ڈاکٹر علی مدیح ہاشمی
عنکبوت وہم کا جال
علی اکبر ناطق نے ہمارے قائم کردہ ’’فیض گھر‘‘ (واقع ماڈل ٹاؤن لاہور (www.faizghar.net) میں آ کر فیضؔ کی شاعری کے جمالیاتی پہلو پر ایک لیکچر دیا۔ اس دوران ان کے شاعرانہ اور فلسفیانہ نقطۂ نظر کو جاننے کا موقع ملا جس میں وہی احتجاج دکھائی دیا جو کسی زمانے میں ن م راشدؔ اورِ میراؔ جی کی شاعری سے وابستہ تھا۔
فیضؔ نےُ عنفوانِ شباب میں ہی اپنے آپ کو ایک خاص سیاسی اور سماجی نظریے سے منسلک کر لیا تھا۔ یہ تھا اشتراکیت یعنی Socialism کا نظرے�ۂ حیات جو کہ اس زمانے میں اپنے عروج پر تھا۔ برِّصغیر پاک و ہند کے عوام اور عوام کے نظریاتی (Ideological) نمائندگان جن کا اشتراکی خیالات سے لگاؤ ایک فطری عمل تھا کیونکہ یہ خیالات عوام کی آزادی کی گہری خواہش کی بھرپور تائید کرتے تھے۔ اسی طبقہ سے وہ لوگ بھی ا’بھرے جنھوں نے انجمن ترقیّ پسند مصنفین کی داغ بیل ڈالی۔
فیض نے اس انجمن کی افزائش میں اہم کردار ادا کیا اور بہت عرصے تک اس سے منسلک رہے۔ انھوں نے انجمن کی روزانہ کی سرگرمیوں سے صرف اس وقت کنارہ کشی اختیار کی جب ان کو یہ محسوُس ہوا کہ انجمن کے کچھ کارکن جن میں ان کے ہم عصر مصنفّ اور شاعر بھی شامل تھے ’’بے معنی انتہا پسندی‘‘ کی طرف مائل ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد بھی تمام عمر فیضؔ نے ان عزائم اور آدرشوں کا دامن نہیں چھوڑا جو انجمن ترقیّ پسند مصنفّین کی سنگ بنیاد تھے یعنی معاشی اور معاشرتی استحصال کا خاتمہ، عدل پسندی اور انسان دوستی۔
انجمن ترقیّ پسند مصنّفین کے مخالفین کے دو بڑے گروہ تھے۔ ایک تو ظاہر ہے کہ برطانوی سامراج اور ان کے مقامی ایجنٹ تھے جن میں دینی مفکر اور نام نہاد علماء وغیرہ بھی شامل تھے جن کی مخالفت ایک فطری عمل تھا۔ عوامی شعور کا بیدار ہو جانا کسی طرح بھی ان کے فائدے میں نہیں تھا ۔ وہ فرسودہ رسوم و روایات میں گمُ عوام کو محوِخواب ہی دیکھنا چاہتے تھے۔ دوسرا گروہ وہ تھا جس کے نمائندہ حلقۂ ارباب ذوق کے دونوں بانی تھے یعنی ن م راشدؔ اور ثناء اللہ ڈار ’’ِمیرا ؔ جی‘‘ ۔ علی اکبر ناطق کا فلسفۂ شاعری اور شاید فلسفۂ زندگی بھی حلقۂ ارباب ذوق کے خیالات سے متاثر ہے۔ راؔ شد کا موقف بالکل صاف تھا جو انھوں نے بھی خود کئی مواقع پر بیان کیا۔ وہ اپنے فن میں کسی قسم کی بیرونی ہدایت (Dictation) قبول کرنے کے خلاف تھے۔ اس سے ان کی مراد ترقی پسند شعراء کے اشتراکی تصوّرات تھے جسے وہ ’’مغربی درآمد ‘‘ گردانتے تھے حالانکہ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ سائنسی ترّقی کے ثمریات، جس کا فائدہ وہ شب و روز حاصل کرتے تھے، وہ مغرب سے درآمد نہیں ہوئے تھے؟ اور اگر ذرا اور پہلے کے دوَر پر نظر ڈالیں تو کیا دینِ اسلام بھی ہندوستان میں بیرُونِ مُلک سے درامد نہیں ہوا تھا؟ راشدؔ کہتے تھے کہ وہ اپنے فن میں مکمل (شخصی) آزادی کے قائل ہیں۔ جمالیاتی آزادی (Aesthetic Freedom) اُن کے لیے ہر چیز سے زیادہ ضروری تھی ۔ یاد رہے کہ راشدؔ نے بھی برطانوی سامراج کے تسلط اور معاشرے میں قائم فرسودہ روایات کے خلاف شعوری طور پر آواز اٹھائی لیکن اس کا اظہار انھوں نے ایک انفرادی شعور کی سطح پر کیا، اجتماعی یا سماجی سطح پر نہیں۔ مثلاً انھوں نےُ محبت بالخصوص مرد اور عورت کی باہمی جنسی محبت کے بارے میں معاشرے میں قائم شدہ پابندی پر کڑی تنقید کی۔
راشدؔ کسی طور سے بھی روایتی (Traditionalist) نہ تھے اور زندگی کے آخر تک وہ سراپا احتجاج رہے ۔ اس بات کا ثبو ت ان کی وہ وصیت تھی جس میں انھوں نے بجائے دفن ہونے کے نذرِآتش Cremate) (ہونا پسند کیا۔ اس پر روایتی دوست احباب نے برُا بھی منایا لیکن ان کے خاندان نے اُن کی خواہشات کا احترام کیا۔
کیا کسی سیاسی یا نظریاتی تحریک سے منسلک ہونا ایک فنکار کی جمالیاتی پرورش کے لیے لازم ہے؟
یقیناًنہیں جیسا کہ راشدؔ نے ثابت کیا۔ ان کی نظموں کے جمالیاتی حُسن سے کون انکار کر سکتا ہے؟
جب وہ لکھتے ہیں :
’’
سلیماں سر بزانو’ اورسبا ویراں
سبا آسیب کا مسکن، سبا آلام کا انبوہِ بے پایاں ‘‘
یا
’’
آئینہ حس و خبر سے عاری
اس کے نابود کو ہم ہست بنائیں کیسے ‘‘
تو ان کی منظر تراشی اور خیال آرائی کے حسن سے کون متاثر ہوئےِ بنا رہ سکتا ہے؟ اس کے علاوہ انھوں نے اپنے طور سے جدید طرزِ زندگی اور سماجی اور معاشی قیود کے خلاف آواز بھی اٹھائی ہے۔ مثلاً ان کی نظم ’’خود کشی ‘‘ وغیرہ۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ راشدؔ کو وہ مقبولیت حاصل نہیں ہوئی کہ جو فیضؔ کو ہے۔ شاید راشدؔ سے اگر یہ پوچھا جاتا تو ان کا جواب یہ ہوتا کہ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بہرحال ، ایک تجزیہ کے طور پر ہی اگر اس کا معائنہ کیا جائے تو اس کی وجہ ڈھونڈنا بھی مشکل نہیں ۔ فیضؔ نے شعوری طور پر (اپنی جمالیاتی حسِ سے انحراف کیے بغیر) عوام الناس کے مسائل اور ان کی زندگی کی روز مرّہ تکالیف کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ جبکہ راشدؔ نے ایسا نہیں کیا۔ ان کی شاعری میں ایسی علامات بھری پڑی ہیں جن کو سمجھنے اور ان سے لطف اندوز ہونے کے لیے کسی حد تک مغربی ادب اور شاعری سے آشنائی ضروری ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انھوں نے زندگی کا بیشتر حصہ بیرونِ ملک گزارا ۔اسی لیے ان کی شاعری ہندوستان (اور بعد میں پاکستان) کے پڑھے لکھے درمیانے طبقے تک محدود رہی۔ فیضؔ اور راشدؔ گورنمنٹ کالج میں اکٹھے پڑھتے تھے اور ایک دوسرے کی شاعری سے بخوبی واقف تھے۔ فیضؔ راشدؔ کو کہا کرتے تھے " موضوع کچھ بھی ہوآ پ مقالہ بنا دیتے ہیں "
جواب میں راشدؔ کہتے تھے "اورموضوع کچھ بھی ہو آپ غزل بنا دیتے ہیں"۔ راشدؔ کہا کرتے تھے "موضوع کتنا ہی پیچیدہ کیوں نہ ہو، آپ اختصار برتتے ہیں تا کہ ہر شخص سمجھ لے اور آپ کی تعریف کرے"۔جواب میں فیضؔ کہتے تھے " اور آپ جو پیش کرتے ہیں، اُس کوُ سلجھانا ناممکن ہے" ۔
اس بحث سے ایک اور سوال بھیُ ابھرتا ہے۔ فن کا مقصد کیا ہے؟ کیا یہ صرف قاری کو محظو’ظ کر نے اور اُس کی جمالیاتی حسِ کو تسکین پہنچانے کا وسیلہ ہے؟ کیا فنکار صرف ایک مداری ہے جو لوگوں کو تماشہ دکھا کر ان کا دل بہلاتا ہے؟ کیا فن (چاہے وہ کسی طور کا بھی ہو) معاشرے میں اس سے بڑھ کر بھی کوئی کردار ادا کر سکتا ہے؟ اس معاملے میں بھی فیضؔ اور ترقی پسند فنکاروں کا نقط�ۂ نظر قطعی ہے۔ فن نہ صرف حسن کو جانچنے اور اس کو سراہنے کا ذریعہ ہے، یہ معاشرے کو بدلنے کا بھی ایک طاقتور آلہ ہے۔ ایک مخلص فنکار دنیا اور معاشرے کے ان حقائق سے فطری طور پر آگاہ ہوتا ہے جو عام لوگوں کی آنکھ سے اوجھل رہتے ہیں۔ اسی عمل کے بارے میں غالبؔ نے کہا تھا :
آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں
ان حقائق کو وہ اپنے فن میں بیان کرتا ہے اور قارئین اس عمل سے اپنے شعور میں وسعت پاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ استحصال، معاشی اور معاشرتی نا ہمواری وغیرہ جیسے سماجی حقائق بھی فنکار کی نظر سے اوجھل نہیں۔ اب یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ ان حقائق کے بیان میں کیا طریقہ استعمال کرتا ہے۔ اگر (راشدؔ کی طرح) وہ یہ کہتا ہے کہ وہ شعوری طور پر کوئی نظریاتی پہلو نہیں اپنائے گا تویہ امرَ بذاتِ خُود ایک نظریاتی پہلوُ ہی ہے یعنی کہ وہ معاشرے میں رائج رسوم و رواج کی تائید کر رہا ہے۔ اِس نظریاتی کشمکش میں جمالیات کا سہارا لے کر اپنے آپ کو غیر جانبدار کہنا یاتو بے وقوفی ہے یا فریب۔ ایک سچا فنکار بے وقوف یا فریبی نہیں ہو سکتا۔ اگر ایسا ہے تو اس کا فن عظمت کی بلندیوں کو کبھی نہیں چھوئے گا۔ اس بارے میں فیضؔ کہتے ہیں :
سب ساغر شیشے لعل و گہر
اس بازی میںِ بد جاتے ہیں
اٹھو سب خالی ہاتھوں کو
اس رَن سے بلاوے آتے ہیں
یہ ’’رَن‘‘ جس کا فیضؔ ذکر کر رہے ہیں، وہی نظریاتی کشمکش ہے جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔ فیضؔ نے ایک موقع پر یہ بھی کہا ہے کہ ایک فنکار کو ترقیّ پسند کہنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تخلیق کا عمل از خود ایک ترقیّ پسند عمل ہے۔ البتہ ایسا فن جس کا معاشی اور معاشرتی حقائق سے کوئی تعلق نہ ہو، جو صرف ’’جمالیات‘‘ کی دلدل میں پھنس کر رہ جائے،ِ جسِ کا حسنُ صرف گنے چنے لوگوں تک پہنچ سکے، اس کو فیض ؔ کے کچھ اور اشعار میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے۔
یہ ہے بھی یا نہیں بتا
یہ ہے کہ محض جال ہے
میرے تمہارے عنکبوتِ وہم کا ’بنا ہوا
علی اکبراپنے شاعری کے پہلے مجموعہء کلام " بے یقین بستیوں میں" کے پیش لفظ میں بہت خلوص سے اپنا محنت کش ماضی بیان کرتے ہیں اور (بجا طور پر ) ’’ڈرائنگ روموں میں بیٹھ کر ‘‘ ڈینگیں مارنے والوں پر تنقید کرتے ہیں۔ یہاں تک تو ٹھیک لیکن جب وہ ’’پوری قوم ‘‘ کو ’’چاپلوس، منافق ‘‘ وغیرہ گردانتے ہیں تو یہ سوال ابھرتاہے کہ کیا محنت کش عوام (جس کا وہ خود بھی حصہ ہیں ) میں کوئی شخص بھی ان کو مخلص، محنتی اور وفا دار نہیں ملا؟
اب یہاں اگر علی اکبر یہ کہیں کہ وہ تضحیک کے الفاظ جو انھوں نے پوری قوم پر چسپاں کیے ہیں وہ صرف چند ایک لوگوں پر لاگو’ ہوتے ہیں تو پھر یہ وضاحت ان کو ان الفاظ کے ساتھ ہی کر دینی چاہیے تھی۔ شاید ان کا اشارہ درمیانے طبقے کے کچھ ارکان کی طرف ہے جو اپنے ’’کیرئیر‘‘ اور ’’آگے بڑھنے‘‘ کی لگن میں ایسے کام کر جاتے ہیں جو ان کو بجا طور پر منافقین یا کاذبین کی صفوں میں کھڑا کر دیتے ہیں۔ تاہم اگر اس امر کی وضاحت اسی پیش لفظ میں ہو جاتی تو بہتر تھا۔
یہ بات تو طے شدہ ہے کہ علی اکبر سماجی عیو’ب کے خلاف سراپا احتجاج ہیں (کیونکہ انھوں نے خود یہی کہا ہے)۔ لیکن کس قسم کا احتجاج؟ کس چیز کے خلاف؟کس عزم کی محبت میں ؟ احتجاج برائے احتجاج بھی فن برائے فن کار کی طرح ایک کھوکھلا عمل ہے۔
شاید ن م راشدؔ کی طرح ان کا احتجاج ان سماجی حقائق کے خلاف ہے جو انسان کی روح، اس کی عزتِ نفس کو کچل دیتے ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں :
’’
لیکن فطرت کی مجبوری ہم ریشم کے کیڑوں کی طرح سُچاریشم بنتے ہیں اور تار لپٹتے رہتے ہیں
آخر گھٹ کر مر جاتے ہیں ریشم کی دیواروں میں‘‘۔
کیا ان کا اشارہ ’’جدید ‘‘زندگی کی طرف ہے جس کی معاشی ذمہ داریاں انسان کے نفس کو روز کچلتی ہیں۔ کیا ان کا اشارہ بیگانگیت (Alienation) کی طرف ہے یعنی وہ کیفیت جس میں انسان اپنے عمل، اپنے کام اور اپنے وجود تک سے نفرت محسوس کرنے لگتا ہے؟ مگر بعینہٖ ہی یہی کیفیت ہے تو جدید اشتراکیت کے بانی کارل مارؔ کس نے بھی اپنے فلسفے میں بیان کی ہے۔ مارکس کہتا ہے کہ یہ کیفیت سرمایہ دارانہ (capitalist) نظام کا لازمی جز ہے۔ا س کی وجہ یہ ہے کہ اس نظام کے تحت کسی بھی انسان کو اپنے نان نفقہ کے لیے روز اپنی محنت پیسے کے عوض بیچنی پڑتی ہے۔ اس عمل سے اُس کے اندر بد دِلی اور کراہت کے جزبات اُبھرتے ہیں کیونکہُ اس کے دِن کا بیشتر حصّہ ایسے کام میں صرف ہوتا ہے جو وہ دِل سے نہیں کرتا، محض معاوضے کے عوض کرتا ہے۔رفتہ رفتہ یہ بدِدلی کی کیفیت اُس کی پُوری زندگی کا احاطہ کر لیتی ہے اور وہ ہر چیز سے، حّتیٰ کہ اپنے آپ سے بھی نفرت محسوُس کرنے لگتا ہے۔اِسی عمل کہ مارکسؔ نے بیگانگیت (alienation) کا نام دیا ہے۔
ن م راشد ؔ بھی اسی کیفیت کا ذکر کر رہے ہیں :
’’
گھر پہنچتا ہوں میں انسانوں سے اکتایا ہوا
میرا عزمِ آخری یہ ہے کہ میں
کو د جاؤں ساتویں منزل سے آج ‘‘
کیا اس احساس کا حل سوائے موت کے اور کچھ بھی نہیں؟
فیضؔ بھی مندرجہ ذیل اشعار میں بے بسی کا اظہار کر تے ہیں :
’’
اب جو بھی چاہو چھان کرو
اب جتنے چاہو دوش دھرو
چھاتی تو وہی ہے گھاؤ وہی
اب تم ہی کہو کیا کرنا ہے
یہ گھاؤ کیسے بھرنا ہے ‘‘
فرق یہ ہے کہ اسی نظم کے ابتدائی اشعار میں یہ بات ظاہر ہے کہ فیضؔ ایک اجتماعی جدوجہد کا ذکر کررہے ہیں۔ چاہے وہ کسی بھی عزم کی طرف ہو جبکہ راشدؔ صرف ایک انفرادی کیفیت بیان کر رہے ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ اجتماعی جدوجہد از خود ایک پر’ امید عمل ہے۔ کسی بھی انسان کا انفرای عمل ، چاہے وہ کتنا ہی قابل کیوں نا ہو، بہر حال ایک ادنیٰ چیز ہے جبکہ اجتماعی عمل اس سے کہیں زیادہ قوی ہے۔ اجتماعی عمل سے انسان کی شخصیت کے وہ پہلو اُبھر کر سامنے آتے ہیں جس کی بِنا پر وہ اپنے آپ کو اشرف المخلوقات گردانتا ہے یعنی ایثار، قرُبانی اور باہمی تعاون۔ المختصُر، اجتماعی عمل ہی انسان کو انسان بناتا ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے شاید بہتر ہو کہ ہم ایک بار پھر ا س بحث کی حدود کا تعین کر لیں۔ فن کا مقصد کیا ہے؟ مصوری، خطاطی، شاعری، موسیقی یا ادب ایک معاشرے میں کیا کردار ادا کرتے ہیں؟ کیا فن صرف برائے فن کار ہے؟ کیا فن کسی خاص سیاسی یا سماجی نقطہء نظر کے فروغ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے یا کیا جانا چاہیے؟
بظاہر اس بحث کے دو ہی جواب نکلتے ہیں۔ لیکن اگر ذرا گہرے، جدلیاتی انداز سے اس کا معائنہ کیا جائے تو جواب یہ ہے کہ فن حسُن کو سراہنے کا ذریعہ اور معاشرتی جدوجہد کا آلہ ، دونوں کردار ادا کر سکتا ہے۔
تو پھر یہ فیصلہ کون کرے گا کہ اس کا کردار کیا ہونا چاہیے؟ ظاہر ہے کہ اس کا اولینّ ذمّہ تو اسی فنکار کا ہے جس نے اسے تخلیق کیا ہے۔ وہ فنکار اس کے بارے میں کیا فیصلہ کرے گا (یا کرے گی)؟ اس کا انحصار اس کے معروضی ،بیرونی حالات پر ہے۔ اس مختصر مضمون میں تفصیل میں جانے کا موقع نہیں ہے لیکن مختصرا یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ کسی بھی انسان کے شعور، اس کی سوچ، اس کے احساسات کا سر چشمہ کیا ہے؟ اگر ہم یہ مان لیں کہ ہر انسان ایک خاص سماجی ماحول میں رہتا ہے تو اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ یہ ماحول اس کی سوچ ، اس کے احساسات اور اس کے شعور کو متاثر کرے گا۔ یعنی اس کی ہر تخلیق، اس کے ہر عمل میں اس ماحول کا رنگ نظر آئے گا۔ بے شک ، وہ شعوری طور پر اس رنگ سے بغاوت کر سکتا ہے، اس کو کسی اور رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ مگر جب تک بیرونی حقائق نہیں بدلیں گے، اس خاص رنگ کا بدلا جانا مشکل، بلکہ نا ممکن ہے۔ اس صورت میں فنکار کے سامنے دو ہی راستے ہیں۔ وہ اس سماجی جدوجہد سے منہ موڑ کر داخلی تجربات کی عکاسی کرے (جیسا کہ راشدؔ نے کافی حد تک کیا) یا شعوری طور پر سماجی عوامل سے گتھم گتھا ہو جائے اور ان کو بدلنے کی کوشش کرے (جیسا فیضؔ نے کیا) ۔ یاد رہے کہ مؤخر الذّکر لائحہ عمل کے دوران فنکار اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش بھی کر رہا ہے کیونکہ وہ بھی سماج ہی کا حصہ ہے۔
اب یہ دیکھتے ہیں کہ علی اکبر کس طرف کو چل رہے ہیں۔ ان کی نظم ’’نام و نسب‘‘ جو انھی کی زبانی میں نے پہلی بار سنی راشدؔ کی شاعری کی یاد دلاتی ہے۔ الفاظ کی تراکیب، خیال آرائی وغیرہ میں وہی حسن ہے لیکن نظم کا کُل اثر کیا ہے؟ کسی درجہ مایوسی، گمنام آباؤ اجداد کا نوحہ اور غم۔پڑھنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا لیکن پڑھنے کے بعد قلبی کیفیت اُداسی کی ہے۔ اس کے برعکس ’’ہزیمت‘‘کے پہلے کچھ اشعار ایک اور رنگ میں ہیں (گو کہ عنوان سے نتیجہ ظاہر ہے (
’’
تیز ہے میری سواری اور چابک سخت ہے
خون کی گردش رگوں میں اس سے بڑھ کر تیز ہے ‘‘
ان اشعار سے قاری کی توجہ فیض ؔ کی نظموں ’’پیکنگ‘‘ اور ’’سنکیانگ‘‘ کی طرف جاتی ہے۔
’’
یوں گماں ہوتا ہے بازوہیں میرے ساٹھ کروڑ
اور آفاق کی حد تک میرے تن کی حد ہے
دل مرا کوہ و دمن دشت و چمن کی حد ہے ‘‘
افسوس یہ کہ علی اکبر اس جوش کو آگے لے کر نہیں چلتے اور ایک بار پھر حزن سے دو چار ہو جاتے ہیں۔ ستم تو یہ ہے کہ ان کی شاعری میں یہ رنج ان کی شخصیت کے بالکل خلاف ہے۔ اور اگر طبیعت میں امید اور خوشی ہے تو فن میں ملال کیوں؟ شاید اس لیے کہ وہ ایک ہنر مند اور حساس فنکار ہیں جس نے معاشرے کی خامیاں بخوبی پہچان لی ہیں لیکن ان کا حل تجویز کرنے یا کوئی تعمیری تنقید کرنے سے گریزاں ہیں؟
فیضؔ نے ایسا کبھی نہیں کیا تھا۔ ان کا فن ان کی زندگی کی جدوجہد کا مخلص روپ ہے۔ اگر انھیں کوئی ایسی حقیقت نظر آئی جو قابل تنقید تھی تو وہ پیچھے نہیں ہٹے۔ اسی وجہ سے
’’
اس راہ میں جو سب پہ گزرتی ہے وہ گزری ‘‘
علی اکبر کو بھی اگر اس راہ پر چلنے کی خواہش ہے تو یہ تمام عوامل انھیں سمجھنا ہونگے۔ اگر وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے ’’فن کا مقدر‘‘ یہی نہ رہ جائے کہ
’’
پھر بھیُ ٹھکرا دیں اسے چشمِ حقارت سے بخیل ‘‘
توان کو بھی اپنے فن کی بصیرت کو اور وسیع کرنا پڑے گا۔ ’’غمِ جاناں‘‘ سے بڑھ کر ’’غمِ جہاں‘‘ کو اپنانا پڑے گا اور پھر اس غم کا مداوا بھی تجویز کرنا پڑے گا۔ تب ہی وہ فخر سے اپنی تحریروں میں اِس احساس کی عکاسی کر سکیں گے :
ہے دشت اب بھی دشت مگر خو’نِ پا سے فیضؔ
سیراب چند خارِ ’مغیلاں ہوئے تو ہیں
***