کالم سے اقتباس
اردو کل اور آج
امر جلیل
۱۹۶۱ء آج سے ٹھیک پچاس برس پہلے اپنے ایک اسٹیج پہلے یعنی ڈرامے کے بعد تھیاسافیکل ہال کراچی میں صحافی دوستوں سے باتیں کرتے ہوئے میں نے کہا تھا ’’اُردو انتہا رومانوی زبان ہے، اگر مجھے کبھی کسی انگریز لڑکی سے عشق ہوجائے تو اس سے اظہار محبت اُردو میں کروں گا‘‘۔
میری بات کو صحافی دوستوں نے بڑے پیار سے اپنے اپنے اخبار میں اہمیت دی تھی۔ میری عمر پچہتر برس ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اُردو میں نے کب، کیسے اور کس سے سیکھی۔ مجھے بس اتنا احساس ہے کہ پیدائشی طو رپر مجھے اُردو آتی تھی۔ میری والدہ پونے میں پیدا ہوئیں اور بمبئی (اب بمبئی) میں بڑی ہوئی تھیں۔ وہ سندھی بولتی تھیں، سندھی پڑھتی تھیں اور سندھی میں لکھ سکتی تھیں۔صوفی عقیدے کی تھیں، سچل سرمست کی معتقد تھیں۔ اس لیے میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میری مادری زبان اردو ہے لیکن مجھے نہیں یاد کہ میں نے اپنی نانی کو کبھی سندھی بولتے ہوئے سنا تھا۔ وہ مہارا شٹر کی تھیں۔ آخری دم تک وہ مراٹھی ملی ہوئی اُردو میں بات کرتی تھیں۔ تقسیم ہند سے پہلے کراچی میں ہم ہندوستانی بولتے تھے جو کہ بنیادی طورپر اُردو زبان ہوتی تھی۔ اُردو کا کمال ہے کہ اپنے حیرت انگیز پھیلاؤ میں ہندوستان میں جہاں جہاں پہنچی وہاں کی مقامی زبانوں کے اظہار کو اپنے اندر سمیٹ لیا۔ کسی بھی مقامی یا صوبائی زبان کو بے دخل نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پھلتی پھولتی رہی۔ نئے نئے الفاظ خود بخود بغیر کسی دانستہ کوشش یا ارادے کے اپنے اندر سمیٹتی رہی۔ اس کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے اُردو کہیں یا ہندوستانی زبان، پورے ہندوستان میں پھیل گئی۔ اُردو اور ہندوستانی میں فرق بول چال یا بات چیت میں محسوس ہوتا تھا۔ زبانی کلامی اظہار میں اُردو او رہندوستانی میں کوئی واضح فرق محسوس نہیں ہوتا تھا۔ فرق تب محسوس ہوتا تھا جب تحریری اظہار کے لیے خط و کتابت کی نوبت آتی تھی۔ تب ہندوستانی بائیں سے دائیں جانب ہندی یا سنسکرت یا بنگلہ کی طرح لکھی جاتی تھی اور اردو دائیں سے بائیں طرف فارسی یا عربی کی طرح لکھی جاتی تھی۔ ورنہ اس کے علاوہ اُردو یان ہندوستانی میں مجھے کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا تھا بلکہ اُردو اور ہندوستانی ایک ہی زبان کے دونام لگتے تھے۔ یہ باتیں میرے اپنے تجربے کی باتیں ہیں، سنی سنائی یا کتابوں میں لکھی ہوئی باتیں نہیں ہیں۔ بٹوارے سے پہلے کراچی میں اچھی خاصی تعداد میں سینما ہوتے تھے۔ صدر میں واقع پیراڈائیز سینما، کیپٹل سینما، پیلس سنیما، ریکس سینما، میفیئر سنیما میں انگریزی فلمیں لگتی تھیں۔ باقی شہر کے سینماؤں میں ہندوستانی فلمیں لگتی تھیں۔ دیکھنے جائیں تو فلمیں اُردو میں ہوتی تھیں۔ مکالمے اردو میں، گانے اردومیں۔ فلم کا نام تین زبانوں میں لکھا جاتا تھا۔ انگریزی، ہندی اور اُردو۔ فلم کے باقی کریڈٹ انگریزی میں لکھے ہوئے ہوتے تھے۔
ماہرلسانیات جانیں ان کا کام جانے۔ مجھے اس بات سے قطعی کوئی سروکار، کوئی دلچسپی نہیں کہ ہندی میں غیر ملکی زبانوں خاص طور پر فارسی، ترکی اور افغان پرشین کے الفاظ کی آمیزش سے اُردو زبان وجود میں آئی تھی۔ پچھتر برس سے ایک لکھنے او رپڑھنے والے کی حیثیت سے میں نے اُردو کے مزاج میں آنے والی تبدیلیوں کو غور سے دیکھا اور محسوس کیا ہے۔ اُردو ایک کرشماتی زبا ن ہے۔ اس زبان کے ہندوستان کے کونے کونے میں پھیل جانے کا سہرا کوئی شخص، کوئی اشخاص، کوئی ادارہ نہیں لے سکتا۔ اُردو میں خود بخود پھیلنے اور دیگر زبانوں کے لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لینے کی خداداد صلاحیت ہے۔ یہی حیرت انگیز وجہ ہے کہ اُردو لکھنے والوں میں واضح اکثریت ان لوگوں کی ہے جن کی مادری زبان اُردو نہیں کچھ اورہے۔ کرشن چندر، سرلادیوی، اپندرناتھ اشک، اقبال، فیض، فراز، منشا، مظہرالسلام، اشفاق احمد، امجداسلام امجد، صوفی تبسم، احمد ندیم قاسمی، بانو قدسیہ، شفیق الرحمن، سردست ان کے نام گنوائے جاسکتے ہیں اور اسد اﷲ خان غالب! غالب کی مادری زبان اُردو نہیں تھی۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ اُردو میں کچھ غیر معمولی ہے جس کی وضاحت نہیں ہوسکتی صرف محسوس کی جاسکتی ہے، کشش ہے، جاذبیت ہے، طلسم ہے، مقناطیسیت ہے۔ ہم بس اتنا کہہ سکتے ہیں کہ اُردو میں رومانیت ہے اور رومانیت بین الاقوامی جذبہ ہے جو سب کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ جب تک بر صغیر میں سیاستدانوں نے لوگوں کے درمیان نفرتوں کی دیواریں کھڑی نہیں کی تھیں تب تک اردو کے لیے ہندوستان میں سب کچھ ٹھیک تھا۔ کوئی زبان ہندو یا مسلمان نہیں ہوتی۔ عربی مسلمانوں کے لیے سب سے مقدس زبان ہے لیکن مسلمانوں کے خلاف یہودیوں کی مہم جوئی اور نفرتوں کی اجراء عربی میں کی جاتی ہے۔
زبانوں کا مذہب نہیں ہوتا۔ اگر ہوتا تو انگریزی کا مذہب کرسچینٹی یعنی عیسائیت ہوتا مگر ایسا نہیں ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے پورے ہندوستان میں مقبول، بولے جانے والی اور سمجھ میں آنے والی زبان اُردو کو کاری ضرب آل انڈیا مسلم لیگ نے پہنچائی انہوں نے تقسیم ہند کی مہم میں اردو کا بے دریغ استعمال کیا۔ ہونا تو یوں چاہیے تھاکہ وہ جہاں جہاں تقسیم ہند کے لیے لوگوں کو آمادہ کرنے جاتے وہاں کی مقامی زبان میں لوگوں کو مخاطب کرتے۔ سندھ میں سندھی زبان میں، فرنٹیئر میں پشتو میں، مدراس میں مدراسی میں، گجرات میں گجراتی میں، بنگال میں بنگالی زبان میں خطاب کرتے مگر انہوں نے اس کے برعکس کیا۔ وہ جہاں جاتے تقسیم ہند کی بات اُردو میں کرتے۔ آل انڈیا مسلم لیگ کی کوتاہ نظری کی وجہ سے اردو کو اپنے ہی وطن ہندوستان میں متنازع بنادیا۔ اردو پر مسلمان یا مسلمانوں کی زبان ہونے کا ٹھپہ لگ گیا۔ اُردو اگر مسلمانوں کی زبان ہے تو پھر کرشن چندر، بیدی، گوپی چند نارنگ کا کیا ہوگا؟ کرشن چندر کی کتابیں ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں بکتی تھیں۔ شمع اور بیسویں صدی جیسے سیکڑوں ادبی رسالے شائع ہوئے تھے۔ سب ٹھپ ہوگیا۔ آپ کو حیرت ہوگی کہ پاکستان میں ایک بھی ماہوار اردو ادبی مخزن شائع نہیں ہوتا اور ہندوستان میں اُردو کے پیروں تلے زمین کھسکتی جارہی ہے۔ اس کے باوجود اپنی کرشماتی کشش اور قدرت کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں گھر کرتی جارہی ہے۔
(
بشکریہ روزنامہ جنگ ، راولپنڈی ،۲۰ ستمبر۲۰۱۱ء )
اُردو کو متنازعہ ہونے نہ دیں
امر جلیل
مختلف قومیتیں، مختلف مذاہب اور مختلف زبانیں بولنے والے لوگ کراچی میں رہتے تھے مگر کیا مجال کہ ان کے درمیان کبھی لڑائی جھگڑا ہوا ہو۔ اس کے دو واضح اسباب تھے۔ ایک تو تھا انگریز کا طرز حکومت اور دوسرا سبب تھا شہر میں بولی جانی والی اور سمجھی جانے والی ایک زبان جس کے دو نام تھے، اُردو اور ہندوستانی۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کراچی میں اب سندھی ، پنجابی، پٹھان، بلوچ اور جن کی مادری زبان اُردو ہے، کراچی میں رہتے ہیں۔ مگر شہر میں بولی اور سمجھی جانے والی زبان اُردو ہے۔ پھر آئے دن کراچی میں دنگے فساد کیوں ہوتے ہیں؟ اس کے تین اسباب ہیں۔ ایک، شہری آبادی بے تحاشا بڑھ گئی ہے اور بڑھ رہی ہے۔ اتنی بڑی پاپولیشن کے لیے بجلی، پانی، اسپتال، اسکول، رہائش اور روزگار مہیا کرنا ایک ناکارہ حکومت کے لیے امکان سے باہر ہے۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ کراچی میں حکومت کی کوئی رٹ نہیں ہے۔ کراچی لینڈ مافیا، بلڈر مافیا، ہتھیار اور ہیروئن کے اسمگلروں اور کرائے کے قاتلوں کو پالنے والے چلا رہے ہیں۔ اس طرح کے معاشرے کے لیے کوئی زبان شعور، ادراک اور آگاہی کا سبب نہیں بن سکتی۔ تیسرا سبب یہ ہے کہ بد قسمتی سے اُردو کو ایک طبقہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کررہا ہے لہٰذا دیگر زبانیں بولنے والے چوکنا ہوگئے ہیں۔ وہ اُردو کو اپنی زبانوں کے لیے تھریٹ محسوس کرنے لگے ہیں۔ اُردو کے لیے اُن نااندیش لوگوں نے خواہ مخواہ کے مسائل پیدا کردیئے ہیں۔ یہ بہت ہی افسوسناک ہے۔ تقسیم ہند سے پہلے آل انڈیا مسلم لیگ نے اُردو کو سیاست میں گھسیٹ کر اس کرشماتی زبان کابڑا زیاں کیا تھا۔ وہ زبان جو بنگال سے مدراس، تامل ناڈو سے مہاراشٹرا، گجرات، اترپردیش، ہما چل پردیش سے ارونا چل پردیش اور کشمیر تک بولی اور سمجھی جاتی تھی اب سکڑ کر ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کی زبان ہوکر رہ گئی ہے۔ یہ سنی سنائی بات نہیں ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ میں ہندوستان گیا تھا۔ یہ میرے اپنے مشاہدے کی بات ہے۔ ہندوستان میں اُردو کے چار ٹیلیویژن چینل ہیں۔ چاروں چینلوں پر اُردو میں مذہبی پروگرام، حمد، نعت، مشاعرے، مسلمان گھرانوں کے مسائل پر مبنی ڈرامے ٹیلی کاسٹ ہوتے ہیں۔ عاقبت نا اندیش سیاستدانوں کی خود غرضی کی وجہ سے ہندوستان میں اُردوپر مسلمان ہونے یا مسلمانوں کی زبان ہونے کی چھاپ لگ گئی ہے۔ سیاستدانوں نے لوگوں کے درمیان فاصلے بڑھا دیئے ہیں۔ ان کے درمیان سرحدوں کی دیوار یں کھڑی کردی ہیں مگر میرے تجربہ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ سیاستدانوں نے محبتوں، چاہتوں اور موسیقیت سے بھر پور زبان کو ہندوستان میں متنازع بنادیا ہے۔ اُردو کے نادان خیرخواہوں نے تقسیم ہند کے بعد پاکستان میں اُردو کو سیاسی مقاصد کی خاطر متنازع بنادیا ہے۔ اُردو اپنی مقناطیسی کشش اور بین الاقوامی کردار اور موسیقیت کی وجہ سے دنیا بھر میں دیس دیس کی زبان بن چکی ہے۔ جاپان سے لے کر امریکہ تک کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہے۔ یہ اُردو کا اپنا کرشمہ ہے، یہ اُردو کی اپنی جاذبیت ہے کہ بے شمار ایسے ادیب اُردو میں لکھ رہے ہیں جن کی مادری زبان اُردو نہیں ہے۔ مجھے ڈر ہے کہیں پاکستان میں اُردو پر ایک طبقے کی مادری زبان ہونے کی چھاپ نہ لگ جائے۔
(
بشکریہ روزنامہ جنگ۱۳دسمبر۲۰۱۱ء )
بین الاقوامی اردو کانفرنس
انتظار حسین
اس بھلے وقت میں ہم کراچی میں ہیں اور آرٹس کونسل میں بیٹھے ہیں جہاں مختلف ادبی سوالات پر بحث گرم ہے۔ ملتان سے پروفیسر قاضی عابد آئے ہوئے تھے۔ وہ جو پچھلی صدی کی چھٹی دہائی میں تجریدی علامتی افسانے کا جو شور برپاہوا تھا وہ شور تو کب کا ٹھنڈا ہوگیا۔ اب یہ سوال کرنے کو جی چاہتا ہے کہ اس افسانے کی اب کیا معنویت ہے۔ رات گئی بات گئی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ادب کی افادیت کے دو پہلو ہیں۔ اول یہ کہ کہنے والا کیا کہہ رہاہے۔ دوم یہ کہ کیسے کہہ رہا ہے۔ مگر کیا کہا جارہا ہے اسے بھی جو چیز زندہ رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ کیسے کہا جارہا ہے۔ تو سوچنے کی بات اب یہ ہے کہ یہ تجریدی علامتی افسانہ لکھنے والے کیا کوئی ایسی بات کہہ رہے تھے جو بہت بامعنی ہو او ریہ کہ انہوں نے اس بات کو کہنے کا جو اسلوب اپنایا تھا کیا وہ واقعی کوئی بہت بامعنی اور مؤثر اسلوب تھا۔
مگر پھر مسعود اشعر نے پاکستان کے انگریزی لکھنے والوں میں سے چند ایسے نگینے دریافت کرلیے جنہوں نے اس باب میں حق ادا کیا۔ انہوں نے انگریزی نگارشات ہی میں سے ایک شاہکار دریافت کرلیا جو ان کے مطلوبہ تقاضے کو پورا کرتا نظر آتا تھا۔ انہوں نے لندن کے انگریزی رسالہ گرانٹا Grantaکے پاکستان نمبر کا حوالہ دیا اور اس میں چھپنے والی ایک تحریر کا ذکر کیا۔ مقبوضہ کشمیر کے حالات پر بشارت پیر کی تحریر۔
جب یہ اجلاس ختم ہوا تو ایک نوجوان لپک کر ہمارے پاس آیا اور بولاکہ ’’بشارت پیر نے اپنی تحریر کے سوا ایک اردو تحریر کا بھی ترجمہ وہاں پیش کیا ہے اور گرانٹاکے مبصرین نے پاکستان کے انگریزی ناول نگاروں کی نگارشات کے مقابلہ میں اس اردو تحریر کو سراہا ہے۔ مسعود اشعر صاحب اس بات کو گول کرگئے۔ ‘‘ (بشکریہ روزنامہ ایکسپریس،۲۸ نومبر۲۰۱۱ )
اردو کو کس سے خطرہ ہے؟
عامر خاکوانی
میرا تعلق اس نسل سے ہے ، جنہیں گھر میں اپنی مادری زبان کی بجائے پہلا واسطہ اردو سے پڑا۔ میرے اور مجھ سے دس پندرہ سال چھوٹے بھانجے بھتیجوں کی نسل سے ہمارے والدین سرائیکی بولنے کی بجائے اردو بولتے رہے ۔ یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ سرائیکی کے حوالے سے کسی کمپلیکس کا شکار تھے یا انہیں اپنے بچے سرائیکی بولتے اچھے نہیں لگتے تھے ۔ ویسے ممکن ہے بعض جگہوں پر مقامی زبان کی بجائے بچوں سے اردو میں بات کرنا تہذیبی احساس کمتری کے باعث ہو ، مگر ہمارے گھر میں بہر حال ایسا ہر گز نہیں تھا۔ میری والدہ کا تعلق اگرچہ خیبر پختونخوا کے سرائیکی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے تھا ، مگر ان کی غیر شادی شدہ زندگی کا زیادہ حصہ کراچی میں گزرا ،جہاں میرے صحافی ماموں مقیم تھے۔ والدہ کراچی کو اپنا میکہ سمجھتی اور کہتی رہی ہیں ، اس لیے اردو سے ان کا ایک خاص تعلق تو خیر قابل فہم تھا، مگر والد مرحوم کا بھی یہی خیال تھا کہ اردو ہماری قومی زبان ہے ، اس سے محبت کا تقاضا ہے کہ بچوں کو شروع میں اس سے ہم آہنگ کر دینا چاہیے۔ ان کا لہجہ اور تلفظ قدرے بہتر ہو جائے ، سرائیکی تو یہ ویسے ہی اپنے ارد گرد کے ماحول سے سیکھ ہی لیں گے۔ ہو ا بھی ویسے ہی، اگرچہ سکولوں میں بھی ہم اپنے اساتذہ اور کلاس فیلوز سے اردو ہی بولتے تھے ، مگر جیسے ہی تھورے بڑے ہوئے اور کھیلنے کودنے کے لیے گراؤنڈ ز میں جانے لگے ، سرائیکی خود بخود رواں ہو گئی۔
یہ صرف ہمارے گھر کا معاملہ نہیں، میں نے احمد پور، بہاولپور ، ملتان اور پھر لاہور میں اپنے قیام کے دوران بے شمار ایسے گھرانے دیکھے ، جو سرائیکی یا پنجابی ہونے کے باوجود اپنے بچوں سے اردو ہی بولتے ہیں۔ پنجاب کے بڑے اور چھوٹے شہروں میں بلا مبالغہ کروڑوں نہیں تو کئی ملین گھرانے ایسے ہیں جنہوں نے اپنی مادری زبان پر قومی زبان کو ترجیح دی ہے ۔ وجوہات اس کی جو بھی ہوں، سرائیکی اور پنجابی قوم پرست سیاسی اور ادبی حلقے اس پر جس قدر چراغ پا ہوں، یہ حقیقت ہے کہ پنجاب کے عوام کا بہت بڑا حصہ اپنی نسل سے مکالمے کے لیے اردو ہی کا محتاج ہے ۔ پختونخوا ،اندرون سندھ اور بلوچستان میں صورتحال خاصی مختلف ہے۔ وہاں گھروں میں مقامی پاکستانی زبانوں کا زیادہ اثر ہے۔ سندھی تو خیر ادبی اور علمی اعتبار سے بھی بڑی توانا اور طاقتور ہو چکی ہے۔ اندروں سندھ سندھی زبان کے اخبار، اردو کے اخبارات سے کئی گنا زیادہ اشاعت اور اثر و نفوذ رکھتے ہیں۔ پنجابی اور سرائیکی میں اکا دکا اخبارات شائع ہوئے ،ڈمی ٹائپ اخبار آج بھی شاید چھپتے ہوں مگر وہ سب نامکمل اخبار تھے ،چار ،چھ ،صفحات پر مشتمل ، جس کا واحد مقصد قارئین کو اپنی مادری زبان پڑھنے کے لطف سے روشناس کرانا تھا۔ سندھی اخبار البتہ ہر لحاظ سے مکمل ہیں۔ خبرو ں ، تجزیوں ،فیچرز اور رنگین صفحات سمیت ان میں اپنے قارئین کے لیے سب کچھ موجود ہوتا ہے ۔ سندھی ناول ،افسانہ اور خصوصا شاعری کی ایک توانا روایت چلی آرہی ہے ،جسے آگے بڑھانے کے لیے نئے لکھاریوں کی پوری کھیپ موجود ہے۔ اس سب کے باوجود ایسے سندھی ادیبوں اور شاعروں کی طویل فہرست موجود ہے ،جنہوں نے اردو کو تخلیقی اظہار کاذریعہ بنایا اور اس میں گراں مایہ اضافہ کیا ۔ یہی بات پشتو اور بلوچی بولنے والے لکھاریوں کے بارے میں بھی کہی جاتی ہے ۔ پنجاب کے ادیبوں اور صحافیوں کا تو کنٹری بیوشن اگر اردو سے نکال دیا جائے تو یہ زبان محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتا بنجر ہو جائے گی۔ شاعری، افسانہ ، ناول، مزاح ،تحقیق،انشائیہ اورتنقید جس صنف کو لے لیا جائے، سینکڑوں قد آور شخصیات نظر آئیں گی ،جنہوں نے مادری زبان اردو نہ ہونے کے باوجود اپنی پوری زندگی اس کی ترویج و اشاعت میں کھپا دی۔ مجھے یادہے کہ بارہ برس پہلے کسی دوست کے ہمراہ اردوکے ممتاز شاعر اور نغمہ نگار قتیل شفائی سے ملنے ان کے گھر جانا ہوا۔ قتیل شفائی کا گھر سمن آباد میں واقع تھا، کوئی گھنٹہ بھر ان سے گپ شپ رہی۔ دوران گفتگو قتیل شفائی کہنے لگے ،’’میرا تعلق ہزارہ ڈویژن سے ہے ، مادری زبان ہندکو ہے ،اس کے باوجود میں نے شعوری طور پر اردو کو اپنی تخلیقی زبان بنایا کہ میرے خیال میں قومی زبان کو پروموٹ کرنا اہم اور ضروری تھا۔ ‘‘
اس پس منظرمیں جب میں یہ سنتا ہوں کہ اردو کے وجود کو خطرہ ہے تو بے اختیار میرے لبوں پر مسکراہٹ آجاتی ہے۔ خطرہ !پر کس سے ؟ پاکستان میں کون سی زبان ایسی ہے جو اردو کو مسابقت دے سکتی ہے۔ علاقائی زبانوں کے بارے میں ہم پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ سندھی کے سوا باقی سب قومیتوں کی زبانوں میں لوک شاعری تو مل جائے گی۔ مقبول عام گیت موجود ہوں گے ، مگر تحریری ادب زیادہ توانا ہے نہ صحافت ۔ سب سے اہم وہ مائنڈ سیٹ ہے جو قومی زبان کو اپنی مادری زبانوں پر اس لیے ترجیح دیتا ہے کہ اس سے ملک مضبوط ہو گا۔ جس زبان کو کروڑوں لوگ پڑھتے ،لکھتے اور بولتے ہوں ،جو واحد زبان کراچی سے خیبر اورمکران سے چترال تک ہر جگہ سمجھی اور بولی جاتی ہو ،اسے کیا خطرہ در پیش ہو سکتا ہے؟
ہمارے بعض قابل احترام ادیبوں اور صحافیوں کو جانے کیوں یہ خطرہ لاحق رہا کہ اردو جلد ہی مٹ جائے گی۔ جون ایلیا مرحوم اس حوالے سے ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے تھے ،جس میں بتایا گیا کہ اگلے تیس برسوں میں دنیا کی سینکڑوں زبانیں مٹ جائیں گی۔ جون ایلیا اور ان کے بعض دوسرے دوستوں کا خیال تھا کہ اردو کے ساتھ بھی یہی ہو نا ہے اور یہ صرف رابطے کی زبان (لینگوافرانکا ) ہی بن کر رہ جائے گی۔ سب رنگ کے لیجنڈری ایڈیٹر اور عہد حاضر کے بہترین فکشن نگار شکیل عادل زادہ بھی کم و بیش یہی خیال رکھتے ہیں۔ شکیل صاحب کا میں بے حد احترام کرتا ہوں ،ادب سے جو تھوڑا بہت ذوق شوق ہم میں پیدا ہوا ،اس میں بیشتر حصہ ان کے جریدے سب رنگ کا ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے ہمارے کئی اور قابل احترام سینئر صحافی اور ادیب شعوری کوشش کر رہے ہیں کہ اردو کو ’’مٹنے سے بچایا جائے۔ زبان کو خالص بنانے پر ان کا زیادہ اصرار ہے۔ انگریزی الفاظ کے مترادفات ،خواہ وہ کس قدر مشکل اور دقیق ہوں ،انہیں برتنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ الفاظ کی املا بھی اب بدلی جا رہی ہے ۔ شکیل صاحب نے الفاظ کو توڑنے کی روایت سب رنگ کے آخری ایام میں ڈالی۔ تنخواہ، کامیاب، بلکہ، سامراج اور کامران جیسے الفاظ تن خواہ،کام یاب ،بل کہ ، کام ران، سام راج بن گئے ۔ایسا کرنا فنی اعتبار سے یقیناًدرست ہو گا مگر اس طرف کوئی دھیان نہیں دے رہا کہ اس سے عا م قاری کس قدر کنفیوز ہو رہا ہے۔ اگر اردو (خدانخواستہ) مٹنے جا ہی رہی ہے تو اس سفر کو تیز تو نہیں کرنا چاہیے۔ اس وقت سب سے زیادہ خطرہ انگریزی کے الفاظ سے ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ویسے یہ تو حقیقت ہے کہ شہروں میں بولی جانے والی اردو زبان میں انگریزی کے الفاظ بہت تیزی سے شامل بلکہ غالب ہوتے جارہے ہیں۔ ایک ان پڑھ آدمی بھی ’’بور ‘‘ ہوتا ، ’’ٹائم ‘‘ دیکھتا اور ’’ جاب ‘‘ سے ’’لیٹ ‘‘ ہو جاتا ہے۔ اسے بیزاریت وقت ،ملازمت اور تاخیر سے انگریزی مترادفات زیادہ آسان لگتے ہیں۔ ہم لوگ بھی لاشعوری طور پر ان وائرنمنٹ ، پرابلمز ، سیریس ، پریشر، ڈیڈ لائن ،نیچرل، فوکس ،روڈ ،ڈویلپمنٹ وغیرہ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ جب لکھتے ہیں تو فطری طور پر یہ الفاظ تحریر میں وارد ہو جاتے ہیں۔ میں نے کبھی ارادتاً کالم لکھتے ہوئے زبان و بیان کو بہتر کرنے پر توجہ نہیں دی ، توجہ خیالات پر زیادہ مرتکز ہوتی ہے۔ جب کوئی پڑھنے والا زبان بہتر ہونے کی تعریف کرتا ہے تو مجھے حیرت ہوتی ہے ،اسی طرح کبھی کوئی سخت گیر قاری یہ شکایت کرتا ہے کہ کالم میں فلاں انگریزی لفظ آگیا، حالانکہ اس کا آسان مترادف موجود ہے تب بھی مجھے اچنبھا ہوتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ فطری طور پر وہی زبان ہی لکھی جاتی ہے ، جو ہم بولتے ہیں۔ اردو میں بے نیل مرام اور اس طرز کے بہت سے محاورے ،تراکیب اور کتابی الفاظ ہیں، جنہیں عام زندگی میں کوئی نہیں بولتا ۔ فطری طور پر وہ سب متروک ہوتے جا رہے ہیں۔ انگریزی کے الفاظ زیادہ آنے کی اصل وجہ ہماری تہذیب اور ثقافت میں آنے والی تبدیلیا ں ہیں۔ جب سماج اپنی ہےئت تبدیل کرتاہے تو زبانوں کا مزاج بھی بدل جاتا ہے ۔ اتنے وسیع پیمانے پر آنے والی تبدیلی کو روکنے کے لیے الگ حکمت عملی درکار ہوتی ہے۔ بیک وقت کئی محاذوں پر لڑائی لڑنا پڑتی ہے۔ وہ بھی ضروری نہیں کہ کامیاب ہو سکے۔ جذبات میں آ کر صرف زبان خالص رکھنے کی کوشش کرنے والے بسااوقات خود اس کے وجود کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔
(
بشکریہ روزنامہ ایکسپریس۱۰دسمبر۲۰۱۱ء )
احمد ندیم قاسمی۔ کچھ یادیں !
احمد ندیم قاسمی برصغیر کے صفِ اول کے شاعر، افسانہ نگار، کالم نویس اور نقاد تھے۔ انھوں نے آج کے ادبی مطلع پر چاند سورج کی طرح چمکنے والے شاعروں اور ادیبوں کے ابتدائی ادوار میں ان کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کی۔ ان کا جریدہ ’’فنون‘‘ نئے لکھنے والوں کی پنیری لگاتا تھا او رپھر ایک دن وہ تناور درخت کی شکل اختیار کر جاتے تھے مگر بقول شخصے حضرت عیسیٰ ؑ جن مردوں کو زندہ کرتے تھے وہ بعد میں ان کے دشمن ہوجاتے تھے۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میری پنیری بھی’’فنون‘‘ ہی میں لگی۔ ہوا یوں کہ جب میں ۱۹۷۱ء میں امریکہ سے اپنا اور دوسروں کا سکون غارت کر کے واپسی پر یورپ کی سیاحت کرتا ہوا پاکستان پہنچا تو میں نے ’’شوقِ آوارگی‘‘ کے عنوان سے اپنی آوارہ گردی کی داستان لکھنا شروع کی او را سکی پہلی قسط ’’فنون‘‘ کے دفتر میں ندیم صاحب کو دینے چلا گیا۔ ندیم صاحب نے مجھ نو آموز کا استقبال حسب معمول بہت تپاک سے کیا او رکچھ کہے بغیر ’’شوق آوارگی‘‘ کا یہ باب اپنی میز کے دراز میں رکھ لیا۔ اب مجھے کُھد بدلگی ہوئی تھی کہ اﷲ جانے یہ تحریر ’’فنون‘‘ ایسے اعلیٰ پائے کے جریدے میں اشاعت کے قابل ہے بھی یا نہیں؟ تاہم یہ حوصلہ نہیں پڑتا تھا کہ میں ندیم صاحب کے پاس جاؤں اور اس حوالے سے ان سے بات کروں، مگر اس دوران ایک عجیب و غریب واقعہ ہوا، ایک دوست سے ٹی ہاؤس میں ملاقات ہوئی تو اس نے ’’شوقِ آوارگی‘‘ کے جملے کے جملے مجھے سنانا شروع کریئے او ران کی شگفتگی کے حوالے سے رطب اللسان نظر آیا۔ اس کے بعد کو دوست بھی ملتا ، وہ مجھے میرے مختلف جملے سناتا اور داد وتحسین کے ڈونگرے برساتا۔ کھوج لگایا تو پتہ چلا کہ ان دنوں جو شخص بھی ’’فنون‘‘ کے دفتر ندیم صاحب سے ملنے جاتاہے، ندیم صاحب ’’شوقِ آوارگی‘‘ کا مسودہ سامنے رکھ کر اس کے کھلکھلاتے ہو جملے انہیں سناتے ہیں اور ان کی تحسین کرتے ہیں۔
مجھے برمنگھم کی وہ مسجد یاد آرہی ہے جہاں ہم نے انجمن ترقی پسند مصنفین کے آخری جنرل سیکرٹری اور محنت کشوں
کے لیے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے ترقی پسندوں کے اس امام کی امامت میں ظہر کی نماز ادا کی تھی۔ لندن کا وہ فلیٹ یاد آرہا ہے جہاں ایک مشاعرے کے منتظمین نے مجھے خالد احمد، امجد اسلام اور ندیم صاحب کو ٹھہرایا تھا۔ میں سویا ہوا ہوں۔ علی الصبح میرے کانوں میں ایک مترنم آواز سنائی دیتی ہے ’’عطا صاحب، عطا صاحب!‘‘ میں آنکھیں کھولتا ہوں تو ندیم صاحب میرے لیے چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑے کھڑے ہیں۔ مشاعرے کے بعد ایک مرید نے ندیم صاحب کے ہاتھ چومنے کی کوشش کی تو انہوں نے ملائمت سے اپنا ہاتھ پیچھے کرلیا۔اس نے دوران گفتگو ندیم صاحب کے ایک بزرگ کی کرامت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار حضرت کھڑے کھڑے تھک گئے تو ان کے اشارے پر ایک دیوار خود چل کر ان کے پاس آگئی جس سے حضرت نے ٹیک لگالی۔ اس پر ندیم صاحب نے ہنستے ہوئے اس خوش عقیدہ مرید سے کہا ’’محترم، میرے بزرگ اتنے سست الوجود نہیں کہ دو قدم خود چلنے کی بجائے دیوار کو زحمت دیتے کہ وہ چل کر ان کے پاس آئے‘‘۔
[عطاء الحق قاسمی،روزنِ دیوار،روزنامہ جنگ،۲۸ نومبر ۲۰۱۱ [