پانچوں سبق

ڈاکٹر غلام سرور

پیارے دوستو ، کروڑوں برس سے اس زمین پر چڑیاں چہچہارہی ہیں اور بدلتے موسموں کے ساتھ ہجرت کرتی ہیں تاکہ زیادہ سردی یا زیادہ گرمی کا شکار نہ ہوں اور کھانے پینے کو بھی ملتا رہے۔ ان میں سے سب سے لمبی ہجرت کرنے والی چڑیاکا نام ہےArctic Tern جو قطب شمالی سے تقریباً قطب جنوبی تک سفر کرتی ہے۔ یعنی کوئی بارہ ہزار میل یہ فاصلہ اتنا ہے کہ لگتا ہے وہ سال بھر اور کوئی کام نہیں کرتی ہوگی ۔ بس سفر ہی کرتی ہو گی۔
لیکن آج جس چڑیا کی بات ہم کرنے والے ہیں ، وہ اس جہانِ فانی سے گزر چکی ہے ۔ اس لیے کہ اس نے من مانی کرتے ہوئے باقی تمام چڑیوں کے ساتھ ایک خزاں کے موسم میں گرم علاقوں کی طرف ہجرت کرنے سے انکار کردیا تھا اور اپنے سالار کارواں کی ایک نہ سنی تھی جو اُسے آنے والے جاڑے سے ڈرا رہا تھا مگر ثریا نے اس سے کہہ دیا تھا کہ اب وہ باقی زندگی اپنی شرائط پر گزارے گی ۔ اپنی زندگی کے آخری دن تک ، درج ذیل کہانی اسی آخری دن کی ہے۔
وہ دن خزاں کا ایک ٹھنڈا دن تھا جب جاڑے کی ایک اچانک لہر نے سارے پیٹروں اور زمین پر ہر طرف سفید یخ بستہ کہرے کی ایک چادر بچھا دی تھی ۔ ہماری چڑیا اسی سفید کہرے میں لپٹی قریبی گاؤں سے آنے والی ایک پگڈنڈی پر پڑی تھرتھر کانپ رہی تھی ۔ وہ اب بالکل اکیلی رہ گئی تھی کیونکہ اس کے سارے ہمجولی سالارِ قافلہ کی رہ نمائی میں کبھی کے جاچکے تھے۔ اب وہ پچھتا رہی تھی کہ کاش وہ بھی اور سب کے ساتھ چلی جاتی تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ۔ مگر اب کیا ہوسکتا تھا ۔ اُسے یوں محسوس ہورہا تھا کہ بس اب کوئی دم اس کی آخری گھڑی آنے والی ہے ۔ اس نے گڑ گڑا کر دعا مانگی کہ اے مالک اگر تو آج میری جان بچا لے تو میں فوراً اس برفستان سے اڑ جاؤں گی اور اپنے ساتھیوں کو ڈھونڈوں گی ۔ بس آج بچالے مجھ کو ۔
یوں لگتا ہے کہ اس کی دعا قبول ہوئی اور اچانک قریبی گاؤں کے کھیت سے ایک گائے نکلی اور چرتی پھرتی بیچاری چڑیا کے بالکل اوپر آکر کھڑ ہوگئی اور پھر اس نے چڑیا کے اوپر گرما گرم گوبر کی بارش کر ڈالی بیچاری چڑیا کو پہلے تو بہت برا لگا مگر پھر جب اسے گوبر کی گرمی سے راحت ملی تو وہ بڑی خوش ہوئی اور گوبر سے اپنی منڈیا باہر نکال کر اپنے محبوب گیت گانے شروع کردئیے ۔ وہ یہ بھول گئی کہ وہ خطرے سے باہر نہیں تھی اور ایک پگڈنڈی پر پڑی تھی ۔ قریب ہی گاؤں کی ایک اندھی اور بوڑھی بلی بھی شکار کی تلاش میں گھوم رہی تھی ۔ اس نے چڑیا کی آواز سنی اور بولی کہ بھئی تم تو بہت اچھا گاتی ہو۔ کتنی سریلی آوازہے تمہاری ۔ ذرا زور سے گاؤ کہ میں تمہاری آواز سے خوب لطف اندوز ہوسکوں۔ چڑیا نے بلی کو دیکھے بغیر اور زور سے گانا شروع کیا ۔ اس پر بلی نے آواز کا نشانہ لے کر ایک چھلانگ لگائی اور چڑیا کو ہڑپ کر کے نگل گئی۔اس طرح بیچاری چڑیا ایک اندھی بہری بلی کا شکار بن گئی ۔
پیارے دوستو! اس افسوسناک انجام سے ہم کئی سبق سیکھ سکتے ہیں ۔
پہلا تو یہ کہ اپنے بزرگوں ، سالار کاروں اور ہم جولیوں کی باتوں پر کان دھرو ، ان کے تجربات سے سیکھو اور اپنے تئیں بہت زیادہ چالاک مت بنو یعنی یہ مت سمجھو کہ
ہم چنیں دیگرے نیست
دوسرا سبق یہ ہے کہ بدلتی رت یعنی بدلتے حالات کو جانو اور پہچانو ، جب حرکت کا وقت آئے تو ہلوکہ حرکت میں برکت ہے۔ سستی میں پڑے مت رہو۔ مارے جاؤ گے ۔
تیسرا سبق یہ ہے کہ اگر حالات نے یا تمہاری اپنی کاہلی اور ہٹ دھرمی نے تم کو تنہا کر بھی دیا ہے تو بہت چوکنے رہو تاکہ کوئی غیر متوقع بات تم کو نقصان نہ پہنچائے ۔ یاد رکھو کہ
خود کردہ را علاج نیست
چوتھا سبق یہ ہے کہ دوست اور دشمن کی تمیز پیدا کرو ۔ بعض اوقات تمہارے اوپر گوبر پھینکنے والا تمہار ا دوست بھی ہوسکتا ہے اور تمہاری تعریف کرنے والا ایک بدترین دشمن ثابت ہوسکتا ہے۔
اور پانچواں اور آخری سبق یہ ہے کہ اگر تم زندگی میں کسی گوبر کے ڈھیر میں پڑے بھی ہوئے ہو مگر آرام سے کٹ رہی ہے تو فی الحال پڑے رہو۔ مت اپنی منڈیا گوبر سے نکال کر کوئی اینڈا بینڈا گیت الاپنا شروع کردو۔ یعنی اپنی چونچ بند رکھو ورنہ کوئی اندھی بہری بلی بھی تم کو ہڑپ کرسکتی ہے۔
مندرجہ بالا تمام اسباق کا اطلاق ہم سب کی گھریلو زندگی اور دفتری حالات پر ہوتا ہے اور ہاں سیاست پر بھی مگر ہم اس طرف نہیں جانے کے۔ اس طرف نہ صرف گھیراؤ جلاؤ کا خدشہ ہے بلکہ بڑے بڑے دھرنوں کا اور سونامی کا بھی ۔ جن سے ہمیں بہت ڈر لگتا ہے لہٰذا پانچویں سبق پر ہی قصہ تمام کرتے ہیں۔