عالمی ادب سے ترجمہ
گوری ایک ، امیر کبیر خاندان کی خوبصورت اور نازوں کی پلی بیٹی تھی۔ اس کے شوہر پاریش نے اپنی ذاتی کاوشوں سے اپنی تنگ دستی دور کی اور ایک اچھے معاشرتی مقام پر فائز ہوا۔ جب تک وہ تنگ دست رہا گوری کے والد نے گوری کو اپنے گھر میں رکھا کیونکہ وہ اپنی بیٹی کو محرومیوں سے دوررکھنا چاہتے تھے۔ لہٰذا جب وہ اپنے خاوند کے گھر آکر آباد ہوئی تو وہ نوجوان نہیں رہی تھی۔ پاریش کو یہ احساس کبھی نہ ہوا کہ گوری کا تعلق اس سے ہے۔ وہ اپنے شہر کے مغرب کی طرف واقع ایک چھوٹی تحصیل میں وکالت کرتا تھا اور اس کا کوئی رشتہ دار اس کے ساتھ نہیں رہتا تھا۔ اس کی سوچوں کا محور محض اس کی بیوی تھی ۔ یہاں تک کہ وہ کبھی کبھار عدالت کا وقت ختم ہونے سے پہلے ہی گھر واپس آجاتا۔ ابتدا میں توگوری یہ سمجھنے میں ناکام رہی کہ یہ اتنی جلدی واپس کیوں آجاتا ہے اور کبھی وہ اپنے ملازمین سے کسی ایک کو بلاوجہ کیوں برطرف کردیتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی اسے زیادہ دیر تک نہیں بھاتا ، خاص طور پر اگر گوری کسی ملازم کو اس کے کارآمد ہونے کی وجہ سے برقرار رکھنا چاہتی تو جلد ہی اس کی برطرفی یقینی ہوتی۔ گوری ایک خوش مزاج خاتون تھی لیکن اس بات پر وہ اپنی خفگی کا اظہار کرتی اور اس کی خفگی اس کے شوہر کے رویے کو مزید خراب کردیتی ۔
پاریش نے اس بات پی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے خفیہ طریقہ سے گھر کی ایک ملازمہ سے گوری سے متعلق پوچھ گچھ شروع کردی۔ اس بات کا علم گوری کو ہوا تو اگرچہ وہ ایک کم گو خاتون تھی مگر اس ذلت پر اس کی انا مجروح ہوئی اور وہ ایک زخمی شیرنی کی طرح گرج اٹھی۔ دیوانگی پرمبنی یہ شک ان دونوں کے درمیان دشمن کی تلوار کی طرح حائل ہوگیا۔ پاریش کو جب یہ احساس ہوا کہ اس کی بیوی اس کا مطمح نظر سمجھ گئی ہے تو اس نے گوری کے سامنے بھی اس پر الزام تراشی سے گریز نہ کیا۔ اس تمام صورتِ حال کا سامنا گوری جتنی خاموشی سے کرتی اتنا ہی اس کا شوہر حسد کی آگ میں جلتا۔
اپنی ازدواجی خوشیوں سے محروم گوری اب اپنے سکونِ قلب کے لیے مذہب کی طرف راغب ہوئی اور اس نے اپنے قریبی مندر کے ایک نوجوان مبلغ پر امنند اسوامی کو بلایا ، اسے باقاعدہ اپنا روحانی گرو مقرر کیا اور اس سے مقدس گیتا کی تشریحات سننے لگی ۔ اس کے اندر کی عورت کی تمام محبت وچاہت ، احترام وعقیدت بن کر باہر نکلی اور وہ اپنے گرو کے سامنے سجدہ ریز ہوگئی۔
پرامنندکی پاکبازی سب پرعیاں تھی اور لوگ دل کی گہرائیوں سے اس کی عزت کرتے۔ چونکہ پاریش پر امننداسوامی کے خلاف کوئی بات کرنے کی جرأت نہ کرسکتا اس لیے اس کا حسد ایک کینسر کی طرح پاریش کو کھاتا رہا۔ کسی ایک معمولی سے واقعے سے اس کا لاوا پھٹ پڑا اور پاریش نے اپنی بیوی کے سامنے پرامنند اسوامی پردشنام طرازی شروع کردی اور اسے منافق کا درجہ دیتے ہوئے کہا : ’’ کیا تم قسم کھا سکتی ہو کہ تم اس’ سارس ‘ کی محبت میں گرفتار نہیں ، جس نے ایک گرو کا بہروپ دھارا ہوا ہے ؟ ‘‘
گوری اپنے شوہر کے شک کی وجہ سے دیوانی ہوگئی ، سانپ کی طرح پھن مارتی ہوئی ، اٹھی اور طنزیہ انداز میں بولی : ’’ اور اگر ایسا ہے تو؟ ‘‘ پاریش فوراً صحن میں چلا گیا اور گوری کو کمرے میں بند کردیا۔
غصے کی انتہا پر پہنچی ہوئی گوری ، کسی نہ کسی طرح کمرے کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوگئی اور گھر سے باہر چلی گئی ۔
پرامنند اسوامی اپنے کمرے میں تنہا بیٹھا کسی مذہبی کتاب کے مطالعے میں غرق تھا۔ شفاف آسمان سے روشنی کی طرح گوری اچانک اس کے کمرے میں نمودار ہوئی ۔
’’
تم یہاں ؟ ‘‘ گرو نے حیران ہو کر پوچھا۔
’’
اے مقدس گرو! مجھے اپنے گھر میں ہونے والی تذلیل سے بچائیں اور مجھے اپنے قدموں میں خدمت کرنے کی اجازت دیں۔ ‘‘
گرو نے انتہائی سختی سے سرزنش کر کے اسے گھر واپس بھیج دیا لیکن مجھے یقین نہیں کہ گرو ، اس کے بعد ، اپنے مطالعے کے تسلسل کو برقرار رکھ سکا ہوگا ۔
پاریش گھر واپس آیا ، دروازہ کھلا دیکھ کر اس نے پوچھا ’’ یہاں کون آیا تھا ؟ ‘‘
’’
کوئی نہیں !‘‘ اس کی بیوی نے جواب دیا ، ’’ میں اپنے گرو کے پاس گئی تھی ۔ ‘‘
’’
کیوں ؟ ‘‘ پاریش غصے سے لال پیلا ہوگیا۔
’’
کیونکہ میں ایسا کرنا چاہتی تھی ۔ ‘‘
اس دن سے پاریش نے گھر کے باہر ایک دربان بٹھا دیا اور گوری سے اپنا رویہ اتنا سخت کردیا کہ اس کے حسد کے قصے پورے علاقے میں مشہور ہوگئے۔
اپنی شاگرد کی تذلیل کی خبر پر امنند کی عبادت میں خل انداز ہونے لگی۔ اس نے سوچا کہ اسے فوراً یہ جگہ چھوڑ دینی چاہیے ۔ بیک وقت وہ اس بات پر بھی تیار نہ تھا کہ وہ اس مظلوم عورت کو ایسے وقت میں تن تنہا چھوڑ دے۔ کیا معلوم کہ وہ عبادت گزار عورت کس حال میں ہے؟
بالآخر اس محصور گوری کو ایک دن ایک رقعہ ملا جس پر لکھا تھا ، ’’ میری بیٹی ! یہ درست ہے کہ کئی پاکباز خواتین نے بھگوان کی پراتھنا کی خاطر دنیا ترک کی۔ ہوسکتا ہے کہ دنیاوی مصائب تمہارے خیالات کو بھگوان سے دور لے جائیں۔ میں بھگوان کی رکھشا سے اس کی باندی کو پوجا اور خدمت کی خاطر بچالے جاؤں گا۔ اگر تم چاہو تو تم اپنے باغ میں پانی کے تالاب کے قریب کل دوپہر دو بجے مجھے مل سکتی ہو۔ ‘‘
گوری نے وہ رقعہ اپنے جوڑے میں چھپالیا۔ اگلے روز دوپہر کے قریب جب نہانے سے پہلے اس نے اپنے بال کھولے تو اسے وہ رقعہ نہ ملا۔ وہ حیرا ن تھی کہ کہیں وہ رقعہ بستر پر تو نہیں گرا اور اس کے شوہر کے ہاتھ نہ لگ گیا ہو۔ پہلے تو اسے انتہائی خوشی محسوس ہوئی کہ اسے یہ رقعہ دیکھ کر شدید غصہ آئے گا لیکن پھر اسے خیال آیا کہ اس رقعے کا ، جسے اس نے اپنی نجات کا نورانی تاج سمجھ کر سر پر پہنچا تھا ، پاریش کے گستاخ ہاتھوں میں چلے جانا بے حرمتی ہے۔
وہ تیز قدموں سے اپنے شوہر کے کمرے کی طرف گئی ۔ وہ فرش پر پڑا کراہ رہا تھا ۔ اس کی آنکھیں اوپر کو چڑھی ہوئی تھیں اور منہ سے جھاگ نکل رہی تھے۔ گوری نے وہ خط اس کی گرفت سے چھڑایا اور فوراً ڈاکٹر کو بلایا۔
ڈاکٹر نے بنایاکہ یہ مرگی کا دورہ تھا اور وہ فوت ہوچکا ہے۔ اتفاق سے اسی دن پاریش کو کسی ضروری کام سے شہر سے باہر جانا تھا اور پرامنندا کو اس بات کا علم ہوگیا تھا ۔ وہ بُری شدت سے اس لمحے کا منتظر تھا۔
بیوہ ہوجانے والی گوری نے جب کھڑکی سے باہر دیکھاتو اس کا گرو کسی چور کی طرح تالاب کے قریب چھپا ہوا تھا۔ گوری نے اپنی نگاہیں ایسے جھکالیں جیسے چمک کی وجہ سے چندھیا گئی ہوں اور اسی چمک میں اس نے محسوس کرلیا کہ اس کے گرو کی کتنی ہتک ہوگی۔
گرو نے آواز دی ، ’’ گوری !‘‘
’’
میں آرہی ہوں !‘‘ گوری نے جواب دیا ۔
جب پاریش کے دوست اس کی موت کی خبر سن کر اس کے گھر پہنچے تو انھوں نے گوری کی لاش کو بھی پاریش کی لاش کے قریب پایا ۔ گوری نے زہر کھالیا تھا۔ تمام لوگ گوری کی اس غیر معمولی وفاداری کی تعریف کر رہے تھے جو اس نے اپنے شوہر سے کی اور اسی کے ساتھ ستی ہوگئی۔ ایک ایسی وفاداری جو اس خستہ حال دور میں معدوم ہے۔
ارفع کریم پاکستان کی وہ بیٹی تھی ،جس نے چھوٹی سی عمر میں اپنے ملک کا نام دنیا بھر میں روشن کیا۔ وہ ۹ برس کی تھی، جب اس نے دنیا کی کم عمر ترین مائیکروسوفٹ سرٹیفائڈ پروفیشنل بننے کا اعزازحاصل کیا۔ اس کے اس کارنامے پر مائیکروسوفٹ کے سربراہ بل گیٹس نے ارفع کو امریکہ مدعو کیا اور اس سے ملاقات کی۔ بل گیٹس اس پراعتماد اور قابل بچی سے مل کر حیران تھا اور اس کا کہنا تھا کہ ارفع جیسے بچوں کے ہوتے پاکستان کا مستقبل بہت روشن ہے۔ اسی ملاقات میں ارفع نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ دنیا کی اعلیٰ یونیورسٹوں سے تعلیم حاصل کر کے اپنے ملک کی خدمت کرنا چاہتی ہے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتی تھی کہ اس ملک میں ہونہار بچوں کی کمی نہیں ہے، بس مناسب سہولیات اور مواقع نہ ہونے کی وجہ سے ان میں سے بیشتر لوگ آگے نہیں آ پاتے۔ اسی لیے اس کی خواہش تھی کہ وہ ایک ایسا سینٹر بنائے جہاں بچوں کو کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مفت تعلیم دی جائے تا کہ ان میں موجود صلاحیتوں کو نکھارا جا سکے۔ اس نے اپنے اس منصوبے کا ذکر بل گیٹس سے بھی کیا تھا، جنہوں نے وعدہ کیا تھا کہ جس دن ارفع ایسا سینٹر کھولے گی، وہ خود پاکستان آکر اسکا افتتاح کریں گے۔ ارفع اپنے اسی خواب کی تکمیل کے لیے کوشاں تھی، کہ ۱۴جنوری۲۰۱۲ء کو ۲۶ دن کی طویل کشمکش کے بعد وہ زندگی کی بازی ہار گئی ، اور ۱۶سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔
اس میں شک نہیں کہ ارفع ایک غیرمعمولی بچی تھی۔ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا کے علاوہ بھی بہت سے شوق رکھتی تھی۔ اس کو اقبال کی شاعری سے بہت لگاؤ تھا اور چھوٹی عمر سے ہی اس نے نطمیں لکھنی شروع کر دی تھیں۔ ۱۰سال کی عمر میں اس نے جہاز چلانا بھی سیکھا اور دبئی سے اپنا فلائنگ سرٹیفیکٹ حاصل کیا۔ اس کی علاوہ وہ موسیقی میں بھی بہت گہری دلچسپی رکھتی تھی، غرض یہ کہ وہ زندگی کو بھرپور طریقے سے جینے پر یقین رکھتی تھی۔۲۰۰۵ء میں اسکو فاطمہ جناح گولڈ میڈل سے نوازا گیا، اسی سال اسے ’سلام پاکستان یوتھ ایوارڈ‘ بھی ملا۔ اس کے علاوہ ارفع پاکستان کی وہ کم عمر ترین شخصیت ہے جس کو صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ اس نے اپنی چھوٹی سی زندگی میں وہ کامیابیاں اور مقام دیکھے ، جن کے لیے عام لوگ عمر بھر جدوجہد کرتے ہیں۔ ارفع نے بہت سی بین الاقوامی کانفرنسوں اور مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ ۲۰۰۶ء میں اسکو سپین میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کانفرنس میں مدعو کیا گیا، جہاں وہ پانچ ہزار مندوبین میں واحد پاکستانی تھی۔
وہ اس وقت لاہور گرامر سکول میں اے۔لیول کی طالبہ تھی۔ ۲۲ دسمبر ۲۰۱۱ء کی رات مرگی کا دورہ پڑنے پر اسکو نازک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ اسی دوران اسکو دل کا دورہ بھی پڑا ، جس سے اسکے دل اور دماغ نے کا م کرنا چھوڑ دیا اور اسکو وینٹیلٹرپر منتقل کر کے مصنوعی سانس دی جا نے لگی۔ ۲۹دسمبر ۲۰۱۱ء کو ڈاکٹروں کے پینل نے تمام امیدیں چھوڑ دی تھیں، لیکن اس کے والدین کو یقین تھا کہ ارفع اتنی آسانی سے ہمت ہارنے والوں میں سے نہیں ہے، وہ آخری دم تک اپنی زندگی کے لیے لڑے گی اور ایسا ہی ہوا، ۱۳ جنوری۲۰۱۱ء کی رات کو معجزاتی طور پر اسکے دماغ کے کچھ حصوں نے کام کرنا شروع کر دیا۔ بل گیٹس کے کہنے پر اس کو دبئی کے ہسپتال منتقل کرنے کی تیاریاں کی جا نے لگیں، مگر ۱۴جنوری۲۰۱۲ء کی رات اس کی زندگی کی آخری رات ثابت ہوئی۔اس واقعے پر بل گیٹس نے کہا کہ’ آج میرے اور پاکستان دونوں کے لیے یوم سیاہ ہے، کیونکہ میں نے اپنی ننھی شہزادی جیسی ساتھی اور پاکستان نے ایک قابل فخر پاکستانی کھو دی‘۔ ارفع کی وفات کے بعدایک سوال شدت سے دل میں اٹھ رہا ہے، کہ آخر اس کام میں خدا کی کیا مصلحت ہوسکتی ہے؟مگر یہ بھی سچ ہے، کہ اس کی مرضی کے آگے انسان کا کوئی بس نہیں۔ خدا ارفع کو جنت میں جگہ عطا فرمائے، نامور ڈرامہ نگار بریخت نے کہا تھا’ہمیں اپنے دکھ کو قوت میں تبدیل کرنا چاہیئے‘ اور خدا نے اور زمینی طاقت وروں نے اہلِ پاکستان کویہ دولت وافر دی ہے،آئیے ہم ارفع کے نام پر عمارتیں منسوب کرنے کی بجائے اس کے ادھورے خواب پورے کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں اور پاکستان میں مستقبل کے ایسے ذہانت کے وسائل کو بچائیں۔ ارفع پاکستان تمہیں سلام کرتا ہے۔
****