غزل

خمارِ شام کے رنگین حصار میں کیا ہے
یہ تیرے بعد ترے انتظار میں کیا ہے

مری نگاہ کے اس پار آ کے دیکھو تو
یہ آنے والے دنوں کے غبار میں کیا ہے

سب اس کی نیم نگاہی کی بات کرتے ہیں
کسے خبر کہ دلِ بے قرار میں کیا ہے

مِری نظر تو دھندلکے ہی دیکھتی ہے یہاں
تو ہی بتا ترے لیل و نہار میں کیا ہے

میں زندگی کی حقیقت ہی بھول جاتا ہوں
ترے فسانہِ عہدِ بہار میں کیا ہے
-----
اشفاق عامر
غزل
تیرے احساس میں در آیا ہوں
ایسا لگتا ہے کہ گھر آیا ہوں

تو بھی اٹھ اپنی زمیں سے کچھ تو
میں تو کچھ نیچے اُتر آیا ہوں

تو بھی تنہائی میں کچھ اشک بہا
میں بھی رونے سے نکھر آیا ہوں

اب تو دریا ہے مقابل میرے
کوہ و صحرا سے گزر آیا ہوں

بھیڑ اتنی ہے کہ اکثر خود کو
بڑی مشکل سے نظر آیا ہوں

واپسی کا کوئی امکاں ہی نہیں
گہرے پانی میں اُتر آیا ہوں

غزل
ہم پہ ٹوٹے ہیں بہت رنج و الم آپ کے ساتھ
پھر بھی چلتے رہے بادیدۂ نم آپ کے ساتھ

اس قدر دُور سے چپ چاپ گزرنا کیسا
آخرش ہم بھی رہے ہیں کوئی دم آپ کے ساتھ

آج تو اپنا مسافت کا ارادہ بھی نہ تھا
خود ہی اٹھتے چلے جاتے ہیں قدم آپ کے ساتھ
واپسی اب کے نئی عمر طلب کرتی ہے
اس قدر دُور چلے آئے ہیں ہم آپ کے ساتھ

حرف در حرف ابھی اور ہویدا ہوں گے
پیچ در پیچ مِری روح کے خم آپ کے ساتھ
-----
اشفاق عامر


غزل
بات محبت میں اتنی سنگین نہیں کی جا سکتی
وعدہ پورا کرنے کی تلقین نہیں کی جا سکتی
دل کے تھال میں رنگ تمناٗوں کے پہلے گھل تو لیں
خواب کی چُنری یو ں ہی تو رنگین نہیں کی جا سکتی
آنکھوں کی خاموش ستائش بھی دھڑکا دیتی ہے دل
لیکن یہ کیا؟ لفظوں سے تحسین نہیں کی جا سکتی
وہ شاہِ خوش حرف ہمیشہ بات ہی ایسی کہتا ہے
اس کی بات پہ پھر کوئی تضمین نہیں کی جا سکتی
دونوں کی تقدیر کے تارے جس میں باہم مل جائیں
ایسے بُرج کی مرضی سے تکوین نہیں کی جا سکتی
وقت ہی ضائع ہو گا اس بوچھاڑ سے تیز سوالوں کی
رازِ دل کی اس صورت تدوین نہیں کی جا سکتی
آنکھیں عرقِ درد چھڑک دیں تو شاید کچھ بات بنے
ہنستی محفل لفظوں سے غمگین نہیں کی جا سکتی
-----عابدہ تقی
غزل
لفظ اک ترجمہ بردار کھلا ہے مجھ پر
در نہ کھلنے پہ ہی انکار کھلا ہے مجھ پر
دیدہء وا ! تری کوشش سے تو ممکن نہیں تھا
بند آنکھوں سے جو شاہکار کھلا ہے مجھ پر
چند لمحوں کی کسی برق نگاہی کے سبب
اک سمندر کا صدف زار کھلا ہے مجھ پر
حسنِ الفاظ میں معدوم ہی رہتا شاید
چپ کے اسلوب سے اقرار کھلا ہے مجھ پر
سبز زرخیز محبت کا جزیرہ خود ہی
اذنِ دریافت سے اس بار کھلا ہے مجھ پر
تھام لیتا ہے ہر اُفتاد کے دورانیے میں
اسم اک میرا مددگار کھلا ہے مجھ پر
عین ممکن تھا سوالی مجھے کر دیتی طلب
پھر مری ذات کا پندار کھلا ہے مجھ پر
-----عابدہ تقی
غزل
ممکن نہیں ہے چاک گربیان وقت میں
اک عمر قید کاٹیے زندان وقت میں
پھر اس اُڑان پر بھی ہے پرواز کا گماں
ہم مثل برگِ خشک ہیں طوفان وقت میں
ہے گونج گوش گنبد مینا میں دمبدم
الماس باز گشت نہیں کان وقت میں
دراصل اس محل پہ اندھیروں کا راج ہے
کچھ دیپ جل رہے ہیں شبستان وقت میں
میں نے تو خواب میں یہ حقیقت بھی دیکھ لی
سورج بجھے ہوئے تھے گربیانِ وقت میں
ممکن ہے ماورائے زمان و مکان ہو
میرا خدا نہیں ہے خدایان وقت میں
جو گرد باد غم میں کہیں کھو گئے تراب
وہ پل ملیں گے خاک بیابان وقت میں
----عطا تراب
غزل
چشم و دل ہی نہیں دیدار کی خواہش میں شریک
دیکھئے موسم گل بھی ہے گذارش میں شریک
آج اسلوبِ محبت میں اکیلے نہیں ہم
شہر کا شہر ہے اس طرز نگارش میں شریک
اب کے ساون بھی منایا ہے محرم کی طرح
چشم گریہ بھی رہی ہجر کی بارش میں شریک
شیخ نے ایک زمانے کی عبادت کی ہے
اور رکھا ہے خدا کو بھی پرستش میں شریک
اے مری جانِ تمنّا یہ تمنّا ہے مری
دامن کوہ میں ہم دونوں ہوں بارش میں شریک
رنگ اڑتے ہوئے دیکھے ہیں گلابوں کے تُراب
وہ پری چہرہ تھا پھولوں کی نمائش میں شریک
----عطا تراب
نظم
غلاموں میں اتنی بصیرت کہاں تھی
کہ وہ اپنے خوابوں کی تعبیر بھی دیکھتے
وہ تو خوابوں کی پہلی چمک سے ہی اندھے ہوئے تھے
اور اندھوں کے ہاتھوں میں آیا نظامِ تغیر
تو ہر چیز کی اصل ہی ہم سے گم ہو گئی
کوئی ترتیب باقی نہیں ہے
نظامِ جہاں ٹوٹتا ہے
جو اشیا میں اک ربط تھا
وہ بھی گم ہو چکا ہے
دوبارہ سے ہرچیز کو ہم نے ترتیب دینا ہے
لیکن کوئی ہم کو آنکھیں دلا دے
---- اشفاق عامر
نادید
ہم پہ لمحوں کے اسرار بھی کھل نہ پائیں مگر
ہم تو یہ آرزو لے کے بڑھتے رہے ہیں
زمانوں کے اسرار ہم پر کھلیں
ہم پہ یہ بھی کھلے
ہم کہاں ہیں
کہاں پر نہیں ہیں
مگر کچھ بھی کھلتا نہیں
ہم تغیر کے پیچھے حوادث کی رو دیکھتے ہیں
تو یہ سوچتے ہیں
ہماری بقا و فنا میں بھی ہے ان حوادث کا ہاتھ
پھر جو یہ سوچتے ہیں
حوادث کی کنجی کہاں ہے، کہاں، کس کے ہاتھوں میں ہے؟
ہم پہ کھلتا ہے یہ بھی ہمارے توسط سے ہیں
ہر اک چیز کو معنویت ہمیں سے ملی ہے
ہر اک شے کو اک نام ہم نے دیا ہے
مگر پھر بھی کوئی کہیں پر
ہمارے تفکر سے باہر یہ سب دیکھتا ہے
-----اشفاق عامر
نظم
یہ میری پاک دھرتی ہے
جہاں شب کے پجاری
قتل کے فتوے اٹھائے
دندناتے
نور کی آیات پڑھتے
جگنوؤں کا خون کرتے ہیں
منادی ہے
کہ جگنو جگمگاتے ہیں
تو سورج دیوتا کی شان و شوکت
ماند پڑتی ہے
میں شرمندہ سا باشندہ
مسلسل سوچ میںے گم ہوں
جنہیں جگنو نہیں بھاتے انہیں سورج سے کیا نسبت !؟
----عطا تراب
نظم
اگر مُنصِف،
ترازو کے کسی پلڑے میں
خود کو ڈال کر سمجھیں
کہ اُن کا حُکم سب پر ماننا واجِب
تو اے مُجبور اور مقُہور لوگو !
مُنصفی کا پیرہن پہنے ہوؤں کو غور سے دیکھو
سیاہی پیرہن کی اُن کی آنکھوں سے ٹپکتی ہے
اُداسی خوف بن کر
اُن کے رستوں سے اُلجھتی ہے
اُنھیں دیکھو۔۔۔ ذرا نزدیک سے دیکھو
شبِ تاریک میں گھر سے نِکل کر
اپنے ہمزادوں کا لشکر لے کے باہر بھاگتے ہیں
اور کالے پیرہن پہنے ہوؤں سے
اپنے ہونے کی گواہی مانگتے ہیں
خدائی وصف تو یہ ہے
ترازو ہاتھ میں ہو
اور پلڑوں میں وہی ہوں
جِن کی پُرسش ہونے والی ہے
-----فیاض تحسین
وقت کے ٹیکسلا
اَن گِنَت زمانوں سے وقت کے تسلسل میں
جی رہے ہو صدیوں سے
خاک کی رِدا اوڑھے
تُم کہ آگئے باہر خامشی کے گُنبد سے
سنگِ سخت کی صُورت
جیسے بولتی مُورت
ہم کہ سُن نہیں سکتے
اس کھنڈر کی آوازیں
پھر بھی ہم سمجھتے ہیں
سُن رہے ہیں آوازیں
دُور کے زمانوں کی ٹیکسلا سے بھی آگے
-----فیاض تحسین