برہم ہیں صفیں شاہ شہیداں کی آمد ہے

مرزا سلامت علی دبیر

برہم ہیں صفیں، شاہِ شہیداں کی ہے آمد
ہر مورچہ لرزاں ہے، سلیماں کی ہے آمد
فرعونیوں پر موسی�ئ عمراں کی ہے آمد
تیغوں کے جہازوں پہ یہ طوفاں کی ہے آمد

جن سیر کو نکلے تھے یہ رستے سے مڑے ہیں
پریوں کی طرح ہوش سلیماں کے اُڑے ہیں

رن میں پسرِ فاتحِ خیبر کی ہے آمد
صف گرتی ہے صف پر، شہ صفدر کی ہے آمد
تاجِ شرف و فخرِ سکندر کی ہے آمد
شاہِ شہداِ، سبطِ پیمبر کی ہے آمد

پیشانیِ جنّات و ملک فرش زمیں ہے
چَترِ سرِ اقدس پرِ جبریل امیں ہے

خورشید ہے دن کو مہِ نو شرم سے گھٹ کر
اغلب ہے کہ سیدھا فلک کج ہو اُلٹ کر
پانی ہوئی جاتی ہے گھٹا ڈھالوں کی پھٹ کر
اک سونے کا رنگ بن گئی ہے دھوپ سمٹ کر

ثابت ہے کہ سیّارہ ہر اک ماند ہوا ہے
سیّارے ہیں کیا، شہر بدر چاند ہوا ہے

نے گرم ہے نے سرد ہے نے خشک ہے نے تر
عدلِ شہِ والا نے کیا سب کو برابر
اک خطبہ ہے اک سکہ ہے اک مسند وافر
اک حکم ہے اک مُہر ہے اک منشی دفتر

ہے دونوں جہاں میں یہ امام التثقلین ایک
جس طرح خدا ایک ہے اس طرح حسین ایک
رن کی تو صفیں جاتی ہیں دریا کے کنارے
دریا کے پرے آتے ہیں یاں خوف کے مارے
ایک ایک کو ٹھہرا کے یہ کرتا ہے اشارے
عباس بہادر تھے سو دنیا سے سدھارے

اب رن میں یہ کس معرکہ آرا کی ہے آمد
وہ کہتا ہے عبّاس کے آقا کی ہے آمد

آگے ہے وہ روداد کہ گھٹتا ہے مرا دم
ہونے لگے اسوار جو سلطان دو عالم
تھرانے لگاخیمہ ، ہوا حشر کا عالم
ہمشیر بڑھی سوئے رکابِ شہِ اکرم

پر غم سے یہ رعشہ تھا نواسی کو نبی کی
جو تھامی نہ جاتی تھی رکاب ابنِ علی کی

خائف نہ ہو تو دیکھ کے آمد کا قرینہ
ہے ارثِ علی دبدبۂ شاہ مدینہ
فاقے میں سوار آتے ہیں تانے ہوئے سینہ
ہے اسلحہ تن پر کہ انگوٹھی پہ نگنیہ

پر زیر سلح رخت کہن پہنے ہوئے ہیں
زندہ نہ اُٹھیں جان، کفن پہنے ہوئے ہیں

لشکر سے عمر نے کہا دیکھا مرا اقبال
حال اس کا یہ ہے دبدبہ سے جس کے ہو بے حال
ناحق ہو نڈھال آگے بڑھو منہ پہ رکھے ڈھال
کہہ کہہ کے بہت خوف سے بولے وہ بد افعال

حق یہ ہے رگ و ریشہ میں سی بیٹھ گیا ہے
کیا پاؤں اٹھیں رن کو کہ جی بیٹھ گیا ہے
ناگہ اثرِ مرکبِ شاہی نظر آیا
بے پردہ رخِ قہر الٰہی نظر آیا
مختارِ سفیدی و سیاہی نظر آیا
ہمراہ وقارِ مہ و ماہی نظر آیا

نعلِ سُمِ توسن سے شرارے ہوئے روشن
رن برج فلک بن گیا ، تارے ہوئے روشن

روکا شہ دیں نے فرسِ حُور لقا کو
ٹھہرا لیا سرتاجِ سلیماں نے ہوا کو
اور چار طرف دی یہ ندا اہل جفا کو
بندے جو خدا کے ہو تو بھولو نہ خدا کو

فردوس کی رغبت نہ جہنم سے حذر ہے
اے بے خبرو تم کو بھلا کچھ بھی خبر ہے

توریت میں فرماتا ہے یہ خالقِ عادل
ہے اس سے عجب یہ کہ جو ہے موت کا قائل
کس طرح وہ دنیا میں ہے پھر خرم و خوش دل
سوتا ہے وہ کیوں کر جسے درپیش ہے منزل

تنہا جسے مرقد کی سکونت کا یقیں ہے
کیوں خلق کی اُلفت سے وہ بیزار نہیں ہے

دنیائے دنی خاک ہے، کہنا مرا مانو
اس خاک کی خاطر نہ کلیجہ مرا چھانو
جُز رب غنی اَوروں کو نابود ہی جانو
اکبر سا جواں مر گیا اک دم میں جوانو

کیا کیا مہ و خورشید نگاہوں سے نہاں ہیں
جو صبح مرے پاس تھے اس وقت کہاں ہیں

سمجھو ہمیں ایجادِ دو عالم کا نتیجا
چاہیں تو پئیں کوثر و تسنیم اسی جا
نانا ہے پیمبر مرا، نانی ہے خدیجا
شہپر جسے حق نے دیے اس کا ہوں بھتیجا

پیوند ہوں میں تاج سرِ آلِ عبا کا
دلبند ہوں میں دستِ زبردستِ خدا کا
گو لاکھ برس چرخ کرے گنبدِ گرداں
ہم سا نہ کہیں چاند ہو پیدا کسی عنواں
ہیں تیس دن اس ماہ کے سیپارہ قرآں
سیاروں پہ ثابت ہے کہ ہم سب کے ہیں سلطاں

ہر مصحفِ حق میں ہے بیاں ابن علی کا
جس طرح شریکِ کلمہ نام نبی کا

کہنا تھا جو کچھ کہہ چکے تکرار سے کیا ہے
بتلا دیا سب کو یہ ثواب اور یہ خطا ہے
یہ حق ہے یہ باطل ہے یہ بت ہے یہ خدا ہے
عمداً نہ سنے کوئی تو یہ بات جُدا ہے

آخر یہی نا فاطمہ کے بال کُھلیں گے
خیر اس کے تمہیں حشر کے دن حال کھلیں گے

دل نورِ خدا، خاک مری خاک شفا ہے
حیران ہوں، پھر مجھ سے کدورت تمہیں کیا ہے
آئینۂ خاطر میں مرے صدق و صفا ہے
پھر تم جو ہو برعکس یہ کس رو سے روا ہے

تھا تم کو مناسب مرا گھر صاف کرو تم؟
لو میں نہیں کچھ کہتا ہوں، انصاف کرو تم

بے شرم پکارے کہ یہ سب جانتے ہیں ہم
حضرت کے بزرگوں کو بھی پہچانتے ہیں ہم
پر آج کسی کو بھی نہیں مانتے ہیں ہم
لو تیغ علیؑ ، برچھیوں کو تانتے ہیں ہم

گلزار علی ہم نے جو تاراج کیا ہے
کچھ کچھ یہ قصاصِ اُحد و بدر لیا ہے

حضرت نے کہا کچھ مرے ناموس کی تقصیر؟
مردوں پہ چلی ہے اسد اللہ کی شمشیر؟
بولو تمہیں ناموس کو کس کے کیا تشہیر؟
او بے ادبو! شرم نہیں، مجھ سے یہ تقریر؟

لو دور ہو، تیغِ دو زباں کھنچتی ہے رن میں
جاں ہو گی بدن میں، نہ زباں ہو گی دہن میں
تلوار کا پھل پھول گیا شہ کے سخن سے
قبضے نے مَلی آنکھ کفِ نور فگن سے
یوں نکلا نیام کمرِ شاہِ زمن سے
جیسے سخنِ حق کسی عارف کے دہن سے

چلائی شکست ، اوج گھٹا فوجِ عمر کا
لو حوصلا نکلا وہ دلِ فتح و ظفر کا

ہشیار! ہوئے ابنِ یداللہ برآمد
نصرت کے قلمرو کا ہوا شاہ برآمد
یا فتح کے قبلہ کا ہوا ماہ برآمد
رستم بھی نہ یوں ہو سرِ جنگاہ برآمد

اس حسن کا شعلہ نہ کبھی طُور سے نکلا
ظلمت سے سکندر بھی نہ اُس نور سے نکلا

وہ تیغ کی سج اور وہ قبضے کی سجاوٹ
معشوقوں کی صورت سرِ اعدا سے لگاوٹ
بگڑے تو کسی سے نہ بنے کوئی بناوٹ
محشر تھا ملاپ اُس کا، قیامت تھی رکاوٹ

سب تیغ دو سر دیکھ کے بے ہوش پرے تھے
کھولے ہوئے شہپر ملک الموت کھڑے تھے

وہ تیغ ہوں میں کفر سے کی جس نے زمیں صاف
رن صاف کیے ظالموں سے خانۂ زیں صاف
صاف اُن سے ہوں جن سے ہیں جنابِ شہِ دیں صاف
دشمن جو اماں مانگے تو کرتی ہوں نہیں صاف

دل میں کسی سے لاگ کبھی میں نہیں رکھتی
گردن کاجو نام آئے لگی میں نہیں رکھتی

اس قہرِ مجّسم پہ اجل نے جو نظر کی
مجرا تو فقط کر لیا اور پیچھے کو سر کی
غصے سے چڑھی بھوں جو اُدھر تیغِ دو سر کی
پھرنے لگی پُتلی سپرِ فوجِ عُمر کی

باقی نہ تھا دم، خوف سے تیغیں یہ گَھٹی تھیں
تیغیں نہ کہو نبضیں نیاموں کی چھٹی تھیں
دم کس چم و خم فتح کا جس حسن کا جوہر
کیا خوبیاں شمشیرِ دو سر میں تھیں سراسر
بھاری تھی ہزاروں پہ وہ اک تیغ دو پیکر
ہلکی تھی مگر ہاتھ میں ناخن کے برابر

پر کٹنے سے جبریل تلک جان گئے تھے
اس تیغ کے لوہے کو ملک مان گئے تھے

اس تیغ نے چالاکی و چستی جو دکھائی
سستی رگ و ریشے میں لعینوں کے سمائی
منہ زخموں نے پھیلا دیے لینے کو جمائی
ڈھالوں کی طرح پیٹھ نڈھالوں نے دکھائی

خود رفتہ تھا ہر تیر یہ رفتار نئی تھی
انگڑائی کا لینا بھی کماں بھول گئی تھی

غصے سے ذرہ پوشوں کی صف میں اگر آئی
چار آئینے میں عکس وہ، جوشن میں در آئی
شیشے میں پری، جال میں مچھلی نظر آئی
منہ دیکھ کے چلائی اجل ’’میں کدھر آئی‘‘

قالب نہ زرہ میں تھا، نہ دم اہلِ ستم میں
دم بھاگنے کے واسطے ٹھہرا تھا قدم میں

گرمی کے سبب سوکھ کے کانٹا ہوئے بے پیر
چھپ جانے کو ترکش میں کماں دار بنے تیر
جلاد نیاموں میں چھپے صورت شمشیر
لاغر ہوئے توسن تو بنے توسنِ تصویر

تبخالے حبابوں کے پڑے تھے لبِ جُو میں
یہ تیغ بھی ہر بار نہاتی تھی لہو میں

ابنِ شہِ مرداں نے کیا باگ کو ڈھیلا
پھر ابلقِ دوراں کا چلا پیش نہ حیلا
تھا چرخ کا نقرہ کبھی نیلا کبھی پیلا
چلائی زمیں اب نہیں بچنے کا وسیلا

لو موت کا چیتا ہوا جویائے کفن ہو!
وہ باگ چھٹی باگ کی، روبا ہو! ہرن ہو!
القصہ یہ مکاروں نے کی بچنے کی تدبیر
زینب سے کہے کوئی کہ مارے گئے شبیر
سر پیٹتی رن میں جو نکل آئے گی ہمشیر
پھر فوج پہ حملہ نہ کریں گے شہِ دل گیر

سیدانیوں میں دھوم قیامت کی مچے گی
گر یہ نہ کیا، جان کسی کی نہ بچے گی

اک غول درِ خیمہ پہ آ کر یہ پکارا
زینب ترے بھائی کو ابھی شمر نے مارا
سیدانی چلی پیٹتی خمیے سے قضا را
فضہ نے کہا جھوٹ ہے، ٹھہرو تو خدا را

خالق نہ کرے تیغ جب اس سر سے ملے گی
لرزے گی زمیں قبر پیمبرؐ کی ہلے گی

تب ڈیوڑھی سے چلّائی وہ گردوں کی ستائی
جیتے ہو تو آواز سنا دو مجھے بھائی
حضرت کی صدا فوج کے حلقے سے یہ آئی
لبیک جناب اسداللہ کی جائی

ایسا نہ ہو ان سب میں میں شرمندہ ہوں زینبؑ
گھر سے نہ نکلنا، ابھی میں زندہ ہوں زینبؑ

سرداروں سے لشکر کے مخاطب ہوئے مولا
تم مجھ سے جو کہتے تو نہ دیتا میں اماں کیا؟
کیا مل گیا تم کو جو کُڑھی دختر زہرا
سر میرا قلم ہو لے، توقف کرو اتنا

بھولو نہ مرے آگے تو زینبؑ کے ادب کو
سر ننگے مرے بعد پھرا لیجیؤ سب کو

یہ کہہ کے جو رونے لگے ناموس کے غم سے
ارشاد خدا نے کیا الطاف و کرم سے
روشن مرا دربار کرو اپنے قدم سے
پہنچے جو خدا تک اسے کیا کام حرم سے

میں جانتا ہوں میرے لیے دکھ میں پڑے ہو
لو آؤ مرے عرش کے پہلو میں کھڑے ہو
مولا نے عناں ھیری سوئے گنج شہیداں
گھوڑے سے اُتر کر ہوئے ہر لاش کے قرباں
فرمایا کہ اے قافلۂ بے سر و ساماں
اب تک میں نگہباں تھا اب اللہ نگہباں

کیا جانے کہ کیا بعد مرے حال ہو یارو!
اغلب ہے کہ تم گھوڑوں سے پامال ہو یارو!

یہ کہتے تھے جو ٹوٹ پڑے نور پہ ناری
سب قتل کے حربے لیے سب زخم سے عاری
تھرا کے زمیں گنج شہیداں کی پکاری
فریاد ہے فریاد ہے اے خالقِ باری

اب رکن ترے عرش کے قائم نہ رہیں گے
اب فاطمہؑ کے دودھ کے فوّارے بہیں گے

وارد وہ ملائک ہوئے شیشے لیے رن میں
پر کب کہ ذرا ہوش نہ تھا شاہ زمن میں
تالو سے زباں لگ گئی تھی خشک دہن میں
پھل برچھیوں کے سینے میں تھے، تیر بدن میں

زخموں کو نہ پوچھو وہ ہزاروں سے سوا تھے
فرماتی ہیں زینب وہ ستاروں سے سوا تھے

منہ لال ، جبیں لال، بدن لال، قبا لال
لہراتے تھے بل کھائے ہوئے گیسوؤں کے بال
زلفوں کی لٹیں چہرے پہ تھیں سہرے کی تمثال
مرتے ہوئے دولھا بنے تھے فاطمہؑ کے لال

تھا ضعف عیاں، آنکھ کی بینائی جدا تھی
گہ پند تھی نرگس کی کلی اور کبھی وا تھی

اِک مرتبہ فردوس میں گھبرا گئیں زہرا
دل ایسا ملا غم نے کہ تھرا گئیں زہرا
سر ننگے تہہ عرشِ معلّا گئیں زہرا
پھر پیش نبیؐ تھامے کلیجا گئیں زہرا

چلائیں یہ کون آیا ہے دنیا کی زمیں سے
بو خون کی شبیرؑ کے آتی ہے کہیں سے
نذر حسینؑ
دیوار و در پہ بام پہ دہلیز پر ہے پیاس
میں تشنہ لب ہوں آج، مرا گھر کا گھر ہے پیاس

میں نے بھی کربلا کو نبھانا ہے عمر بھر
مدت سے میرے ساتھ بھی محو سفر ہے پیاس

مجھ کو بلا رہا ہے مسندر، کہ میں چلا
دریا ہوں اور، آج میری رہگزر ہے پیاس

سیراب ہو چکے ہو تو اب سوچتے پھرو
اس وقت کس طرف ہے سمندر، کدھر ہے پیاس

فصلِ بہارِ نو میں سبھی پیڑ جل گئے
دریا کی مملکت ہے مگر در بہ در ہے پیاس

تشنہ لبی سے اپنا تعلق ہے دائمی
کچھ بھی نہیں ہے پاس ہمارے، مگر ہے پیاس

کس درجہ پُرشکوہ ہے عزاخانۂ حیات
دریا ہے اشکبار، کبھی نوحہ گر ہے پیاس

صحرا نے توڑ ڈالی ہے دریا کی تمکنت
حلقومِ تشنگاں میں بہت تر بہ تر ہے پیاس

روحوں کا اطمینان ہی جسموں کا چین ہے
تشنہ لبوں کے واسطے شیرو شکر ہے پیاس

ٹھکرا دیا تھا تشنہ لبی نے فرات کو
پھر اس کے بعد آج تلک بحر و بر ہے پیاس

میں دشتِ نینوا کا مسافر ہوں جعفری
زیرِ قدم ہے نہر تو پیش نظر ہے پیاس
ڈاکٹر لیاقت جعفری