انوار احمد
ڈاکٹر بشیر انور:خوش باشی کی ایک افسردہ مثال
گزشتہ ماہ بہت بلند آہنگ یاگونجنے والی موتوں کے نوحہ خواں ہجوم کو مصروف پا کے ایک شخص بشیر انور چپکے سے ملتان میں مر گیا، ایک لحاظ سے یہ اچھا ہوا کہ سردیوں کی آمد سے پہلے وہ چل بسا کہ یہ موسم سفید پوشوں کے مخالفین سے تب سے مِل گیا ہے،جب سے لنڈا بازار ڈرائی کلین ہو کر مہنگے پلازوں میں منتقل ہو گیا ہے، اس شخص نے تہران یونیورسٹی سے فارسی زبان و ادب میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی،بول چال کی فارسی پر عبور حاصل تھا،ایک ہفتے میں بڑی سے بڑی کتاب کا ترجمہ فارسی سے اردو میں کرنے پر قادر تھا،۳۵ برس سے زیادہ تدریس پر مامور رہا[ان میں سے کوئی ۱۵،۲۰ برس تو پڑھایا بھی ہو گا]کالج آف ایجوکیشن ملتان سے وابستہ رہا،خانہ فرہنگِ ایران کے لیے بھی خدمات انجام دیں،بظاہر خوش باش ،خوش خوراک اور صحت مند اس شخص نے کبھی زندگی اور اس کے بہتر یابدتر مظہر[حکومت،افسر،بیوی،اولاد یا ہمسائے] کا شکوہ نہیں کیااور نہ اپنی تنگ دستی کو تلخ نوائی کا حیلہ بنایا،لیکن اس کے سبھی احباب جانتے ہیں کہ وہ مقروض رہنے میں پاکستانی حکمرانوں سے بھی زیادہ بے باک اور بے لحاظ تھا،اپنے سابق رفقا ء میں سے صرف شمیم حیدر ترمذی سے اس کا لحاظ کا رشتہ تھا،جس سے ایک مرتبہ کہا،’شمیم صاحب! آپ جانتے ہیں کہ جوئے کی لت نے مجھے کہیں کا نہیں رکھا،میَں اکثر ہارتا ہوں اور ہر دروازے پر دستک دیتا ہوں،اگر اس عالم میں کبھی آپ کے ہاں بھی آ جاؤں اوردست بستہ بلک بلک کر کہوں مجھے اپنے جوان بیٹے کی تجہیز و تکفین کے لیے قرض چاہیئے تو خدا کے لیے مجھ پر اعتبار نہ کیجئے گا،میَں کم از کم آپ کے ساتھ یہ سلوک نہیں کرنا چاہتا‘،اس زمانے میں کالج آف ایجوکیشن کے پرنسپل خواجہ خورشید احمد تھے،جو امرتسری مزاج کا عکسِ جمیل تھے،ایک روز کالج کھلتے ہی آدھ گھنٹے کے اندر پانچ سے چھ گڑ گڑاتے لوگ آئے،جنہیں بشیر انور کے قرض خواہ ہونے کا شرف حاصل تھا، اورخواجہ صاحب کو کافی ’بھر‘ کر گئے،بشیر انور پرنسپل آفس میں آئے تو خواجہ صاحب نے گھمبیر لہجے میں کہا’آؤ،جم جم آؤ،کالج میں آج آپ نے کیسے قدم رنجہ فرمایا ہے‘؟ بشیر انور نے کہا ’سر،اللہ گواہ ہے،چھ دن سے ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس میں بیٹھاآپ کے لاہور والے ٹی،اے بل پر اعتراضات دور کروا رہا تھا اور۔۔‘ خواجہ صاحب نے یک لخت بڑی نرمی سے کہا’ذرا ادھر آکر میرے پاس بیٹھیں،ڈاکٹر صاحب،آپ کی خدمت میں ایک گزارش کرنی ہے‘ بشیر انور نے بڑی خفت سے کہا’خواجہ صاحب ،آپ حکم کریں‘،اب خواجہ صاحب نے پنجابی میں کہا’اوئے بشیر انور،کوئی گاہک لبھ کے آ،کالج دا،اینوں ویچئے تے توں وی آپڑیں مغروں اک قطار ہٹا،تے میَں وی‘۔ جب ملتان یونیورسٹی،بشیر انور کے کالج کے سامنے والے سکول میں قائم ہوئی تو ہم اردو شعبے کی کچھ تقاریب کالج آف ایجوکیشن میں کر لیتے تھے،ایسی کسی ایک تقریب میں ہمارے کسی طالب علم نے کرسیاں پنڈال میں لانے والے کالج کے نائب قاصد کو ڈانٹا تو کسی نے مجھے سرگوشی میں بتایا یہ نائب قاصد ،ڈاکٹر بشیر انور کا بیٹا ہے،مجھے کافی صدمہ ہوا تھا کیونکہ اسی برس بہاولپور کے کئی مشاہیر پر لکھے گئے مقالات میرے پاس آئے تھے،جن میں میَں نے یہ درد ناک نقطہ نوٹ کیا تھا کہ بیشتر عالم فاضل لوگ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت پر توجہ نہ دے سکے تھے،چنانچہ میں نے آیندہ ملاقات میں بشیر انور سے ایک سے زیادہ مرتبہ پوچھا’ڈاکٹر صاحب! کچھ اپنی اولاد اور ان کی مصروفیات کے بارے میں بتائیں اور ہر مرتبہ ڈاکٹر بشیر انور نے کہا’ ماشاء اللہ سب کو اعلیٰ تعلیم دلوائی اور وہ برسرِروزگار ہیں سارے کے سارے‘۔
جب میَں سرائیکی ریسرچ سنٹر کا ڈائریکٹر تھا،تو میں کوشش کر رہا تھا کہ کچھ بزرگوں کو اعزازیہ پیش کر کے ایک طرف ترجمہ،تالیف اور تصنیف کا کام کراؤں اور چند نوجوان باقاعدہ ریسرچ سکالر رکھ کر ،تربیت کے لیے ان بزرگوں کی تحویل میں دے دوں،سو مرزا ابنِ حنیف،شبیر حسن اختر اور حنیف چودھری بزرگوں کا ایسا زمرہ تھا جو ہمارے سنٹر کو میسر آیا،اس زمانے میں بشیر انور میرے پاس آئے،اس وقت تک میں ان کی ایک اور عادت کبوتر بازی سے واقف ہو چکا تھا اور ان کے ایک سے زیادہ مداح مجھے بتا چکے تھے کہ وہ کوئی کم یاب کبوتر یا کتاب دیکھ کر بے قابو ہوجاتے ہیں اور اپنے اوور کوٹ میں[گرمیوں میں برساتی میں] ڈال لیتے ہیں،جب انہوں نے اظہارِ مدعا کیا تو میَں نے کہا ’ڈاکٹر صاحب،یہ کتابیں میَں نے بڑے جتن،زاری اور حیلے سے جمع کی ہیں،آپ کی مضطرب مشاقی کا ذکر میَں سن چکا ہوں،آپ ہمارے لیے کوئی کام گھر بیٹھے ہی کر دیجئے‘ چنانچہ اس زمانے میں میَں نے ان سے تین کتابیں ترجمہ کرائیں،جن میں سے ایک تذکرۃالملتان بھی تھی،جب انہیں اپنے معاوضے کے لیے یاد دہانی کرنی ہوتی تھی تو فون کرتے تھے،’آپ کے علم میں ہے کہ گھوڑا،بوڑھا کیوں نہ ہو،گھاس تو آخر کھاتا ہی ہے‘،بتانے کی ضرورت نہیں کہ ان کے اپنے گھر میں کوئی فون تھا،نہ موبائل ان کے پاس تھا،پھر بھی بعض لوگ انہیں عیاش اور رنگین بوڑھا خیال کرتے تھے۔اسی زمانے میں کسی نے طعنہ دیا کہ پنجابی کس طرح،سرائیکی سنٹر کے لیے کام کر سکتا ہے تو بشیر انور نے اپنے نام کے ساتھ،اپنے آبائی شہر کے لاحقے کے ساتھ ثم،ملتانی بھی لکھنا شروع کر دیا تھا۔
ایک مرتبہ انہوں نے اضافی اور فوری ضرورتوں کے ازالے کے لیے فارسی بول چال کی کلاس شروع کرنے کا مشورہ دیا،میَں نے فوراً اپنی فیکلٹی میں اس کا اہتمام کر دیا،شعبہ اردو کے بیشتر اساتذہ کو میں نے مجبور کیا کہ وہ اپنے طالب علموں کے ساتھ کلاس میں داخلہ لیں،تاکہ ہم انہیں ایک معقول اعزازیہ پیش کر سکیں،اپنے نیم رضامند رفقاء کی ہمت بڑھانے کے لیے میں خود بھی فارسی بول چال کی کلاس میں داخل ہو گیا،میٹرک تک میَں نے مسلم سکول میں مفتی نور محمد سے فارسی پڑھی،ایف اے میں جابر علی سید سے اور بی۔اے میں فارسی آپشنل عبدالعزیز جاوید سے،مگر جب نتیجہ آیا تو میں کلاس میں سیکنڈ آیا،میری جو شاگرد کلاس میں اوّل آئی،اس کی فارسی دانی کا احترام میرے دل میں بڑھ گیا،اب اسی نے فون پر مجھے بشیر انور کی وفات کی خبر سنائی اور یہ بھی کہا کہ استادِ محترم نے میرے دس ہزار روپے دینے تھے،جو میں نے انہیں معاف کر دیئے،یہ روپے انہوں نے ہمارے امتحان والے دن مجھ سے لیے تھے۔ تاہم میَں نے یہ قرض انہیں معاف کر دیا، ہم مولوی صاحبان کے کہنے میں آکے،کسی کی نمازِ جنازہ سے پہلے بڑے فخر سے کہہ تو دیتے ہیں کہ ہم نے اپنے واجبات مرنے والے کو معاف کر دیئے،مگر کوئی تو ایسا ہو جو ہمیں بتا سکے کہ مرنے والے نے بھی سچ مچ ہمیں معاف کر دیا ہے یا نہیں۔
پتا نہیں کیوں دسمبر میں رفتگاں کی یاد آتی ہے،افراد بھی،شہر بھی اور وہ احساسِ رفاقت بھی جو،منقسم ہوگیا۔اُردو ادب کے تحقیقی اور تنقیدی سرمائے میں عندلیب شادانیؔ کی ادبی خدمات کو کسی طور پر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ شادانیؔ نے قصے کہانیاں بھی لکھے ، ڈرامے اور افسانے بھی ، تحقیق وتنقید کے میدان میں بھی طبع آزمائی کی لیکن تمام اصنافِ ادب میں ان کی شاعری نمایاں اہمیت کی حامل رہی ہے۔ وہ نفسیاتِ انسانی کے رمز شناس ہیں ،نہ صرف حسن وعشق کی کیفیت کو بدرجہ اتم بیان کرتے ہیں بلکہ واردات قلبی کولفظوں میں سمونے کا فن جانتے ہیں۔ درحقیقت ان کی شاعری خودان کی آپ بیتی ہے ۔ شادانیؔ نانا بننے کی سعادت حاصل کرچکے تھے جب اپنے زمانے کی ایک پڑھی لکھی خاتون پر عاشق ہو بیٹھے ۔ بڑی چاہت سے شادی بھی کی لیکن یہ شادی کوئی ایسی کامیاب نہ رہی البتہ ان کی شاعری کو ایک نئی جہت ضرور عطا کی گئی :
کیا تم سے گلہ ہو بے رخی کا
دنیا میں کوئی نہیں کسی کا
دیکھا انھیں اور دل نہ دھڑکا
عالم ہے یہ اب تو بے حسی کا
روتے ہی کئی ذرا سا ہنس کر
یا رب یہ مآل ہے خوشی کا
تم سے کوئی چار دن جومل لے
پھر نام نہ لے وہ دوستی کا
عندلیب شادانیؔ کا شعری مجموعہ ’’ نشاطِ رفتہ ‘‘ کے نام سے ۱۹۵۰ء میں شائع ہوا۔ اس کے دیباچے میں وہ خود لکھتے ہیں کہ :
’’
میری شاعری تمام تر حال ہے اور پہلے دور کی بعض نظموں کوچھوڑ کر ، وہ بھی بیان واقع سے خالی نہیں ۔ میں نے زندگی میں ایک شعر بھی ایسا نہیں کہا جس پر آپ بیتی کا اطلاق نہ ہوسکے چونکہ محبت کا جذبہ عالمگیر ہے اس لیے مجھے یقین ہے کہ ان اشعار میں بہت سے لوگوں کو اپنے دل کی دھڑکن سنائی دے گی :‘‘
عشق سے ہوتا ہے آغاز حیات
اس سے پہلے زندگی الزام ہے
شادانی ؔ چاند اور چاندنی کے عاشق ہیں۔ پھولوں کے ذکر سے جھو م جھوم اٹھے ہیں حسن وعشق کا یہ استعارہ ان پر وجد کی کیفیت طاری کردیتا ہے وہ کثرت سے چاند اور چاندانی پر شعر کہتے ہیں اور ایک ’’ماہتابی شاعر ‘‘ کا روپ دھار لیتے ہیں :
تم چاندنی ہو ، پھول ہو ، نغمہ ہو شعر ہو
اللہ اے، حسنِ ذوق میرے انتخاب کا

تم دور تھے نظر سے اور چاندنی کھلی تھی
آنکھوں میں رات پیہم ٹوٹا کٹے تارے

وہ چاندنی میں تیرے تبسم کی کہکشاں
کیا ایک بار اور میسر نہ آئے گی ؟

نظر میں یوں ہیں محبت کی چاندنی راتیں
وہیں سے جیسے ابھی اٹھ کے آرہا ہوں میں
چاندنی اورپھولوں کی خوشبو جب یکجا ہوجاتی ہے تو شاعر کی وجدانی کیفیت کچھ یوں پکار اٹھتی ہے :
حسن محو خواب تھا شب یا میری آغوش میں
بوستاں بھر پھول تھے اور آسماں بھر چاندنی
شادانیؔ معاملاتِ دل کو چھپانے کے قائل نہیں اور نہ ہی اشارے کنائے میں بات کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حقیقت نگاری بعض اوقات کھلے اشاروں میں بدل جاتی ہے۔’’ نشاطِ رفتہ‘‘ کے اشعار میں جوانی کی رنگینیوں اور عشقیہ گھاتوں اور وارداتوں کا ایک جہان آباد نظر آتا ہے۔ حسن، منظر کی صورت میں میسر آجائے تو وہ اسے نظارہ بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔
وہ شوقِ شکیب کی گستاخ دستیاں
اٹھا وہ درمیاں سے پردہ حجا ب کا
وہ حسن شرمگیں کی ادائے سپردگی
وہ ارتعاش کیف لبِ کامیاب کا
’’
نشاط رفتہ ‘‘ میں چودہ کے قریب نظمیں بھی شامل ہیں۔ ان میں کچھ نظرمیں ایسی بھی ہیں جن میں عام روش سے ہٹ کر اشعار کہے گئے ہیں۔ مثلا ۱۹۴۷ء کے خونیں انقلاب پر لکھی جانے والی نظم ’’ عید قربان‘‘ (۲۴ اکتوبر ۱۹۴۷ء ، ڈھاکا) میں لکھتے ہیں :
پنجاب میں تھے کل پانچ دریا
اٹھا کچھ ایسا فتنوں کا طوفان
بہتی ہیں ہر سو اب خوں کی ندیاں
اور خوں کس کا ؟ خونِ مسلماں
شادانی ؔ نہ صرف اُردو کے اچھے شاعر تھے بلکہ وہ فارسی میں بھی شعر کہتے تھے اور فی البدیہہ شعر کہنے میں تو انھیں کمال حاصل تھا۔ موقع ومحل کی مناسبت سے کہے جانے والے اس قسم کے اشعار ابدی شہرت حاصل کر گئے ہیں مثلا :
گریباں میں ہیں اورکچھ پھول بالوں میں سجائے ہیں
چمن کو لوٹنے والے گلستان بن کر آئے ہیں

دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو
اس نے دِل کا ساتھ نہ چھوڑا، ویسے ہم گھبرائے تو
۷ ستمبر ۱۹۵۷ء کے ایک مکتوب میں شادانی ؔ نظیر صدیقی کے نام لکھتے ہیں کہ :
’’
خواب میں دیکھا ایک جانا پہچانا نہایت شاندار ڈرائنگ روم ہے ۔ میں اور وہ صرف دوہی شخص وہاں ہیں۔ انھوں نے کہا ، کوئی تازہ غزل سنائیے ۔ میں نے کہا ، غزل تو برسوں سے نہیں کہی۔ کیا آپ تو فی البدیہہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ ابھی کہیے ۔ میں نے کہا اچھا کوشش کرتا ہوں دو ایک منٹ فکر کرنے کے بعد مطلع پڑھا، اس کے بعد یہ شعر :
تمہیں نے مجھے پیار کرنا سکھایا
تمہیں اب مجھے بھول جانا سکھا دو
اس شعر کی کئی بارتکرار کی پھر ایک اور شعر پڑھا اور پھر یہ سلسلہ برابر چلتا رہا ۔ کوئی بیس پچیس یا شاید تیس شعر ہوئے ۔ ہر شعر کو انھوں نے کئی بار پڑھوایا۔ اس طرح اگلے شعر کے متعلق سوچنے کا موقع بھی مل گیا۔ دراصل کچھ زیادہ سوچنے کی ضرورت بھی نہ تھی۔ جو کچھ کہنا تھا وہ دوہی شخصیتوں کے متعلق کہنا تھا :
نہ یوں مسکرا کر بحث آسرا دو
مجھے اس فریب نظر سے چھڑا دو
تمہیں نے مجھے پیار کرنا سکھایا
تمہیں اب بھول جانا سکھا دو
میری زندگی شمع کی زندگی ہے
جلے تو جلے ، ختم ہے گر،بجھا دو
بہت آج رونے کو جی چاہتا ہے
کسی لٹنے والے کا قصہ سنا دو
وہ نادان چاہت کی اک بھول تھی بس
تم اپنا نیاز تمنا بھلا دو
میرے خط وہ دین ووفا کے صحیفے
انھیں اب جلا کر ہوا میں اڑا دو
وہاں میری تصویر اب بے محل ہے
شبستان راحت سے اس کو ہٹا دو
خنک چاندنی اور بیدار راتیں
عندلیب شادانی سے متعلق نظیر صدیقی کہتے ہیں،اس رائے میں انہوں نے انصاف کیا یا نہیں،بہر طور یہ رائے دل چسپ ہے اور بعض کا خیال ہے کہ اس میں احساسِ رقابت کو بھی دخل ہے کہ شاید عندلیب شادانی کی مذکورہ بالا والہانہ ہم کلامی،صدیقی صاحب کو پسند نہ آئی تھی۔
’’
شادانی صاحب کا مطالعہ نہایت وسیع بھی ہے اور نہایت محدود بھی اُردو اور فارسی کے ادب العالیہ ، لغت ، قواعد اور عروض پروہ عالمانہ عبور اور محققانہ نظر رکھتے ہیں لیکن دنیا کے ادب العالیہ سے ان کی واقفیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ خود اُردو کے موجودہ ادب سے بھی کچھ زیادہ واقف نہیں ، انگریزی فرانسیسی ، روسی ، جرمنی امریکی ادیبوں اور شاعروں میں سے انھوں نے کسی ایک کا بھی مکمل مطالعہ نہیں کیا ہے وہ یورپ اور امریکہ کے ادب کی نئی تحریکوں ،شاعری کے تجربوں ، تنقید کے لیے اسکولوں ، افسانے ، ڈرامے اور ناول کی نئی تکنیکوں اور فکر وفن کے نئے مسائل سے بڑی حد تک بے خبر ہیں۔ ان میں سے جتنی چیزیں موجودہ اُردو ادب میں آچکی ہے وہ ان سے بھی پوری طرح آگاہ نہیں۔ فلسفہ ، لسانیات ،عمرانیات اور مذہبیات ، جن کاموجودہ دور کے ادبیات سے بڑا گہرا تعلق ہے، ان کی توجہ جذب نہ کرسکے لیکن ان تمام کوتاہیوں کے باوجود ہر جگہ اپنے وزن وقار کوقائم رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔
کتابیات :
۱۔ نقوش عندلیب شادانی کا تغزل اگست ۱۹۵۲ء ص ۴۸۔
۲۔ رسالہ سہ ماہی اُردو شمارہ ۔
۳۔ رسالہ سہ ماہی اُردو جلد ۴۹ ، ۱۹۷۳ء شمارہ ۱، ۲۔
۴۔ نشاط رفتہ

مارفا کی روشنیاں
امریکہ میں مقیم پاکستانی ڈاکٹر غلام سرور ماہر ارضیات ہیں۔ وہ ۱۹۷۱ء میں گورنمنٹ کالج کوئٹہ میں علم ارضیات پڑھاتے رہے۔ ان کی ارضیات کے حوالے سے انگریزی میں کتابیں بھی شائع ہوئی ہیں پاکستان بھی اس وقت توانائی جیسے مسائل کا شکار ہے۔ مقتدرہ ان کی کتابوں کواردو میں شائع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ عام قاری بھی ان سے استفادہ کر سکے۔بعد ازاں انھیں ای۔بک (E-Book)کی صورت میں بھی لایا جائے گا۔ غلام سرور پاکستان اور اردو کے لیے لگاؤ رکھتے ہیں۔ وہ ایک ڈیزائنر ہیں۔ شعر بھی کہتے ہیں اور مختلف موضوعات پر کارٹون بھی بناتے ہیں۔ ’’مارفا کی روشنیاں ‘‘ کے عنوان سے انھوں نے ایک نظم اخبار اردو کے لیے بھیجی ہے۔ ’’مارفا‘‘ مغربی ٹکساس کے صحرا میں ایک چھوٹا سا شہر یا گاؤں ہے جہاں زیادہ تر ہسپانوی بولنے والے آباد ہیں۔ دو سو سال قبل یہاں پر بہت زیادہ تعداد میں سرخ فام انڈین قبائل آباد تھے مثلاً آپاچی، ہوپی، نواجو(جسے نواحو بھی کہا جاتا ہے)زُنی،اُتے اور پیوبلو وغیرہ۔ بعد ازاں یورپی سفید فام باشندوں کے ہاتھوں تباہی سے دو چار ہوئے۔ یورپی باشندوں کی طرف سے روا رکھے جانے والے مظالم کی دو سو سالہ کہانی ابھی تک رکی نہیں جس پر انھوں نے ایک رباعی بھی لکھی ہے :

سرور ساگر، امریکہ
ڈوبتی شام کے عارض سے پرے
سرمئی رات کی زُلفوں کی تلے
دشتِ ٹکساس کی انگنائی میں
جاگ اُٹھتے ہیں یُوں اندھیرے میں
کُچھ پُراسرار روشنی کے چراغ
جیسے صحرا میں ایک ٹیلے پر
ٹمٹماتی ہو جگنوؤں کی قطار
جیسے تارے ہوں کہکشاں سے دُور
جیسے ٹُوٹے ہوئے دِلوں کی پُکار
جیسے کھوئی ہوئی کوئی تاثیر
جیسے روٹھی ہوئی کوئی تقدیر
جیسے ماضی کے دھندلکوں میں کہیں
شب اقتدار رہنے دے
میرے پروردگار رہنے دے
جانتا ہوں تیری مشیت کو
اس لیے اشکبار رہنے دے
’’
مارفا ‘‘ نامی اس گاؤں کی دوسری عجیب بات مارفاروشنیاں ہیں جہاں رات کوزمین سے جگنو کی طرح روشنیاں نکلتی ہیں اور غائب ہو جاتی ہیں۔ یہ روشنیاں صدیوں سے دعوت نظارہ دے رہی ہیں اور یہ ایک پراسرار حقیقت ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور عجیب بات یہ ہے کہ اگر آپ مارفا گاؤں میں ان روشنیوں کے پاس جائیں تو انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جس سے ایک عجیب احساس ہوتا ہے۔

کھوئی یادوں کی اَدھ مِٹی تصویر
جیسے صحرا میں پانیوں کی اُمید
جیسے آہوں میں گریۂِ دلگیر
جیسے دھیمی سی روشنی میں کہیں
ایک جالے پہ شبنمی تحریر
جیسے بھٹکی ہوئی کئی رُوحیں
جیسے سوئے ہوئے کسی کے نصیب
کون جانے کہاں سے آتی ہیں
کون جانے کہاں چلی بھی گئیں
روشنی کے سراب کیا ہیں یہ
حسرتوں کے حُباب کیا ہیں یہ
کھوئے ہوئے جو صدیوں سے ہیں
جلتے بُجھتے چراغ کیا ہیں یہ