معروضات

آخری اداریہ

گزشتہ ۱۸ ماہ میں ہماری کوشش یہ رہی ہے کہ ہمارے ادارے کے مستعد افراد کی کاوشوں کو ’اخبارِ اردو‘ کے ذریعے پاکستان کی درس گاہوں کی نیم مضطرب روحوں کے لیے جاذب بنا دیں،مگر کبھی کبھی یہ احساس ہوتا ہے کہ ہمارے آس پاس کوئی ایسا شخص موجود نہیں رہاجو اس بات کی اہمیت سے واقف ہو کہ علمی اداروں کی داخلی نمو ان کی فکری آزادی سے پروان چڑھتی ہے بشرطیکہ ان اداروں کی قیادت کسی صاحبِ علم کے پاس ہو۔ ظاہر ہے کہ میں ان میں سے نہیں مگر مجھے یہ اعزاز ضرور حاصل ہے کہ میَں آج اس ادارے سے وابستہ ہوں ،جہاں میرے پیش رو ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی،ڈاکٹر وحید قریشی،ڈاکٹر جمیل جالبی،پروفیسرفتح محمد ملک اور افتخار عارف تھے۔یہ وہ ادارہ ہے جس کا نام ’مقتدرہ قومی زبان‘ ڈاکٹررضی الدین صدیقی نے تجویز کیا تھا اور جسے دستور پاکستان کی دفعہ ۲۵۱(۱) کے تحت یہ کام سونپا گیا تھا کہ وہ ایسے اقدامات کرے کہ پاکستان کی قومی زبان سرکاری اور دفتری زبان ہوکر اس قوم کی آزادی اور خودمختاری کی ضمانت دینے کے ساتھ ساتھ اس قومی ثقافت کی بھی ترجمان بن جائے جو ایک ہزار برس کے ہند مسلم تہذیب نے پیدا کی تھی اور جس کے پیش نظر علامہ اقبال نے الہ آباد کے خطبے میں کہا تھا کہ ہمیں ہندوستان میں مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک خطہ مطلوب ہے جہاں ہم مسلم تاریخ اور تہذیب کے اس سر زمین سے رابطے کے نتیجے میں تشکیل پانے والے بہترین آمیزے سے وابستہ اقدار کی روشنی میں اپنی زندگیوں کو ڈھال سکیں۔ پاکستان کی اساس بننے والے سیاسی نظریے کی آب یاری اس تنگ دلی نے بھی کی جو ہندی اردو تنازع کو ہوا دے رہی تھی۔یہ عامل اتنا متحرک ہوا کہ جنوبی ہند کے وہ مسلمان جو اردو بول، پڑھ یا لکھ نہیں سکتے تھے وہ بھی اسے’ پیغمبر صاحب کا بھاشا‘ کہہ کر اس سے و ابستگی میں فخر محسوس کرتے تھے۔ اسی لیے پاکستان کی خالق جماعت نے قیام پاکستان سے پہلے ہی اردو کو پاکستان کی قومی زبان کہا تھا ۔ بانی پاکستان کی مادری زبان اردو نہیں تھی مگر وہ اصرار کے ساتھ اسے پاکستان کی قومی زبان کہتے تھے۔ ۱۹۵۶ء ، ۱۹۶۲ء اور ۱۹۷۳ء کے آئین میں بھی اردو کو پاکستان کی قومی زبان کہا گیا۔ ۱۹۷۳ء کے دستور کے خالق ذوالفقار علی بھٹو بھی سندھی تھے۔ ان کی مادری زبان بھی اردو نہیں تھی مگر وہ بھی عوام سے اسی زبان میں خطاب کرتے تھے اور آئینِ پاکستان ۷۳ ۱۹ء میں اردو کو قومی زبان بھی قرار دیا۔ بے نظیر بھٹو بھی عوامی جلسوں میں اسی زبان کو وسیلۂ اظہار بناتی تھیں اور مجھے پیش رو جنابِ افتخار عارف نے بتایا تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے وزیرِ اعظم کے طور پر اس ادارے کے نام کی تبدیلی کی بھی اجازت نہیں دی تھی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج پاکستان کے تمام کم وسیلہ لوگ گلگت سے گوادر تک اس زبان کو بولنے میں نہ صرف سہولت محسوس کرتے ہیں بلکہ انہیں احساس فخر بھی ہوتا ہے۔یہی نہیں ’ڈان‘ جیسے ثروت مند نیوز چینل کو انگریزی سے اردو میں تبدیل ہونا پڑا،جو ایک طرح سے پاکستان میں عوامی ریفرنڈم ہے۔ آج علمی اداروں کی بے توقیری پر مستعدبعض عناصر کے طفیل اسے ایک ایسی وزارت کا ذیلی ادارہ بنا دیا گیا ہے جس کو ابھی اپنے امور اور حدود کا اندازہ لگانا ہے۔ یہاں دو گونہ تدبیر کا عالم یہ ہے کہ ابھی گزشتہ ہفتے اکادمی ادبیات پاکستان کو آئینی تحفظ دینے کے لیے قومی اسمبلی سے بل منظور کرایا گیاہے جب کہ مقتدرہ قومی زبان کو نوٹیفکیشن نمبرF.13(6)/2000.NLA مورخہ ۱۷۔ اگست ۲۰۱۲ء کے تحت ایک ذیلی ملحق ادارہ بنا دیا گیا ہے۔ تاہم یہ غنیمت ہے کہ ہمارے ادارے کی حیثیت میں تبدیلی کے باوجود جو مجلسِ مشاورت [ بورڈ آف ایڈوائزرز] تشکیل دی گئی ہے،اس نے اپنے اولین اجلاس منعقدہ یکم نومبر ۲۰۱۲ ء میں سفارش کی ہے کہ اس ادارے کو ذیلی ادارہ بنانے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے اور اس کی سابقہ حیثیت بحال کر کے اسے ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے آئینی تحفظ دیا جائے۔ مجھے یقین ہے کہ اس ادارے سے میری سبک دوشی کے بعد بھی سالانہ خریدار ہماری اعانت جاری رکھیں گے۔ جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے نہ صرف ہمارے ادارے سے شائع ہونے والی ’روسی،اردو لغت‘ کی ۱۰۰ جلدیں خرید کر مختلف اداروں میں تقسیم کی ہیں بلکہ سات اصحابِ علم کو ’اخبارِ اردو‘ اور ’علم و فن‘ کا سالانہ خریدار بنوایا ہے۔


انوار احمد