اردو اور علاقائی زبانیں
ڈاکٹر عظمی سلیم
انسان، زبان اور معاشرہ آپس میں گہرا ربط رکھتے ہیں۔معاشرے کی تخلیق انسان کی بدولت ہے اور انسان اپنے نطق اور زبان ہی کی بدولت معاشرے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔یہ رشتہ ازل سے ابدتک جاری رہے گا۔
اس حقیقت کو ادب کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ اہم ترین موضوع بن کر ہمارے سامنے آتا ہے۔ادب کی جس صنف پر بھی نظر ڈالی جائے، کوئی عہد، کوئی تحریک، کوئی زمانہ اس پر اثر انداز ہوتا ہے۔ کہیں اس کو زیادہ اور کہیں کم اہمیت ملتی ہے۔لیکن لسانیات کا موضوع ایسا ہے کہ ادب کی اولین تخلیق سے لے کر آج تک موضوعِ بحث ہے اور ہمیشہ رہے گاکیونکہ زبانیں زمانے کے ساتھ چلتی ہیں اور زمانے کی تبدیلی ان پر لازماً اثر انداز ہوتی ہے۔ زبانیں ہمیشہ ارتقائی عمل کا شکار رہتی ہیں۔اسی ارتقائی عمل کے نتیجے میں زبانوں کی تخلیق اور تازہ کاری کا عمل بھی جاری رہتا ہے، جو اس موضوع کو جمود کا شکار نہیں ہونے دیتا۔
کسی بھی معاشرے کے ادب پر یہ تمام دلائل صادق آتے ہیں۔ ادب کی تخلیق کے سلسلے میں قومی زبان کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔خصوصاً پاکستان میں اردو نے ہمہ گیریت کا جو علم گزشتہ چونسٹھ برسوں سے بلند کیے رکھا ہے، وہ قابلِ ستائش ہے لیکن اس ہمہ گیریت میں غیر محسوس انداز میں علاقائی زبانوں کی شرکت جس انداز سے جاری ہے، اس جانب بھی توجہ ضروری ہے۔
قومی زبان کو اگر اس بڑے دریا کے مانند تصور کیا جائے، جو اپنی پوری شدومد کے ساتھ بہتا ہے ، تو علاقائی زبانیں ان چھوٹے ندی نالوں کے مانند ہونی چاہئیں جن کا بہاؤ نشیب کی طرف ہونے سے لامحالہ وہ اس دریا میں آ ملتی ہیں۔۔۔یا پھر اردو کو ایک تناور درخت مان لیا جائے، جس کی جڑیں مضبوط اور دور دور تک پھیلی ہیں، لیکن اس پھیلاؤ کے ساتھ ہی اس کے سائے میں درخت کی شاخیں بھی موجود ہیں، جو مزید شاخوں میں تقسیم ہوتی چلی جاتی ہیں۔آپ کسی ایک شاخ کو کاٹ کر پھینک دیجیے، وہ اپنا راستہ پھر سے بنا لے گی اور کسی اور شکل میں نمودار ہو جائے گی۔اس شاخ تراشی کے عمل میں کبھی کچھ شاخیں ایک دوسرے سے قریب ہو کر گزرتی ہیں اور کبھی دور۔۔۔پھر انہی شاخوں پر نئی کونپلیں اور نئے پھول کھلتے ہیں، جو ہماری توجہ اپنی جانب کھینچ لیتے ہیں۔ کبھی یہ پھول دیر تک کھلے رہتے ہیں اور کبھی جلد مرجھا جاتے ہیں۔ زبانوں کی مثال انہی شاخوں اور کونپلوں کی سی ہے۔نمو کا یہ عمل مدت سے جاری و ساری ہے۔ اس میں تبدیلی تو ممکن ہے، لیکن تنے کو جڑ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ یہی قومی اور علاقائی زبانوں کے آپس میں تعلق کی بنیاد قراردی جا سکتی ہے۔
پاکستان وہ نعمتِ الٰہی ہے جو تہذیب و ثقافت کی رنگا رنگی سے مالا مال ہے۔ اس کے مختلف صوبے، مختلف ثقافتوں کے علمبردار ہیں۔یوں پاکستان وہ کل ہے، جس کے مختلف علاقے اس کے اجزا کے طور پر اس میں شامل ہو کر اس کل کو مکمل کرتے ہیں لیکن تمام ملک کے مقابلے میں جو رنگا رنگی اس کے شمالی خطوں میں موجود ہے، وہ یقیناًمنفرد ہے۔
تہذیبی اور لسانی اعتبار سے یہ علاقے ایک جنگل کی مانند ہیں، جو دور دور تک پھیلا ہوا ہے۔ماضی میں یہ فاصلے زیادہ سہی، لیکن اب اس جنگل میں دوسری تہذیبوں کے پھیلاؤ کے نتیجے میں جو راستے بنے ہیں، وہ پگڈنڈیوں سے کشادگی کی جانب سفر میں ہیں۔اس سفر کے نتیجے میں قومی اور علاقائی زبانوں کے رشتے بھی مضبوط ہو رہے ہیں، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اردو کے ساتھ ساتھ ان زبانوں کے کردار کو بھی عالمی تناظر میں پرکھا جائے؟
دنیا بھر میں شعری اور نثری اصناف میں اردو کے کردار پر نظر ڈالی جائے تو بلاشبہ ایک قابلِ فخر حصہ نظر آتا ہے۔نثر اور نظم میں اردو کی نسبت سے قابلِ ذکر نام بین الاقوامی منظر نامے پرچھائے ہوئے ہیں لیکن اب تک اردو اور علاقائی زبانوں کے رشتے اور کردار کو اس نقطۂ نظر سے نہیں دیکھا جا سکا کہ ادب میں بہ حیثیت مجموعی اس کا کتنا حصہ ہے؟اس کے برعکس محض تحقیقی موضوع سمجھ کر اس پر نظر ڈالی جاتی ہے۔ اگر ہم عالمی نثری یا شعر ی ادب پر نظر ڈالیں تو علاقائی زبانوں کے تراجم کی ایک واضح، مضبوط اور مربوط روایت دیکھنے میں آتی ہے، جب کہ ہمارے ہاں اس کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
یہ درست ہے کہ اُردو نے پاکستان کے ہر صوبے میں اپنی اثر پذیری کے ذریعے علاقائی زبانوں پر اپنا سکہ اس طرح جمایا کہ آج ان علاقوں میں اردو کی اہمیت واضح طور پر نظر آتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر شمال کے تمام تر خطے میں بولی جانے والی زبانوں اور ان کے ادب کا جائزہ لیا جائے تو اردو اور ان زبانوں کے ایک دوسرے پر اثرات بھی واضح طور پر نظر آتے ہیں۔نہ صرف یہ بلکہ زبانیں بھی ایک دوسرے کا اثر قبول کر رہی ہیں۔ جس طرح دنیا گلوبل ویلج بن گئی ہے اور انسان ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں، بعینہٖ زبانوں کی قربت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ قومی زبان، علاقائی زبانوں کا اثر قبول نہ کرے؟
اس ضمن میں ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ مستقبل میں یہ زبانیں موجودہ اور عالمی تناظر میں کس قسم کی تبدیلی کا شکار ہوں گی اور کیسے اثرات مرتب ہوں گے؟ فی الوقت ہماری سوچ کا محور یہ ہے کہ زبانوں میں کیا تبدیلیاں جاری ہیں؟ لیکن آئندہ کی تبدیلیوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ زبان میں تبدیلی ہی دراصل اس کی ترقی ہے۔لسانیات کے ایک نقاد کا قول ہے :
’’
زبان ایک سماج میں،ایک معاشرے میں، تاریخی ضرورتوں سے عمل میں آتی ہے۔ ‘‘
صدیوں پہلے کون جان سکتا تھا کہ پنجابی بولنے والے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے لاہور اور ملتان پر حملوں کے نتیجے میں ایک ایسے علاقے میں اردو کا رواج ہو گا، جہاں اس سے قبل بلتی، شینا اور بروشسکی جیسی زبانیں رائج ہوں گی، جن کا بہ ظاہر اردو سے کوئی تعلق اور واسطہ ہی نہیں لیکن آج ہم انہی علاقوں میں اردو کے ایک قابلِ ذکر کردار کا فخریہ اظہار کرتے ہیں۔
جاپان میں جب خوشی کے اظہار کے طور پر ہائیکو کا رواج ہوا تو کس نے سوچا ہو گا کہ ایک دن ہائیکو اردو اور اس کی علاقائی زبانوں کا جامہ پہن کر، سیاسی حالات کی تصویر بھی بیان کر رہی ہو گی۔ یہی زبانوں کے جدید رجحانات کی ایک گلوبل تصویر ہے، جس کے بہت سے خوب صورت رنگ بھی متوقع ہیں۔
آئندہ اردو کے عالمی ادب میں حصے اور کردار پر بات کرتے ہوئے ہمیں یہ پہلو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔بلکہ ایک شعوری کوشش کے ذریعے پاکستان کی تمام علاقائی زبانوں کے ادب اور ان کے تراجم کو ایک قابلِ ذکر مقام دینا چاہیے۔ کیونکہ اچھا ادب ہمیشہ روایات سے جڑا ہوتا ہے اور علاقائی روایات، تہذیب و ثقافت کے بہت سے پہلو ادب ہی کے ذریعے سامنے آتے ہیں۔پاکستانی ادب میں جب تک تمام علاقوں کی اس طور شرکت نہ ہو، مکمل پاکستان کی تصویر بن ہی نہیں سکتی۔
لہٰذاجائزوں، تقاریر، اجلاسوں اور کانفرنسوں سے آگے نکل کر اب ہمیں یہ اہم کام کرنے کی ضرورت ہے، جس کا تقاضا تمام علاقائی زبانیں کر رہی ہیں۔ہمیں قومی زبان کے ذریعے ان تمام زبانوں اور ان کے ادب کو ایک ثقافتی وحدت میں پرونا چاہیے۔ ایک ایسی وحدت جو ایک کل کی تصویر پیش کرے، اجزا کی نہیں۔اس فریضے میں افراد سے لے کران اداروں تک سبھی شامل ہیں،جو ملکی اور عالمی سطح پر پاکستانی زبانوں اور ان کے ادب کے کردار کو اجاگر کر سکتے ہیں۔ادب کو اس طور نمایاں کرنا بھی شاید ہمارے ان فرائض میں سے ہے، جن کو ہم صحیح طرح سے ادا نہیں کر پائے، تاہم اب بھی دیر نہیں ہوئی،شروعات تو کی ہی جا سکتی ہے۔
****

گارڈ پارٹیکل ) خدائی عنصر ( کی تلاش
کائنات کی تخلیق انسان کے لیے ایک ایسا معمہ رہی ہے جس کے رازوں سے پردہ اٹھانے کے لیے وہ ہمیشہ جوش اور ولولے کا اظہار کرتا رہا ہے۔ وہ اس کائنات میں وقوع پذیر ہونے والے تمام واقعات کو مکمل دلیل اور منطق کی بنیاد پر تسلیم کرنا چاہتاہے۔ اسی سلسلے کی ایک کوشش ’ ہگس بوسون‘ ، ’گاڈ پارٹیکل‘یا خدائی عنصر ‘کی تلاش ہے۔ یہ خدائی عنصر تخیلاتی لطیف عنصر ہے جسے اس کائنات کی تخلیق کی وجہ قرار دیا جارہا ہے۔ ہماری تمام کائنات انتہائی چھوٹے ذرات سے وجود میں آئی ہے ’ بگ بینگ ‘ یا عظیم دھماکے کے نظریے کے مطابق کسی وقت یہ کائنات بغیر کسی سمت کے وجود رکھتی تھی ۔ جہاں نہ کوئی آسمان تھا نہ زمین ، نہ مشرق نہ مغرب، تمام چیزیں ہوامیں معلق تھیں ،کسی چیز کا وز ن نہیں تھا۔ انتہائی لطیف عناصر کو ان کی خصوصیات کی بنیاد پر مستحکم اور غیرمستحکم اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ مستحکم عناصر جیسے کہ پروٹون ایک طویل مدت تک برقرار رہتے ہیں جب کہ غیر مستحکم عناصر اپنا رویہ تبدیل کرتے رہتے ہیں ۔ سائنسدانوں کے خیال میں ’ گاڈ پارٹیکل ‘ انتہائی غیر مستحکم عنصر ہے۔ وہ اس کائنات میں وقوع پذیر ہونے والے عظیم دھماکے ’ بگ بینگ ‘ کے وقت کچھ لمحوں کے لیے آیا اور تمام چیزوں کو کمیت /ماس دے کر چلا گیا۔
یورپی تنظیم برائے جوہری تحقیق نے فرانس اور سوئٹزر لینڈ کی سرحدوں پر زیر زمین واقع ’سرن‘ کی تجربہ گاہ میں ۷نومبر ۲۰۱۰ء کو ’ منی بگ بینگ ‘ کے لمحات کو پیدا کرنے کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ اس تجربے میں انتہائی باریک ذرات کو آپس میں ٹکرا کر اس لطیف عنصر کو تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جسے گاڈ پارٹیکل کا نام دیا گیا ہے۔ سائنسدان یہ مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں کہ جب پروٹون آپس میں ٹکرائے تو کیا کوئی تیسرا ایسا عنصر موجود تھا جس سے پروٹون اور نیو ٹرون آپس میں جڑجاتے ہیں اور جس کے نتیجے میں کمیت ، وجود میں آئی۔ ان تجربات کے نتائج نے طبیعات کے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے کیونکہ ستمبر ۲۰۱۱ء میں ان تجربات کے دوران ایسے ’ سب اٹامک ‘ ذرات کا پتا چلا ہے جو روشنی کی رفتار سے زیادہ تیز سفر کرتے ہیں۔ اس تجربے کو ’’اوپرا ‘‘کا نام دیا گیا ہے۔ اگر اس تجربے کی تصدیق ہوجاتی ہے تو اس سے مشہور ماہر طبیعیات آئن سٹائن کے نظریہ اضافت ، جسے جدید طبیعیات کا کلیدی اور بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے، کے ایک بڑے حصے کی تردید ہوجائے گی جس کے مطابق روشنی کی رفتار سے کوئی چیز آگے نہیں بڑھ سکتی۔ یہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا سائنسی تجربہ ہے۔ اس تحقیق پر اب تک اربوں ڈالر خرچ کیے جاچکے ہیں اور اس پر تقریباً آٹھ ہزار سائنسدان گزشتہ دو برس سے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ ان سائنسدانوں میں 27 پاکستانی سائنسدان بھی شامل ہیں۔