ڈاکٹر فاطمہ حسن سے گفتکو
شریک گفتگو
سید سردار احمد پیرزادہ
تجمل شاہ
س : آپ نے زخ ش یعنی زاہدہ خاتون شیروانیہ کے حوالے سے علمی اور تحقیقی کام کیا ہے اس موضوع کے انتخاب میں کون سی سوچ کا ر فرما تھی ۔
ج : بہت شکریہ۔۔۔۔ آپ نے بہت سنجیدہ سوال کیا کیونکہ میری شاعری پہ اکژ لوگ بات کرتے ہیں لیکن یہ کام واقعی ایسا ہے جسے کر کے مجھے بھی کچھ تشفی ہوئی۔ زاہدہ خاتون شیروانیہ جو بالعموم ادبی رسائل میں اپنا نام زخ ش لکھتی تھیں۔ اُس وقت میری توجہ کا مرکز بنیں جب میں اردو رسائل کی روشنی میں خواتین کی شاعری کا جائزہ لے رہی تھی۔ ان رسائل میں پہلی توانا اور معتبر آواز جو سامنے آئی وہ زخ ش کی تھی جس کا اعتراف ان کے عہد کی ذی علم شخصیات کررہی تھیں۔ میں نے ان کے مجموعۂ کلام، آئینۂ حرم اور فردوس تخیل کا مطالعہ کیا تو متحیر رہ گئی۔ ان کی نظموں میں شاعرانہ خوبیوں کے علاوہ مضامین کا تنوع، عصری حسّئت و مسائل سے ہم آہنگی اور نسائی شعور کا بھرپوراظہار تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ ان کی شاعری کے باقاعدہ اور سنجیدہ مطالعے کی ضرورت ہے۔ جیسے جیسے میں نے اپنے مطالعے کو آگے بڑھایا ان کی شخصیت کی ایسی جہتیں سامنے آنے لگیں جو ان پر ایک تحقیقی مقالے کی متقاضی تھیں۔جب ہم اردو ادب کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی دور ایسی خواتین سے محروم نہیں ہے جو شعر نہ لکھتی رہی ہوں۔ تاہم ان میں سے کچھ کا سرسری ذکر تذکروں میں موجود ہے اور اکثر شریف گھرانوں میں لکھنے والی خواتین کا کام اور نام ریکارڈ پر نہیں ہے۔ زخ ش وہ پہلی شاعرہ ہیں جو اپنی مضبوط فکر اور طرزکلام کی وجہ سے اتنی نمایاں ہیں کہ انہیں نہ تو نظرانداز کیاجاسکتا ہے اور نہ سرسری ذکر کرکے گزرا جاسکتا ہے۔ زاہدہ خاتون شیروانیہ جن کا تخلص ابتدا میں گلؔ اور بعد میں نزہتؔ تھا۔ دسمبر۱۸۹۴ء ؁ کو بھیکم پور ضلع علی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد نواب سرمزمل اﷲ خان، سرسید احمد خان کی تحریک سے متاثر تھے۔ اس لیے ان کی اور ان کی بڑی بہن احمدی بیگم کی تعلیم و تربیت کا خصوصی اہتمام کیا گیا۔ انہیں فارسی پڑھانے کے لیے ایران سے ترک وطن کرکے آنے والی ایک باکمال شاعرہ فرخندہ بیگم طہرانیہ کی خدمات حاصل کی گئیں۔ ان خاتون کی شاعری اور گھر کے علمی اور ادبی ماحول نے بچپن میں زاہدہ خاتون کو شعر گوئی کی طرف مائل کردیا۔ وہ دس برس کی عمر سے شعر کہنے لگیں۔زاہدہ خاتون نے صرف و نحو اور فقہ کی تعلیم مولوی سیداحمدولایتی جیسے عالم سے حاصل کی۔ اس کے علاوہ ان کے بھائی احمداﷲ خان بہنوں کو انگریزی پڑھاتے تھے۔
وہ غیرمعمولی تخلیقی صلاحیتوں کی مالک تھیں۔ بہت کم عمر ی میں انہوں نے لکھنے پڑھنے کے ساتھ ساتھ برصغیر کے سماجی اور سیاسی مسائل کا شعور خصوصاً مسلمانوں کو درپیش مسائل کا ادراک حاصل کرلیا۔ بہت کم عرصے میں یعنی ستائیس سال کی عمر تک انہوں نے جو کچھ لکھا ہے جب ہم اس کا جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ تخلیقی جوہر ایک ایسی سیلابی قوت ہے جسے سماج اور معاشرے کا بند روک نہیں سکتا۔
زخ ش کو حصول علم کی اجازت ملی تھی مگر اظہار کی وہ آزادی نہیں جو ان جیسی علمی و ادبی استطاعت رکھنے والی شخصیت کو ملنی چاہئیے تھی۔ وہ اپنی شناخت کو پوشیدہ رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی رہیں۔ والد کی نافرمانی کا خوف، پہچانے جانے کا اندیشہ، معاشرے کا رد عمل اور ایسے کم اندیش لوگوں سے تحفظ جو تحریر سے زیادہ صاحب تحریر کی ذات میں دلچسپی لیتے تھے۔ ایسی صورت حال تھی جس میں انہیں کئی مرتبہ اپنا نام تبدیل کرنا پڑا اور کچھ عرصے کے لیے نہ لکھنے کا فیصلہ بھی کرنا پڑا۔ چونکہ تخلیقی اظہار کو پابند نہیں کیا جاسکتا اس لیے وہ لکھتی رہیں مگر چھپنے میں محتاط رہیں اور صرف وہی کلام و مضامین زیر طباعت آسکے جو اس وقت برصغیر کے معاشرے کے لیے قابل قبول تھے۔ اس نابغۂ روزگار ہستی کی شاعری اور وہ نثرپارے جوخطوط اور ڈائری کی شکل میں دستیاب ہیں۔ ان کی اعلیٰ تخلیقی صلاحیتوں اور وجدانی قوت کا ایسا مظہر ہیں جسے پوشیدہ رکھنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود ظاہر ہونا تھا۔ اگر انہیں موافق حالات ملتے اور عمر وفا کرتی تو وہ کس مقام پر پہنچتی اس کا اندازہ ان کے مجموعہ نظم’’فردوس تخیئل‘‘ سے لگایاجاسکتا ہے جو انہوں نے اپنی زندگی میں مرتب کردیا تھا۔ نظموں میں ان کا تاریخی و سماجی شعور، حالات حاضرہ سے وابستگی اور قومی زبوں حالی کا دکھ، مؤثر اظہار اور زبان و بیان پر ان کی قدرت کے آئینہ دار ہیں۔ زخ ش کو اس بات کا بھی مکمل ادراک تھا کہ برصغیر کی خواتین پر تعلیم کے دروازے بند ہیں۔ جو ایک طرف تو خود ان سے نا انصافی ہے اور دوسری طرف قومی انحطاط کا سبب بھی۔ اپنے اس خیال کا وہ بار بار اظہار کرتی ہیں کہ ہندوستان کی عورت کو علم کے میدان میں پسماندہ رکھا جارہا ہے۔ بہت کم عمری میں انہوں نے خواتین کی علمی و ادبی بیداری کے لیے کام شروع کردیا تھا۔ خواتین میں علم کی روشنی پھیلانے کا خواب دیکھنے والی یہ شاعرہ اس بات پر ملول رہی اور اپنی شاعری میں اس کا اظہار بھی کرتی رہی کہ عورت پر ترقی کی راہیں مسدود کردی گئی ہیں۔ دراصل عورت کی بڑی صلاحیتیں حالات کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے میں صرف ہوجاتی ہیں۔ سماج، معاشرہ، خاندانی وقار اور روایات کے نام پر جو بنے بنائے راستے ہیں۔ ان میں سے کوئی نیا راستہ بنانا بڑا مشکل کام ہے۔ لیکن تخلیقی فکر ان بنے بنائے سانچوں سے چھلک جاتی ہے۔آج اتنی ترقی کے باوجود ساری دنیا کی خواتین میں ایک احساس مشترک ہے کہ انہیں کوئی لائحہ عمل اپنانے اور اپنے ہدف تک پہنچنے کے لیے کتنی ہی ایسی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو بظاہر موجود نہیں ہوتی۔ مگر کہیں نہ کہیں شیشے کی یہ دیوار ہوتی ضرور ہے جس سے وہ بار بار ٹکراتی ہیں۔ یہ نادیدہ دیوار جس کے لیے انگریزی میں glass ceiling اصطلاح استعمال کی جاتی ہے کبھی سیسہ پلائی ہوئی ایسی مضبوط چہار دیواری تھی جس سے برصغیر کی عورت کی پرچھائیں بھی باہر نہیں جاسکتی تھی۔ زخ ش نے اس بات کا گلہ کیا ہے کہ اسلام نے عورت کو جو مقام اور حقوق دیے ہیں۔ رسم و رواج نے اسے بھی ان سے چھین لیا ہے۔ وہ مردوں اور خواتین دونوں کو مخاطب کرکے اس صورتحال کو تبدیل کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔ وہ ایسی پرعزم شخصیت اور باکمال تخلیق کار تھیں جو اپنے لیے بھی کوئی راہ تلاش کرلیتی تھیں اور دوسروں کو بھی وہ راستہ دکھاتی تھیں جو انہیں منزل تک پہنچا سکے۔ شعوری اور لاشعوری دونوں سطح پر وہ خواتین کی آزادی رائے اور آزادی عمل کی طلب گار نظر آتی ہیں۔ ان کی ذہنی استطاعت اور سماجی و نسائی شعور کا اس بات سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ ایک طرف وہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے پر افسوس کرتی ہیں تو دوسری طرف کسان اور مزدور اِن کا موضوع بنتے ہیں۔ شبلی،حالی اور اکبر الہ آبادی پر گریہ کناں یہ شاعرہ جب شاہِ یونان کا نوحہ لکھتی ہے تو طنز کے نشتر چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کسی بھی بڑے تخلیق کار کی طرح انہیں مناظر قدرت کی قلمی تصویر بنانے پر بھی پورا عبور تھا۔ وہ روانی طبع کے ساتھ ساتھ اعلیٰ جمالیات اور فکر و فلسفے کا بھی شعور رکھتی تھیں۔ ان کا انتقال ستائیس برس کی عمر میں۲فروری۱۹۲۲ء ؁ کو ہوا۔
دوران تحقیق زخ ش کے دوسو سے زائد ایسے خطوط مجھے دستیاب ہوئے جو ۱۹۱۶ء ؁ سے اپنی وفات تک انہوں نے لیلیٰ خواجہ بانو زوجہ خواجہ حسن نظامی کو لکھے تھے۔ لیلیٰ خواجہ بانو ان کی ہم عمر تھیں اور ان سے خاندانی مراسم کی وجہ سے خط و کتابت میں بے تکلفی تھی۔ چنانچہ ان کو لکھے جانے والے خطوط میں وہ زخ ش پوری طرح سامنے آتی ہیں جو علم و آگہی رکھتی تھیں، سوچتی اور محسوس کرتی تھیں اور ادراک و شعور کی اعلیٰ منزلوں کی طرف گامزن تھیں۔ انہوں نے ان خطوط میں اپنے عہد کے ہر مسئلے، قوم کے ہر عمل پر اپنے احساسات و خیالات کا نہ صرف اظہار کیا ہے بلکہ ان مسائل کے حل کی طرف رہنمائی بھی کی ہے۔ ان خطوط سے ان کی شاعری کے سیاق و سباق اور فکری گہرائی کو سمجھنے میں بھی مدد ملی ہے اور اس دور کے سیاسی و سماجی حالات کی مکمل تصویر سامنے آتی ہے۔
اس نابغہ روزگار ہستی کو تاریخ ادب میں وہ مقام نہیں دیا گیا جو اس کا جائز حق تھا۔ میری تحقیق کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ حالات اور وقت کی گرد ہٹا کر اس شخصیت کو اس طرح سامنے لاؤں کہ انہیں ان کے جائز مقام پر فائز دیکھا جاسکے۔ اس تحقیق کی تین جہتیں ہیں۔ پہلی جہت ان رسائل و اخبار کا کردار ہے جنہوں نے برصغیر کی خواتین کو نہ صرف پہلی مرتبہ اپنی آواز عام لوگوں تک پہنچانے کا موقع فراہم کیا بلکہ ان کی تحریروں کو محفوظ بھی رکھا۔ دوسری جہت ادب کی تاریخ میں ایک قدآور شاعرہ کی موجودگی کا پتہ دینا ہے اور تیسری جہت نسائی علوم (Women Studies) کے طلبہ کو ایک ایسی مثالی ہستی سے متعارف کرناہے جو نسائی شعور سے مالا مال تھی اور اس کا اظہار اس وقت کررہی تھی جب برصغیر میں خواتین کا دورِتاریک تھا۔ یہ صرف ایک پردہ دار شاعرہ پر تحقیقی کام نہیں تھا بلکہ اس شخصیت پر کام کرنا تھا جو بہت سے رسائل و اخبارات کی غائبانہ سرپرستی کررہی تھی۔ سماجی اور سیاسی تحریکوں میں رازدارانہ طور پر فکری و عملی حصہ لے رہی تھی اور ایک سوئی ہوئی قوم کو جگانے کی پرخلوص کوشش میں داخلی طور پر لہو لہان ہورہی تھی۔
س : موجودہ عہد میں اظہار رائے کی آزادی ہے نیز ہمار ا شعوربھی پہلے سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہے کیا آپ سمجھتی ہیں کہ اس دور کے نقادوں نے بھی نسائی ادب سے انصاف نہیں کیا؟
ج : میرے خیال میں اب ایسے لوگ ہیں جنہوں نے نسائی ادب پر لکھا ۔ خواتین جن میں کشور ناہید، فہمیدہ ریاض، زاہدہ حنا، خالدہ حسین سرفہرست ہیں کہ علاوہ مرد ناقدین بھی اس جانب متوجہ ہیں۔ ان میں پہلا نام میں ضمیر علی بدایونی کا لینا چاہوں گی ۔جنہوں نے اپنی تحریروں میں نسائی شعور کی اصطلاح متعارف کروائی۔ جدیدیت مابعد جدیدیت اور مابعد جدیدیت کادوسرا رخ ان کی کتابوں میںآپ کو نسائی شعور کے حوالے ملیں گے۔ میری کہانی کی ایک کتاب ( کہانیاں گم ہو جاتی ہیں) کے دیباچے میں انہوں نے نسائی شعور پر بات کی ہے اور حوالے دیئے ہیں۔ انتظار حسین، ڈاکٹرگوپی چند نارنگ، شمس الرحمن فاروقی، ڈاکٹرابوالکلام قاسمی، ڈاکٹرآصف فرخی وہ ناقدین ہیں جنہوں نے باقاعدہ نسائی ادب پر لکھا ہے۔ نسائی ادب اردوادب کا قابل قدر حصہ ہے، نسائی شعور کی روئیت ہمارے ثقافتی رجحان اور خواتین کے ادراک و شعور کی آئینہ دار ہے۔ نسائی اظہار کا رویہ تاریخ سے پیوستہ ہے اور خواتین قلم کاروں کے نقطۂ نظر کو پیش کررہا ہے اور آج ادب میں نقطۂ نظر کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مابعدجدیدیت کے مختلف اسکول نسائی شعور کے نقطۂ نظر پر متفق ہیں۔ ترقی پسند نقادوں نے نسائیت پر علیحدہ سے کام تو نہیں کیا البتہ اس تحریک کے نتیجے میں لکھنے والی خواتین کو بہت حوصلہ ملا۔کیونکہ ترقی پسند تحریک میں انسانوں کو برابری کی سطح پر دیکھا گیاہے ۔ ہم نے ایک سیمینار کیا جس میں اس بات کا جائزہ لیا کہ مرد اور خواتین رائٹرز نے نسائیت کے حوالے سے کیا لکھا ہے اس سیمنار میں ، تنویر انجم ،فہمیدہ ر یاض ، خالدہ حسین، کشورناہید ، میں نے اور آصف فرخی نے مقالے پڑھے۔ اس سیمینار میں پڑھے جانے والے مقالوں پر نسائی رد تشکیل کے عنوان سے فہمیدہ ریاض نے کتاب بھی ایڈٹ کی۔ جسے وعدہ کتاب گھر نے شائع کیا ۔ وعدہ کتاب گھر سے چار بے حد سنجیدہ کتابیں نسائی ادب پرشائع ہو چکی ہیں جنہوں نے مطالعہ کا رخ بدل دیا ہے۔وہ باتیں جو خواتین کے حوالے سے آسانی سے کہہ دی جاتی تھیں ان پر الزامات لگا دیئے جاتے تھے جن پر قراۃ العین حیدر جیسی ادیبہ کو بھی شکوہ تھا کہ مرد ناقدین تحریر سے زیادہ جزئیات اور ذات پر توجہ دیتے ہیں۔یہ باتیں کرنا اب آسان نہیں رہیں۔
س : کیا آپ سمجھتی ہیں کہ اردو زبان ادب کے ساتھ ساتھ تمام جدید مضامین یعنی سائنس معیشت او ر فنون لطیفہ وغیرہ کی زبان کہلواسکتی ہے۔ ؟
ج : جدید مضامین کو سمجھنے اور پڑھنے کے حوالے سے ہمارے لیے اردو زبان سے بہتر کوئی زبان نہیں ہو سکتی ۔یہ زبان بنی ہی دوسری زبانوں کے ملاپ سے ہے جن میں عربی فارسی ترکی سنسکرت وغیرہ کے الفاظ نمایاں ہیں اگر اردو زبان کی ابتدا میں دوسری زبانوں کے الفاظ شامل کیے گئے تو اب ایسا کیو ں نہیں کیا جا سکتا ۔ہاں البتہ میں سمجھتی ہوں کہ سائنسی اصطلاحات کو ترجمہ کیے بغیر ویسے ہی اردو میں لکھ لینا چاہیے جیسے اب ہم نے کمپیوٹر اور اس سے متعلق الفاظ اردو میں شامل کر لیے ہیں یہ نئی بات نہیں بلکہ اس سے قبل بھی اردو میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے الفاظ ترجمے کے بغیر شامل ہوتے رہے۔مثلا ریڈیو ، ، ٹیلی ویژن ،ٹیلی فون سٹیشن اور ٹرین یا ریل و غیرہ وغیر ہ ۔ہمیں سائنسی الفاظ کا ہر صورت میں ترجمہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ صرف ناگزیری میں ہی ایسا کرنا چاہیے ۔اس فارمولے میں گرامر اردو کی استعمال کریں تو اردو پڑھنے اور لکھنے والوں کو بہت سہولت مل جائے گی اور بہت سی نئی سائنسی اصطلاحات اردوزبان کا حصہ بن جائیں گی۔یہاں میں زور دو ں گی کہ اردو زبان میں ہماری مقامی زبانیں یعنی سندھی ،بلوچی ،پشتو،پنجابی ،سرائیکی ،وغیرہ کے الفاظ بھی اردو میں شامل ہونے چاہیئیں دیکھا جائے تو خود بخود شامل ہو بھی رہے ہیں۔ اس طرح اردو کی لغت بہت وسیع ہوتی جا رہی ہے۔
س : ایک ماں قومی زبان کی ترقی میں کیا کردار ادا کر سکتی ہیں؟
ج : بچے کی پہلی زبان وہی ہوتی ہے جو ماں کی ہوتی ہے۔ بچے کے کان میں جو الفاظ پہلے پڑتے ہیں وہ عموما اس کی ماں کے ہی ہوتے ہیں۔ اس لیے ماں اردو زبان کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہے ۔البتہ ماں کو اتنا شعور ضرور ہونا چاہیے کہ بچے کو ایسی مستحکم راہ پر ڈالے کہ بچے اپنی زبان کا ساتھ نہ چھوڑے جس سے اس نے آغاز کیا ہے مثلاً وہ گھر سے باہر جائے گا تو انگریزی وغیرہ سیکھ لے گا۔ لیکن مادری زبان کی ابتدا گھر سے ہی ہو گی۔ پہلے زمانے میں بچوں کو کہانیاں سنائی جاتی تھیں یہ انہیں مطالعے کی طرف راغب کرنے کا اچھا طریقہ تھا۔
س : آپ اردو کی لکھاری ہیں اور اعلی سرکاری افسربھی کیا آپ سمجھتی ہیں کہ اردو زبان دفتری زبان کے طور پر کام کر سکتی ہے؟۔
ج : بالکل ۔ اردو زبان میں اتنی صلاحیت ہے کہ ہم اسے دفتری زبان کی حیثیت سے کام میں لا سکتے ہیں۔ د وسرا یہ کہ اردو زبان میں ہم جو ڈرافٹ لکھ رہے ہوں گے اور آرڈر دے رہے ہوں گے وہ بالکل واضح ہو گا کیونکہ اردو زبان کو کلرک سے لے کر اعلیٰ افسر تک سمجھتے ہوں گے ۔ آج کل دفتروں میں ڈرافٹ انگریزی میں تیار کرنے کے حوالے سے بعض اوقات بہت مضحکہ خیز صورت بن جاتی ہے کیونکہ ہماری زبان انگریزی نہیں ہے ہم نے اسے محض سیکھا ہے لہذا کسی بھی فائل پر انگریزی لکھتے ہوئے ہم یا تو عجیب و غریب غلطیاں کرتے ہیں یا پرانے ڈرافٹ کی نقل کرتے ہیں۔ ڈرافٹ عموما چھوٹے افسر تیار کرتے ہیں جن پر دستخظ ہوتے جاتے ہیں۔ اگر دفتری کام اردو زبان میں ہو تو بہت سی پیچیدگیاں ختم ہو جائیں گی۔ لیکن اردو اسی صورت میں دفتری زبان بن سکتی ہے جب ہمارے ہاں پبلک سروس کمیشن کے امتحانات بھی اردو میں ہوں۔ کیونکہ اگر پبلک سروس کمیشن کے امتحانات انگریزی میں لیے جاتے رہے تو ان سے پاس ہونے والے افسران کبھی بھی انگریزی کی جگہ اردو کو دفتری زبان نہیں بنا سکیں گے ۔ انگریزی امتحان کا ایک نقصان اور بھی ہوتا ہے کہ بہت سے ایسے باصلاحیت افراد جو انگریزی نہیں جانتے اپنے اندر افسر بننے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں امتحان پاس نہ کرنے کی صورت میں افسر نہیں بن سکتے اور ایک طبقاتی فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر اردو کو دفتری زبان بنا دیا جائے یہ طبقاتی فرق ختم ہو جائے گا۔
س : ایک دانشور کی حیثیت سے آپ پاکستان میں اردو زبان کا مستقبل کیسے دیکھتی ہیں؟
ج : یہ تو ہمارے ارباب اختیار کے ہاتھ میں ہے کہ وہ جس کا چاہیں مستقبل بنا دیں جس کا چاہیں بگاڑ دیں۔ ہمارے ہاں اداروں سے وہ نتائج حاصل نہیں ہے جن کے لیے انہیں قائم کیا گیا تھا بس ادارے محض چل رہے ہیں ۔ کسی قوم کی شناخت ادب اور ثقافت سے ہوتی ہے جس میں زبان کا بہت حصہ ہے اگر ہم اپنی ثقافت بھول جائیں گے تو ہماری شناخت بھی مٹ جائے گی زبان زندہ رکھیں گے تو ادب اور ثقافت زندہ رہے گا۔ اردو صرف پاکستان میں ہی نہیں بولی اورسمجھی جاتی بلکہ پورے خطے اور دنیا بھر میں اس کا ابلاغ موجود ہے ۔لہٰذا ایسی زبان کو ضرور ترقی دینی چاہیے جس میں ہم اپنی ثقافتی اقدار کو اگلی نسلوں تک پہنچا سکیں۔ ہمارے پورے خطے کی ثقافت ملتی جلتی ہے ایک دوسرے کے لباس ،رسم ورواج اورکھانا پیناوغیرہ سب کے لیے جانے پہچانے ہیں۔ ان میں رابطے کے لیے اردو زبان بہترین زبان ہے ۔ شاید اردو اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہی پیدا ہوئی تھی۔ لہذا ہمیں اردو زبان کو زندہ رکھنے کے لیے شعوری کوشش کرنی چاہیے اسے سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہیے ۔ کسی بولی کو کسی دوسری بولی سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا کسی زبان کو کسی دوسری زبان سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ جب تک کہ کسی زبان یا بولی کو دانستہ ختم کرنے کی کوشش کی جائے ۔