کتاب میلہ

سرسید کی بصیرت از: اسرار عالم
برصغیر جنوبی ایشیا میں بسنے والے مسلمانوں کی دینی ، فکری، تعلیمی اور ادبی تاریخ میں جن عظیم شخصیات نے انفرادی اور اجتماعی طور پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے ہیں۔ ان میں سر سید نمایاں اہمیت کے حامل ہیں۔ امت مسلمہ کے دیگر مفکرین اور مصلحین کے علی الرغم سر سید ساحل پر کھڑے سمندر کی لہروں کے اتار چڑھائو کے نظارے میں محو نہیں رہے بلکہ وہ اپنی بظاہر کمزور نائو کو شکستہ پتواروں کے سہارے بیچ منجدھار تک لے گئے اور بادِ مخالف کے تیز و تند جھکڑوں سے نبرد آزما رہے۔ انھوں نے اپنی فہم و فراست سے ہندی مسلمانوں کی فوز و فلاح کے لیے جو راہ متعین کی عمر بھر وہ اُس پر ثابت قدمی سے گامزن رہے۔ سر سید کی پوری زندگی اس بات کی غماز ہے کہ ان کا عمل ان کے علم کا شاہد رہا۔ ان کی بھرپور عملی زندگی یک مقصدیت سے عبارت تھی یعنی خلوص نیت سے مسلمانوں کی دینی اور دینوی فلاح اور خیر خواہی۔انھوں نے اہل مغرب کی ترقی کے اسباب کا بغور مطالعہ کیا اور بالآخر مسلمانوں کے لیے ایک ایسی راہ متعین کر دی جس پر استقامت سے چلتے ہوئے وہ اپنی متاع گم گشتہ کو پھر سے حاصل کر سکتے تھے اور دور جدید کے رجحانات و میلانات کی روشنی میں اپنے عمومی رویوں اور طرزِ فکر و عمل کو ڈھال بنا سکتے تھے۔ سرسید کے بارے میں یہ سب اور بہت کچھ اسرار احمدعالم کی کتاب ''سر سید کی بصیرت'' میں لکھا ہے۔ یہ کتاب دارالعلم نئی دہلی سے شائع ہوئی ہے۔جس میںانھوں نے سر سید کو بطور مفکر، عالم، مؤرخ، معلم، ادیب، مقرر، صحافی نیز ان کی شخصیت کے ہر دو مثبت رویوں کا بالاختصار ذکر کیا ہے۔
مصنف نے سر سید کے ان تمام نظریات کو واضح انداز میں پیش کیا ہے جو دنیا میں بالعموم اور ہندوستان میں بالخصوص زندگی کے جملہ شعبوں میں گزشتہ تین سو سالوں کے دوران وقوع پذیر ہونے والے واقعات و حادثات اور اس کے پس منظر، مضمرات اور عواقب کا دقیق جائزہ پیش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسرار عالم نے اس کتاب میں امت مسلمہ کو درپیش چیلنجوں ، ان کی حقیقت ، قوت اور وسعت سے متعلق مسلمانوں کے نا درست شعور، علم ، ادراک اور فہم کے اسباب و علل پر روشنی ڈالی ہے۔
قارئین کو اس کتاب کے مطالعے سے علی گڑھ یونیورسٹی کے زوال و انحطاط کے اسباب اس جامعیت سے ملتے ہیں کہ ان کی سچائی سے انحراف نا ممکن ہے۔ اس مقالے میں مصنف نے سر سید کی بصیرت اب تک کیا برگ و بار لائی ہے اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی تعمیر وترقی میں آپ کو درپیش مسائل و مصائب کا جائزہ انتہائی مشاقی سے پیش کیا ہے۔
قاری دوران مطالعہ تاریخی شاہراہ کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا اس نہج تک پہنچ جاتا ہے کہ یہ یونیورسٹی در حقیقت کس پس منظر اور کن حالات میں قائم کی گئی تھی۔ اس کے بانی کے پیش نظر اصل خاکہ کیا تھا؟ سر سید کا قائم کردہ مدرستہ العلوم اینگلو محمڈن اوریٔنٹل کالج علی گڑھ جو بعد میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے نام سے موسوم ہوا۔ سر سید کے بعد فی الواقع انھیں خطوط اور بعینہٖ انہی اصولوں پر پروان چڑھا ہے کہ نہیں۔ آج کی اگرچہ یہ یونیورسٹی مسلسل انحطاط کا شکار ہے جس کی وجہ سے کسی حد تک فکری، تعلیمی ، تدریسی، تحقیقی اور اخلاقی صورت حال ناگفتہ بہ ہے۔
مسلم یونیورسٹی علی گڑھ عالمی سطح پر اردو زبان اور اس سے متعلق سارے علوم کا درک، گہرائی و گیرائی اور اردو زبان و لسانیات کی تحقیق سے متعلق اعلیٰ ترین مرجع، مخزن، سر چشمہ اور مسندِ آخر کا درجہ رکھتی ہے۔ یہاں شعبۂ اردو میں اتنی عمیق،انتخاب اور کثیر انظبطیت ہوتی تھی کہ اردو زبان و لسانیات کی جملہ ضرورتوں کی تشفی ہو جاتی تھی مگر اب تاریخ اس سے یکسر مختلف ہے۔
اس کتاب کے مطالعہ سے قارئین مسلم یونیورسٹی میں نا صرف اردو بلکہ دوسرے شعبہ جات مثلاً فارسی، انگریزی، فلسفہ، تاریخ اور سائنس جیسے حالات اور علوم میں جامعیت و گہرائی سے مکمل آگاہی حاصل کر سکتے ہیں۔سر سید کے معاملہ فہم اور تجربہ کار دماغ نے انھیں مناسب تغیرات کو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے ذریعے اس سوچ کو ہندوستان میں رواج دینے کی بھر پور سعی کی کہ اعلیٰ تعلیم ہی ہمارے سیاسی و سماجی احوال کی بہتری کا باعث بن سکتی ہے۔ ایک اور نہایت ضروری کام جو سرسید مدت العمر بہت خوبی سے انجام دیتے رہے اور جس کے جاری رکھنے کے لیے اب اس پایہ کا کوئی آدمی موجود نہیں یعنی اردو ادب کی خدمت۔ اردو نثر پر ان کا بڑا احسان ہے اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ پر بھی۔ ان کے بعد مسلم یونیورسٹی علی گڑھ اپنے قیام سے آج تک بد ترین صورتحال کاشکار ہوتی چلی آ رہی ہے اور ہندوستان میں ارتقائی اسلامی نظام تعلیم وضع کرنے کی تحریک کے بہانے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کا مکمل بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔
مبصرہ: شگفتہ طاہر
''آنکھوں میں پانی'' از: صاحبزادہ مبشر عباس ؔ طور
شاعری فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی اور مفہوم لفظوں میں اپنے جذبات کا اظہار اور سماج کی عکاسی کرنا ہے۔ سماج اور ادوار کی تبدیلی سے شاعری پر بھی خاصا اثر ہوا۔ جب شاعری فارسی زبان میں پہنچی تو بہت ساری اشکال میں ڈھل گئی جس میں قصیدہ ، نوحہ اورمرثیہ قابل ذکر ہیں۔ فارسی میں خیام کی شاعری کو اہمیت حاصل ہے جبکہ اردو میں میر انیس ، مرزا غالب اور علامہ اقبال کی شاعری نے نئی نسل کو آگے بڑھنے کے لیے رہنمائی کی ۔اردو شاعری میں عشقیہ شاعری کے علاوہ مزاحمتی شاعری کو بھی بڑی اہمیت حاصل ہے ۔
مبشر عباس اگرچہ شاعری میں نومولود کی حیثیت رکھتے ہیں اور آنکھوں میں پانی ان کا پہلا شعری مجموعہ ہے ۔لیکن شاعری ان کو ورثے میں ملی۔ اس لحاظ سے ان کی شاعری میں پختگی ہے ۔اور اس صلاحیت کے باعث کم عمری اور کم عرصے میں مبشر عباس نے ثابت کر دکھایا کہ وہ بھی لفظوں کو شاعری کی مالا میں پرو سکتا ہے ۔جس کا ثبوت مبشر عباس کی شاعری کا مجموعہ آنکھوں میں پانی قابل ذکر ہے جسے نوجوان نسل میں بڑی پذیرائی حاصل ہے ۔
مبشر عباس نے اپنی شاعری میں جہاں پیارومحبت کی داستان رقم کی ہے ۔وہاں ظلم ، جبر و استحصال کی چکی میں پسے ہوئے لوگوں کی آواز وقت کے ایوانوں تک پہنچائی ہے۔ریاستی دہشت گردی کے ساتھ سماجی ناانصافیوں کی بھی عکاسی کی ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر اور صحافت کو اجاگر کیا ہے ۔
مبصر: آزاد سولنگی