بہادر شاہ ظفر اور ان کی شاعری
معین الدین ) بنگلہ دیش (
سراج الدین بہادر شاہ ظفر خاندان تیموریہ کے آخری بادشاہ جو اکبر شاہ ثانی کے بیٹے تھے۔ ۱۸۳۷ء میں تریسٹھ سال کی عمر میں تخت پر بیٹھے اور بیس سال حکومت کرنے کے بعد ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے نتیجے میں گرفتار ہوئے اور برما کی راجدھانی رنگون میں قید کر دیے گئے۔ پانچ سال تک اسیری اور نظر بندی کے مصائب جھیل کر نہایت بے کسی کے عالم میں ۱۸۶۲ء میں وفات پائی۔ ان کا مزار رنگوں میں ہے اور اس کی خستہ حالی آج بھی ان کے دردناک انجام کی داستان سنا رہی ہے۔
۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد پورے ملک کی سیاست و ادب کا نقشہ بدل گیا تھا۔ دلی کی قسمت اب کیا جاگتی، بلکہ اس کی تباہی و بربادی کا سلسلہ تو ظفر سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔ شاہ ظہور الدین حاتم کا مخمس شہر آشوب، مرزا رفیع سودا کا قصیدہ تضحیکِ روزگار اور میرتقی میر کی مثنوی دربیان وکذب وغیرہ دہلی کی معاشرتی و معاشی انحطاط و زوال کی اپنی داستان ہے جو ملک کی تاریخ کے لیے ایک آئینہ حقیقت عبرت ہے۔ حقیقت اس لیے کہ تاریخ اس کی تردید نہیں کر سکتی اور عبرت اس لیے کہ اورنگ زیب عالمگیر کے جانشینوں کی عشرت پسندی،عاقبت اندیشی اور امور سلطنت کی طرف سے بے نیازی اس کی نشاندہی کرتی ہے۔ سیاسی و ذہنی انتشار کا اثرعام زندگی ، خارجی حالات اور شعرائے کرام پر بھی پڑا، جس کی عکاسی و تصویر کشی ان کے کلام میں نمایاں ہیں۔ غلام ہمدانی مصحفی جیسا شاعر بھی ملک کے بدلتے ہوئے حالات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا اور ملک گیری کی ہوس کا جو منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اس کا اظہار اس شعر میں یوں کیا ہے۔
ہندوستاں کی دولت و حشمت جو کچھ کہ تھی
کافر فرنگیوں نے بہ تدبیر کھینچ لی
اب آئیے صاحب مذکور کی شاعری کی طرف۔ ظفر کے شعری ذوق کی تربیت قلعہ معلی کے صاف ستھرے اور خوش گوار ماحول میں ہوئی۔ قلعہ معلی ان دنوں شعر و سخن کا مرکزتھا۔ بہادر شاہ ظفر کی سرپرستی میں شب و روز شعر و شاعری کی محفلیں گرم رہتی تھیں۔ شاہ نصیر، محمد ابراہیم ذوق، حکیم مومن خان مومن، مرزا اسد اللہ خاں غالب اور نواب مصطفی خاں شیفتہ جیسے بلند پایہ شاعر ان محفلوں میں شریک ہوتے تھے۔
شاعری کے لیے جس درد و گداز کی ضرورت ہوتی ہے، بادشاہوں اور شعرو سخن کے سرپرستوں میں اس کا فقدان ہوتاہے۔ مگر ظفر دولت درد سے محروم نہیں تھے۔ سیاسی انتشار کے اس ماحول میں حکومت کے زوال کے آثار، اغیار کی سازشوں اور اپنوں کی بیوفائی کے مظاہر ان کے سامنے تھے۔ چنانچہ آفات و مصائب کی اس یلغار نے ان کے ہاں درد کی اس کسک میں اضافہ کیا اور ان کا یہ درد شعر کے پیرایہ میں ڈھلنے لگا۔
بہادر شاہ ظفر نے اگرچہ مختلف ادوار میں شاہ نصیر، محمد ابراہیم ذوق اورمرزا غالب جیسے اساتذہ فن سے اصلاح لی، مگر انھوں نے اس میں کسی کا رنگ قبول نہ کیا۔ شاہ نصیر کی سی مضمون آفرینی، ذوق کی محاورہ بندی اور غالب کی بلند تخیلی اور فلسفیانہ گہرائی ان کے کلام میں نہیں ہے تاہم ان کی شاعری کا ایک اپنا الگ رنگ ہے جو ان اساتذہ سے بالکل جدا ہے۔
شاعر مذکور نے اپنی غزل میں دنیا کی بے ثباتی، پندونصیحت، عاشقانہ معاملہ بندی، رندی و شوخی اور تصوف کے مضامین کو بڑی خوبی سے شعر کا جامہ پہنایا ہے۔ ان کا کلام سادگئ بیان اور سلاست زبان کا نہایت عمدہ نمونہ ہے ؂
اے اسیر خانہ زنجیر
تم نے یاں غُل مچا کے کیا پایا
ان کی شاعری میں جرأت جیسی شوخی اور معاملہ بندی بھی پائی جاتی ہے ؂
آپ کا کیا جائے گا ،گر خواب میں آؤ گے تم
نیند آنکھوں سے ہماری رات بھر اُڑ جائے گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شیشہ خالی ہو تو خُم پاس دھرا ہے لبریز
خم جو خالی ہو تو نزدیک خرابات بھی ہے
بہادرشاہ کی زندگی رنج و الم میں گزری۔ ان مصائب کا اثر ان کے کلام پر بھی پڑا۔ ان حالات کی جھلکیاں جن اشعار میں ملتی ہیں وہ بڑے پُردرد ہیں ؂
نہ بجھا سوز دل جب آنکھوں سے
ہم نے دریا بہا کے کیا پایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جابسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں
بہادر شاہ ظفر کے تخت نشینی کے پچیس سال کے عرصے میں ان کے شاہانہ عروج و زوال اور شاعرانہ فنکاری، مذاق سخن اور معیار فن کا جائزہ لیا جائے تو ان کے عہد کی عکس ریزی اور ان کی شخصی و ذاتی زندگی کی نمائندگی ان کے کلام میں بکھری ہوئی ملے گی۔ وہ خود کہتے ہیں ؂
ظفر شعر و سخن سے راز دل کیونکر نہ ہو ظاہر
کہ یہ مضمون سارے دل کے اندر سے نکلتے ہیں
بلا سے گرچہ ہوتا راز دل افشا ہے رونے میں
نہ روکو رونے سے، مزا آتا ہے رونے میں
مرزا غالب جو ظفر کے ہم عصر ہیں بھلا اپنے ماحول سے کس طرح متاثر نہ ہوتے۔ انھوں نے بھی اس مضمون کا شعرکہا ہے ؂
کھلتا کسی پہ کیوں میرے دل کا معاملہ
شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے
ظفر کے بعض اشعار خالص وار داتی ہیں۔ ان کی زبان آساں ہے۔ انھوں نے فارسی کے غیر مانوس تراکیب اور الفاظ سے پرہیز کیا ہے۔ اپنے حالات کی عکاسی کے علاوہ ظفر نے اپنے دور کے سیاسی حالات کی طرف بھی اشارے کیے ہیں ؂
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید تھی لکھی فصل بہار میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
لے گیا چھین کے کون آہ!ترا صبر و قرار
بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی
سراج الدین بہادر شاہ ظفر نام کے بادشاہ ہونے کے باوجود وقت کی نبض کو خوب پہچانتے تھے۔ وہ ہوا کا رُخ سمجھ چکے تھے اور انھیں معلوم ہو گیا تھا کہ اس ظاہری مسرت اور خوش باش زندگی کی تہہ میں آلام و مصائب کے کتنے طوفان پھٹ پڑنے کو تیار ہیں۔ لہٰذا وہ کہتے ہیں ؂
میرا رنگ و روپ بگڑ گیا میرا یار مجھ سے بچھڑ گیا
جو چمن خزاں سے اجڑ گیا میں اُسی کی فصل بہار ہوں
نہ تو میں کسی کا حبیب ہوں نہ تو میں کسی کا رقیب ہوں
جو بگڑ گیا وہ نصیب ہوں جو اجڑ گیا وہ دیار ہوں
ظفر نے سادگی کے علاوہ اکثر جگہ مشکل مشکل بحریں اور سخت قافیے و ردیفیں بھی استعمال کی ہیں ؂
جاتے ہو آج تم جہاں لے چلو ساتھ ہم کو واں
بیٹھے رہیں گے مہرباں ہم بھی کہیں الگ تھلگ
الغرض بہادر شاہ ظفر کی شاعری میں سادگی اور سلاست ہے۔ بے ثباتئ دنیا کا ذکر ہے۔ اپنے دکھ درد کا بھرپور بیان ہے۔ تصوف کے اشعار بھی مل جاتے ہیں۔ اخلاقی درس بھی ہے۔ اپنی بے بسی اور بے چارگی کا بیان بھی۔ اپنے نالہ و شیون میں بڑی گہرائی ہے ؂
ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانیے گا ہو وہ کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خلاصہ یہ کہ سراج الدین بہادر شاہ ظفر سلطنت تیموریہ کے مرثیہ خواں بھی ہیں اور حرماں نصیب شاعربھی۔ ان کی زندگی سیاسی حادثات و المیہ واقعات کا آئینہ ہے اور ان کا کلام دہلی کی تہذیبی و تاریخی سرگذشت کا مرقع۔ اس سے بڑھ کر ان کا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ وہ خود کہتے ہیں ؂
مجھ سے کیا پوچھتے ہو، غم سے ہی پوچھو میرے
جیسے میں غم زدہ ہوں کوئی بشر اور بھی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لگتا نہیں ہے جی مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں

بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید تھی لکھی فصل بہار میں
عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے، دو انتظار میں
سراج الدین بہادر شاہ ظفر بر صغیر ہندو پاک کے بے اختیار آخری تاجدار اور اقلیم سخن کے مقتدر بادشاہ تھے اور قلعہ چار دیواری میں بند رہتے ہوئے بھی شعر و شاعری کے لیے نئی نئی راہیں اور نئی زمینیں نکالتے تھے۔ غزل کہنا، اردو کی سرپرستی کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا اور انھوں نے چار ضخیم دیوان یادگار چھوڑے ہیں۔
****

حمیرا اشفاق
بہادر شاہ ظفر ؔ کا خط بنام ’’ کلثوم زمانی ‘‘
۱۸۵۷ء کی سیاسی بغاوت کے بعد، میرٹھ سے فوجی دہلی پہنچے اور آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں انگریزوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیاگیا۔ جس کی پاداش میں بہادر شاہ ظفر کو میانمار کے مانڈلے میں نظر بند کردیا گیا۔ جہاں انھیں اپنے آخری ایام کسمپرسی کی حالت میں بسر کرنے پڑے۔ نظر بندی کے اس دور کی تفاصیل ان کے خطوط میں عیاں ہیں۔ ان خطوط کی روشنی میں بہادر شاہ ظفر ؔ کی ذہنی شکست وریخت کا اندازہ بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
کلثوم زمانی ، بہادر شاہ ظفرؔ کی بڑی بیٹی تھی اور وہ بھی انگریزوں کی قید میں تھی۔ خط وکتابت پر پابندی کے باوجود وہ اپنے والد کو ایک خط بھیجنے میں کامیاب ہوسکی۔ جس کے جواب میں بہادر شاہ ظفر ؔ نے مندرجہ ذیل مراسلہ تحریر کیا ۔
قید خانہ رنگون ، ۱۸ مئی ۱۸۶۰ء
پیاری بیٹی !
تم نے اپنے قیدی والد کو خط بھیجا ۔خط کیا تھا ، میری جان اور آنسوؤں کے نام تھا۔ جواں بخت (بیٹا) نے پڑھ کر سنایا۔ ایک دفعہ سنا تو جی نہیں بھرا، پھر کہا ، بیٹاپھر سنانا، پھر سنا وہ بھی رویا میری آنکھیں بھی آنسوؤں سے بھیگ گئیں۔ کہا ، بابا ایک دفعہ اور پڑھو۔ کیا لکھواؤں بیٹی کہ مجھ پر تمہارے خط کا کیا اثر پڑا۔ تین دفعہ سننے کے بعد بھی دل کو قرار نہیں آیا۔ سچ کہتی ہو میری جان ! دہلی والے مجھ کو روتے ہوں گے تو کیا یہ نہیں جانتے کہ میں بھی ان کو روتا ہوں۔ میں تو زندہ بیٹھا ہوں وہ تو بغیر آئی موت مر گئے۔ کتنوں کے و الد، کتنوں کے بیٹے ، کتنوں کے بھائی پھانسیوں پر چڑھ گئے۔ کتنے بچے یتیم ہوگئے ، کتنی عورتیں بیوہ ہوگئیں ،گھر لُٹ گئے، نہیں بلکہ کھد گئے اور ان پر گدھوں کے ہل چل گئے ۔ دہلی میں جب میرا مقدمہ ہورہا تھا ، اسی زمانے میں تباہی اور بربادی کے قصے سنے تھے۔ میرے یہاں آجانے کے بعد خبرنہیں اور کیا کیا آفت شہروالوں پر بپا ہوئی ہو گی۔ یہ سب میرے اعمال کی شومئی تھی۔ سپاہیوں نے بھی غضب کیا تھا۔ بھلا عورتوں اور بچوں کو مارنا کس مذہب میں آتا ہے؟ اب روئے یا ہنسے ، کوئی فائدہ نہیں۔
ایک دفعہ میں نے کہا : یہاں بارش بہت ہوتی ہے ، ٹپکتا ہے ، بوچھاڑیں آتی ہیں ۔ کوئی اور مکان ہونا چاہیے تو جواب ملا : کیاتمہارے واسطے لال قلعہ منگوایا جائے ، یہاں تو لکڑی کے ایسے ہی مکان ملتے ہیں۔ اس سے اچھا کوئی مکان نہیں ہے۔ جواب سن کر اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ ملکہ نے کہا کہ جواب دینا چاہیے کہ یہاں لکڑی کے مکان بھی اس مکان سے دس درجے اچھے ہیں۔ مگر میرا دل زخمی ہوگیا ہے ٹھیس لگی ، آنکھوں میں آنسو آگئے اور خاموش ہوگیا ۔ ایک دفعہ بنگال کے کوئی زمیندار ملنے آئے۔ میرا کلام مانگا ۔ میں نے ایک غزل جواں بخت سے لکھوا کر دے دی۔ وہ باہر گئے تو ان کی تلاشی ہوئی اور مجھ پر الزام عائد کیا گیا کہ غزل دینے کا آخر مقصد کیا تھا۔ قیدیوں کو کوئی تحریر دینے کی اجازت نہیں ہے۔ ملکہ کو پھر غصہ آیا مگر میں نے کہا کہ ناحق خفا ہوتی ہو۔ خدا نے قیدی بنایا تو سب کچھ سہنا ہوگا۔ ایک دفعہ عید کے دن کچھ مسلمان چند تحفے لے کر آئے۔ میں نے کہا: بھائی یہ تحفے تو میں نہیں لے سکتا۔ انھوں نے اصرار کیا تو میں نے مجبوراً لے لیا اور اس کے بدلے ملکہ کا ایک ہار ان کو دے دیا۔ دوسرے دن حکم آیا کہ ان کے پاس جواہرات بہت زیادہ ہیں،ا ن کو جو خرچ دیا جاتاہے ، آج سے نصف کردیا جائے اور ایسا ہی ہوا۔ بیٹی ایک بات ہو تو لکھواؤں ۔ روزانہ ایسی ہی باتیں ہوتی ہیں۔ اب تو کلیجہ پتھر کا ہوگیا ہے۔ بہت پہلے اثر ہوتا تھا ، کئی کئی وقت رنج اور صدمے کے سبب کھانا نہیں کھاتا تھا مگر اب عادت سی ہوگئی ہے۔ بھوک تو دہلی میں ہی کم ہوگئی تھی، یہاں کی فضا ایسی ہے کہ کئی کئی دن کچھ نہیں کھاتا۔ شاعری میں اشکِ غم پینا اور لختِ دل کو کھانا سنا تھا۔ یہ روز مرہ کا کام ہے۔ اچھا بیٹی ! اب زیادہ لکھوایا نہیں جاتا۔ خدا اگر تمہیں یہاں لایا اور تم میری زندگی تک یہاں آگئی تو دل کی بات کہوں گا اور دل وجگر میں جہاں جہاں زخم ہے دکھاؤں گا ۔ کیا خبر یہ خط تم کو ملے گا بھی یا نہیں ؟ بس بیٹی! اللہ بس باقی ہوس خط تمہارے قیدی باپ نے لکھوایا۔