مقتدرہ اور آپ
مقتدرہ قومی زبان میں نئے سال کا استقبال دو پہلوؤں پر غور سے کیا گیا ۔ ایک یہ کہ گزشتہ برس مقتدرہ کو نئے خطوط پر چلانے کے لیے جو منصوبہ بندی کی گئی تھی اس پر کس حد تک عمل درآمد ہوا دوسرا یہ کہ۲۰۱۲ء میں مقتدرہ کے اہداف کیا ہوں گے۔ اس سلسلے میں سامنے آنے والے ڈیٹا کے مطابق مقتدرہ قومی زبان کو گزشتہ برس جب نئی سوچ کے مطابق چلانے کا فیصلہ کیا گیاتو اہم ترین کاموں میں سے ایک اخبار اردو کے قارئین میں نوجوان طلبہ اور سکالروں کو شامل کرنا تھا۔ اس بات کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا کہ یہ شمولیت اخبار اردو اعزازی حاصل کرنے کی بجائے سالانہ خریدار بننے کے حوالے سے ہونی چاہیے تاکہ قومی زبان اردو کے سلسلے میں ہونے والے کاموں کے ساتھ نوجوانوں کو اپنائیت کا احساس بھی ہو سکے ۔یہ ہدف حاصل کرنا بہت مشکل تھا کیونکہ ایسا رسالہ جو موجودہ چکا چوند کر دینے والے رسالوں سے مختلف ہو،کی طرف نوجوانوں کی توجہ مبذول کرائی جائے جن کے بارے میں ایک طبقہ یہ تاثر رکھتا ہے کہ نوجوانوں کو موبائل فون پر پیغام بازی اور انٹرنیٹ پر گپ شپ سے ہی فرصت نہیں ملتی ۔لیکن سال کے اختتام پر یہ بات سب کے لیے حیران کن اور خوش آئند تھی کہ اخبار اردو کے نئے بننے والوں خریداروں میں ۸۰ فیصد نوجوان طلبا و طالبات ہیں جن کا تعلق انگریزی میڈیم درسگاہوں سے ہے ۔مقتدرہ کے کتب خانے میں ایک کتاب بینک کا پروگرام شروع کیا گیا۔ جس کے تحت طلبہ کو مقتدرہ کی کتب رعایتی نرخوں کے علاوہ مقتدرہ کا کتب خانہ دفتری اوقات کے بعد شام پانچ بجے اور ہفتہ وار سرکاری تعطیل کے دوران بروز ہفتہ دوپہر گیارہ سے سہ پہر تین بجے تک کھولنے کا اہتمام کیا گیا۔اس اقدام کے بہت حوصلہ افزاء نتائج ملے۔ مقتدرہ کی اہم کتابوں تک قارئین کو آسانی سے رسائی دینے کے لیے سال نوع کے آغاز پر’’ ای ۔ کتاب‘‘کا اجراء بھی کیا گیا جس کے تحت مقتدرہ کی چاراہم کتب :’’حفیظ جالندھری ‘‘مرتبہ جمیل یوسف ،’’حافظ محمود شیرانی ‘‘،مرتبہ ڈاکٹر محمد اشرف کمال ،’’ مولانا صلاح الدین احمد‘‘ مرتبہ ڈاکٹر طارق ہاشمی اور ڈاکٹر انوار احمد کی نایاب کتاب ’’اردو افسانہ ایک صدی کا قصہ ‘‘شامل ہیں۔ ان کتابوں کو مقتدرہ کی ویب گاہ پر چڑھا دیا گیاہے ،جنھیں قارئین آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ ای کتابوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا۔مقتدرہ قومی زبان کی تمام منصوبہ بندیوں میںیہ سوچ بنیادی اہمیت کی حامل ہے کہ قومی زبان کے تمام کاموں میں ہر طبقۂ فکر کو شامل کیا جائے تاکہ مقتدرہ قومی زبان اور اس کے منصوبے ایک ٹھہرے ہوئے پانی کی بجائے صاف شفاف بہتی ہوئی ندی میں تبدیل ہوسکیں جن سے پاکستان اور قومی زبان کو عملی فائدہ ہو ۔ لہٰذا مقتدرہ قومی زبان کے ساتھ آپ کے براہِ راست مکالمے کو۲۰۱۲ء کا بنیادی فلسفہ قرا ر دیا گیا ہے۔

سید سردار احمد پیر زادہ