ریل منتری مسافر بن گئے

مجتبی حسین

مجتبیٰ حسین نے روزنامہ سیاست حیدرآباد میں ۱۹۶۲ء میں مزاحیہ کالم نگاری کا اغاز کیا اور یہ سلسلہ۱۹۹۳ء تک جاری رہا۔ اُن کی تحریریں نہایت شگفتہ اور گوناگوں موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔ عبارت عام فہم اور واں ہے۔ اکثر واقعات میں مزاح کا پہلو نکالتے ہیں۔ الفاظ سے کھیلنے کی عادت نہیں۔ ہم یہاں اُن کا ایک مزاحیہ مضمون پیش کر رہے ہیں جس میں انھوں نے ریلوے کے نظام کی بھد اڑائی ہے جو آج بھی ہمارے ریلوے نظام پر صادق آتی ہے۔
اور ایک دن ریل منتری نے اچانک اپنے سیکریٹری کو بُلا کر کہا: ’’دیکھو جی!ہم کل بھیس بدل کر ایک عام مسافر کی طرح ٹرین کے تھرڈ کلاس کمپارٹمنٹ میں سفر کرنا چاہتے ہیں۔ تمہیں بھی بھیس بدل کر ہمارے ساتھ چلنا ہو گا‘‘۔ سیکریٹری نے پلکیں جھپکا کر منتری کو دیکھا۔ اس کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ آخر اس کے بھیس بدلنے کی کیا ضرورت ہے۔ بھیس بدلنا تو صرف منتریوں کا کام ہوتا ہے۔
پھر بھی اس نے ڈرتے ڈرتے کہا ’’حضور آپ برا نہ مانیں تو ایک بات عرض کروں کہ آپ تو ریل منتری ہیں۔ ریل میں سفر کریں آپ کے دشمن۔ ریل منتری تو وہ ہوتا ہے جو ہمیشہ ہوائی جہاز سے سفر کرتا ہے۔ آپ تو ابھی منتری کی گدی پر براجمان ہیں۔ پھر عام چناؤ کا بھی دُور دُور تک کہیں کوئی پتہ نہیں ہے۔ ایسے میں آپ پر ایسی کون سی بپتا آن پڑی ہے کہ آپ ریل میں سفر کریں‘‘۔
منتری بولے ’’تم زیادہ بکواس نہ کرو۔ آخر ہمیں اپنے محکمہ کے بارے میں جانکاری تو حاصل کرنی ہی چاہیے‘‘۔ سیکریٹری نے کپکپاتے ہوئے کہا ’’حضور آپ کا حکم سر آنکھوں پر، لیکن میرا خیال ہے کہ منتری اپنے محکمہ کے بارے میں جانکاری حاصل کرنا چاہے تو تب بھی وہ جانکاری حاصل نہیں کر سکتا۔ ابھی چند روز پہلے ہمارے وزیرِ خوراک قحط زدہ علاقوں کے دورہ پر گئے ہوئے تھے، وہ بھی جانکاری حاصل کرنا چاہتے تھے۔ واپسی پر انھوں نے بتایا کہ ’’قحط زدہ علاقوں میں مجھے کہیں بھی قحط نظر نہیں آئے۔ کیوں کہ مجھے تو تینوں وقتوں کا کھانا پابندی سے ملتا رہا بلکہ دوسرے پریشوں کے مقابلے میں یہاں کا کھانا زیادہ لذیز محسوس ہوا۔ کیسا قحط اور کہاں کا قحط؟ ایسا معلوم ہوتا ہے قحط کی افواہ صرف اپوزیشن والوں نے اڑائی ہے‘‘۔
ریل منتری نے اپنے سیکریٹری کی بات ان سُنی کرتے ہوئے کہا ’’دیکھو جی! تم ہمارے سیکریٹری ہو، ہم تمہارے نہیں ہیں۔ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اس پر تمہیں عمل کرنا ہو گا‘‘۔
سیکریٹری لا جواب ہو گیا۔ اس نے جان لیا کہ اب مزید کچھ کہنا اپنی ملازمت کو خطرہ میں ڈالنا ہے۔ لہٰذا وہ چپ چاپ منتری کے کمرے سے جانے لگا۔
منتری جی نے اسے آخری بار یاد دلاتے ہوئے کہا:’’آج رات تم ٹھیک آٹھ بجے اسٹیشن پر آ جانا‘‘۔
سیکریٹری نے پوچھا ’’حضور یہ بتائیے کہ ہم بلا ٹکٹ سفر کریں گے یا ٹکٹ خرید کر؟‘‘
منتری بولے ’’اس کا فیصلہ اسی وقت کریں گے‘‘۔
منتری جی دن بھر بھیس بدلتے رہے۔ شام تک وہ بھیس بدلتے بدلتے اپنی اصلی حالت پر آ گئے۔ آئینہ میں صورت دیکھی تو انھیں یوں معلوم ہوا جیسے وہ سچ مچ اپنے آپ کو دیکھ رہے ہیں۔ مدتوں بعد اپنے آپ کواصلی حالت میں دیکھ کر انھیں تھوڑی دیر کے لیے خوشی بھی ہوئی۔ شام میں جب وہ ایک چھوٹا سا اٹیچی کیس لے کر اسٹیشن پہنچے اور اپنا اٹیچی کیس سیکریٹری کو دینے کی کوشش کی تو سیکریٹری نے انھیں گھورتے ہوئے کہا:’’کیسے بدتمیز آدمی ہیں آپ بھی۔ کیا آپ مجھے قلی سمجھتے ہیں۔ نہ جانے کیسے کیسے لوگ آ جاتے ہیں؟‘‘
’’دیکھو جی! یہ بدتمیزی نہ کرو، میں تمہارا منتری ہوں‘‘۔
سیکریٹری نے منتری کو غور سے دیکھا۔ پھر ایک بلاکا سا نعرہ تحسین لگاتے ہوئے بولا: ’’حضور، یہ آپ ہیں۔ بھگوان قسم زندگی میں پہلی بار آج آپ ہم میں سے ہی ایک فرد نظر آ رہے ہیں۔ اگر آپ اس کے بعد پھر کوئی بھیس نہ بدلیں تو کتنا اچھا ہو گا‘‘۔
منتری بولے۔ ’’چلو اب باتیں نہ بناؤ۔ ہمیں سب سے پہلے ٹکٹ خریدنا چاہیے‘‘۔
سیکریٹری بولا ’’لائیے، مجھے ٹکٹ کے پیسے دیجیے‘‘۔
وہ بولے ’’نہیں۔ ٹکٹ میں خود خریدوں گا‘‘۔
سیکریٹری نے کہا ’’حضور یہ الیکشن کا ٹکٹ نہیں ہے، ریل کا ٹکٹ ہے۔ یہ اتنا آسانی سے نہیں ملے گا۔ اس کے لیے باضابطہ فری اسٹائل کشتی لڑنی پڑتی ہے‘‘۔
وہ بولے ’’تم فری اسٹائل کشتی کی فکر نہ کرو۔ پارٹی کے ہنگامی اجلاسوں میں شرکت کرتے کرتے میں بھی کشتی لڑنے کے فن سے تھوڑا بہت واقف ہوتا جا رہاہوں‘‘۔
یہ کہہ کر منتری جی مسافروں کی کیو کو چیرتے ہوئے ٹکٹ گھر کی کھڑکی کی جانب بڑھنے لگے۔
لوگوں نے شور مچایا’’مہاشے جی! کیو میں آ جائیے۔ ہم یہاں گھنٹہ بھر سے کھڑے ہیں۔ آپ کہاں آگے بڑھ رہے ہیں‘‘۔
وہ بولے ’’جب سارا دیش آگے بڑھ رہا ہے تو مجھے بھی آگے بڑھنے کا حق ہے اور زندگی تو ہر دم آگے بڑھنے کا نام ہے‘‘۔ وہ آگے بڑھنا ہی چاہتے تھے کہ چار پانچ مسافروں نے انھیں پیچھے دھکیلتے ہوئے کہا ’’مہاشے جی !زندگی میں ضرور آگے بڑھئے لیکن یہ تو کیو ہے۔ یہاں آدمی ایک گھنٹہ میں ایک انچ کا فاصلہ طے کرتا ہے۔ کیا آپ اتنا بھی نہیں جانتے‘‘۔
ان کا سیکریٹری بڑا ہوشیار آدمی تھا۔ منتری جی کا سیکریٹری بننے سے پہلے وہ ٹرینوں میں سفر کرنے کا تجربہ رکھتا تھا۔ اس نے کیو میں آگے جا کر کسی سے بات کی، پھر منتری جی کو الگ لے جا کر اس نے کہا ’’میں نے کیو میں آگے ٹھہرنے کا بندوبست کر لیا ہے۔ اگر آپ فی کس ایک روپیہ دیں تو اگلے دو آدمی اپنی جگہ چھوڑنے کے لیے تیار ہیں‘‘۔
منتری جی بہت خوش ہوئے اور بولے’’واہ! یہ تو بڑا اچھا انتظام ہے۔ ہمیں یہ معلوم ہی نہ تھا کہ ریلوے ایدمنسٹریشن نے عوام کی سہولت کے لیے یہ بندوبست بھی کر رکھا ہے‘‘۔ منتری جی نے دو روپے دیے اور تھوڑی دیر بعد منتری اپنے سیکریٹری کے ساتھ کیو میں آگے پہنچ گئے لیکن وہاں ٹکٹ فروخت کرنے کے لیے کوئی بھی نہیں تھا۔
منتری جی نے پوچھا ’’مگر ٹکٹ فروخت کرنے والا کلرک کہاں ہے؟‘‘
کسی نے کہا ’’جو کلرک اب تک یہاں ٹکٹ فروخت کر رہا تھا اس کی ڈیوٹی ختم ہو چکی ہے۔ اب وہ ٹکٹ فروخت نہیں کرے گا، اس کی جگہ نیا کلرک آئے گا اور جس کلرک کو یہاں آنا ہے اس نے ابھی فون پر اطلاع دی ہے کہ وہ اپنے محلہ کے بس اسٹینڈ کی کیو میں کھڑا بس کا انتظار کر رہا ہے۔ بس کی کیو میں جیسے ہی اسے ٹکٹ ملے گا وہ اسٹیشن پہنچے گا اور ہمیں اس کیوسے نجات دلائے گا‘‘۔
منتری جی بولے ’’گویا ہمیں اس وقت تک ریل کا ٹکٹ نہیں مل سکتا جب تک کہ ریلوے کلرک کو بس کا ٹکٹ نہ مل جائے‘‘۔
سیکریٹری نے کہا ’’حضور! ہمارے ملک کے سارے کام کیو میں طے پاتے ہیں اور آدمی دن بھر ایک کیو میں سے نکل کر دوسری کیو میں جاتا رہتا ہے۔ اسی لیے تو ہمارے ملک میں سوشلزم کے آنے میں دیر ہو رہی ہے‘‘۔
اسی اثناء مین ریلوے کا کلرک آ گیا۔ منتری جی نے فوراً اپنا ہاتھ کھڑکی میں ڈال دیا۔ کلرک نے پوچھا’’آپ کو کہاں کا ٹکٹ چاہیے؟‘‘
منتری نے پوچھا ’’یہ گاڑی کہاں تک جائے گی؟‘‘
کلرک بولا ’’اگر راستہ میں کوئی حادثہ نہ پیش آئے تو یہ بمبئی تک جائے گی‘‘۔
منتری بولے ’’تب تو مجھے بمبئی کے دو ٹکٹ دے دیجیئے‘‘۔
منتری جی اور ان کا سیکریٹری ٹکٹ لے کر تیز تیز قدموں سے چلتے ہوئے پلیٹ فارم پر آگئے۔ گاڑی تیار کھڑی تھی۔ منتری جی ایک ڈبہ کے سامنے پہنچ کر کھڑے ہو گئے اور دروازہ کے راستے سے اس میں داخل ہونے کی کوشش کرنے لگے۔
سیکریٹری نے پکار کر کہا ’’سرکار! آپ غلط راستہ سے ڈبہ میں داخل ہو رہے ہیں‘‘
منتری نے کہا ’’مگر ڈبے میں جانے کا راستہ تو یہی ہے‘‘۔
سیکریٹری نے کہا ’’حضور تھرڈ کلاس کے ڈبے میں دروازہ صرف اس لیے لگایا جاتا ہے کہ اس کے راستے سے ڈبہ کے اندر ہوا آتی جاتی رہے۔ دروازے کو لوگ صرف ایمرجنسی میں استعمال کرتے ہیں۔ ورنہ ڈبہ کے اندر داخل ہونے کا صحیح راستہ تو وہ کھڑکیاں ہیں جو اس ڈبے میں جگہ جگہ لگائی گئی ہیں۔ سچ پوچھیے تو کھڑکیاں بھی ڈبے کے اندر داخل ہونے کا صحیح راستہ نہیں ہیں۔ آدمی کو اصولاً ڈبہ میں نقب لگا کر داخل ہونا چاہیے۔ مگر میں نقب زنی کے فن سے واقف نہیں ہوں‘‘۔
منتری جی فوراً کھڑکی کے سامنے پہنچے۔
سیکریٹری نے کہا ’’حضور آپ مجھے اٹھا کر اندر پھینک دیجیے‘‘۔
منتری بولے ’’مگر ڈبے میں تو کوئی جگہ نہیں ہے‘‘۔
سیکریٹری بولا آپ فکر نہ کریں۔ ریل کے ڈبے میں بڑی گنجائش ہوتی ہے۔
ع سمٹے تو دلِ عاشق پھیلے تو زمانہ ہے
دریا کو کوزے میں یہیں بند کیا جاتا ہے۔ آپ یقین کریں کہ اس ایک ڈبہ میں ہمارے ایک گاؤں کی پوری آبادی سما سکتی ہے۔ مسافر کو ڈبہ میں صرف پاؤں رکھنے کی جگہ مل جائے تو سمجھیے کہ اس کا پورا خاندان معہ سامان اندر آ سکتا ہے۔ آپ گھبرائیے نہیں بلکہ پوری بے دردی کے ساتھ مجھے اندر دھکیل دیجئے ورنہ گاڑی چھوٹ جائے گی‘‘۔
منتری جی نے فوراً اپنے سیکریٹری کو اٹھایا اور اسے ایک گٹھڑی کی طرح کھڑکی میں رکھ دیا۔ اس کے ساتھ ہی ڈبے کے اندر شوروغل برپا ہو گیا۔ ’’باہر نکالو اسے ڈبہ میں جگہ کہاں ہے؟ ہمارے سروں پر بیٹھے گا کیا؟‘‘
آن کی آن میں پورا ڈبہ سیکریٹری کے خلاف سینہ سپر ہو گیا۔ سارے مسافر اسے باہر دھکیلنے لگے اور منتری جی اسے اندر دھکیلنے لگے۔ منتری کو یہ بھی یاد نہ رہا کہ وہ ان کا سیکریٹری ہے، اس وقت تو ان کے اندر صرف انتقام کی آگ بھڑک اٹھی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ کسی طرح سارے مسافروں کو شکست دیں اور اپنے سیکریٹری کو اندر دھکیل کر دم لیں۔ اسی کوشش میں انھوں نے اپنے کندھے سے زور دار دھکا اپنے سیکریٹری کو دیا اور سیکریٹری ڈبہ کے اندر پہنچ کر ایک مسافر کے سر پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ مسافر چلایا۔ ’’ابے ہٹ، اِدھر کدھر بیٹھتا ہے، یہاں ہم بیٹھاہے‘‘۔ اس پر سیکریٹری ایک اور مسافر کی پیٹھ پر سوار ہو گیا۔ اس نے پیٹھ اچھالی تو وہ ایک بڑھیا کی گود میں جا کر گر گیا۔ سیکریٹری اس وقت تک تقریباً نیم بیہوش ہو گیا تھا۔ بڑھیا نے اسے ڈانٹنے کی کوشش کی تو سیکریٹری بڑی منت سے بولا:
’’مائی اس سارے ڈبے میں مجھے ماں کی گود ہی سب سے زیادہ محفوظ جگہ نظر آ رہی ہے۔ مجھے یہاں بیٹھنے دے‘‘۔
بڑھیا بولی۔ ’’چل ہٹ، تو اگر میری گود میں بیٹھے گا تو میرا بیٹا اور اس کے دس بچے کہاں بیٹھیں گے‘‘۔ سیکریٹری کو برابر والے مسافر کی گود خالی نظر آئی تو اس نے پوچھا:
’’بھیا جی، کیا آپ کی گود میں پہلے ہی سے کوئی بیٹھا ہوا ہے؟‘‘
مسافر بولا:’’دیکھتے نہیں۔ میری گود میں دو رومال رکھے ہوئے ہیں، یہ دونوں مسافر ابھی چائے پینے کے لیے گئے ہیں‘‘۔
سیکریٹری سنبھلتے سنبھلتے کھڑکی تک آ گیا۔ منتری جی کھڑکی کے راستے اندر آنے کے لیے منتظر کھڑے تھے۔
سیکریٹری بولا ’’حضور آپ کھڑکی میں اوپر چڑھ کر پہلے دونوں پاؤں کا ایک ایک انگوٹھا اندر داخل کیجیے پھر میں رفتہ رفتہ آپ کو اندر کھینچ لوں گا‘‘۔
منتری نے کہا ’’مگر اندر جگہ کہاں ہے؟‘‘
سیکریٹری بولا: ’’حضور یہ سب کاریگری ہے۔ قدیم زمانے میں جب ہمارے کاریگر ململ کا پورا تھان ایک انگوٹھی میں سے گزار دیا کرتے تھے تو کیا اب ہم ایک کھڑکی میں سے ایک منتری کو نہیں گزار سکتے۔ آپ چنتا نہ کریں ریل کی کھڑکی بہت کشادہ ہوتی ہے۔ میرا دعویٰ ہے کہ ضرورت پڑنے پر میں ساری ریل گاڑی کو انجن سمیت اس ڈبہ کی کھڑکی میں سے گزار سکتا ہوں۔ یہ سب تصوف کا مسئلہ ہے۔ قطرہ سمندر میں جا ملتا ہے اور کبھی سمندر خود ایک قطرہ میں جا کر مل جاتا ہے‘‘۔
اتنے میں ریل نے سیٹی بجائی۔ منتری جی فوراً کھڑکی پر چڑھ گئے اور اپنے دونوں پاؤں کھڑکی میں سے اندر داخل کر دیے۔ سیکریٹری نے فوراً منتری کے پاؤں پکڑ لیے اور پورا زور لگا کر انھیں اندر کھینچنے لگا۔ اسی اثناء میں مسافروں کی بھیڑ ایک ریلے کی شکل میں اس کے سامنے سے گزر گئی۔ وہ گرتے گرتے بچا۔ اسے منتری جی نظر نہیں آ رہے تھے۔ مگر ان کے پاؤں ضرور نظر آ رہے تھے۔ وہ منتری جی کے پاؤں کو خوب پہچانتا تھا۔ اس لیے کہ مختلف غلطیوں کے بعد اسے ان پاؤں کو چھونے کی ضرورت پیش آتی تھی۔ اسے ان پاؤں سے محبت بھی تھی اور نفرت بھی۔ جیسے ہی اسے منتری جی کے پاؤں پھر نظر آئے اس نے جھپٹ کر انھیں پکڑ لیا اور جھٹکا دے کر زور زور سے کھینچنے لگا۔ پھر پکار کر پوچھا ’’یہ بتائیے آپ کہاں تک اندر آ گئے ہیں؟‘‘
دور سے آواز آئی ’’بس ٹخنوں تک اندر آ گیا ہوں‘‘۔
سیکریٹری نے کہا :’’بس بس اب فکر نہ کیجئے۔ آپ آدھے اندر آ جائیں تو پھر دنیا کی کوئی طاقت آپ کو اندر آنے سے روک نہیں سکتی‘‘۔
اسی اثناء میں گاڑی چلنے گی اور سیکریٹری نے اب کی بار پورا زور لگا کر منتری کو اندر کھینچ لیا۔ منتری نے اندر پہنچتے ہی کہا ’’میں اندر آ گیا ہوں۔ اب میرے پاؤں چھوڑدو‘‘۔
سیکریٹری بولا پاؤں کیسے چھوڑ دوں سرکار! میری دونوں بغلوں میں اس وقت دو مسافر آگئے ہیں۔ میری گردن پر ایک اور مسافر کا پاؤں رکھا ہوا ہے جو اوپر برتھ پر رکھے ہوئے صندوق اور صندوق پر رکھے ہوئے اٹیچی کیس اور اٹیچی کیس پر رکھے ہوئے ہولڈال پر چڑھنا چاہتا ہے۔ آپ اسی طرح لیٹے رہیں۔ جب تک میں شکنجہ سے آزاد نہ ہو جاؤں اس وقت تک میں آپ کے چرنوں میں ہی رہنا چاہتا ہوں‘‘۔
منتری کی آواز آئی ’’مگر بے وقوف، اس وقت میرے سینہ پر دو مسافر بیٹھ گئے ہیں‘‘۔
سیکریٹری بولا ’’تھوڑی دیر صبر کیجیے، گاڑی چلنے لگے گی تو سب ٹھیک ہو جائے گا‘‘۔
پھر گاڑی چلنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد منتری جی نیچے سے نکل آئے اور ایک گٹھڑی پر بیٹھ گئے۔ سیکریٹری نے انھیں دیکھا اور انھوں نے سیکریٹری کو دیکھا۔ منتری جی کے شرٹ کی ایک آستین کندھے سے پھٹ کر بالکل غائب ہو گئی تھی البتہ سیدھے ہاتھ میں ایک آستین ضرور موجود تھی۔
منتری بولے: ’’ایک آستین کا شرٹ اچھا نہیں معلوم ہو رہا ہے، کیوں نہ میں دوسری آستین بھی پھاڑ دوں ‘‘۔
سیکریٹری بولا ’’ایسی غلطی نہ کیجیے۔ بعد میں ڈبہ سے اترتے وقت آپ کو ایک اور آستین کی ضرورت پیش آئے گی۔ اُترتے وقت آپ کے شرٹ میں پھٹنے کے لیے کچھ تو باقی رہنا چاہیے‘‘۔
منتری جی کی سمجھ میں یہ بات آگئی۔ یوں بھی ڈبہ میں سوار ہونے کے بعد ان کی سمجھ کافی بہتر ہو گئی تھی۔
زندگی میں پہلی بار منتری جی تھرڈ کلاس کے ڈبے میں ایک عام مسافر کی طرح سفر کر رہے تھے۔ وہ اس سفر سے لطف اٹھانا چاہتے تھے۔ انھوں نے سارے ڈبے میں حیرت سے نظر ڈالی، پورا ڈبہ ایک جان ہزار قالب بن گیا تھا۔ لوگ ایک دوسرے سے چپک کر یوں کھڑے تھے جیسے سارے مسافر مل کر ایک ہی جسم میں تبدیل ہو گئے ہوں۔ ڈبہ کے آخری سرے پر جس آدمی کا دل دھڑک رہا تھا اس کی آواز دوسرے سرے پر کھڑے ہوئے آدمی کے سینہ میں صاف سنائی دے رہی تھی۔ آخری کونہ میں کوئی مسافر کروٹ بدلتا تھا تو اس کی کروٹ سمندر کی ایک لہر کی طرح سارے ڈبے میں پھیل جاتی تھی اور سارے ڈبے میں ہلچل سی پیدا ہو جاتی تھی۔ مشرقی دروازے سے ہوا کا کوئی جھونکا جب زور سے داخل ہوتا تھا تو ڈبہ میں ہوا کے لیے جگہ فراہم کرنے کی غرض سے مغربی دروازے میں کھڑا ہوا مسافر ڈبے سے باہر لہرانے لگتا تھا۔ اسی اثناء میں ایک مسافر کے پاؤں پر صندوق گر گیا تو اس چوٹ کا کرب سارے مسافروں کے جسم میں دوڑنے لگا۔ منتری جی نے تھوڑی دیر کے لیے سوچا کہ اگر ساری قوم اسی طرح متحد ہو جائے تو ملک کیا سے کیا ہو جائے گا۔ منتری جی نے دیکھا کہ ایک مسافر برتھ پر اپنی کہنیاں ٹکائے کھڑا ہے اور اس کے اطراف دوسرے مسافر بیل کی طرح لپٹ گئے ہیں۔ اس کاسر برتھ پر رکھے ہوئے ہولڈال کے نیچے دب گیا ہے اور اس کی ٹھوڑی کے نیچے ایک اور مسافر کا سر آگیا ہے۔ لہٰذا وہ اپنی گردن ایک طرف کو موڑ کر کھڑا ہے۔ اوپر برتھ پر ایک مسافر نے سگریٹ جلا لیا ہے اور وہ بار بار سگریٹ کی راکھ اس مسافر کے کان میں جھاڑ رہا ہے۔ منتری جی نے زندگی میں پہلی مرتبہ کان کو بطور ایش ٹرے (Ash Tray)استعمال ہوتے دیکھا۔ جس مسافر کے کان میں راکھ جھاڑی جا رہی تھی وہ کچھ نہیں کہہ سکتا تھا، کیوں کہ اس کا حلق ایک مسافر کی کہنی میں پھنس گیا تھا۔ تاہم جب اوپر بیٹھے ہوئے مسافر نے کافی راکھ جھاڑنے کے بعد اس کے کان میں سگریٹ بجھانے کی کوشش کی تو وہ درد کے مارے چیخ اُٹھا مگر وہ پھر بھی اپنی جگہ سے نہ ہل سکا۔
سامنے دو مسافر ایک دوسرے میں پیوست ہو کر کھڑے تھے۔ دونوں کو سگریٹ نوشی کی طلب ہوئی تو دونوں نے ایک ساتھ اپنے ہاتھ اپنی اپنی پتلونوں کی جیبوں میں داخل کیے۔ وہاں سے سگریٹ کی ڈبیاں نکل آئیں تو دونوں حیران رہ گئے۔
ایک نے کہا ’’میں تو چار مینار سگریٹ پیتا ہوں۔ یہ برکلے کی ڈبیا میری جیب میں کیسے آ گئی؟‘‘ دوسرے نے کہا ’’میں برکلے پیتا ہوں یہ چار مینار کی ڈبیا کہاں سے آ گئی‘‘۔ دونوں نے حیران ہو کر اپنے ہاتھ پھر جیبوں میں داخل کیے مگر جب ان کی نظر اپنے ہاتھوں پر پڑی تو پتہ چلا کہ دونوں کے ہاتھ ایک دوسرے کی جیبوں میں جا رہے ہیں۔
دونوں مسکرا کر بولے ’’ٹھیک ہے، میری پتلون تم استعمال کرو اور تمہاری پتلون میں استعمال کرتا ہوں‘‘۔
اسی اثناء میں ایک مسافر دوسرے مسافروں کے سروں پر سے چلتا ہوا ڈبے کے بیت الخلا کے پاس پہنچا۔ اس نے بیت الخلاء کے دروازے پر زور دار گھونسے رسید کرنا شروع کر دیے۔ اتنے میں تین چار مسافروں کی آوازیں آئیں ’’کون ہے؟‘‘۔
مسافر بولا’’باہر نکلو میں اندر آنا چاہتا ہوں‘‘۔
اندر سے بیک وقت کئی مسافر بول اٹھے ’’کسی اور بیت الخلاء کی طرف جاؤ، یہ بیت الخلاء تو ریزروڈ (Reserved) ہے‘‘۔
مسافر بولا’’بیت الخلاء کیسے ریزرو ہو سکتا ہے؟‘‘
اندر سے آواز آئی ’’ہم لوگ پیچس کے مریض ہیں اور ہم نے بطور خاص یہ بیت الخلاء ریزرو کروایا ہے‘‘۔ مسافر لا جواب ہو گیا اور پھر لوگوں کے سروں پر سے چلتا ہوا ڈبے کے پنکھے سے لٹک گیا۔
دوسرے مسافر نے پنکھے کاسوئچ آن کر دیا۔ اس کے جواب میں پنکھے کی پتیوں میں تو کوئی حرکت پیدا نہیں ہوئی، البتہ پنکھے کے اطراف جالی کا جو خول ہوتا ہے وہ دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں ہلنے لگا اور اس کے ساتھ ہی وہ مسافر بھی، جو پنکھے سے لٹک کر کھڑا ہو گیا تھا ، جھولنے لگا۔
لٹکنے والے مسافر نے چیخ کر کہا ’’بدتمیزو پنکھا بند کرو، اس کی پتیاں تو نہیں گھوم رہی ہیں، ہوا آنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ صرف خول ہل رہا ہے اور خول کے ساتھ ساتھ میں بھی ہل رہا ہوں‘‘۔
نیچے بیٹھے ہوئے مسافروں نے کہا ’’پنکھا نہ بند کرنا۔ پنکھے کے خول کے ساتھ اس آدمی کے ہلنے سے بھی تھوڑی بہت ہوا پیدا ہو رہی ہے‘‘۔ اور وہ شخص مجبور ہو گیا اور پنکھے کے خول کے ساتھ خود بھی ہلنے لگا۔ اتنے میں سامنے بیٹھے ہوئے مسافر نے بڑی مشکل سے پہلو بدلتے ہوئے کہا : ’’باپ رے ، پتہ نہیں ہماری ریلوں کا انتظام کب ٹیک ہو گا؟‘‘
دوسرے نے کہا ’’کیا ٹھیک ہو گا جی، ہمارے ریل منتری تو صرف بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں۔ پرسوں ہی ان کا بیان اخبارات میں چھپا تھا۔ منتری جی کہتے ہیں کہ ’’دیش میں ٹرینوں کے ذریعے ہی سوشلزم آئے گا‘‘۔ تیسرے نے کہا ’’بھگوان سوشلزم کی رکھشا کرے۔ ہمارے دیش میں سوشلزم بیل گاڑی میں بیٹھ کر ہی آئے تو اچھا ہے۔ ریل گاڑی میں آئے گا تو منزل تک پہنچتے پہنچتے اس کا کچومر نکل جائے گا‘‘۔
چوتھے مسافر نے کہا ’’آپ منتری جی کے بیان کا مطلب نہیں سمجھے۔ سوشلزم ریل گاڑی میں ہی آئے گا مگر فرسٹ کلاس کے ڈبے میں بیٹھ کر آئے گا، سمجھے۔۔۔ ہمارے سوشلزم کو تھرڈ کلاس کے ڈبے سے کیا مطلب؟‘‘
منتری جی ان باتوں کو سن کر اچانک غصہ میں آگئے۔ انھوں نے جھٹ سے کہا ’’آپ لوگوں نے غلط سمجھا۔ میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں تھا۔۔۔بلکہ۔۔۔‘‘
وہ آگے کچھ کہنا چاہتے تھے کہ ان کے سیکریٹری نے فوراً ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور کان میں کہا: ’’حضور یہ آپ کیا کرتے ہیں؟ آپ تو اس وقت بھیس بدلے ہوئے ہیں‘‘۔
منتری جی کو اچانک اس بات کا خیال آ گیا اور وہ سنبھل کر بیٹھ گئے۔
اتنے میں گاڑی ایک پل پر سے گزرنے لگی۔ پھر اچانک ایک دھماکہ کی آواز آئی۔ مسافروں کی چیخ و پکار سے سارا ماحول گونج گیا اور ٹرین دریا میں گرنے لگی۔ منتری جی گھبرا کر فوراً اپنے سیکریٹری سے لپٹ گئے۔
مگر سیکریٹری نے انھیں پرے دھکیلتے ہوئے کہا ’’ اب میرے قریب نہ آؤ، مرنے کا وقت آ گیا ہے، نہ تم میرے منتری نہ میں تمہار ا سیکریٹری ۔ اپنی جان آپ بچاؤ میں تو چلا‘‘۔ یہ کہہ کر سیکریٹری کھڑی سے دریا میں کود گیا۔
منتری جی نے بھی ایک زور دار چیخ ماری اور اس چیخ کی آواز سے ان کی آنکھ اچانک کھل گئی۔ آنکھیں کھول کر دیکھا تو پتہ چلا کہ وہ تو اپنی خواب گاہ میں ایک آرام دہ بستر پر لیٹے ہوئے ہیں اور دور سے کسی مرغ کے بانگ دینے کی آواز آ رہی ہے۔
منتری جی کو پھر بڑی دیر تک نیند نہ آئی۔ اس ڈراؤنے خواب کو دیکھ کر ان کی طبیعت بوجھل ہو گئی تھی۔
دوسرے دن وہ اپنے دفتر گئے تو ان کا موڈ کافی خراب تھا، ان کا سیکریٹری جیسے ہی ان کے کمرہ میں داخل ہوا انھوں نے گرج کر کہا ’’تم اسی وقت میرے سامنے سے چلے جاؤ۔ مجھے تم جیسے نمک حرام سیکریٹری کی ضرورت نہیں ہے۔ تم آج سے ڈسمس کیے جاتے ہو۔ نکل جاؤ یہاں سے ‘‘۔
سیکریٹری بولا ’’مگر میرا قصور؟‘‘
منتری بولے ’’میں کجھ نہیں سننا چاہتا، نکل جاؤ میرے سامنے سے ‘‘۔
اور سیکریٹری چپ چاپ منتری جی کے کمرہ سے باہر نکل آیا۔ اسے یوں لگا جیسے وہ سچ مچ کوئی ڈواؤنا خواب دیکھ رہا ہے۔
(قصہ مختصر۔ ۱۹۷۲ء)
****