دوست آں باشد ۔۔۔
اے ۔ بی ۔ اشرف


مرحوم ملک بشیر الرحمن ، جو ایمرسن کالج ملتان اور پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں صدرشعبہ اُردو رہے ، پبلک سروس کمیشن کو انٹرویو دے رہے تھے تو ان سے ایک نیم اردو خواندہ ممبر نے پوچھا کہ جدید دور کے نامور شعراء کے نام بتائیے۔ ملک صاحب نے بہت سے نام گنوائے مگر اقبال کا نام نہ لیا۔ اس پر ممبر نے (جو صرف اقبال کا نام ہی جانتا ہوگا ) کہا ’’ آپ نے اقبال کا نام نہیں لیا ۔‘‘ ملک صاحب نے جواب دیا ’’ جناب اقبال کا نام ایک سانس میں نہیں لیا جاسکتا۔ ‘‘
آج جب میں اپنے تین یارباش دوستوں کا حال لکھ رہا ہوں تو ایک دوست کو جان بوجھ کر چھوڑ رہا ہوں کہ اس کا نام یا حال ایک سانس میں نہیں لکھا جاسکتا، میر ا وہ یارِ غار ہے ڈاکٹر انوار احمد جس سے میرا سرچند تعلق ہے۔ وہ میرے شاگرد بھی رہے ، میرے رفیق کار بلکہ دستِ راست بھی اور میرے دوست اور عزیز بھی ہیں۔ ان کا قرض مجھ پر رہا۔
میرے آج کے یہ دوست ہیں مبارک احمد مجوکہ ، ڈاکٹر ظہور شیخ اور اعجاز رسول چشتی___تینوں اپنی ذات میں انجمن ہیں۔ میرے یہ دوست میری طرح ملتانی مٹی کی پیدا وار ہیں اور تینوں مجھ سے بعد میں پیدا ہوئے۔ ہمارے بزرگ دوست جن سے ہماری انجمن فروزاں تھی ، ایک ایک کر کے اللہ کو پیارے ہوگئے۔ پہلے احمد خان درانی گئے ، پھر عرش صدیقی ، پھر خلیل صدیقی ، پھر ارشد ملتانی اور آخر میں مرزا ابنِ حنیف۔ بس اب ایک بزرگ دوست باقی ہیں اور وہ ہیں پروفیسر اصغر علی شاہ جو اس وقت گدی نشین ہیں۔ اللہ ان کو سلامت رکھے۔
اب ان تین تفنگ انداز (Three Musketeers) دوستوں سے پہلے میری باری ہے۔ مگر فطرت کی مصلحتوں میں کس کو دخل ہے۔ پہلے کون اور پیچھے کون ۔ باری تو ہر ایک کی آنی ہے۔
دنیا میں باقی قیس نہ فرہاد رہ گیا
افسانہ عاشقوں کا مگر یاد رہ گیا
مبارک مجوکہ پیدائشی طور پر امیر بلکہ زمینوں اور جائیدادوں والا ہے۔ زبان اور دل کا فیاض لیکن مٹھی بند ____ کفایت شعار۔ یہی وجہ ہے کہ مربعوں کا مالک ہے اور سب دوستوں میں زیادہ خوشحال ہے۔ میں ان کے مقابلے میں پیدائشی کنگلا۔ سیلف میڈ۔ ایک بار نیشنل سنٹر کی ایک تقریب میں ، میں کہہ بیٹھا کہ ’’ میں سیلف میڈ انسان ہوں ۔ ‘‘وہ زمانہ جبری نماز اور لو ٹوں کا دور زیاں تھا۔ چنانچہ ایک مومن صحافی نامہ نگار نے مجھ پر کفرکا فتویٰ لگاتے ہوئے لکھ دیا کہ ’’ یہ شخص کہتا ہے کہ مجھے ا للہ نے نہیں بنایا ، میں نے خود اپنے آپ کو بنایا ہے ‘‘ سیلف میڈ کا یہ مفہوم میرے ذہن میں نہ تھا ۔ مبارک مجوکہ انگریزی کے استاد ہیں۔ ان سے پوچھا تو ان کو بھی سیلف میڈ کی اس معنوی تہہ کا پتا نہ تھا۔
مبارک مجوکہ انجمن آراء انسان ہیں۔ ان کے بغیر محفل نہ صرف یہ کہ پھیکی رہتی ہے بلکہ نری خشک اور سنجیدہ ہو جاتی ہے۔ وہ بلبلِ ہزار داستان ہیں۔ لطیفہ گو اور لطیفہ طراز----میرا خیال ہے جتنے لطیفے مجوکہ کو یاد ہیں شاید ہی دنیا میں کسی کے پاس اتناذخیرہ ہو۔ ہرموضوع اور ہر بات میں لطیفہ نکال لیتے ہیں اور اس خوبصورت اندازمیں سناتے ہیں کہ محفل کو زعفران زار بنا دیتے ہیں۔ انگریزی ، اُردو اور فارسی کے تمام مزاح نگاروں کو پڑھ رکھا ہے اور ان کی کتابوں کے پورے پورے صفحے انھیں یاد ہیں۔ ہزاروں اشعار اور خصوصاً غالب کا پورا دیوان انھیں حفظ ہے۔
میں نے ان کی کفایت شعاری کا ذکر کیا ہے۔ ایک زمانے میں ہم سب دوست امریکن سسٹم کے مطابق دعوتیں کرتے تھے ۔ جس دوست کی باری ہوتی تھی وہ کھانا کھلانے کے بعد بل پیش کرتا تھا اور برابر حصے کی بانٹ سے پیسے جمع کرلیتا تھا ، ایسے موقع پر میزبان کو پیسے دینے کے بعد اس کا خوب ریکارڈ لگایا جاتا تھا۔ سب سے زیادہ ریکارڈ مبارک مجوکہ کا لگتا اور اس کا جواز وہ خود پیدا کردیتے تھے ۔ مثلاً وہ بل میں گوشت مرغی چاول کے ساتھ نمک مرچ مسالوں کے پیسے بھی لگاتے تھے بلکہ ایک بارتو لکڑی کے بجائے گوبر کے اپلے استعمال کیے تو ان کے پیسے بھی شامل کردئیے۔ بس پھر کیا تھا۔ دوستوں نے خوب لِتے لیے لیکن کیا مجال کہ ان کے ماتھے پر شکن آئی ہو۔ دوستوں کے اصرار کے باوجود تھاپیوں کے پیسے وصول کرلیے۔ دوسرے نمبر پر پھر اصغر علی شاہ کا ریکارڈ لگتا۔ ان کی بیگم صاحبہ ’’ فش ایکسپرٹ ‘‘ ہیں ۔ وہ جیسی مچھلی بناتی ہیں ویسی نہ کہیں چکھی اور نہ کھائی ۔ پیٹ بھر کھالینے کے بعد دوست ان کا بھی ریکارڈ لگانا شروع کردیتے حالانکہ وہ خرچ کے مقابلے میں کم پیسے وصول کرتے تھے بلکہ کبھی کبھی تو لینے سے بھی انکار کر دیتے ۔ ایسے موقع پر مجوکہ صاحب احتجاج کرتے کہ’’ شاہ جی یہ روایت نہ ڈالیں۔ پھر یہ مفت خورے ہم سے بھی یہی توقع کریں گے‘‘ شاہ جی جواب میں کہتے ’’ سید کا لنگر ہے ۔سیدانی نے کہلا بھیجا ہے کہ پیسے نہ لینا ۔ ‘‘
ایک دن مجوکہ خودہی یہ انکشاف کر بیٹھے کہ ان کے والد بڑے دور اندیش انسان تھے ۔ انھوں نے ہم سب بھائیوں کی عمریں دس دس سال کم لکھوائیں۔ چنانچہ ان کے برادر بزرگ میاں بھائی کی عمر کا اندازہ لگایا گیا اور ان کے سکول کے زمانے کا تعین کیا گیا (ہم نے گورنمنٹ سکول نواں شہر میں تعلیم پائی ۔ نوبل پرائز یافتہ پروفیسر عبدالسلام نے بھی اسی سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی )۔ تو وہ مجھ سے ایک آدھ سال آگے ہی نکلے۔مبارک مجوکہ ان سے دو سال چھوٹے ہیں۔ اس لحاظ سے وہ مجھ سے ایک کلاس پیچھے لیکن وہ ریٹائر ہوئے مجھ سے دس سال بعد۔ چنانچہ جب انھیں اپنا ہم عمر قرار دیتا ہوں تو خفت سے سرجھکا لیتے ہیں لیکن پھر فوراً حملہ آور ہوتے ہیں اور مجھے سب سے بڑا بھائی کہنے لگتے ہیں۔
لمبا قد ، سانولا رنگ بلکہ گہرا سانولا ، پتلے دبلے سمارٹ---- اٹھے ہوئے سیدے کندھے۔ شکل صورت واجبی سی مگر صنف نازک کے لیے خاصی پرکشش شخصیت ہیں۔ ان کے کارناموں کی داستانیں سن کر یقین تو نہیں آتا تھا لیکن جب ظہور شیخ نے باقاعدہ جاسوسی کے ذریعے ان کی چوریاں پکڑیں تو وہ واقعی سچی ثابت ہوئیں۔ شاید ان کی قابلیت اور لیاقت کی کشش ہو۔ البتہ ہماری بھابھی اس دیسی انسان کے مقابلے میں ولایتی لیڈی لگتی ہیں۔ یورپی خواتین سے زیادہ گورا رنگ ، نقش نین مکمل ، نازک نفیس، عمدہ ذوق کی مالک ۔ اس چھاچھ کے رسیا ’’ جٹ ‘‘ پروفیسر کے مقابلے میں ’’ کافی نوش‘‘ ___لیکن لطف کی بات یہ کہ مبارک مجوکہ کا زعم اپنی جگہ ۔ ایک بارکہنے لگے جب میری بیگم میرے ساتھ ہوتی ہیں تو لوگ کہتے ہیں ’’ حور کے پہلو میں لنگور ‘‘ (وہ حور اپنے آپ کو کہہ رہے تھے ) ہم سب نے بیک زبان کہا کہ وہ ٹھیک تو کہتے ہیں ۔ اس میں شک ہی کیا ہے۔
پھر ایسا ہوا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد میاں بیوی کسی سکیم کے تحت انگلستان چلے گئے ۔ وہاں ان کی بیگم کو تو فوراً نوکری مل گئی۔ مگران کو چھوٹے موٹے کام ملتے رہے لیکن مستقل صورت نہ نکلی۔ مکان تو خرید لیا مگر خود وہاں ایڈجسٹ نہ ہوسکے اور لوٹ کے بدھو گھر کو آئے ۔ اب یونیورسٹی اور کالج میں انگریزی پڑھاتے ہیں اور شاہجہان کی طرح حکمرانی کا شوق پورا کرتے ہیں۔
بے حد کامیاب اور مقبول ترین استاد ہیں۔ ہم نے انگریزی کے استادوں کو غلط انگریزی بولتے سنا ہے لیکن مجوکہ کو انگریزی پر عبور حاصل ہے۔ خوبصورت انگریزی لکھتے ہیں اور خوبصورت انگریزی بولتے ہیں ۔ طلبہ وطالبات مسحور ہو کر ان کا لیکچر سنتے ہیں۔
میں ۱۹۸۸ء میں ترکی آگیا اور یہیں کا ہو کر رہ گیا۔ اس دیار خوباں میں مبارک مجوکہ بہت یاد آتا ہے۔ اس کی لطیفہ گوئی ، محفل آرائی ، اس کی معلومات سے پُر باتیں ، اس کا خلوص اور اس کا پیار بھلائے نہیں بھولتا۔
ظہورشیخ دنیاوی لحاظ سے بے حد کامیاب انسان ہے۔ اس کے بارے میں ، مَیں ہمیشہ کہتا ہوں کہ وہ اگر مٹی کو ہاتھ لگا دے تو سونا بن جاتی ہے اور یہ ایک حقیقت ہے۔ ایک غریب مگر شریف باپ کا چشم وچراغ ہے۔ ان کے والد نے نوے سال کی عمر پائی اور شیخ ظہور نے اپنے باپ کی آخری عمر میں ایسی خدمت کی کہ شاید ہی کوئی بیٹا اپنے باپ کی کرسکے۔ ان کے والد کی دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ شیخ ہمیشہ کامیابیوں سے ہمکنار رہا۔ وہ فزکس میں ایم ایس سی تھا جب اسے نائیجریا جانے کاموقع ملا۔ وہاں اس کی تعیناتی یونیورسٹی میں ہوئی جبکہ اعجاز رسول چشتی وہاں کے کسی سکول یا کالج میں پڑھاتا رہا۔ دونوں کی تعلیم میں کوئی فرق نہ تھا لیکن تنخواہوں میں خاصا فرق تھا۔ وہاں بھی شیخ ظہور ایک کامیاب انسان اور کامیاب استاد ثابت ہوا۔ یونیورسٹی کی آمدنی کے علاوہ بھی اس نے وہاں اپنی آمدنی بڑھانے کے مزید وسائل اور ذرائع پیدا کرلیے تھے ۔ خاصا پیسہ کمایا اور واپس آیا تو بہت بڑا مکان کھڑا کرلیا۔ پہلے کالج میں تھے واپس آئے تو یونیورسٹی کے لیے منتخب ہوگئے۔ لیاقت اور قابلیت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ انگریزی زبان بولنے میں اس قدر رواں بلکہ دواں ہیں کہ انگریزی کے پروفیسر منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے دور میں جب فاروق لغاری صدر تھے تو ایک بار ملتان آئے۔ پروفیسروں کے مسائل پیش کرنے کے لیے دوستوں نے ظہور شیخ کو چن لیا۔ شیخ صاحب نے شستہ اور رواں انگریزی میں گفتگو کر کے فاروق لغاری کو حیران کردیا ۔انھیں امید نہ تھی کہ ایک ملتانی پروفیسر اس قدر روانی سے انگریزی زبان میں دلائل پیش کر کے انھیں قائل کر سکے گا کیونکہ ایک بار ملتان یونیورسٹی کے لیے وائس چانسلر کی تعیناتی کا مسئلہ پیش آیاتوملتان کے لوگوں نے یہ مطالبہ کیا کہ کسی مقامی شخص کو وائس چانسلر مقرر کیا جائے۔ گورنر نواب صادق قریشی نے استہزا کے لہجے میں کہا کہ کیا میں دولت گیٹ کے رہنے والے کسی شخص کو وائس چانسلر بنا دوں۔ گویا کسی ملتانی میں یہ اہلیت نہیں کہ اسے یونیورسٹی کا سربراہ بنایاجائے۔ لیکن اتفاق دیکھیے کہ الطاف حسین قریشی کو وائس چانسلر مقرر کیا گیا جو سول ایوی ایشن کے آدمی تھی اور دولت گیٹ کے رہنے والے تھے اور اس وائس چانسلر نے ملتان یونیورسٹی کی تعمیرو ترقی کے لیے پنجاب یونیورسٹی سے آنے والے وائس چانسلروں سے زیادہ کام کیا اور اپنا دفتر نیو کیمپس میں اس وقت منتقل کیا جب وہاں بجلی اور پانی کا انتظام بھی نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ ہم لوگ بھی اپنے اپنے شعبوں کے ساتھ وہاں پہنچ گئے۔
ظہور شیخ کو یونیورسٹی کی طرف سے وظیفے پر برطانیہ بھجوایا گیا ۔ وہاں سے انھوں نے فزکس میں پی ایچ ڈی کی ۔ واپس آئے تو پروفیسر ہوگئے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کی قائم کردہ ڈیرہ غازی خان برانچ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر مقرر ہوئے اور کئی برس تک یہ فرائض بحسن وخوبی انجام دینے کے بعدایجوکیشن کالج کے سربراہ بنے ۔ آج کل یونیورسٹی میں لیکچر دے رہے ہیں اور تدریس کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ابھی چند روز پہلے ایک پرائیوٹ یونیورسٹی کے ڈین اور رجسٹرار مقرر ہوئے ہیں۔ ظہور شیخ ہاتھ کا کھلا اور دل کا دریا ہے۔ مبارک مجوکہ کی دعوتِ شیراز کے مقابلے میں دستر خوان پر اقسام ا قسام کے کھانے سجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا ’’قبہِ شکم گنبدِ فلک سے ہمسری کرتا ہے ‘‘ جبکہ مبارک مجوکہ ابھی تک سمارٹ ہیں۔
شیخ ظہور اپنی بیوی کو ’’ شیخانی ‘‘ کہہ کر پکارتا ہے اور اس سے ابھی تک محبت کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے اِدھر اُدھرمنہ مارنے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ البتہ نائیجریا میں قیام کے دوران وہ بلیک بیوٹی کی بہت تعریف کرتا تھا اور اب تک اُن کی صفات کا مداح ہے۔
ڈاکٹر ظہور کا رنگ گورا ہے۔ شکل صورت کا بھی اچھا ہے لیکن شروع سے بدلباس ہے۔ میں نے کبھی اس کے بدن پر اچھا لباس نہیں دیکھا بلکہ لباس کے معاملے میں خاصا بدذوق اور بے پروا ہے۔ کبھی بھولے سے ٹائی لگائے گا تو بد رنگ اور غیر موزوں ۔ توند کی وجہ سے لباس سجتا ہی نہیں ۔ شیخ صاحب کوکوئی بات ’’ پچتی ‘‘ نہیں یعنی ہضم نہیں ہوتی ۔ اگر انھیں کوئی راز کی بات کہی جائے اور ساتھ ہی تاکید کی جائے کہ بات نکلے نہیں تو چند گھنٹوں میں وہ بات دوستوں تک پہنچ جائے گی اور اس تاکید کے ساتھ کہ ’’ یار یہ بات آپ کے اور میرے درمیان ہے۔ ‘‘
میرا تیسرا یارِ غار پروفیسر اعجاز رسول چشتی ہے جو میرے ان تینوں دوستوں میں شہ خرچ ہے۔ ’’ رنگ مشکی ۔ کھنگ نہ خشکی ۔‘‘شادی سے پہلے اپنی چند خاص خوبیوں کی بدولت لڑکیوں اور لڑکوں میں یکساں مقبول تھے ۔
چشتی میں اپنوں اور غیروں کے لیے خلوص اور محبت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہواہے۔ چشتیہ فرقے کے صوفیا کی ساری خصوصیات ان کے اندر موجود ہیں۔ جس طرح ہندو مسلم سکھ عیسائی سب ان صوفیاکے حلقۂ عقیدت میں شامل ہوتے تھے اسی طرح پروفیسر چشتی کے حلقہ احباب میں بھی ہر پارٹی کے لوگ شامل ہیں ۔ جب بھٹو کے خلاف رجعت پسند قوتوں نے ایکا کر کے تحریک چلائی تھی تو اس میں چشتی صاحب بھی بہ نفسِ نفیس شامل تھے لیکن اپنے کیے پر آج تک پچھتا رہے ہیں اور تلافی کے طور پر یوسف رضا گیلانی سے عقیدت کی حد تک وابستہ اور پیوستہ ہیں۔
اعجاز رسول چشتی سا ئنس کے آدمی ہیں مگر ادب سے بے پناہ لگاؤ ہے۔ ہزار ہا شعر یاد ہیں جودوستوں کو ایس ایم ایس کے ذریعے بھجواتے رہتے ہیں۔ تدریس کے علاوہ سارا دن یہی شغل جاری رکھتے ہیں۔ حسِ مزاح ان میں ’’ مَنڈ مَنڈ ‘‘ کر بھری ہوئی ہے۔ فقرے بازی میں تیز طرار ۔ اچھے جملے پر خوب داد دیں گے اور خود کہیں گے تو داد طلب کریں گے۔ جملے بازی کا فن انھوں نے اپنے ہمسائے ڈاکٹر انوار احمد سے سیکھا ہے جو اس فن میں یکتا ہیں۔
اعجاز رسول کی شادی ہونے لگی توہم سب دوست موجود تھے ۔ خوب ریکارڈ لگایا۔ وہ شرافت کی تصویر بنے سب کچھ سہہ رہے تھے ۔ میں نہیں جانتا تھا کہ ان کی شادی میرے ہم پیشہ اور رفیق کار میاں عبدالرشید کی صاحبزادی سے ہورہی ہے۔ میاں رشید سے میری خاصی بے تکلفی تھی اور ہم ایک ہی دفتر میں ایک ہی کمرے میں بیٹھتے تھے ۔ خیر تو میاں رشید اپنے ہونے والے داماد یعنی ہمارے دوست چشتی کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھے ان کی بلائیں لے رہے تھے کہ میں نے انھیں کہہ دیا کہ ’’ یار ! اپنی بیٹی کو کنوئیں میں دھکیل دیتے پر اس شخص کی بیوی نہ بناتے ۔ کم از کم مجھ سے پوچھ تو لیا ہوتا‘‘____ دوستوں کے قہقہوں میں چشتی نے دھیمی سی آواز میں مجھے کہا ’’ یار ! میں اس کے لیے کھل کر داد بعد میں دوں گا۔ ‘‘
ہماری بھابی چشتی سے عمر میں بہت چھوٹی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بیوی سے دبے دبے رہتے ہیں۔ ابھی تک پردہ کرتی ہیں۔ اگرچہ اپنے ڈاکٹر بیٹے کے پاس انگلستان میں بھی رہ کر آئی ہیں۔ ایک بار ظہور شیخ اور ان کی بیگم اور چشتی اور ان کی بیگم مل کر کسی پارک وغیرہ میں تفریح کے لیے گئے ۔ ’’ شیخانی ‘‘ تو چادر اوڑھے ہوئے اور بے نقاب تھیں لیکن چھوٹی بھابی برقعے میں نقاب پوش ۔ ظہور منہ پھٹ تو ہے ہی کہا ’’ یار ! بھابی کا چہرہ تو دکھاؤ ‘‘ ۔ چشتی نے بڑی لجاجت سے بیوی کو دبے لفظوں میں ملتانی میں کہا ’’ لہوچا لاہوچا ‘‘یعنی نقاب ہٹا دیں لیکن چشتانی ٹس سے مس نہ ہوئیں۔
میں گزشتہ چوبیس برس سے ترکی میں ہوں ۔ جب کبھی پاکستان آتا ہوں ۔ تینوں دوست دعوت کرتے ہیں ظہور اور مجوکہ تو ہمیشہ گھر میں بلاتے ہیں لیکن مسز چشتی کے ہاتھ کا کھانا کھانے کی حسرت ہی رہی۔ چشتی ہمیشہ ریسٹورنٹ میں دعوت دیتا ہے ۔ غالباً وہ اپنی بیگم کو تکلیف دینا نہیں چاہتا یا کوئی اور سبب ہو۔ ہمیں نہیں معلوم۔ ایک بار ہماری چھوٹی بھابی کو کوئی تکلیف ہوئی تو آپریشن کرانا پڑا۔ اس پر خاصا خرچ آیا۔ چشتی نے مجھے خط میں لکھا کہ ’’ یار ! بیوی کو ری کنڈیشن کرانے میں بہت رقم خرچ آئی ہے۔‘‘ سستے زمانے میں یہ رقم ہزاروں میں تھی ۔ میں نے جواب میں لکھا کہ ’’اس رقم میں تو نئی گاڑی آسکتی تھی ۔ ری کنڈیشنگ کی کیا ضرورت تھی ۔ ‘‘ چشتی نے خوب داد دی اور پھر سب دوستوں کو خود ہی سناتا پھرا۔
چشتی ایمرسن کالج میں میرا بھی رفیق کار رہا اور پھر جب میں ملتان یونیورسٹی کے قیام کے ساتھ ہی وہاں چلا گیا تو میرے بیٹے نعیم اشرف کا رفیق کار بنا۔ جب چشتی ریٹائرہوا تو الوادعی تقریب میں اس نے جوتقریر کی وہ مزاح وظرافت اور شوخی گفتار کی عمدہ مثال تھی ۔ مجھے اس کی تفصیل بتاتے ہوئے نعیم نے خوب تعریف کی ۔ چشتی اپنے شعبے کے سربراہ رہے ۔ ان کے شعبے میں جو کوئی ان سے ملنے جاتا کیک بسکٹ چائے سے تواضع کیے بغیر جانے نہ دیتے ۔ ان کی جگہ لینے والے سربراہ کو اب اس روایت کو نبھانے کی خاطر خاصا خرچ کرنا پڑتا ہے۔ کالم نویسی بھی کرتے ہیں اور خوبصورت کالم لکھ رہے ہیں۔
ان تینوں دوستوں کے ساتھ میری بے شمار یادیں وابستہ ہیں۔ مجھے یاد ہے سترکی دہائی میں مجوکہ ، چشتی اور میں کاغان اور ناران وادی کی سیر کو گئے ۔ بالا کوٹ کے مقام پر جیپ کرائے پر لی اور ناران پہنچے۔ وہاں ایک ہوٹل میں قیام کیا۔ جھیل سیف الملوک کے کنارے خوابناک فضا میں ہم نے قہقہے بلند کیے۔ دریائے ناران کے کنارے مچھلیاں پکڑنے کے لیے بنسی لگائی ۔ خود تو شکار نہ کرسکے، دوسرے مچھلی گیروں سے خرید کر ٹراؤٹ مچھلی ہوٹل میں لائے اور ان سے باربی کیوکراکے کھائی۔ مدتوں اس کا مزیدار ذائقہ یاد رہا۔ شوگران جانے کے لیے کمر باندھی ۔ میں نے کہا بھی کہ یا تو کسی سواری کے ذریعے چلتے ہیں اور یا پھر راہ راست کے ذریعے مگر چشتی مصر ہوئے کہ پہاڑ کے راستے سے اوپر چڑھ کر پیدل ایک گھنٹے میں پہنچ جائیں گے۔ ہم تینوں کی نوجوانی تو نہیں جوانی کا زمانہ ضرور تھا۔ سب سے پہلے مجوکہ صاحب روانہ ہوئے اور ایک خاص اونچائی پر پہنچ کر ہمارا انتظار کرنے لگے۔ اب چشتی کی باری آئی۔ وہ بڑی پھرتی اور عجلت سے چڑھنے لگے لیکن مجوکہ تک پہنچ نہ پائے تھے کہ سانس پھول گیا۔ رنگ ملٹھی کی طرح زرد پڑ گیا۔ مجوکہ اوپر سے اور میں نیچے سے ان تک پہنچے ۔ بڑی مشکل سے ان کو اتارا ۔ ان کے ہاتھ پیر ملے اور ہوش میں لائے ۔
واپسی پر کوئی سواری میسر نہ آئی ۔ اتفاق سے ایک پیچھے سے کھلا چھوٹا ٹرک گھاس لادے جارہا تھا۔ اسے روکا اور نوجوان ڈرائیور کو کرایہ ادا کرنے کا وعدہ کر کے گھاس پر بیٹھ گئے ۔ ٹرک بڑی تیز رفتاری کے ساتھ روانہ ہوا اور پہاڑی راستے کی ڈھلوانوں کو برق رفتاری سے طے کرتا ہوا ہمیں بالا کوٹ لے آیا۔ جب ٹرک سے اترکر اس لڑکے کو پیسے دینے لگے تو ہم نے اسے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ان خطرناک راستوں پراحتیاط سے چلایا کرے۔ اس لڑکے نے یہ کہہ کر ہمیں ششدر کردیا کہ وہ کلینر (Cleaner) ہے ٹرک کی بریکیں ٹھیک کرانے یہاں آرہا تھا۔
پھر کافرستان کا سفر بھی یاد ہے جب میاں نور الحق جھنڈیر ایڈووکیٹ ، جو ملتان میں پیپلز پارٹی کے رہنما ہیں۔ ان کے ایک دوست محمد امیر ، مبارک مجوکہ اور میں بذریعہ جہاز چترال پہنچے۔ وہاں چترال ہوٹل میں قیام کیا اوردوسرے روز کرائے کی جیپ کے ذریعے کافرستان پہنچے۔ راستے کی کچی سڑک اور گردوغبار نے ہمارے حلیے بگاڑ دئیے ۔ کافرستان پہنچ کر ایک دوسرے کو پہچان نہ سکے۔ بہرحال یہ سفر بھی یاد گار تھا۔ دراصل جھنڈیر صاحب نے اس سال لا ء(Law) کا امتحان پاس کیا تھا اور اس خوشی میں دوستوں کو چترال اور کافرستان کی سیر پر لے آئے تھے۔ رات کو ہم نے کافروں کا ڈانس دیکھا۔ طبل پر رقص کرتے اور منہ سے عجیب وغریب آوازیں نکالتے تھے ۔ کافر عورتیں بے حد حسین تھیں۔ فوٹو کھنچوانے کے لیے پیسے مانگتی تھیں۔ کافر نہایت پرامن لوگ تھے ۔ مارکٹائی، قتل وغارت اور خون خرابے سے کوسوں دور ۔ ذوالفقار علی بھٹو کانام ہر کافر کی زبان پر تھا۔ انھوں نے بتایا کہ بھٹو صاحب ہیلی کاپٹر کے ذریعے ان کے پاس پہنچے اور ان میں پیسے بانٹ کر گئے ۔ بعض مذہبی جماعتیں ان دنوں ان کافروں کو زبردستی مسلمان بنانے کی کوشش میں لگی ہوئی تھیں اور کافرستان کا نام نورستان رکھنے پر مُصر تھیں۔ بھٹو صاحب نے منع کردیا اور کہا کہ زبردستی نہیں کی جائے گی۔ پھر یہ کہ ان کافروں کے لیے اقوامِ متحدہ سے فنڈز ملتے ہیں ۔ا ن کی حفاظت اور دیکھ بھال ہمارا فرض ہے۔ اس زمانے میں کئی غیر ملکیوں کو ہم نے وہاں کیمپ لگائے مقیم دیکھا۔ وہ مہینوں وہاں قیام کرتے اور فطرت سے لطف اندوز ہوتے تھے ہم نے یوروپین لیڈیوں کو وہاں کیمپوں میں تنہا رہتے دیکھا۔
کافرستان جانے کی تشویق ہمیں اس زمانے میں لکھی جانے والی ایک کتاب سے ملی تھی جس کا نام ہی ’’ کافرستان ‘‘ تھا۔ اس تصنیف میں ان کافروں کے رہن سہن ، عادات و خصائل اور رسم ورواج کا ذکرتھا۔ مصنف نے زیب داستان کے لیے سال بھر ایک نوجوان ’’ بودالک ‘‘ کی پرورش اور خدمت تواضع اور پھر کنواریوں کے جھرمٹ میں اس سانڈ نما بود الک کوچھوڑنے کے دلچسپ واقعات بیان کیے تھے ۔ ان دنوں بہت سے لوگ بودالک بننے کے شوق میں کافرستان جانے کی حسرت رکھتے تھے ۔ ہم تو خیر اپنے دوست نور الحق جھنڈیر کی دعوت پر کافرستان کی سیاحت کوگئے تھے ، جو بے حد شریف النفس انسان ہیں۔ اپنے والد کی واحد اولاد اور اتنی بڑی جائیداد کے واحد وارث ہونے کے باوجود ان کی تربیت اس انداز پر ہوئی کہ آج بھی شرافت تہذیبی ، انسانیت اور اخلاق ومروت کی مثال ہیں۔ ہم بہت سے دوست مل کر ان کے گاؤں بھی گئے تھے ۔ ان کے والد محترم حیات تھے۔ ایسی خاطر ومدارات کی کہ مدتوں تک وہ لمحات بھلا نہ سکے۔ جھنڈیر لائبریری بھی انہی دنوں دیکھی تھی ۔
فورٹ منرو کی سیر ، ہم سب دوستوں کو ہمارے پیارے مرحوم دوست امتیاز علی ڈی ایس پی نے کرائی ۔ وہ ہمیں ایک بڑی جیپ میں وہاں لے گئے ۔ وہاں سجی کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ دونوں طرف ہوا کے خاص رخ پر آگ جلائی گئی تھی اور درمیان میں لیمب(Lamb) کی چھوٹی چھوٹی دستیاں پتلی پتلی سیخوں پر پرو کر زمین پر گاڑ دی گئیں۔ کیا لذیذ’ سجی‘ تھی جس کا ذائقہ بھولے نہیں بھولتا۔
مبارک مجوکہ کے ساتھ ایک یاد گار مہم سر کرنے کا دن بھی خوب یاد ہے۔ ہم دونوں دوست ذوالفقار علی بھٹو کے عاشق اور شیدائی تھے۔ بھٹو صاحب جب اڈیالہ جیل سے رہا ہو کر ملتان تشریف لائے تھے تو نواب صادق قریشی کی کوٹھی پر ان کاقیام تھا ، وہیں ان کے جلسے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔ نواب صادق کی کوٹھی کی طرف جانے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کردی گئی تھی اور فوجی جوان کسی کو وہاں جانے نہیں دے رہے تھے۔ ہم دونوں دوست پیدل روانہ ہو کر مختلف چھوٹی بڑی گلیوں ، کھیتوں ، کھلیانوں اور پگڈنڈیوں سے گزرتے وہاں تک پہنچ گئے ۔ وہاں جا کر دیکھا تو ہزاروں لوگ ، جیالے جمع ہوچکے تھے جو ہماری طرح چور راستوں سے گزر کر وہاں پہنچے تھے۔ میرے عزیز دوست ملک مختار احمد اعوان (جو بھٹو دور میں صوبائی وزیر اور محترمہ بینظیر بھٹوکے پہلے دور میں فیڈرل منسٹر رہے اور ذوالفقار علی بھٹو کے ابتدائی قریبی ساتھیوں میں سے ہیں) وہاں موجود تھے ۔ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور ہمیں حفیظ پیرزادہ وزیر قانون سے ملوانے ان کے پاس لے گئے ۔ پیرزادہ صاحب بعض دیگر ساتھیوں سمیت باہر لان میں بھٹو صاحب کے نکلنے کا انتظار کر رہے تھے ، بھٹو صاحب کمرے سے برآمدہوئے تو جم غفیر ان کے استقبال کے لیے موجود تھا۔ مجوکہ اور میں کمرے کی ٹیرس کے بالکل قریب تھے ۔ بھٹو صاحب مسکراتے ہوئے باہر آئے۔ سرخ وسفید رنگ ، حسین وجمیل انسان ، آنکھوں میں خواب بھرے ہوئے ، اتنی دلکش ، سحر انگیز اور کرشماتی شخصیت میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی۔ جیالوں نے انھیں کندھوں پر اٹھا لیا۔ ان کے پروانے دیوانہ وار ان پر نثار ہورہے تھے ۔ اس وقت میں نے مختار اعوان اور پیرزادہ صاحب سے کہا کہ آپ کو بھٹو صاحب کی حفاظت کا خاطر خواہ انتظام کرنا چاہیے۔ اس پر پیرزادہ صاحب مسکرائے اور کہا ہم سوچ رہے ہیں کہ ان کی حفاظت کے لیے گارڈز مقرر کیے جائیں ۔ بھٹو صاحب نے اس مو قع پر بڑی جذباتی تقریر کی اور ضیاء الحق کے مارشل لاء پر سخت الفاظ میں تنقید کی ۔بس اس کے بعد جب وہ لاہور پہنچے تو انھیں گرفتار کرلیا گیا اور پھر تختہ دار پر چڑھنے تک جیل میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے۔
مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
اور پھر فیض ہی کی زبان میں
جس شان سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی کوئی بات نہیں
پاکستان اور پاکستانی قوم کی بدقسمتی ہے کہ قائد اعظم کے بعد انھیں ذوالفقار علی بھٹو جیسا مدبر ، دانشور اور صاحب بصیرت (Visionary) لیڈر نصیب ہوا تھا جسے ایک بد بخت فوجی جرنیل نے عدالتی قتل کے ذریعے ضائع کردیا۔
بات کہاں سے کہاں جا نکلی۔ حقیقت یہ ہے کہ میری ساری زندگی دوستوں ، شاگردوں کے درمیان اور ان کے سہارے گزری ۔ ان سب کے بارے میں اتنی یادیں ، اتنے تلازمات ،ا تنے واقعات ہیں کہ لکھتے چلے جائیں ختم ہونے میں نہ آئیں۔ دوستوں کے بغیر زندگی بے کیف ہے۔ سچے اور مخلص دوست قدرت کا عطیہ ہوتے ہیں۔ خواجہ میر درد نے کہا تھا
کیا سیر سب ہم نے گلزار دنیا
گل دوستی میں عجب رنگ و بو ہے
میرے سب دوست شیخ سعدی کے اس معیار دوست پر بھی پورے اترتے ہیں ۔ حکیم فرزانہ نے کہا تھا
دوست آں باشد کہ گیر د دستِ دوست
در پریشاں حالی و در ماندگی