اظفر کی بیگم تحسین اظفر کو نکاح کے وقت دیکھا تھا۔ ملنے کا بے حد شوق ہے چونکہ اتفاق سے وہ میرے بہت عزیز شریف عنایت اللہ (انور عنایت اللہ) کی نواسی ہیں۔ ادبی دنیا کا بڑا نام ہے۔ فون پر بات ہوئی، وہ بھی بچوں کی وجہ سے پریشان تھی، اصل میں دبئی کی گرمی میں گھروں میں ہمہ وقت اے سی چلتا ہے، باہر گرمی،پھر اے سی میں داخل ہوئے جراثیم گھر کے ہر فرد کو لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ باری باری سب فلو کا شکار ہوتے ہیں۔ دبئی میں قیام کے دوران سیما، سعیددو مرتبہ میرے پاس آئے ، پھر نوید کے یوکے داخلے کے وقت اسے ملوانے لائے۔میرے سب سے بڑے ماموں احمد حسین کی بیٹی اختری باجی کی شادی میرے دوسرے ماموں بشارت حسین کے اکلوتے بیٹے سید سخاوت حسین بیرسٹر سے لکھنؤ میں ہوئی تھی، سخاوت حسین کو خاندان میں سب نوابو میاں کہتے تھے، یہ میں نے اپنی ددھیال میں ہر گھر میں دیکھا ہے کہ دو دو نام رکھے ہوئے ہیں، نوابو بھائی کانپور کے مشہور و معروف وکلاء میں شمار ہوتے تھے۔انکی دو بیٹیاں شاہ بانو، روحی (پپو)دو بیٹے جمال اور اجمل ہیں۔ نوابو بھائی کا ناوقت جوانی میں انتقال ہوگیا تھا، اختری باجی اور میرے ماموں بشارت حسین نے بچوں کی پرورش کی۔ ۱۹۶۷ء میں اختری باجی اپنی دونوں بیٹیوں کے ساتھ پاکستان آئیں تو یہاں آتے ہی ہمارے سب سے بڑے ماموں کے بیٹے اصغر حسین نے جو پاکستان آچکے تھے، انہوں نے اپنے بیٹے مشتاق حسین کا رشتہ دیا، شاہ بانو میٹرک کا امتحان دے کر آئی تھی۔ ماشاء اللہ چشم بدور بہت خوبصورت، معصوم سی ہندوستان کی پلی ۔ وہ معصومیت سے ہنستی تھی، مشتاق ایف آئی اے میں ملازمت کرتے اور کراچی یونیورسٹی سے ایم ایس سی کررہے تھے۔ ویسے تو ماشا اللہ خاندان کے تمام لڑکے شاہ بانو کے ارد گرد رہتے لیکن بہت سے اچھے اچھے رشتہ داربھی ہر روز چلے آتے۔ اصضر بھائی نے اجلت دکھائی اور ہماری اماں پر دبائو ڈال کر شادی کی ضد کی، اس طر ح جلد از جلد ہمارے گھر سے شاہ بانو کو رخصت کیا گیا۔ بعد کے بدلتے حالات کی وجہ سے شاہ بانو کو ہمارے ہاں ہی رہنا پڑا۔مشتاق بھی ہمارے ہاں ہی آگئے تھے۔مشتاق نے امریکہ جاکر سکونت اختیار کی۔پاکستان میں اس کے دو بچے خدیجہ اور صفدر(منا)ہوئے امریکہ میں دس سال بعد حیدر پیدا ہوئے۔خدیجہ اور منا بچپن میں چلے گئے تھے تو وہاں ہی پلے بڑھے۔ لکھنؤسے شاہ بانو نے اپنی اماں اختری باجی کو امریکہ بلوالیا۔ اجمل میرے پاس پاکستان آگئے تھے۔ بہت اچھا وقت گزرا۔ میرا ایک کمرہ اجمل کمال کے نام سے مشہور رہا۔ہماری اماں اپنے بھانجے کے بچوں کو بہت چاہتی تھیں۔رفتہ رفتہ شاہ بانو نے پاکستان سے اجمل کو اور ہندوستان سے بڑے بھائی جمال کو بھی امریکہ بلالیا۔اس طرح سب کی نیشنلٹی امریکن ہوگئی۔ سب شروع سے شکاگو میں مقیم ہیں۔ مُنّا نے وہیں کی لڑکی سے شادی کی ہے ۔ خدیجہ نے شادی نہیں کی۔ وہ آئی لائین میں ہیں۔ میرے آنے کا سن کر دو مرتبہ میرے پاس آئیں۔ خدیجہ میری دونوںبیٹیوں عنبرین اور آفرین درمیان کی ہیں، اتنی محبت کرنے والی لڑکی کا کیا بتائوں اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ دبئی سے مجھے شکاگو لے جائے،یہ محبتیں، یہ پیاربس یہ سب خزانے ہیں واپسی کا تمام سفر سارے دبئی کے سفر پر بھاری تھا، اپنی غلطی تھی کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اسلام آباد میں ایئر پورٹ پر فاصلہ زیادہ نہیں ہے۔ وھیل چیئر کے لیے کہہ دیا۔ پہلے تو رن وے کی جگہ ہی استوار نہ تھی جہاں سے وھیل چیئر اترنی تھی۔ جب وہاں وھیل چئیر لائی گئی تو دیکھ کر ہوش اڑ گئے وہ وھیل چیئر ٹوٹی ہوئی تھی۔ بہت منع کیا کہ ہم اس قابل ہیں کہ خود چلے جائیں لیکن مجال ہے جو ڈیوٹی پر معمور شخص نے ہماری بات مانی ہو، اتنے ذمہ دار پی آئی اے کے اسٹاف عمر میں پہلی مرتبہ دیکھے۔ پھرجب اس میں بٹھایا گیا تو چودہ طبق روشن ہو گئے۔ اللہ نے ساتھ خیریت کے پہنچا دیا ورنہ میں تو سمجھی تھی کہ اب آخری وقت آ گیا۔ورھیل چیئر میں مجھے دھنسا ہوادیکھ کر آخری وقت کے مسافر کاسماں تھا، خاصے لوگ مڑ مڑکر آخری مرتبہ دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے،جب ایئر پورٹ سے باہر نکلی تو سونے پہ سہاگہ میری نواسی ماریہ مجھے دیکھ کر ڈر گئی، بلال اور سروش سمجھے خدا نہ کرے مجھے کچھ ہو گیا ہے۔
اللہ ہمارے ملک کی حفاظت کرے جب ملک کے باسی ہی ٹوٹے پھوٹے ہیں تو چیزوں کا کیا گلہ کریں،شکر کیا کہ خیر سے بدھو گھرکو آئے۔
٭٭٭٭