پروفیسرمعین الدین جینابڑے(نئی دہلی)

اسرارالحق مجاز( بازتفہیم)

مجاز کے چھوٹے سے شعری مجموعے کا ایک وصف ایسا بھی ہے جس کی طرف ابھی تک اردوکے علمی و ادبی معاشرے نے توجہ نہیں کی ہے۔ یہ مقالہ اس وصف کے حوالے سے مجاز کی باز تفہیم کی ایک سعیِ عاجز ہے۔
جدید اردو شاعری کی روایت میں شاید ہی کسی کے یہاں Confessional Poetryکی اتنی مثالیں مل جائیں جتنی مجاز کے یہاں ہیں۔ شاید ہی کسی کے مجموعۂ کلام میں اعترافیہ نوعیت کی شاعری کا وہ تناسب مل پائے جو مجاز کے یہاں ملتا ہے۔ آج کی رات، بتانِ حرم،نذرِ دل، مجبوریاں، نورا، دلّی سے واپسی، بربطِ شکستہ، تعارف، طفلی کے خواب، شکوۂ مختصر،گریز، ایک غمگین یاد، عشرتِ تنہائی، عیادت، مادام، آج بھی، شرارے، اعتراف، الہ آباد سے اور آج۔یہ تو میں نے بیس بائیس نظموں کے عنوان مثال کے طور پر آپ کی خدمت میں پیش کیے۔ چھوٹا سا مجموعہ ہے۔ گنتی کی نظمیں ہیں تناسب کا فیصد بغیر کسی خاص زحمت سے معلوم کیاجاسکتا ہے۔ یہ حساب کتاب بعد میں بھی ہو سکتا ہے سرِ دست ان کی غزلوں سے دو ایک مثالیں اس نوع کی شاعری کی آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا ؂
مری بربادیوں کا ہم نشینو
تمھیں کیا خود مجھے غم نہیں ہے

الجھنوں سے گھبرائے میکدے میں در آئے
کس قدر تن آساں ہے ذوقِ رائیگاں اپنا

یہ میری دنیا یہ میری ہستی
نغمہ طرازی صہبا پرستی
اعترافیہ شاعری میں شاعرکی ذات خالص شخصی اور نجی حوالوں سے شعر کے قالب میں ڈھلتی ہے۔ یہ شخصی اور نجی حوالے گفتنی بھی ہو سکتے ہیں اور ناگفتنی بھی۔ اس نوع کے شاعروں میں اعصاب زدگی قدرِ مشترک کا درجہ رکھتی ہے۔ انگریزی ادب میں اس کی عمدہ مثال مشہور شاعرہ سیلویاپلاتھ کے یہاں ملتی ہے جس کی اعصاب زدگی اسے خودکشی تک لے گئی۔
اس نوع کے شاعروں کے لیے ان کی ذات ان کے لیے کسی نہ کسی صورت میں مسئلہ بنی ہوئی ہوتی ہے اور وہ اس حقیقت کو نجی حوالوں سے شعر میں ڈھالنے سے کتراتے نہیں۔ ایسے شاعروں پر گفتگو ان کی شخصیت کے حوالے ہی سے ممکن ہے۔
مجاز کی شخصیت کا نمایاں وصف ان کا تصنع اور ریاکاری سے پاک ہونا ہے۔ انگریزی میں وہ جو کہتے ہیں کہ ان کے یہاں Pretentionsبہت ہیں،یہ بات مجاز کے بارے میں نہیں کہی جا سکتی۔ اگر اس وصف سے فائدہ اٹھایاجائے تو یہ خوبی قرار پاتا ہے بصورت دیگر جی کا روگ بن کر آدمی کو لے ڈوبتا ہے۔ مجاز کے ڈوبنے کی روداد دردناک بھی ہے اور عبرتناک بھی۔ اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں روداد کی تفصیل سے نہیں سبب سے سروکار ہے۔ تاہم روداد کا اجمال اور سبب کا خلاصہ دونوں ایک ہیں اور وہ یہ کہ اسرارالحق، مجاز سے لپٹ گئے؛لپٹے کیا، چمٹ گئے۔ ایسے چمٹے کہ الگ ہونے کا نام نہ لیا۔ مجاز تو پھر مجاز ہے حق کے اسرار کی تاب کہاں تک لاپاتا؛ اپنے ساتھ اسرار کو بھی لے ڈوبا!
تخلیقی شخصیت میں فرد اور فن کار کا باہمی رشتہ تخلیق کے اسرار سے کم پُراسرار اور پیچیدہ نہیں ہوتا۔ یہ رشتہ اتنا پُراسرار اور ایسا پیچیدہ ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے بحیثیت مجموعی معاشرے کی نظر میں فن کار کی ذات کبھی طلسم تو کبھی مِتھ یا پھر معمے کی حیثیت اختیار کرجاتی ہے۔ساعتِ تخلیق میں شخصیت کے یہ دونوں پہلو(یعنی فرد اور فن کار) سائی کک پرسنالٹی کی وحدت میں ڈھل جاتے ہیں۔ تخلیق کا دورانیہ اس عرصۂ وحدت کی طوالت کو محیط ہوتا ہے۔ عام حالات میں جو حالتِ ثنویت ہوتی ہے؛ ان دونوں کے بیچ آنکھ مچولی کا کھیل چلتا ہے۔ ایک فعال ہوتا ہے تو دوسرا مجہول۔ کون کتنا فعال اور کس حد تک مجہول ہوگا، اس کا کوئی فارمولہ نہیں ہے۔ کلیہ ممکنات کی رو سے دو امکانات پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔ پہلا امکان یہ کہ فرد کی حیثیت فعال عنصر کی ہو اور فن کار شخصیت کا مجہول پہلو بنے رہنے پر قانع رہے۔ دوسرا امکان اس کے برعکس ہے، وہ یہ کہ فن کار فعال حیثیت اختیار کرنے پر اصرار کرے اور فرد کو مجہول بناکر رکھ دے۔معاشرتی زندگی کے سیاق میں پہلی صورت معمول یا رول کا حکم رکھتی ہے تو دوسرا امکان معمول سے انحراف قرارپاتا ہے۔
معمول سے انحراف کی حالتِ ثنویت میں فرد جب فن کار کے مقابل مجہول حیثیت اختیار کرکے اس کے تابع ہوجاتا ہے تومعاشرے کی نظر میں اس کی حیثیت تابع مہمل کی سی ہوجاتی ہے۔ تابع مہمل کے ساتھ دل لگی کی جا سکتی ہے، دل نہیں لگایاجاسکتا۔ اس کے ساتھ وقت گزاراجاسکتا ہے، زندگی نہیں بتائی جا سکتی ہے۔ اسے سنجیدہ گفتگو میں شریک کیا جا سکتا ہے کہ وہ صرف ہنسی مذاق اور دل بہلانے کی چیز نہیں ہوتا لیکن اس کی ذات کو زندگی کے سنجیدہ معاملات کا اہل نہیں سمجھا جا سکتا۔
فرد جب تخلیقی شخصیت کا فعال عنصر ہوتا ہے تو فن کار اس کی عزت و توقیر کا سبب بنتا ہے صورتِ واقعہ اس کے برعکس ہو تو اسے فن کار کی وجہ سے برداشت کیا جا تا ہے اور برداشت کی ایک حد تو بہرحال ہوتی ہے۔ اس حد کے آگے اللہ دے اور بندہ لے والا معاملہ ہوتا ہے۔
پوئٹک پرسوناسوشل ریئلم میں آپریٹ کرنے لگ جائے تو حقیقت اور فینتاسی کی حدیں گڈمڈ ہونے لگتی ہیں۔ مجاز ہوں یا میراجی دونوں اس گڈمڈ والے گھپلے کا شکار ہوئے۔ اس گھپلے کی سنگینی کا احساس اعزا و اقارب کو اس وقت ہوتا ہے جب پوئٹک پرسونا سوشل ریئلم میں اپنے تصرفِ بے جا سے دست بردارہونے پر کسی صورت راضی نہیں ہوتا۔ میراجی نے یہ کہہ کر علاج سے انکار کردیا تھا کہ پھر میں لکھ نہیں سکوں گا۔ اخترالایمان سمجھاتے رہے کہ لکھتے تو آپ اپنی ذہانت سے ہیں لیکن وہ نہیں مانے بالآخر جبر اور حکمت سے کام لینا پڑا ۔مجاز کے معاملے میں بھی حیلے بہانے ہی سے کام نکالا گیا۔
میراجی سے صرفِ نظر کرتے ہوئے سردست ہم مجاز پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ مجاز کی زندگی اور شاعری ایک دوسرے کا عکس ہیں۔دونوں کا محورجذبہ ہے۔ فکر کا پہلو دونوں طرف دبتا ہوا نظر آتا ہے۔ جذباتی آدمی چاہے بھی تو تصنع اور ریاکاری سے کام نہیں لے سکتا۔ بعض اوقات اس کی جذباتیت بیوقوفی کی حدوں کو چھوتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ اسے زمانہ سازی نہیں آتی کہ وہ زمانہ شناس نہیں ہوتا۔اس کے عاقبت نا اندیش ہونے کے امکانات قوی ہوتے ہیں۔ جوش نے اس ایک جملے میں کہ مجاز آدمیGenuineہے، دو باتیں کہی ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ آدمی کھرا ہے اور دوسری یہ کہ بیوقوف بھی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ آج کے معاشرے میں یہ قیمت چکائے بغیر کوئی کھرا آدمی بن بھی نہیں سکتا۔ جوش زمانہ شناس اور زمانہ ساز دونوں تھے۔ ایسا آدمی اب مردم شناس بھی ہوتا ہے۔ یادوں کی برات میں جابجا راست گوئی سے برأت کا مظاہرہ کرنے والے جوش سے بہتر اس نکتے کو بھلا کون سمجھ سکتا تھاجو اس نے اس ایک جملے میں بیان کیا ہے۔ رہی بات ایک جملے میں دو باتوں کی تو کون نہیں جانتا کہ پہلودار گفتگو اودھ کا نراج اور اردو تہذیب کی شناخت سے عبارت رہی ہے۔
تصنع اور ریاکاری سے پاک مجاز کا منظوم ذاتی تعارف، تعارف کم اور کنفیشن زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ ایک ایسے شخص کا کنفیشن جس کے یہاں فکر کا پہلو دب رہا ہے۔ پورا تعارف تو نہیں چند اشعار پر ہم توجہ مرکوز کرتے ہیں۔مندرجہ ذیل اشعار اس ضمن میں ہماری توجہ کے مستحق ہیں ؂
خوب پہچان لو اسرار ہوں میں
جنسِ الفت کا طلب گار ہوں میں
عشق ہی عشق ہے دنیا میری
فتنۂ عقل سے بیزار ہوں میں
عیب جو حافظ و خیام میں تھا
ہاں کچھ اس کا بھی گنہ گار ہوں میں
کفر و الحاد سے نفرت ہے مجھے
اور مذہب سے بھی بیزار ہوں میں
زندگی کیا ہے گناہِ آدم
زندگی ہے تو گنہ گار ہوں میں
جس ترتیب سے یہ اشعار درج ہوئے ہیں، اسی ترتیب سے ان پر غور کرتے ہیں۔
جنسِ الفت کا طلب گار کون نہیں ہوتا لیکن اس طلب کو یوں واشگاف انداز میں زبان پر نہیں لایاجاتا۔ عاشقانہ نیازمندی کاPretentionاس لطیف جذبے سے وابستہ کثافت کی تطہیر کا ایک حیلہ بھی ہے۔ شاعر اس تکلف کا روادار نہیں۔
عقل فی نفسہٖ فتنہ نہیں ہوتی۔ عقل جب عقلِ سلیم نہیں بن پاتی تو فتنہ و فساد کا سبب بنتی ہے۔ عقل سلیم کی حیثیت دل کے پاسبان کی ہوا کرتی ہے۔ اس کے ہوتے عشق عشق ہوتا ہے ورنہ تو جو کچھ ہوتا ہے، اسے ہوس کے علاوہ کچھ اور نام نہیں دیا جا سکتا عقل سلیم کے ہونے یا نہ ہونے سے بات بنتی یا بگڑتی ہے۔ عقل سلیم ہے تو عشق ہے، نہیں تو فسادِ گندم۔
اپنی میخواری کے جواز کی خاطر اعتذا رکے طور پرحافظ و خیام کا سہارا لینا جرأتِ رندانہ کے فقدان کے ساتھ اصل حقیقت سے واقف نہ ہونے کی خبر دیتا ہے۔ استعارے کو لغوی معنی کی سطح پر کھینچ لانا غیر شاعرانہ حرکت ہے اور اصل حقیقت کی طرف اکبر ان الفاظ میں اشارہ کرچکے ہیں ؂
رنگ حافظ پہ بہک جاتے ہیں ارباب مجاز
یہ نہیں سمجھتے و ہ بادہ پرستی کیا تھی
زندگی کو گناہ آدم اور اپنے وجود یا ہستی کو مجسم گناہ سمجھنے کی مریضانہ فہم روحانی دیوالیہ پن کی اپج ہے۔ اس اپج پر عقل سلیم ماتم کرتی ہے تو فساد گندم کے لبوں پر مربیانہ مسکراہٹ نمودار ہوتی ہے۔تثلیث کے عقیدے اور ازلی گناہ کے تصور پر استوار فلسفے اور مابعدالطبیعاتی فکر کے علمبردار کلیسا کی استحصالی حکمت عملی نے یورپ کے آدمی کو اس کے مذہب سے بدظن اور بیزار کردیا۔ یہ تاریخی حقیقت غیریورپی آدمی کو اس کے مذہب سے بدظن اور بیزار کرنے کا جواز یا سبب نہیں بن سکتی۔
ان تعارفی اشعار میں اگر احتجاج ہے تو یہ احتجاج برائے احتجاج ہے۔ شاعر کے اس مؤقف کو فکروتدبر کی پشت پناہی حاصل نہیں۔ فکروتدبر کے مقابلے میں جذبے اور احساس کے غیرمتوازن تناسب کی وجہ سے مجاز کی شخصیت میں ایک آنچ کی کمی کا احساس ہوتا ہے۔ پختہ کارشخصیت کے تیور کچھ اور ہوتے ہیں۔ فرد کی مجہول حیثیت نے مجاز کی شخصیت کے ارتقا کے امکانات کو پوری طرح ختم کردیا۔ اسرارالحق کو اس حقیقت کا احساس تھا نہ ادراک۔ وہ پوئٹک پرسونا کی مقبولیت کے اسیر رہے۔ ایسے اسیر رہے کہ اس اسیری کو وجہ افتخار سمجھ کر سدا اس پر نازاں بھی رہے۔تعارف کے نو دس برس بعد نظم’آج بھی‘ کے بین السطور میں جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے، وہ اس پر فخر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ گزرنے کو وقت گزرگیا لیکن آج بھی مجازوہی ہے جو دس برس پہلے تھا۔
ان دس برسوں میں ہونے کو تو بہت کچھ ہوا؛ اگر کچھ نہیں ہوا تو بس اتنا کہ ایک نوجوان کی زندگی میں جن باتوں کو جس طرح ہونا چاہیے، ان میں سے ایک بھی اس طرح مجاز کے یہاں نہ ہوئی۔ان کی زندگی میں محرومیوں کی مستقل نوعیت ان دس برسوس میں پوری طرح مستحکم ہوگئی۔ اس صورتحال کی المناکی سے انکار نہیں لیکن صورتحال کا یہ افسوسناک پہلو ہمارے نزدیک زیادہ اہم ہے کہ ان محرومیوں کے صلے میں غم کی دولتِ بیدار اسرارالحق کے حصے میں نہ آسکی۔
زندگی محرومیوں اور ناکامیوں کا دوسرا نام ہے کہ کسی کو مکمل جہاں کبھی نہیں ملا۔ محرومیاں اور ناکامیاں بجائے خود مسئلہ نہیں ہوتیں۔ فرد کا رویہ طے کرتا ہے کہ وہ مسئلہ بنیں گیں یا نہیں۔ارادوں کے ٹوٹنے سے جب آدمی رب کو پہچاننے لگتا ہے تو محرومیاں اور ناکامیاں شخصیت کے ارتفاع کا حیلہ بن جاتی ہیں۔ مجاز کی زندگی کا المیہ یہ ہے کہ وہ غم کی دولت سے محروم رہے۔ وہ غم جو جوانی کو لطف خواب سے جگاتا ہے۔ وہ غم جو مضراب بن کر شباب کے ساز کو بیدار کرتا ہے۔ اس محرومی کی وجہ سے یہ ہوا کہ ارادے ایک ایک کرکے ٹوٹتے رہے اور ان کے ساتھ مجاز کا باطن ریزہ ریزہ ہوتا رہا۔
باطن کے انہدام کا یہ عمل مجاز کے یہاں بڑی سرعت کے ساتھ انجام پاگیا۔ منظوم تعارف کو لکھے ابھی دو سال بھی نہیں ہوئے تھے کہ مجاز اندر سے پوری طرح ڈھہ چکے تھے۔’ آواراہ‘ کے ٹیپ کے مصرعے کے سیاق میں آخر ی بند تک پہنچتے پہنچتے فرسٹریشن اور جھلاہٹ کا انتہا کو چھولینا اس حقیقت کا غماز ہے کہ(جگر کے الفاظ میں)شاعر کا سینہ خالی اور آنکھیں ویران ہیں۔ وہ شکست خوردہ تو ہے ہی اس نے شکست کو تسلیم بھی کرلیا ہے اور اس اعتراف شکست میں ایک طرح کی قطعیت اور حتمیت پائی جاتی ہے۔ یہ قیامت کسی جہاں دیدہ ادھیڑ یا پختہ عمر کے آدمی پر نہیں، اس لڑکے پر ٹوٹی ہے جس کی عمر بمشکل۲۵یا۲۶برس ہے۔ یہ وہ عمر ہے جس میں آدمی کو لہو کی لالی پر ناز ہوتا ہے۔ اس کے اندر وقت سے لوہا لینے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ اپنا کس بل آزمانے اور زمانے سے پنجہ لڑانے کے لیے وہ ہر دم آمادہ رہتا ہے۔
مجاز کی جو دو چار نظمیں آج ان کی ادبی معنویت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں، آوارہ سے پہلے کی ہیں۔ رات اور ریل، مجبوریاں، نوجوان خاتون سے اور نذرِ علی گڑھ جیسی نظم’ آوارہ ‘کے بعد ان سے نہ ہوپائی۔ یہ حقیقت بھی توجہ طلب ہے کہ ترقی پسند موضوعات پر مجاز کی اچھی نظمیں بھی آوارہ سے پہلے کی ہیں۔ وہ نظمیں ہیں۔۔۔نوجوان سے، نوجوان خاتون سے،طفلی کے خواب، نذر دل اور انقلاب۔’ بول او ری او دھرتی بول‘ نظم نہیں، گیت ہے جو مجاز نے’ آوارہ ‘کے بعد لکھا ۔
جذبے اور احساس کے اثاثے پر گزارا کرنے والے شاعر کے لیے ’آوارہ‘ کے بعد جذبہ مسئلے کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔ نظم اعتراف کے درج ذیل ٹیپ کے شعر اس ضمن میں ہماری توجہ کے مستحق ہیں۔ نظم جس مصرعے سے شروع ہوتی ہے، اسی پر ختم بھی ہوتی ہے اور وہ مصرع ہے ع
اب میرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہو؟
اب ٹیپ کے شعر ملاحظہ کیجیے ؂
مجھ سے ملنے میں اب اندیشۂ رسوائی ہے
میں نے خود اپنے کیے کی سزا پائی ہے

میری ہر فتح میں ہے ایک عزیمت پنہاں
ہر مسرت میں ہے رازِ غم و حسرت پنہاں

وہ گدازِ دلِ مرحوم کہاں سے لاؤں
اب وہ جذبۂ معصوم کہاں سے لاؤں

اب میں الطاف و عنایت کا سزاوار نہیں
میں وفادار نہیں ہاں وفادار نہیں

اب میرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہو؟
قطعہ کی شعری ہیئت میں لکھی نظم ’گریز ‘جذبے سے فرار کا اعلان کررہی ہے ؂
یہ جاکر کوئی بزمِ خوباں میں کہہ دو
کہ اب درخورِ بزمِ خوباں نہیں میں
مبارک تمھیں قصر و ایواں تمھارے
وہ دلدادۂ قصر و ایواں نہیں میں
جوانی بھی سرکش محبت بھی سرکش
وہ زندانیِ زلفِ پیچاں نہیں میں
تڑپ میری فطرت تڑپتا ہوں لیکن
وہ زخمیِ پیکانِ مژگاں نہیں میں
دھڑکتا ہے دل اب بھی راتوں کو لیکن
وہ نوحہ گرِ دردِ ہجراں نہیں میں
بہ ایں تشنہ کامی بہ ایں تلخ کامی
رہین لبِ شکر افشاں نہیں میں
شراب و شبستاں کا مارا ہوں لیکن
وہ غرقِ شراب و شبستاں نہیں میں
قسم نطق کی شعلہ افشانیوں کی
کہ شاعر تو ہوں، اب غزل خواں نہیں میں

یہ آخری شعر مجاز نے آشوبِ ذات کے سیاق میں کہا ہے۔ جگر نے یہی بات کہی تھی لیکن سیاق آشوبِ زمانہ کا تھا ؂
فکر جمیل خواب پریشاں ہے آج کل
شاعر نہیں ہے وہ جو غزل خواں ہے آج کل
مجاز نے یہ بات آشوب زمانہ کے سیاق میں نہیں کہی کیونکہ پہلے شعر میں وہ یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ اب وہ درخورِ بزمِ خوباں نہیں رہے۔
شکوۂ مختصر سات اشعار کی نظم ہے۔اس کے شروع کے چھ اشعار ایک مہذب، متمدن اور شریف النفس انسان کی اعترافیہ شاعری کا عمدہ نمونہ بننے کے پورے امکانات اپنے اندر رکھتے ہیں؛بات آخری شعر پر آکر ٹھہر تی ہے کہ دیکھیں یہ صاحب اس عالی ظرفی کو کیسے نبھاتے ہیں ؂
مجھے شکوہ نہیں دنیا کی ان زہرہ جبینوں سے
ہوئی جن سے نہ میرے شوقِ رسوا کی پذیرائی
مجھے شکوہ نہیں ان پاک باطن نکتہ چینوں سے
لبِ معجز نما نے جن کے مجھ پر آگ برسائی
مجھے شکوہ نہیں تہذیب کے ان پاسبانوں سے
نہ لینے دی جنھوں نے فطرت شاعر کو انگڑائی
مجھے شکوہ نہیں افتادگانِ عیش و عشرت سے
وہ جن کو میرے حالِ زار پر اکثر ہنسی آئی
مجھے شکوہ نہیں ان صاحبان جاہ و ثروت سے
نہیں آئی میرے حصے میں جن کی ایک بھی پائی
اور اب وہ آخری شعر ؂
زمانے کے نظام زنگ آلودہ سے شکوہ ہے
قوانینِ کہن، آئینِ فرسودہ سے شکوہ ہے
یہ آخری شعرنظم کا حصہ نہیں بن پایا۔اس سے انکار نہیں کہ انسانی تاریخ استحصال کی روداد ہے لیکن استحصال کا نظام کسی خاص فرد کو اذیتِ خاص میں مبتلا کرنے کے لیے معرض وجود میں نہیں آیا ہے۔ اب اگر کوئی ترقی پسند ہمیں یہ باور کرانا چاہے کہ شروع کے چھ شعروں کو اعترافیہ شاعری کے ذیل میں رکھ کر نہ دیکھا جائے تو مشکل یہ ہے کہ ایسا کوئی قرینہ بھی تو نہیں کہ ہم ان چھ شعروں کو آر کے لکشمن کے Common Manسے منسوب کرسکیں۔ ہمارے ترقی پسندوں کے ذہن کی نکتہ رسی کے ہم بھی قائل ہیں اور ہمیں یہ اطمینان بھی ہے کہ ادب کی مارکسی جمالیات بھی ادبی متن میں قرینے سے صرفِ نظر کرنے کا تقاضہ نہیں کرتی۔
’مادام‘ غزل کی ہیئت میں دس اشعار کی نظم ہے۔ شروع کے نو شعروں میں اپنی وارفتگیِ شوق کا بیان ہے۔ نظم جب اس شعر پر ختم ہوتی ہے ؂
میری وارفتگیِ شوق مسلم لیکن
کس کی آنکھیں ہیں زلیخا کا حسیں خواب لیے
تو معلوم ہوتا ہے کہ اپنے یہاں وصفِ یوسفی کے زوال کا اعتراف کررہے ہیں۔ یہ کوئی دورازکار تاویل نہیں، سیدھی سی بات ہے۔ وصفِ یوسفی سلامت ہو تو ایک کیا کئی زلیخاؤں کی آنکھوں میں خواب جاگ اٹھتے ہیں۔خواب اگر نہیں جاگ رہے ہیں تو اس میں کسی زلیخاکا قصور نہیں۔ نظم آج میں تو انھوں نے خود ہی کہہ دیا کہ ع
یاں بہ ایں عالم غرورِ یوسفیت بھی نہیں
آوارہ کے بعد جب جذبہ مسئلہ بن گیا تو بقائے حیات کی جبلت Survival Instinctکے عین مطابق مجاز نے عورت کے تصور میں پناہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔ جیتی جاگتی عورت مسئلہ بننے یا بنائے جانے کے امکانات اپنے اندر رکھتی ہے بالکل اسی طرح جیسے جیتا جاگتا مرد مسئلہ بننے یا بنائے جانے کے امکانات اپنے اندر رکھتا ہے۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی فی نفسہٖ مسئلہ نہیں ہوتا۔ دراصل کسی بھی Actuality کے ساتھDealکرنے کے کچھGround rule یعنی ارضی قاعدے ہوتے ہیں۔ ان ارضی قاعدوں کو سمجھ نہ پانے یا برت نہ پانے سے مسائل جنم لیتے ہیں۔ اس کے برعکس تصور چاہے عورت کا ہو یا مرد کا، اس میں عافیت ہی عافیت ہوتی ہے۔
مجاز کی نظم’کس سے محبت ہے‘ کے تعلق سے یہ غلط فہمی عام ہے کہ اس کا موضوع عورت ہے۔ اس کے پہلے بند میں واضح الفاظ میں اور بعد کے بندوں میں بھی کچھ اسی قسم کا تاثر پایاجاتا ہے ؂
بتاؤں کیا تجھے اے ہم نشیں کس سے محبت ہے
میں جس دنیا میں رہتا ہوں وہ اس دنیا کی عورت ہے
سراپا رنگ و بو ہے پیکرِ حسن و لطافت ہے
بہشتِ گوش ہوتی ہیں گہر افشانیاں اس کی
یہ بند اور اس نظم کے کچھ درمیانی بند ہمارے یہاں Misquoteہوتے رہے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ آخر آخر تک بدن چرائے رہنا نظم کاصنفی مزاج ہے۔ نظم کھلتی ہے تو آخری بند یا آخری مصرعے میں۔ذرا اس نظم کا آخری بند ملاحظہ کیجیے ؂
کوئی میرے سوا اس کا نشاں پا ہی نہیں سکتا
کوئی اس بارگاہِ نازتک جا ہی نہیں سکتا
کوئی اس کے جنوں کا زمزمہ گا ہی نہیں سکتا
جھلکتی ہیں مرے اشعار میں جولانیاں اس کی
شروع کے دس بند تصور میں ابھرتی عورت کی پرچھائیاں ہیں۔ یہ آپ کے تصور میں ابھرنے والی عورت کی پرچھائیاں ہیں اسی لیے آپ کے علاوہ کوئی اور اس کا نشاں نہیں پاسکتا۔ تصور میں ابھرنے والی پرچھائی پرچھائی ہی ہوتی ہے۔اس نظم کا موضوع عورت کا ذاتی /نجی تصور ہے جسے شاعر کا دماغ/تخیل خلق کررہا ہے کہ وہ اس کی نفسیاتی ضرورت ہے۔
M. L. Rosenthalجس نے اپنے مضمونPoetry As A Confessionمیں۱۹۵۹ء میں اعترافیہ شاعری کی اصطلاح پہلی بار استعمال کی ہے۔ اس نوع کی شاعری کی معالجاتی قدر(Theraputic Value)کا معترف ہے۔ The Nationکے ستمبر۱۹۵۹ء کے شمارے میں Robert Lowellکی شاعری کا تجزیہ کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے:
" Robert Lowell seems to regard it [poetry] more as soul's therapy. The use of poetry for the most naked kind of confession grows apace in our day."1.
یہ معالجاتی قدر مجاز کے یہاں بھی کارفرما ہے۔ اسے مجاز کی جرأ ت رندانا ہی کہیے کہ اردو کو ایک جدید confessional poet فراہم ہوا ۔
1. First Published in The Nation, 19th September,1959. Reprinted in Rosenthal,M.L. Our Life In Poetry, 1991. p.109