بچوں کے ادب کا فروغ۔۔۔ کیوں؟۔۔۔ اور۔۔۔ کیسے؟

محمد شعیب مرزا

سب سے پہلے میں محترم عطاء الحق قاسمی صاحب اور لاہور آرٹس کونسل کی گورننگ باڈی کا شکرگزار ہوں کہ اس اہم قومی ادبی کانفرنس میں ’’بچوں کے ادب سے بے اعتنائی کا مسئلہ‘‘ زیربحث لایا گیا۔ اس سے یقیناًبچوں کے ادب کی اہمیت اجاگر ہوگی اور بچوں کے ادب کے فروغ کے کئی دروا ہوں گے۔
بچوں کے لیے ادب تخلیق کرنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے لیکن شاید اس کو اب تک بچوں کا کھیل ہی سمجھا گیا ہے کیونکہ بچوں کے رسالے کے مدیر کی حیثیت سے بہت سے سینئر ادیبوں سے بچوں کے لیے لکھنے کی درخواست کرتا ہوں تو حوصلہ شکن جواب ملتے ہیں۔ کچھ انکار کر دیتے ہیں، کچھ وعدہ کر لیتے ہیں جو وفا نہیں ہوتا، کچھ یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ اب بچوں کی ذہنی سطح پر اُتر کر لکھا نہیں جاتا، کچھ مصروفیات کا عذر پیش کرتے ہیں، کچھ اعزازیئے کی کم رقم سن کر خاموش ہو جاتے ہیں اور کچھ تو یوں گھورتے ہیں جیسے ان سے بچوں کے لیے لکھنے کی درخواست کرکے ہم نے ان کے ادبی مقام و مرتبے کی توہین کردی ہے۔ یوں ان میں سے بیشتر بچوں کے لیے معیاری ادب تخلیق کرنے کے بجائے بڑوں کے لیے بچگانہ ادب لکھنے میں مصروف، مشغول اور خوش رہتے ہیں۔
کوئی ان کو بتلائے کہ اگر بچوں کے لیے لکھنے سے ادبی قد کم ہو جاتا تو آج علامہ اقبالؒ ، اسماعیل میرٹھی، صوفی تبسم، احمد ندیم قاسمی، محسن احسان، خاطر غزنوی، میرزا ادیب، سید نظر زیدی، خالد بزمی، عزیز اثری اور ان جیسے دیگر شاعروں اور ادیبوں کا نام اتنے احترام سے نہ لیا جاتا۔
آپ نے بچپن میں بچوں کا کوئی رسالہ، بچوں کا اخباری صفحہ یا کوئی کتاب ضرور پڑھی ہوگی جس نے آپ کی شخصیت و کردار پر اثرات بھی مرتب کیے ہوں گے۔ آپ میں سے تقریباً تمام شاعروں اور ادیبوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز بھی بچوں کے اخباری صفحے یا کسی رسالے سے کیا ہوگا لیکن اب بچوں کے لیے لکھنے سے اجتناب و احتراز میری سمجھ سے بالاتر ہے۔
بچے کسی بھی ملک و قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ ان کی بہتر تعلیم و تربیت ہی قوم کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے۔ پاکستان میں چار کروڑ سے زائد بچے ہیں لیکن بدقسمتی سے ان میں سے بڑی تعداد تعلیم، صحت، بنیادی ضرورتوں اور حکمرانوں کی توجہ سے محروم ہے۔ باپ حصول معاش میں کوہلو کے بیل کی طرح جتا ہوا ہے۔ مائیں کیبل پر سو سو قسطوں کے ڈرامے اور فلمیں دیکھنے میں مشغول ہیں۔ استاد بھاری بھرکم نصاب پورا کروانے کی دوڑ میں شامل ہیں اور بچے کیبل، انٹرنیٹ اور موبائل میں ایسے مگن اور مست ہوئے ہیں کہ ادب سے دور ہوتے جارہے ہیں۔
بچوں کا چونکہ ووٹ نہیں ہوتا اس لیے وہ سیاسی جماعتوں یا حکومتوں کے منظورنظر نہیں ٹھہرتے۔ نہ وہ ان کی ترجیحات میں شامل ہوتے ہیں (ویسے تو ووٹ والوں کا بھی یہی حال ہے) جب تک بچے۱۸سال کے نہیں ہو جاتے تب تک حکومت کو ان کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا لہٰذا یہ نظرانداز ہوتے رہتے ہیں۔
البتہ یہاں میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کو خراجِ تحسین پیش کروں گا کہ انہوں نے پاکستان میں پہلی مرتبہ بچوں کو عزت و احترام دیا ہے۔ دانش سکولوں کا قیام، ذہین بچوں کو لیپ ٹاپ دینا، پوزیشن ہولڈرز بچوں کو سکالرشپ دینااور غیرملکی دوروں پر بھیجنا ، ان کو گارڈ آف آنر پیش کرنااور تقریری و تحریری مقابلوں میں کروڑوں روپے کے انعامات دینا ان کے مثالی کارنامے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بچوں کا ادب ابھی تک ان کی توجہ کا منتظر ہے۔ اپوزیشن ان پر الزام لگاتی ہے کہ انہوں نے سستی روٹی کے تحت کروڑوں روپے تندوروں میں جھونک دیئے ہیں۔ اگر وزیراعلیٰ پنجاب چند کروڑروپے بچوں کے ادب کے تندور میں بھی ’’جھونک‘‘ دیں تو نئی نسل کندن بن کر اس میں سے نکلے گی۔ اپوزیشن تو شاید تنقید ہی کرتی رہے لیکن آنے والی نسلیں انہیں ہمیشہ دُعائیں دیں گی۔
بچوں کے ادب سے بے اعتنائی کا مسئلہ، اصل میں لمحہ فکریہ ہے حکومت کے لیے، ادب کے فروغ کے لیے قائم اداروں کے لیے اور خود ادیبوں کے لیے۔ میں یہاں موجود تمام شاعروں اور ادیبوں سے اگر دریافت کروں کہ آپ نے اس سال یا گزشتہ دوتین سال کے دوران بچوں کے لیے کچھ لکھا؟۔ تو ۹۰فیصد سے زائد کا جواب نفی میں ہوگا۔ مختصراً ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ نئی نسل کی تعلیم و تربیت، کردار سازی اور بچوں کے ادب کے فروغ کے حوالے سے حکومت اپنی قومی ذمہ داری، ادبی ادارے اپنے محکمانہ فرائض اور ادیب اپنی ادبی ذمہ داری سے غفلت کے مرتکب ہوئے ہیں اور انفرادی و اجتماعی سطح پر بچوں کے ادب سے بے اعتنائی برتی گئی ہے۔
بچوں کے ادب کا فروغ کیسے؟۔ اس حوالے سے چند تجاویز پیش خدمت ہیں۔ ان کو آپ مطالبات بھی کہہ سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں عام طور پر صرف مطالبات پیش کرنے کا ہی رواج ہے لیکن میں چند اقدامات کا بھی ذکر کروں گا جو ہم کر چکے ہیں یا کررہے ہیں۔
* پاکستان میں ہر شعبے کے لیے وزارتیں ہیں لیکن چار کروڑ سے زائد بچوں کی کوئی وزارت نہیں ہے لہٰذا وفاقی اور صوبائی سطح پر ’’وزارتِ اطفال‘‘ قائم کی جائیں۔ کم از کم وزیراعلیٰ پنجاب تو اس کی ابتداء کر ہی دیں۔ اگر فوری طور پر وزارت کا قیام ممکن نہیں تو کم از کم مشیر اطفال ہی مقرر کر دےئے جائیں۔ وزیروں کی فوج ظفر موج میں ایک وزیر یا مشیر کے اضافے سے حکومت کو تو شائد کچھ فرق نہ پڑے ممکن ہے بچوں کا کچھ بھلا ہو جائے کیو نکہ بچوں کے حقوق کے لیے قائم کمشن کا مقصد سال بھر فا ئیو سٹار ہوٹلوں میں سیمینار کروانا اور سال کے آخر میںUNO کو رپورٹ بھجوانے کے علاوہ کچھ کام نہیں ہے۔
* حکومت ہر سال ہر شعبے میں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی دیتی ہے اس میں بچوں کے ادب کا شعبہ بھی شامل کیا جائے۔ صوبائی حکومتیں بھی بچوں کے ادب پر ایوارڈز دینے کا سلسلہ شروع کریں۔ گورنر سندھ عشرت العباد خان نے تین سال قبل سندھ کے بچوں کے ادیبوں کو ایک ایک لاکھ روپے کے پانچ ایوارڈز دیئے تھے یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے اور باقی صوبوں کو بھی اس کی پیروی کرنی چاہیے۔ ہم نے اس حوالے سے کچھ عملی قدم اٹھائے ہیں۔
ہم سے مراد ہم چند نوجوان بچوں کے ادیب جن میں حافظ مظفر محسن، نذیر انبالوی، عارف عثمان، ایم مجاہد و دیگر شامل ہیں۔’’ پاکستان چلڈرن میگزین سوسائٹی‘‘ اور’’ اکادمی ادبیات اطفال‘‘ کے اشتراک سے ’’حکیم محمد سعیدؒ ایوارڈ‘‘ کا اجراء کیا ہے جس کے ساتھ ۱۵۰۰۰ روپے کی رقم بھی رکھی گئی ہے۔ پہلا ایوارڈ جون۲۰۱۲ء میں مسعود احمد برکاتی صاحب کو پیش کیا گیا تھا جو آواری ہوٹل لاہور میں ایک تقریب میں محترم عطاء الحق قاسمی صاحب نے بطور مہمان خصوصی ان کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ ایک ایوارڈ ہم نے محترم عطاء الحق قاسمی صاحب کی خدمات پر ان کو پیش کیا ہے۔ یہ ’’میرزا ادیب ایوارڈ‘‘ وزیراعلیٰ پنجاب نے ان کی خدمت میں پیش کیا۔ یہ ایوارڈ ہر سال دیئے جائیں گے۔ ان کے علاوہ پاکستان چلڈرن میگزین سوسائٹی اور’’ اکادمی ادبیات اطفال‘‘ کے اشتراک سے ایک ایوارڈ دیا جائے گا جس کے ساتھ ۵۰۰۰۰ روپے کی رقم بھی پیش کی جائے گی۔ یہ پہلا ایوارڈ ۱۹۴۷ء سے ۲۰۱۰ء تک بچوں کے ادب کے حوالے سے ادبی خدمات پر دیا جائے گا اور اس کے بعد ۲۰۱۱ء اور ۲۰۱۲ء کے ایوارڈز دیئے جائیں گے۔ اگر وسائل میسر آئے تو ایوارڈز کی تعداد اور رقم میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
* اکادمی ادبیات پاکستان، مقتدرہ قومی زبان، نیشنل بک فاؤنڈیشن، اردو سائنس بورڈ، اقبال اکیڈمی، مجلس ترقی ادب جیسے اداروں میں بچوں کے ادب کا شعبہ قائم کیا جائے۔ ان اداروں میں بچوں کے ادیبوں کو بھی مساوی حقوق اور مراعات دی جائیں اور بچوں کے لیے بھی کتب شائع کی جائیں۔
نیشنل بک فاؤنڈیشن میں اس حوالے سے کافی کام ہوا ہے۔ مرحوم احمد فراز کو خراجِ تحسین پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں جنہوں نے اس ادارے کو بہت ترقی دی اور بچوں کے ادیبوں کے لیے کئی انعامات ہر سال دیئے جاتے رہے۔ فنڈ نہ ملنے کے باعث اب یہ سلسلہ بند ہے البتہ موجودہ ایم ڈی مظہر الاسلام صاحب بھی مقدور بھر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ سال مجھے بھی’’ کتاب کا سفیر‘‘ مقرر کیا۔ ہم نے بچوں کے درمیان سال بھر میں سب سے زیادہ کتا بیں پڑھنے کا مقابلہ کروایا۔ اور نیشنل بُک فا ؤنڈیشن نے اسلام آباد میں ان بچوں کو خطیر انعامات سے نوازا۔ ایسی سر گرمیاں یقیناًفروغ مطالعہ و ادب کے لیے سود مند ثابت ہوتی ہیں۔
اکادمی ادبیات پاکستان نے بچوں کے عالمی ادب کی نظموں کے تراجم اورپاکستانی ادب کی نظموں کے دو ضخیم انتخاب شائع کیے ہیں جبکہ نثر کے حوالے سے ایک انتخاب شائع ہو رہا ہے جو خوش آئند ہے اور یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے اور باقی اداروں کو بھی اس کی پیروی کرنی چاہیے۔
* مذکورہ ادبی اداروں اور پاکستان بھر کی آرٹس کونسلوں کی گورننگ باڈیز میں بچوں کے ادیبوں کو بھی نمائندگی دی جائے۔
* مقتدرہ قومی زبان کو چاہئے کہ وہ بچوں کے ادیبوں اور رسائل کے مدیران کے لیے اصطلات پر مشتمل ایک لغت شائع کریں اور ان کو اس کشمکش سے نجات دلائیں جو مختلف جگہوں پر ایک ہی لفظ مختلف طر یقوں سے لکھنے سے دو چار ہیں۔ مثلاً توتا/ طوطا، پتہ/ پتا، مدیراعلیٰ/ مدیر اعلا وغیرہ۔( محترم ڈاکٹر انوار احمد صاحب نے یہ لغت شائع کرنے کا وعدہ کیاتھا اُمید ہے اس وعدے پر عمل بھی ہو گا)
* بین الاقوامی ادبی وفود کے تبادلوں اور بیرون ملک ادبی کانفرنسوں میں شرکت کے لیے بچوں کے ادیبوں کو بھی مواقع فراہم کیے جائیں۔
* حلقہ ارباب ذوق، رائٹرز گلڈ اور دیگر ادبی تنظیموں میں بچوں کے ادیبوں کو بھی رکنیت دی جائے اور بچوں کے ادب پر تنقیدی نشستیں کی جائیں۔ ہم وقتاً فو قتاً کچھ عر صے سے ادبی و تنقیدی نشستوں کا اہتمام کررہے ہیں۔اور اب یہ سلسلہ ماہانہ بنیادوں پر جاری ہے۔
* بچوں کے ادیبوں کو بھی ادبی بیٹھک کی رکنیت دی جائے۔
* بچوں کے ادب کے حوالے سے پروگراموں کے لیے الحمراء اور دیگر ادبی اداروں کے ہال مفت فراہم کیے جائیں۔ (محترم عطاء الحق قاسمی صاحب نے اس حوالے سے وعدہ کیا ہے جس کے لیے ہم شکرگزار ہیں بلکہ انہوں نے واضح کیا ہے کہ جب سے وہ چےئر مین ہیں ادبی پروگراموں کی حو صلہ افزائی کر رہے ہیں اور الحمرا ہال نمبر۳ اور ادبی بیٹھک میں ادبی پرو گرام کروانے کا کوئی معاوضہ نہیں لیا جا رہا)۔
* الحمراء قومی ادبی کانفرنس کی طرح ہر سال بچوں کے ادیبوں کے لیے ایک قومی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے یا ان ادبی کانفرنسوں میں بچوں کے ادیبوں کی نمائندگی میں اضافہ کیا جائے۔ ہم لاہور آرٹس کونسل کے چیئرمین محترم عطاء الحق قاسمی صاحب کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے ہماری درخواست پر اس کانفرنس میں بچوں کے ادب اور بچوں کے ادیبوں کو جگہ دی۔ لاہور آرٹس کونسل کی پیروی کرتے ہوئے پاکستان کی باقی آرٹس کونسلز کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرح کی کانفرنسوں میں بچوں کے ادب اور بچوں کے ادیبوں کو نمائندگی دیں۔
* پاکستان میں چار کروڑ سے زائد بچوں کے لیے صرف ۴۰ رسائل شائع ہو رہے ہیں جو اپنی اشاعت بمشکل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بہت سے معیاری رسالے ماضی کا قصہ بن چکے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ ان رسائل کو خصوصی طور پر سرکاری اشتہارات دیئے جائیں تاکہ نہ صرف یہ اپنا وجود برقرار رکھ سکیں بلکہ اپنا معیار اور تعداد اشاعت میں اضافہ کر کے زیادہ بہتر انداز میں نئی نسل کو تعلیم و تربیت اور تفریح فراہم کرسکیں بلکہ ادیبوں کو بھی معقول اعزازیہ دے سکیں تاکہ سینئر ادیب بھی اس طرف مائل ہو سکیں۔
* بچوں کے رسائل براہ راست بچوں تک پیغام رسانی کا اہم ذریعہ ہیں لہٰذا پولیو مہم۔ ہاتھ دھونے کے عالمی دن، صحت و صفائی، ڈینگی سے بچاؤ، تعلیم کی اہمیت کے حوالے سے تشہیری مہم کے حوالے سے بچوں کے رسائل میں بھی اشتہارات دئیے جائیں تو خاطر خواہ نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں ۔یاد رہے کہ بچوں کے رسائل صرف بچے ہی نہیں بلکہ والدین اور اسا تذہ بھی پڑھتے ہیں۔ چونکہ بچے یہ رسائل سنبھال کر رکھتے ہیں اس لیے ان رسائل کی عمر ایک ماہ نہیں ہوتی یوں نئی نسل میں شعور و آگہی کے حوالے سے ان رسائل سے دیر پا ثمرات حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
* سرکاری ادبی رسائل/ خبر ناموں (News Letterrs ) اور نجی شعبہ میں شا ئع ہونے والے ادبی جرائد میں بچوں کے ادب اور ادبی سر گرمیوں کے لیے بھی کچھ صفحات مختص کیے جا ئیں۔
* بچوں کے حقوق، صحت ، تعلیم اور بہبود کے لیے کام کرنے والے سرکاری ادارے اور این جی اوز اہداف کے حصول اور بچوں تک براہ راست ر سائی کے لیے بچوں کے رسائل اور بچوں کے ادیبوں کی شراکت کو بھی یقینی بنائیں۔
*وفاقی و صوبائی حکومتوں کے علاوہ پرا ئیویٹ اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں کے رسائل کو اشتہارات دیں تا کہ یہ رسائل معاشی طور پر مستحکم ہو سکیں۔
* جس طرح ما ضی میں بنک اور دیگر ادارے بچوں کے ادیبوں(کتب) کو ایوارڈ دیا کرتے تھے وہ یہ سلسلہ دوبارہ شروع کریں اور ادبی پروگراموں کو بھی سپانسر کریں تاکہ مثبت سر گرمیوں کو فروغ مل سکے اور دم توڑتی معاشرتی اقدار کو سہارا مل سکے۔
* ہر سکول کو پابند کیا جائے کہ وہ ہر ماہ کم از کم بچوں کے ۵مختلف رسائل سکول لائبریری کے لیے خریدے، لائبریری کلچر کو فروغ دیا جائے اور ہفتے میں کم از کم ایک پیریڈ لائبریری کے لیے رکھا جائے تاکہ بچوں میں مطالعہ کا شوق پروان چڑھ سکے۔
* تعلیمی اداروں میں ’’بزم ادب‘‘ کا قیام لازمی قرار دیا جائے۔
* ہر سرکاری و نجی تعلیمی ادارہ اپنے اپنے وسائل کے مطابق طلباء و طالبات کی تحریروں پر مشتمل سالانہ میگزین ضرور شائع کرے اس سے بچوں میں لکھنے اور پڑھنے کا شوق پیدا ہوگا۔
* پی ٹی وی پر بچوں کے پروگراموں میں اضافہ کیا جائے تاکہ بچوں کے ادیبوں کو وہاں لکھنے کے مواقع میسر آسکیں۔
* حکومت تمام چینلز کو پابند کرے کہ وہ روزانہ کچھ وقت بچوں کے پروگراموں کے لیے مختص کریں۔
* جس طرح جگہ جگہ فوڈ سٹریٹس بنائی جارہی ہیں اسی طرح مختلف مقامات پر بک سٹریٹس بھی بنائی جائیں جہاں خصوصی رعایت پر بچوں کو کتابیں دستیاب ہو سکیں اور وہ علم و ادب کی طرف مائل ہو سکیں۔
* حکومت بچوں کی ادبی کتب کی اشاعت کے لیے سستا کاغذ فراہم کرے تاکہ بچوں کو سستی کتب میسر آسکیں۔
* مختلف ادبی ادارے بچوں کے ادیبوں کے لیے تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کریں۔
اس حوالے سے عرض ہے کہ پاکستان ینگ رائٹرز فورم کے پلیٹ فارم سے بطور مرکزی صدر میں نے اپنے رفقاء کے ساتھ مل کر تین سال تک صوبائی سطح پر لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور آزادکشمیر میں تین تین دن کے تربیتی کیمپ کروائے اور اس کے بعد تین روزہ قومی کانفرنس کروائی جس میں ملک بھر سے ایک سو سے زائد نوجوان اہل قلم شریک ہوئے۔ اس وقت بچوں کے لیے لکھنے والے ۸۰ فیصد سے زائد ادیب ان تربیتی کیمپوں سے تربیت یافتہ ہیں۔
ان کے انعقاد کے سلسلے میں ہمیں شعبہ بچوں کا ادب دعوۃ اکیڈمی اور یونیسیف کا تعاون حاصل رہا۔ دعوۃ اکیڈمی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے پاکستان میں بچوں کے ادب کی اہمیت اجاگر کی لیکن بعد میں اس نے سیاست کا ایسا زہر پھیلایا کہ یہ کریڈٹ ڈس کریڈٹ میں بدل گیا اوراس ادارے میں شخصی آمریت، غیر منصفانہ فیصلوں اجتماعی کے بجائے ذاتی مفاد و خود نمائی کو تر جیح اور شعبے پر عدم توجہ کے باعث آج کوئی ادیب دعوۃ اکیڈمی کے پروگراموں یا مقابلوں میں شرکت کرنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ کچھ لوگوں کو میری یہ بات ناگوار گزرے گی لیکن میں ہی دعوۃ اکیڈمی کا سب سے بڑا مداح اور میں ہی سب سے بڑا ناقد ہوں اور یہ تنقید اصلاح احوال کے لیے ہے۔
یہاں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ ہم۱۹۴۷ء سے اب تک بچوں کے ادب کی تاریخ مرتب کررہے ہیں۔ نیز اس عرصے کے ادب کو محفوظ کررہے ہیں۔ اس کا انتخاب شائع کیا جائے اور پھر ہر سال بچوں کے ادب کا انتخاب شائع کیا جاتا رہے گا۔ ہمارے کچھ دوست بھی اس پر کام کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ سب سے بھی تعاون کی درخواست ہے۔
اس کے علاوہ بچوں کے ادیبوں کی ڈائریکٹری کی اشاعت پر بھی کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔
* ہمیں چاہیے کہ جس طرح بچوں کی دیگر ضرورتوں اور سہولتوں کا خیال رکھتے ہیں اسی طرح ان کی سیرت و کردار کی تعمیر پر بھی توجہ دیں۔ سالگرہ، عید اور دیگر مواقع پر بچوں کو دیگر تحائف کے ساتھ ساتھ معیاری کتب اور رسائل بھی تحفے میں دیں لیکن ہمیں بچے کے لیے۱۵۰ روپے کابرگر سستا اور ۵۰ روپے کی کتاب مہنگی لگتی ہے۔ میں نے سنا تھا کہ کسی نے کہاتھا کہ میں کتاب خریدنے گیا تھا۔ کتاب کی قیمت ۵۰۰روپے تھی میں ۴۰۰ روپے کا جوتا لے کر گھر آگیا۔ جن افراد اور قوموں کو کتاب اور جوتے کا فرق سمجھ میں نہیں آتا وہ جوتوں کے ہی حقدار ٹھہرتے ہیں۔
میری تمام سینئر شاعروں اور ادیبوں سے گزارش ہے کہ وہ بچوں کے لیے ضرور لکھیں۔ آپ کو اعزازیہ نہیں بھی ملتا تو آپ کو یہ اعزاز ضرور حاصل ہوتا ہے کہ آپ نئی نسل کی تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کررہے ہیں اور پاکستان کا مستقبل تابناک بنا رہے ہیں۔ اگر آپ دس غزلیں لکھیں تو بچوں کے لیے ایک نظم بھی لکھ دیں اور اگر دس افسانے لکھیں تو بچوں کے لیے ایک کہانی بھی لکھ دیں۔ یہ ننھے پھول آپ کی توجہ اور شفقت کے حقدار ہیں۔ اگر آپ نے ان کا حق ادا نہ کیا تو یہ شکایت کریں گے کہ..... یا اللہ! انہیں جو تو نے لکھنے کی صلاحیت بخشی تھی یہ اسے حسن و عشق کے قصوں اور محبوب کی زلفوں اور جلوؤں پر ہی استعمال کرتے رہے۔ انہیں ہمارا خیال بالکل نہیں آیا۔یا تو اس بات کا جواب سوچ لیجیے یا بچوں کے لیے لکھنا شروع کر دیجیے۔
آخر میں ایک اور تجویز کہ یونیورسٹیوں کو چاہیے کہ وہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالوں کے لیے بچوں کے ادب اور بچوں کے ادیبوں کا انتخاب کریں تاکہ ان پر تحقیق ہو سکے اور لوگ ان کی اہمیت و افادیت سے آگاہ ہو سکیں۔
ہمیں وفاقی و صوبائی حکومتوں، متعلقہ ادبی اداروں، لاہور آرٹس کونسل، اس کے چیئرمین محترم عطاء الحق قاسمی اور خاص طور پر وزیراعلیٰ پنجاب سے یقین کی حد تک توقع ہے کہ وہ ان تجاویز پر سنجیدگی سے غور فرمائیں گے اور ان پر عملدرآمد کے لیے خصوصی تعاون و اقدامات کریں گے۔
اگر ان میں سے چند تجاویز پر بھی عمل ہو گیا تو اگلے سال جب ہم یہاں جمع ہوں گے تو اس کانفرنس میں بچوں کے ادب سے بے اعتنائی کے بجائے بچوں کے ادب کے ارتقاء پر گفتگو کرسکیں گے۔ انشاء اللہ۔
(الحمراء قومی ادبی و ثقافتی کانفرنس۱۲۔۱۳۔۱۴ اکتوبر۲۰۱۲ ء خصوصی سیشن: ’’ بچوں کے ادب سے بے اعتنائی کا مسئلہ‘‘۱۴ اکتوبر۲۰۱۲ ء کوپڑھا گیا)
***
خبریں فورم میں گفتگو
اردو کو ختم کرنا ملک کو اکائیوں میں تقسیم کرنے کے مترادف ہوگا، ڈاکٹر شریف ، پروفیسر اخلاق۔ چیف جسٹس اردو سرکاری طور پر نافذ کرائیں، فیاض ایڈووکیٹ، پروفیسر رشید۔ ملک میں قومی زبان ذریعہ تعلیم ہونا چاہیے اردو کو ختم کرنا ملک کو اکائیوں میں تقسیم کرنے کے برابر ہے۔ انگریزی ملک کی ترقی اور علم کی راہ میں رکاوٹ ہے، انگریزی کو لازمی قرار دینے سے سکولوں میں ڈراپ آوٹ ریٹ میں اضافہ ہوا ہے اور کالجوں میں بھی تعلیم کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اردو کو لازمی بنایا جائے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان سوموٹوایکشن لے کر ملک میں اردو کے نفاذ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کے آرڈرز دیں تاکہ نئی نسل اس کو ذریعۂ تعلیم بنا کر ملک کو ترقی کی جانب لے جائے۔ ان خیالات کا اظہار روزنامہ خبریں فورم میں ڈاکٹر محمد شریف نظامی، پروفیسر اخلاق محمود، فیاض احمد ایڈووکیٹ ، پروفیسر رشید احمد انگوی، پروفیسر سلیم ہاشمی، کلیم شاہ ایڈووکیٹ نے کیا۔ فورم میں مقررین نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ زبان دراصل ایک سماجی فعل اور کسی بھی قوم کے وجود ، بقا اور اس کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ سرکاری سکولوں میں پہلی جماعت سے دسویں جماعت تک جبراً ، انگلش میڈیم نافذ کر نے پر ہم خیال دوستوں نے پاکستان قومی زبان تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور اردو کے سا تھ علاقائی زبانوں کی ترویج کے لیے بھی کوششیں شروع کرنی شروع کر دی ہیں۔ مقررین نے کہا کہ ملک میں اردو ہوگی تو معلومات تک آگہی آسان ہو جائے گی اور ہر شہری کے پاس اپنے حقوق بارے معلومات ہوں گی انھوں نے مطالبہ کیا کہ انگریزی کی جگہ اردو کو لازمی مضمون کے طور پرپڑھایا جائے۔ (بشکریہ : روز نامہ خبریں، اسلام آباد)
***
اس بات کے تسلیم کیے جانے میں کوئی مشکل نہیں کہ پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتو، سرائیکی اور کشمیری بھی ہمارے ملک میں بولی جاتی ہیں۔ اور ان کو سمجھنے والے بھی کثیر تعداد میں ہیں۔ لیکن اردو کو جو مرکزیت حاصل ہے اور پورے ملک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے وہ دوسری کسی زبان کو نہیں۔ اظہار خیال کے جو عمدہ پیرائے اردو میں مرتب کیے جا سکتے ہیں۔ باقی کوئی زبان اس کے عشر عشیر بھی نہیں۔ قومی زبان کو جن خصوصیات کا حامل ہونا چاہیے وہ بدرجہ اتم ارد و میں موجود ہیں۔ پاکستان کے داخلی اور خارجی مسائل دونوں کے حل میں اردو مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں بولی جانے والی باقی زبانیں اپنے علاقے سے باہر اجنبی محسوس کی جاتی ہیں جب کہ اردو پورے ملک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ بقول مولوی عبد الحق مقامی بولی صرف ایک مقام کی ہے۔ قومی زبان ساری قوم کی ہے۔
محمد عزیر عاصم ۔ حضرو
(بشکریہ:روز نامہ نوائے وقت ، راولپنڈی)