ایک موھوم صندوق

سمیرا کیانی
پروین کی طبیعت بہت خراب تھی۔ اسے ہسپتال لے جایا گیا۔ بیمار تو وہ بہت دنوں سے تھی مگر ہسپتال لے جانے والا کوئی نہ تھا۔ ایک شادی شدہ بوڑھا مگر بے اولاد بھائی تھا جو اپنی چالاک بیوی کے ساتھ ایک بنگلہ نما گھر میں رہتا تھا۔ لگتا تھا کہ اسے زبردستی بلایا گیا کیونکہ اسے اپنی اس ریٹائرڈ معلمہ بہن سے زیادہ ہمدری نہ تھی۔ جس کی اس نے اس لیے شادی نہ ہونے دی تھی کہ پھر بوڑھی ماں کی دیکھ بھال اس کے ذمے ہوجائے گی۔ بہرطور پروین برسوں سے ایک نفسیاتی مریضہ بنی ہوئی تھی۔ اسے اپنی تنہائی کا شدت سے احساس ہوتا۔ اس احساس کے ساتھ ہی کھانے پینے سے جی اچاٹ ہوجاتا۔ بہت گھٹن محسوس ہوتی۔ پڑوس میں رہنے والی اپنی ایک شاگرد کو فون کر کے بلا لیتی کہ شاید اس کیفیت سے نجات مل جائے مگر اسے بھی کتنے دن بلا سکتی تھی۔ اس کی بھابھی نے کہہ دیا تھا ’’باجی تنہائی کا کوئی مستقل حل ڈھونڈیں۔ طلعت کے جانے سے گھر کے کاموں کا ہرج ہوتاہے۔ اس بات سے وہ اور زیادہ  اکیلی ہوگئی۔ اب اس نے کسی کو بھی اپنے گھر بلانا چھوڑ دیا۔ پھر بھی کبھی کبھار طلعت اپنی بھابھی سے چھپ کر آتی تو اسے ضروربتاتی کہ ’’اکیلا پن ڈستا ہے۔ ایک ہی بات رہ رہ کے سوچتی ہوں کہ میں تو اپنی ماں کو سنبھال رہی ہوں مگر مجھے تو بڑھاپے میں کوئی پانی پلانے والا بھی نہیں ہوگا۔‘‘ بیچ میں اپنے ایک ہمدرد استاد کے رویے سے اس کے دل میں امید پیدا ہوئی تھی مگر ان کی بیوی پروین کی بھابھی سے زیادہ چالاک تھی۔ خیر وہ آٹھ مرلے کے چھ کمروں اور کشادہ صحن والے گھر میں اپنی لاغر اور ضعیف ماں کے ساتھ رہتی تھی۔ کمروں کے سامنے ایک برآمدہ تھا جس کے آگے دیوار بنا کر اور اس میں کھڑکی لگا کر کمرے کی شکل دے دی گئی تھی۔ برآمدے کے آگے صحن تھا۔ برآمدے کی کھڑکی سے نگاہ صحن سے گزر کر گلی کے مرکزی دروازے پر پڑتی تھی۔ دونوں نے پچھلے کمروں کی بجائے اسی برآمدے کو اپنے اٹھنے بیٹھنے اور سونے جاگنے کا قصر بنا رکھا تھا ۔ اس کی ماں محلے کے بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دیتی تھی مگر جب سے اس نے ناتوانی کا لحاف اوڑھ لیا تھا۔ تب سے صرف وہی پڑھاتی تھی اسی وجہ سے محلے میں دونوں کو احتیاجی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور محلے کی خواتین بھی بے دھڑک ان کے گھر آتی جاتی تھیں۔ لیکن یہ عزت اس کے اکلاپے کے روگ کا علاج تو نہیں تھی اس لیے تنہائی اور اکیلے پن کے دورے پڑنے لگے ۔ اچانک دل ڈوبنے لگتا اور حالت خراب ہوجاتی ۔ کچھ عرصہ تو اس کیفیت کا شکار رہی۔ اس کے بعد نفسیاتی عارضہ لاعلاج جسمانی بیماری میں بدل گیا۔ گھر میں کوئی ایسا نہ تھا جو اسے ڈاکٹر کے پاس لے جاتا۔ اس بیماری نے شدت اختیار کی۔ طبیعت سنبھلنی مشکل ہوئی تو اس کا بھائی اسے ایک نجی ہسپتال لے گیا۔ ڈاکٹر نے مکمل معائنہ کے بعد کہا’’اس نظام کے ساتھ ساتھ ان کاپتہّ بھی ختم ہوچکا ہے۔ بھائی کی جھجک دیکھ کر ڈاکٹر نے اس وقت اس کا آپریشن نہیں کیا اوریہ کہہ کر گھر بھیج دیا ’’بلڈپریشر شوٹ کر گیا ہے۔ آپ انھیں گھر لے جائیں‘‘۔
گھر واپس آئی تو ایک رات اس نے گھر پر گزاری۔ اگلے دن سہ پہر کے وقت طبیعت پھر بگڑ گئی۔ موت اسے سامنے نظر آنے لگی۔ رو رو کے تکلیف سے کراہتے ہوئے کہنے لگی۔ اب میں نہیں بچ سکتی۔ اس کی بھابی محلے کی دو چار خواتین کے ساتھ اسے سول ہسپتال خانیوال لے گئی۔ وہاں کے ڈاکٹروں نے نشتر ہسپتال لے جانے کو کہا۔ وہاں سے اسے نشتر ہسپتال ملتان لے گئے۔ اس کے جانے کے بعدطلعت ہی اس کی ماں کے پاس بیٹھی تھی۔ ضعیف ماں نے کہا ’’پروین کو کفن دے دیا تھا‘‘ ۔ طلعت ’’کون سا کفن‘‘۔ ماں ’’وہی جو اندر صندوق میں پڑا تھا‘‘۔ اس کے بعداس کی زبان کو تالا لگ گیا۔
دو راتیں اور ایک دن ہسپتال میں گزارنے کے بعد صبح چھ بجے اس کا وہیں ہسپتال میں انتقال ہوگیا۔ مرنے والے کی یہ پریشانی تو موت نے دور کر دی تھی کہ مجھے تو بڑھاپے میں کوئی پانی پلانے والا بھی نہیں ہوگا مگر پروین کی شاگرد طلعت ابھی تک سراسمیہ ہے کہ پروین کی ماں نے جس کفن کے بارے میں کہا تھا کہ صندوق میں ہے۔ تو گھر میں کوئی ایسا صندوق نہ تھا جس میں وہ سفید چادر ہو جسے کفن کہتے ہیں۔ تو کیا یہ صندوق مرنے والے کی چپ ہو جانے والی ماں کے خوابوں میں تھا۔