ملتان کی ادبی و تہذیبی زندگی میں صوفیائے کرام کا حصہ
ڈاکٹر عقیلہ بشیر
صوفی کا تعلق عربی لفظ صفا سے ہے۔ جس کے معنی خالص کے ہیں۔ صف کا مطلب سلسلہ، مرتبہ یا مقام و ترتیب اور صوف سے مراد اُون ہے۔ قدیم اسلامی دور میں وہ مسلمان درویش جو اُونی لباس پہنا کرتے اور بہت سادہ زندگی گزارتے، صوفی کہے جاتے تھے۔ وہ قرآن و حدیث کے مطالعہ میں مصروف رہتے اور قناعت کی زندگی بسر کرتے تھے۔
تصوف کی اصل کا سلسلہ تو خود پیغمبر اسلامؐ کی ذات سے ملتا ہے لیکن آٹھویں صدی عیسوی کے اختتام تک تصوف میں ایک نیا ارتقاء رونما ہونا شروع ہوا۔ یونانی، ایرانی، ویدانتی اور یورپی اثرات یہ تبدیلی لانے کا سبب بنے۔ جوگی اور درویش عارف باللہ ہوگیا۔ تقلید پرستوں نے جو اپنے آپ کو کٹر مسلمان کہلاتے تھے، ایسے صوفیوں کو بدعتی اور مذہبی عقائد کا مخالف قرار دیا۔ اس کے بعد ۱۳ویں صدی عیسوی میں تصوف کا شاندار دور آیا جس میں ایران کے تین صوفی شاعر عطار، رومی اور سعدی پیدا ہوئے۔ چودھویں اور پندرھویں صدی میں حافظ اور جامی نے ترتیب وار شہرت پائی۔
صوفیوں کے تین روحانی حلقہ ہائے خیال بھی ایجادیہ، شہودیہ اور وجودیہ کی تقسیم عمل میں آئی۔ اس تمام روحانی سفر میں پیر و مرشد کی رہنمائی مشعل راہ ہوتی ہے۔ مسلمانوں کی فتوحات کے سلسلے میں صوفیا کرام کثیر تعداد میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے سلسلے میں ہندوستان آئے۔ ان صوفیوں نے اسلامی کٹریت کو کبھی پسند نہ کیا اور باہمی رواداری اور مذہبی عقائد کی آزادی کے لیے آواز بلند کی۔ یہ بات تو طے ہے کہ صوفیوں نے رسمی یا تقلیدی مذہب کو رد نہیں کیا۔ بات صرف یہ ہے کہ وہ مذہب کے روایتی اور خشک اخلاقیاتی طرزِ عمل سے مطمئن نہیں تھے۔ وہ انسانی وجود کے مختلف زاویوں کا گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہتے تھے۔ یہ مطالعہ تب ہی ممکن تھا جب پانچوں حواس مسدود ہوں۔ یہی باطن کی دنیا تھی جہاں کائناتی تمنا کی تکمیل ہوتی ہے۔ صوفیا کرام نے اس تکمیل کی خاطر انسانی آسودگی کے لیے کوشش کی اور اس جہد مسلسل کی وجہ سے حیاتِ انسانی ابدی مسرت کس طرح سے حاصل کر پائی؟ اس کا احاطہ کرنے کے لیے اس تحقیقی پراجیکٹ پر کام کرنے کی ضرورت پیش آئی۔
اس وقت میرے پیشِ نظر ڈاکٹر روبینہ ترین کی کتاب ’’ملتان کی ادبی و تہذیبی زندگی میں صوفیائے کرام کا حصہ‘‘ ہے۔ انھوں نے شعبۂ اردو بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ۱۹۸۲ء میں ایک ریسرچ پراجیکٹ کے تحت اس پر کام شروع کیا جس پر انہیں ۱۹۸۶ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری دی گئی۔ اگر اس موضوع اور کتاب کے عنوان کو دیکھیں تو یہ امر بہت مشکل دکھائی دیتا ہے کہ اس حوالے سے جذبے کو الگ رکھ کر خالصتاً تحقیقی نظر ڈالی جائے لیکن ڈاکٹر روبینہ ترین نے اسے بہت احسن طریقہ سے یوں مکمل کیا کہ ایک طرف اسے اپنے لیے سعادت کا حصول سمجھا اور دوسری طرف ایک محقق کے منصب پر بھی آنچ نہ آنے دی۔ کوئی بھی تحقیق عزم اور استقامت کے بغیر ممکن نہیں اور ڈاکٹر صاحبہ نے اس کاوش کو بھی صوفیاء کی دین قرار دیا لیکن اس عقیدت کے باوجودانھوں نے ماورائے شعور چیزوں کو مسترد کرکے اپنے تھیسس کی بنیاد اہلِ فکر کی دانش اور نادر قلمی نسخوں اور بنیادی حوالہ جات سے استفادے پر رکھی۔ یوں انہوں نے جو نتائج اخذ کیے ان پراختلاف کی بہت کم گنجائش نکلتی ہے۔
چار ابواب پر مبنی اس کتاب میں ذیلی عنوانات کے تحت موضوع کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ کیا گیا ہے۔ باب اول میں ملتان کی قدامت اور سیاسی تاریخ کو اس طرح پیش کیا ہے کہ ذہن میں اٹھنے والے بے شمار سوالوں کا تسلی بخش جواب مل جاتا ہے۔ مثلاً ملتان کے قدیم نام، عرب اور ہند کے تعلقات، قبل از اسلام اور عہدِ رسالت میں ان تعلقات کی نوعیت۔ یہاں کی اشیاء سے اہل عرب اور آنحضورؐ کی محبت اور پسندیدگی کے بارے میں تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ ملتان کی تہذیبی اشیاء، لباس اور بعض خوراک کے اجزا عربوں کے مزاج میں شامل ہونا شروع ہوگئے تھے۔ عرب اور ہند کے باشندوں میں اگر کوئی ذہنی یکجہتی تھی تو یقیناًاس کی کوئی ایسی ٹھوس وجہ ضرور رہی ہو گی جس کی وجہ سے جغرافیائی وسعتیں سمٹ گئیں۔ ڈاکٹر صاحبہ ا س ذہنی ہم آہنگی کی وجہ اصنام پرستی، مظاہر پرستی اور کواکب پرستی کو قرار دیتی ہیں۔ ملتان کا بت ہندوستان کے ان بتوں میں شامل تھا جس کی یاترا کرنے کے لیے عرب کے لوگ ہندوستان کا رخ کرتے تھے۔ محمد بن قاسم کے بعد ملتان کی صورتحال کو واضح کرنے کے لیے انہوں نے ابو ظفر ندوی کی تاریخِ سندھ، ڈاکٹر مہر عبدالحق کی ملتانی زبان اور اس کا اردو سے تعلق، تاریخ فرشتہ، چچ نامہ اور نقش ملتان سے استفادہ کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ لسانی اعتبار سے ۱۱۱ھ میں ملتانی زبان سندھی زبان سے علیحدہ ہو کر آزادانہ طور پر ارتقاء پانے لگی۔ انہوں نے ملتان کی قدامت کو مسلمہ قرار دیتے ہوئے اسے موہن جوڈارو، ہڑپہ اور بابل و نینوا کی تہذیب کے ہم عصر ثابت کیا ہے۔ اس سلسلے میں معروف محقق اور ماہر آثار قدیمہ ابن حنیف ملتان کے موعودہ مقام پر پہلی بستی کم از کم ساڑھے پانچ ہزار سال قبل کے لگ بھگ بتاتے ہیں۔ اسی طرح علامہ عتیق فکری کے بقول ملتان کے علاقے کی قدامت ۴۰۰۰ قبل مسیح تک چلی جاتی ہے۔ یہاں ڈاکٹر صاحبہ نے یونانی، فرانسیسی، برطانوی، چینی اور عربی سیاحوں کے بیانات کی روشنی میں ملتان کی مذہبی، معاشرتی اور تہذیبی زندگی کا جائزہ لیا ہے۔ یہ وہ سفر نامے ہیں جو ان سیاحوں نے چوتھی صدی میں قبل مسیح سے لے کر انیسویں صدی کے وسط تک قلم بند کئے ہیں اور یہ وہ تفصیلات ہیں جو تاریخ میں رقم نہیں۔ یہاں انہوں نے بہت سے محققین کی تحقیق سے بھی استفادہ کیا ہے۔ خصوصاً سرزمین ملتان میں لسانی تشکیلات کے عمل کے حوالے سے جس پر بعد میں ان کی ایک اور کتاب (ملتان میں لسانی تشکیلات کا عمل) مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد سے۲۰۰۴ء میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب زبان اردو کی تشکیل سے متعلق معلومات کا منبع ہے البتہ ملتان اور گرد و نواح میں قرامطہ کے زیرِ اثر جو بغاوت ہوئی اس کے بیان میں قدرے تشنگی کا احساس ہوتا ہے۔ وہاں زیادہ تر ثانوی معلومات پر انحصار کیا گیا ہے لیکن کتاب کے اصل موضوع یعنی ملتان میں صوفیاء کا دور اور ان کی خدمات بارے مصنفہ نے دسویں صدی سے پہلے اور دسویں صدی کے بعد کے صوفیا کرام کا احوال، تعلیمات، اردو زبان و ادب کی ترویج میں ان کی خدمات اور ان کے زبان و ادب پر اثرات کا بھرپور تحقیقی جائزہ پیش کیا ہے۔
یقینی طور پر مصنفہ کو ان کے سن پیدائش، سن وفات اور خاندانی پس منظر کے بارے میں تحقیق کرتے ہوئے ضرور دِقت پیش آئی ہوگی جس کا اندازہ کتاب میں شامل حواشی سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ ان بزرگوں سے متعلق فرضی کہانیوں کو ڈاکٹر صاحبہ نے سرے سے نظر انداز کردیا جو ان کی محققانہ تحقیق کے پیش نظر مستحسن تھا۔ بزرگوں کے خاندانی کتب خانوں کا ذکر ناقدین اور محققین کے لیے بھی دلچسپی کا حامل ہے۔ مصنفہ نے جہاں اس خزانے پر سے پردے اٹھائے ہیں وہاں مزارات کے فنِ تعمیر کے حوالے سے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ اس دوران بہت سے صوفیا کرام کے قلمی نسخوں تک بھی ان کی رسائی ہوئی چنانچہ انہوں نے اپنی کتاب میں جابجا ان کے کلام سے مثالیں دے کر ان کے خیالات کی ترجمانی کی ہے جس میں اخلاق و معارف کے بے شمار مضامین ادا ہوئے ہیں ۔ اس کے علاوہ عشق کی فضیلت، فقر و قناعت، عشقِ حقیقی میں معشوق کا کردار اور اس کا منصب کا بیان بھی ملتا ہے اور چونکہ تمام جذبے نظم کیے گئے ہیں اس لیے ان کا تاثر دوچند ہو جاتا ہے۔
دسویں صدی ہجری کے بعد تصوف کا سلسلہ حضرت حافظ جمال، حضرت خواجہ سلیمان تونسوی، حضرت خواجہ غلام فرید، حضرت خواجہ خدا بخش اور غلام حسن شہید وغیرہ کی بدولت نہ صرف قائم رہا بلکہ آگے بڑھتا رہا۔ اس دور کے ملفوظات زیادہ تر فارسی ہی میں ہیں لیکن ان میں سے اکثر کے تراجم ہوچکے ہیں اور کچھ صوفیاء کا اردو کلام بھی دستیاب ہے۔ یہ وہ دور ہے جب ایک طرف تصوف نے تہذیبی اور علمی سطح پر دیرپا نقوش مرتسم کیے جبکہ دوسری جانب عالمی سطح پر مسلمانوں کے مادی اور دنیاوی زوال کا سلسلہ بھی شروع ہوا اور بیسویں صدی میں یہ زوال اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ برصغیر میں مسلمانوں کی اس پسماندگی کے دور میں جو باعمل اور باعلم صوفیا کا گروہ سامنے آیا وہ اگرچہ اس پورے علاقے میں روحانی اور اخلاقی قدروں کی نشو و نما کے لیے سرگرم تھا مگر اس کتاب میں موضوع کے مطابق صرف سرزمین ملتان سے متعلق صوفیا کرام کا ذکر کیا گیا ہے اردو شعر و ادب کی ترویج کے سلسلے میں صوفیا کرام کی خدمات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ مثلاً حافظ محمد جمال کے اسلوب کے حوالے سے انہوں نے ایسے الفاظ کی نشاندہی کی ہے کہ جو بیک وقت سرائیکی اور اردو میں مشترک طور پر مستعمل ہیں۔ ان کے ہاں الفاظ کا ذخیرہ ثابت ہے کہ وہ اردو زبان سے کماحقہ، واقفیت رکھتے تھے اور اگر ان کا دیوان دستیاب ہوجاتا تو یقیناًاس میں اردو کلام بھی شامل ہوتا۔
اِسی طرح حضرت خواجہ خدا بخش کی گفتگو میں ادبیت کا رنگ تلاش کیاگیا ہے جو اشاروں اور کنایوں سے مزین ہے اور ان کی اس صفت کی نشاندہی کی ہے کہ وہ اپنی بات کم عقل اور جاہل لوگوں تک قصوں، شعروں یا حکایتوں کے ذریعے پہنچاتے۔حضرت خواجہ سلیمان تونسوی فارسی زبان میں شاعری کرتے تھے۔ آپ کا سرائیکی، اردو کلام موجود نہیں ہے۔ ان کے ملفوظات سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ آپ شعر و شاعری کا اعلیٰ ذوق رکھتے تھے۔
منشی غلام حسین شہید کی ایک مثنوی جو فارسی زبان میں لکھی گئی، اس کا قلمی نسخہ ڈاکٹر صاحبہ کے پاس موجود ہے۔ انہوں نے منشی غلام حسین شہید کے قلمی دیوان کا بھی ذکر کیا ہے جس میں اردو، پنجابی، سرائیکی اور ہندی زبان کے شعری نمونے موجود ہیں۔ یہاں اردو غزل میں مخلوط ڈکشن کی انہوں نے کئی مثالیں بھی دی ہیں۔ وہ خواجہ غلام فرید کو سرائیکی میں وہی مقام دیتی ہیں جو عربی میں امراؤ القیس، فارسی میں حافظ اور رومی، انگریزی میں ورڈز ورتھ، کیٹس اور اردو میں درد، میر، غالب اور اقبال، بنگلہ میں نذر السلام، پنجابی میں شاہ حسین اور وارث شاہ، پشتو میں رحمان بابا اور خوشحال خان خٹک اور سندھی میں سچل سرمست اور شاہ عبداللطیف بھٹائی کو حاصل ہے۔ کتاب کے چوتھے باب میں ڈاکٹرروبینہ ترین نے ملتان کے فنونِ لطیفہ پر صوفیا کے اثرات کا جائزہ لیا ہے۔ جس میں بزرگوں سے اس شہر کے لوگوں کی محبت و عقیدت کے اظہار کے طور پر نقاشی، کاشی گری اور خطاطی کا بطورِ خاص ذکر کیا ہے۔ فنِ تعمیر کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیاہے۔ عرس اور میلے جو تہذیب و ثقافت کے حوالے سے زندگی کا ایک اہم حصہ ہیں۔ یہاں اس کا ذکر موجود ہے اگرچہ قدرے مختصر۔ ا س کے علاوہ مدرسے اور خانقاہوں کے حوالے سے ملتان کی تعلیمی، تدریسی اور علمی زندگی پر صوفیاء کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے اس حقیقت کی نشاندہی کی ہے کہ ان بزرگوں نے لوگوں کے ذہن سے ضعیف الاعتقادی کو نکالا اور انہیں روشن مستقبل کی راہ سمجھائی۔ انہوں نے فن کی قدر کی اور جو درسگاہیں اور مدرسے قائم کئے ان میں فلسفہ و منطق، ہیئت، حساب، الجبرا، جیومیٹری، تاریخ اور طب کی تدریس شروع کی۔
اخبار اردو کے نام
مجھے اخبار اردو ملا ۔ بہت خوبصورت کاوش ہے ۔ دیدہ زیب بھی اور فکر انگیز بھی۔ یوں تو بہت سے ادارے اردو کی خدمت کر رہے ہیں لیکن ابھی تک ان کا کوئی خاطر خواہ اثر نہیں ہوا ۔ کم از کم آپ کی یہ کاوش لوگوں میں اتنا اعتماد تو پیدا کرے گی کہ اردو کے دامن میں کتنی گنجائش ہے ۔
------
پروفیسر رضی عابدی ،لاہور

’’
اخبار اردو ‘‘ شمارہ دسمبر ۲۰۱۱ء میرے پیش نظر ہے۔ میں اپنے آپ کو خوش قسمت تصور کرتا ہوں کہ اس وقیع اور قابل قدر علمی ،ادبی او ر تحقیقی مجلہ کے قارئین میں سے ہوں۔ ’’اخبا ر اردو ‘‘بلا شبہ ہشت پہلو ہیرا ہے جس کا علمی ، ادبی، تحقیقی اور فنی افق زیادہ ہی درخشندہ ہے۔ اس کی تحریریں ہر اعتبار سے ثروت مند اور لائق مطالعہ ہیں۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران اس مجلہ کو خوب صورت اور نئی جہتیں عطا کی گئی ہیں۔ تجربات جہاں جدت عطا کرتے ہیں وہاں ان سے فکر و نظر اور بہتری کے نئے پہلو بھی بر آمد ہوتے ہیں۔ ما شا ء اللہ آپ نے ’’ اخبار اردو ‘‘ کو ایک نئی سمت اور ڈگر پر چلا دیا ہے۔ کتب و جرائد کی پسپائی کے اس ماحول اور دور میں ’’اخبار اردو ‘‘ ہوا کا تازہ جھونکا اور امید افزا کرن ہے۔ اللہ تعالی آپ سب کو مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے ۔ آمین
------
پروفیسر غازی علم الدین ،آزاد کشمیر